All posts by Khabrain News

مہنگائی میں 9.95 فیصد کا ریکارڈ اضافہ، سالانہ شرح بھی 41.90 فیصد کی تاریخی سطح پر

اسلام آباد: حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں 9.95 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بھی 41.90 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مہنگائی میں بڑے پیمانے پر اضافے کی صورت ظاہر ہونا شروع ہوگئے، ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔

حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 9.95 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہواہے جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بھی 41.90 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، ملک میں مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ کمانے والا طبقہ متاثر ہوا جس کے لیے مہنگائی کی شرح 45.84 فی صد رہی۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے میں 25 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 13 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 13 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے مہنگی ہوئی اشیاء میں گیس سرفہرست ہے جس کی قیمتوں میں 480 فیصد کی شرح کے حساب سے سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔

چائے کی پتی کی قیمتوں میں 8.88 فیصد، دال مسور کی قیمت میں 2.54 فیصد، چکن کی قیمت میں 3.99فیصد، لہسن کی قیمت میں 3.09 فیصد، نمک کی قیمت میں2.93 فیصد، آٹے کی قیمت میں 2.64 فیصد، ایل پی جی کی قیمت میں2.03 فیصد جبکہ آلو کی قیمتوں میں2 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے جن13 اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ان میں سے بجلی کی قیمتوں میں16.06 فیصد، ٹماٹر کی قیمتوں میں11.16 فیصد، چینی کی قیمتوں میں4.24 فیصد، ڈیزل کی قیمت میں2.15 فیصد، پٹرول کی قیمت میں0.73 فیصد، پیاز کی قیمت میں1.49 فیصد، ویجیٹیبل گھی کی قیمت میں1.39 فیصد، کوکنگ آئل کی قیمت میں 0.65 فیصد جبکہ گڑ کی قیمت میں0.27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 35.72 فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں40.81فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 45.84فیصد رہی۔

اسی طرح 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 42.94فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 39.67 فیصدرہی ہے۔

خواجہ سراؤں کا ’’مورت مارچ‘‘ میں اپنے مطالبات پیش کرنے کا فیصلہ

کراچی: خواجہ سراؤں نے کراچی میں ’’مورت مارچ‘‘ میں اپنے مطالبات پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 

کراچی پریس کلب میں خواجہ سراؤں کی نمائندگی کرنے والی بندیا رانا، ڈاکٹر میرب اعوان اور  شہزادی رائے نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ خواجہ سراؤں کی جانب سے 19 نومبر کو کراچی میں فرئیر ہال میں ’’مورت مارچ‘‘ منعقد ہوگا۔ جس وہ اپنے مطالبات پیش کریں گے۔

دوران پریس کانفرنس شرکا نے کہا کہ ہمیں خاندانی وراثت میں حصہ نہیں ملتا اگر کوئی خواجہ سرا مانگیں تو اس کو مبینہ طور پر خاندان کے لوگ قاتل کردیتے ہیں، نادرا ہمارے ایکس شناختی کارڈ جاری نہیں کررہا ہے اس لیے اپنے حقوق کے لیے ہر فورم پرآواز بلند کریں گے۔

شہزادی رائے کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر بہت سارے خواجہ سرا قتل کر دیے جاتے ہیں، ہم اس ڈر سے جائیداد میں حصہ نہیں مانگتے، ہماری شناخت کا حق ہم سے چھینا جا رہا ہے جبکہ ہمیں سرکاری ملازمتیں نہیں دی جاتی، سرکار کو چاہیے ایسی پالیسیز کو یکسر ختم کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ سے مطالبہ ہے کہ کوٹے کا اعلان تو کر دیا لیکن عمل کون کریگا ایک خواجہ سرا کو بھی سرکاری ملازمت نہیں دی گئی، کوئی بھی مالک مکان ہمیں گھر نہیں دیتا اور اگر دے تو بہت مہنگا دیتا ہے۔

اس موقع پر بندیا رانا کا کہنا تھا کہ نادرا نے ایکس کارڈ بنانا روک دیے، جس کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہوگا اس کے پاس پاکستانی شہریت نہیں ہوگی۔ ڈاکٹر میرب نے کہا کہ19 نومبر تین بجے سے چھ بجے تک فریئیر ہال میں مورت مارچ کیا جا رہا ہے،اس سال دوسرا مورت مارچ نکال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے مطالبات مورت مارچ میں رکھیں گے، خواجہ سرا آج بھی ناچ گانا کر کے اپنا گزارہ کرتے ہیں، آنے والے پڑھے لکھے خواجہ سرا کو نوکریاں دی جائیں۔

سویلینز کے خصوصی عدالتوں میں ٹرائل پر بحث احتجاج میں تبدیل، سینیٹ اجلاس ملتوی

خصوصی عدالتوں میں سویلیئنز ٹرائل کے حق میں منظور قرارداد کے خلاف احتجاج کے باعث سینیٹ کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

