All posts by Khabrain News

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، درآمدات کم، محصولات، سرمایہ کاری زیادہ، معاشی اشاریے مثبت

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے ملک کو درپیش اقتصادی بحران سے نکالنے کیلیے اقدامات کے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) سے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی جبکہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے ریونیو میں25 فیصد اضافہ ہوا البتہ ترسیلات زر میں 19.8فیصد، برآمدات میں5فیصد اور درآمدات میں23.8 فیصد کمی واقع ہوئی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق پٹرول، ڈیزل مزید سستا، روپیہ تگڑا ہونے سے مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔ رواں ماہ مہنگائی 27 سے 29 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ جولائی تا ستمبرایف بی آرکا ریونیو2 ہزار42 ارب رہا، نان ٹیکس ریونیو114.7فیصد بڑھ گیا، تین ماہ میں453 ارب روپے جمع ہوئے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں58 فیصد کمی ہوئی جو 90کروڑ ڈالر پر آ گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا جو تین ماہ میں40کروڑ 23 لاکھ ڈالر رہی۔ مالی خسارہ17.6فیصد اضافہ کے بعد 3 ماہ میں963 ارب روپے رہا۔

کپاس کی پیداوار میں126فیصد، چاول18فیصد، لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 0.5 فیصد جبکہ زرعی قرضوں کی فراہمی میں30فیصد اضافہ ہوا، زرعی قرضوں کے مد میں499 ارب روپے تقسیم کئے گئے۔ ماہانہ بنیادوں پر نمو کی شرح8.4 فیصد دیکھنے میں آئی۔

ڈیری مصنوعات، خوردنی تیل، گوشت سمیت غذائی اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی جبکہ چینی اور سیریلز سمیت بعض اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ایک سال میں ڈالر77روپے مہنگا ہوا اور220 سے279 روپے تک چلا گیا جبکہ پالیسی ریٹ15فیصد سے بڑھ کر22 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق تین ماہ کے دوران ترسیلات زر19.8فیصد کمی کے ساتھ6.3 ارب ڈالر رہی،5 فیصد کمی سے برآمدات7 ارب ڈالر رہیں۔ غیر ملکی درآمدات23.8 فیصد کمی سے جولائی تا ستمبر12.5ارب ڈالر رہیں۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق آنے والے مہینوں اور سال میں مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی رہے گی جس سے افراط زر کے دبائو میں بھی بہتری آئے گی۔ 24 اکتوبر2023 کو زرمبادلہ کے ذخائر کاحجم12.589ارب ڈالر ریکارڈکیاگیا جو گزشتہ سال 24 اکتوبرکو13.09ارب ڈالر تھا۔

جولائی سے ستمبر تک کی مدت میں صارفین کیلئے قیمتوں کا اشاریہ29فیصد ریکارڈکیاگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں25.1 فیصد تھا۔ ستمبر کے مہینے میں اشاریہ31.4فیصد تھا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں23.2فیصد تھا۔ مالی سال کے پہلے2 ماہ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں سالانہ بنیادوں پر15.6فیصد کی نمو ریکارڈکی گئی۔

اعدادوشمار کے مطابق20 اکتوبر 2023 کو مارکیٹ کی کیپٹلائزیشن کا حجم7.38 ٹریلین روپے تھا جو 3 جولائی 2023 کو 6.69 ٹریلین روپے تھا۔ مارکیٹ کیپٹیلائزیشن میں10.3فیصد کی شرح سے نمو ریکارڈکی گئی ہے۔

آئی ایم ایف وفد 70 کروڑ ڈالر قسط پر مذاکرات کیلیے کل پاکستان آئیگا

اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان70 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کیلیے مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونگے، جس کیلیے آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 2 نومبر سے پاکستان آئے گا اور پہلی سہہ ماہی کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

ذرائع کے مطابق جائزہ مشن کی قیادت ناتھن پورٹر کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی جائزے کیلیے پاکستان کی معاشی ٹیم کی جانب سے کی جانے والی تیاریاں حتمی مراحلے میں داخل ہوچکی ہیں اور پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اسٹرکچرل اہداف حاصل کرلیے ہیں اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد یہ اہم ترین شرط بھی پوری کردی گئی ہے۔

