All posts by Khabrain News

صحت مند جلد اورخوبصورت بالوں کے لیے خوبانی کا تیل استعمال کریں

خواتین بالوں اورچہرے کی جلد کے مسائل سے اکثر دوچار رہتی ہیں اور ان کی دیکھ بھال اور نشوونما کے لیے مختلف ٹوٹکے اور مہنگے سے مہنگی مصنوعات استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔

بات چمکدار بالوں اور خوبصورت جلد کی آتی ہے تو قدرت نے اس کے لیےبہترین حل پیش کیے ہیں، فطرت کے پاس ہمیشہ سے حل موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح سے’خوبانی کا تیل’ بھی فوائد کے لحاظ سے قدرت کا انمول تحفہ ہے۔

برطانیہ کے بورڈ سے تصدیق شدہ ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر چوہدری نے بالوں کے لئے خوبانی کے تیل کے معجزاتی فوائد کو بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق ’خوبانی کا تیل وٹامنز، فیٹی ایسڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہونے کی وجہ سے بالوں کی صحت کو بڑھا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ سرکی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ بالوں کے فولیکلز کو مضبوط بنانے اور صحت مند بالوں کی نشوونما کو فروغ دینے میں مدد کرسکتا ہے۔

خوبانی کے تیل کی موئسچرائزنگ خصوصیات بالوں کی ساخت کو بہتر بناتے ہوئے الجھنے سے بچاتی ہیں۔

آپ کس طرح ان مہنگی مصنوعات سے نجات حاصل کرکے ایک قدرتی اجزاء کے ساتھ آسانی سے اپنی جلد اور بالوں کی دیکھ بھال کرسکتے ہیں۔

خوبانی کا تیل

یہ ایک کیریئر تیل ہے جو گٹھلی اور خوبانی کے بیجوں سے نکالا جاتا ہے۔ تیل کو ٹھنڈے دبانے کے طریقہ کار کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے جو اس کے قدرتی مرکبات اور غذائی اجزاء کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

یہ ہلکے پیلے رنگ کا ہوتا ہے اور اس میں ہلکی اور میٹھی خوشبو ہوتی ہے۔

خوبانی کا تیل آپ کی جلد اور بالوں کو کس طرح فائدہ پہنچاتا ہے۔

یہ بالوں کو انتہائی ہائیڈریٹڈ اور نمی بخش بناتا ہے جس سے خشک اور ٹوٹے ہوئے بالوں کو نرم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

خوبانی کا تیل ’وٹامن اے‘ سے بھرپور ہوتا ہے جو بالوں کے ہر حصے کو جڑ سے نوک تک مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے. یہ خراب اور کمزور بالوں کی مرمت کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔

تیل کے ’وٹامن ای اور فیٹی ایسڈ‘ کی مقدار جلد کی پرورش کرنے ،اس کی لچک کو بہتر بنانے اور زیادہ چمکدار رنگت بنانے کی صلاحیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تیل میں جراثیم کش اور اینٹی سوزش خصوصیات ہوتی ہیں جو جلد کے مختلف حالات جیسے مہاسوں کی ولگریس کو پرسکون کرنے میں مدد کرتی ہیں.

خوبانی کے تیل میں موجود ’لینولیک ایسڈ‘ جیسے ضروری فیٹی ایسڈ بالوں کے فولیکلز کو غذائیت فراہم کرنے اور بالوں کی نشوونما کو فروغ دینے میں مدد کرتے ہیں۔یہ بالوں کے گرنے کو بھی روکتا ہے۔

خوبانی کے تیل میں موجود ’ایمولینٹ ’خصوصیات اسے جلد کی رنگت اور ساخت کےلئے ایک مؤثر علاج بناتی ہیں۔ یہ داغ دھبوں کی ظاہری شکل کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور جلد کی رنگت کو ہموار کرتا ہےجو کہ آپ کو نرم چمکدار رنگت دیتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کو پاکستانی سیاست سے نکالنا ممکن ہے، مل بیٹھنا ہوگا، خواجہ آصف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو پاکستان کے منظر نامے سے مکمل طور پر بے دخل کرنا ہے کہ تو سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔

