All posts by Daily Khabrain

پی آئی سی موت بانٹنے لگا ، غریب دل کے مریضوں کو زائد المعیاد سٹنٹ ڈال دئیے

لاہور : ( مہران اجمل ) زندگیاں بچانے والا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی موت بانٹنے لگا ، انتظامیہ کی ناک تلے نام نہاد مسیحا زائد الیمعاد سٹنڈ ڈال کر قیمتی ناجیں نگنے لگے ، مریضوں کو زائد المعیاد سٹنڈ ڈالنے کی دستاویزات چینل 5 ، خبریں نے حاصل کر لیں۔

کروڑوں بجٹ سے خریدے جو رواں سال جولائی میں ایکسپائر ہوچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں غریب دل کے مریضوں کو ڈالے جانے والے سٹنڈ زائد المعیاد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

 مزید مریضوں کو بھی زائد المعیاد سٹنٹ ڈالے نے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے، ڈاکٹروں کو بھی نوازے جانے کا انکشاف

تحریک انصاف کا قیام ۔۔۔۔صدر عارف علوی نے کیا بانی خبریں ضیا شاہدکو یاد

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر مملکت عارف علوی نے برانڈز آف دا ایئر2020 کی تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے قیام کا واقعہ بتاتے ہوئے خصوصی طور پر بانی و قائد خبریں گروپ ضیا شاہد کا خصوصی تذکرہ کیا۔

ضیاءشاہد مرحوم میرے پرانے دیرینہ ساتھیوں اور پارٹی کے بانیوں میں سے تھے،وزیراعظم عمران خان۔
وزیراعظم عمران خان نے اس سے قبل بھی متعدد بار سرکاری و پارٹی تقریبات میں انہی حوالوں سے ضیاءشاہد مرحوم کا ذکر کیا۔
بانی و قائدخبریں گروپ ضیاءشاہد مرحوم نے تحریکِ انصاف کے بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پی ٹی آئی کا موجودہ آئین بھی بانی اور قائد خبریں گروپ ضیا شاہد مرحوم کا تحریر کردہ ہے
جب پی ٹی آئی کی داغ بیل ڈالی گئی تو 5یا6افراد موجود تھے،ضیا شاہد مرحوم کے الفاظ۔

امریکہ کو روس اور چین سے خطرہ ، اب القاعدہ اور الشہاب سے لڑنا ہوگا: جوبائیڈن

واشنگٹن : (مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طویل ترین افغان جنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

افغان جنگ کے خاتمے اور اتحادی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا کے بعد امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئےصدر جوبائیڈن نے کا کہنا تھا کہ روس اور چین چاہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں الجھا رہے، افغانستان سے انخلا کا فیصلہ طے شدہ تھا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ قبل از وقت ہوگا، ہمیں امید تھی کہ افغان فورسز طالبان کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش کی کمر توڑ دی ہے، 3 لاکھ افغان فوجیوں کو 20 سال تک تربیت دی، کابل سے شہریوں کی انخلاء کا چیلنج مکمل کیا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ افغانستان میں اب بھی 200 کے قریب امریکی موجود ہیں، ہمارے جو شہری افغانستان سے واپس آنا چاہتے ہیں ان کو ہر صورت واپس لائیں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ سلامتی کونسل نے بھی انخلاء سے متعلق طالبان کو واضح پیغام دیا، امریکیوں کے تحفظ کے لیے 31 اگست کی ڈیڈ لائن پر عمل کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اندازہ نہیں تھا کہ افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہو جائے گا، کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کے لیے میں نے 6 ہزار فوجی بھیجے، طالبان کی باتوں پر نہیں،عمل پر یقین کریں گے، ایک لاکھ افغان باشندوں کو افغانستان سے نکالا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے مزید کہا کہ میں تمام فیصلوں کی ذمہ داری لیتا ہوں، 31 اگست کے بعد بھی رہتے تو تناؤ میں اضافہ ہو سکتا تھا، جو بھی فیصلہ کریں گے اپنے ملک کے مفاد کو دیکھ کر کریں گے۔

