All posts by Khabrain News

یورپ نے لیتھیئم کے بغیر بیٹری بنا لی، چین کی محتاجی ختم ہونے کا دعویٰ

برطانیہ اور یورپ کی الیکٹرک بیٹری کی صنعت خام مال، یا مکمل بیٹریوں پر انحصار کرتی ہے جو چین اور دیگر ایشیائی ممالک سے حاصل کی جاتی ہیں، تاہم اب ایسا نہیں ہوگا،۔

یورپ کی واحد بڑی گھریلو برقی بیٹری بنانے والی کمپنی نارتھ وولٹ نے کہا ہے کہ اس نے کم قیمت، زیادہ پائیدار بیٹری بنائی ہے جو بجلی ذخیرہ کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے جس میں لیتھیم، نکل، گریفائٹ اور کوبالٹ کا استعمال نہیں ہوتا۔

نارتھ وولٹ کا کہنا ہے کہ اس کی نئی بیٹری، جس کی توانائی کی کثافت 160 واٹ گھنٹے فی کلوگرام سے زیادہ ہے، بجلی ذخیرہ کرنے والے پلانٹس کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے لیکن مستقبل میں اسے الیکٹرک گاڑیوں، جیسے دو پہیوں والے اسکوٹرز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سویڈش ڈویلپر کے مطابق ، پروٹو ٹائپ بیٹری سویڈن کے شہر وسٹراس میں کمپنی کی لیبارٹریوں میں تیار کی گئی ہے جسے آئندہ سالصارفین کے سامنے لایا جائے گا۔ کمپنی نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ بڑی مقدار میں بیٹری کہاں تیار کی جائے گی۔

صنعتی پیمانے پر بیٹریوں میں بجلی ذخیرہ کرنا قومی بجلی گرڈوں کو کاربن سے پاک کرنے کے لئے اہم سمجھا جاتا ہے۔ بیٹری منصوبے ہوا اور شمسی پینل سے توانائی ذخیرہ کرتے ہیں جو اس وقت استعمال کیے جاسکتے ہیں جب ہوا چلتی ہے یا سورج چمک نہیں رہا ہوتا ہے۔

نارتھ وولٹ نے 2021 کے آخر میں شمالی سویڈن کے ایک پلانٹ میں اپنا پہلا لیتھیم آئن بیٹری سیل تیار کیا تھا۔

کمپنی کے مطابق نئی بیٹری کی توانائی کی کثافت زیادہ تر لیتھیئم کے مساوی سے کم تھی لیکن اس کا مقصد لاگت کو کم رکھتے ہوئے نئی مصنوعات میں استعمال ہوگا۔ یہ بیٹری ہائی سوڈیم پروشیا وائٹ کیتھوڈ اور ہارڈ کاربن اناودی پر مبنی ہے جو زیادہ درجہ حرارت پر متبادل کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے۔

نتیجتاً کمپنی مشرق وسطیٰ، بھارت اور افریقہ جیسی مارکیٹوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

واضح رہے کہ ارکان پارلیمنٹ طویل عرصے سے اہم معدنیات کے لیے چین کے نایاب وسائل پر انحصار پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں کیونکہ اینگلو چین تعلقات خراب ہو رہے ہیں اور کار سازی کی صنعت تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔

حکومت کا ممنوعہ اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ممنوعہ اشیاء کی درآمد پر پابندی جائزہ لینے کے بعد ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور اس حوالے سے اعلی سطح کی کمیٹی قائم کردی ہے۔

امپورٹ ایکسپورٹ پالیسی کے تحت ممنوعہ اشیاء کی درآمد پر پابندی کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، اور وفاقی حکومت نے جائزہ لینے کے بعد ممنوعہ اشیا پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ممنوعہ اشیاء پر پابندی سے متعلق اعلی سطحی کمیٹی بنا دی گئی ہے، جس کے سربراہ نگراں وزیر تجارت گوہر اعجاز ہوں گے، جب کہ وزیرمنصوبہ بندی اور وزیرقانون کمیٹی کےارکان میں شامل ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی ممنوعہ اشیاء کی درآمد کے حوالے سے کیسز کا جائزہ لے گی، جب کہ امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ آرڈر 2022 کے تحت کیسز کا جائزہ ہوگا۔

ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی حج ادا کرینگے، سعودی عرب نے معاہدے کی منظوری دیدی

ریاض: سعودی عرب نے ایک لاکھ 79 ہزار پاکستانی زائرین حج کے معاہدے کی منظوری دے دی۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ سعودی کابینہ نے پاکستانی حج وعمرہ زائرین کے لیے انتظامات کے معاہدے کی منظوری دے دی۔ حج 2024 کے لیے پاکستان سے عازمین حج کا کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 رکھا گیا ہے۔

