All posts by Khabrain News

9 مئی کے واقعات میں ملوث تمام ملزمان کا مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں چلے گا: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث تمام ملزمان کا مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں چلے گا، 499 ایف آئی آرز میں سے 6 ایف آئی آر کو آرمی ایکٹ کے تحت پراسیس کیا جا رہا ہے اور صرف 6 مقدمات ممکنہ طور پر فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات سب کے سامنے اور مختلف باتیں سامنے آ رہی تھی، میں آج تک خاموش تھا کہ حقائق مکمل سامنے آئیں تو بات کروں اور جو حقائق پیش کروں گا وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ کروں گا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ابھی تک 499 مقدمات درج ہوئے جس میں 88 دہشت گردی کی دفعات پر مشتمل ہیں، ان 499 ایف آئی آرز میں سے 6 ایف آئی آر کو آرمی ایکٹ کے تحت پراسیس کیا جا رہا ہے، ان میں دو پنجاب اور چار خیبر پختونخوا میں ہے، صرف چھ مقدمات ممکنہ طور پر فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ صرف 19 ملزمان ملٹری حکام کے حوالے کئے گئے جبکہ 14 گرفتار ملزمان کو خیبر پختونخوا میں فوجی حکام کے سپرد کیا گیا ہے، اے ٹی اے کے کیسز میں 3946 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں 20588 اور خیبر پختونخوا میں 1100 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر کیسز میں 5536 لوگوں کو گرفتار کیا گیا جس میں اکثریت ضمانتوں پر رہا ہوچکے ہیں باقی کے کیسز دیگر عدالتوں میں چلے گئے ہیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ 9 مئی کے واقعات میں جو ملوث نہیں ہوگا اس کو کیسز میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور ملٹری ایکٹ کا اطلاق ان کیسز میں ہوتا ہے جب کوئی عسکری عمارت اس میں شامل ہو، اگر کوئی شخص چاہے وہ کوئی فوجی کیوں نہ ہوں اور اگر وہ مجاز نہ ہوں جانے کا، تو اس کے اوپر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ہو سکتا ہے، ایسی عمارت میں گھسنا، آس پاس رہنا یا لوگوں کو داخل کروانا قابل سزا جرم ہے، حساس عمارتوں کے قریب احتجاج اور ویڈیوز نہیں بنائی جا سکتی۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کے حوالے سے کسی قانون سازی یا ترمیم کی ضرورت نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ نفرت کی سیاست کا آغاز 2014 کے دھرنے سے کیا گیا اور ایک سیاسی جماعت نے اپنی سیاست کو جہاد کا نام بھی دیا، پاکستانی معاشرے میں نفرت پھیلانے کیلئے بہت محنت کی گئی، 9 مئی کو جو کچھ ہوا تھا وہ بھی اسکا تسلسل تھا۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری ترقی کررہی ، برآمدات میں اضافے کیلئے وسائل مہیا کرینگے: وزیراعظم شہباز شریف

کراچی: (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسائل اور چیلنجوں کے باوجود پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ترقی کررہی ہے، ملک کی برآمدات میں اضافے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بہتری کے لئے مالی مسائل کے باوجود تمام ممکنہ وسائل مہیا کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی میں ٹیکسٹائل ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکسٹائل ایکسپو کے منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس ایکسپو میں بیرون ملک سے بھی سرمایہ کار شریک ہیں جو خوش آئند ہے، ٹیکسٹائل نہ صرف ہماری معیشت بلکہ برآمدات کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ مختلف چیلنجوں کے باوجود پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی بہتری کے لئے کوشاں ہیں، کاروباری افراد کی انتھک محنت کےباعث ٹیکسٹائل کا شعبہ بہتر ہو رہا ہے، سرمایہ کار پاکستان آکر خوشی محسوس کرتے ہیں، مسائل کے باوجود پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ترقی کررہی ہے، ٹیکسٹائل سیکٹر ہماری برآمدات کا مرکز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیٹ ویئر اور گارمنٹس کی عالمی برانڈ کی جانب سے مانگ، پرانے ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی میں جدت اس شعبہ کے اہم سنگ میل ہیں، وزیرتجارت، سیکرٹری تجارت اور ان کی ٹیم اور پاکستان ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین زبیر موتی والا کی اس شعبہ کی بہتری کے لئے نمایاں کارکردگی اہمیت کی حامل ہے، ٹیکسٹائل کے شعبہ کا ملکی برآمدات میں حصہ 60 فیصد ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ایکسپو کا باضابطہ افتتاح کیا اور شرکاء نے شہباز شریف کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا، وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء مریم اورنگزیب، احسن اقبال، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر بھی تھے۔