پاکستان کے امجد ثاقب ایشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

سود سے پاک مائیکرو فنانس ادارے اخوت کے بانی پاکستان کے محمد امجد ثاقب ایشیا میں نوبیل انعام کے برابر تصور کیے جانے والا ایوارڈ جیتے میں کامیاب رہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 64 سالہ محمد امجد ثاقب اپنی نوعیت کے پہلے سود سے پاک اور مفت مائیکرو فنانس پروگرام کی بدولت ریمن میگ سیسے ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہے۔

مزید پڑھیں: نایاب علی عالمی ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی مخنث

ایوارڈ فاؤنڈیشن کے مطابق ڈاکٹر امجد ثاقب نے دو دہائی قبل ملک کے سب سے بڑے مائیکرو فنانس ادارے اخوت کی بنیاد ڈالی تھی جو اس وقت 90کروڑ ڈالر تقسیم کررہی ہے اور قرض لے کر واپس کرنے والوں کی ادائیگی کی شرح تقریباً 100 فیصد ہے۔

عبادت گاہوں کو پیسے دینے والے امجد ثاقب کا ماننا ہے کہ انسانی بھلائی اور یکجہتی غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

طیارہ حادثے میں ہلاک سابق فلپائنی صدر کے نام پر رکھا گیا ریمن میگ سیسے ایوارڈ 1957 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ ترقیاتی مسائل سے نمٹنے والے لوگوں اور افراد سراہا جا سکے۔

وزیراعظم عمران خان نے امجد ثاقب کو ایشیا کا سب سے بڑا اعزاز جیتنے پر مبارکباد دی۔

انہوں نے ٹوئٹ کی کہ میرے علم میں لایا گیا ہے کہ اس سال ایشیا کا اعلیٰ ترین ”رامن میگ سیسے ایوارڈ ایک پاکستانی یعنی اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کو دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا یہ کارنامہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہم ریاستِ مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست کے قیام سے قریب تر ہورہے ہیں۔

ایوارڈ کے دیگر فاتحین

اس کے علاوہ سائنس کے شعبے میں زندگی بھر لگن اور ویکسین کی تیاری میں انتھک کوششیں کرنے کی بدولت 70 سالہ فردوسی قادری بھی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہیں۔

منیلا میں قائم ایوارڈ فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں اسہال کی بیماریوں کی تحقیق کے بین الاقوامی مرکز میں کام کرتے ہوئے فردوسی قادری نے ہیضے اور ٹائیفائیڈ سے لڑنے کے لیے سستی ویکسین بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس سلسلے میں حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ضلع کاکس بازار میں روہنگیا پناہ گزین کے کیمپوں میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی کوششوں میں ان کے اہم کردار کا بھی حوالہ دیا گیا جس سے ہیضے کی وبا کو روکنے میں مدد ملی، یہ بیماری شدید اسہال کا سبب بنتی ہے اور مضر صحت خوراک اور پانی کے ذریعے پھیلتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترک وزیر خارجہ کو ‘ہلال پاکستان ایوارڈ’ دینے کی تقریب

ایوارڈ دینے والی تنظیم نے بنگلہ دیش کی سائنسی تحقیقی صلاحیت میں اضافے کے لیے فردوسی قادری کی انتھک کوششوں کا بھی حوالہ دیا۔

فاؤنڈیشن کی جانب سے شیئر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں فردوسی قادری نے کہا کہ میں بہت خوشی محسوس کررہی ہوں اور ایوارڈ دینے پر انتہائی ممنون ہوں۔

یہ ایونٹ رواں سال آن لائن منعقد کیا گیا کیونکہ گزشتہ سال 2020 کے ایونٹ کو کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا۔

