All posts by Khabrain News

نگران حکومت کی آئی ایم ایف کا نیا پروگرام لینے کیلئے مشاورت شروع

نگران حکومت نے آئی ایم ایف کا نیا پروگرام لینے کیلئے مشاورت شروع کر دی، نئی منتخب حکومت کو اقتدارمیں آتے ہی آئی ایم ایف پروگرام سائن کرنا ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا نیاپروگرام لینے کیلئے نگراں وفاقی حکومت نے مشاورت شروع کردی ہے، اور نئے پروگرام کیلئے بات چیت رواں ماہ سے شروع کئے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کے بعد ایک اور پروگرام بھی لےگا، نگراں حکومت کے طے شدہ اقدامات منتخب حکومت آگے بڑھائے گی، جب کہ نئی منتخب حکومت کو اقتدار میں آتے ہی پروگرام سائن کرنا ہوگا، عام انتخابات کے بعد آنے والی حکومت نئے پروگرام پرعملدرآمد کرے گی۔

ذرائع کے مطابق معیشت کی مکمل بحالی کیلئےآئی ایم ایف کا ایک اور پروگرام ناگزیر ہے، منتخب حکومت مالی سال2024 – 25 کیلئے بجٹ پر کام کا آغاز کرے گی، اور مالی سال2024- 25 کا بجٹ آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے تحت ترتیب دینا ہوگا، نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد آئندہ بجٹ کی تیاری کیلئے 4 ماہ کا وقت ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور پروگرام موجودہ اقدامات کے بعد معیشت کو مضبوط کرے گا۔

پشاور میں تحریک انصاف کو ورکرز کنونشن کی مشروط اجازت مل گئی

پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو کل ورکرز کنونشن کے لیے مشروط اجازت مل گئی۔

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو کل ورکرز کنونشن کی اجازت کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شرائط بھی بتادیے۔

اعلامیے کے مطابق ضابطہ اخلاق اور سیکیورٹی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کرنا لازمی ہے جبکہ سیکیورٹی انتظامات کی ذمہ داری آرگنائزر کی ہوگی۔

اعلامیے میں لکھا گیا ہے کہ کسی روڈ کو بند نہیں کیا جائے گا جبکہ ریاست کے خلاف نعروں اور کسی گروپ یا پارٹی کے خلاف نفرت انگیز بیانات کی اجازت نہیں ہوں گ جبکہ منتظمین کو پابند بنایا گیا ہے کہ کنونشن کی ویڈیو پولیس کو فراہم کرنا آرگنائزر کی ذمہ داری ہوگی اور پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کو یقینی بنایا جائے۔

اعلامیے میں عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر شرائط کی پاسداری نہ کی گئی تو این او سی منسوخ تصور ہوگا۔

عمران خان سے ملاقات کیلئے اہل خانہ اڈیالہ جیل پہنچ گئے

بشریٰ بی بی، علیمہ خان اور عظمیٰ خان سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل پہنچ گئیں۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے بہنیں اور اہلیہ اڈیالہ جیل پہنچ گئیں، ملاقات کیلئے آنے والی خواتین میں عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی، ہمشیرہ عظمی خانم، علیمہ خان شامل ہیں۔

اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کر دیے

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کر دیے گئے، بانی رہنما پی ٹی آئی اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کر دی۔

درخواست میں استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن نئے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے اور غیرجانبدار تیسرا فریق مقرر کرے جو پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کی نگرانی کرے، شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کرانے تک انتخابی نشان’ بلا‘ استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پی ٹی آئی الیکشن محض دکھاوا، فریب اور الیکشن کمیشن کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش تھی، فراڈ انتخابی عمل نے پی ٹی آئی ارکان کو ووٹ دینے اور انتخاب میں حصہ لینے کے حق سے محروم کر دیا، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ 217 کے سیکشن 208 اور ذیلی شق 2 کی خلاف ورزی ہے۔

اکبر بابر نے درخواست کے ہمراہ ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد بھی الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیے۔ چیف الیکشن کمشنر کے نام تین صفحات پر مشتمل درخواست میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 208کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اکبر بابر نے درخواست میں کہا ہے کہ 30 نومبر2023 کو پی ٹی آئی کور کمیٹی کی پریس ریلیز میں 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا اعلان کیا گیا جس میں نیاز اللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا جبکہ وفاقی سطح پر کمیشن کے کسی اور عہدیدار کا نام نہیں بتایا گیا۔

