All posts by Khabrain News

سری لنکن بورڈ اور وزارت کھیل میں تلخیاں بڑھ گئیں

کولمبو: سری لنکن کرکٹ بورڈ اور وزارت کھیل میں تلخیاں مزید بڑھ گئیں جب کہ دونوں طرف سے الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے معطلی کے فیصلے اور اسپورٹس منسٹری کی طرف سے ارجنا رانا ٹنگا کو عبوری چیف بنانے کی دھمکیوں کے باوجود سری لنکن بورڈ ملک میں کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

صدر رانیل وکرما سنگھے کے لہجے میں نرمی آئی اور وہ بورڈ کے سربراہ شمی سلوا کی جانب سے آئی سی سی کو ارسال کیے جانے والے 3خطوط کا جائزہ لے رہے ہیں، ان کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ متنازع صورتحال کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب وزارت کھیل کا رویہ صدر مملکت سے قطعی مختلف ہے،عہدیداروں نے تنقیدی محاذ کھول رکھا ہے، کرپشن کے سنگین الزامات بھی لگائے جارہے ہیں۔

دریں اثنا سری لنکن بورڈ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ منسٹری کو دیے جانے والے 289ملین روپے کی گرانٹ کے استعمال میں بڑی گڑبڑ سامنے آئی،اخراجات اور فراہم کی جانے والے دستاویزات کے ریکارڈ میں واضح فرق نظر آرہا ہے۔

وانندو ہسارنگا اور دشمانتھا چمیرا کی ورلڈکپ اسکواڈ میں شمولیت کی راہ میں وزارت رکاوٹ بنی، فٹنس حاصل ہوتے ہوئے دونوں کرکٹرز کو میگا ایونٹ کے دوران بھی بھارت بھیجا جاسکتا تھا مگر اس میں روڑے اٹکا دیے گئے،اس حوالے سے الزامات کا جواب دینے کے بجائے ایس ایل سی کے معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں ملکی ساکھ بھی پامال ہوئی۔

بھارت کی 34 سال سے جاری ریاستی دہشت گردی، 96 ہزار کشمیری شہید

سری نگر: بھارت نے گزشتہ 34 سال کے دوران اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں میں 96 ہزار 275 شہریوں کو شہید کیا۔

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 34 سال کے دوران اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں میں 96 ہزار 275 شہریوں کو شہیدکیا جن میں 2352 خواتین بھی شامل ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے ہفتہ کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 11,259 خواتین کی بے حرمتی کی۔

حریت رہنما آسیہ اندرابی سمیت دو درجن سے زائد خواتین گزشتہ پانچ سال سے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل اور بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرکی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔

خواجہ فردوس، سید بشیر اندرابی، محمد شفیع لون، یاسمین راجہ، زمرودہ حبیب، فیاض حسین جعفری اور سید سبط شبیر قمی سمیت کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں نے بیانات میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بدترین شکار ہیں۔

نئی دہلی کے زیر کنٹرول ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے ضلع شوپیاں میں غیر قانونی طور پر نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور معروف عالم دین مولانا سرجان برکاتی کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا۔

اسلام دشمن گیرٹ ولڈر نے فلسطینیوں کو اردن میں بسانے کا نظریہ پیش کردیا

نیدرلینڈز کے مشہور سیاست دان گیرٹ ولڈر ن حال میں ہی پارلیمانی الیکشن میں کامیابی کے بعد فلسطینیوں کو اردن میں بسانے کا نظریہ پیش کردیا۔

گیرٹ ولڈرز نے اردن کو فلسطین قراردیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو آزاد فلسطینی ریاست نہیں ملنی چاہیے۔ ان کے اس بیان کی عرب ممالک کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔

نیدرلینڈز کے الیکشن میں گیرٹ ولڈرز کی پارٹی مجموعی 150 نشستوں میں سے 37 نشستیں لیکر سب سے آگے ہے، جبکہ اِس کے مقابلے میں کنزرویٹو پیپلز پارٹی 24 اور بائیں بازو کی لیبر گرین کولیشن 25 نشستیں حاصل کرپائی تھیں۔

گیرٹ ولڈران کی پارٹی کے منشور میں مساجد، قرآن اور سرکاری عمارتوں میں حجاب پر پابندی شامل ہے۔

گیرٹ ولڈر نے کہا تھا کہ وہ اپنے ووٹروں کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ نیدرلینڈز کو ڈچوں کو واپس کریںگے، پناہ لینے والوں کو روک دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پارٹی فار فریڈم (پی وی وی) کی سربراہی میں گیرٹ ولڈرنے طویل عرصے سے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اُسے ایک پسماندہ مذہب کے طور پر بیان کررہے ہیں۔