ایورڈ جیتنے والے ایک اور فرد فلپائن کے 53سالہ ماہی گیر روبرٹو بیلن ہیں جو جنوبی جزیرہ منڈاناؤ میں دم توڑتی ماہی گیری کی صنعت کو ایک نئی زندگی دینے میں مدد کے لیے شہرت رکھتے ہیں جہاں مچھلیوں کے ترک کیے گئے تالابوں نے مینگرووز کے جنگلات کو تباہ کردیا تھا۔

حکومتی پشت پناہی کی بدولت روبرٹو بیلن اور دیگر چھوٹے ماہی گیروں نے 2015 تک 1ہزار 235 ایکڑ مینگروو کے جنگلات کو دوبارہ آباد کیا جس سے ان کا معیار زندگی بلند ہوا۔

ایوارڈ فاؤنڈیشن نے نشاندہی کی کہ جو پہلے ویران تالاب ہوا کرتے تھے اب وہاں اب بڑی تعداد میں مینگروو جنگلات ہیں جو کہ سمندری اور زمینی زندگی سے مالا مال ہیں۔

مزید پڑھیں: آسکر ایوارڈز کیلئے پاکستانی انٹری کے طور پر ‘لال کبوتر’ کا انتخاب

فلپائن میں قائم این جی او کمیونٹی اینڈ فیملی سروسز انٹرنیشنل کے بانی امریکی شہری اسٹیون منسی کو پناہ گزینوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی مدد پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

انسانی حقوق، سماجی انصاف اور ماحولیات پر توجہ مرکوز رکھنے والی انڈونیشیا کی دستاویزی فلم بنانے والی کمپنی ‘واچ ڈاک’ کو ایک آزاد میڈیا تنظیم کے لیے انتہائی اصولی جدوجہد پر سراہا گیا۔

دنیا آئی ایس آئی کا لوہا مانتی ہے بھارت ٹیوشن پڑھے بھارت دانشور مودی حکومت پر برس پڑے

آئی ایس آئی نے اپنی تیاری اور انتظامات سب سے پختہ کر لئے سی آئی اے،کے جی بی اور ایم آئی فائیو سب آئی ایس آئی کا لوہا مانتے ہیں بھارت حکمران گالم گلوچ تو بہت کر سکتے ہیں

مگر آئی ایس آئی کو عزت دینا پڑے گی جب دنیا سو رہی تھی تو آئی ایس آئی نے بہت لمبا سفر طے کر لیا آپ زبان سے کچھ بھی کہہ دیں مگر یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے سابق پولیس افسروں کا بھارتيوں کی زبان درازی کا منہ توڑ جواب

کورونا کی چوتھی لہر کا قہر جاری، مزید 118افراد انتقال کر گئے

پاکستان میں عالمی وبا کورونا سے مزید 118 افراد انتقال کر گئے اور  3838 نئے کیسز  بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 52 ہزار  112 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 3800 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ وائرس سے 118 افراد انتقال کر گئے۔

سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 7.36 فیصد رہی۔

سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 25 ہزار 788 ہو گئی اور مجموعی کیسز 11 لاکھ 60 ہزار 119 تک جاپہنچے ہیں۔

اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 2837 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 10 لاکھ 39 ہزار 758 ہو گئی ہے جب کہ فعال کیسز کی تعداد 94573 ہے۔

لاہور: مانگا منڈی میں پولیس مقابلہ، 2 اہلکار شہید

: مانگا منڈی میں پولیس مقابلہ،2 اہلکار شہید،سی سی پی او   نےواقعہ  کانوٹس لے لیا، رپورٹ طلب،ڈاکوؤں کی گرفتاری کا حکم

 تفصیلات کے مطابق تھانہ مانگامنڈی کی حدود میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ  جس میں   لاہور پولیس کے دو جوان شہید ہوگئے، سی سی پی او لاہور  کے مطابق  شہید ہونے والوں میں کانسٹیبل عادل شاہ اور عباد شامل۔ عادل شاہ کو سینے جبکہ عباد کو کنپٹی پر فائر لگا۔