گزشتہ برس بھی پاکستان کے لیے حج کوٹہ میں عازمین کی تعداد بھی ایک لاکھ 79 ہزار تھی تاہم کورونا وبا کے اثرات اورمہنگائی کے باعث حج درخواستوں کی تعداد کم رہی تھی۔حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی حج پالیسی کے مطابق 2024 کے لیے حج پیکج 10 لاکھ 75 ہزار روپے کا ہوگا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک لاکھ روپے کم ہے۔

بلوچ طلبہ گمشدگی کیس؛ وزیراعظم آئندہ سماعت پر عدالت طلب

اسلام آباد: بلوچ طلبہ جبری گمشدگی سے متعلق کمیشن کی سفارشات پر عملد رآمد کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

دوران سماعت عدالت نے وزرا کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل کو عدالت طلب کرلیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی ، جس میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے وزرا کمیٹی کے اجلاس کی ایک صفحے پر مشتمل 6 نکات کی رپورٹ پیش کی، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ کی کاپی واپس کردی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ پر اس عدالت کے لیے یہ شرم کا مقام ہے ۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو احساس ہونا چاہیے تھا کہ یہ بلوچ طلبہ کا معاملہ ہے ۔ بلوچ لاپتہ طلبہ کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔

بعد ازاں وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت پر وزیر اعظم کو طلب کر لیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وزیراعظم اور وزرا کو طلب نہ کرنے کی استدعا کی، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں ۔ سب مذاق بنایا جا رہا ہے ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا توہین ہوگی اس ملک کے لوگوں کے ساتھ جب لوگ لاپتا ہورہے ہیں ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ وزارت دفاع سے کون ہے ؟، جس پر وزارت دفاع کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ وزیر دفاع کو کہیں اگلی سماعت پر پیش ہوں۔وزیر داخلہ کو کہیں وہ بھی پیش ہوں، کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی پیشی سے ۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے جن کو بلا رہے ہیں ۔ ہم اسلام آباد میں بیٹھ کر بلوچستان کے حقوق کی بات کر رہے ہیں ۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ 7 روز کا وقت دیتا ہوں، عمل درآمد کریں ۔

عدالت نے بلوچ طلبہ کی عدم بازیابی پر وزیراعظم کو 29 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع، وزیر داخلہ ، سیکرٹری دفاع ، سیکرٹری داخلہ بھی پیش ہوں ۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کمیشن کی شفارشات کے مطابق 55 لاپتا بلوچ طلبہ پیش کریں نہیں تو وزیر اعظم پیش ہوں ۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے کہا کہ عدالت کی توجہ ایک معاملے کی طرف دلانا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کیس زیر التوا ہونے کے دوران بھی بلوچ لاپتا ہوئے ہیں ۔

واضح رہے کہ وفاق نے 3 وزرا کی کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کی کمیٹی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کر رکھی تھی ۔

امام الحق کے بعد فہیم کو بھی شادی کیلئے ٹریننگ سیشن سے چھٹی مل گئی

قومی کرکٹر امام الحق کے بعد آل راؤنڈر فہیم اشرف کو بھی شادی کی تیاریوں کے سلسلے میں ٹریننگ سیشن میں حصہ نہ لینے کی اجازت مل گئی۔

دورہ آسٹریلیا کیلئے اعلان کردہ کھلاڑیوں میں اوپنر امام الحق اور آل راؤنڈر فہیم اشرف اسکواڈ کا حصہ ہیں تاہم دونوں کرکٹرز کو شادی کی تیاریوں کے سلسلے میں تربیتی سیشن میں حصہ نہ لینے کی اجازت دیدی گئی ہے۔

امام الحق شادی کی تقریبات کا باضابطہ طور پر آغاز 23 نومبر کو قوالی نائٹ سے ہوگا، بعدازاں نکاح کی تقریب 25 جبکہ ولیمہ 26 نومبر کو طے ہے۔

دوسری جانب آل راؤنڈر فہیم اشرف کے ولیمے کا استقبالیہ بھی 26 نومبر کو پنجاب کے پھول نگر میں دوپہر کو طے ہے۔ بابراعظم، محمد رضوان، شاداب خان کے علاوہ کئی کرکٹرز کی فہیم کے ولیمے میں شرکت متوقع ہے۔

واضح رہے کہ دورہ آسٹریلیا کیلئے قومی ٹیم کا اسکواڈ 30 نومبر کو روانہ ہوگا، دونوں کرکٹرز روانگی سے قبل اسکواڈ کو جوائن کرلیں گے۔

بلوچ طلبہ گمشدگی کیس؛ وزیراعظم آئندہ سماعت پر عدالت طلب

 اسلام آباد: بلوچ طلبہ جبری گمشدگی سے متعلق کمیشن کی سفارشات پر عملد رآمد کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

