All posts by Khabrain News

سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں: آرمی چیف

۔(خبریں ڈیجیٹل) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے امن مشن کے وزارتی اجلاس کے حوالے سے تیاریوں کا جائزہ اجلاس ہوا  جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اختتامی سیشن میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔

امن مشن کے تحفظ اورسکیورٹی کے موضوع پر منعقدہ اجلاس کی مشترکہ میزبانی پاکستان اور جاپان نے کی جب کہ اجلاس میں مختلف ممالک کے  مندوبین اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سمیت سفارتی برادری کے ارکان بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں آرمی چیف نے امن دستوں کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز اور خطرات کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر جنرل عاصم منیر نے کہا عالمی امن کی بحالی میں اقوام متحدہ کا کردار لائق تحسین ہے، اقوام متحدہ پیچیدہ خطرات سے نمٹنے کیلئے امن مشن کو مزید مؤثر بنائے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایسا خطہ چاہتا ہے جہاں امن قائم ہو، تجارت، ٹرانزٹ اور سرمایہ کاری ہو اور  ایسا خطہ جو جنوبی، مغربی اور وسطی ایشیا کی تمام ریاستوں کیلئے خوشحالی کا باعث بنے۔

جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

پیٹرول کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا گیا

۔(خبریں ڈیجیٹل) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ایل پی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا۔

قیمتوں میں اضافے کے بعد فی کلو ایل پی جی 38 روپے97 پیسےمہنگی ہوگئی، اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

قیمتوں میں اضافے کے بعد ایل پی جی کے 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 459 روپے 85 پیسے مہنگا ہوکر 2 ہزار 833 روپے 49 پیسے کا ہو گیا۔

اوگرا نوٹیفکیشن کے مطابق فی کلو ایل پی جی کی نئی قیمت 240 روپے 12 پیسے مقرر کی گئی ہے جبکہ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ کردیا گیا تھا، پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 91 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔

دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ریلوے نے بھی ٹرینوں کرایوں میں 5 فیصد اضافہ کر دیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کا پرویز الٰہی کو رہا کرنے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی پنجاب کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو لاہور ہائی کورٹ میں پیش کیا جس کے بعد عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے عدالت کو بتایا تھا کے انٹرا کورٹ اپیل خارج ہو گئی تھی۔

عدالت نے پرویز الٰہی کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

قبل ازیں لاہورہائیکورٹ نے پرویزالٰہی کی نیب گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران نیب کو ایک گھنٹے میں سابق وزیراعلیٰ کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

منکی پاکس نے پھر سراٹھا لیا

کراچی میں لیبیا سے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ پر پہنچنے والے تین مسافروں میں منکی پوکس کی علامات ظاہرہونے پرانہیں قرنطینہ کردیا ہے۔

ائرپورٹ پر جمعرات کو منکی پاکس کے مشتبہ کیسز کی نشاندہی ہوئی، جن میں تین مسافر شامل ہیں، جو لیبیا سے کراچی پہنچے تھے۔

انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ مسافروں کو اسپتال منتقل کرنے کے بعد قرنطینہ کردیا ہے۔

محکمہ صحت سندھ نے مراسلے میں کہا کہ سرویلنس ٹیم نے31 اگست 2023 کو لیبیا سے آنے والے 3 مسافروں کی نشاندہی کی، جن کی عمریں 30 سے ​​45 سال کے درمیان تھیں اور ان میں منکی پوکس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔

مزید بتایا کہ متاثرہ تینوں مسافر پاکستانی شہری ہیں، جنہیں محکمہ صحت سندھ کے انفیکشن ڈیزیز کے اسپتال میں قرنطینہ کردیا گیا۔

رواں سال ایک مریض مئی کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب سے واپس آیا تھاجوعلاج کے بعد صحت یاب ہو گیا۔

حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کر دی

اسلام آباد: نگران حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے فی لیٹر پیٹرول پر لیوی کی فل شرح عائد کر دی۔

رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے فی لیٹر پیٹرول پر 5 روپے لیوی کی شرح بڑھائی گئی ہے جس کے بعد فی لیٹر پیٹرول پر 60 روپے لیوی عائد ہو گئی۔

اسی طرح حکومت کی جانب سے ڈیزل پر 50 روپے لیوی عائد ہے اور دونوں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی 60 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق بجٹ میں لیوی بڑھانے کی منظوری دی گئی تھی تاہم 60 روپے سے زیادہ لیوی عائد کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لازم ہے۔

واضح رہے کہ نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 91 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

بنوں: فوجی قافلےکے قریب خودکش حملے میں پاک فوج کے 9 جوان شہید ہوگئے

بنوں: (خبریں ڈیجیٹل) علاقے جانی خیل میں فوجی قافلےکے قریب خودکش حملے میں پاک فوج کے 9 جوان شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فوجی قافلے کے قریب موٹرسائیکل  سوار  حملہ آور نے خودکش حملہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خودکش حملے میں پاک فوج کے 9 جوان شہید اور 5 سکیورٹی اہلکار  زخمی بھی ہوئے، شہدامیں ایک جے سی او نائب صوبیدار صنوبر علی بھی شامل ہیں۔

واقعےکے بعد سکیورٹی فورسز  نے علاقےکا محاصرہ کرکے سرچ  آپریشن شروع کردیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز  دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

نگران وزیراعظم کی مذمت

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں  بنوں ڈویژن میں دہشت گرد حملے میں 9 بہادر سپاہیوں کی شہادت پر افسردہ ہوں، بنوں دہشت گرد حملے میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔

