All posts by Daily Khabrain

ای سی سی، درآمدی کپاس پر کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس چھوٹ کا معاملہ ریونیو ڈویژن کو ارسال

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کپاس کی درا?مد پر کسٹمز اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ کا معاملہ ریونیو ڈویڑن کو بھجوادیا اورچھوٹ کی صورت میں وصولیوں پر اثرات کی رپورٹ طلب کرلی۔
علاوہ ازیں ای سی سی نے پاکستان سٹیل ملز کو فعال کرنے کے حوالے سے بھی رپورٹ طلب کر لی ہے تفصیلات کے مطابق ای سی سی کا اجلاس گذشتہ روز یہاں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں کپاس کی درا?مد، پاکستان مشین ٹول فیکٹری کی بحالی سمیت کئی اہم امور پر غور کیا گیا۔کمیٹی نے کپاس کی درا?مد پر کسٹمز اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ کا معاملہ ریونیو ڈویڑن کو بھجوادیا اورچھوٹ کی صورت میں وصولیوں پر اثرات کی رپورٹ طلب کر لی، کمیٹی نے وزارت صنعت سے پاکستان اسٹیل کو فعال کرنے کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت تفصیلی اسٹڈی جلد از جلد دے تاکہ پاکستان اسٹیل ملز کوجلد فعال کیا جاسکے۔
اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ وزارت تجارت و ٹیکسٹائل اور وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے درمیان کاٹن کی درا?مد پر ڈیوٹی و ٹیکسوں سے چھوٹ کے معاملہ پر اختلاف کے باعث ای سی سی نے سمری کی منظوری موخرکردی اورمعاملہ ریونیو ڈویڑن کو بھجوادیا ہے ذرائع کے مطابق وزارت تجارت کا موقف ہے کہ ملکی برا?مدات میں ٹیکسٹائل مصنوعات کاکلیدی کردار ہے اور ڈیوٹی و ٹیکسوںمیں چھوٹ سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو فروغ ملے گا اور برا?مدات بڑھیں گی جبکہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کپاس کے مقامی کاشتکار متاثر ہونگے اور کپاس کی اگلی فصل پر اس اقدام کے منفی اثرات پڑینگے ای سی سی نے فریقین کا تفصیلی موقف س?ننے کے بعد کپاس کی درا?مد پر کسٹمز اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ کا معاملہ ریونیو ڈویڑن کو بھجوادیا اورچھوٹ کی صورت میں وصولیوں پر اثرات کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

سونے کے نرخوں میں 400روپے کی کمی، تولہ 66900 پر آگیا

کراچی (ویب ڈیسک )بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت7ڈالر کی کمی سے 1284 ڈالر کی سطح پرپہنچنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی منگل کو فی تولہ اور فی 10 گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 400 روپے اور358روپے کی کمی واقع ہوئی۔
کراچی، حیدرا?باد، سکھر، ملتان، فیصل ا?باد، لاہور ، اسلام ا?باد، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت گھٹ کر 66900 روپے اور فی 10گرام سونے کی قیمت گھٹ کر57342روپے ہوگئی۔

