اسلام آباد( این این آئی)پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ مالی مشکلات اور اخراجات میں کمی کے اقدامات کو اپنے امن مشنز کو کمزور کرنے کی اجازت نہ دے۔ پاکستان کا اقوام متحدہ سے امن مشنز کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے 6 نکاتی اصلاحاتی فارمولا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ وسائل میں کٹوتی سے عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی تنظیم کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کو بڑھتے ہوئے مالی اور سیاسی دبا ئوکا سامنا ہے۔ جنرل اسمبلی نے سال 27-2026 کے لیے امن مشنز کی مد میں 5.1 ارب ڈالر کے بجٹ کی منظوری دی ہے جو گزشتہ سال کے تخصیص کردہ بجٹ سے تقریباً 10 فیصد کم ہے۔ گزشتہ سال پیدا ہونے والے مالی بحران کے باعث اقوامِ متحدہ کو پہلے ہی مشنز کے اخراجات کم کرنے اور امن مشنز میں تعینات اپنے ایک چوتھائی عسکری و پولیس اہلکاروں کو واپس بلانے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔اس پس منظر میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے ایسی اصلاحات پر زور دیا جو امن مشنز کے طے شدہ مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو قربان کیے بغیر ان کی کارکردگی میں بہتری لائیں۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی چوتھی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے سفیر سید حیدر شاہ نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ سلامتی کونسل حالات کے تقاضے کے مطابق اس اہم فورم کو استعمال کرنے کا سیاسی عزم دکھائے۔پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ اور طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ گزشتہ 6 دہائیوں کے دوران 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی عسکری اور پولیس اہلکار اقوامِ متحدہ کے مختلف مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جن میں سے 183 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں اقوامِ متحدہ کا ملٹری آبزرور گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP) بھی قائم ہے۔سفیر سید حیدر شاہ کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امن مشنز نہ صرف مالی مشکلات بلکہ پیچیدہ سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز سے بھی نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ علاقائی انتظامات اور عارضی بنیادوں پر چلائے جانے والے آپریشنز پر بڑھتا ہوا انحصار اس بات کا ثبوت ہے کہ میدانِ عمل میں اقوامِ متحدہ کی معتبر موجودگی کی اہمیت آج بھی پہلے کی طرح برقرار ہے۔