نگران وزیراعظم کا کہنا ہےکہ  دہشت گردی سراسر قابل مذمت ہے ،اس کے خلاف پرعزم ہیں، میری ہمدردیاں شہداء اور  زخمیوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا، وزارت خزانہ

۔(خبریں ڈیجیٹل) وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر ردعمل دے دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ‏پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردبدول کے حوالے سےفی الحال کو ئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی نوٹیفیکیشن جعلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل سے متعلق فیصلہ آج کیا جائے گا ۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک نوٹیفیکیشن گردش کر رہا تھا جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 22 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں19 روپے سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے۔

48 گھنٹے میں بجلی بلوں پر ریلیف کا اعلان کریں گے، نگران وزیراعظم

اسلام آباد: (خبریں ڈیجیٹل) وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا 48 گھنٹے میں بجلی بلوں پر ریلیف دینے کا اعلان کریں گے۔

نگران وزیراعظم نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بجلی کے بلوں کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے، الیکشن تاریخ پرسپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی احترام کریں گے، دہشت گردی، حساس معاملات کو مدنظر رکھ کر نادرا قوانین میں ترمیم کی گئی ہیں۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ نادرا کا چیئرمین فوجی لگانے کی وجہ بھی یہی حساس معاملات ہیں، نادرا چیئرمین کے فرائض کے لئے سپیشلائزڈ پروفیشنل کی ضرورت تھی۔
نگران وزیراعظم نے مزید کہا پاکستان میں کوئی بحران نہیں، حالات مشکل ہیں پرجلد سرخرو ہوں گے، سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت بے یقینی اورمایوسی پھیلائی جارہی ہے۔

17 غیر منتخب جج پارلیمنٹ کی قانون سازی کوکیسے بدنیتی قرار دے سکتے ہیں؟ جسٹس منصور

۔(خبریں ڈیجیٹل) قومی احتساب بیورو  (نیب) ترامیم کیس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور  علی شاہ  نے  ریمارکس دیے کہ 17 غیر منتخب جج  25 کروڑ  عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی قانون سازی کو کیسے بدنیتی قرار  دے سکتے ہیں؟ 

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکی۔

وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نےکہا کہ قانون سازی میں ترمیم کی صورت میں قانون بدل جانے پر سپریم کورٹ نے ہمیشہ قانون ہی کی حمایت کی۔

چیف جسٹس پاکستان نےکہا کہ  آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نیب ترامیم سے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے،لگتا ہےکہ اب آمدن سے زائد اثاثے رکھنا کوئی سنجیدہ جرم نہیں رہا۔

وکیل مخدوم علی خان نےکہا کہ قانون کی سختی کم کرنےکا مطلب مجرموں کی حوصلہ افزائی کرنا نہیں ہوتا، مختلف ادوار  میں جرائم سے نمٹنےکے لیے مختلف طریقہ کار  اپنائے جاسکتے ہیں،50 کروڑ  روپے کی حد اس لیے مقرر کی گئی کیونکہ مختلف عدالتوں کی آبزرویشنز  دی جاچکی تھیں۔

چیف جسٹس پاکستان نےکہا کہ اگر ہم 1999 سے اب تک پبلک سیکٹر میں دیکھیں تو گرواٹ نظر آئے گی،  پی آئی اے کو دیکھ لیں، بجلی کی ترسیلاتی کمپنیوں کو دیکھ لیں، لائن لاسز  پورے ملک میں 40 فیصد تک ہیں۔

وکیل خواجہ حارث  کا کہنا تھا کہ  2018 سے 2021 تک نیب تفتیش اور ریفرنسز کی مد میں 18 ارب روپے خرچ ہوئے، قانون کا ماضی سے اطلاق کرنے سے عوامی پیسے ضائع ہوں گے، ترامیم کے بعد 50 کروڑ سے کم پلی بارگین کرنے والا درخواست دے کر صاف شفاف ہوجائےگا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا 18 ارب روپے خرچ کرنے سے سپریم کورٹ پارلیمان کو قانون سازی سے روک سکتی ہے؟ پلی بارگین کے عمل کو  پارلیمنٹ نے اس لیے روکا کہ کچھ پلی بارگین کےکیسز میں دباؤ کا پہلو موجود تھا، پلی بارگین ختم کرانے  والا  کسی دوسرے قانون کی زد میں آ جائےگا،17غیر منتخب جج 25 کروڑ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی قانون سازی کو کیسے بدنیتی قرار دے سکتے ہیں؟

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم میں کہیں نہیں لکھا کہ نیب سے واپس ہونے والا مقدمہ کہاں چلےگا؟ پچاس کروڑ سے کم والا پیسے واپس لےکر نیب کے اختیار سے ہی نکل گیا۔

چیف جسٹس نےکہا یہ سنجیدہ معاملہ ہےکہ 49 کروڑ کرپشن والا نیب سے بچ کر آزاد ہوجائےگا۔

وکیل خواجہ حارث نےکہا کہ نیب ترامیم سے سیکڑوں افراد کو کلین چٹ دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مخصوص افراد کے لیے قانون سازی ثابت کرنےکا پیمانہ کافی سخت ہے، نئے قانون کے تحت بے نامی جائیداد رکھنا مسئلہ نہیں، ایسا کرنا ہے تو پھر معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کو جرم کی کیٹیگری سے نکال دیں، یہ تو احتساب کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔

عدالت نے کیس کی سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کردی۔