بھارت میں افغان سفارتخانہ بند ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں

دو روز قبل بھارت میں قائم افغان سفارتخانہ بند کردیا گیا تھا اور تالے لگادیے گئے تھے، جس کی وجوہات سامنے آگئی ہیں۔

جمعہ 24 نومبر کو بھارت میں قائم افغان سفارتخانے کو مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا، جس کی وجوہات سامنے آگئی ہیں اور انکشاف ہوا ہے کہ مودی سرکار کے دباؤ اور اوچھے ہتھکنڈوں سے افغان حکومت نے اپنا سفارت خانہ بند کیا ہے۔

افغان سفارتی ذرائع نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے پریشر ڈالنے کے لیے معمولات میں رکاوٹیں ڈالیں، افغان سفارتخانہ کے مطابق آٹھ بفتوں کے انتظار کے باوجود ہندوستانی حکومت کا رویہ حوصلہ شکن تھا۔

افغان سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا جھکاؤ اب طالبان سفارتکاروں کی طرف ہے، اسی لئے بھارتی حکومت نے افغان سفارت کاروں کے ویزوں میں توسیع نہیں کی، بھارت اورطالبان حکومت کی جانب سے مسلسل دباؤ کے پیشِ نظر یہ قدم اٹھایا گیا، اور 24 نومبر کو دہلی میں افغان سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا گیا۔

دوسری جانب بھارت میں افغان سفارت خانے کی بندش پر عالمی میڈیا کی جانب سے مودی سرکار پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے سابق افغان حکومتی اہلکاروں کو دھوکا دیا۔

افغان طالبان حکومت کے خواتین مخالف 80 حکم نامے جاری، سابق رکن پارلیمنٹ کے ہوشربا انکشافات

افغان پارلیمنٹ کی سابق رکن فوزیہ کوفی نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے بس میں ہو تو خواتین کا سانس لینا بھی محال کر دیں، اور افغان طالبان حکومت کے خواتین مخالف 80 حکم نامے جاری کئے۔

افغان پارلیمنٹ کی سابق رکن فوزیہ کوفی نے افغان خواتین کی محرومیوں کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی اور 23 نومبر کو ماسکو اجلاس میں طالبان حکومت کے احکامات کی نشاندہی کی، جن کے ذریعے افغان خواتین کو ان کے جائز حقوق سے محروم کر دیا گیا گیا۔

فوزیہ کوفی نے بتایا کہ افغان طالبان نے 80 حکم نامے جاری کیے ہیں، جن کا مقصد معاشرے سے خواتین کو مٹا دینا ہے۔

سابق رکن افغان پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت نے افغان خواتین کی شناخت کو مسخ کر دیا ہے، ان کے بس میں ہو تو خواتین کا سانس لینا بھی محال کر دیں۔

فوزیہ کوفی نے طالبان گروپ کے دورِ حکومت کے دوران افغان خواتین کی دو سالہ سول جدوجہد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ طالبان گروپ کے خلاف کھڑا ہونا اس ملک کے حالات میں تبدیلی کا باعث بنے گا، خواتین کے حقوق کی بحالی اور طالبان حکومت کے خلاف ایک تحریک چلائی جانی چاہیئے، تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی گروپ دباؤ کے ذریعے افغانستان پر تنہا حکومت نہیں کر سکتا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت میں ملک میں خواتین پرتشدد میں اضافہ ہوا، جولائی 2023 میں افغانستان میں عورتوں کے 60 ہزار سے زائد کاروباروں کو بند کردیا گیا، طالبان حکومت کے اقتدار کے بعد 2025 تک 51,000 زچگی اموات کا امکان ہو سکتا ہے۔

برطانوی اخبار ڈی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں خودکشی کرنے والوں کی اکثریت خواتین کی ہے۔ اور وسلن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں مجموعی خود کشیوں میں خواتین کی شرح تقریباً 80 فیصد ہے۔ امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیس نے بتایا کہ افغان حکومت میں ایک بھی خاتون وزیر نہیں۔

عالمی برادری کے لئے سوال یہ ہے کہ افغان خواتین پر تشدد اور ان کے حقوق پر طالبان کا کریک ڈاؤن آخر کب تک جاری رہے گا۔