سوئی سدرن ، نادرن کے ایم ڈیز کیخلاف وہ ہو گیا جو انہوں نے سوچا بھی نہ تھا

نیویارک‘ اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ آئی این پی) مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص تصور کئے جانے والے مائیکر وسافٹ کمپنی کے بانی نے اپنے خط میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا ارادہ ظاہر کیا۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، مائیکرو سافٹ پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرسکتا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ بل گیٹس فاﺅنڈیشن پولیو، صحت عامہ کے شعبے میں پاکستان سے تعاون جاری رکھے گی، مائیکرو سافٹ کے بانی نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا، توقع کی جارہی ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے جلد اس خط کا جواب دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ 5 دسمبر 2018ئ کو بل گیٹس نے وزیراعظم خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا‘ اس موقع پر بل گیٹس نے پولیو کے خاتمے کی کاوشوں پر وزیراعظم عمران خان کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مائیکرو سافٹ کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی ظاہر کرنا ایک اہم اقدام ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت میں بہتری آئے گی، بلکہ روزگار کے نئے موقع بھی پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بل گیٹس فاﺅنڈیشن کی جانب سے مسلسل تعاون پر شکرگزار ہیں، انسداد پولیو کےلئے ڈبلیو ایچ او کی کوششیں قابل تعریف ہیں جبکہ بل گیٹس فاﺅنڈیشن کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی پولیو کے خاتمے کےلئے کوششیں اطمینان بخش ہیں، پاکستان سے پولیو کے خاتمے کےلئے تعاون جاری رکھیں گے۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان سے عالمی ادارہ صحت کے ڈی جی ڈاکٹر ٹیڈروس اور بل گیٹس فاﺅنڈیشن کے صدر کرس ایلس نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں پولیو کے خاتمے کےلئے حالیہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نے وزیراعظم عمرانخان کو ڈونرز کانفرنس سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گیٹس فاﺅنڈیشن کی جانب سے مسلسل تعاون پر شکرگزار ہیں، انسداد پولیو کےلئے ڈبلیو ایچ او کی کوششیں قابل تعریف ہیں، بل گیٹس فاﺅنڈیشن کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی پولیو کے خاتمے کےلئے کوششیں اطمینان بخش ہیں، پاکستان سے پولیو کے خاتمے کےلئے تعاون جاری رکھیں گے۔اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے ایم ڈیز گیس بحران کے ذمہ دار نکلے۔وزیراعظم نےسوئی ناردرن،سوئی سدرن کےایم ڈیزبرطرف کرنےکی ہدایت کردی۔تفصیلات کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرما کی پہلی بارش کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی گیس کی طلب میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں صنعتوں کو گیس کی سپلائی کا سلسلہ منقطع کردیا جائے تاکہ گھریلو صارفین کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔تاہم اس پر کراچی کی صنعتی کمیونٹی سراپا احتجاج ہے۔اس ساری بحرانی صورتحال پر وزیراعظم عمران خان بھی میدان میں آگئے تھے ،گزشتہ ماہ 12 دسمبر کو وزیرِاعظم نے سوئی سدرن اورسوئی نادرن کے ایم ڈیزکے خلاف انکوائری کا حکم دیا تھا۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سوئی سدرن ، سوئی نادرن کے ایم ڈیز کیخلاف تحقیقاتی کارروائی جلد از جلد مکمل کرنیکی ہدایت کی گئی تھی۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیرپیٹرولیم تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ دونوں ایم ڈیز کے خلاف انکوائری رپورٹ وزیر اعظم کو جمع کروا دی گئی ہے۔رپورٹ وزیر اعظم کی زیر صدارت توانائی اجلاس میں پیش کی گئی۔رپورٹ میں ایم ڈیز کو گیس بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جس کے بعد وزیراعظم نےسوئی ناردرن،سوئی سدرن کےایم ڈیزبرطرف کرنےکی ہدایت کردی۔