اسی طرح گردشی قرضے بھی مقررہ حد میں ہیں، مالیاتی خسارہ بھی طے شدہ ہدف کے مطابق ہے،ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں طے شدہ ہدف سے بھی زائد ہیں، تاہم بجٹ خسارے کیلیے درکار بیرونی فنانسنگ کے حوالے سے کچھ مشکلات درپیش ہیں لیکن چین، یو اے ای اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی جانب سے کروائی جانے والی یقین دہانیوں کے باعث یہ معاملہ بھی باآسانی طے پاجائے گا۔

ڈالر اور پٹرول سستا ہونے کے باوجود غذائی اشیا سستی نہ ہوئیں

لاہور: ڈالر کی قدر اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوئی۔

ہول سیل ڈیلرز اور کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں کمی کے دعوؤں کے باوجود اور پرائس کنٹرول کا سرکاری نظام غیر موثر ہونے کی وجہ سے پرچون فروشوں نے صارفین کیلیے قیمتیں کم نہیں کیں۔

پرچون فروشوں کا موقف ہے انھوں نے مہنگے داموں مال خریدا تھا اس لیے فوری قیمتوں میں کمی ممکن نہیں، نئی قیمت پر مال خریدیں گے تو کم قیمت پر بیچیں گے۔

ذرائع کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت چند مقامی کمپنیوں نے اپنی اشیا کی قیمتوں میں اس وقت مزید اضافہ کیا ہے جب ڈالر سستا ہو رہا ہے، چیک اینڈ بیلنس کا سخت نظام نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو ریلیف نہیں مل رہا، چند ہفتے قبل اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر332 روپے تک پہنچنے کے دوران دیگر تمام اشیاکی طرح فوڈ آئٹم کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ ہوا تھا۔

ایک صارف حمد اللہ نے کہا مہنگائی کا اصل سبب حکومت کی کمزور گرفت ہے، اگر یہ نظام درست ہو جائے تو مہنگائی میں کمی آ سکتی ہے۔

ہرشا بھوگلے نے پاکستان ٹیم میں تنازعات کا ذمہ دار ’’لاہور قلندرز‘‘ کو قرار دیدیا

معروف بھارتی کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے پاکستان کرکٹ ٹیم میں مسائل کا ذمہ دار لاہور قلندرز کو قرار دیدیا۔

کرکٹ کی نامور ویب سائٹ کرک بز کو دیئے گئے انٹرویو میں ہرشا بھوگلے نے کہا کہ لاہور قلندرز کی فرنچائز کرکٹ کی دنیا میں کافی بااثر ہے، جس کی وجہ سے تنازعات جنم لے رہے ہیں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ قیادت کا شور کہاں سے آرہا ہے۔

بھوگلے نے بطور کپتان شاہین آفریدی کے انتخاب پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انجریز کی وجہ سے قیادت ان کیلئے بوجھ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممکنہ کپتان کے طور پر شاہین آفریدی کا نام بہت زیادہ لیا جاتا رہا ہے، وہ لاہور قلندرز کو ٹائٹل بھی جتوا چکے ہیں، جس نے انکی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا لیکن انکی انجریز تشویش کا باعث ہیں۔

ہرشا بھوگلے نے سوال اٹھایا کہ کیا ہوگا اگر پاکستان اگلے تینوں میں جیت جاتا ہے، نیوزی لینڈ کی فتح، اچانک پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ جاتا ہے، کیا یہ بابر کو ایک اچھا کپتان بنادیگا اور شاہین دعویدار نہیں رہیں گے۔

دوسری جانب ورلڈکپ میں مسلسل 4 شکستوں کے بعد قومی ٹیم کو بنگلادیش کے خلاف میچ میں کامیابی نصیب ہوئی ہے جبکہ سیمی فائنل کھیلنے کی امیدوں کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے اگلے دونوں میچز جیتنا ہوں گے اور نیوزی لینڈ کی ہار کی دعا کرنا ہوگی۔

فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کا میٹا کی نئی سروس پر شدید ردِ عمل