پی ٹی آئی کوہاٹ کے نائب صدر بشیر احمد نے بھی پارٹی کو خیر آباد کہہ دیا

کوہاٹ: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف ضلع کوہاٹ کے نائب صدر بشیر احمد نے بھی پارٹی کو خیر آباد کہہ دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کوہاٹ کے سینئر نائب صدر بشیر احمد نے 9 مئی کے واقعات کی پر زور مزمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی چھوڑنے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔
کوہاٹ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے پاک فوج کی تنصیبات کو نقصان پہنچانے اور شہداء کے یادگار مسمار کرنے کی پرزور مزمت کی اور ان واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کی ضرورت پرزور دیا۔
بشیر احمد نے کہا کہ ملکی اداروں کو نقصان پہنچانے والی جماعت کے ساتھ چلنا مشکل اور ملک کے ساتھ غداری ہے لہذا ان وجوہات کی بناء پر تحریک انصاف سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔

تحریک انصاف کے مزید 146 رہنماؤں کے نام نوفلائی لسٹ میں شامل

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے مزید 146 رہنماؤں کے نام نوفلائی لسٹ میں شامل کر دیئے۔
پروونشل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ ( پی این آئی ایل) میں ڈالے گئے پی ٹی آئی رہنماؤں کی تعداد 226 ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق تمام افراد کی لسٹیں ایئرپورٹس پرامیگریشن حکام کو فراہم کردی گئیں، پولیس، نیب اورمحکمہ اینٹی کرپشن کے مراسلوں پر نام لسٹ میں ڈالے گئے ہیں۔
نوفلائی لسٹ میں شامل افراد کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں ہو گی، مذکورہ افراد کو ایک دفعہ بیرون ملک جانے کیلئے بھی وزارت داخلہ کی اجازت لینا ہوگی۔
یاد رہے کہ چیئرمین تحریک اںصاف سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماوں کے نام گزشتہ روز نوفلائی لسٹ شامل کیے گئے تھے، نام پولیس کی سفارش پر 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ واقعات میں ملوث ہونے کے تناظر میں ڈالے گئے ہیں۔

مبینہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بنچ نے مبینہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کیخلاف آئینی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا، چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ حکومت کیسے سپریم کورٹ کے ججز کو اپنے مقاصد کیلئے منتخب کر سکتی ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری، ریاض حنیف راہی اور مقتدر شبیر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کا آغاز ہوتے ہی اٹارنی جنرل عثمان منصور روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے لارجر بنچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا۔
نو مئی کے سانحے کے بعد عدلیہ مخالف بیان بازی بند ہوگئی: چیف جسٹس
چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ حکومت کسی جج کو اپنی مرضی کے مطابق بنچ میں نہیں بٹھا سکتی، ہم نے سوال پوچھا تھا کہ 184 بی میں لکھا ہے کم از کم 5 ججز کا بنچ ہو، اگر آپ نے ہم سے مشورہ کیا ہوتا تو ہم آپ کو بتاتے، 9 مئی کے واقعے کا فائدہ یہ ہوا کہ جوڈیشری کے خلاف جو بیان بازی ہو رہی تھی وہ ختم ہوگئی۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے انتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں، ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں، عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے، حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی، حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو کوئی بہتر راستہ دکھاتے، آپ نے ضمانت اور فیملی کیسز کو بھی اس قانون سازی کا حصہ بنا دیا۔
حکومت کا بنچ پر اعتراض
دوران سماعت وفاقی حکومت نے بنچ میں چیف جسٹس کی شمولیت پر اعتراض اٹھا دیا، اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی توجہ شق 6 کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن کیلئے جج کی نامزدگی کا فورم چیف جسٹس پاکستان کا ہے، یہ ضروری نہیں کہ چیف جسٹس خود کو کمیشن میں نامزد کریں، نہ ہی چیف جسٹس وفاقی حکومت کی چوائس کے پابند ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے وفاقی حکومت کی ہدایات ہیں۔
حکومت کیسے سپریم کورٹ کے ججز کو اپنے مقاصد کیلئے منتخب کر سکتی ہے: جسٹس عمر عطا بندیال
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کیسے سپریم کورٹ کے ججز کو اپنے مقاصد کیلئے منتخب کر سکتی ہے، اٹارنی جنرل صاحب عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے، بہت ہوگیا ہے اٹارنی جنرل صاحب آپ بیٹھ جائیں، وفاقی حکومت سے گزارش کریں آئینی روایات کا احترام کریں، سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کا فورم صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے کی وضاحت دی جا سکتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت عدلیہ کے معاملات میں کوارٹرز کا خیال کرے، انکوائری کمیشن میں حکومت نے خود ججز تجویز کئے، اس سے پہلے 3 نوٹیفکیشن میں حکومت نے ججز تجویز کئے جنہیں بعد میں واپس لیا گیا۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایکٹ 2017ء کو چیلنج نہیں کیا گیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 1956ء ایکٹ آئین کے احترام کی بات کرتا ہے، اس نکتے پر بعد میں آئیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس نکتے پر ابھی تیار ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معذرت سے کہتا ہوں حکومت نے ججز کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ اختیارات سے متعلق قانون میں حکومت نے 5 ججز کا بنچ بنانے کا کہہ دیا، نئے قانون میں اپیل کیلئے 5 سے بھی بڑا بنچ بنانے کا کہہ دیا ، ہمارے پاس ججز کی تعداد کی کمی ہے، حکومت نے جلد بازی میں عدلیہ کے بارے میں قانون سازی کی، حکومت قانون ضرور بنائے لیکن مشاورت کرے، حکومت بتائے اس نے سپریم کورٹ کے حوالے سے قانون سازی کرتے ہوئے کس سے مشورہ کیا، ہم سے مشورہ کرتے تو ضرور مشورہ دیتے۔
حکومت مسائل حل کرے تو ہم بھی ریلیف دیں گے: چیف جسٹس