وزیراعظم عمران خان نے سوئی ناردرن کےایم ڈی امجدلطیف کوبرطرف کرنےکی ہدایت کر دی جبکہ وزیر اعظم کے حکم پر ایم ڈی سوئی سدرن امین راجپوت کوبھی برطرف کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے آئندہ ایک ہفتے میں گیس کی کمی کو پورا کرنے کو یقینی بنانے اور بجلی چوری کے خلاف مہم کو مزید تیز کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی چوری یا بدانتظامی کا خمیازہ عوام بھگتیں یہ ناقابل قبول ہے ¾ مختلف شعبوں میں گیس کی طلب و استعمال اور تخمینوں سے متعلقہ مسائل کے مستقل حل کےلئے متعلقہ محکموں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید بہتر کیا جائے جبکہ وزیر اعظم کوبتایاگیا ہے کہ اس وقت سسٹم میں سے بارہ سے تیرہ فیصد گیس چوری ہو رہی ہے ¾غیر قانونی کمپریسر ز کے استعمال کے جرم میں اب تک پانچ ہزار کنکشن منقطع کیے جا چکے ہیں ¾ بجلی چوری کے خلاف مہم کے نتیجے میں محض نومبر کے ایک مہینے میں ڈیرھ ارب روپے کی بچت ہوئی ہے ¾بجلی چوری کے خلاف مہم میں اب تک 16000مقدمات قائم کیے گئے ہیں ۔ منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے انرجی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور، وزیربرائے توانائی عمر ایوب، وزیرِ ریلوے شیخ رشید، وزیرِ منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیرِ برائے بحری امور علی حید زیدی و دیگر شریک ہوئے ۔اجلاس کے دور ان وزیر اعظم کو ملک میں گیس کی طلب اور رسد کے حوالے سے موصول شکایات کے ازالے کے لئے کیے جانے والے اقدامات پر مفصل بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ ایک ہفتے میں گیس کی کمی کو پورا کرنے کو یقینی بنایا جائے ۔ ایم ڈی سوئی ناردرن گیس نے غیر قانونی طور پر گیس کمپریسرز کے استعمال کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا اور کہاکہ غیر قانونی کمپریسر ز کے استعمال کے جرم میں اب تک پانچ ہزار کنکشن منقطع کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں بجلی چوری کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات اور اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ بجلی چوری کے خلاف مہم کے نتیجے میں محض نومبر کے ایک مہینے میں ڈیرھ ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔وزیر اعظم کو بتایاگیا کہ بجلی چوری کے خلاف مہم میں اب تک 16000مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔وزیراعظم کو بتایاگیا کہ بجلی چوری کے خلاف مہم میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں جس سے نہ صرف چوری کی سطح نیچے آ رہی ہے بلکہ ایسے علاقوں میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال میں بھی واضح بہتری آئی ہے۔ گیس کے شعبے میں ہونے والے نقصانات اور چوری کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی اور کہاگیا کہ اس وقت سسٹم میں سے بارہ سے تیرہ فیصد گیس چوری ہو رہی ہے۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گیس کے شعبے میں سالانہ نقصانات تقریبا پچاس ارب روپے سالانہ ہیں۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ مختلف شعبوں میں گیس کی طلب و استعمال اور تخمینوں سے متعلقہ مسائل کے مستقل حل کے لئے متعلقہ محکموں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید بہتر کیا جائے۔وزیر اعظم نے چیئرمین ٹاسک فورس برائے انرجی کو وزیرِ پٹرولیم اور وزیرِ توانائی کی مشاور ت سے گیس کی طلب و رسد، اعدادو شمار کے تجزیوں اور تخمینوں کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل کے حل کے لئے مربوط نظام وضع کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ بجلی چوری کے خلاف مہم کو مزید تیز کیا جائے۔وزیر اعظم نے کہاکہ کسی کی چوری یا بدانتظامی کا خمیازہ عوام بھگتیں یہ ناقابلِ قبول ہے۔جاری بیان کے مطابق گذشتہ دنوں میں پیش آنے والے گیس بحران کی انکوائری رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں ذمہ داری کا تعین کر دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا کہ قابل تجدید توانائی کے حوالے سے نئی پالیسی 2019 متعارف کرائی جا رہی ہے جس کا مقصد قابل تجدید توانائی کے حصول کے لیے ملکی وسائل کا بھرپور استعمال اور شعبے کو درپیش مسائل کا حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبضہ مافیا اور جرائم پیشہ سیاستدانوں کے خلاف کارروائی میں ادارے آزاد ہیں۔ اب ریاستی ادارے ان سیاسی مافیا کے دباﺅ سے آزاد ہو کر کام کر رہے ہیں۔ اربوں لوٹنے والے حکمران پہلی بار قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں یہ اہم تبدیلی ہے۔ پہلے عدالتی نظام اس لئے سست تھا کہ حکومتیں عدالتوں پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ وہ ادارے جو جرائم پیشہ افراد اور بڑے سیاستدانوں پر مقدمے بناتے تھے ان ریاستی اداروں کو یہی سیاستدان کنٹرول کرتے تھے اس لیے کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔یہ پہلی بار ہو رہا ہے اور اہم تبدیلی ہے کہ پاکستان میں جو لوگ حکومت میں آکر اربوں روپے بناتے تھے اب اچانک یہ قانون کے نیچے آ گئے ہیں اور حکومتی ادارے ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عمران خان نے ترک ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چار ماہ میں پاکستانی معیشت مستحکم ہوئی اب تمام توجہ برآمدات، غیر ملکی ترسیلات بڑھانے اورپاکستان میں سرمایا کاری لانے پر ہے۔ملک کو سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کا ہے، بدعنوانی نے پاکستانی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل بھی سفاکیت اور فورسز کا استعمال نہیں بلکہ بات چیت ہے۔پاک بھارت مذاکرات سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔بھارت کے پیچھے ہٹنے کو اقدام سے مایوسی ہوئی۔ دوسروں کی امداد اور قرضے مفت نہیں ہوتے قیمت چکانا پڑتی ہے اور پاکستان بھاری قیمت ادا کر چکا ، اب پاکستان کرائے کی بندوق کے طور پر استعمال نہیں ہو گا۔خارجہ پالیسی عوام کے مفاد میں کام کرے گی۔ افغان مسئلہ کا بھی حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو کیس اس وقت چل رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی ہمارا شروع کیا ہوا نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس لیے ہو رہا ہے ریاستی ادارے اب اس مافیا کے کنٹرول میں نہیں اور وہ کام کرنے میں آزاد ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے اب زمین پر قبضہ کرنے والوں، مافیاز اور جرائم پیشہ سیاستدانوں کے خلاف کارروائی میں آزاد ہیں اور یہی ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 سال سے اسٹسٹس کو ہماری سوسائٹی میں سرائیت کر چکا تھا اس کو سیاسی طریقہ سے ہٹانا بہت مشکل تھا کیونکہ یہ تقریباً تمام ہی اداروں کو کنٹرول کرتے تھے اور انہوں نے بہت پیسہ بنایا جو وہ تقریباًکسی کو بھی خریدنے کے لئے استعمال کر سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقی مقبول عوامی تحریک تھی جس نے اسٹیٹس کوُ کو ختم کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کی مخدوش ترین معاشی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے چین کی مدد تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا چین نے کچھ ایسی جگہوں پر ہماری مدد کی ہے جو میں نہیں بتا سکتا کیوں کہ چین نے ایسا کرنے سے روکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پاکستانی معیشت کی بحالی کی کوششوں میں چین کا بہت اہم کردار ہو گا۔ پاک امریکہ تعلقات پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اب کسی سے پیسے لے کر ان کے لیے کام نہیں کریں گے۔ ہماری خارجہ پالیسی کی توجہ صرف پاکستانی عوام کی بہتری ہے ۔ا ن کا کہنا تھا کہ پاکستان پر ہمیشہ یہ الزام رہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات یکطرفہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آپ دوسروں کی امداد اور قرضوں پر انحصار کرتے ہیں تو یہ مفت نہیں ہوتا اور اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے اور پاکستان نے اس کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سے پاکستان کسی اور کے لیے جنگ نہیں لڑے گا اور ہمیں کرائے کی بندوق کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