کیلیفورنیا: فیس بک اور انسٹاگرام صارفین نے دونوں پلیٹ فارمز پر اشتہارات ہٹانے کے لیے لانچ کی جانے والی نئی پیڈ سروس کے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

دونوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مالک کمپنی میٹا کے مطابق کمپنی کی جانب سے سبسکرپشن آپشن کی لانچ یورپی یونین کے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی پیشِ نظر کی گئی ہے۔

نئی تبدیلی کے بعد کروڑوں صارفین کو پلیٹ فارم کے متعلق فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ یہ ایپ اشتہارات کے ساتھ استعمال کرنا چاہیں گے یا پھر اشتہارات کو ہٹانے کے لیے معاوضہ ادا کریں گے۔

تاہم، صارفین نے میٹا کے منصوبے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے پیسے دینے کے بجائے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ماہانہ سبسکرپشن پیکج میں ویب صارفین 10.57 ڈالرز جبکہ آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کو 13.75 ڈالرز ادا کرنے ہوں گے۔

میٹا کے اس فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے ایک صارف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ اس کے لیے ادائیگی کون کرے گا؟ جبکہ ایک صارف نے لکھا ’الوداع‘۔

ایک اور ایکس صارف نے لکھا کہ ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے لیے ہر مہینے 10 یورو کون ادا کرے گا۔

ایک صارف نے میٹا سربراہ مارک زکر برگ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایکس سربراہ ایلون مسک کی نقل کر رہے ہیں۔ براہ مہربانی تھوڑے تخلیقی ہوجائیں۔

گھریلو گیس کا زیادہ سے زیادہ بل 1300 آئیگا، وزیر توانائی

اسلام آباد: نگران وزیر توانائی محمد علی نے کہا ہے کہ گھریلو گیس کا زیادہ سے زیادہ بل 1300 آئیگا۔

نگران وزیر توانائی محمد علی نے کہا ہے کہ ملک کا خسارہ ختم کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ضروری تھا، ماضی میں گیس کی قیمتیں بتدریج بڑھائی جاتیں تو آج ہمیں اتنا زیادہ اضافہ نہ کرنا پڑتا۔

اسلام آباد میں نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر توانائی محمد علی نے کہا پریس کانفرنس کا مقصد عوام کو گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات سے آگاہ کرنا ہے، مجبوری کے تحت ملکی مفادات میں یہ فیصلہ کرنا ضروری تھا، ہم نے گھریلو صارفین میں سے 57 فیصد کا بنیادی ٹیرف نہیں بلکہ 400روپے کا فکسڈ چارج لگا دیا تاکہ 57 فیصد عوام پر بوجھ نہ پڑے، اس کے بعد ان کا زیادہ سے زیادہ بل1300آئے گا، اس سے زیادہ کسی کا نہیں آئے گا، اس کے علاوہ دیگر صارفین کا ٹیرف ان کے استعمال کے مطابق بڑھتا جائے گا، تندور کے لیے گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ چند سال قبل تک پاکستان کے اپنے گیس سے ہی پوری گیس عوام کو دے دی جاتی تھی اور انڈسٹری بھی چلا لیتے تھے، گزشتہ 10برس سے ہمارے گیس کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے ہمیں آر ایل این جی درآمد کرنی پڑتی ہے، یہ مہنگی گیس ہوتی ہے جس کی قیمت ہماری مقامی گیس سے دگنی سے بھی زیادہ ہے، جب یہ عوام کو فراہم کی جاتی ہے تو اس کی قیمت میں210ارب روپے کا فرق آتا ہے۔

محمد علی نے کہا ہے کہ اگر گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہوتا تو سوئی کمپنیوں کا ریونیو 513ارب روپے ہوتا جبکہ ضرورت 916 ارب کی تھی، 400 ارب کے اس نقصان میں سے 191ارب کا نقصان ہمارے اپنے ذخائر پر ہوتا، گیس کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں تو گردشی قرضہ بڑھتا رہے گا اوربالآخر ایک دن پاکستان کے پاس ادائیگی کے لیے پیسے نہیں ہوں گے،بجٹ خسارہ بڑھ رہا تھا، اس لیے ہمیں ادھار لینا پڑ رہا تھا جس کے سبب سود کی شرح اور مہنگائی دونوں بڑھتی چلی گئیں۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت گھریلوں صارفین کی سبسڈی ختم کر رہی ہے لیکن فرٹیلائزر اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے بارے میں خاموش ہے، جنھوں نے گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ( جی آئی ڈی سی) کی مد میں 500 ارب روپے ادا کرنے تھے، یہ دونوں سیکٹر ہائی سبسڈی کے حامل ہیں لیکن جی آئی ڈی سی دینے سے انکاری ہیں، جس کی وجہ سے حکومت روس کی تعاون پاکستان گیس اسٹریم پائپ لائن پراجیکٹ پر کام کرنے سے قاصر ہے۔