نجی چینل میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان نے چار سال جس طرح اقتدار کا استعمال کیا، قومی خزانے کا شیرِ مادر کی طرح استعمال کیا، کس طرح 25، 40 ہزار روپے میں سوشل میڈیا وارئیرز بھرتی کیے جاتے تھے، پختونخوا حکومت ان کے فوج، اسٹبلشمنٹ اور امریکا مخالف بیانیے پر پیسہ لٹا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ’روٹی بھی اپنے پلے سے نہیں کھاتا، میں نے ایک دن اسمبلی میں کہا تھا اس کی جیبیں چیک کرو اس کی جیبیں خالی نظر آئیں گی، شام کو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی آکر روٹی کھلا دے۔‘

خواجہ آصف نے کہا کہ شہباز شریف کی قیادت میں ہم نے 16 مہینے معاشی محاذ پر جنگ لڑی ہے، ہم کوئی فاتح نہیں ہوئے، لیکن ہم نے دفاع کرلیا، عزت آبرو کے ساتھ ہم اس سے نکل آئے۔ ملک اگر ڈیفالٹ ہوجاتا تو ڈالر 500 یا 600 پر چلا جاتا، اتنی معاشی ابتری پھیلنی تھی کہ کسی سے سنبھلنی نہیں تھی۔ ’پلان بھی یہی تھا، آپ ٹیلی فون کالیں دیکھیں، پھر جس طرح آئی ایم ایف کو خط و کتابت کی گئی یہ سب کچھ تھا، کہ ہمارے پاس نہیں رہا تو نہ کھیڈا گے نی کھیڈا دواں گے (نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے)‘۔

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کا نام لئے بغیر کہا کہ ان کے ذہنوں میں تصور بھی نہیں ہے کہ ہماری حکمرانی کے بغیر پاکستان کو وجود بھی سلامت رہ سکتا ہے، انہوں نے تباہ کرنے کی پوری کوشش کی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’75 سال میں صرف سیاستدان تو (اقتدار میں) میں نہیں رہے، یا تو اسٹبلشمنٹ نے براہ راست حکمرانی کی، اگر سویلین حکمرانی رہی بھی ہے تو اس میں بھی کسی حد تک عمل دخل کبھی بڑھ گیا کبھی کم ہوگیا لیکن اسٹبلشمنٹ کا رہا‘۔

انہوں نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ کو مکمل طور پر پاکستان کے منظر نامے سے بے دخل کردیا جائے گا یہ ممکن نہیں، ’ممکن ہے، لیکن اس کیلئے جس طرح اس دن میاں صاحب نے اپنی تقریر میں کہا ہم سب کو مل کر بیٹھنا پڑے گا‘۔

پی ٹی آئی الیکشن لڑے گی ، ہمارے ورزات عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف ہیں، اسحاق ڈار

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ لگتا نہیں الیکشن جنوری سے آگے جائیں گے، ہمارے وزارت عظمیٰ کے ہمارے امیدوار نواز شریف ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ نواز شریف کی واپسی سے متعلق عوام کے مثبت جذبات ہیں، سروے بھی ہوا جس میں 80 فیصد عوام نے نواز شریف کی واپسی کو خوش آئند کہا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ سیاسی مخالفین کہتے ہیں نوازشریف کی ایک دن میں 3 ضمانتیں کیسے ہوگئیں، مخالفین کو بتانا چاہتا ہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ایک دن میں 9 ضمانت ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی حلیف بھی نواز شریف کو گرفتار نہ کرنے پر اعتراض اٹھا رہے ہیں، 2007 میں بے نظیر بھٹو کو ٹرانزٹ اپیل کے بغیر ضمانت دی گئی تھی، سیاسی حلیف محترمہ کے 2007 کی ضمانت والے کیس کو بھی دیکھ لیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ کیس میں ثابت ہوچکا ہے کہ کیس غلط بنایا گیا تھا، ایون فیلڈ کیس میں مریم نواز اور صفدر کی بریت سے متعلق فیصلہ آچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو کوئی غیرمعمولی ریلیف نہیں مل رہا، یہ معمول کی بات ہے، نواز شریف سے متعلق ذمہ داروں کے اعترافی بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں، نوازشریف کی تاحیات نااہلی پر بھی سوالیہ نشان ہے، نااہلی سے متعلق آئین خاموش تھا، پارلیمان نے قانون کی وضاحت کردی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا نواز شریف کی صحت سے متعلق آئندہ پنجاب حکومت کے پاس جائیں گے، عدالت نے نواز شریف کو علاج کیلئے 4 ہفتے کا وقت دیا تھا، پنجاب میں بزدار کی حکومت تھی، ہم نے درخواست دی تو اسے مسترد کیا گیا، پنجاب حکومت کواب دوبارہ درخواست دی ہے تو نگراں حکومت نے منظور کی۔

انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ ریفر کرچکا ہے میڈٰیکل سے متعلق پنجاب حکومت سے اجازت لیں، پنجاب حکومت کو میڈیکل دستاویزات دیکھ کر مسترد یا منظور کرنا تھا، پنجاب کی نگراں حکومت نے ہائیکورٹ کی ڈائریکشن کےمطابق کام کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمیں ایک قانونی ریلیف مل رہا ہے تو اس پر شکوہ کیسے کیا جاسکتا ہے، نوازشریف کو قانونی طور پر ریلیف ملا ہے جس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا، نوازشریف کے کیس میں فیصلہ ہوچکا اب نیب کیس واپس نہیں لے سکتی۔ قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ آنے کے بعد نیب ریفرنس واپس نہیں لے سکتا، نیب ریفرنس میں نواز شریف بری ہوں گے، ایک کیس میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے۔

نواز شریف لاڈلے کیلئے سارے ریلیف اور باقیوں کیلئے سختی، پرویزالہیٰ

سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہیٰ کو غیر قانونی بھرتی کیس میں جسمانی ریمانڈ کے لئے عدالت پیش کردیا گیا، انہیں رات گئے اڈیالہ جیل سے اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر لاہور منتقل کیا گیا تھا، عدالت پیشی پر ان کا کہنا تھا کہ شریفوں نے ہمیشہ ججز کے خلاف سخت باتیں کیں، لیکن نواز شریف لاڈلے کیلئے سارے ریلیف اور باقیوں کیلئے سختی۔

سابق وزیراعلیٰ پرویز الہی کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر لاہور منتقل کیا گیا، ان کے خلاف پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کا مقدمہ درج ہے، اور انہیں ایڈیشنل سیشن کے فیصلے کے مطابق لاہور لایا گیا۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ضلع کچہری لاہور میں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کردیا گیا ہے، اور اینٹی کرپشن کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ہے۔

پرویزالٰہی کے وکلا نے عدالت سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ معاملہ ہاٸی کورٹ میں زیر التوا ہے، ہاٸی کورٹ کے حکم کا انتظار کیا جاٸے، اور پرویزالٰہی کے مرکزی وکیل بھی ہاٸی کورٹ میں ہیں۔

دوسری جانب اینٹی کرپشن حکام نے عدالت سے کیس کی سماعت شروع کرنے کی استدعا کی۔

غیر قانونی تقرریوں کا اوپن اینڈ شٹ کیس ہے

ترجمان اینٹی کرپشن نے بتایا کہ پرویز الٰہی کواینٹی کرپشن نے گزشتہ روزاڈیالہ جیل سے تحویل میں لے لیا تھا، سابق وزیراعلیٰ پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی تقرریوں کے کیس میں نامزد ہیں۔

ترجمان اینٹی کرپشن کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی تقرریوں کا اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان نے خلاف ضابطہ تقرریاں کیں۔

نوازشریف لاڈلے کیلئے سارے ریلیف اور باقیوں کیلئے سختی

کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی بات کرتے ہوئے پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ انصاف تو وہ ہے جس کو عوام تسلیم کرے، اور ہوتا نظر بھی آئے۔

پرویزالہیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیشہ اداروں اور عدالتوں کا احترام کیا، جب کہ شریفوں نے ہمیشہ ججز کے خلاف سخت باتیں کیں، لیکن نواز شریف لاڈلے کیلئے سارے ریلیف اور باقیوں کیلئے سختی۔ نواز شریف ججز کے خلاف بولتے ہیں، کیا جج باتیں بھول گئے۔

پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا ٹیم کو سرکاری خزانے سے ادائیگی کا الزام مسترد کردیا

پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا ٹیم کو سرکاری خزانے سے ادائیگی کے الزام کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا ٹیم اور انفلونسرز دونوں الگ تھے، جب کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم نے کبھی اداروں کے خلاف کام نہیں کیا۔

