All posts by Khabrain News

میرے سسرنے کبھی میری تعریف نہیں کی، رنبیر کپور

ممبئی: بالی ووڈ اداکار رنبیر کپور نے انکشاف کیا ہے کہ ان سسر مہیش بھٹ نے کبھی ان کی تعریف نہیں کی۔

بھارتی چینل کے رئییلٹی شو میں بات کرتے ہوئے اداکارہ رنبیر کپور کا کہنا تھا کہ ان کی بیوی اداکارہ عالیہ بھٹ کے والد اور بالی ووڈ کے سینئر ہدایت کار اور پروڈیوسر مہیش بھٹ نے کبھی میرے سامنے میری تعریف نہیں کی۔

بالی ووڈ کے سپر اسٹار نے شو میں چلائے گئے مہیش بھٹ کے رنبیر کپور کے لیے تعریفی ویڈیو پیغام پرکہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے میری تعریف کی ہے۔ میں سسر جی سے پاس ہوگیا۔
مہیش بھٹ کا ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ رنبیر کپور دنیا کے سب سے اچھے باپ ہیں اور ان کی اپنی بیٹی راہا سے محبت مثالی ہے۔ رنبیر کپور جب اپنی بیٹی کے ساتھ ہوتے ہیں تو اس کے لیے پیار رنبیر کی آنکھوں اورپوری شخصیت سے چھلکتا نظر آتا ہے۔

اعظم خان پر جرمانہ؛ راشد لطیف نے کرکٹر کو ’’دلیر‘‘ قرار دیدیا

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف اور اسپورٹس تجزیہ کار نعمان نیاز نے نوجوان کرکٹر اعظم خان کی نیشنل ٹی20 کپ میں بلے پر فلسطین کا اسٹیکر لگاکر کھیلنے پر انکی جرت کی داد دیدی۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر (ایکس) پر سابق کپتان راشد لطیف اور اسپورٹس تجزیہ کار نعمان نیاز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اعظم خان کی جرت کی تعریف کروں گا، جس نے یہ اقدام اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ لیگز کھیلے والا کرکٹر جب انٹرنیشنل کھیلنے کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ پر منحصر کرتا ہو، اس طرف سے اسی دلیری کا مظاہرہ کرنا بڑی بات ہے۔

نعمان نیاز نے بتایا کہ اعظم خان کو ریفری کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ بلے کو تبدیل کرلیں لیکن انہوں نے جرمانہ قبول کیا، اس موقع پر راشد لطیف نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کے دوران انہیں خیال کرنا پڑے گا۔

سابق کپتان نے انکشاف کیا کہ ورلڈکپ کے دوران پلئیرز نے جب فلسطین کی حمایت میں ٹوئٹ کیا تھا تو بورڈ نے کھلاڑیوں کو دباؤ ڈالا تھا کہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کریں۔

خیال رہے کہ نیشنل ٹی20 کپ کے میچ کے دوران اپنے بلے پر فلسطینی پرچم کا اسٹیکر لگانے پر کرکٹر اعظم خان پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا تھا، جس پر پی سی بی کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

بورڈ کو مداحوں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اعظم خان پر جرمانے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ صارفین نے ذکا اشرف کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

عالمی بینک پاکستانی معیشت پر ماہرین کی رپورٹ آج جاری کرے گا

اسلام آباد: عالمی بینک پاکستان میں معیشت کے مختلف شعبوں میں پائیداریت اور نمو کیلیے ماہرین کے مباحث پر مبنی رپورٹ آج جاری کرے گا۔

عالمی بینک نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کیلئے مختلف شعبوں میں اصلاحات کی تجاویز اور سفارشات کے حصول کیلئے مباحث کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

ان مباحث میں ماہرین نے مختلف شعبوں میں کلیدی اصلاحات کیلیے تجاویز اور سفارشات مرتب کیں جن میں مالی استحکام، نجی شعبہ کی نمو، توانائی، بچوں میں اسٹنٹنگ کے مسائل، تخفیف غربت، زراعت اور ماحولیاتی شعبہ جات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