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان تمام امور کا حل ہو سکتا ہے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت مسائل حل کرے تو ہم بھی ریلیف دیں گے، سپریم کورٹ کے انتظامی امور میں پوچھے بغیر مداخلت ہوگی تو یہ ہوگا، ہمیں احساس ہے کہ آپ حکومت پاکستان کے وکیل ہیں، تمام اداروں کو مکمل احترام ملنا چاہیے، آئین اختیارات تقسیم کی بات کرتا ہے، عدلیہ وفاقی حکومت کا حصہ نہیں، ہم انا کی نہیں آئین کی بات کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہر بات کھل کر قانون میں نہیں دی گئی ہوتی، آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے، آرٹیکل 175 کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے عدلیہ میں تقسیم کی کوشش نہیں کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے اگر نہیں کی تو بھی ایسا ہوا ضرور، فل کورٹ کی استدعا خود عدلیہ اصلاحات بل کے خلاف ہے، اٹارنی جنرل نفیس آدمی ہیں، آپ کا اور حکومت کا احترام کرتے ہیں، اب شدت سے سب کو احساس ہو رہا ہے کہ اداروں کا احترام ضروری ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدلیہ اصلاحات بل کس کے مشورے سے لایا گیا؟، حکومت نے فیملی سمیت ہر مقدمہ ہی کمیٹی کو بھجوا دیا تھا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی تھی۔
اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے پر صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیا، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی حاضر سروس جج کو کمیشن میں تعینات کرنے سے پہلے چیف جسٹس کی مشاورت ضروری ہے، کسی پرائیویٹ شخص کو بھی کمیشن میں لگانے سے پہلے مشاورت ضروری ہے کیونکہ اس نے جوڈیشل کارروائی کرنی ہوتی ہے۔
حکومت تسلیم کرے ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپ کئے: وکیل شعیب شاہین
وکیل شعیب شاہین نے مزید کہا کہ فون ٹیپنگ بذات خود غیر آئینی عمل ہے، انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کئے، حکومت تاثر دے رہی ہے کہ فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے، حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی اصول طے کئے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، اس کا تعین کون کرے گا؟۔
شعیب شاہین نے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے، جوڈیشل کونسل کا اختیار انکوائری کمیشن کو دے دیا گیا۔
ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ غیر قانونی عمل ہے: جسٹس منیب اختر
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ غیر قانونی عمل ہے، آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے، اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے، حکومت آڈیو لیکس کو قانونی قرار دے رہی ہے، عدالتی فیصلوں کی موجودگی میں حکومتی موقف کی کیا اہمیت ہے؟، حکومت کے مطابق آڈیوز درست ہیں تو کمیشن بنانے کا کیا مقصد ہے؟۔
وکیل شعیب شاہین نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ قرار دے چکی ہے کہ تصدیق کے بغیر آڈیوز، ویڈیوز نشر نہیں کی جا سکتیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، ہائی کورٹ نے جاسوسی پر مبنی مواد بھی نشر کرنے سے روک رکھا ہے، آڈیوز کی تصدیق کا کسی کو خیال ہی نہیں، آڈیو لیک ہوتی ہے، میڈیا نشر اور وزراء پریس کانفرنس کرتے ہیں۔
وکیل نے کہا کہ کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کہ پاس جو مواد ہے وہ جمع کروا سکتا ہے، کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے کہا کمیشن کا قیام آرٹیکل 209 کی بھی خلاف ورزی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ افتخار چودھری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی ہے۔
وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے: جسٹس منیب
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 209 ایگزیکٹو کو اجازت دیتا ہے کہ صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتی ہے، بظاہر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کے خلاف مواد اکٹھا کر کے مس کنڈیکٹ کیا ہے، وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے انکوائری کمیشن نے ہر کام جلدی کیا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ججز اپنی مرضی سے کیسے کمیشن کا حصہ بن سکتے ہیں، اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کے خلاف بھی چیف جسٹس کی اجازت سے جوڈیشل کونسل کے علاوہ کسی دوسرے فورم پر جا سکتے ہیں، میٹھے الفاظ استعمال کر کے کور دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بظاہر اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے، جب یہ آڈیو چلائی جا رہی تھی، کیا حکومت یا پیمرا نے اس کو روکنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔
وکیل شعیب شاہین نے بتایا کہ پیمرا نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی، حکومت نے بھی پیمرا سے کوئی باز پرس نہیں کی، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پیمرا کی حد تک عدالت سے متفق ہوں۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مختصر عبوری حکم جاری کیا جائے گا۔