درخواست میں انہوں نے کہا کہ الیکشن قواعد و ضوابط، شیڈول، کاغذات نامزدگی کا وقت اور طریقہ کار کا نہیں بتایا گیا، کاغذات کی وصولی اور مسترد کرنے کی تاریخ، اپیلوں کی سماعت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا، 2دسمبر تک انتخابات کے بارے میں کسی قسم کی معلومات پی ٹی آئی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں تھیں، یکم دسمبر 2023 کو چار بجکر 45 منٹ پر پی ٹی آئی ارکان کے وفد کے ہمراہ مرکزی سیکریٹریٹ گیا۔

درخواست گزار کے مطابق پی ٹی آئی نمائندے نے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کی، یہ واقعہ قومی ٹی وی چینلز پر دیکھا گیا، اسی روز الیکڑانک میڈیا پر پی ٹی آئی عہدیداروں کے بلامقابلہ انتخاب کی خبریں نشر ہوئیں۔

اکبر بابر نے پی ٹی آئی کی ویب سائیٹ پر جاری ہونے والی خبر بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ متقاضی ہے کہ ہر سطح پر عہدیداروں کا پارٹی آئین کے مطابق پانچ سال کے لیے انتخاب ہو، قانون کے مطابق سیاسی جماعت کے ہر رکن کو یکساں انداز میں کسی بھی عہدے پر انتخاب لڑنے کی اجازت ہوگی اور قانون کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کا الیکٹورل کالج ہوگا، انتخابی کالج وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر پارٹی کی جنرل کونسل پر مشتمل ہوگا۔

اکبر ایس بابر نے اپنی درخواست میں موقف دیا ہے کہ قانون کے مطابق سیاسی جماعت مرکزی عہدیداروں اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کی تازہ ترین فہرست جاری کرنے کی پابند ہے، اس میں کسی تبدیلی کے بارے میں الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا جائے گا، اب بھی پی ٹی آئی رکن ہوں، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلہ دے چکے ہیں۔

درخواست گزار نے موقف دیا کہ حقیقی جمہوری جماعت بنانے اور نظریاتی رکن کے طور پر پی ٹی آئی کو اپنی زندگی کے بہترین سال ہا سال دے چکا ہوں، انصاف کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں، سیاسی جماعتیں مستقبل کی سیاسی قیادت کی نرسریاں ہوتی ہیں۔

اکبر بابر نے موقف دیا کہ الیکشن ایکٹ2017 اور انتخابی قواعد قانونی فریم ورک کا تقاضا ہے کہ جمہوری انتخابی عمل سے سیاسی جماعتوں میں قیادت منتخب ہو، سیاسی جماعتوں میں جعلی انٹرا پارٹی الیکشن کے عمل کو ختم کیا جائے، تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو انتخابی قوانین اور ضابطوں کا پابند بنایا جائے، معاشرے اور ملک کو درپیش مسائل سے نکلنے کا یہی ایک واحد طریقہ ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 23 نومبر2023 کو 20 دن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

امریکی وفد کی پاکستانی حکام سے دفترخارجہ میں ملاقات

امریکی وفد نے اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ جولیٹ ویلز کی قیادت میں پاکستانی حکام سے دفتر خارجہ میں ملاقات کی، جس میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم بھی ملاقات میں شریک تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ امریکی وفد نے پاکستانی وفد سے دفترخارجہ میں ملاقات کی، امریکی وفد کی قیادت اسسٹینٹ سیکریٹری آف سٹیٹ جولیٹ ویلز نے کی، جب کہ نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف درانی نے پاکستانی وفد کی قیادت کی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں غیر قانونی غیر ملکیوں کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، امریکا میں آباد کاری کے منتظر25000 افغانیوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔

ذرائع نے بتایا کہ اس ملاقات میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم بھی شریک تھے۔

تھائی لینڈ میں ڈبل ڈیکر بس درخت سے ٹکرا گئی، 14 افراد ہلاک

بنکاک: تھائی لینڈ کے دارالحکومت میں ڈبل ڈیکر مسافر بردار بس خوفناک حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں مسافر بس سدرن ٹرمینل سے 46 مسافروں کو لے کر سونگخلا کے ضلع نتھاوی جا رہی تھی کہ حادثے کا شکار ہوگئی۔

