Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ذاد کشمیر کی ترقی اوالین ترجیح وزیراعظم شہباز شریف
    • موسیٰ کا مصلیٰ سے واپسی پر آئرش کوہ پیما لاپتہ الیگزینڈر مردہ حالت میں مل گئے
    • امریکی تاریخ میں نیا اضافہ 250ویں سالگرہ پر ٹرمپ کا ایک ڈالر کا سکہ
    • پاکستان کا وقت 30 منٹ پیچھے ہوگا نئی قانون سازی منظور
    • پاکستان میں گرفتار ہونے والے ابھینندن اب نجی ایئرلائن کے کمرشل پائلٹ بن گئے
    • زوہرن ممدانی نے اسکولوں میں AI پر پابندی لگا دی نویں جماعت سے استعمال کی اجازت
    • جمال شاہ نے سابق اہلیہ فریال گوہر کے تشدد کے الزامات مسترد کردیے، ’’ہم مہذب انداز میں الگ ہوئے‘‘
    • شمالی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ، گلگت، اسکردو، مظفرآباد اور راولپنڈی شامل
    • اینزو فرنانڈیز نے نیا ریکارڈ بنا دیا، دو مرتبہ 100 ملین پاؤنڈ سے زائد کی ٹرانسفر حاصل کرنے والے پہلے کھلاڑی
    • ڈزنی اسٹار کارلا جیفری 33 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں
    • محمد عباس کی بڑی چھلانگ، آئی سی سی ٹیسٹ بولنگ رینکنگ میں 15ویں پوزیشن حاصل کرلی
    • غزہ جنگ پر احتجاج، اسپین، آئرلینڈ، سلووینیا، نیدرلینڈز اور آئس لینڈ کا یوروویژن بائیکاٹ
    • انگلینڈ ٹور پر پی سی بی کے فیصلوں پر شاہد آفریدی کا سخت ردعمل، ’’یہ انتہائی حیران کن ہے‘‘
    • ایرانی حملوں کے جواب میں کویت کا فضائی دفاع متحرک، میزائل اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی کوشش
    • پی آئی اے کا لندن آپریشن بحال 27 اکتوبر سے ہفتہ وار 7 پروازیں چلیں گی
    • بنگلہ دیش کی نجم النہار کا عالمی اعزاز 185 ممالک گھومنے والی پہلی مسلم خاتون
    • سونا ایک ہی دن میں 11 ہزار روپے سستا فی تولہ قیمت 4 لاکھ 54 ہزار روپے پر آگئی
    • بابر اعظم پر سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم برس پڑے ’’سپر اسٹار بننا تو دور، ابھی اسٹار بھی نہیں‘‘
    • پی سی بی کی امام الحق کیخلاف انکوائری کا فیصلہ
    • پاکستان کا پکل بال ورلڈ کپ میں بڑا اعزاز زین وسیم نے گولڈ میڈل جیت لیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    چیئرمین نیب ،چیف جسٹس سپریم کورٹ ،شوکت عزیز ،میاں منشاء،ہاشوانی پر مقدمہ چلائیں :ضیا شاہد