سائفر کیس؛ خصوصی عدالت کا جیل میں ہی عمران خان کے اوپن ٹرائل کا فیصلہ

اسلام آباد: آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا ٹرائل جیل میں ہی کرنے کا فیصلہ سنادیا۔

خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں سائفر کیس کی سماعت کی۔

عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے جوڈیشل کمپلیکس میں پیش نہیں کیا گیا۔

جیل حکام نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملزمان کو پیش نہیں کرسکتے، اسلام آباد پولیس کو اضافی سیکورٹی کے لیے خط لکھا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کو سنجیدہ نوعیت کے سیکورٹی خدشات ہیں۔

عمران خان کے وکیل سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے، ہم جان پر کھیل کر عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں، کیا چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں محفوظ نہیں یا راستے میں کوئی خطرہ ہے تو بتا دیں ؟ جوڈیشل کمپلیکس کو مکمل طور پر بند کرکے بھی لایا جاسکتا ہے، اس عدالت میں کس سے خطرہ ہے؟ یہاں فیملی سے خطرہ ہے یا قانون کی پاسداری کرنے والے وکلاء سے خطرہ ہے؟ آپ کی بات نہیں مان رہے یا اسلام آباد ہائیکورٹ کی بات نہیں مان رہے تو کیا ہم سپریم کورٹ جائیں ؟۔

سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم کہتے رہے ابھی آگے نہ بڑھیں طے ہو لینے دیں کہ یہ کیس کیسے چکنا ہے، کبھی کوئی کیس اتنی جلدی میں چلا؟اس کیس کو ہم پانچ ہفتوں میں مکمل کرنے کے لیے نکلے ہوئے تھے۔

شاہ محمود کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ اوپن ٹرائل ہے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، اگر عدالتی احکامات نہیں مانی جاتے تو سرکاری ملازم کو جیل میں بھیجنے کا اختیار آپ کے پاس ہے۔

جج ابولحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ عوام کو رسائی ہونی چاہیے ، میڈیا کو عدالت تک رسائی ہونی چاہیے۔

ایف آئی اے پراسکیوٹر نے اوپن ٹرائل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے، عدالت میں جیل حکام دستاویزی شواہد کیساتھ بتایا کہ سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر پیش نہیں کرسکتے۔

علیمہ خانم نے کہا کہ والد سے بچوں کی بات ںہیں کروا رہے۔

جج ابولحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جیل حکام کہتے ہیں ایس او پیز میں بیروں ملک بات کروانے کی اجازت نہیں ہے۔ عدالت نے جیل سپرٹنڈنٹ سے بیروں ملک بات کروانے سے متعلق جیل ایس او پی طلب کرلیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی بچوں سے ٹیلی فونک گفتگو کی درخواست پر خصوصی عدالت نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اور جیل ایس او بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی خدشات کے باعث چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل میں ہی ٹرائل ہوگا ، میڈیا کو بھی جیل ٹرائل کور کرنے کی اجازت ہوگی، جو بھی ٹرائل دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو اسے بھی اجازت ہوگی۔

سائفر کیس کی آئندہ سماعت جمعہ کو جیل میں ہو گی۔ عوام اور میڈیا کو آئندہ سماعت کے دوران جیل میں موجودگی کی اجازت ہو گی۔ جیل اتھارٹیز ان تمام آنے والوں کو سہولت فراہم کریں گے جو سماعت میں آنا چاہتے ہیں۔

فلسطینی پرچم پر اعظم خان پر جرمانے کیخلاف احتجاج، ذکا اشرف کی برطرفی کا مطالبہ

  کراچی: نیشنل ٹی 20 میچ میں فلسطینی پرچم بلے پر بنوانے پر اعظم خان پر جرمانہ عائد کرنے کے خلاف نوجوانوں نے احتجاج کیا اور پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے درجنوں کارکنان اعظم خان سے اظہار یکجہتی کیلیے نیشنل اسٹیڈیم کے باہر مظاہرہ کرنے پہنچے تو پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی۔