جمعیت علمائے اسلام ایف (جے یو آئی) کے سینیٹر کامران مرتضی نے نقطہ اعتراض اٹھایا تو سینیٹرسعدیہ عباسی نے کہا کہ مذکورہ قرارداد پربات نہ ہونے تک ایوان نہیں چلنے دیں گے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس کا آغاز ہوا تو سینٹر کامران مرتضی نے خصوصی عدالتوں سے متعلق منظور قرارداد پر بحث کے لئے نقطہ اعتراض اٹھایا او ربات کرنے کے لئے اصرار کیا۔

سینیٹر سعدیہ عباسی نے بھی سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ قرارداد پر بات نہ ہونے تک ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دیں گے جس کے بعد ممبران اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔

شور بڑھنے پر چیئرمین سینیٹ نے اجلاس ملتوی کرنے پر ہی اکتفا کیا اور اجلاس پیرتک کے لئے ملتوی کر دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔

9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا۔

بینچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس اعجاز الاحسن نے 23 اکتوبر کو فیصلہ سنایا، جس میں بینچ نے پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہ 2 (1) (d) اور دفعہ 59 (4) (سول جرائم) کو بھی غیر آئینی قرار دیا تھا۔

ریاست کے علاوہ کسی بھی گروہ کی طرف سے طاقت کا استعمال ناقابل قبول ہے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ریاست کے علاوہ کسی بھی ادارے یا گروہ کی طرف سے طاقت کا استعمال اور مسلح کارروائی ناقابل قبول ہے۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام و مشائخ سے ملاقات کے دوران آرمی چیف سید عاصم منیرنے کہا کہ بغیر کسی مذہبی، صوبائی، قبائلی، لسانی، نسلی، فرقہ وارانہ یا کسی اور امتیاز کے پاکستان تمام پاکستانیوں کا ہے۔

آرمی چیف کا علما و مشائخ سے ’پروپیگنڈے‘ کے تدارک اور اندرونی اختلاف دور کرنے پر زور
آرمی چیف نے انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ذریعے پھیلائے جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے مذہبی علما کے فتویٰ ”پیغام پاکستان“ کو سراہا ہے۔ انہوں نے علما و مشائخ سے گمراہ کُن پروپیگنڈے کی تشہیر اور اس کے تدارک اور اندرونی اختلافات کو دور کرنے پر زور دیا۔

آرمی چیف نے فکری اور تکنیکی علوم کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی تفہیم اور کردار سازی کے لیے نوجوانوں کو راغب کرنے میں علمائے کرام کے کردار کی نشاندہی بھی کی۔

علمائے کرام و مشائخ کا انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت پر اظہارِ مذمت

علاوہ ازیں علمائے کرام و مشائخ نے متفقہ طور پر انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کی مذمت کی اور ملک میں رواداری، امن اور استحکام لانے کے لیے ریاستی اور سیکیورٹی فورسز کی انتھک کوششوں کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا۔

اس موقع پر علما کرام نے کہا کہ ”اسلام امن اور ہم آہنگی کا مذہب ہے اور بعض عناصر کی طرف سے مذہب کی مسخ شدہ تشریحات صرف ان کے ذاتی مفادات کے لیے ہیں جس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے“

فورم کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی اور بجلی چوری کے خلاف اقدامات کی حمایت

فورم نے متفقہ طور پر حکومت پاکستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی، ایک دستاویزی نظام (پاسپورٹ)کے نفاذ، انسداد اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی اور بجلی چوری کے خلاف اقدامات کی حمایت کی۔

علاوہ ازیں فورم نے افغان سرزمین سے پیدا ہونے والی دہشت گردی پر پاکستان کے موقف اور تحفظات کی مکمل حمایت کی اور پاکستان کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے افغانستان پر سنجیدہ اقدامات کرنے پر زور دیا۔

فورم نے غزہ میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو نسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا

فورم نے غزہ میں جاری جنگ اور غزہ کے نہتے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا اور انہیں انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا

نائیجیرین خاتون نے 11 دن میں دنیا کی سب سے لمبی وگ بنادی

ابوجا: نائیجیرین خاتون نے 11 دن میں ہاتھ سے 1152 فٹ اور 5 انچ لمبی وِگ بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔

گینیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق پیشہ ور وگ ساز خاتون ہیلن ولیم نے ہاتھ سے دنیا کی سب سے بڑی وگ بنا کر عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ ہیلن ولیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس کارنامے کے لیے بالوں کے 1000 بنڈل، بالوں کے اسپرے کے 12 کین، ہیئر گلو کی 35 ٹیوب اور 6250 بالوں کی کلپس کا استعمال کیا۔