دوران سماعت عدالت نے وزرا کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل کو عدالت طلب کرلیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی ،  جس میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے وزرا کمیٹی کے اجلاس کی ایک صفحے پر مشتمل 6 نکات کی رپورٹ پیش کی، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ کی کاپی واپس کردی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ پر اس عدالت کے لیے  یہ شرم کا مقام ہے ۔  وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو احساس ہونا چاہیے تھا کہ یہ بلوچ طلبہ کا معاملہ ہے ۔  بلوچ لاپتہ طلبہ کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔

بعد ازاں وقفے کے بعد سماعت  دوبارہ شروع ہوئی، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت پر وزیر اعظم کو  طلب کر لیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وزیراعظم اور وزرا کو طلب نہ کرنے کی استدعا کی، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں ۔ سب مذاق بنایا جا رہا ہے ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا توہین ہوگی اس ملک کے لوگوں کے ساتھ جب لوگ لاپتا ہورہے ہیں ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ وزارت دفاع سے کون ہے ؟، جس پر وزارت دفاع کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ وزیر دفاع کو کہیں اگلی سماعت پر پیش ہوں۔وزیر داخلہ کو کہیں وہ بھی پیش ہوں، کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی پیشی سے ۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے جن کو بلا رہے ہیں ۔ ہم اسلام آباد میں بیٹھ کر بلوچستان کے حقوق کی بات کر رہے ہیں ۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ 7 روز کا وقت دیتا ہوں، عمل درآمد کریں ۔

عدالت نے بلوچ طلبہ کی عدم بازیابی پر وزیراعظم کو 29 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع، وزیر داخلہ ، سیکرٹری دفاع ، سیکرٹری داخلہ بھی پیش ہوں ۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کمیشن کی شفارشات کے مطابق 55 لاپتا بلوچ طلبہ پیش کریں نہیں تو وزیر اعظم پیش ہوں ۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے کہا کہ عدالت کی توجہ ایک معاملے کی طرف دلانا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ  یہاں کیس زیر التوا ہونے کے دوران بھی بلوچ لاپتا ہوئے ہیں ۔

واضح رہے کہ وفاق نے 3 وزرا کی کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کی کمیٹی سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کر رکھی تھی ۔

حارث رؤف کیخلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی، بورڈ کا دو ٹوک اعلان

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا کہنا ہے کہ دورہ آسٹریلیا سے انکار کرنے والے قومی ٹیم کے فاسٹ بولر حارث رؤف کیخلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

ڈائریکٹر میڈیا پی سی بی عالیہ رشید کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کیلئے ٹیم تیار نہیں کریں گے تو ہر کوئی صرف ٹی20 کھیلنا چاہے گا، وائٹ بال فارمیٹ میں حارث روف کو ضرور زیر غور لایا جائے گا۔ سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت ہر کھلاڑی کیلئے ضروری ہے کہ جب پاکستان ٹیم کے لیے آواز دی جائے تو وہ تیار ہو۔

انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر پاکستان کرکٹ ٹیم محمد حفیظ اور چیف سلیکٹر وہاب ریاض چاہتے ہیں کہ ڈویلپمنٹ پراسس کے تحت ہر کھلاڑی کو ہر فارمیٹ کے لیے تیار کیا جائے اور یہ وجہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ حارث رؤف آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچز کھیلیں۔

عالیہ رشید نے کہا کہ صرف 4 اوورز تک خود کو محدود کرلینا، مناسب نہیں، اگر آپ میں قابلیت ہے تو ہر فارمیٹ میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔

ایک انٹرویو میں پی سی بی ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑی ٹیسٹ میچز نہیں کھیلیں گے تو اس صورتحال میں پاکستان ٹیم کیا بنے گا، بابراعظم کو چارسال کپتانی کا موقع ملا،وہ توقعات پوری نہ کرسکے۔ ٹنڈولکر اور کوہلی سمیت دنیا میں کئی کرکٹرز نے کپتانی چھوڑی۔ یہ آفر اس لیے ک گئی تھی کہ بابر ٹیسٹ میچز تک بطور کپتانی جاری رکھ کر اپنی بیٹنگ پر فوکس کریں۔

انہوں نے کہا کہ بابراعظم کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں، وہ بڑا کھلاڑی ہے، توقع کرتے ہیں قیادت سے الگ ہوکر بابر کا کھیل مزید بہتر ہوگا۔ پی سی بی پر تنقید یکطرفہ ہوتی رہی، ورلڈکپ میں بورڈ نے بابر اور ٹیم کا بھرپور ساتھ دیا، مگر ایک پوائنٹ آف ویو سن کر ہی تنقید ہوتی رہی، جو نہیں ہونی چاہیے تھی۔