قلات میں پارہ نقطہ انجماد سے نیچے آگیا

 کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید سردی کا آغاز ہوگیا ہے اور قلات میں پارہ نقطہ انجماد سے نیچے آگیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور آبر آلود رہا اور اس دوران مختلف علاقوں میں بارش و ژالہ باری بھی ہوئی۔

پسنی میں 81 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، تیز بارش کی وجہ سے نہ صرف سڑکیں زیر آب آئیں بلکہ بارش کا پانی گھروں میں بھی داخل ہوگیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق نوکنڈی، چاغی، دالبندین، قلات، خضدار، نوشکی،  واشک، خاران، پنجگور، کیچ، تربت، پسنی، مکران، لسبیلہ، گوادر اور جیوانی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

اس دوران کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت پانچ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ  قلات میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت منفی 1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق نوکنڈی میں درجہ حرارت 8 ڈگری جبکہ سبی میں 11 ڈگری اور گوادر میں 16 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

آئی ایم ایف کی شرط پر 20 لاکھ نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلیے کمیٹی تشکیل

 اسلام آباد: حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط جون تک پندرہ سے بیس لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ لانے کی شرط پر عملدرآمد کیلیے اعلیٰ سطح پر 8 رکنی تکنیکی کمیٹی قائم کردی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کی جانے والی 20 لاکھ نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی شرط پر عمل درآمد تیز کردیا ہے۔  ایف بی آر کے براڈننگ آف ٹیکس بیس اینڈ آئی ٹی انفرا اسٹرکچر ٹرانسفارمیشن پلان پر عملدرآمد کیلئے چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کی سربراہی میں آٹھ رکنی اعلی سطع کی تکنیکی کمیٹی قائم کردی۔

حکومت کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ جس کے مطابق  کمیٹی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے ڈیٹا انٹیگریشن اور ایف بی آر کے منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک ماہ میں سفارشات و تجاوز تیار کرے گی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اعلی سطح پر تشکیل دی گئی تکنیکی کمیٹی کے قیام اور اس کے قواعد و ضوابط(ٹی او آر) کے بارے میں بھی سرکلر بھی جاری کردیا ہے۔

سرکلر کے مطابق چیئرمین نادرا کی سربراہی میں قائم کی جانے والی آٹھ رکنی کمیٹی کے ممبران میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشن میر بادشاہ خان وزیر، ممبر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر ناصر خان، ممبر ڈیجیٹل اقدامات ایف بی آر کرامت اللہ خان چوہدری، نادرا کے چیف پراجیکٹس آفیسر گوہر احمد خان، نادرا کے این ڈی ڈبلیو کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سید مشابر حسین ،ایف بی آر کے چیف انفارمیشن ٹیکنالوجی ذین العابدین ساہی اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ(پرال)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ملک شامل ہیں۔

ٹی او آر میں بتایا گیا ہے کہ تکنیکی کمیٹی ایف بی آر کی براڈننگ آف ٹیکس ،آئی ٹی انفراء سٹرکچر ٹرانسفارمشن پلان کے تحت ڈیٹا انٹیگریشن کیلئے س اقدامات و تجاویز تیار کرے گی۔  اسی طرح ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے ایف بی آر کے منصوبے پر عملدرآمد بارے بھی سفارشات و تجاویز تیار کرکے پیش کرے گی۔

اعلامیے کے مطابق  یہ ٹیکنیکل کمیٹی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے آئی ٹی انفراء اسٹریکچر پر بھی نظر ثانی کرے گی  اور ایف بی آر آ ر کے ئی ٹی انفراء سٹرکچر کیلئے ٹرانسفارمشن اور اپ گریڈیشن پلان پر سفارش کرے گی۔

دستاویز  کے مطابق کمیٹی ایف بی آر کے ماتحت ادارے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ(پرال)کو ایک جدید آئی ٹی کمپنی میں ٹرانسفارم کرنے کیلئے پرال کی ری سٹرکچرنگ کے حوالے سے بھی اپنی سفارشات پیش کرے گی،  یہ اعلی سطح کی کمیٹی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کیلئے آرٹیفشل اینٹلی جننس(مصنوعی ذہانت)کا استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا اینالائٹکس اینڈ میتھمیٹیکل موڈیلنگ بھی ڈویلپ کرے گی۔

ٹی او آرز میں جن شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان شعبوں کیلئے سفارشات و تجاویز کی تیاری کیلئے ٹاسک فورس مختلف متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بھی ملاقاتیں کرے گی۔  اس کے علاوہ ضرورت کی بنیاد پر متفقہ رائے سے کسی بھی ماہر کی خدمات لی جاسکے گی جبکہ ٹاسک فورس کسی بھی شخص کو معاونت کیلئے لے سکے گی۔