    By Daily Khabrainنومبر 7, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    zia shahid
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے مصحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس آنے کے بعد ایکشن تو ہوا لیکن سلیم سیف اللہ خاندان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کی 20 یا 22 آف شور کمپنیاں تھیں۔ میں نے سلیم سیف اللہ کو فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بری محنت سے صنعتیں لگائیں تھیں اور تمام ٹیکس ادا کئے ہیں ہم ٹیکس چور نہیں نہ ہی کوئی غیر قانونی کام کیا۔ آف شور کمپنیاں بنانا کوئی عیر قانونی کام نہیں۔ ان کے قانونی یا غیر قانونی ہونے کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے تاہم نیب کو انہیںبھی طلب کرنا چاہئے۔ شوکت عزیز پر پہلا الزام یہ تھا کہ پرویز مشرف نے انہیں ”سٹی بینک نیویارک“ سے طلب کیا تھا۔ شوکت عزیز نے قبول کیا کہ وہ پہلے بھی پاکستان آتے رہے۔ اور نوازشریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے ان سے مشاورت بھی کی۔ جب انہیں وزیرخزانہ مقرر کیا گیا تو اس وقت بھی ان پر کچھ الزامات لگے۔ ان میں سے ایک الزام یہ تھا کہ جب وہ وزیراعظم بنے انہوں نے اسٹیل ملز کو بھیجنے کی کوشش کی تھی۔ الزام یہ تھا کہ یہ اپنی مرضی کے بندے کو، یعنی فرنٹ مین کے ذریعے اسے بیچنا چاہتے تھے۔ شاید کسی انڈین پارٹی کے ہاتھوں فروخت کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر اس کی فروخت روک دی گئی۔ پیراڈائس لیکس میں ان کا نام آنے سے ثابت ہوا تو ان پر الزام درست تھے۔ یہاں سے جانے کے بعد وہ اسے غائب ہوئے جیسے ”گدھے کے سر سے سینگ“ بعد میں پتا چلا کہ وہ بھارت کے لئے بہت سے کاروبار کو لندن میں دیکھ رہےہیں۔ ان کے خلاف الزامات ہیں تو ادارے انہیںپاکستان لے کر آئیں۔ شوکت عزیز بھی چھپنے کی بجائے خود کو احتساب عدالت میں پیش کر کے کلیئر کرا لیں الیکشن لڑتے وقت شوکت عزیز نے اپنے اثاثے نہیں دکھائے تھے۔ میاں منشا کا نام بھی پیراڈائز لیکس میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میری فیملی باہر مقیم ہے۔ اس لئے وہ پاکستانی قانون کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔ وہ ایک امیر ترین آدمی ہیں ان پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ ایم سی بی بینک میاں نوازشریف نے انہیں اونے پونے دیا تھا۔ وہ پاکستان کے امیر ترین انسان ہیں۔ وہ بھی خود کو کلیئر کروائیں۔ ان کے خلاف اداروں نے الیکشن لیا تو نوازشریف نے انہیں روک دیا تھا۔ اس وقت نیب چیئرمین جاوید اقبال کا امتحان ہے کہ وہ پیراڈائز لیکس میں آنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ اس میں بہت بڑے بڑے لوگوں کے نام آئے ہیں برطانیہ کی ملکہ اردن کی ملکہ اور سعودی شہزادوں کے نام بھی آ گئے ہیں۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کام اب بڑھ گیا ہے۔ اس لیکس کے بعد اب انہیںچیلنج سمجھ کر کارروائیاں کرنی ہوں گی۔ ملکہ برطانیہ اور سعودی فرماروا۔ قطری شہزادہ بھی اس میں شامل ہیں۔ قطری شہزادہ بھی اپنے ملک سے پیسہ باہر لے گئے اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ میڈونا کو ان لوگوں میں شامل کرنا درست نہیں اس نے تو ناچ گانا کر کے لوگوں کی جیب سے پیسے حاصل کئے۔ اس کے مقابلے میں وزیراعظم، وزیرخزانہ، وزیر خارجہ، ملکہ، شہزادے، ٹرمپ کے 11 ساتھی وہ لوگ ہیں جنہیں لوگ اپنے مفاد کے لئے آگے لاتے ہیں اور امانت دار بناتے ہیں امریکہ میں کانگریس اہلکار وزیر نہیں بن سکتے۔ صدر اپنی مرضی سے شفاف اور دیانت دار لوگوں کو آگے لاتا ہے۔ ٹرمپ کے 11 ساتھیوں کے نام اس میں آئے ہیں۔ یہ ٹرمپ کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ سعودی عرب کا ہم سب احترام کرتے ہیں۔ ان کے اداروں کا احترام کرتے ہی میری فیملی 20 سال مدینہ منورہ میں رہی۔ وہاں ایک عام شرتہ کسی کو پکڑے تو اسے کوئی چھڑوا نہیں سکتا۔ افسوس ہوا یہ سن کر کہ وہاں کے شہزادوں اور بادشاہ کے بچوں اور رشتہ داروں کے نام بھی اس لیکس میں آ گئے ہیں۔ سعودی عرب میں مقامات مقدسہ ہیں۔ وہاں کے امام کا بھی ہم بہت احترام کرتے ہیں اگر وہ امام یہاں آ جائیں تو ہم خوش قسمتی سمجھتے ہیں کہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں دنیا کے بڑے بڑے کاروبار ان شہزادوں کے ہاتھ میں ہیں۔ پراپرٹی ہو چاول کی درآمد ہو۔ یا کوئی اور بڑا کاروبار پوری دنیا میں سعودی شہزادوں کے کاروبار پھیلے ہوئے ہیں۔ ہمارے دلوں میں ان کے بہت احترام ہیں۔ ٹرمپ آیا تو سعودی فرماروا اسے چھوڑ کر نماز پڑھتے چلے گئے۔ ہم انہیں اس احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پیراڈائز لیکس کے ایک کروڑ دستاویزات ہیں۔ جو باقاعدہ دستخط شدہ ہیں۔ اس میں نام آنے کے بعد کوئی کسی طرح جھوٹ بول سکے گا کہ یہ اس کا اثاثہ نہیں ہے۔ اب آپ کہتے رہیں کہ ”مجھے کیوں نکالا“ ہمیں انتظار کر لینا چاہئے کہ عدالت میاں نوازشریف کے بارے فیصلے دیدے۔ اگر وہ بے گناہ ہیں تو سر آنکھوں پر اگر عدالت انہیں قصور سمجھ کر سزا دیتی ہے تو ہم کہیں گے کہ انہیں زیادہ سزا دیں کیونکہ ہم نے انہیں اہل سمجھ کر چنا تھا۔ ہم خوش تھے کہ سعودی فرماروا نے جن کو پکڑا ہے۔ وہ سیاسی اختلاف نہیں بلکہ شہنشاہی اختلاف ہے۔ جس کی ٹوٹی کسنی تھی۔ اور اسے مروڑنا تھا اسے پکڑا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ عام بات ہےکہ سیاسی مقاصد کیلئے ان لوگوں کو پکڑا گیا ہے۔ اگر ان مقاصد کے لئے نہیں بھی پکڑا گیا تو ہم واہ واہ کر رہے تھے کہ سعودی فرما روا نے کمال بیان دیا ہے کہ جو بھی غلط کرے گا میں اس کو پکڑوں گا۔ ان کے اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔ فارن میڈیا ضرور مزید کھوج نکال لے گا کہ سعودی شہزادے طلال ولید کا اصل قصہ کیا ہے۔ ٹرمپ کی بیٹی، امریکہ میں وسیع کاروبار انہی شہمادے کا ہے اصل دلکشی مال کی ہوتی ہے۔ امریکی خاتون صدر کی بیٹی ہو یا ملکہ یا کوئی اور شہزادی وہ بھی مال پر مرتی ہے۔ گجرات کے ایک فراڈیے کے بہت قصے مشہور ہوئے۔ اس کے بہت بڑے بڑے کاروبار تھے جہاز بھی کھرے تھے اور نہ جانے کیا کیا تھا۔ یہاں آئے تو نعیم بخاری کا گھر صاف ہو گیا۔ وہ بُری شکل کا آدمی تھا۔ لیکن عورتیں اس پر مرتی تھیں۔ روپیہ سب کچھ چھپا لیتا ہے۔ میںحیران ہوں جس طرح خواجہ آصف نے روپ بدلا ہے۔ ان کے بیانات فوج کے لئے بہت سخت آتے رہے۔ امریکہ گئے تو کہتے ہیں ہم آپ کے حکم پر جہاں کہیں گے بمباری کریں گے۔ حافظ سعید کا مدرسہ ہو یا منصورہ ہو۔ جہاں امریکہ بہادر رہے گا ہم حکم مانیں گے اور وہاں بمباری کریں گے۔ یہ قمر جاوید باجوہ کی میزبانی ہے یا خدا نے ان کے دل میں کئی چمک ڈال دی کہ وہ بالکل ہی بدل گئے بلکہ الٹ ہو گئے۔ معلوم نہیں اب انہیں کہنا چاہئے ”کوئی شرم ہوتی ہے۔ کوئی حیا ہوتی ہے“ لیکن پھر بھی ہم ان کی تعریف کرتے ہیں کہ شاید ملکی مفاد کی وجہ سے۔ انہوں نے امریکہ بہادر کو تھوڑی تھوڑی آنکھ دکھانا شروع کر دی ہے۔ خواجہ صاحب کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے دکھائی دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ”نو ڈو مور“ امریکہ انڈیا کو منع کرنے کہ اس کا اثررسوخ افغانستان میں کیوں بڑھ رہا ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کرتے چودھری برادران حلیم طبع کے انسان ہیں۔ کبھی ان کی طبیعت میں اکڑ اور غصہ دکھائی نہیں دیا۔ وہ عدالت میں پیش ہو گئے۔ وہ اپنے سوالات کا جواب دیں گے۔ عدالت جتنے سوال پوچھے انہیں جواب دے دینا چاہئے۔ ان کے والد ظہورالٰہی نے کبھی عدالت میں مات نہیں کھائی۔ وہ ہمیشہ عدالت سے جیت گئے۔ اسی طرح چوہدری برادران عدالت کے 75 چھوڑ 150 سال بھی ہوں تو اس کا جواب ضرور رہی۔

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      موسیٰ کا مصلیٰ سے واپسی پر آئرش کوہ پیما لاپتہ الیگزینڈر مردہ حالت میں مل گئے

      پاکستان کا وقت 30 منٹ پیچھے ہوگا نئی قانون سازی منظور

      شمالی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ، گلگت، اسکردو، مظفرآباد اور راولپنڈی شامل

      تازہ ترین

      ڈرے ہوئے امام الحق سن گلاسز اور ماسک پہنے لاہور واپس پہنچ گئے امام الحق کوانگلینڈ کیخلاف کھیلنے سے FAKE INJURY ظاہر کر کے انکار پرتحقیقات کا سامنا

      مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا

      راول ڈیم کے اسپِل ویز کھل گئے ڈیم اوور فلو کے قریب

      راولپنڈی میں فلیش فلڈنگ بارش سے نالہ لئی میں 27 فٹ پانی

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.