All posts by Daily Khabrain

لاہور سمیت پنجاب کے 11 اضلاع میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 15 ستمبر تک توسیع

حکومت پنجاب نے صوبے کے 11 اضلاع میں جاری اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 15 ستمبر تک توسیع کر دی۔

پنجاب حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جن اضلاع میں اسمارٹ لاک ڈاؤن میں توسیع کی گئی ہے ان میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، خانیوال، میانوالی، سرگودھا، خوشاب، بہاول پور، گوجرانوالا اور  رحیم یار خان شامل ہیں۔

ان اضلاع میں مارکیٹیں رات 8 بجے تک کھولنے کی اجازت ہو گی جبکہ ہفتہ اور  اتوار کو کاروبار بند رہے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شادی کی ان ڈور تقریبات پر مکمل پابندی ہو گی تاہم آؤٹ ڈور شادی میں صرف 300 افراد کو شرکت کی اجازت ہو گی۔ اس کے علاوہ ریسٹورینٹس پر  رات 10 بجے تک آؤٹ ڈور  ڈائننگ ہو سکے گی۔

سرکاری و نجی دفاتر میں 50 فیصد اسٹاف آسکے گا اور صرف ویکسینیٹڈ سیاحوں کو ہی سفر کرنےکی اجازت ہوگی۔

افغانستان سے انخلاء سے بڑا مسئلہ انتظامی خلاء کا ہے، فواد چودھری

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انخلا سے بڑا مسئلہ انتظامی خلا ہے، دنیا افغانستان میں جاری صورتحال سے درپیش خطرات کو محسوس کرے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان سے انخلا کے عمل میں پاکستان کی کاوشوں کی پوری دنیا معترف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق وزیر اعظم کی ایک ایک بات حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی، اگر پاکستان کے مشورے پر عمل کیا جاتا تو افغانستان کی صورتحال مختلف ہوتی۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت بنانا وہاں کے لوگوں کا کام ہے، ہماری خواہش ہے کہ تمام اقوام پر مشتمل حکومت بنانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے بیانات اس حوالے سے کافی حوصلہ کن ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہر اشاریے بتا رہے ہیں کہ پاکستان استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، پی ڈی ایم کے جلسے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس جلسے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن پھر بیمار ہوجائیں گے اور شہباز شریف کو چاہیے کہ فیصلہ کریں کہ مسلم لیگ (ن) کا لیڈر کون ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘مسلم لیگ (ن) کو اپوزیشن کی 3 سالہ کارکردگی سامنے رکھنی چاہیے تاکہ لوگوں کو موازنہ کرنے کا موقع مل سکے’۔

حکومت سندھ پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو 3 سالوں میں 1900 ارب روپے وفاقی حکومت سے ملے ہیں، سندھ کے میڈیا کو صوبائی حکومت سے کارکردگی رپورٹ طلب کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی والوں کو لگ رہا ہے کہ پیسا اندرون سندھ خرچ ہوا جبکہ اندرون سندھ والے سوال کر رہے ہیں کہ یہ پیسا گیا کہاں۔

انہوں نے کہا کہ پورا صوبہ بحران کا شکار ہے، بدانتظامی ہے اور یہاں لاڈلے ارکان ایک کام پر لگے ہیں کہ پیسے کیسے دبئی اور دیگر ممالک منتقل کرنا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ میں گورننس کا حال تشویشناک ہے، یہ آخری مرتبہ تھا اب سندھ میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ‘پورے پاکستان میں لوگوں کو صحت کارڈ دیا جارہا ہے مگر یہاں یہ لوگ اپنے عوام کو یہ بھی دینا نہیں چاہتے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم نے براہ راست کام کیا تو کہتے ہیں کہ صوبائی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں، نہ خود کام کرتے ہیں نہ کرنے دیتے ہیں’۔