ای سی سی کا وزارت صنعت کو اسٹیل ملز کی بحالی پیکج پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت صنعت کو اسٹیل ملز کی بحالی کے پیکج پر جلد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے دوران کاٹن کی درآمد، پاکستان مشین ٹول فیکٹری کی بحالی سمیت کئی اہم امور پر غور کیا گیا۔

ای سی سی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ وزارت صنعت و پیداوار اسٹیل ملز کی بحالی کے لئے منصوبہ بندی جلد مکمل کرے۔

اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے کاٹن کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی تفصیلات بھی طلب کرلیں اور کہا ہے کہ کپاس کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی ہٹانے سے ریونیو میں ہونے والی کمی سے متعلق معلومات سے متعلق بھی مطلع کیا جائے۔

ٹرمپ ، مودی ٹیلی فونک گفتگو کی اندرونی کہانی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، ایے این این) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں افغانستان میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے، دونوں رہنماﺅں نے افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورت حال اور بھارت کو درپیش تجارتی خسارے پر تفصیلی بات چیت کی۔ وائٹ ہاو¿س ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماﺅں نے افغانستان کی تازہ صورت حال پر دو طرفہ تعاون میں مزید اضافے پر اتفاق کیا جب کہ صدر ٹرمپ نے بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی خسارے پر خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیا۔ وائٹ ہاﺅس سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماﺅں نے امریکا اور بھارت کے درمیان ’اسٹریٹیجک پارٹنرشپ‘ کے استحکام کے لیے ضروری اقدامات پر بھی زور دیا جس کے لیے وزارت خارجہ کی سطح پر روابط بڑھائے جائیں گے۔ دونوں رہنماﺅں نے خطے میں سیکیورٹی کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے بھارت اور بحر الکاہل کے خطے میں پائے جانے والے سلامتی کے خدشات پر بھی خصوصی توجہ مرکوز رکھی اور اس حوالے سے چند ضروری فیصلے بھی کیے گئے۔

فواد چودھری مریم کے فین ، اداکارہ راکھی سے ملا دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری مسلم لیگ( ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب کے فین بن گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کے درمیان گرما گرم بحث ہوتی رہی لیکن اس دوران دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی جب بھارتی فلموں کی اداکارہ راکھی گلزار کا تذکرہ ہوا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘مریم پکا منہ بنا کر ماں بننے کی اتنی اچھی ایکٹنگ کرتی ہیں کہ راکھی گلزار لگتی ہیں، ان کو تو ایوارڈ بھی دینا چاہیے’۔اس کے جواب میں مریم اورنگزیب نے فواد چوہدری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی راکھی پسند ہیں، اچھا ہے آپ نے مجھے ان سے ملایا۔لیکن بعد میں یوٹرن لیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ مجھے راکھی سے کیوں ملایا؟یاد رہے کہ راکھی گلزار بھارتی فلموں کی معروف ادکارہ ہیں جنہوں نے کئی بلاک بسٹر فلموں میں کام کیا ہے اور یہ بالی وڈ ہدایت کارہ و رائٹر میگھنا گلزار کی والدہ ہیں۔