 پولیس کو مانگامنڈی قبرستان کے قریب شہری سے 60 ہزار اور موبائل فون چھیننے کی واردات کی کال موصول ہوئی جس  پر پولیس کے محافظ موقع پر پہنچے، ڈاکوؤں نے محافظوں کے پہنچتے ہی  فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس اہلکاروں نے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری رکھا،  مانگا بائی پاس کے قریب پہنچنے پر ڈاکوؤں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی جس  سے   دو اہلکار شہید ہوگئے، سی سی پی او لاہور نےواقعہ  کانوٹس لے لیا، رپورٹ طلب،ڈاکوؤں کی گرفتاری کا حکم

وفاقی وزارت ہاوسنگ میں غیر قانونی بھرتیاں ، شکایت کے باوجود کاروائی میں تاخیر

اسلام آباد : (نامہ نگارخصوصی) وفاقی وزیر ہاوسنگ طارق بشیر چیمہ کا موقف کے لیے متعدد بار ان کے موبائل پر فون کیا مگر انہوں نے بات نہ کی اور نہ ہی ٹیلیفوں اٹینڈ کیا۔

وزارت ہائوسنگ اورتعمیرات اور اس کے ذیلی اداروں میں مبینہ کرپشن۔
اختیارات سے تجاوز، خلاف ضابطہ بھرتیوں اور اقرباء پروری کی شکایات۔
قومی احتساب بیورو اور ایف آئی اے کے حکام کی معنی خیز خاموشی۔
تحقیقاتی اداروںکا بڑے پیمانے گھپلوں کا نوٹس نہ لینا لمحہ فکریہ ہے۔
وزارت ہاوسنگ میں بے قاعدگیوں، کرپشن کی کہانیاں زبان زد خاص و عام ہیں۔
اسٹیٹ آفس میں خلاف ضابطہ سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ ، میرٹ کی دھجیاں۔پی ڈبلیو ڈی اور ہائوسنگ اتھارٹی میں بھی اقربا پروری عروج پر ہے۔

2020 میں 13 نشستوں کیلئے 54ہزار افراد نے درخواستیں دیں ، امیدوار وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے حلقہ یزمان ست منتخب کئے گئے ۔

باقی تین امیدواروں میں بھی دو وفاقی وزیر کے پرسنل سیکرٹریز کے بیٹے اور پروٹوکول آفیسر کی بیٹی شامل تھی، باقی پورے ملک سے کوئی منتخب نہ ہوسکا ۔