افغانستان کی فتح

حیات عبداللہ
مناظر بڑے ہی ایمان افروز ہیں، سورۃ النّصر کی تلاوت ہے، ذلّت و مسکنت سے ہم کنار ہونے والے امریکا کی گاڑی پر کھڑے ہو کر اذان کی صدائیں ساری ملت اسلامیہ کے کانوں میں رَس گھول رہی ہیں۔20 سالوں تک ایک سَرپھری طاقت کے خلاف ایمانی استقامت کے ساتھ جہدِ مسلسل کر کے شکست دینے والے ایمان وایقان کے سانچے میں ڈھلے لمبی ڈاڑھی اور اونچی شلواروں والے سادہ منش اور سادہ لوح لوگ آج رحم دلی کے پیکر بنے ہیں۔سب کے لیے عام معافی ہے۔ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن اشرف غنی جیسے امریکی دُم چھلّے، دُم دبا کر بھاگ چلے۔
20 سال قبل وہ بڑی رعونت اور نخوت کے ساتھ ایک اسلامی سلطنت کو تاخت وتاراج کرنے آیا تھا، اُس کے ساتھ 29 ممالک پر مشتمل ناٹو فورسز کے جتّھے تھے۔ساری دنیا کونوں کھدروں میں دبکی بیٹھی تھی کہ کہیں غیظ وغضب سے آلودہ امریکی نظروں کا رخ اُن کی طرف نہ ہو جائے۔اُس کی کھوپڑی میں طاقت کا خمار تھا، اُس کے دماغ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا طنطنہ بپھر کر آپے سے باہر ہو رہا تھا۔
سات اکتوبر 2001 ء کی اس آگ، بارود اور خون سے اٹی صبح کے متعلق سوچنے لگوں تو دل دہل اور دماغ سلگنے لگتا ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت ور کہلوانے والی آدم خور ریاست، ساری دنیا کی فوج اور اسلحے سے لیس ہو کر افغانستان کو نیست و نابود کرنے کے لیے آ دھمکی تھی۔یہ عجیب طرفہ تماشا تھا کہ جو لوگ افغانستان کو آگ اور بارود میں بھون رہے تھے اُنہیں امن کے نقیب اور پیام بر، جب کہ اس آگ میں جل کر کوئلہ بننے والوں کو دہشت گرد کہ مطعون کیا جا رہا تھا۔امریکی تابع فرمانی میں یہ سارا ظلم ٹھنڈے پیٹوں ہضم کیا جا رہا تھا۔
ہزاروں پاکستانیوں کی قربانی اور اربوں ڈالرز کے نقصان کے باوجود پینٹاگون بیس سالوں تک یہی الفاظ دہراتا رہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے نیم دلی سے شرکت کی۔یہ امریکی خوئے بد ہے کہ اُس کے لیے جس قدر بھی قربانیاں دے دی جائیں، وہ کبھی خوش ہوتا ہے نہ اپنے دوست اور اتحادی ممالک کے ساتھ وفا کرتا ہے، خوئے وفا امریکا کو چُھو کر بھی نہیں گزری۔یہ امریکی شعار ہے کہ اُس کی بلیک میلنگ کی کوئی حد ہی نہیں، یہ بھی امریکی وتیرہ ہے کہ وہ اپنی شکست کے تاثّر کو زائل کرنے کے لیے اپنے دوست اور اتحادی ممالک کو بھی روندنے اور کچلنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے نہ شرم۔ویت نام کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ وہاں پر ذلت آمیز شکست کے بعد اُس نے قریبی ممالک میں تباہی مچا دی تھی۔امریکا ہمیشہ پاکستان کو اپنا ناقابلِ اعتبار اتحادی سمجھتا رہا۔جان ایلن بھی یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہُوا، یہی کہتا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اعتماد کا فقدان ہمیشہ رہا۔
دو عشروں تک افغانستان کے سادہ منش لوگوں کو دہشت گرد کہہ کر مطعون کیا جاتا رہا، اگر کالی پگڑی اور لمبی ڈاڑھی والے یہ لوگ دہشت گرد تھے تو مجھے بتائیے کہ شمالی اور جنوبی امریکا میں لاکھوں ریڈ انڈینز کو ہلاک کرنے والے کو کس نام سے پکارا جائے؟ اگر غریب اور مفلوک الحال افغانی لوگ دہشت گرد ہیں تو لاکھوں سیاہ فاموں کو اُن کے ملکوں سے غلام بنا کر کون لایا؟ ان میں سے 77 فی صد غلاموں کو راستے میں کس نے ہلاک کیا؟ اور پھر ان لاشوں کو بحرِ اوقیانوس میں کس نے پھینکا؟ یہ سب ظلم وستم کرنے والے کو آپ کس نام سے پکاریں گے؟ اگر یہ افغانی ہی دہشت گردی کو انگیخت دینے والی نسل ہے تو پھر پہلی جنگِ عظیم کس نے بھڑکائی؟ دوسری جنگِ عظیم کس نے شروع کی؟ ہیروشیما اور ناگاساکی کے اڑھائی لاکھ سے زائد لوگوں کو کس نے ایٹم بموں کی آگ میں جلا کر راکھ بنا ڈالا تھا؟ اگر افغانستان کے لوگ ہی دنیا میں امن کے لیے خطرہ تھے تو پھر گوانتاناموبے میں کس نے انسانوں کو جانوروں کی طرح اذیتوں اور صعوبتوں میں مبتلا کیا؟
آج افغانیوں کے عزم واستقلال کے باعث امریکی شکست سے یہ ثابت ہو چکا کہ سپر پاور امریکا نہیں، اسلام ہے۔ایمان وایقان کی حرارت دلوں میں بسائے افغانیوں نے ایک خون خوار اور وحشی طاقت کو ایسی لگام ڈال دی ہے جو صدیوں تک امریکی پیشانی پر سیاہ داغ بن کر ان کی ہزیمت کی یاد تازہ کرتی رہے گی۔
آزادی سے عشق ہو جائے تو یہ آگ دبانے سے کبھی نہیں دبا کرتی، انور صابری کا بہت عمدہ شعر ہے۔
عشق کی آگ اے معاذ اللہ
نہ کبھی دب سکی دبانے سے
آج کالی پگڑی والے اللہ کے شیروں نے ایمانی اور جہادی قوت کے ساتھ امریکا کی وہ حیثیت ختم کر کے رکھ دی ہے جو سات اکتوبر 2001 ء سے پہلے ہوتی تھی۔آج امریکی جاہ و جلال قصّہ ء پارینہ بنا دیا گیا۔لاکھوں افغانیوں کی بے دریغ قربانیوں کا ثمر ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک للکارنے، دھمکانے اور ڈرانے والا امریکا اب میاؤں میاؤں کرتا کھمبا نوچ رہا ہے۔افغانستان نے اس کے گھٹنے توڑ ڈالے۔اللہ ربّ العزّت کی شانِ کریمی دیکھ کر کلیجوں میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے کہ آج ناٹو فورسز ذلت و رسوائی سے دوچار ہو چکیں، آخر کار ثابت یہی ہُوا کہ امریکا طاقت کے علاوہ کوئی زبان نہیں سمجھتا، ساری دنیا کے لیے یہ خبر نوید افزا اور مَسرّت آگیں ہے کہ آج امریکا سپر پاور نہیں رہا۔افغانستان کی جیت، عالمِ اسلام کو مبارک ہو، یقینا اس فتحِ عظیم سے مسلم امّہ کی شان و شوکت اور توقیر و تکریم میں بیش بہا اضافہ ہو گا (انشااللہ)۔
(کالم نگارقومی وسماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭

معصوم اور زُود فراموش

ڈاکٹر عاصم ثقلین
طالبان کو افغانستان کی حکمرانی مل جانے پرخوش ہونے والوں پر ہمیں افسوس ہے، دُکھی ہو جانے والوں پر زیادہ افسوس ہے۔کیونکہ اتنی آسان اور ایسی سہل منتقلی اقتدار پر ہم توصرف حیران ہوئے۔۔۔بلکہ ہم اس کیفیت کی تاثیر بڑھانے کے لیے اسے اپنے خاص سرائیکی لہجے میں بول کر کہنا چاہتے ہیں کہ”ہم تو ’حریان‘ رہ گئے۔“ اس حیرت کے کئی اسباب ہیں: مثلاًیہ کہ اگر افغان حکومت پچھلے پندرہ بیس سال سے امریکی ڈالروں کے سائے میں اپنی معیشت کے ساتھ ساتھ اپنی فوج کو بھی استحکام دے رہی تھی جس کے بل پر اُن کے بھگوڑے حکمران ہم غریبوں کو بھی تڑیاں لگا لیتے تھے تو اُس حکومت اور فوج کے سارے کس بل محض بندوقیں اُٹھائے طالبان کے سامنے کیونکر اور کیسے نکل گئے کہ وہ طالبان کا مقابلہ تو کیا اِن کے سامنے مزاحمت ہی نہیں کر پائے۔ لوگ یہ واقعہ حقیقت کی نگاہ سے نہیں بلکہ اپنے خاص نظریات اور مخصوص زاویہئ نظرسے دیکھ رہے ہیں اسی لیے تمام خوش ہونے والے صرف خوش اور سبھی دُکھی ہونے والے محض افسردہ و ترسیدہ ہیں۔
ہم نے بہت عرصہ تک اچھے طالبان اور بُرے طالبان کی اصطلاحات سنی اور بھگتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ امریکی اثر و رسوخ کے بعد طالبان اب خود کئی گروہوں میں بٹ چکے ہیں جن میں سے اچھے طالبان پاکستان کے خیر خواہ اور بُرے طالبان کہیں امریکہ اور کہیں انڈیا کے باج گزار ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ جیسا ”دیانت دار“ شاطر صرف چند معاہدوں کی پاسداری میں پورا افغانستان اچھے طالبان کو دے کر جا رہا ہے؟ خدا کرے ایسا ہی ہو۔۔۔۔! لیکن سوال یہ بھی تو پیدا ہوتا ہے کہ وہ سب بُرے طالبان یا یوں کہیں کہ پرو امریکہ طالبان اب کہاں ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اب سارے اچھے بُرے مل بیٹھے ہوں اور ہم اب چھانٹی کرنے کے قابل بھی نہ رہیں۔ لگتا ہے کہیں اصل منظر تو شایدسامنے ہے ہی نہیں:
خود اپنی آنکھ ہی اپنے لیے غلاف سمجھ
جو دِکھ رہا ہے اُسے اسقدر نہ صاف سمجھ
کتنی سطحی بات ہے نا کہ امریکہ یہ جنگ ہار کے نکل رہا ہے۔ہم خوش گمان لوگ اس واہمے میں مبتلا ہیں کہ ایک ایک لمحے کی کیلکولیشن اور ایک ایک پینی کا حساب رکھنے والی وہ قوم پچھلے بیس برس مسلسل یہاں رہ کر اپنا نقصان کرتی رہی۔جھک مارتی رہی۔ اُس قوم کے ”بھولے بھالے“ تھنک ٹینکس نے نہ تو اپنے کوئی اہداف مقرر کیے نہ اُن کے حصول کے لیے کوشش کی۔
تو کہ معصوم بھی ہے! زود فراموش بھی ہے!
”الجزیرہ“ کے ایک مختصر سے جائزے کا سرسری نظارا ہی خاصا چشم کُشا ہے جس کے مطابق افغان جنگ میں دو لاکھ اکتالیس ہزار(241000) لوگ لقمہئ اجل بنے جن میں تین ہزار پانچ سو چھیاسی(3586) نیٹو کے اتحادی فوجی تھے۔انہی تین ہزار پانچ سو چھیاسی میں امریکی فوجیوں کی تعدادصرف دو ہزار چار سو بیالیس(2442) ہے۔ یعنی جنگ میں مرنے والے ہر ننانوے میں سے ایک آدمی امریکی تھا باقی اٹھانوے افغانی بشمول پاکستانی بھیڑ بکریاں المعروف آدم زادتھے۔لیکن کتنی ہوش مند ہے وہ قوم کہ جس کے افراد آج بھی چیخ کر اپنے صدر سے پوچھتے ہیں کہ تم نے یہ اٹھانوے ”بھیڑ بکریاں“ کاٹنے کے لیے ہمارا ایک امریکی آدمی بھی کیوں مروایا۔ہاں، مگر آپ اور میں مل کر خوش ہولیتے ہیں کہ امریکہ ذلیل و رسوا ہو کر افغانستان سے جارہا ہے۔ویسے امریکہ نے دس بارہ برس پہلے کیا یہ کہہ نہیں دیا تھا کہ وہ اور اس کے اتحادی 2020ء تک افغانستان سے (اپنے تمام اہداف کے حصول کے بعد) چلے جائیں گے۔اور کچھ عرصہ قبل قطر میں ہونے والے امریکہ افغان معاہدے کے تحت بھی اقتدارطالبان کو منتقل کرنا تھا۔! پھر بھی خوش ہو لیتے ہیں! آخر خوش ہونے میں کیا حرج ہے؟
ہمارے ہاں خوش ہونے والے لوگ تو وہ سادہ دل ہیں جنہیں افغانستان میں موجودہ دنوں میں آنے والی حکومت طالبان کے بجائے اسلام کا احیاء نظر آرہی ہے۔ ہمارے اس لٹے پٹے اور درماندہ کارواں کے لیے تو اب اسلام کے نام ہی کا سہارا باقی ہے۔ کہ اس ملک و قوم کی اصلاح و درستی کے باقی تمام سہارے اب حسرتوں میں ڈھلتے نظر آرہے ہیں۔ بابائے اردو نے لکھا تھا کہ آدمی جب سب کچھ لٹا بیٹھے تو مذہب میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ہم بھی اس قول کے مطابق ہو چکے سو ہمیں کہیں اسلام یا مسلمانوں کی فتح کا ”جھاکا“ ہی پڑ جائے تو بغلیں بجانے لگتے ہیں۔مگرجب معاملے کی اصل تک پہنچ جائیں تو بغلیں جھانکنے بھی لگتے ہیں۔اس بار بھی ایسا ہی ہے کہ ہمارے لوگ طالبان کے افغانستان میں آنے پر خوش ہیں۔ خدا نخواستہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہمارے یہی لوگ طالبان کو پاکستان میں افورڈ کرنے کے قابل ہیں۔اس لیے انہیں خوشی منانے دیجیے! کوئی فرق نہیں پڑتا!
باقی رہی ان لوگوں کی بات جو طالبان کے آنے پر دکھی ہیں اور بہت خوف زدہ بھی کہ یہ لشکر افغانستان کی فتح کے بعد پاکستان کا رُخ نہ کر لے تو ایسے خام خیال لوگوں کے لیے عرض صرف اتنا کرنا ہے کہ ہمیں تو گزشتہ کل اور آج کے حالات میں بہت فرق نظر آتا ہے۔ کل افغانی یہاں موجود تھے۔ طالبان ہمارے ہاں ہی سے تیار ہو کر جاتے تھے۔ ایسے میں ڈالروں کی چمک سے ہماری آنکھیں چندھیا گئیں اور اندھے ہو کر ہم خود کو غیروں کی ایک جنگ میں جھونک بیٹھے۔ ہمسائے کے گھر میں آگ پھینکنے والے دشمن کو اپنے پاس رہنے کی جگہ دے دی اور اسی ہمسائے کے لیے اپنے گھر کا دروازہ بھی کھولے رکھا۔ توپھر اس آگ کی چنگاریاں ہمارے گھر پر بھی گرتی رہیں۔لیکن اب تو حالات خاصے مختلف ہیں۔ اول تو یہ کہ اس بار سامنے آنے والے طالبان کتنے اصلی اور کیسے کھرے مسلمان ہیں اس کا فیصلہ چار چھ ماہ میں ہو جائے گا کہ یہ نئے حکمران ملا عمرکی طرح کچے گھر میں رہنے والے ہیں یااب انہیں بھی اغیار نے ہمارے ہاں کے ”مسلمان“حکمرانوں کی طرح محلّات اورڈالروں کی چکا چوند کا اسیرکر دیا ہے۔
(کالم نگار ممتازماہر تعلیم ہیں)
٭……٭……٭