اعظم سواتی کو بچانے والوں کو شرم آنی چاہیے ، چیف جسٹس برہم ، کھری کھری سنا دیں

اسلام آباد(آئی این پی، اے این این ) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سینیٹر اعظم سواتی نے صرف وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے عہدے سے استعفی دیا ، وزارت پر اب بھی ان کا نام چل رہا ہے، کیا وہ رکن اسمبلی رہنے کے اہل ہیں؟ ،سارا کیا دھرا اعظم سواتی کا ہے، آئی جی کو ٹیلی فون اعظم سواتی نے کئے تھے، جے آئی ٹی رپورٹ بھی اعظم سواتی کے خلاف ہے، آپ کو کس نے آئی جی بنایا ہے، آپ اعظم سواتی کو بچانے کے لئے بیٹھے ہیں۔ شرم تو ہمیں پولیس سے آرہی ہے،آئی جی اسلام آباد کے حوالے سے عدالت کا تاثر اچھا نہیں، بات نہ سننے والا ٹرانسفر ہو جائے گا اور بات ماننے والا تعینات ہوجائے گا، اعظم سواتی میرے جانے کے دن گن رہے ہیں۔ منگل کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میںسپریم کورٹ پاکستان میں اعظم سواتی کے خلاف انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت کی ۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اعظم سواتی نے استعفی دیا ہے لیکن اب بھی وزارت پر اعظم سواتی کا ہی نام چل رہا ہے۔ ہم اس معاملے کو 62 ون ایف کے تحت دیکھ رہے ہیں اور یہ بھی دیکھیں گے کہ کیا وہ رکن اسمبلی رہنے کے اہل ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ آپ نے اب تک کیا کیا ہے ؟آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہم نے اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی، نجیب اللہ جان محمد، فیض محمود اور جہانزیب کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو سارا کرتا دھرتا ہے اس کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا اس لیے کہ وہ بڑا آدمی ہے اور فون نہ سننے پرآئی جی کو تبدیل کر دیا گیا۔ اگر آپ نے لوگوں کو انصاف نہیں دینا تو پھر کس بات کے آئی جی لگے ہوئے ہو۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غریب لوگوں کو مارا پیٹا گیا اور جے آئی ٹی رپورٹ میں آگیا کہ وزیر کے ساتھ پولیس نے خصوصی برتا کیا ہے لیکن ہم مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ بڑے آدمی چھوٹوں کو روند نہیں سکتے اس لیے یہاں ہر سزا ملے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس نے تو پرچہ درج کرنا نہیں، ہم اعظم سواتی کو 62 ون ایف کے تحت نوٹس کر دیتے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بارے میں میرا تاثر بہت خراب ہو گیا ہے۔ آپ پھر مل گئے ہیں۔عدالتی معاون فیصل صدیقی سے استفسار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کچھ معاملات میں نیب کو مداخلت کی سفارش کی ہے۔ کیا الیکشن کمیشن کے علاوہ کوئی ایسا فورم ہے جہاں اس معاملے کو بھیجا جائے۔عدالتی معاون نے مقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی کے مطابق ایف بی آر سے اعظم سواتی نے غلط بیانی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کیا ہے۔ جے آئی ٹی کے مطابق اعظم سواتی کی آمدن اور اثاثے آپس میں مماثلت نہیں رکھتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں اختیارات کا غلط استعمال ثابت ہو چکا ہے۔ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے تاہم کس جوڈیشل فورم نے اس مسئلے کودیکھنا ہے آپ بتادیں۔فیصل صدیقی نے عدالت کا آگاہ کیا کہ اعظم سواتی اور طاہرہ سواتی کی بیرون ملک سے آنے والی آمدن اور ان کے یہاں پر اثاثوں میں واضح فرق ہے جب کہ ایک ارب 57 کروڑ روپے کی رقم ان کے پاس موجود ہے اور بیرون ملک سے آنے والی رقم 90 لاکھ 70 ہزار ڈالر ہے۔فیصل صدیقی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگر جائیداد کی معلومات درست نہیں دی گئی تو اس پر رکن پارلیمنٹ کی نااہلی بنتی ہے۔چیف جسٹس نے اعظم سواتی سے استفسار کیا کہ آپ کو تو امریکا میں داخلہ بند ہے ؟۔اعظم سواتی نے مقف اختیار کیا کہ میں نے خود 1996 میں امریکی شہریت ترک کر دی تھی تاہم اب میں نے امریکہ کے ویزے کے لیے درخواست دی ہوئی ہے کیونکہ بطور پاکستانی شہری مجھے امریکہ کا ویزا لینا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے اثاثوں سے متعلق تحقیقات کا معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر )کو بھجواتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر مِس ڈیکلریشن ثابت ہوا تو عدالت عظمیٰ اس کو بھی دیکھے گی کہ اعظم سواتی اہل ہیں یا نہیں؟، ہم پارلیمنٹ کی بے انتہا عزت کرتے ہیں، عدالت کا پہلے دن سے یہی موقف ہے ، سپریم کورٹ کے پاس شہادتیں اکٹھی کرنے سمیت ٹرائل کے مکمل اختیارات ہیں۔ منگل کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران اعظم سواتی کے وکیل علی ظفر نے عدالت عظمی کو آگاہ کیا کہ ان کے موکل نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘اعظم سواتی نے صرف وزارت سے استعفی دیا ہے، ہم اس معاملے کو 62 ون ایف کے تحت دیکھ رہے ہیں۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اعظم سواتی رکن اسمبلی رہنے کے اہل ہیں؟’ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ابھی بھی وزارت پر اعظم سواتی کا نام چل رہا ہے۔چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا آئی جی صاحب آپ نے اب تک کیا کیا ہے؟’آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ‘اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی، نجیب اللہ، جان محمد، فیض محمود اور جہانزیب کے خلاف پرچہ درج کیا۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو سارا کرتا دھرتا ہے، اس کے خلاف کچھ نہیں کیا؟ اس لیے کہ وہ بڑا آدمی ہے؟،جسٹس ثاقب نثار نے مزید ریمارکس دیئے کہ ‘صرف ایک فون نہ سننے پر آئی جی تبدیل کردیا، پھر بھینس بھی نہیں نکلی۔جس پر عدالتی معاون فیصل صدیقی نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے لکھا ہے کہ آئی جی کے تبادلے میں اعظم سواتی کا کردار نہیں، لیکن تبادلہ اسی دن کیا گیا جب آئی جی نے فون سننے سے انکار کیا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘اگر لوگوں کو انصاف نہیں دینا تو کس چیز کے آئی جی لگے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ غریب لوگوں کو مارا پیٹا گیا، آپ سے کہا داد رسی کریں لیکن آپ بھی مل گئے۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرکے کہا عامر ذوالفقار، آپ کے بارے میں میرا تاثر بہت خراب ہوگیا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی آگیا کہ وزیر کے ساتھ پولیس نے خصوصی برتا ﺅکیا۔چیف جسٹس کا کہنا تھاہم مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ بڑے آدمی چھوٹوں کو روند نہیں سکتے، ہم اعظم سواتی کو 62 ون ایف کا نوٹس کر دیتے ہیں کیونکہ پولیس نے تو پرچہ درج کرنا نہیں۔