دنیا کی توجہ اور پاکستانی سیاست کا دھارا

شوکت پراچہ
آج دنیا بھر کی توجہ افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر اپنے اپنے قومی مفاد کے تحفظ پر مرکوز ہے۔عالمی برادری افغانستان میں وقوع پذیر حالات کا سامنے کرنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوشش میں جڑی ہے۔ مغربی دنیا اپنے سفارت کاروں، شہریوں یا افغانستان میں گذشتہ ادوار میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور پروفیشنلز کے انخلا میں مصروف ہے۔اس خطے کی چین، روس، پاکستان، ایران جیسی بڑی طاقتیں افغانستان کی ہمسایگی کے چیلنجز کو کم کرنے میں انفرادی یا اجتمایی لاحہئ عمل طے کرنے پر توانائیاں صرف کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ اگلے ماہ یعنی ستمبر کی سولہ اور سترہ تاریخ کو تاجکستان کے دارلحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس منعقد ہونے جارہا ہے۔چین، روس، تاجکستان، کرغستان، ازبکستان، ایران کے صدور جبکہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم افغانستان کی صورت حال کوخصوصی طور پرزیرغور لائیں۔
دنیا کی ترجیحات کے برعکس پاکستان کی سیاست اپنے مخصوص ڈگر پر چل رہی ہے۔ سیاسی کھلاڑی اپنے اپنے زاویوں سے کھیلنے میں مگن ہیں۔۔میاں شہباز شریف کے خلاف دیگر کیسوں میں ضمانتوں کے بعد پروفیسر احسن اقبال کے بھای کو ٹھیکہ دینے کے الزام میں طلبی سے احتساب کا عمل آگے بڑھانے میں یقینی طور پر ماضی کی طرح بے پناہ مدد ملے گی۔پی ڈی ایم کا پہلا راؤنڈ نتیجہ خیز نہ ہو دوسرا راؤنڈ شروع تو کیا جا سکتا ہے۔پی ڈی ایم کی سٹیرنگ کمیٹی نے افغانستان کے ہمسایہ یعنی پاکستان میں جلسے جلوس اور ریلیوں کا پروگرام مرتب کر دیا۔ اب پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں منظوری کے بعد ملک میں جلسے جلوس ہوں گے۔کراچی کے 29اگست کے جلسے میں سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، کراچی میں بسنے والے لاکھوں پٹھانوں کی نماندگی کی دعوے دار عوامی نیشنل پارٹی، ماضی میں کراچی کی واحد نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ بھی نہیں ہوتھی۔ پھر بھی پی ڈی ایم جلسے کی کامیابی کے لیے پرامید تھی۔بلاول بھٹو زرداری نے انتیس اگست کے کراچی جلسے کی مخالفت نہیں کی تھی تو انہوں نے اس جلسے میں شرکت بھی نہیں کی تھی۔
