بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما کو ممبئی ایکسپریس وے پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 3 چالان ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کپتان کو ٹریفک پولیس نے تیز رفتاری کے باعث ممبئی پونے ہائی ووے پر 3 چالان کیے، روہت شرما بنگلادیش کے خلاف میچ کیلئے پونے جارہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق روہت شرما لیمبوروگینی 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے گاڑی چلارہے تھے، جس کے نیتجے میں انہیں جرمانے کیے گئے۔
محکمہ ٹریفک کے ایک رکن نے ورلڈکپ کے دوران بھارتی کپتان کی مصروف شاہراہ پر خطرناک ڈرائیونگ پر تشویش کا اظہار کیا اور سفارش کی کہ وہ ٹیم بس میں سفر کریں۔
واضح رہے کہ بھارت اور بنگلادیش کے درمیان آج ورلڈکپ کا 17واں میچ کھیلا جائے گا۔
ریاض / ٹوکیو: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جاپان کے وزیراعظم فومیو کشیدا کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان فلسطین میں فوجی کارروائی کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور کشیدگی کم کرنے کی تمام کوششوں کو بروئے کار لانے پر اتفاق کیا گیا۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنانے کو گھناؤنا جرم سمجھتا ہے، اسرائیل کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ حملے کیے جا رہے ہیں، غزہ کے مکینوں کو تحفظ فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے، خطے کے امن اور سلامتی کو لاحق خطرات سے بچانے کے لئے فوجی کارروائیوں کو روکنا ہوگا۔
یاد رہے کہ منگل کی رات غزہ کے الاھلی سپتال پر اسرائیلی حملے میں 500 سے زائد فلسطینی جبکہ غزہ میں اب تک گیارہ دنوں میں مجموعی طور پر 3 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمیں 1990 اور 2017 کا پاکستان نہیں چاہیئے بلکہ ہمیں 2023 کے مطابق جدید تقاضوں پر پاکستان کو چلانا ہوگا، جس کے لیے ہمیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے نہ میرا، نہ تیرا بلکہ ہم سب کا پاکستان کے تحت چلانا ہوگا، جب تک آپس میں لڑتے رہیں گے، ملک ترقی نہیں کر سکتا، آئین توڑنے اور ملکی اداروں پر حملہ کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیئے۔
کراچی میں پیپلزپارٹی کا سانحہ کار ساز کے شہداء کی یاد میں تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا، کارساز تعزیتی جلسہ فلسطین کے نام سے منسوب کردیا گیا۔
سانحہ کارساز سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ آج شہداء کو یاد کرنے کا دن ہے، آج کا دن فلسطین سے یکجہتی کے طور پر بھی منارہے ہیں، فلسطینیوں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج کا دن محترمہ کی واپسی کا تاریخی دن تھا، سانحہ کار ساز کو 16 سال گزر چکے ہیں، سانحہ کار ساز کے شہداء کو یاد کرنے کے لیے آج ہم سب یہاں جمع ہیں، بے نظیر بھٹو اپنے عوام کو آزادی دلانے آئی تھیں، عوام نے بی بی کا پرجوش استقبال کرکے دہشت گردی کو مسترد کردیا تھا، بزدل دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے میں حملہ کیا، بزدل دہشت گردوں کے حملے سے 200 جیالے شہید ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کے جیالوں نے نظریے اور منشور کی خاطر شہادت قبول کی، پیپلزپارٹی جیسے بہادر جیالے کسی اور جماعت میں نہیں ہیں، آج فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بھی ہم باہر نکلے ہیں، فلسطینی بہن بھائیوں کو بتانا چاہتا ہوں پاکستان کے عوام ساتھ کھڑے ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام آج بھی اکیلے نہیں اور کل بھی اکیلے نہیں ہوں گے، جب تک پاکستان کے عوام ہیں فلسطینی عوام کبھی اکیلے نہیں ہوں گے، نگراں وزیراعظم صرف ہمارے نہیں فسلطین کے بھی نمائندے ہیں، نگراں وزیراعظم کو فلسطین کے عوام کے لیے آواز اٹھانی پڑے گی، یاسرعرفات نے ضیاءالحق سے وعدہ لیا تھا کہ قائد عوام کو پھانسی نہیں دیں گے، ضیاء الحق وعدے سے مکر گیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ آج ہمارے ملک کو قومی اتحاد کی ضرورت ہے، نفرت، تقسیم اور گالی کی سیاست کو چھوڑنا ہوگا، پرانی سیاست اور روایات کو چھوڑنا پڑے گا، آج کے پاکستان کو نئی سوچ اور نئی قیادت کی ضرورت ہے، ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ماضی میں نہ پھنسی ہوئی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں 1990 اور 2017 کا پاکستان نہیں چاہیئے بلکہ ہمیں 2023 کے جدید تقاضوں کے مطابق پاکستان کو چلانا ہوگا، جس کے لیے ہمیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے فلسفے نہ میرا، نہ تیرا بلکہ ہم سب کا پاکستان کے تحت چلانا ہوگا۔
سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے، مشعیت تاریخی بحران سے گزر رہی ہے، سلیکشن نے ہمارے ملک کی جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے، ماضی میں قصور جس کا بھی ہو، آج مسائل کا حل نکالنا پڑے گا، ماضی میں قصور جس کا بھی ہو، ہمیں الیکشن کرانے پڑیں گے، مسائل حل ہوسکتے ہیں، جمہوریت اور اٹھارویں ترمیم بحال ہوسکتی ہے۔
بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ جمہوری سیاست کو بحال اور انا کی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا، عوام پر بھروسہ کرنا پڑے گا، عوام اس ملک کے وارث ہیں، صرف عوام کو حق حاصل ہے کہ مستقبل کے فیصلے کریں، تقسیم اور مخالف کی سیاست کو ختم کرنا پڑے گا، جمہوریت اور مفاہمت کی سیاست سے استحکام پیدا ہوگا، سیاسی استحکام کے ساتھ معیشت کو عوام کے لیے چلانا پڑے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں ہمیشہ غریب عوام کو فائدہ ہوا ہے، غریب عوام کو فائدہ پہنچنے سے معیشت مضبوط ہوتی ہے، بے نظیر بھٹو کا پاکستان جاگیرداروں کا نہیں مزدوروں کا پاکستان ہے، آج بھی کسانوں کو پاکستان پیپلزپارٹی سے امید ہے، آج بھی نوجوانوں کی امید پاکستان پیپلزپارٹی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں کوامید ہے کہ روزگار پیپلزپارٹی دلائے گی، ثابت کیا غریبوں کی جماعت آج بھی پیپلزپارٹی ہے اور کل بھی پیپلزپارٹی ہوگی،آج بھی عوامی خدمت میں سب سے آگے پیپلزپارٹی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے مخالفین کے تمام جھوٹوں کو منہ توڑ جواب دیا، سندھ میں جدید اسپتال بنائے اور تھر کے نوجوانوں کو روزگار دیا، ایسے منصوبے بنائے جس سے تھر کے مقامی لوگوں کو فائدہ ہو، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کوئی ایک منصوبہ بتائیں جو تھرکول کا مقابلہ کرے، ہم تھر میں ایسے کارنامے کرسکتے ہیں تو ملک کے کونےکونے میں بھی کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے ملک میں سی پیک کی بنیاد رکھی تھی، آصف زرداری پر تنقید کرتے تھے کہ چین کے دورے کیوں کرتے ہیں، جو زرداری پر تنقید کرتے تھے آج سی پیک کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف چاہتے ہیں، ہمیں آپ کی پرانی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، پکڑ دھکڑ، الزامات اور گالم گلوچ کی سیاست کو چھوڑنا ہوگا، جب تک آپس میں لڑتے رہیں گے، ملک ترقی نہیں کرسکتا، آئین توڑنے اور ملکی اداروں پر حملہ کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیئے، ایک شخص کی واپسی کے لیے انتخابات، جمہوریت اور آئین کو روکا گیا۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سازش کے تحت نواز شریف کو اقتدار سے نکالا گیا، ملک میں انتقامی سیاست کی بنیاد رکھی گئی، ن لیگ نے پاکستان کو پہلے بھی سرخرو کیا، اب بھی کرے گا، نواز شریف کی واپسی کے بعد پاکستان کو وہیں لے جائیں گے جہاں 2017 میں تھا، ملک میں 20،20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نواز شریف نے ختم کی۔
ملتان میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نواز شریف کے آنے پر ترقی کا سفر وہیں سے شروع ہوگا جہاں رکا تھا، 21 اکتوبر کو نوازشریف واپس آرہے ہیں، ان کا وطن واپسی پر بھرپور استقبال کیا جائے گا، 21 اکتوبر کو دوبارہ ترقی اور خوشحالی کا آغاز ہوگا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نوازشریف ملک کو 2017 کے ٹریک پر لے کر جائیں گے، نواز شریف نے سازشوں کے باوجود ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا، انہوں نے پاکستان کو پہلے بھی بحرانوں سے نکالا، نوازشریف کو جلا وطن کیا گیا، نوازشریف نے ملک سے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کو ختم کیا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے جانے سے ملکی حالات دن بدن خراب ہوتے چلے گئے نوازشریف کو نکالنے کے بعد ملک کی معیشت تباہ ہوگئی، نوازشریف کے خلاف پہلے بھی سازش کی گئی تھی، پوری دنیا پاکستان حکومت کی مخالف ہوگئی تھی، نوازشریف کو نکال کر ملک کو بحرانوں میں ڈالا گیا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے ایٹمی دھماکے نہ کرنے پر 5 ارب ڈالر کی لالچ دی، نوازشریف نے تمام آفرز کو ٹھکراتے ہوئے اٹیمی دھماکے کیے، 1998میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے، ملک میں انتقامی سیاست کی بنیاد رکھی گئی۔
