Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • تھر کے کوئلے سے صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہونگے: شرجیل میمن
    • مرتضیٰ وہاب کراچی کے جعلی اور قبضہ میئر ہیں: حافظ نعیم الرحمن
    • انوسٹیگیشن سیف اللہ کی پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز میں کھلی کچہری SSP
    • راولپنڈی، منشیات کیخلاف کریک ڈان، لیڈی منشیات سپلائر سمیت 7 منشیات گرفتار
    • آئیسکو صارفین اب بجلی بلز اور ڈیمانڈ نوٹسز کی ادائیگی کیو آر کوڈ کے ذریعے بھی کر سکیں گے،چوہدری خالد محمود
    • برق رفتاری مجھے زمانے نے سکھائی ہے، وزیراعظم کے اعتراف پر محسن نقوی کا دلچسپ جواب
    • تھانہ باہتر پولیس کی کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کارروائیاں،3ملزمان گرفتار
    • ایران جنگ’ دشمن کے ریڈار کا سراغ لگانے والا امریکی جاسوس طیارہ برطانیہ پہنچ گیا
    • امیرِ قطر ‘ ٹرمپ کا رابطہ، علاقائی کشیدگی کے خاتمے پر تبادلہ خیال
    • سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا قائم کردہ ہومیو پیتھی پروگرام زوال کا شکار
    • موٹروے Mـ2 پر بلکسر انٹرچینج کے قریب کار اور ٹرالر کے درمیان تصادم ، ایک شخص جاں بحق ، دو خواتین زخمی
    • نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن اسلام آباد میں 40ویں سینئر مینجمنٹ کورس کی اختتامی تقریب ،46افسران میں اسناد تقسیم
    • سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ، سول سروس ریاست کا مستقل ستون ہے،احسن اقبال
    • چکوال،،قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری مجرم شفقت گرفتار
    • حضرو میں گرینڈ جرگہ کا بلدیاتی اور جنرل انتخابات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان
    • مری بیشتر دیہی علاقوں میں گرین بس سروس کا آغاز نہ ہو سکا
    • فہیم عباس کی بھائی سید علی رضا شاہ کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف سیشن کورٹ چکوال میں درخواست دائر
    • پنڈوڑیاں اور گردونواح میں غیر قانونی چنگچی رکشوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
    • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ٹرمینل پر بندر کی انٹری ‘ گھوم پھر کے واپس چلا گیا
    • سوئی نادرن گیس گوجرخان کے عملہ کی غفلت کا خمیازہ عوام علاقہ بھگتنے پر مجبور
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    عزاداری میں گامے شاہ کا کردار ،آغاز کب ہوا جبکہ ایک مجوسی ہر سال 40ہزار روپے کیوں خرچ کرتا ؟؟