ڈائریکٹر میڈیا نے کہا کہ انضمام الحق کے خلاف انکوائری کے معاملات سے رضوان کو کوئی تعلق نہیں، وہ ایجنٹ کمپنی کے ڈائریکٹر تھے، ہر کھلاڑی کو مستقبل محفوظ کرنے کا حق ہے۔ انضمام جب چیف سلیکٹر کا معاہدہ سائن کررہے تھے تو انہیں بورڈ کو اپنے تمام معاملات سے آگاہ کردینا چاہیے تھا۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ابھی تک اپنا کام کررہی ہے۔

ایک لاکھ 79 ہزار 210 پاکستانی حج ادا کرینگے، سعودی عرب نے معاہدے کی منظوری دیدی

ریاض: سعودی عرب نے ایک لاکھ 79 ہزار پاکستانی زائرین حج کے معاہدے کی منظوری دے دی۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ سعودی کابینہ نے پاکستانی حج وعمرہ زائرین کے لیے انتظامات کے معاہدے کی منظوری دے دی۔  حج 2024 کے لیے پاکستان سے عازمین حج کا کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: حج پالیسی 2024 کا اعلان، پیکج میں ایک لاکھ روپے کی کمی

گزشتہ برس بھی پاکستان کے لیے حج کوٹہ میں عازمین کی تعداد بھی ایک لاکھ 79 ہزار تھی تاہم کورونا وبا کے اثرات اورمہنگائی کے باعث حج درخواستوں کی تعداد کم رہی تھی۔حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی حج پالیسی کے مطابق 2024 کے لیے حج پیکج 10 لاکھ 75 ہزار روپے کا ہوگا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک لاکھ روپے کم ہے۔

آئی ایم ایف سے 7 دسمبر کو پاکستان کیساتھ معاہدے کی منظوری کا امکان

اسلام آباد: آئی ایم ایف کا پاکستان کیساتھ 7 دسمبر کو معاہدے کی منظوری کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے 7 دسمبر کو پاکستان کے ساتھ عملے کی سطح پر معاہدے کی منظوری کا امکان ہے۔

معاہدے کی منظوری کے بعد 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے جائزے کے تحت 8 دسمبر کو 70 کروڑ ڈالر فراہم جائیں گے۔

یکطرفہ امریکی پالیسی نے مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات تباہ کردیے، روسی صدر

‘غزہ پر اسرائیلی بمباری روکنے میں امریکا کی ناکامی نے امن کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے’.

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے مشرق وسطیٰ میں یکطرفہ اقدامات پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری روکنے میں امریکا کی ناکامی نے امن کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامفوسا کی جانب سے غزہ کے بارے میں بلائے گئے برکس اجلاس میں عرب وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی حمایت طلب کی جس میں اسرائیل کو مکمل جنگ بندی اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کا پابند بنایا گیا تھا۔

یہ اقدام غزہ پر اسرائیلی بمباری کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے سے انکار کرنے کے امریکہ کے دوہرے معیار کے خلاف عالمی جنوبی ممالک میں بڑھتی ہوئی بغاوت کا حصہ ہے۔

روسی صدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی یکطرفہ تسلط نے مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کو تباہ کر دیا ہے۔ امریکا اپنے مفاد میں سفارتکاری پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرکے امن کے امکانات کو نقصان پہنچارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہزاروں افراد کی ہلاکتیں، بڑے پیمانے پر شہریوں کی نقل مکانی اور سامنے آنے والی انسانی تباہی انتہائی پریشان کن ہے۔‘

پیوٹنس نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی وجہ سے فلسطینیوں کی ایک سے زیادہ نسلیں اپنی ریاست کے ساتھ ناانصافی کے احساس کے ساتھ پرورش پا رہی ہیں جبکہ اسرائیلی عوام اپنی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتے ہیں۔

روسی صدر نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کوارٹیٹ کے دیگر ارکان کو نظر انداز کر رہا ہے جو اسرائیل فلسطین امن عمل میں حصہ لینا چاہتا ہے جس میں روس، اقوام متحدہ اور یورپی یونین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے دیگر بین الاقوامی کرداروں کی کوششوں کو روکتے ہوئے ثالث کے کردار پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ ہفتے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی بنیادوں پر کی جانے والی پابندیوں کو قبول کرے لیکن عرب وزرائے خارجہ اس مسئلے کا ٹھوس حل چاہتے ہیں اور وہ امریکہ کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں کہ وہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے اپنا ویٹو استعمال نہ کرے۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممالک میں برازیل، بھارت، چین، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

بائیڈن انتظامیہ کو عالمی جنوبی ممالک کی حمایت کھونے کا خطرہ ہے، جو امریکہ پر یوکرین میں روسی جنگی جرائم کی مذمت کرنے میں دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات پر خاموش رہتے ہیں۔

عرب سفارتکاروں کے وفد کی قیادت اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے مقرر کردہ ایک گروپ کر رہا ہے جس میں اردن، مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب، فلسطین کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل شامل ہیں۔