نصیب ِطائرانہ خلد

انجینئر افتخار چودھری
کیا نصیب پایا ہے ہے ہمارے اس دوست نے اللہ کے پیارے نبیؐ نے اپنا ہمسایہ بنا لیا ہے ہر سال اقامہ تجدید ہو تا ہے اور ہر سال آقا مہر لگوا دیتے ہیں۔خوش نصیب ڈاکٹر خالد عباس الاسدی واقعی خوش بخت ہیں جو تقریباً چار عشروں سے مدینہ منورہ میں رہ رہے ہیں۔
رؤف طاہر مرحوم بڑی مزے مزے کی باتیں سنایا کر تے تھے۔ ایک دن کہنے لگے کہ ایک اللہ کے ولی تھے اپنے مریدوں کے ساتھ بڑی دور سے مکہ پہنچے پڑا ڈالا دوسرے ہی روز کہنے لگے کہ خواب میں ملتان نظر آیا ہے۔ مریدوں سے کہا چلو واپس انہوں نے سوال کیا حضرت یہ کیوں؟جواب دیا یہاں آ کر ملتان خواب میں آیا ہے چلو ملتان جا کر مکے کے خواب دیکھتے ہیں۔نور جرال اور افتخار دونوں شائد خواب دیکھنے نیویارک اور پنڈی چلے گئے باقیوں کو ضرور مکہ اور مدینہ ہی خوابوں میں نظر آتا ہو گا شائد اسی لئے ٹکے ہوئے ہیں۔جیسے مدینہ کے باسی ڈاکٹر خالد عباس الاسدی جو بن لادن ہسپتال میں برس ہا برس سے خدمت خلق کر رہے ہیں۔
نور جرال بڑا پیارا بھائی ہے اس کی زبانی ایک نعت کو مدتوں سے گنگناتا ہوں ۔
کاش طیبہ میں سکونت کا شرف مل جاتا
دیکھتے روضہ سرکارؐ کو آتے جاتے
نعت کا فیض نور جرال کو مل چکا ہے اللہ نے صدارتی تمغہئ حسن کارکردگی سے نوازا ہے شکریہ صدر پاکستان! شکریہ! اب ہمارے دوست کی باری ہے جو مدینے میں بیٹھ کر نعت لکھتا ہے اور حُب نبیؐ میں ڈوب کے لکھتا ہے۔
بات تو سچ ہے یہ نصیب نصیبوں والے کو ملتا ہے۔ان میں ڈاکٹر خالد عباس الاسدی بھی شامل ہیں جو کئی عشروں سے دنیا کی مقدس ترین سر زمین میں رہ رہے ہیں۔میری تقریر سننے والے جانتے ہیں کہ میں اپنی تقریر کا آغاز وہ دانائے سبل،ختم الرسلؐ، مولائے کل سے شروع کرتا ہوں اور اس کے ساتھ ایک شعر آقا ؐلفظ جب تک وضو نہیں کرتے ہم تیری گفتگو نہیں کرتے اور بعد میں درود شریف پڑھتا ہوں اس سے میری تقریر میں برکت پڑ جاتی ہے جب سے یہ وطیرہ ہے اللہ نے زبان کی ساری لکنتیں دور کر دی ہیں اور لفظ سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔میرے بیٹے کا دوست سلیم ہاشمی پوچھتا ہے انکل آپ تقریر کی تیاری کرتے ہیں اسے یہ علم ہی نہیں سب اس کے نانا سے محبت کا فیض ہے۔یہ لازوال شعر ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کا ہے۔اللہ انہیں سلامت رکھے اس بار آیا تو مدتوں بعد بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ جب آنکھ کا عارضہ لاحق ہوا تو روتا تھا ایک دن فون آیا میں دعا کروں گا آپ آنکھ بند کر کے یا نور یا نور پڑھتے رہئے اور علاج جاری رکھئے۔میرے اللہ کا کرم ہوا میں پھر مدینے آ گیا۔جون میں حاضری دی امتیاز مغل اور ان سے ملاقات نہ ہو سکی واپسی پر فون آیا راستے میں تھے ڈاکٹر صاحب نے محبت کا اظہار کیا پچھلے ہفتے پھر حاضری نصیب ہوئی تو کھانے پر بلا لیا وہیں عزیزم جہانزیب منہاس سے ملاقات ہوئی۔منہاس انہی راستوں پر ہے جن سے ہم تیس سال پہلے گزر کر آئے۔مدینے والے کے دربار میں ہر حاضر ہونے والے کی خدمت کرتا ہے۔وہاں برادر سردار صابر کے ہوٹل میں نشست ہوئی اپنی دو کتابیں عطا کیں پاک چین دوستی اور پاک سعودی دوستی دو لاجواب کتابیں ان کی شاعری پر مشتمل ہیں۔کبھی اللہ نے موقع دیا تو ان کتب پر لکھوں گا۔صدارتی ایوارڈ کو اعزاز مل جائے اگر یہ ڈاکٹر خالد کو مل جائے۔ڈاکٹر علوی صدارت کو پیارے ہونے سے پہلے اچھے دوست تھے میری کوشش ہو گی کہ ایوان کی بلند و بالا دیواروں پر کوئی کمند ڈال کر ان کے کان میں کہہ دوں سرکارؐ مدینہ کے درباری کو اعزاز دے کر اعزاز پا لیجئے۔
دیکھنے میں لکھنو والے لگتے ہیں چھریرا بدن سامنے سے کم کم بال اور پیچھے سے شاعروں جیسے بال،کیوں نہ ہو خود بھی بڑے پائے کے شاعر ہیں۔جی کرے ویخدا رواں،نفیس ڈاکٹر خالد کے لئے جدہ کے اتحاد کلب کے ساتھ ایک فلیٹ میں رات کے اس پہر جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ دل ہی سے لکھ رہا ہوں۔کمال کا بھائی ہے ہمارا اور اوپر سے خاتون خانہ بھی لا جواب۔تاریخ شاہد ہے کہ ہر کامیاب شخص کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔اور اس بہن سے مل کر دلی خوشی ہوئی جس نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ سالہا سال گزارے۔میں دوران ملازمت کوئی چار بار مدینہ رہا اسی کی دہائی میں پھر نوے اور اس کے بعد دو ہزار دس اور دو ہزار چودہ میں۔ڈاکٹر صاحب سے کافی ملاقاتیں رہیں۔ مرنجان و مرنج خالد عباس کی شاعری کی خوبصورتی کا ایک شعر ہی کافی ہے۔میں چونکہ تبصرہ کتب نہیں کر رہا میں نے ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ انہوں نے میرے لئے قطعہ لکھا اس کالم کو یہ بھی نہ سمجھئے کہ من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو میں تمہیں حاجی کہوں اور اس کے بدلے تو مجھے ملا کہے۔ویسے آج کل دونوں نام ہی کوئی خاص وزن نہیں رکھتے کیونکہ اس نام کے ورثا نے کچھ اچھا نہیں کیا۔اللہ پاک انہیں خوش رکھے جو اللہ کے دین کی خدمت کرتے ہیں۔
نسیم سحر تگڑا شاعر ہے جدہ سے ایک بار جا رہا تھا تو کہا
ہمارے شہر سے یوں افتخار کا جانا
ہے دوستوں کے دلوں سے قرار کا جانا
گراں گزرتا نہ تھا صد ہزار کا جانا
مگر ایک دیرینہ یار کا جانا
نسیم معاف کر دیں اگر لکھنے میں کوئی بھول چوک ہو۔منور ہاشمی کے ہوتے ہوئے مشہور شاعر انور مسعود نے بھی ارشاد فرمایا تھا۔
رس ملائی اور بیت الافتخار۔۔۔یو بی ایل میں تو ملازم تو نہیں
اے منور ہاشمی۔۔۔۔نہ مار
ڈاکٹر صاحب نے قطعہ کہا اور بار بار سنایا واٹس ایپ پر بھیجا۔یہ میرے لئے عنائت ہے۔چھوٹا بھائی سجاد اس کی قدر سمجھتا ہے کہنے لگا نسلوں کے لئے انمول تحفہ ہے سچی بات ہے اس میں شک بھی کوئی نہیں۔
کبوتر مدینہ مکہ حرم دانہ ہماری شاعری میں بڑے معنی رکھتا ہے۔ڈاکٹر خالد عباس کی نظر نور جرال کا شعر پیش کر رہا ہوں۔
نصیب طائران خلد میں قرباں اس کبوتر پر
کہ جس کا آشیاں ہے گنبد خضرا کے سائے میں
جناب الاسدی صاحب اس شعر میں آپ کو دیکھتا ہوں۔گنبد خضرا کے سائے میں کتنے لوگ تھے اور اڑ گئے نہ جہانگیر خالد مغل رہے نہ ضیغم خان نہ فارقلید چودھری نہ ہی خواجہ صاحب اور بے شمار ان گنت لوگ مدینے آئے چلے گئے آپ خوش نصیب ہیں کس پیاری جگہ میں ہیں۔اور ہم بھی کچھ کم نصیب نہیں کہ گنبد خضرا کے سائے میں عزیزم فیصل جدون عزیزم جہانزیب منہاس کے ساتھ آپ ایک معتبر آواز ہیں۔سرکار مدینہ کو آتے جاتے دیکھتے رہئے دعا کیجئے وہ آنکھیں سلامت رہیں جو مدینے وچ رہ گئیاں سن اور وہ لکھتا رہے افتخار جس کا تذکرہ آپ نے اس قطعے میں کیاہے۔ ہم پندرہ سوالفاظ لکھتے ہیں حق ادا نہیں ہوتا آپ پچاس ساٹھ لفظوں میں دل جیت لیتے ہیں۔آج عزیزم عدنان اور عزیزہ حمیرہ سے پلاؤ کھا کر آیا ہوں آتے ہوئے ڈھیر سی کتابیں دیں کہنے لگا بھائی جان انکل لے جائیے میر کی کتابیں اب ہم نے کیا کرنی اللہ نے اپنے کرم اور اس شاعری کی جادوگری سے گھر بنا دیا ہے آپ لے جائیے گویا وہ اب میرا گھر خراب کرنے کے لئے حسرت موہانی،میر اور جگر مراد آبادی کی کتابوں کو گھر سے نکال رہا ہے۔ہائے افسوس ہماری نسلیں اب کتابیں نہیں پڑھتیں۔
ڈاکٹر خالد میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اس قطعے کا قرض اتار سکوں البتہ روز محشر دکھا دوں گا کہ گنبد خضرا کے سائے میں رہنے والے نے لکھا ہے۔مجھے آقا بخشش دلوا دیں گے۔ سلامت رہئے سارے بیٹوں اور بیٹیوں کو پیار اس عظیم خاتون کو بھی سلام جس نے اس ارض پاک میں پاکستان کو سچے پاکستانی دئیے۔جیوندے رو ڈاکٹر صاحب
(تحریک انصاف شمالی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭……٭……٭