حلقہ بندیوں سے متعلق اعتراضات پر سماعت کیلیے الیکشن کمیشن کے بینچ مقرر

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ بندیوں سے متعلق اعتراضات پر سماعت کے لیے بینچ مقرر کر دیے۔

حلقہ بندیوں پر اعتراضات آج سے سنیں جاٸیں گے۔

پہلا بینچ آج سے اسلام آباد، شکارپور، خضدار، سیالکوٹ اور راجن پور کے اضلاع کی حلقہ بندیوں پر اعتراضات سنے گا جبکہ آج ہی دوسرا بینچ کرم، اٹک، جہلم، ننکانہ صاحب، کوہاٹ اور کورنگی کے اضلاع کی حلقہ بندیوں کے اعتراضات سنے گا۔
جمعرات دو نومبر کو ملیر، سانگھڑ، سوات، ہری پور، چکوال اور پشین کے اضلاع کی حلقہ بندیوں کے اعتراضات کی سماعت ہوگی جبکہ کل ہی مردان، کراچی ایسٹ، موسیٰ خیل، لودھراں، نوشہرو فیروز اور حب کے اضلاع کی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی سماعت ہوگی۔

الیکشن کمیشن میں 680 سے زائد اعتراضات دائر ہوئے ہیں۔

غیر قانونی مقیم افراد کو دی گئی مہلت ختم، کیمپوں پر نفری تعینات، ملک گیر آپریشن شروع

کراچی: ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد ہوڈنگ کیمپوں پر پولیس تعینات کردی گئی ہے، جس کے بعد انخلا کے لیے ملک گیر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

کراچی سمیت ملک بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو واپس جانے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی مہلت گزشتہ شب ختم ہو گئی، جس کے بعد تاحال غیر قانونی طور پر رہنے والوں کی واپسی کے لیے ملک گیر آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لیے بنائے گئے ہولڈنگ کیمپ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

غیر ملکی تارکین وطن کو پرانا حاجی کیمپ میں رکھا جائے گا۔ اس دوران واپسی کے لیے اندراج نہ کروانے والوں اور چھپ کر غیر قانونی طور پر رہنے والوں کے انخلا کے لیے بھرپور آپریشن کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق شہر قائد میں غیر قانونی طور پر مقیم باشندوں کی سب سے بڑی تعداد ڈسٹرکٹ ایسٹ، سہراب گوٹھ اور اطراف میں آباد ہے۔ کراچی میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 65 ہزار تارکین وطن رہائش پذیر ہیں۔

دوسری جانب لیویز حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں غیر قانونی طور پر رہنے والے افغانوں کی بڑی تعداد واپس جانے کے لیے چمن پہنچ چکی ہے، جہاں افغان مہاجر خاندانوں کا اندراج کرنے کے بعد انہیں کیمپوں میں رکھا جا رہا ہےجہاں اب تک تقریباً 5 ہزار افغان مہاجر پہنچ چکے ہیں۔

اُدھر خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں اب تک 51 ہزار 44 غیر ملکیوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ اس سلسلے میں دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں میں 24 ہزار سے زائد مرد و خواتین جب کہ 25 ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔

غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کی سب سے زیادہ تعداد پشاور میں 22 ہزار 752 ہے، جس میں 5 ہزار 8 26 مرد، 5 ہزار 8 سو خواتین اور 11 ہزار بچے شامل ہیں۔ نوشہرہ میں غیر قانونی رہائش پذیر غیر ملکیوں کی تعداد 7 ہزار 185، خیبر میں 5 ہزار 173،مانسہرہ میں 27 سو غیر ملکی مقیم ہیں۔