پی ڈی ایم تحریک کے پارٹ ون میں مریم نواز شریف صاحبہ آگے آگے تھیں۔انہوں نے تقریرکے گُر سیکھے اور یقینا موثر انداز اختیار کیا۔انہوں نے خصوصاً پنجاب میں پی ڈی ایم کے جلسے جلوسوں میں ہجوم اکٹھے کیے۔پی ڈی ایم پارٹ ون نے گجرانوالا، پشاور، کراچی میں گہرا اثرڈالا لیکن شریف خاندان کے اپنے گھر لاھور میں توقعات سے کم عوامی ردعمل نے باقی ماندہ اثرات کو انتہائی سرعت کے ساتھ زائل کر دیا۔اب کی بار میاں شہباز شریف پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں۔مریم نواز شریف بھی اطلاعات کے مطابق کراچی جلسے میں شرکت کریں گی۔تاہم خواجہ آصف کی خاموشی، خواجہ سعد رفیق کو پارٹی میں نہ سنے جانے کی شکایات اور پاکستان مسلم لیگ ن کے اندر دیگر بہت سے عوامل کی موجودگی میں کراچی سے شروع ہونے والے دوسرے راؤنڈ کی کامیابی کے بارے میں بہت سے سوالات اپنی جگہ برقرار ہیں۔
پی ٹی آئی کی حکومت ابھی تک اپوزیشن کو غیر اہم مسائل کی پچ پر کھلانے کی پالیسی میں کامیاب رہی ہے۔ ”سر سے پاؤں“ تک احتساب پر عمل پیرا بیرسٹر شہزاد اکبر کی آج کل کی خاموشی کے باوجود جاری ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری، میاں شہباز شریف، فریال تالپور، سید مراد علی شاہ، آغا سراج درانی، چودھری احسن اقبال، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق اور دیگر جیل اور ضمانتوں کے مراحل سے گذر چکے ہیں۔سید خورشید شاہ کے بارے میں اب مخالفین بھی آواز نکال رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ پی ڈی ایم اگر پارٹ ٹو شروع کر رہی ہے تو چوہدری احسن اقبال کے بھائی کے نام پر کیس شروع کرنے سے دوسری طرف سے بھی اگلے راؤنڈ کا آغاز ہوا چاہتا ہے جس میں نیب کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے اور پنجاب اینٹی کرپشن کا محکمہ بھی شامل ہے۔اپوزیشن کا پاؤں زلف دراز میں پھنسا ہوا ہے لیکن ابھی یہ کہیں سے ظاہر نہیں ہو رہا۔ اگر ایسا ہونا ہوتا تو داکٹر ظفر مرزا، ندیم بابر، راجہ عامر کیانی اور دیگر یوں سکاٹ فری اندرون و بیرون ملک نہ پھر رہے ہوتے کراچی جلسے میں اپوزیشن اپنے خلاف پیدا کردہ حالات پر بات کرے یا پھر انکے بقول احتساب کے دہرے معیار پر تنقید کرے گی حکومت ایسی سرگرمی کو اب کوئی اہمیت نہیں دے رہی۔ کیونکہ اپوزیشن تقسیم ہے اور پہل کرنے کا عمل حکومت نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔اپوزیشن جماعتیں حکومتی ایجنڈے کے مطابق حکومتی پچ پر ہی کھیلتی ہیں۔ اپوزیشن میں دم ہوتا، اصولوں پر یگانگت ہوتی، واضح لاحہئ عمل ہوتا تو پی ٹی آئی کی تین سالہ کارکردگی کو چیلنج کرتی۔ وزیراعظم ایسی تقریرنہ کرتا جیسے عمران خان نے جمعرات کو کی۔ چینی، دال، چاول، آٹا، گھی، کوکنگ آئل، انڈے، گوشت، مرغی،پھل، سبزیاں، بجلی، گیس، ٹماٹر سب کچھ تو دیکھتے ہی دیکھتے عوام کی دسترس سے نکل چکا۔ احتساب کے گرداب میں پھنسی ہوی اپوزیشن کچھ بھی نہ کر سکی۔
(کالم نگارمعروف سیاسی تجزیہ نگارہیں)
٭……٭……٭