طالبان کا کڑا امتحان

لیفٹیننٹ جنرل(ر)نعیم خالد لودھی
افغان طالبان نے جس سرعت اور تیزی کے ساتھ افغانستان کو غیر قانونی بیرونی قبضے اور کٹھ پتلی حکومت سے آزاد کروایا اس نے ساری دنیا کوورطہئ حیرت میں ڈال دیاہے۔ عین ممکن ہے میرے پہلے جملے میں الفاظ کے چناؤ پہ کچھ لوگوں کو اعتراض ہو۔ لیکن یہ بات تو ہمیں بھی معلوم ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی فوجیں اقوام متحدہ کی اشیرباد اور دنیا کے اثبات کے بعد افغانستان پر حملہ آور ہوئیں لیکن جونہی انہوں نے اپنے ابتدائی ہدف حاصل کر لئے تھے جن کیلئے ان کو اقوام متحدہ اور عمومی طور پر دنیا کی حمایت حاصل تھی اس کے فوراً بعد ان کا انخلا ہو جانا چاہئے تھا۔ اس کے بعد ان کے وہاں رہنے کا کوئی جواز نہ تھا اس لئے ہم اس لمبے قبضے کو غیر قانونی کہہ سکتے ہیں۔ بہرحال یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں۔
کیا یہ ایک فقط عسکری فتح ہے؟ ہرگز نہیں، گو کہ عسکری حکمت عملی بھی اس کامیابی کی ایک وجہ ہے لیکن ہم تو اس کو سیاسی و عسکری انقلابی مہم کہیں گے۔ اس میں نفسیاتی اور انٹیلی جنس آپریشن بھی شامل تھے گو کہ بین الاقوامی میڈیا بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ آیئے دیکھتے ہیں تمام معاملہ کیا تھا اور حالاات اب کس نہج پہ چل رہے ہیں۔
حالات کی سمجھ بوجھ: سب سے پہلے امریکہ، برطانیہ اور ان کے حلیفوں نے غچا کھایا جب انہوں نے افغان فوج کے مقابلے میں افغان طالبان کی طاقت اور جذبے کا بہت غلط اندازہ لگایا۔ غالباً جب امریکہ نے یہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو ان کو اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں تھی کہ افغان حکومت اور فوج کے ساتھ کیا بیتے گی۔ اشرف غنی کو کیل کانٹے سے لیس اپنی فوج پر بہت اعتماد تھا۔ کیونکہ ان کے پاس ماڈرن ہتھیار، ہیلی کاپٹر‘ رات کو دیکھنے والے آلات اور لڑاکا جہاز بھی موجود تھے۔ طالبان نے جنگ سے پہلے کی پوری تیاری کی اور تقریباً تمام صوبوں میں خفیہ طور پر اپنے مندوب بات چیت کے لئے بھیجے۔ انہیں اقتدار کا لالچ دیا اور کہیں دھمکی استعمال کی اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی جنگ جیت چکے تھے۔
تزویراتی حکمت عملی کا موازنہ: طالبان نے سب سے پہلے نسبتاً خالی علاقوں اور آمدورفت کے راستوں پہ قبضہ کیا۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ جتنے بھی سرحدی رابطے تھے ان کے راستوں کو پکڑا اور آخر میں شہروں کا رخ کیا جہاں پہلے ہی راہ ہموار ہو چکی تھی۔ بغیر زیادہ خونریزی کے تقریباً تمام ملک پر تسلط قائم کر لیا اور طرہئ امتیاز یہ کہ کابل پر ایک بھی گولی چلائے بغیر حاوی ہو گئے۔ ان کی اس تیز رفتار فتح نے دنیا کوورطہئ حیرت میں ڈال دیا کیونکہ اس میں کوئی عسکری منطق نظر نہیں آتی تھی۔ اسی لئے ہم اسے سیاسی اخلاقی اور فوجی فتح کا امتزاج کہیں گے۔
دوسری جانب افغان فوج نے بہت بے ڈھنگی حکمت عملی اختیار کی اور طاقت کو یکجا رکھنے کے بجائے چھوٹی چھوٹی کمزور ٹکڑیوں میں بانٹ کر دور دراز علاقوں میں بھیج دیا جہاں ان کو فضائی مدد پہنچانا بھی دشوار تھا۔ افغان فوج میں کچھ اور مسائل بھی تھے۔ مثلاً ان کے پیادے زیادہ تر پشتون اور آفیسر تاجک اور ترک نسل کے تھے۔ اس کے علاوہ افغان فوجیوں میں جذبے اور مقصد کی شدید کمی تھی۔ وہ دوسرے عوام کی طرح قابض فوج کے رویے اور اشرف غنی اور اس کی حکومت کی بدعنوانیوں سے بھی نالاں تھے۔ اور جب انہیں نظر آیا کہ عوام اور ان کے بڑے لیڈر ہر صوبے میں طالبان کا پرجوش استقبال کر رہے ہیں اور جوق در جوق ان کے ساتھ ملتے جا رہے ہیں تو ان کا مورال بالکل گر گیا اور ہتھیار ڈالنے ہی میں عافیت سمجھی۔
دو عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان طالبان کو یقیناً عوام کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ ایک تو اتنی بڑی طاقت کے خلاف مدافعتی جنگ کی کامیابی اور دوسرے تقریباً تمام بڑے شہروں اور قصبوں کی بلا چون وچرا ان کے حوالے ہو جانا۔