سابق وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مریم نواز نے پارٹی ونگ کو متحرک کیا ہے، جنوبی پنجاب میں ن لیگ ہر سطح پر موجود ہے۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ کل اسرائیل نے فلسطین میں بمباری کر کے پورا اسپتال تباہ کردیا، امریکا اور یورپ اسرائیل کی حمایت کررہا ہے کسی نے مذمت نہیں کی۔
اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ شفاف انتخابات اہم قومی ذمہ داری ہے لہذا نگران حکومت بھرپور کردار ادا کرے۔
تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں سے متعلق کوٹٹہ سیکٹریٹ میں اہم اجلاس ہوا۔ جس میں چاروں ممبران سمیت سیکریٹری الیکشن کمیشن نے شرکت کی جبکہ صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت دیگر حکام بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ انتخابات کے غیر جانبدارانہ اور پرامن انعقاد کے لئے تمام تر وسائل بروے کار لائے جائیں، صاف وشفاف انتخابات اہم قومی ذمہ داری ہے نگران حکومت بھرپور کردار ادا کرے الیکشن کمیشن مکمل معاونت فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے عمل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، پولنگ کے عمل میں سیاسی وابستگی سے بالا تر عملے کی تعیناتی کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے اور افسران کی تبادلے مکمل طور پر میرٹ پر کئے جائیں اور اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی سیاسی دبائو خاطر میں نہ لایا جائے۔
اجلاس میں صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان نے عام انتخابات کی تیاریوں سے متعلق انتظامات پر حکام کو آگاہ کیا جبکہ چیف سیکریٹری بلوچستان نے بھی الیکشن کی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
صوبائی الیکشن کمشنر نے بتایا کہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر 52 لاکھ 84 ہزار 594 ووٹرز رجسڑڈ ہیں، صوبے میں 5067 ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے جائیں گے جن میں سے 2038 کو انتہائی حساس اور 2068 کو حساس قرار دیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے اس موقع پر ہدایت کی کہ انتخابات سے قبل ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز اپنے اضلاع کے تمام مجوزہ پولنگ اسٹیشنز کا فوری طور پر دورہ کریں۔
اجلاس کے شرکا کو آئی جی بلوچستان نے بتایا کہ صوبائی بیوروکریسی میں 100 فیصد ٹرانسفر پوسٹنگ پر عمل درآمد کیا جارہا ہے، کوئیک رسپانس فورس بھی کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی صورت میں الرٹ ہوگی، بلوچستان پولیس کی جانب سے سیکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ الیکشن کو پرامن بنانے کیلئے سینٹرلائزڈ کنٹرول روم بھی قائم کیا جائے گا۔
غزہ کی صورتِ حال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سر جوڑ کر بیٹھ گئی، منگل کو ہوئے او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی بربریت روکنے کے لائحہ عمل پر غور ہوا۔
اجلاس میں ایران نے غزہ اسپتال پر حملے کے بعد مسلم ممالک سے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی اپیل کردی۔
ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے ارکان کو اسرائیل پر تیل کی بندش سمیت دیگر پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام اسرائیلی سفیروں کو ملک بدر کردینا چاہیے۔
پاکستان کے نگراں وزیرِ خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اسرائیل فلسطین جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے غزہ میں تیز رفتار، محفوظ اور غیر محدود انسانی اور امدادی سامان کی فراہمی کے لیے انسانی ہمدردی کی راہداریوں کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے او آئی سی وزارتی اجلاس میں شرکت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ حالیہ تصادم کی بنیادی وجہ دو ریاستی حل پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔
انہوں نے فلسطینی عوام اور ان کے حق خود ارادیت کے لیے پاکستان کی یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت قرار دیتے ہوئے فلسطین کی ایک قابل عمل، محفوظ، متصل اور خودمختار ریاست کے جلد قیام پر زور دیا۔
ترکیہ کے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ترکیہ امن مذکرات کرانے کے لیے تیار ہے۔ 1967 کی سرحدوں کے مطابق دو ریاستی حل سے لڑائی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہے۔
فلسطینی وزیرداخلہ ریاض المالکی نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کی قتل و غارت گری سے انسانیت لرز اٹھی ہے، اسپتال پر حملہ اور خواتین وبچوں کا قتل جانا بوجھا جرم ہے۔
ریاض المالکی نے کہا کہ جو اسرائیل کو سپورٹ کرتے ہیں وہ سب ذمہ دار ہیں، ان لوگوں کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب مسئلہ فلسطین کا پرامن اور منصفانہ حل چاہتا ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ فلسطین میں انسانیت سوز جارحیت جاری ہے، اسرائیلی فورسز فلسطینیوں پر بدترین مظالم کر رہی ہیں، غزہ کی سنگین صورتحال سے دوچار ہے، غزہ میں فوری جنگ بندی کا اعلان کیا جائے اور غزہ کا محاصرہ ختم کرکے ان کے لئے امداد فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔
اجلاس کے اختتام پر ایگزیکٹو کمیٹی نے غزہ کی صورتِ حال پر امت مسلمہ کے اجتماعی مؤقف کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا۔
اسرائیل نے غزہ میں اسپتال پر بمباری کردی، جس کے نتیجے میں 500 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، ردعمل میں ترکی کے شہر استنبول میں مظاہرین نے اسرائیلی قونصل خانے کو آگ لگا دی ہے، اسرائیل پہنچنے وللے امریکی صدر نے واضح کردیا کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن یکجہتی کے لیے اسرائیل پہنچ گئے, غزہ کے اسپتال میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ بھی شہدا میں شامل ہے، اسپتال میں بے گھر ہونے والے فلسطینوں نے پناہ لے رکھی تھی۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے تل ابیب میں ملاقات کے دوران کہا کہ حماس نے اکتیس امریکیوں سمیت تیرہ سو افراد کا قتل عام کیا، خواتین اور بچوں کو یرغمال بنائے رکھا، اسرائیل نے حماس کے جواب میں ردعمل کا اظہار کیا۔
امریکی صدر کے مطابق حماس نے اپنے لوگوں کے لیے پریشانی پیدا کی، غزہ کے اسپتال میں دھماکے پر افسوس کا اظہار، بولے، حملہ اسرائیل کی نہیں بلکہ کسی اور کی کارروائی لگتا ہے، حملے کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
حملے کے بعد اسرائیل نے اسپتال میں ہونے والی تباہی اور اموات کا ذمہ دار فلسطینی تنظیموں کو قرار دیتے ہوئے بمباری سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے احتجاجا امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات منسوخ کر دی ہے۔
اسلام آباد: نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے بیجنگ میں منعقدہ تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کی جہاں انہوں نے چینی ہم منصب، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، قزاقستان اور سری لنکن صدر سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ دورۂ چین پر ہیں، نگران وزیراعظم کی چینی ہم منصب پریمئیر لی چیانگ (Li Qiang) سے تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے موقع پر آج بیجنگ میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں نگران وفاقی کابینہ کے ارکان اور سرکاری افسران بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ موجود تھے۔