بلوچ طلبا کو سیکیورٹی اداروں نے تعلیمی اداروں سے اٹھا کر لاپتا کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ

 اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے 50 سے زائد بلوچ طلبہ کی عدم بازیابی پر نگران وزیراعظم، داخلہ و دفاع کے وزرا اور سیکرٹریز سمیت وزیر انسانی حقوق کو 29 نومبر کو طلب کرلیا اور کہا ہے کہ بلوچ طلبا کو سیکیورٹی اداروں نے تعلیمی اداروں سے اٹھا کر لاپتا کیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی سے متعلق قائم کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے کیس میں گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن رپورٹ کے مطابق یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا، مختلف یونیورسٹیوں کے 69 بلوچ طلبہ کی نسلی پروفائلنگ، ہراساں اور جبری طور پر گمشدہ کیا گیا، کچھ لاپتا طلبہ گھروں کو لوٹ آئے لیکن کم از کم 50 طلبہ اب بھی غائب ہیں۔

تحریری حکام نامے میں کہا گیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا ریاستی اداروں کی جانب سے جبری گمشدہ بلوچ طلبہ اب بھی لاپتا ہیں، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اس مسئلے پر کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھایا، شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار حکومتِ پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روک نہیں پا رہی، کوئی طالب علم ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہو تو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ سمجھا جائے گا کہ یہ افراد ریاستی مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں اور اس سسٹم کا حصہ ہیں جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری اور وہ خاموش تماشائی ہیں، الارمنگ ہے کہ ریاستی اداروں پر بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی کا الزام ہے اور وہی انہیں بازیاب کرانے میں بے بس ہیں،عدالتیں مظلوم کیلئے امید کی آخری کِرن ہوتی ہیں، ریاستی عہدے داروں کے اس سُست رویے نے اعلی عدالتوں پر عوامی اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں پکنک پوائنٹ کے قریب اسکول بس کھائی میں گرگئی، ٹیچر جاں بحق، ڈرائیور گرفتار

اسلام آباد میں شاہدرہ پکنک پوائنٹ کے قریب اسکول کے بچوں کی بس کھائی میں گرنے سے ایک ٹیچر جاں بحق جبکہ 15 بچے زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق شیخوپورہ کے نجی اسکول کے بچے سیر کے لیے اسلام آباد آئے ہوئے تھے جب ان کی بس تفریحی مقام شاہدرہ پکنک پوائنٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوگئی۔

پولیس کے مطابق ڈرئیور نے بس روڈ کی سائیڈ پر کھڑی کی اسی دوران گاڑی آہستہ آہستہ ریورس چلنا شروع ہوگئی اور روڈ سے نیچے کھائی میں جا گری۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

بس میں بچوں اور اساتذہ سمیت 39 افراد سوار تھے جبکہ حادثے میں 22 سالہ ٹیچر ہانیہ جاں بحق ہوگئی جبکہ 15 بچے زخمی ہوئے جنہیں پمز اور پولی کلینک منتقل کردیا گیا۔

پولی کلینک میں لائے گئے زخمی بچوں میں7 سالہ فاطمہ، 9 سال نور فاطمہ، 9 سالہ ابو بکراور 12 سالہ فیضان شامل ہے۔

12 سالہ زخمی مہصم کی حالت تشویشناک ہونے پر بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی منتقل کردیا گیا جبکہ زخمی 2 اساتذہ اور 6 بچوں کو پمز منتقل کیا گیا۔

جس کے بعد پولی کلینک اسپتال میں ایمرجنسی الرٹ جاری کردیا گیا تاہم روٹین مریضوں کو پولی کلینک کے ایمرجنسی گیٹ کے بجائے متبادل راستہ احتیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق بس نمبر ای ایل سی 5544 کو حادثہ ڈرئیور کی غفلت کے باعث پیش آیا، جس کے بعد ڈرائیور اور کنٹریکٹر بھاگ گئے، بس ڈرائیور کی شناخت محمد ریاض کے نام سے ہوئی ہے جو شیخوپورہ کا رہائشی ہے جبکہ پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

پنجاب سے اسکول کے بچے سیرو تفریح کے لیے اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔

اسکول بس حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور گرفتار

دوسری جانب اسکول بس حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسکول بس کو حادثہ ڈرائیور کی غفلت کے سبب پیش آیا، اسکول ٹرپ مکمل کرکے بچے اور اساتذہ واپس بس میں بیٹھ رہے تھے۔

ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبعلم بس میں بیٹھنا شروع ہوئے تو بس اترائی کی طرف سرک کر کھائی میں جاگری، بس کا ڈرائیور حادثے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا تھا۔

نگراں حکومت کے تمام سیاسی جماعتوں سے بہترین تعلقات ہیں،انوار الحق کاکڑ

نگراں وزیراعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نگراں حکومت کے تمام سیاسی جماعتوں سے بہترین تعلقات ہیں، لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کی بات درست نہیں، حکومت شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے گی، الیکشن کمیشن 8 فروری کو انتخابات کے لیے اپنی تیاریاں کر رہا ہے۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں نگراں وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ملک میں سیکیورٹی چیلنجز پہلے سے زیادہ ہیں مگر اس کو سیاسی عمل سے نہیں جوڑنا چاہیئے، نگراں حکومت کے تمام سیاسی جماعتوں سے بہترین تعلقات ہیں، سیاسی جماعتیں آپس میں بیان بازی کرتی رہتی ہیں، نگراں حکومت کیسی ایک جماعت کو فیور نہیں دے رہی۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ عوام سے ووٹ لینے کے لیے محرومی کارڈ استعمال کیا جاتا ہے، انتخابات میں ہم اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کریں گے، حکومت شفاف انتخابات یقینی بنائے گی، پی ٹی آئی کو سیاسی سرگرمیوں کی مکمل اجازت ہے، کسی سیاسی جماعتوں کو جلسے اور جلوسوں سے نہیں روکا جارہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کی بات درست نہیں، سیاسی جماعتیں جب انتخابات میں جاتی ہیں تو ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

سرفراز بگٹی کے بیان سے متعلق پوچھے ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم نے کہاکہ میں نے اُن کا بیان سنا نہیں ہے کیوںکہ کسی ایک بیان کی بنیاد پر پورے نگراں سیٹ پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

انوارالحق کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی الیکشن سے متعلق جائز شکایتوں پر ضرور کارروائی ہوگی، سرفراز بگٹی نے اگر ن لیگ کی حمایت میں کوئی بیان دیا ہے تو میں ان کا ترجمان نہیں ہوں۔

نگراں وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اگلے دوست ممالک کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر کوئی کنفیوژن نہیں، اگلے 2 ماہ کے دوران ملک میں بھاری اور متاثرکن سرمایہ کاری ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ نے کہاکہ آئندہ عام انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پر سلیکٹڈ کا جو الزام لگتا تھا وہ ریاستی اداروں کی حمایت کی بنیاد پر لگتا تھا، پھر شہباز شریف اور اب ہمارے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ ریاست کی سپورٹ ہے تو میرا سوال ہے کہ کیا ادارے ہندوستان کی سپورٹ کر رہے ہیں یا پاکستان کی؟۔

نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت آنے کے بعد جب اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ہوا تو ادارے حکومت کے ساتھ کھڑے ہوئے جس کے نتائج بھی سامنے آئے۔

انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ دوست ممالک کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر کوئی کنفیوژن نہیں، اگلے 2 ماہ کے دوران ملک میں بھاری اور متاثرکن سرمایہ کاری ہو گی، سرمایہ کاری آنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ 70 بلین ڈالر دوست ممالک ہمارے اسٹیٹ بینک میں رکھ دیں گے بلکہ سرمایہ کاری کا ایک طریقہ کار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ ہم مختلف ایم او یوز سائن کرنے قطر، کویت اور سعودی عرب جا رہے ہیں۔

لاپتا افراد سے متعلق پوچھے ایک سوال کے جواب میں انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ عسکریت پسند بلوچ مزدوروں اور اساتذہ کو قتل کرتے ہیں، عدالت ان کو بھی طلب کرے، 29 نومبر کو بیرون ملک ہوں گا اس لیے عدالت میں پیش ہونا ممکن نہیں۔

نگراں وزیراعظم نے مزید کہاکہ ریاست کا کوئی ادارہ جبری گمشدگیوں میں ملوث نہیں، ’لشکر بلوچستان اور بی ایل اے سمیت دیگر تنظیمیں جو بیگناہ لوگوں کا قتل عام کر رہی ہیں وہ کسی کو نظر کیوں نہیں آتا۔

انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ٹرائل کے معاملے پر عدالت جو احکامات جاری کرے گی ان پر عملدرآمد کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد کوشش کروں گا کہ پارلیمنٹ کے فورم پر آسکوں، فی الحال جو ذمہ داری ملی ہے اس پر ہی توجہ ہے۔