افغان طالبان کا امتحان۔ شاید ایسی حکومت کو ہٹانا بہت مشکل کام نہیں تھا جس کی معیشت، فوج اور روزمرہ کاروبار حکومت کا زیادہ تر دارومدار بیرونی طاقت کے مرہون منت ہواور وہ ہو بھی بدعنوان۔
لیکن اب افغانستان جیسے ملک میں جو قومیتوں اور مسالک میں بٹا ہوا ہو وہاں ایک ایسی حکومت کی تشکیل جس میں تمام مکاتب فکر اور مختلف اقوام کے لوگ شامل کئے جا سکیں ایک نہایت کٹھن مرحلہ ہے اور اس میں کچھ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ پھر ایک موثر اور قوی حکومت کی بنیاد رکھنا جو ملک کے طول و عرض میں قوانین نافذ کر سکے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ اور یہ کچھ بیرونی اور اندرونی مخالفت کے باوجود کرنا ہو گا۔ خارجہ محاذ پر اپنے رویے اور وعدوں کی بنیاد پر اپنے آپ کو تسلیم کروانا اور تمام بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرنا بھی ایک کڑا امتحان ہو گا۔ کچھ ایسے وعدے جیسے اپنی سرزمین دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا، خواتین کے کام کرنے اور بچیوں کی تعلیم کی ذمہ داری، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری وغیرہ کو بھی دنیا بہت غور سے دیکھے گی۔
طالبان کے دونوں نمائندے ذبیح اللہ مجاہد اور سہیل شاہین نے بڑی جاں فشانی سے بار بار واضح کیا ہے کہ اس دفعہ طالبان اپنے بنیادی عقائد کو چھوڑے بغیر ایک ایسی حکومت عملی اپنائیں گے جو بالعمومم دنیا کے بیشتر ممالک کو قبول ہو۔ لیکن پرانی یادداشتوں کی روشنی میں یہ وعدے دنیا کو فوری طور پر مرعوب نہ کر پائیں گے۔ حالانکہ ایسے اشارے موجود ہیں جو طالبان کے قول و فعل کو قابل اعتبار بنا رہے ہیں۔ جو معاہدہ امریکہ کے ساتھ ہوا اس کو نبھایا، بغیر بڑے خون خرابے کے ملک کا کنٹرول سنبھالا، سب کے لئے عام معافی کا اعلان کیا وغیرہ وغیرہ۔
کابل کا ہوائی اڈہ غیر ملکیوں اور جو افغان بھی جانا چاہیں ان کے لئے کھلا رکھا۔ جو خواتین ٹی وی یا ریڈیو پہ کام کر رہی ہیں ان کو اپنا کام جاری رکھنے کا عندیہ دیا بلکہ اگر کچھ خواتین نے اپنے حقوق کے لئے مظاہرہ کرنا چاہا تو نہ صرف ان کو اجازت دی بلکہ ان کی حفاظت پہ بھی مامور رہے۔ جھنڈے کے مسئلے پہ جلوس نکلے جن کو اکثر پرامن طورپر منتشر کیا۔ ان تمام امور پہ غور کیا جائے تو یہ طالبان اپنے رویے اور سوچ میں بیس سال پہلے والے طالبان سے بہت مختلف ہیں۔ بیشک ان کی بنیادی اسلامی سوچ میں کوئی فرق نہ آیا ہو لیکن تاویل یقیناً نئی ہے۔
لیکن طالبان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو جب بھی موقع ملا وہ ضرور ایسے رخنے ڈالیں گے جس سے آپس کی دشمنیاں سامنے آئیں گی اور ایک نئی سول جنگ کی سی کیفیت پیدا کی جائے۔ ڈس انفارمیشن کی مہم پہلے ہی شروع ہے۔ طالبان کو اپنے لیڈرز کی حفاظت کے اچھے انتظامات کرنے چاہئیں اور فالس فلیگ کارروائیوں پہ نظر رکھی جائے۔
پاکستان کے لئے مضمرات: اگر افغانستان امن اور سکون کا مسکن بن جاتا ہے جس کے اس دفعہ امکانات روشن ہیں تو وسط ایشیا، جنوبی اور مغربی ایشیا کے لئے آپس میں جڑنے اور مل کر ترقی کرنے کا ایک نادر موقع ہاتھ آ سکتا ہے۔ چین اور روس کی بحر ہند تک ایک چھوٹے راستے سے رسائی ممکن ہو جائے گی۔ پی آر آئی اور سی پیک میں بہت تیزی آ جائے گی اور افغانستان صنعت اور تجارت کا مرکز بن سکتا ہے۔ کیا پاکستان اتنے بڑے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہے؟ اس سلسلے میں چاق و چوبند طریق پہ منظم ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں بہت سخت معاشی مقابلہ ہو گا اور اگر ابھی سے کچھ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ لوگوں کی آمدورفت کو نہایت آسان بنایا جائے۔ میڈیکل کی سہولیات، تعلیم کے زیادہ مواقع فراہم کئے جائیں۔ بارڈر پہ مزید مارکیٹیں بنائی جائیں۔ انجینئرز، ڈاکٹرز، واپڈا، نادرا، سٹاک ایکسچینج اور فوج کے ماہرین مہیا کئے جائیں۔ بینک کھولے جائیں۔ تجارت، کنسٹرکشن کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ مختصر یہ کہ ایک نیا جہاں وقوع پذیر ہوا چاہتا ہے۔ جو ہاتھ بڑھا کے تھام لے یہ جام اسی کا ہے۔
(کالم نگار سابق کورکمانڈر اور وفاقی
سیکرٹری دفاع رہے ہیں)
٭……٭……٭