شاہین آفریدی ٹی 20 بلاسٹ میں بھرپور پرفارمنس کیلئے پر امید

لندن: (ویب ڈیسک) پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی نے کہا ہے کہ ٹی 20 بلاسٹ میں بہت اچھے کھلاڑی ہیں بھرپور پرفارمنس دینے کیلئے پر امید ہوں۔
ناٹنگھم شائر آؤٹ لاز کی نمائندگی کرنے والے پاکستانی فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی وہ اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کریں۔
اس موقع پر ناٹنگھم شائر آؤٹ لاز کے کپتان سٹیون مولینی نے کہا کہ وہ بہت پرجوش ہیں کہ شاہین آفریدی ہمارا باؤلنگ اٹیک لیڈ کریں گے۔
ادھر نا ٹنگھم شائر آؤٹ لاز کے کوچ پیٹر مورز نے کہا کہ شاہین آفریدی کو یہاں دیکھ کر لگتا ہے ہماری کرسمس ہوگئی ہے۔

نیشنل گیمز میں ایتھلیٹکس مقابلے آج سے ہونگے

کوئٹہ : (ویب ڈیسک) نیشنل گیمز کے سب سے بڑے مقابلے ایتھلیٹکس آج سے شروع ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق ایتھلیٹکس کا آغاز خواتین کی 10 کلومیٹر کی ریس سے ہوگا، 100، 400 اور 800 میٹر ریس میں کئی ایتھلیٹس ایکشن میں ہوں گے۔
مینز اور ویمنز کے شاٹ پٹ اور پال والٹ مقابلے بھی آج ہوں گے۔
نیشنل گیمز میں اب تک پاکستان آرمی 95 گولڈ میڈلز اور 180 مجموعی تمغوں کے ساتھ پہلے نمبر پر براجمان ہے۔
دوسری جانب نیشنل گیمز میں میزبان صوبے بلوچستان نے اپنا پہلا گولڈ میڈل کراٹے میں حاصل کرلیا ہے۔

گیرو ڈی اٹالیہ : فلپو زانا نے سائیکل ریس کا اٹھارواں مرحلہ جیت لیا

روم : (ویب ڈیسک) اٹلی کے سائیکلسٹ فلپو زانا نے گیرو ڈی اٹالیہ سائیکل ریس کا اٹھارواں مرحلہ جیت لیا۔
اٹلی میں گیرو ڈی اٹالیہ کا 106 واں ایڈیشن جاری ہے جس میں سائیکلنگ کی دنیا کے نامور سائیکل سوار ٹائٹل کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔
گیرو ڈی اٹالیہ سائیکل ریس کے 18ویں مرحلے میں سائیکل سواروں نے اوڈرزو سے زولڈو آلٹو تک کا فیصلہ طے کرنا تھا جو پہاڑی علاقے میں 161کلو میٹر پر محیط تھا، 24 سالہ میزبان سائیکلسٹ فلپو زانا نے عمدہ سائیکلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانسیسی سائیکلسٹ تھیباٹ پنوٹ کو شکست دے کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
18ویں مرحلہ کے فاتح سائیکلسٹ نے مطلوبہ 161کلومیٹر کا فاصلہ 4 گھنٹے 25منٹ اور 12 سیکنڈز میں طے کیا۔
ریس میں فرانس کے سائیکلسٹ تھیباٹ پنوٹ نے دوسری پوزیشن جبکہ فرانس کے ہی سائیکل سوار وارن بارگوئل نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔
گیرو ڈی اٹالیہ ایک گرینڈ ٹور سائیکلنگ سٹیج ریس ہے جو تین ہفتوں میں مکمل ہوگی جس میں دنیا کے نامور سائیکلسٹ شریک ہیں۔
گیرو ڈی اٹالیہ سائیکل ریس 21 مرحلوں پر محیط ہے جس میں سائیکل سوار 3448 کلو میٹر کا سفر طے کریں گے۔