مسافر بس ممکنہ طو پر تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور سے بے قابو ہوکر ایک درخت سے جا ٹکرائی۔ تصادم اتنا خوفناک تھا کہ بس کے اگلے حصے کے دو ٹکڑے ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مسافر بس کے بریک فیل ہوجانے کا امکان بھی ہے۔ اصل صورت حال تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔ حادثے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔

زخمیوں میں سے 13 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تھائی لینڈ میں روڈ ایکسیڈنٹ میں ہونے والی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر سال تقریباً 20 ہزار افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔

ٹریوس ہیڈ کا سہواگ سے موازنہ؛ سابق بھارتی کرکٹر نے سوال کو ’بیہودہ‘ قرار دیدیا

آئی سی سی ورلڈکپ فائنل میں بھارتی ٹیم کی شکست پر سابق کرکٹرز انتک چراغ پَا ہیں۔

مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران ایک مداح نے سابق بھارتی کرکٹر اجے جڈیجا سے سوال کیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ آسٹریلوی بیٹر ٹریوس ہیڈ ہندوستانی اوپنر وریندر سہواف کی طرح کھیلتے ہیں؟ انکا ہینڈ آئی کو آرڈینشن بلکل سہواگ کی طرح ہے اور ٹیسٹ میں بھی 100 کے اسٹرائیک ریٹ سے چھکے چوکوں کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہیں۔

جس پر سابق بھارتی کرکٹر اجے جڈیجا نے لڑکے کی عمر پوچھی اور بعدازاں انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس لڑکے نے وریندر سہواگ کو دیکھا ہے تو یہ ‘بیہودہ سوال’ ہے، ایک دائیں ہاتھ کا کرکٹر تھا دوسرا بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتا ہے، سہواگ پہلی بال سے شاٹس کھیلتا تھا۔

دوسری جانب سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ نے ٹریوس ہیڈ کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہ کہ وہ دنیا کے 3، 4 بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جس نے تینوں فارمیٹ میں خود کو ایڈجیسٹ کیا ہے، انکا ٹیسٹ ریکارڈ شاندار ہے۔

اس سے قبل آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے ورلڈکپ فائنل میں جیت کے بعد ٹریوس ہیڈ کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ انکی بیٹنگ نے حریف ٹیم پر دباؤ بڑھایا جس نے آسٹریلیا کیلئے جیت کی راہ ہموار کی۔

کلاسیکل گلوکار حسین بخش گلو انتقال کر گئے

لاہور: نامور کلاسیکل گلوکار حسین بخش گلو لاہور میں انتقال کرگئے۔

گلوکاراستاد حسین بخش گلو طویل عرصے سے بیمار تھے۔ ان کی عمر 75 سال تھی۔ حسین بخش گلو کلاسیکی موسیقی کے مشہور شام چوراسی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ استاد حسین بخش گلو لاہور میں الحمرا اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس سے وابستہ تھے۔

ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمرا طارق محمود چوہدری نے کلاسیکل گائیک استاد حسین بخش گلو کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ استاد حسین بخش گلو گائیکی میں ایک چمکتا ستارہ تھے جنہوں نے اپنے فن سے ملک وقوم کا نام روشن کیا۔

سعودیہ کی اپنے شہریوں کو پاکستان سمیت 25 ممالک کے سفر سے گریز کی ہدایت

ریاض: سعودی عرب نے اپنے شہریوں کی صحت اور حفاظت کے پیش نظر سفری ہدایت نامہ جاری کیا جس میں پاکستان سمیت 25 ممالک جانے سے اجتناب برتنے کا کہا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ سعودی شہری پاکستان، افغانستان، بنگلادیش، عراق، شام، نیپال، نائیجریا اور بھارت سمیت 25 ممالک کے سفر سے حتی الامکان گریز کریں۔

سعودی محکمہ صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ہدایات اپنے شہریوں کو کورونا سمیت پولیو، ڈینگی، ملیریا، ہیضہ، منکی پاکس اور خسرہ جیسی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے جاری کی گئی ہیں۔

سعودی محکمہ صحت کے مطابق یہ متعدی بیماریاں صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں اور ان ممالک میں ایسی بیماریوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے صحت کے نظام کے پیش نظر بھی سفر سے گریز کریں۔

دوسری جانب ان ممالک سے سعودی عرب پہنچنے والے مسافروں کی بھی صحت کی جانچ کے نظام کو سخت کیا جا رہا ہے تاکہ مملکت میں یہ بیماریاں وبا کی صورت میں نہ پھیل سکیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے کورونا وبا کے دوران حج اور عمرے کے لیے بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے اور صرف سعودیہ میں مقیم زائرین کو حج اور عمرے کی محدود اجازت تھی۔