ہری پور میں 25 سو، مردان میں 19 سو، کوہاٹ میں 15 سو، چارسدہ میں 11 سو 57،،ڈی آئی خان میں 11 غیر ملکیوں کی شناخت ہوچکی ہے۔ ہنگو میں 961،کرک 146،بنوں 363،ملاکنڈ میں 207،ٹانک میں 171 سوات میں 7،ایبٹ آباد میں 145 نے غیر قانونی طور پر رہائش اختیار کررکھی ہے۔ کرم میں 95، چترال میں 91،لکی مروت میں 30 اور باجوڑ میں 27 غیر قانونی طور پر رہنے والوں کا پتا چلایا گیا ہے۔

افغان کمشنریٹ ذرائع کے مطابق غیر قانونی غیر ملکیوں کی بے دخلی کا مرحلہ شروع کردیا گیا ہے۔ یکم سے 31 اکتوبر تک ایک لاکھ 4085 افراد پر مشتمل 5 ہزار 265 خاندان وطن واپس لوٹ گئےہیں۔

گوگل نے اپنا ڈوڈل ’انکل سرگم‘ کے نام کردیا، سالگرہ کی مبارکباد

کراچی: دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنا ڈوڈل پاکستان کے مشہور پپٹ ’انکل سرگم‘ کے نام کردیا۔

انکل سرگم کے نام سے فاروق قیصر نے ایک پتلی کا کردار تخلیق کیا تھا جو کئی دہائیوں تک ٹی وی اور ریڈیو پر نشر ہونے والے مقبول پپٹ شو کا مرکزی کردار تھا۔ فاروق قیصر نے انکل سرگم کو اپنی آواز دی تھی۔ فاروق قیصر معروف رائٹر، فنکار، صحافی، پپٹ میکر، کارٹونسٹ اور استاد تھے۔

گوگل نے فاروق قیصر کی فنکارانہ صلاحیتوں کے اعتراف میں ان کی 78 ویں سالگرہ پر اپنے ڈوڈل کو انکل سرگم میں تبدیل کردیا۔ گوگل کے آئیکون پر کلک کرتے ہی پرانی طرز کی ٹی وی اسکرین سامنے آتی ہے جس میں انکل سرگم ہاتھ اٹھائے کچھ معنی خیز بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ساتھ ہی ایک اور مقبول کردار ماسی مصیبتے بھی بیٹھی ہیں۔

ڈوڈل پر کلک کرنے سے فاروق قیصر( انکل سرگم) سے متعلق معلومات دکھائی دینے لگتی ہیں۔ فاروق قیصر 31 اکتوبر 1945 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گریجویشن نیشنل کالج آف فائن آرٹس لاہور سے کی جبکہ اسی مضمون میں ماسٹرز رومانیہ سے کیا اور اس کے بعد کیلیفورنیا کی یونیورسٹی سے ابلاغیات کی ماسٹر ڈگری حاصل کی۔

فاروق قیصر نے 70 کی دہائی میں فنی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدا میں انہوں نے ریڈیو اور پی ٹی وی کے لیے خاکے لکھے تاہم انہیں 1976 میں انکل سرگم کے کردار سے شہرت ملی۔

ہم جاننا چاہتے ہیں فیض آباد دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا، چیف جسٹس

اسلام آباد: فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم جاننا چاہتے ہیں دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ دیکھ لیں۔ اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ابصار عالم یہاں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں بتایا گیا وہ راستے میں ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ابصار عالم نے وزرات دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزام لگائے ہیں اور کیا اب بھی آپ نظرثانی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جا چُکی ہے۔ ابصار عالم عدالت پہنچ گئے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ابصار عالم کے الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ وزرات دفاع سے متعلق ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب قائم ہوئی ہے؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی 19 اکتوبر کو قائم کی گئی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن کہاں ہے؟ رپورٹ کس کو دے گی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیٹی وزارت دفاع کو رپورٹ جمع کرائے گی، پہلا اجلاس 26 اکتوبر کو ہوچکا، کمیٹی رپورٹ عدالت میں بھی پیش کی جائے گی۔