All posts by Khabrain News

12 ہزار 96 مبینہ جعلی پاسپورٹس ایجنٹس نے حکام کی ملی بھگت سے تیار کروائے

جعلی پاسپورٹس کی تحقیقات میں اہم انکشاف سامنے آئے ہیں، ایجنٹس نے حکام کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر جعلی پاسپورٹس تیارکروائے، جس پر مشکوک غیرملکی افغان شہریوں نے سعودی عرب سفرکیا تھا۔

مذکورہ معاملے پر وزارت داخلہ کی پانچ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔ کمیٹی کے ذرائع نے بتایا کہ ایجنٹس نے حکام کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر جعلی پاسپورٹس تیارکروائے، جس کے لیے فرضی وجعلی ڈیٹا پر شناختی کارڈ بنوائے گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ فرضی و جعلی ڈیٹا پر بنے شناختی کارڈ کے ذریعے پاسپورٹس کو پراسس کیا گیا، مبینہ جعلی پاسپورٹس پرمختلف ٹریول ایجنٹس کے ذریعے ویزے لگوائے گئے۔

مزید بتایا کہ بارہ ہزار 96 مبینہ جعلی پاسپورٹس پرمشکوک غیرملکی افغان شہریوں نے سعودی عرب سفرکیا اور سعودی عرب نے پاسپورٹس ریاض میں پاکستانی حکام کے حوالے کیے تھے۔

سپریم کورٹ نے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دے دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔

جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک  لارجر بینچ میں شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے سویلنیز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستیں منظور کر لیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سنا دیا۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، درخواست گزار کے وکیل خواجہ احمد حسین اور سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ کچھ نئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آخری آرڈر کے مطابق اٹارنی جنرل کے دلائل چل رہے تھے، اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہو جائیں پھر کیس چلانے کا طریقے کار دیکھیں گے۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل اس کیس کے فیصلے سے پہلے ہی شروع کر دیا گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو دلائل مکمل کرنے دیں پھر سب کو سنیں گے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کے دلائل

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا ایک سے ڈیرھ گھنٹہ لوں گا، عدالت کو آگاہ کروں گا کہ2015ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں کیوں بنائی تھیں،  یہ بھی بتاؤں گا کہ اس وقت فوجی عدالتوں کے لیے آئینی ترمیم کیوں ضروری نہیں، دلائل کے دوران عدالتی سوالات کے جوابات بھی دوں گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ماضی کی فوجی عدالتوں میں جن کا ٹرائل ہوا وہ کون تھے؟ کیا 2015ء کے ملزمان عام شہری تھے، غیر ملکی یا دہشت گرد؟

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بتایا کہ ملزمان میں ملکی و غیرملکی دونوں ہی شامل تھے، سال 2015ء میں جن کا ٹرائل ہوا ان میں دہشت گردوں کے سہولتکار بھی شامل تھے، ملزمان کا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی کے تحت ٹرائل کیا جائے گا، سوال پوچھا گیا تھا کہ ملزمان پر چارج کیسے فریم ہو گا؟ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں فوجداری مقدمے کے تمام تقاضے پورے ہوں گے، 9 مئی کے ملزمان کا ٹرائل فوجداری عدالت کی طرز پر ہو گا، فیصلے میں وجوہات دی جائیں گی اور شہادتیں بھی ریکارڈ ہوں گی، آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل کے تمام تقاضے پورے ہوں گے، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں بھی کی جاسکیں گی، 21 ویں آئینی ترمیم اس لیے کی گئی تھی کہ دہشت گرد آرمی ایکٹ کے دائرے میں نہیں تھے، دہشت گردوں کے فوجی ٹرائل کے لیے 21ویں آئینی ترمیم کی گئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ دہشت گردوں کے ٹرائل کے لیے ترمیم ضروری تھی تو سویلینز کے لیے کیوں نہیں؟ کیا 21ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی ملزمان نے فوج یا تنصیبات پر حملہ کیا تھا؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ 21ویں ترمیم میں ممنوع علاقوں میں حملے والوں کے فوجی ٹرائل کی شق شامل کی گئی تھی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ جو ٹرائل فوجی افسران کو قابل قبول نہیں تھا وہ دوسروں کا کیسے کیا گیا؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی ترمیم کے کیس میں تعصب کا معاملہ ہی اٹھایا گیا تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن استفسار کیا کہ سویلینز آرمی ایکٹ کے دائرے میں کیسے آتے ہیں؟

جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ آئین کا آرٹیکل 8 کیا کہتا ہے اٹارنی جنرل صاحب؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرٹیکل 8 کے مطابق بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ افواج میں نظم و ضبط کے قیام کے لیے ہے، افواج میں نظم وضبط کے قانون کا اطلاق سویلینز پر کیسے ہو سکتا ہے؟ 21ویں ترمیم کا دفاع کیسے کیا جاسکتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ افواج کا نظم وضبط اندرونی، افواج کے فرائض ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا بیرونی معاملہ ہے، فوجی عدالتوں میں ہر ایسے شخص کا ٹرائل ہو سکتا جو اس کے زمرے میں آئے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جن قوانین کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ فوج کے ڈسپلن سے متعلق ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کی فراہمی پارلیمان کی مرضی پر چھوڑی جا سکتی ہے؟ آئین بنیادی حقوق کی فراہمی کو ہرقیمت پر یقینی بناتا ہے، شہریوں پر آرمی کے ڈسپلن اور بنیادی حقوق معطلی کے قوانین کیسے لاگو ہو سکتے؟ عدالت نے یہ دروازہ کھولا تو ٹریفک سگنل توڑنے والا بھی بنیادی حقوق سے محروم ہو جائے گا، کیا آئین کی یہ تشریح کریں کہ جب دل چاہے بنیادی حقوق معطل کر دیے جائیں؟

انتخابات کیس کی فوری سماعت ہونی چاہیے تھی، اب تک تو فیصلہ ہوچکا ہوتا، چیف جسٹس

 اسلام آباد: چیف جسٹس نے کہا ہے کہ انتخابات کیس کی فوری سماعت ہونی چاہیے تھی، اب تک تو فیصلہ ہوچکا ہوتا۔

سپریم کورٹ میں 90 روز میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

 

 

چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ آپ نے درخواست کب دائر کی اپنی استدعا پر آئیں۔

 

 

صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے کہا کہ درخواست میں استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن کو 90 روز میں انتخابات یقینی بنانے کا حکم دیا جائے، مشترکہ مفادات کونسل کا مردم شماری شائع کرنے کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے، ہم نے 16 اگست کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، درخواست پر نمبر لگ گیا،جلد کیس مقرر کرنے کی درخواست کے باوجود کیس نہیں سنا گیا۔

چیف جسٹس نے عابد زبیری سے کہا کہ مجھے ابھی آفس کی طرف سے ایک نوٹ بھیجا گیا ہے، اس میں تو لکھا ہے آپ نے کبھی کیس کی جلد سماعت کی درخواست ہی دائر نہیں کی، آپ صدر سپریم کورٹ بار ہو کر عدالت سے غلط بیانی کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عام انتخابات سے متعلق درخواست تو انتہائی اہمیت کا حامل مقدمہ ہے، عام انتخابات کیس تو بہت اہم مقدمہ ہے فوری سماعت ہونی چاہیئے تھی، اب تک تو اس کیس کا فیصلہ ہو چکا ہوتا۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پوچھا کہ کیا مردم شماری کا تعلق الیکشن کے انعقاد سے ہوتا ہے؟ اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ کیا یہ آئینی ضرورت ہے کہ ہر الیکشن سے قبل مردم شماری لازمی ہوگی؟۔

عابد زبیری نے جواب دیا کہ نہیں یہ لازم نہیں ہے، گزشتہ مردم شماری 2017 میں ہوئی تھی، پانچ اگست کو مشترکہ مفادات کونسل نے مردم شماری جاری کرنے کی منظوری دی، سات اگست کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس میں تو لکھا تھا وہ عبوری مردم شماری ہوگی، 2017 کی مردم شماری تو عبوری تھی اور صرف 2018 کے الیکشن کے لیے تھی، کیا اس کے بعد کوئی حتمی مردم شماری بھی ہوئی؟ اگر موجودہ مردم شماری کو کالعدم قرار دے دیا جائے تو الیکشن 2017 کی مردم شماری کے تحت ہوں گے؟۔

چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں ایکسرسائز سائیکل فراہم

 راولپنڈی: عدالت کے حکم پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں ایکسرسائز سائیکل فراہم کردی گئی۔

خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سائفر گمشدگی کیس کی سماعت میں  چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں سائیکل فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ایکسرسائز سائیکل عدالت کے تحریری حکم کے ساتھ جیل حکام کے حوالے کی جائے گی۔

چیئرمین PTI پر فرد جرم ہائیکورٹ میں چیلنج کرینگے: عمر نیازی

چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان عمیر نیازی کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے صحت جرم سے انکار کیا ہے، فرد جرم کے آرڈر کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

عمیر نیازی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران سائفر کیس سے متعلق ہونے والی آج کی سماعت کا احوال سناتے ہوئے بتایا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت سے پوچھا میرے خلاف کیا الزام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت میں کہا کہ سازش میرے خلاف ہوئی، میری حکومت گئی، جس میٹنگ کا ذکر کیا گیا اس کے منٹس بھی موجود نہیں، جس سائفر کا ذکر کیا گیا وہ سرے سے کاغذات میں موجود ہی نہیں۔

عمیر نیازی کے مطابق سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ لندن پلان کا پہلے سے علم تھا، یہ پلان پی ٹی آئی کو بلڈوز کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ نے چیئرمین پی ٹی آئی نے عام انتخابات اور نواز شریف سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف امپائر کو ملا کر کھیلتے ہیں، نواز شریف اس وقت تک الیکشن میں نہیں آسکتے جب تک مرضی کے امپائر نہ ہوں۔

ترجمان نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے نواز شریف کے جلسے پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 ہزار سرکاری پولیس اہلکار جلسہ گاہ کو بھرنے گئے، جبکہ پی ٹی آئی کی کارنر میٹنگ تک نہیں ہونے دی، اگر بڑے چور کو چھوڑنا ہے تو اڈیالہ جیل میں قید ملزمان کو بھی چھوڑ دیں۔

عمیر نیازی نے مزید کہا کہ 71 سالہ چیئرمین اسپورٹس مین ہیں، جن کی ایکسر سائز کی درخواست منظور ہو چکی ہے، سیکشن 241 کا اطلاق ہوتا ہے، اس کے اعتراضات ہم نے بتا دیے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مان لیا وزیرِ اعظم کی سائفر کی کاپی نہیں، صدر کو بھی گئی تھی وہ لگا دیں۔

سائفر کیس ، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد

سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔

آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی۔عدالت نے دونوں رہنماؤں پر فرد جرم عائد کر دی۔

چیئرمین  پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔عدالت نے کیس کے گواہان کے بیانات 27 اکتوبر کو طلب کر لیے۔

اس سے قبل 17 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم اس وقت تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے چالان کی کاپیاں فراہم نہ کرنے کا اعتراض اٹھایا گیا تھا، پی ٹی آئی کے اعتراض کے بعد فردِ جرم کی تاریخ  23 اکتوبر کو مقرر کی گئی تھی۔

آج سماعت کے موقع پر اڈیالہ جیل کے باہر سکیورٹی کے سخت  انتظامات  کیے گئے اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔

بصورت شہادت شناخت: غزہ کے والدین نے بچوں کے پیروں پر نام لکھنا شروع کر دیے

غزہ کے والدین نے بچوں کے پیروں پر نام لکھنا شروع کر دیے۔ امریکی میڈیا کے مطابق بچوں کے جسم پر نام لکھنے کا مقصد شہادت کی صورت میں انکی شناخت ممکن بنانا ہے۔ 

امریکی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ انکے ایک صحافی نے غزہ میں شہید بچوں کے پیروں پر لکھے نام کی ویڈیو بنائی ہے۔ شہید ہونے والے بچوں کی ویڈیو الاقصٰی اسپتال میں بنائی گئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق  شہید ہونے والے بچے وسطی غزہ کے علاقے دیر البلاء کے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق دیر البلاء میں اسرائیلی فوج نے بمباری کی تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق غزہ میں بچوں کی پنڈلیوں پر نام لکھنے کی روایت عام ہوچکی ہے۔

مغربی پابندیوں کے باوجود روس دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا

پاکستان میں تعینات روسی سفیر ڈینیلا گینچ نے کہا ہے کہ مغربی پابندیوں کے باوجود روس دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے، معاشی لحاظ سے ہم جرمنی سے آگے نکل گئے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، تاہم تجارت کیلئے پاکستانی حکومت نے اب تک متبادل ادائیگی نظام بنانے میں دلچسپی نہیں لی، روس غزہ میں جنگ بندی چاہتا ہے اس کیلئے ہم کوشش کررہے ہیں۔