نیا پاکستان، تین سالہ کارکردگی

سمیرا ملک ایڈووکیٹ
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اکسیویں صدی کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ حکومت ایک نظریہ پر وجود میں آئی۔جس کی بنیاد انصاف،انسانیت اور خودداری کے اصولوں پر رکھی گئی۔عمران خان نے قائد اعظم کے نقشے قدم پرچلتے ہوئے پاکستانیوں میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کے جذبات کو ابھارا اور انہیں منظم کر کے ان میں تبدیلی کی تڑپ پیدا کی۔اس طرح قومی سوچ میں آنے والے نے عزائم کے بل بوتے پر 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی۔مگر اس وقت عمران خان کو ایسا پاکستان ورثے ملا جو دنیا کے ٹاپ دس کرپٹ ملکوں کی لسٹ میں شامل تھا۔ایک ایسا ملک ملا تھا جہاں صرف دو ہفتے کے ریزروز موجود تھے۔مجبوراً نیازی کو حکومت بنانے کے لیے ناپسندیدہ ایم کیو ایم اور ق لیگ کو شامل کرنا پڑا۔ایمرجنسی میں سعودی عرب سمیت عرب ممالک کے پاس قرضوں کے لیے جانا پڑا۔
آج کل یہ باتیں اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ لوگوں کی زبان پر عام ہیں کہ کہاں ہیں ایک کڑور نوکریاں،پچاس لاکھ گھر اور اتنی مہنگائی ہو گئی ہے کہ آٹا مہنگا،چینی مہنگی،کوکنگ آئل مہنگا جس نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے ۔بجلی کے بل،پانی کا بل،گیس کا بل آسمانی بجلی بن کر لوگوں کے سروں پر ہر مہینے گرتے ہیں۔جی ڈی پی چھ فیصد سے کم ہو کر منفی سے ہوتی ہوئی چار فیصد ہے یہ کیسی تبدیلی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مہنگائی ہوئی ہے مگر ایک بات یاد رکھنے کی ہے عمران خان نے ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا ہے اور ریاست مدینہ تین سالوں میں نہیں بنی تھی۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے بہت مشکل وقت گزارا۔بے شک راہ حق کے راستے میں بہت روکاوٹیں اور مشکلیں آتی ہیں۔بلاشبہ پاکستان ایک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اس مشکل وقت میں بھی وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بہت سے اچھے کام کیے ہیں۔جس کا ذکر میں یہاں ضرور کرنا چاہوں گی۔
پہلا اچھا کام یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نے پاکستان کو دنیا میں کرونا پر قابو پانے کے لیے بہتر حکمت عملی اختیار کرنے والے ملک کا اعزاز دلایا ہے۔ اس کا سہرا عمران خان اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے اور عوام کو بھی جس نے اپنے لیڈر کی بات پر عمل کیا۔اس کے برعکس انڈیا, امریکہ اور برطانیہ میں کرونا سے مرنے والوں کی لاشیں دفنانے کے لیے لمبی قطاریں موجود تھیں۔
دوسرا بڑا کام حکومت کی آگاہی کے ذریعے لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جس سے ٹیکس ریکوری میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ٹیکس ریکوری 3800 ارب سے بڑھ کر 4700 ارب تک جا پہنچی ہے۔تیسرا بڑا کام ترسیلات زر میں اضافہ ہوناہے۔جس کا سہرا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جاتا ہے۔جنہوں نے عمران خان کی قیادت پر بھرپور بھروسہ کیا اور اپنے ڈالر پاکستان بھیجے ہیں۔اس طرح ترسیلات زر 19 ارب ڈالر سے بڑھ کر 29.4 ارب ڈالر تک جا پہنچے۔چوتھا بڑا کام کنسٹرکشن انڈسٹری کو بوسٹ کیا۔جس سے تیس سمال انڈسٹری کو فائدہ پہنچا اور سیمنٹ کی فروخت میں مجموعی طور پر بیالیس فیصد اصافہ ہوا ہے۔
پانچواں بڑا کام مافیا کے خلاف جنگ لڑی۔اس حوالے سے نیب کوفعال اور متحرک کیاگیاہے۔تاکہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو۔طاقت ور اور غریب کے لیے ایک قانون ہو۔نیب نے گزشتہ اٹھارہ سالوں میں 290 ارب کی ریکوری کی تھی جبکہ تحریکِ انصاف کی تین سالہ حکومت میں 519 ارب روپے کی ریکوری کی گئی ہے۔عمران خان حکومت کا چھٹا بڑا کام کامیاب نوجوان پروگرام کے پلیٹ فارم پر ایک لاکھ بیالیس ہزار نوجوانوں کو ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل تعلیم دینا ہے۔ ان میں پندرہ ارب روپے بھی تقسیم کیے۔اب اس پروگرام کو کامیاب پاکستان پروگرام میں تبدیل کیا جا رہا ہے جس میں 40 لاکھ گھرانوں کے بچوں کو ٹیکنیکل کی تعلیم دی جائے گی،بغیر سود کے پانچ لاکھ تک کے قرضوں کے ساتھ آسان شرائط پر گھر دیے جائیں گے۔