”آج نیوز“ سے خصوصی بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کو سرکاری خزانے سے ادائیگی کا جھوٹا الزام لگایا گیا اور الزامات لگانے والوں نے حقائق جاننے کی کوشش تک نہیں کی۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اس مسئلے پر ہر قسم کی تحقیقات کیلئے تیارہے، خیبرپختونخوا میں سوشل میڈیا انفلونسر تحریک انصاف کیلئے نہیں بلکہ حکومت خیبر پختونخوا کیلئے کام کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انفلونسر سوشل میڈیا پر حکومت خیبرپختونخوا کی اچھی کارکردگی کی تشہیر کرتے تھے، ان سوشل میڈیا انفلونسرز کو سرکاری قواعد و ضوابط پورے کرنے اور اشتہار کے بعد بھرتی کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا انفلونسر پروفیشنل نوجوان تھے ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مخالفین اس پر سیاسی بیان بازی کی بجائے ایف آئی اے یا دیگر اداروں سے اس منصوبے کی تحقیقات کروالیں۔

یرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ مذکورہ اسکیم کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے، جب کہ ان سوشل میڈیا انفلونسرز کا کیس پشاور ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ ان انفلونسر نے کوئی ریاست مخالف مہم چلائی ہو، پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کے لیڈر محمود خان اس وقت وزیراعلی تھے، سوشل میڈیا انفلونسرز پراجیکٹ کا جواب وہ دیں تو بہتر ہوگا۔

صدر مملکت کی جانب سے الیکشن ملتوی ہونے کا تاثر درست نہیں، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کے انٹرویو پر اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ان کے انٹرویو میں تاثرملا کہ انتخابات ملتوی ہوجائیں گے، اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے بھرپور تردید کرتے ہیں۔

سینئیر صحافی حامد میر کے پروگرام میں صدر مملکت عارف علوی سے جب سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو ابھی یقین ہے کہ جنوری کے آخری ہفتے میں الیکشن ہوجائے گا؟ تو جواب میں انہوں نے کہا کہ ’نہیں مجھے یقین نہیں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جب سپریم جوڈیشری نے اس بات کو اپنی نظر میں لے لیا ہے تو وہاں سے بہت ہی مناسب فیصلہ آئے۔

صدر مملکت کے بیان پر الیکشن کمیشن نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ اور کہا ہے کہ صدر عارف علوی کے انٹرویو میں تاثرملا کہ انتخابات ملتوی ہوجائیں گے، الیکشن کمیشن اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے بھرپور تردید کرتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن پہلے ہی واضح کرچکا ہے، حلقہ بندیوں کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے، اور اعتراضات دورکرنے کا دوسرا مرحلہ کل مکمل ہوجائےگا، اعتراضات پر سماعت 30 اکتوبرسے شروع ہوگا۔

سلامتی کونسل اجلاس؛ اسرائیل کی حمایت میں امریکی قرارداد کو روس اور چین نے ویٹو کردیا

جنیوا: غزہ کی صورت حال پر ہونے والا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا تیسرا اجلاس بھی کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا جس میں روس کی جنگ بندی کی قرارداد کی امریکا اور برطانیہ نے مخالفت کی جب کہ امریکی قرارداد کو روس اور چین نے ویٹو کردیا۔ 

العربیہ نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا کی جانب سے غزہ کی صورت حال پر پیش کی گئی قرارداد پر رائے شماری ہوئی جس کے حق میں 10 ارکان نے ووٹ دیا۔

قرارداد کی منظوری کے لیے 9 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکی قراداد جس میں غزہ میں فضائی کارروائی کو اسرائیل کا حقِ دفاع تسلیم کیا گیا تھا اور ایران پر حماس کو اسلحے کی فراہمی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

 

 

یہ قرارداد منظور ہوجاتی لیکن روس اور چین نے امریکی قرداد کو ویٹو کردیا جس کی وجہ سے 9 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے باوجود امریکی قرارداد منظور نہ ہوسکی۔

جس کے بعد غزہ کی صورت حال پر روس کی قرارداد پیش کی گئی۔ روس نے قرارداد میں امدادی سامان کی متاثرہ علاقوں تک رسائی کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