    By Daily Khabrainستمبر 28, 2017
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    gam e shah.jpg
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور (خصوصی رپورٹ) اہل اسلام کا سال نو (ماہ غم) جس کو پنجاب میں ”دہے“ کہتے ہیں محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے۔ یکم محرم سے دس محرم تک اہل بیت حالت جنگ میں رہے چونکہ حق و باطل میں معرکہ آرائی خیروشر اور نیکی و بدی کا تصادم ازل سے جاری ہے جو تاقیامت رہے گا اور حق نے ہمیشہ صراط مستقیم کو واضح اور روشن انداز میں پیش کیا۔ حدیث میں ہے کہ ”حسنؓ اور حسینؓ جنتی ناموں میں سے دو نام ہیں۔ عرب کے زمانہ جاہلیت میں دونوں نام نہیں تھے۔تعزیے کی تاریخ:تعزیہ ایک ایسی شبیہہ ہے جو کہ روضہ حضرت امام حسینؓ کی طرز پر تعمیر کی جاتی ہے۔ یہ تعزیے سونے، چاندی ، لکڑی، بانس، کپڑے، کاغذ اور سٹیل سے تیار کیے جاتے ہیں جو کہ محرم الحرام کے مقدس مہینے میں حضرت امام حسینؓ اور شہداءکربلا کے غم میں ایک جلوس کے ہمراہ برآمد کیے جاتے ہیں۔ تعزیہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ عین اوری سے مشتق ہے۔ جس کے معنی مصیبت میں صبر کرنا، دلاسہ دینا، تسلی دینا، پرسہ دینا کے ہیں۔ انہی الفاظ سے تعزیت اور تعزیہ وجود میں آئے۔ تعزیے 29 ذی الحج سے 9محرم تک آراستہ کرکے مخصوص مقامات پر رکھ دیئے جاتے ہیں ان مقامات کے مختلف نام ہیں۔ مثلاً امام بارگاہ عزا خانہ، تعزیہ خانہ، عاشور خانہ، امام خانہ، چبوترہ، چوک امام صاحب وغیرہ۔ تعزیے کے اوپر والے حصہ کو ”خطیرہ” اور نچلے حصہ کو ”تربت“ جبکہ سب سے اوپر والے کو ”علم“ کہتے ہیں۔ ایران میں تعزیے کا رواج نہیں وہاں شبیہہ یا تمثیل رائج ہے، عراق میں تعزیہ کو ”شبیہہ“ کہاجاتا ہے۔ البتہ کشمیر، بھارت، نیپال اور افریقہ میں تعزیہ داری پاکستان انداز میں ہوتی ہے۔ تعزیہ داری کی تفصیلات میں دو انگریز مصنفین کی آرا مشہور ہیں جو درج ذیل ہیں۔ انگریز مصنفہ مسز میر حسن علی اپنی کتاب میں لکھتی ہیں، ہندوستان میں کسی شیعہ مسلمان کا گھر تعزیہ سے خالی نہیں ہوتا۔ ہندوﺅں کو تعزیے سے کافی عقیدت ہے۔ چنانچہ تعزیہ دیکھ کر یہ لوگ مودبانہ جھک جاتے ہیں۔ مجالس میں ہر مذہب و ملت کے لوگ شریک ہوتے ہیں اور مسلمان انہیں بہت محبت سے بٹھاتے ہیں۔ یہ طریقہ اس قدر عام ہوگیا کہ سوائے انگریزوں کے کسی اور سے امام باڑے کے باہر جوتا اتارنے کے کہنا بھی نہیں پڑتا۔ ایک اور انگریز خاتون جن کا نام فینی پارکس تھا، لکھتی ہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ شیعوں کے علاوہ سنی اور ہندو بھی ایام محرم میں اپنے گھروں میں تعزیے رکھتے ہیں۔ میرا باورچی ایک مجوسی تھا وہ بھی محرم میں تعزیے پر کم از کم چالیس ہزار روپے روپے خرچ کرکے ایک پرجوس مسلمان کی طرح عزاداری کے مراسم بجا لاتا تھا۔ عاشورہ کے دن اپنے تعزیے کو کربلا میں دفن کرنے کے بعد پھر وہ اپنے دھرم کی پیروی کرنے لگتا تھا۔ ولیئم نائٹن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں، اس زمانے میں امام باڑوں کی بہتات اور روشنی میں کار چوبی چیزوں کی اس قدر چمک دھمک ہوتی ہے کہ انسان کی نگاہیں چندھیا جاتی ہیں۔ علموں کی طلائی و نقرئی پنجوں کی جگمگاہٹ اور ان کے بھاری بھاری پٹکوں کی سجاوٹ، زردوزی کام پر گنگا جمنی کی جھالروں کی زیبائش ان کی وجہ سے درودیوار پر آب و تاب ۔ بس سارا امام بارگاہ بقعہ نور ہو جاتا ہے۔ ایام عزا میں برابر تعزیوں کے گرد بڑی بڑی سرخ اور مومی توغیں روشن رہا کرتی تھیں۔ لاہور میں تعزیہ نکالنے کی ابتدا سید غلام علی شاہ المعروف بابا گامے شاہ سے منسوب کی جاتی ہے ۔ روایت ہے کہ بابا گامے شاہ دنیا سے ماورا زمانے کی نظروں میں دیوانے اور اہل بیت کی نگاہ پاک باز میں عارف کامل تھے۔ ہمیشہ سیاہ لباس زیب تن رکھتے اور دربار حضرت علی ہجویریؒ کے پہلو میں موجود کربلا گامے شاہ قدیم برف خانہ کی جگہ بیٹھے رہتے۔ ان دنوں ایک بڑھیا ”آغیاں مائی“ بھی موچی دروازے سے عاشورہ کے روز سرپیٹتے اور گریہ و زاری کرتے گامے شاہ کے ڈیرہ کی جانب آتی ۔ آہستہ آہستہ باباگامے شاہ کا حلقہ ارادت وسیع ہوتا گیا۔ روایت ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد 1799ءتا1839ءمیں بابا گامے شاہ نے لاہور میں سب سے پہلے تعزیہ نکالا (یہ سال راقم کی تحقیق کے مطابق 1828ءبنتا ہے) جس پر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بابا گامے شاہ کو دربار میں طلب کرکے سرزنش کی اور کہا کہ وہ آئندہ تعزیہ نہیں نکالے گا۔ گامے شاہ نے انکار کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ ایسا کرتا رہے گاجس پر رنجیت سنگھ نے اسے گرفتار کرکے شاہی قلعہ لاہور میں قید کر دیا جس پر رنجیت سنگھ ڈراﺅنے خواب دیکھتا رہا اور ساری رات پریشان رہا۔ صبح ہوئی تو فقیر سید عزیز الدین کے ہمراہ بابا گامے شاہ کے زندان میں گیا اور بابا گامے شاہ سے معافی مانگنے کے بعد اسے رہا کر دیا۔ انہی ایام میں بابا گامے شاہ نے وفات پائی۔ انکی تاریخ وفات اور سال تذکروں میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکے۔ بعد وفات اسی مقام پر جہاں ان کا ڈیرہ تھا، حجرہ میں دفن کیا گیا۔ بابا گامے شاہ کے مزار کے پاس حضرت امام حسینؓ کی ضریح نصب ہے جوحضرت بابا گامے شاہ کو سب سے بڑا نذرانہ عقیدت ہے۔ اس حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ ضریح مبارک کی بنیاد میں کربلا (عراق) کے میدان کی مٹی رھی گئی ہے اسی نسبت سے اس درگاہ کو کربلا گامے شاہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مزار کے اوپر والے حصہ میں گامے شاہ کا وہ تعزیہ بھی موجود ہے جس کو وہ اپنے سر پر رکھ کر لاہور شہر کے گلی کوچوں میں گریہ و ماتم کرتے تھے۔ بابا گامے شاہ کی وفات کے بعد نواب علی رضا قزلباش اور سرنوازش علی قزلباس وغیرہ نے مل کر یہ رقبہ خرید لیا اور یہاں گامے شاہ کے مقبرہ کے ساتھ کربلا قائم کی اور اس کا نام کربلا گامے شاہ رکھا جو آج لاہور کی تاریخ عزاداری میں بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      فیلڈ مارشل سے سوڈان کے وزیر داخلہ کی ملاقات، انسداد دہشت گردی پر بات چیت

      لاہور میں وادی سندھ کی تاریخ پر 15ویں عالمی تھاپ کانفرنس کا آغاز

      بھارت کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے، دفتر خارجہ

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.