ساتواں بڑا کام کسان کارڈ کا اجرا ہے۔پہلی دفعہ کسانوں کو اجرت وقت پر دی گئی ہے۔جس سے گندم،چاول اور گنے میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اور کسانوں کو گندم کی اضافی قیمت کی مد میں 1100 ارب روپے دئیے گئے ہیں۔جس سے زرعی ٹریکٹر،موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی سیل میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
آٹھواں بڑا کام ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراہے۔ جو اس سال دسمبر کی آخر تک تمام پاکستانیوں کو مل جائے گا اور مفت علاج سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں کروا سکیں گے۔نواں بڑا کام گھر بنانے کے لیے سستے قرضے دیے جا رہے ہیں۔جس کے تحت اب تک 45 ارب روپے دئیے جا چکے ہیں مزید گھروں کے لیے تین سو ارب روپے آسان شرائط پر دینے کا ارادہ ہے جو تین فیصد سود پر دئیے جائیں گے۔ہاؤسنگ سکیم کے تحت 30 ہزار غریب لوگوں کو گھر دیے جا چکے ہیں اور 70 ہزار گھروں کا یونٹ مکمل ہونے کے قریب ہے۔دسواں بڑا کام احساس ایمرجنسی پروگرام ہے۔ جو دنیا کا تیسرا بڑا پروگرام ہے۔جس کے تحت کرونا کے دنوں میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو بارہ ہزار روپے دئیے گئے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان کا گیارہواں بڑا کام احساس نشوونما سینٹر کا قیام ہے۔گیارہ اضلاع میں پچاس نشوونما سینٹر بنانے جائیں گے۔
بارہواں بڑا کام غریبوں کے لئے لنگر خانے قام کرنا ہے۔ تاکہ غریب بھوکا فٹ پاتھ پر نہ سوئے۔تیرہواں بڑا کام دس بلین درخت لگانے ہیں۔اس سلسلے میں اب تک پہلے فیز میں ایک ارب درخت لگ چکے ہیں۔ دوسرے فیز میں پچاس کروڑ درخت لگنے ہیں تاکہ ماحول کو سرسبزوشاداب اور صاف شفاف بنایا جاسکے۔
چودہواں بڑا کام پاکستان میں بسنے والوں کو ایک قوم بنانے کے لیے پہلے قدم کی طرف بڑھنا ہے۔اس ضمن میں تعلیم کے شعبے کا انتخاب کیا گیا ہے۔جس میں یکساں قومی نصاب راج کرنے کا وعدہ پورا کرناہے۔ تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکول میں ایک نصاب کردیاگیا ہے۔اس کے ساتھ دسویں جماعت تک سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم پڑھائی جائے گی۔
پندرہواں بڑا کام دس سال کی مدت میں ملک میں دس ڈیم بناے جائیں گے۔اس میں مہمند ڈیم 2025 میں مکمل ہو گا۔
حکومت کا سولہواں بڑا کام بہترین خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ جس کے تحت کشمیر اور افغانستان کے ایشوز پر بھارت کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔
سترہواں بڑا کام الیکٹرونک ووٹنگ مشین ہے۔ اٹھارواں بڑا کام جو کیا وہ یہ ہے کہ اکاؤنٹ خسارہ بیس ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.4 ارب ڈالر تک رہ گیا ہے۔اُنیسواں بڑا کام شرح سود تیرا فیصد کم ہو کر پانچ فیصد تک آگیا ہے۔بیسواں بڑا کام عمران خان نے سیاحت کو فروغ دیا ہے۔
سطور بالامیں حکومت کے جن بڑے کاموں کا تذکرہ کیاگیا ہے وہ چیدہ چیدہ ہیں۔جبکہ موجودہ حکومت کے ان تین سالوں کے دوران ہر ایک کام پر بات کی جائے تو کسی ایک مضمون میں ان تمام کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں ہوسکتایا بیس بڑے کاموں میں سے ہر ایک پروگرام کے اغراض ومقاصد اور ان کی جزیات کو کھول کر بیان کروں تو بھی تفصیل طویل ہوتی چلی جاے گی۔کیونکہ وزیراعظم عمران خان اپنے عزائم میں پختہ ہیں اور دُھن کے پکے ہیں۔وہ عملًاکام کررہے ہیں۔سابقہ حکمرانوں نے صرف شوکیا ہے۔موجودہ حکومت کے ان اقدامات سے لگتا ہے کہ اگلی باری پھر نیازی۔انشااللہ۔
(مختلف موضوعات پرلکھتی ہیں)
٭……٭……٭