روسی قرارداد کی چین، متحدہ عرب امارات اور گیبون نے حق میں جب کہ امریکا اور برطانیہ نے نفی میں ووٹ اور دیگر نو ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور یوں غزہ پر ہونے والا اقوام متحدہ کا تیسرا اجلاس بھی بے نتیجہ ثابت ہوا۔

اس سے قبل 16 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں روس کی قرارداد کی صرف 5 ارکان نے حمایت کی تھی اور 18 اکتوبر کو برازیل کی قرارداد کو 18 ووٹ ملے اور وہ منظور ہوجاتی لیکن امریکا نے ویٹو کردیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 ارکان ہیں جن میں امریکا، برطانیہ، روس، چین اور فرانس پانچ مستقل ارکان ہیں جب کہ غیر مستقل ارکان میں متحدہ عرب امارات، جاپان، برازیل، سوئٹزرلینڈ، البانیہ، مالٹا، موزمبیق، غنا، گیبون اور ایکواڈور شامل ہیں۔

سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے لیے 9 ارکان کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے لیکن اس کے باوجود 5 مستقل ارکان میں سے کوئی بھی قرارداد کو ویٹو کرکے نامنظور کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیل اور حماس جھڑپوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 6 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 1400 اسرائیلی مارے گئے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی جاری ہے۔ پانی، خوراک اور ایندھن کی فراہمی کی معطل ہے جس کے باعث غزہ کے تمام ہی بڑے اسپتال میں طبی سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں۔

14 لاکھ فلسطینی اسرائیلی دھمکیوں اور مسلسل بمباری کے باعث شمالی غزہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر جنوبی غزہ میں منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے۔ رفح بارڈر سے بھی امدادی سامان کی ترسیل تعطل کا شکار ہے۔

ترکیے نے اسرائیل کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ پر بات چیت ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ترک وزارت توانائی نے تصدیق کر دی

ترکیے نے اسرائیل کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ پر بات چیت ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ترک وزارت توانائی نے تصدیق کر دی

سرائیل اپنی گیس آزربائیجان سے یورپ جانے والی پائپ لائن تاناپ کے ذریعے یورپ کو بیچنے کا خواہاں تھا۔

عرب عراق گیس پائپ لائن کو بھی تاناپ میں شامل کیا جائے گا، روس بھی تاناپ کے ذریعے یورپ کی مارکیٹ تک پہنچنا چاہتا ہے

آرمینا اور جارجیا نے بھی ترکیے کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے بعد اس پائپ لائن کے ذریعے مارکیٹ تلاش کر رہے ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان نے حماس کیخلاف جنگ میں اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کرلی۔

امریکی ایوان نمائندگان نے حماس کیخلاف جنگ میں اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کرلی۔

امریکی ایوان نمائندگان میں 10 ڈیموکریٹس کے علاوہ تمام ارکان نے قراداد کے حق میں ووٹ دیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں اپنا دفاع کر رہا ہے اس لیے اسرائیل کےساتھ کھڑے ہیں

نیویارک کی مقامی عدالت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 10 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کردیا

نیویارک کی مقامی عدالت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 10 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کردیا۔
نیویارک کی مقامی عدالت کے جج آرتھر اینگورون کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف سول فراڈ کیس میں عدالتی عملے پر تنقید کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔
سابق امریکی صدر نے تین ہفتے قبل جزوی گیگ آرڈر کی خلاف ورزی کی تھی، گیگ آرڈر 3 اکتوبر کو ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جج کے پرنسپل لا کلرک کی توہین کرنے پر جاری کیا گیا تھا۔
جرمانہ عائد کرنے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ عدالت کے سامنے گواہوں کے اسٹینڈ پر آئے اور جج سے کہا کہ اپنے ریمارکس کے دوران آپ کے اور کوہن کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔
جج نے ٹرمپ کے وکیل کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف کومسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس خیال کی کوئی منطق نہیں بنتی کہ ٹرمپ کا بیان گواہ کی طرف اشارہ کر رہا تھا، دوبارہ ایسا مت کیجیے گا ورنہ معاملہ اور خراب ہو گا۔
جج کی جانب سے جرمانہ عائد کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ عدالت سے باہر نکل گئے، اس سے قبل 20 اکتوبر کو ڈونلڈ ٹرمپ پر جج کے لا کلرک کیلئے توہین آمیز بیان نہ ہٹانے پر 5 ہزار ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