جنگ بندی کیلئے روسی قرارداد کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ویٹو کیا، غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت ہے،اسرائیل شہریوں پر حملے بند کرے،وہ کراچی میں پاکستان کونسل آف فارن ریلیشن کے تحت کونسل کے سیکریٹری جنرل احسن مختار زبیری کی رہائش گاہ پر منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر کونسل کے سیکریٹری جنرل احسن مختار زبیری، چیئرمین حسن حبیب اور روس میں سابق پاکستانی سفیر قاضی خلیل اللہ نے بھی خطاب کیا، ڈینیلا گینچ نے کہا کہ روسی سفیر نے کہا کہ پاکستان سے دیرینہ تعلقات ہیں، اپنے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کیلئے بھی راغب کریں گے۔

پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کو بھی مشترکہ منصوبوں کیلئے کام کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ روس پر مغربی پابندیوں کے بعد دونوں ملکوں میں تجارت بڑھانے کیلئے ادائیگیوں کا متبادل نظام ضروری ہے۔

روسی سفیرنے یوکرائن جنگ کے حوالے سے کہا کہ روس نے فوجی آپریشن اس وقت شروع کیا تھا، جب امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا۔

امریکہ نے تمام وعدے توڑتے ہوئے نیٹو کو مشرقی یورپ میں توسیع دی، اور اب ہماری سرحدوں تک آرہے تھے،ماسکو میں سابق سفیر قاضی محمد خلیل اللہ نے کہا کہ دنیا کو ملٹی پولر بنانے کیلئے روس کا کردار اہم ہے، روس کے دباو کی وجہ سے اسرائیل کے ہاتھ کچھ بندھے ہوئے ہیں، ورنہ وہ غزہ میں اس سے زیادہ تباہی لاتا۔

نواز شریف کی 2 نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں دائر

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی 2 نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں دائر کر دی گئیں۔

وکیل امجد پرویز نے نواز شریف کی جانب سے اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں دائر کیں۔

درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیلوں کو بحال کر کے میرٹ پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے۔

نواز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ میں ابھی تک بیماری سے مکمل ریکور نہیں ہوا، ملک کے بدتر معاشی حالات کو دیکھ واپس آنے کا فیصلہ کیا، ایون فیلڈ ریفرنس میں 6 جولائی2018ء کو غیر حاضری میں سزا سنائی گئی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنر کی اہلیہ لندن میں زیرِ علاج اور وینٹی لیٹر پر تھیں، فیصلہ سنانے کے اعلان میں تاخیر کی استدعا کی جو منظور نہ ہوئی، سزا کا فیصلہ غیر حاضری میں سنایا گیا تو پاکستان واپس آ کر جیل کا سامنا کیا اور اپیلیں دائر کیں، ایون فیلڈ ریفرنس میں شریک ملزمان مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا کالعدم قرار دی گئی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنر کے پیش نہ ہونے کے باعث اپیل عدم پیروی پر خارج ہوئی، عدالت نے کہا کہ جب سرینڈر کریں یا پکڑے جائیں تو اپیل دوبارہ دائر کر سکتے ہیں، جان بوجھ کر نہیں، صحت کی خرابی کے باعث اپیلوں کی پیروی کے لیے حاضر نہیں ہو سکے، نواز شریف نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال نہیں کیا۔

نواز شریف نے درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ طبی بنیاد پر عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکا تھا، میڈیکل رپورٹس مستقل بنیادوں پر لاہور ہائی کورٹ جمع ہوتی رہی ہیں۔

پشاور میں رکشے سے ہزاروں ڈالر اور یورو برآمد

پشاور میں رکشہ سوار سے بھاری تعداد میں غیر ملکی کرنسی برآمد کر لی گئی۔

پولیس کے مطابق جمیل چوک رنگ روڈ پر رکشے میں سوار سلمان نام کے شخص کا تعلق افغانستان سے ہے۔ سلمان سے برآمد ہونے والی کرنسی میں ایک لاکھ 75 ہزار یورو، 15 ہزار 4 سو ڈالر اور 4 ہزار سے زائد سعودی ریال برآمد کیے گئے۔

پولیس نے  قانونی کارروائی کے لیے  کیس  ٹیرا فنانسنگ سیل سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا۔