حکومت کے تین سال۔کیا کھویا کیا پایا

ملک منظور احمد
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بر سر اقتدار آئے ہوئے تین برس کا عرصہ گزر گیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی تمام تر کا وششوں کے باوجود حکومت نہ صرف بددستور اپنی جگہ پر مضبوطی سے قائم ہے بلکہ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے اب حکومت کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے قبل عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے،دعوئے کیے نیا پاکستان کا خواب ہر خاص و عام کو دکھایا اور اسی سلوگن سے متاثر ہو کر پاکستان کے عوام کی بڑی تعداد نے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ ڈالا اور ان کو بر سر اقتدار لے کر آئے۔لیکن اقتدار میں آنے کے بعد جیسا کہ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے زعما کو حقیقت کی دنیا کا ادراک ہوا ان کو معلوم ہوا کہ خزانہ خالی ہے اور حالات بہت سخت ہیں اور ان حالات میں عوام کی خواہشات پر پورا اترنا کسی صورت آسان نہ ہو گا۔
اس بات میں کو ئی شک نہیں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جب اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر گزشتہ حکومت کی ناقص پالیسوں کے باعث بہت کم رہ چکے تھے اور تیزی کے ساتھ گر رہے تھے،پاکستان کو اگر فوری طور پر چین،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے امداد نہ ملتی تو پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات تھے۔پاکستان دوست ممالک کی امداد کے باث دیوالیہ ہونے سے تو بچ گیا لیکن اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کے باعث ان پر بہت تنقید ہو ئی کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پہلے تو آئی ایم ایف پروگرام میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ بر وقت نہ کرسکی اور جب گئی تو سخت ترین شرائط پر آئی ایم ایف پروگرام لیا گیا جس کے باعث پاکستان کی معیشت کا گلا گھونٹ دیا گیا،شرح نمو نہایت ہی کم ہو گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئیں اور بے روزگاری کا ایک طو فان آگیا۔اگرچہ اب جا کر شرح نمو میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کا روپیہ اب بھی مسلسل گر رہا ہے اور مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔عوام مہنگائی کے باعث بہت پریشان ہیں اور حکومت ابھی تک ان کو اس حوالے سے ریلیف دینے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔معیشت یقینا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے ان تین سالوں کے دوران سب سے بڑا چیلنج رہا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی پاکستان تحریک انصاف دیگر شعبوں میں خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی ہے،الیکشن سے قبل پاکستان تحریک انصاف نے عوام سے ادارہ جاتی اصلاحات،پولیس اورنظام عدل میں جامع اصلاحات،سمیت انتخابی اصلاحات سمیت کئی وعدے کیے۔ کرپشن ختم کرنے کا 90روزہ پلان دیا گیا،نظام احتساب کو بہتر کرنے کے وعدے کیے گئے،لیکن اب جبکہ حکومت اپنے تین سال مکمل کر چکی ہے یہ تمام وعدے اور دعوے ایک سیراب کی مانند ہی محسوس ہو رہے ہیں۔اس بات کی مثال میں یوں دوں گا کہ حالیہ دنوں میں یوم آزادی کے موقع پر لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں مینار پاکستان پر ایک خاتون کے ساتھ ایک نہایت ہی افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔اس واقعہ کے بعد خاتون نے میڈیا کو بتا یا کہ واقعے کے دوران اس نے دو بار پولیس کی ہیلپ لائن 15پر کال کرکے پولیس سے مدد طلب کی لیکن مدد کو کوئی نہیں آیا،اور بس یہی بات پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پولیس سمیت دیگر اداروں میں اصلاحات کے دعوؤں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ احتساب اور بڑے پیمانے پر کرپشن 90روز میں ختم کرنا بھی پاکستان تحریک انصاف کا عوام کے ساتھ کیا گیا ایک کلیدی وعدہ تھا جو کہ ابھی تک پورا ہو تا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے،اگرچہ احتساب کے نام پر پکڑ دھکڑ تو بہت ہوئی ہے لیکن کسی بھی بڑی مچھلی سے کوئی بھی بڑی ریکوری نہیں ہو سکی ہے۔ اگرچہ نیب کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ دور میں 500ارب روپے سے زائد کی ریکوریز ہوئی ہیں لیکن کسی بھی سیاست دان سے کو ئی ریکوری نہیں ہو سکی ہے، اور احتساب کا عمل بذات خود ہی سیاست کا شکار ہو چکا ہے۔لیکن جہاں پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کسی بھی ادارے میں کوئی بھی ادارہ جاتی اصلاحات کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے،وہیں پر کچھ اچھے کام بھی ضرور کیے گئے ہیں جن کا ذکر کرنا بنتا ہے۔حکومت نے پنجاب اور کے پی کے میں صحت کارڈز تقسیم کیے ہیں اور اب یہ سلسلہ بلوچستان میں بھی شروع ہو گیا ہے۔اس سکیم کے تحت اس کارڈ کے ذریعے شہریوں کو ہیلتھ انشورنس کی سہولیات دی جا رہی ہیں جو کہ یقینا ایک قابل ستائش بات ہے اس کے علاوہ کسان کارڈ،اور کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے تحت لنگر خانے اور پناہ گاہیں کھولنے کا پروگرام بھی قابل تعریف ہے۔
خارجہ محاذ پر یقینا حکومت نے اہم کامیابیاں ضرور سمیٹی ہیں،جن کی تعریف کی جانی چاہیے،2019ء میں بھارت کے ساتھ ہونے والی کشیدگی میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا اور پاکستان نے سفارتی طور پر اہم کامیابی حاصل کی جبکہ اس کے بعد بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے معاملے پر بھی وزیر اعظم اور حکومت نے عالمی سطح پر خاصا موثر کردار ادا کیا۔سعودی عرب سمیت عرب ممالک اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ افریقا کے ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات میں اضافہ بھی حکومت کی اہم سفارتی کامیابیاں ہیں۔موجودہ افغان بحران میں بھی حکومت پاکستان کی کا رکردگی اور سفارت کاری بہت بہتر رہی ہے،اور سابق افغان حکومت اور بھارت کی جانب سے پاکستان کو افغان بحران کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوششیں کا رگر ثابت نہیں ہو سکیں ہیں۔پاکستان خطے مین ایک اہم ملک کے طور پر ابھرا ہے اور اپنا کردار بہتر انداز میں نبھا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے ان تین سالوں میں پارلیمان کو بہتر انداز میں چلانے مین ناکام رہی ہے،اور حکومت کا زور قانون سازی سے زیادہ آرڈیننس جاری کرنے پر رہا ہے،دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے ایک سیراب ہی رہا ہے،لیکن وزیر اعظم عمران خان کے احتساب کے بیانیہ کی موجودگی میں شاید اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ناممکن ہی تھا لیکن پھر بھی اس حوالے سے معاملات کو قدرے بہتر انداز مین مینج کیا جاسکتا تھا جو کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں کر سکی ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف کے تین سالہ دور حکومت کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے کردار کے حوالے سے بھی کچھ بات کی جائے تو اپوزیشن جماعتوں کا کردار ہمیں نہایت ہی کنفیوژ نظر آتا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کا آپس میں مفادات کا ٹکراؤ اور اندرونی اختلافات پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے نہایت تقویت کا باعث بنے ہیں۔اگر کہا جائے کہ اپوزیشن بھی گزشتہ تین سالہ دور میں موثر کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے تو غلط نہ ہو گا۔
حکومت کے تین سال میں جہاں پر حکومت کی کامیابیاں ہیں وہاں پر ناکامیوں کی فہرست بھی طویل ہے۔اگر کہا جائے کہ حکومت اب اپنی مدت کی 65فیصد معیاد پوری کر چکی ہے اور اب صرف 35فیصد وقت باقی رہ گیا ہے تو یہی حقیقت ہے،حکومت کے پاس اب پہلے سے شروع کیے گئے منصوبوں کو پایہئ تکمیل تک پہنچانے کا وقت ہے، نئے منصوبے شروع کرنے کا وقت گزر چکاہے۔ دیکھنا ہو گا کہ حکومت 2023ء میں اپنی مدت کا اختتام کیسے کرتی ہے کیا اس وقت تک مہنگائی پر قابو پا یا جاسکے گا یا نہیں؟ یہ شاید اس حکومت کے مستقبل کے لیے سب سے اہم سوال ہے۔حکومت کے پاس اپنی کمیوں اور کو تاہیوں پر قابو پانے کے لیے دو سال کا وقت ابھی باقی ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری اب بھی عوام کے لیے سب سے بڑے مسائل ہیں ان کو حل کیا جانا نہایت ضروری ہے۔انہی مسائل کی بنیاد پر عوام 2023ء میں اپنا فیصلہ سنا ئیں گے۔
(کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
٭……٭……٭