دونوں رہنماؤں نے مضبوط اور دیرینہ پاک چین تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے سیاسی، اقتصادی، شعبہ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، تقافتی اور عوام کے آپسی تعلقات کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم نے چینی قیادت کو تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم (BRF) کے شاندار انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ مواصلاتی روابط اور مشترکہ خوشحالی کی بدولت پوری دنیا کیلئے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں پاک چین تعاون اور معاشی روابط کے فروغ کی استعداد پر گفتگو کی۔نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی پاکستان کی معیشت کیلئے اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک اپنی تعمیر کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جس میں صنعتی ترقی، روزگار کی فراہمی کے منصوبے، معدنیات، آئی ٹی اور زراعت کی ترقی شامل ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کے خصوصی سرمایہ کاری زونز (SEZs) میں چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ اور صنعتی استعداد بڑھے گی۔
وزیرِ اعظم لی چیانگ نے پاک چین تعلقات کے فروغ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیراتی و ترقی کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کی قیادت کی ہم آہنگی دونوں ممالک کے مابین تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دے گی۔
دونوں وزرائے اعظم، چین اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوئے۔ ان شعبوں میں کامرس، مواصلات (جس میں ML1 کا منصوبہ بھی شامل ہے)، غذائی تحفظ و تحقیق، میڈیا تبادلے، خلائی تعاون، پائیدار شہری ترقی، صنعتی تعاون، افرادی قوت کی استعداد میں اضافے، شعبہ معدنیات کی ترقی، موسمیاتی تبدیلی اور ویکسین بنانے کے شعبے شامل ہیں۔
انتونیو گوتریس سے ملاقات
قبل ازیں وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات بھی ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے عالمی و علاقائی امور پر گفتگو کی۔
وزیراعظم نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا گزشتہ برس سیلاب میں پاکستان کے دورے اور متاثرین کی مدد و بحالی کے عمل میں خصوصی دلچسپی پر شکریہ ادا کیا۔ وزیرِ اعظم نے سیکٹری جنرل کی موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کے لیے اقدامات اور اس اہم چیلنج پر دنیا بھر میں آگاہی کے لیے اقدامات پر بھی خراج تحسین پیش کیا۔
قزاقستان کے صدر سے ملاقات
اسی طرح، وزیرِ اعظم کی قزاقستان کے صدر قاسم جورمات توقایف سے بھی ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے مابین روابط، باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں پاکستان قزاقستان کے مابین تجارت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے فروغ پر بھی گفتگو ہوئی۔
سری لنکا کے صدر سے ملاقات
وزیرِ اعظم نے تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شریک سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات پر بات ہوئی۔
سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی تعمیر نو کیلئے پاکستان اور جاپان کے درمیان 5.3 ملین ڈالر گرانٹ کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔
گرانٹ صوبہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات کیلئے خرچ ہوگی، گرانٹ سندھ میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے گی۔
گرانٹ کی رقم 6 اضلاع میں مکمل طور پر تباہ شدہ سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر نو کیلئے خرچ کی جائے گی، معاہدے پر سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن اور جاپانی سفیر نے دستخط کیے۔
غزہ میں اسپتال پر اسرائیلی بمباری کے باعث فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات سے انکار کر دیا ، جس کے بعد اردن میں ہونیوالا اجلاس منسوخ کر دیا گیا۔
اردن میں فلسطین کے معاملے پر 4 ملکی سربراہ اجلاس میں اردنی شاہ عبداللہ دوم ، فلسطینی صدر محمود عباس، امریکی صدر جوبائیڈن اور مصری صدر نے شرکت کرنا تھی تاہم غزہ کے اسپتال پر وحشیانہ اسرائیلی حملے میں 800 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر سے ملاقات سے انکار کیا، جس کے بعد صدر جوبائیڈن نے بھی اردن کا دورہ منسوخ کردیا۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن صدافی نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے ساتھ چار ملکی اجلاس تب ہی منعقد کیا جائے گا جب غزہ میں اسرائیل کی جانب سے قتل عام کا سلسلہ روکا جائے گا۔