ہیلن ولیم نے گینیز ورلڈ ریکارڈز کو بتایا کہ دنیا کی سب سے لمبی وگ بنانے کے لیے مواد کو ڈھونڈنا آسان نہیں تھا۔ وگ سازی کے تجربے نے ان کی اس کارنامے میں بہت مدد کی۔
ہیلن وگ سازی کے پیشے سے تقریباً آٹھ سال سے وابستہ ہیں اور ہر ہفتے 50 سے 300 کے درمیان وگ تیار کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سیکڑوں طلبا کی تربیت کی ہے جبکہ ہزاروں وگ بنائی ہیں۔

متھیرا کی شوز پر رونے والی شخصیات پر کڑی تنقید

پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی میزبان اور ماڈل متھیرا کی جانب سے شوبز شخصایت کو شوز میں رونے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

حال ہی میں انہوں نے ایک پوڈکاسٹ شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مارننگ شوز میں تکلیف دہ لمحات کا تذکرہ کرنے والی شوبز شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

شو کے میزبان کی جانب سے جب متھیرا سے ان کی علیحدگی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اس پر گفتگو کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’جو لوگ زندگی میں نہیں ہیں، ان کے متعلق گفتگو نہیں کرنی چاہئے‘۔

متھیرا نے مزید کہا کہ ’میرے ساتھ بہت کچھ بُرا ہوا ہے لیکن مجھے شوز میں آکر رونا پسند نہیں ہے‘۔

شوبز شخصیات کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے وہ لوگ بلکل نہیں پسند جوایک ہی چیز پر ہر شو میں رو دیتے ہیں‘۔

متھیرا نے ان جملوں کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ ٹھیک ہے آپ نے ایک دفعہ اپنے تکلیف دہ لمحات کو بتادیا، بار بار ان باتوں کو کرنا صحیح نہیں ہے’۔

شادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کی پہلی شادی طلاق پر ختم ہوئی لیکن اس کے باوجود تاحال وہ شادی کو خوبصورت تعلق اور رشتہ سمجھتی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ہر کسی کو شادی کرنی چاہیے۔

گوادر بندرگاہ مستقبل قریب میں سمندری راستے سے تجارت کا مرکز ہوگا، نگراں وزیرِاعظم

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ گوادر بندرگاہ مستقبل قریب میں سمندری راستے سے تجارت کا مرکز ہوگا۔

انوار الحق کاکڑ سے گوادر شپنگ کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن نے ملاقات کرکے اپنے مسائل سے آگاہ اور سرکاری کارگو کا کچھ حصہ گوادر بندرگاہ سے پاکستان درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیرِاعظم نے گوادر شپنگ کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کو اس حوالے سے ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جب کہ وفد کو ان کے مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ گوادر میں فشریز کی صنعت کو جدت دی جائے، گوادر میں ماہی گیروں کو جدید مشینری، کشتیوں میں انجن و نیویگیشن آلات اور بین الاقوامی سطح پر رائج معیار کے مطابق مچھلی پکڑنے کے طریقہ کار کیلئے پیشہ ورانہ تربیت دی جا رہی ہے۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ گوادر سے فشریز کے شعبے میں برآمدات کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا جب کہ گوادر بندرگاہ مستقبل قریب میں سمندری راستے سے تجارت کا مرکز ہوگا۔

گوادر شپنگ کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن وفد نے حکومت کے ماہی گیروں کو روزگار کی فراہمی، پیشہ ورانہ تربیت اور گوادر کے مجموعی طور پر مسائل کے حل کے لئے اقدامات کی تعریف کی۔

ایم ایل ون منصوبے پر کام شروع ہونے سے پہلے 11 ارب خرچ ہونے کا انکشاف

پاکستان ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے پر کام شروع ہونے سے قبل ہی 11 ارب روپے خرچ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان ریلوے کے ایم ایل ون منصوبےکی تفصیلات جمع کی گئیں۔

پاکستان ریلوے نے اپنے جواب میں کہا کہ منصوبےکی لاگت میں کمی کے لئے ڈیزائن میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں تاہم اس دوران معیار اور سیفٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔

سینیٹ کو بتایا گیا کہ لاگت میں کمی کے لئے ڈیزائن کی ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ جون 2023 میں کیا گیا، منصوبےآغاز کے لئے چین کی نیشنل ریلوے سے اجازت کی درخواست کر رکھی ہے۔

تحریری جواب میں کہا گیا کہ این آراے سے پہلے مرحلے کے لئے بولی کے عمل کے آغاز کی اجازت طلب کی ہے، ایم ایل ون منصوبہ 9 ارب 85 کروڑ ڈالر کی لاگت سے 9 سال میں مکمل ہوگا جسے مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔

منصوبے کا تاحال باضابطہ آغاز نہیں ہوا مگر اس کے باوجود منصوبے پر 11 ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے، ابتدائی ڈیزائن پر 10 ارب 64 کروڑ اور فیزیبیلٹی اسٹڈی پر 39 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔

ہالینڈ میں پہلی بار مسلم تارکین وطن خاتون وزیراعظم بننے کے قریب

ایمسٹر ڈیم: ہالینڈ میں آئندہ بدھ کو وزارت عظمیٰ کے لیے انتخاب ہونے جا رہا ہے جس کے لیے پہلی بار ایک مسلم خاتون بھی میدان میں ہیں اور ان کی فتح کے امکانات بھی کافی روشن ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 7 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ براستہ یونان تارکین وطن کی کشتی پر خطرناک سفر طے کرکے ہالینڈ پہنچنے والی مسلم خاتون ڈیلن یسیل گوز ملک کی مستقبل کی وزیراعظم بن سکتی ہیں۔

مسلم تارکین وطن خاتون کا مقابلہ سخت حریفوں سے ہے جن میں منجھے ہوئے سیاستدان اور متحرک سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں لیکن حالیہ سروے بتاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی فار فریڈم اینڈ ڈیموکریسی کی مسلم خاتون رہنما ڈیلن یسیل گوز کو برتری حاصل ہے۔
46 سالہ ڈیلن یسیل گوز نے وزیر برائے انصاف کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں نبھائیں جب کہ وہ 2017 سے 2021 کے درمیان رکن پارلیمان بھی رہیں اور بطور اسٹیٹ سیکرٹری برائے اقتصادی امور اور ماحولیاتی پالیسی کی بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

آج کل ایک شخص الیکٹیبلز کی تلاش میں ہے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ آج کل ایک شخص الیکٹیبلز کی تلاش میں ہے، مہنگائی لیگ میں شامل ہونے والے الیکشن نہیں جیت سکتے۔

مردان میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا میں ابھی کنونشنز کا سلسلہ جاری ہے، اس کے بعد اس شہر میں جلسہ بھی کریں گے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے ہر دور میں پسماندہ طبقے کی خدمت کی، عوام نے ذوالفقاربھٹو کا ساتھ دیا تو انہوں نے عوام کو حقوق دیئے، کسانوں کو زمین کا مالک بنایا، بی بی شہید خاتون ہونے کے باوجود آمروں سے ٹکرائیں، اور عوام کی طاقت سے ان کا مقابلہ کیا، انہوں نے شہادت قبول کی لیکن پیچھے نہیں ہٹیں۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ آصف زرداری نے خیبرپختونخوا کو شناخت دی، اٹھارہویں ترمیم کر کے بھٹو کا آئین بحال کروایا، اور اسی ترمیم کے ذریعےآپ کو آپ کے وسائل کا مالک بنایا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا، اس پروگرام کو پوری دنیا میں مثالی کہا جاتا ہے، اب اس پروگرام میں اضافہ کرنا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ معاشی بحران کی وجہ سےمہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوا، ان مسائل کا حل واحد پیپلزپارٹی کے پاس ہے، ہمیں عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کو کامیاب کروانا ہے، پاکستان کی سب سے بڑی دشمن پرانی سیاست ہے، پرانے سیاستدان ماضی کے مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ملک میں 70 سال سے روایتی سیاست کی جارہی ہے، ہمیں ملک میں نئی سیاست کا آغاز کرنا ہے، ملک میں عوام کا راج قائم کروانا ہے، ہم پاکستان کوتمام مسائل سےنکال دیں گے، ہم ماضی میں پھنسے ہوئے نہیں، ہمیں آج کی پریشانی کاعلم ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم نے پیپلزپارٹی کا پرچم تھام کر آگے بڑھنا ہے، آنے والےالیکشن میں جیت ہماری ہی ہے، ایک ہوکر بھی یہ پارٹیاں پیپلزپارٹی کا مقابلہ نہیں کرسکتیں، نفرت اور گالم گلوچ کی سیاست کو چھوڑنا ہو گا، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں،عوام ہی حکمران کا فیصلہ کریں گے، اس کا ہر فیصلہ ہمارے سر آنکھوں پر ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عوام پر ہی بھروسہ کیا ہے، دیگر جماعتیں بھی عوام پر بھروسہ کریں، دائیں بائیں نہ دیکھیں، ایک بار پھر الیکشن کے بجائے سلیکشن ہوا تو نقصان عوام کا ہوگا، پاکستان کےعوام سلیکڈ راج قبول نہیں کریں گے۔

مسلم لیگ کو مہنگائی لیگ کہتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آج کل ایک شخص الیکٹیبلز کی تلاش میں ہے، مہنگائی لیگ میں شامل ہونے والے الیکشن نہیں جیت سکتے، ہم نے اپنے لئے نہیں عوام اور ملک کیلئے سوچنا ہے۔