منال اور احسن کی شادی کا کارڈ منظرِ عام پر آگیا

اداکارہ منال خان اور  احسن محسن اکرام کی شادی اگلے ماہ ستمبر میں ہونے جا رہی ہے۔

احسن محسن اکرام کی جانب سے شادی کے کارڈ کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ منال احسن کے ساتھ 10 ستمبر بروز جمعہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں گی۔

شادی کے کارڈ کی تصویر اداکار کی جانب سے کچھ دیر قبل شیئر کی گئی ہے جو اب سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہے۔

دوسری جانب کارڈ کی تصویر منظر عام پر آتے ہی مداحوں اور  شوبز شخصیات کی جانب سے جوڑے کو مبارکبادیں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔

خیال رہے اداکارہ منال خان اور احسن محسن اکرام کی رواں برس مئی میں بات پکی ہوئی تھی جبکہ دونوں کی منگنی جون میں ہوئی تھی جس کا تذکرہ کافی عرصہ تک زبان زدِعام تھا۔

حکومت سندھ نے کورونا ویکسین لگوانے کیلئے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن دیدی

حکومت سندھ نے بھی اسکولوں، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں اور ریسٹورینٹس میں جانے والوں کے لیے ویکسی نیشن لازمی قرار دیدی۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر  (این سی او سی) کی ہدایات پر نیا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔

حکم نامے کے مطابق تعلیمی اداروں، ریسٹورینٹس، ہوائی جہاز اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کے لیے ویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔

تاہم ہوٹل، شاپنگ مالز اور شادی ہالز میں داخلے کے لیے بھی ویکسین لگوانا لازمی ہوگا۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے ویکسی نیشن کے لیے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی ہے لیکن پبلک ڈیلنگ کے تمام ادارے، ٹرین اور  بذریعہ سڑک سفر کے لیے ویکسی نیشن کی مہلت 15 اکتوبر  رکھی گئی ہے۔

پنجاب کارڈیالوجی میں دل کا مریض 3 گھنٹے فرش پر تڑپتا رہا

لاہور : (جنرل رپورٹر) زندگی اور مت کی کشمکش میں میں مبتلا افراد بے یارو مددگار زمین پر لیٹ کر علاج کو ترسنے پر مجبور ہو گئے۔

حکومت کے 3 سال مکمل ہوگئے مگر محکمہ صحت پنجاب کی کا رکردگی آج بھی صفر ہے۔ وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے صوبہ کے ہسپتالوں کو بہتر بنانے کے دعوے محض اعلانات تک محدود ہو کر رہ گئے۔

بستروں کی کمی کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا افراد بے یارومددگار زمین پر لیت کر علاج کروانے پر مجبور۔

چیک اپ کا کہا جائے تو ڈاکٹرز ڈانٹتے ہیں ، ادویات بھی نہیں ملتیں ، مریضوں کے لواحقین کا وزیراعلیٰ اور وزیر صحت سے نوٹس کا مطالبہ