انگلش پریمیئر لیگ : مانچسٹر یونائیٹڈ نے چیلسی کو شکست دے دی

مانچسٹر : (ویب ڈیسک) انگلش پریمیئر لیگ میں مانچسٹر یونائیٹڈ نے چیلسی کو باآسانی ایک کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے دی ۔
اولڈ ٹریفورڈ ، مانچسٹرمیں کھیلے گئے میچ میں مانچسٹر یونائیٹڈ اور چیلسی کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں جس میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی ٹیم آغاز سے ہی چیلسی پر حاوی ہوگئی ، میچ کے چھٹے منٹ میں کیسمیرو نے ایک گول کر کے اپنی ٹیم کو چیلسی پر 0-1 گول کی سبقت دلادی۔
پہلا ہاف ختم ہونے سے چند سیکنڈز قبل انتھونی مارشل نے بھی ایک گول کردیا اورٹیم کی برتری کو دوگنا کر دیا ، یوں میچ کے پہلے ہاف پر مانچسٹر یونائیٹڈ کو چیلسی کے خلاف 0-2 گول کی برتری حاصل تھی۔
دوسرے ہاف میں بھی مانچسٹر یونائیٹڈ کی ٹیم نے اپنی پوزیشن کو برقرار رکھا ، برونو فرنینڈزنے 73 ویں منٹ میں ایک گول کر کے مقابلہ 0-3 کردیا جس کو بڑھاتے ہوئے مارکس راشفورڈ نے 78 ویں منٹ میں ایک گول کر کے 0-4 کر دیا۔
چیلسی کی طرف سے واحد گول میچ کے اختتامی لمحات میں جواؤ فیلکس نے سکور کیا ، یوں یہ میچ مانچسٹر یونائیٹڈ نے چیلسی کی ٹیم سے ایک کے مقابلے میں چار گول سے جیت لیا۔
میچ میں کیسمیرو،انتھونی مارشل،برونو فرنینڈز اور مارکس راشفورڈنے ایک ایک گول سکور کر کے اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
اس فتح کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ کی ٹیم کی ای پی ایل ٹیبل پر پوائنٹس کی تعداد 72 ہوگئی ہے اور وہ تیسرے نمبر پربرقرار ہے۔

بھارت : نیشنل پارک میں نایاب نسل کے چیتے کے بچے ہلاک

نیو دہلی : (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے نیشنل پارک میں نایاب نسل کے چیتے کے دو بچے ہلاک ہوگئے جبکہ تیسرے بچے کی حالت تشویش ناک ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے نیشنل پارک میں منگل کے روز بھی اسی نسل کا ایک بچہ ہلاک ہوگیا تھا۔
بھارت میں 70 سال سے زائد عرصے میں پہلی باراس نایاب نسل کے چیتے کے بچے پیدا ہوئے تھے۔
گزشتہ برس جنوبی افریقا کے ملک نمیبیا سے نایاب نسل کی مادہ چیتا کو بھارت منتقل کیا گیا تھا جس نے مارچ میں تین بچوں کو جنم دیا تھا۔
اس حوالے سے نیشنل پارک کے حکام کا کہنا تھا کہ جنم دینے کےبعد ماں اورتین بچوں کو نگرانی میں رکھا گیا تھا لیکن پارک میں درجہ حرارت تقریباً 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا اور بچوں کی حالت معمول کے مطابق نہیں لگ رہی تھی ۔
نیشنل پارک حکام کاکہنا تھا کہ یہ بچے کمزور، کم وزن اور پانی کی کمی کے شکار تھے، حکام کی جانب سے بچوں کو بچانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے باوجود 25 مئی کو 2 بچوں کی موت ہوگئی جبکہ تیسرے بچے کی حالت تشویش ناک ہے اور اس کا علاج کیا جارہاہے۔
1952 میں بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر چیتے کو معدوم قراردیا تھا، جس کے بعد گزشتہ سال معدوم ہونے والے جانوروں کو واپس لانے کی کوششیں کی گئی تھیں۔
ملک میں نایاب چیتے کو لانے کے اس اقدام کا عوام اور جنگلی حیات کے ماہرین نے خیر مقدم کیا تھا لیکن کچھ ماہرین نے ممکنہ خطرات سے متعلق خبردار بھی کیا تھا۔
ستمبر 2022 میں 8 چیتوں کو نمیبیا سے بھارت لایا گیا تھا جبکہ فروری 2023 میں جنوبی افریقا سے 12 چیتے بھارت لائے گئے ، ان میں سے 3 چیتے گزشتہ دو ماہ میں مر چکے ہیں، حال ہی میں مزید 3 بچوں کی موت کے بعد یہ تعداد 6 ہوگئی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں بھارتی سپریم کورٹ نے چیتوں کی اموات پر اظہارتشویش کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ وہ جانوروں کو کسی متبادل جگہ پر منتقل کرنے پر غور کریں۔