نیب کا شکنجہ تیار ، حمزہ کیخلاف چونکا دینے والی خبر

لاہور(اے این این)اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف کے بعدان کے بیٹے حمزہ شہباز کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا،قومی احتساب بیورو(نیب)نے غیرقانونی اثاثوں اوررمضان شوگر ملزکیس میں حمزہ شہباز کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو(نیب)نے غیرقانونی اثاثوں اور رمضان شوگر ملزکیس میں حمزہ شہباز کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے،شہبازشریف اور حمزہ شہباز کےخلاف ریفرنس رواں ماہ دائر کردیا جائے گا،ریفرنس کی حتمی منظوری چیئرمین نیب جسٹس (ر)جادید اقبال دینگے ۔قومی احتساب بیورو(نیب)نے شہبازشریف اورحمزہ شہباز کے اثاثوں کی تفصیل اوربینک ریکارڈ حاصل کررکھا ہے ،نیب نے کیس میں شہبازشریف سے جیل میں تفتیش کی اجازت بھی حاصل کررکھی ہے ۔واضح رہے کہ حمزہ شہبازآمدن سے زائداثاثوں اور رمضان شوگر ملزکیس میں 2 بار نیب میں پیش ہو چکے ہیں۔

ایف بی آرکے بینکوں سے قرضے معاف کروانے والوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے اختیارات ختم