بھارت میں بی جے پی کی پے درپے کامیابیوں سے ووٹنگ مشینوں پر سوالات اٹھ گئے

مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات میں بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی پے در پے کامیابیوں کے باعث اپوزیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر سوالات اٹھادیے۔

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ڈگ وجئے سنگھ کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کی ساکھ پر سوال اٹھائے جانے پر کے بعد بی جے پی نے حزب اختلاف کو آڑے ہاتھوں لیا۔

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا تھا کہ چِپ والی کسی بھی مشین کو ہیک کیا جاسکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ وہ 2003 سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعہ ووٹنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔

مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس یہ تمام الزامات شکست کا سامنا کرنے کے بعد ہی لگاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ، ’کانگریس نے تلنگانہ، ہماچل پردیش اور کرناٹک میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن انہوں نے اس وقت ای وی ایم کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ کانگریس لیڈر پرمود کرشنا نے صحیح کہاتھا ، ’اگر آپ سناتن کی توہین کرتے ہیں، تو یہ کانگریس کا مقدر ہوگا‘۔ یہ انڈیا الائنس نہیں بلکہ تکبر کا اتحاد ہےجس کا ٹوٹنا یقینی ہے‘۔

بی جے پی کے پاس اب 12 جبکہ کانگریس کے پاس 3 ریاستیں ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشین ) پر سوال اٹھاتے ہوئے بیلٹ پیپر کے انتخابات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ، ’جمہوریت تبھی مضبوط ہوگی جب وہ امریکا اور جاپان کی طرح کام کرے گی۔ وہاں ووٹوں کی گنتی میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ اگر کوئی ایک ماہ تک ووٹ ڈالتا ہے تو گنتی میں بھی ایک مہینہ لگتا ہے۔ اگر امریکا اور جاپان میں بیلٹ پیپر کا نظام ہے تو ہمیں اسے بھی اپنانا چاہیے۔ اور وقت لیکرگنتی کی جانی چاہیے، جلد بازی میں نہیں‘۔

کئی اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے ای وی ایم کو مورد الزام ٹھہرائے جانے کے باوجود کانگریس لیڈر کارتی چدمبرم نے کہا کہ انہیں ای وی ایم پر پورا بھروسہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کے بارے میں میری ذاتی رائے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ مجھے ای وی ایم پر پورا بھروسہ ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیامان کارتی چدمبرم نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی مایوس کن کارکردگی کے لیے قائدین کی جانب سے ای وی ایم کو مورد الزام ٹھہرائے جانے پر کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پارٹی کے بہت سے ساتھیوں کی رائے مختلف ہے لیکن میں ذاتی طور پر ہمیشہ ای وی ایم کے بارے میں بہت پراعتماد رہا ہوں۔

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ فاروق عبداللہ بھی ان اپوزیشن رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے ای وی ایم پر سوال اٹھایا اور کہا، ’جب یہ مشین کانگریس حکومت کے دوران متعارف کرائی گئی تھی تو میں وزیر اعلیٰ تھا۔ اس وقت ہم نے الیکشن کمیشن سے پوچھا تھا کہ کیا کوئی ’چوری‘ ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا تھا کہ ہاں یہ ممکن ہے۔ اس مشین کو درست کرنے کے لئے ایک طریقہ تلاش کرنا ہوگا تاکہ لوگوں کا اس پر اعتماد برقرار رہے۔

اسمبلی انتخابات کے نتائج
بی جے پی نے اتوار کے روز مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس کو زبردست شکست دے کر ہندی پٹی میں اپنی گرفت مضبوط کی۔

مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے 230 اسمبلی نشستوں میں سے 163 پر کامیابی حاصل کی جبکہ کانگریس کو 66 اور بھارت آدیواسی پارٹی کو ایک نشست ملی۔

راجستھان میں بی جے پی نے 115 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے متاثر کن کامیابی حاصل کی ہے کیونکہ ریاست میں گزشتہ 30 سال میں ایک برسراقتدار پارٹی دوبارہ اقتدار میں نہیں آئی ۔ کانگریس 69 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

چھتیس گڑھ میں بی جے پی نے کانگریس کو شکست دے کر زبردست کامیابی حاصل کی۔ چھتیس گڑھ میں بھگوا پارٹی نے 54 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ سب سے پرانی پارٹی 35 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