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) ایف بی آرکے بینکوں سے قرضے معاف کروانے والوں کی تفصیلات حاصل کرنےکے اختیارات ختم کردیئے گئے۔
ایف بی آرکے بینکوں سے قرضے معاف کروانے والوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے اختیارات ختم کردیئے گئے جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق انکم ٹیکس ر±ولز2002 میں ترامیم کی گئیں، ر±ول 39 بی کے ذیلی ر±ول ایک کی کلاز ڈی ختم جب کہ کلازای میں بھی ترمیم کردی گئی۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ اورمشکوک ٹرانزیکشن کرنے والوں کی معلومات لینے پربھی پابندی عائد کردی گئی ہے، ایف بی آر کے اختیارات بینکوں سے قرضوں پرمنافع کی تفصیلات حاصل کرنے تک محدود ہوگئی جب کہ یینکوں کو یہ معلومات آن لائن سسٹم کے ذریعے الیکٹرانیکلی ایف بی آرکو فراہم کرنا ہوں گی۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق اب بینکوں کو نان فائلرزکے ساتھ فائلرٹیکس دہندگان کی تفصیلات بھی آن لائن ایف بی آرکو فراہم کرنا ہوں گی، بینکوں کواب یہ مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ ایف بی آرکونہیں بھجوانا ہوگی، معاف کروائے جانے والے قرضوں کی اسٹیٹمنٹ ختم اورمنافع کی اسٹیٹمنٹ کے الفاظ شامل کئے گئے۔
دوسری جانب کرنسی ٹرانزیکشن اورمشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ کی تفصیلات حاصل کرنے کے اختیارات، کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے اختیارات سمیت ایف بی آرکی بینکوں کے ڈیٹا تک آن لائن رسائی ختم کردی گئی۔ ایف بی آرایک ماہ میں دس لاکھ روپے یا زائد رقم نکلوانے والے لوگوں کے کوائف اورکٹوتی کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی اسٹیٹمنٹس کی تفصیلات حاصل کرسکے گا۔
ایف بی آرایک ماہ میں دس لاکھ روپے یا زائد رقم نکلوانے والے لوگوں کے کوائف اورکٹوتی کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی اسٹیٹمنٹس کی تفصیلات حاصل کرسکے گا اور آئندہ ایف بی آر پچاس ہزار روپے سے زائد یومیہ، ایک ماہ کے دوران دس لاکھ روپے سے زائد رقوم نکلوانے والے فائلرونان فائلر لوگوں کی مانیٹرنگ کرے گا اور بینکوں کی ماہانہ اسٹیٹمنٹس سے معلومات کی بنیاد پر لوگوں کے ذرائع آمدنی معلوم کئے جائیں گے، معاف کروائے جانے والے قرضوں کی اسٹیٹمنٹ ختم، منافع کی اسٹیٹمنٹ کے الفاظ شامل کئے گئے، قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔

جادوئی ڈیبٹ کارڈ سے کروڑوں کی خریداری ، آپ بھی اپنے کارڈز آزما لیں

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک بے گھر اور مفلس شخص کے بینک کارڈ میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی جس کے بعد خریداری کے باوجود اس کے کارڈ سے رقم کم نہیں ہورہی تھی چنانچہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اپنے جادوئی ڈیبٹ کارڈ سے ایک کروڑ روپے کا سامان خرید لیا۔برطانیہ کے علاقے بریڈ فورڈ کے رہائشی 49 سالہ اللہ دتہ کے پاس ایک ڈیبٹ کارڈ تھا جس کے اکانٹ میں رقم موجود نہ تھی، اس نے پہلے ٹیسکو اسٹور پر کارڈ چلایا تو بظاہر وہ استعمال ہوگیا اور وہ اشیا لے کر وہاں سے نکلا ۔ اس کے بعد منشیات کے عادی اس شخص نے مزید ہمت کرکے یہ کارڈ دیگر علاقوں کے اسٹور پر استعمال کیا اور اس میں بھی اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ بینک کے مرکزی ڈیٹا بیس میں اس کارڈ سے وابستہ ایک تکنیکی خرابی تھی جو رقم کی کٹوتی ہونے نہیں دے رہی تھی۔بعد ازاں اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک دو نہیں بلکہ درجنوں اسٹور سے 167 مرتبہ خریداری کی جن میں کھلونے، قیمتی اشیا اور دیگر ضروری سامان شامل تھا۔ ہربار وہ اسٹور سے اپنی ٹرالی بھر کے نکلتا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے 56 ہزار برطانوی پونڈ کی اشیا خریدیں جن کی مالیت ایک کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔ ہمیشہ ہی سافٹ ویئر خرابی کی وجہ سے اس کا کارڈ قبول ہوجاتا اور رقم کی منتقلی ظاہر ہوجاتی تھی یعنی کارڈ میں کبھی رقم کم نہیں ہوئی۔تاہم اس کا یہ چکر زیادہ دن نہیں چلا اور پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ اب اسے دو سال تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس موقع پر اللہ دتہ نے بتایا کہ وہ اس خرابی سے واقف نہ تھا لیکن عدالت نے کہا کہ اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ قیمتی اسمارٹ فون اور زیورات تک خریدے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ ان مہنگی اشیا کو خریدنے کی سکت نہیں رکھتے اس لیے ملزم کا یہ موقف قابل قبول نہیں۔