شرکا نے کہا کہ اعظم خان کے خلاف جرمانہ واپس نہ کیا گیا تو پی ایس ایل کے موقع پر احتجاج کریں گے۔

جماعت اسلامی کراچی یوتھ ونگ کے ہاشم ابدالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اعظم خان کے خلاف کیا گیا فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج کا سلسلہ ملک گیر سطح پر بڑھانے کا فیصلہ کریں گے۔

شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ذکا اشرف کی برطرفی کے نعرے درج تھے۔

ہاشم ابدالی نے کہا کہ جرمانہ واپس نہ لینے کی صورت میں تمام تر حالات کی ذمہ دار پی سی بی کی انتظامیہ ہوگی،انہوں نے ذکا اشرف سے فوری طور پر اپنے عہدے سے مستفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔

برطانیہ میں سوائن فلو کی نئی قسم کے پہلے انسانی کیس کی تصدیق

برطانیہ میں پہلی بار سوائن فلو کی نئی قسم ایچ 1 این 2 کے انسانی کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

سوائن فلو کی یہ قسم خنریز میں زیادہ عام ہوتی ہے اور یہ پہلی بار ہے جب برطانیہ میں کسی انسان میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی۔

یو کے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی (یو کے ایچ ایس اے) کے مطابق مریض میں اس بیماری کی علامات کی شدت معمولی تھی اور اب وہ مکمل طور پر صحتیاب ہوچکا ہے۔

برطانوی ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس کیس کی دریافت معمول کی فلو سرویلنس کے دوران ہوئی تھی اور ابھی متاثرہ فرد میں بیماری منتقل ہونے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

بیان میں بتایا گیا کہ مریض کے تعلق رکھنے والے افراد پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

یہ مریض شمالی یارکشائر میں سامنے آیا تھا اور وہاں کے اسپتالوں میں نگرانی کو بڑھا دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پہلی بار ہے جب برطانیہ میں یہ وائرس کسی انسان میں دریافت ہوا۔

واضح رہے کہ سوائن فلو کے وائرس کو انفلوائنزا اے (ایچ 1) کہا جاتا ہے اور ایچ 1 این 1، ایچ 1 این 2 اور ایچ 3 این 2 اس کی مرکزی ذیلی اقسام ہیں جن کے زیادہ تر کیسز خنزیر میں ہی دیکھنے میں آتے ہیں، مگر کئی بار انسانوں میں بھی ان کی تشخیص ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں 2005 سے اب تک ایچ 1 این 2 کے 50 انسانی کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، مگر برطانیہ میں اب پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

ایچ 1 این 1 وائرس کی وہ قسم ہے جو 2009 میں وبا کی طرح پھیلی تھی اور اس کے لیے ہی سوائن فلو کی اصطلاح استعمال ہونا شروع ہوئی تھی۔

اب یہ وائرس انسانوں میں سرد موسم میں عام گردش کرتا ہے اور اسے سوائن فلو نہیں کہا جاتا۔

یو کے ایچ ایس اے کی جانب سے اس کیس کی تفصیلات عالمی ادارہ صحت کو فراہم کی گئی ہیں۔

ایلون مسک کی نیتن یاہو سے ملاقات؛ حماس کو ہمیشہ کیلیے ختم کرنے پر اتفاق

تل ابیب: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’X‘‘ پر ایک مشترکہ لائیو چیٹ میں ایلون مسک نے نیتن یاہو سے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب حماس کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایلون مسک کی اسرائیل پر آمد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان کے ساتھ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لائیو چیٹ کی جس کے دوران کہا کہ غزہ کے بہتر مستقبل کے لیے حماس کو تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اگر آپ غزہ میں امن، سلامتی اور بہتر زندگی چاہتے ہیں تو حماس کو ہمیشہ کے لیے ختم اور اس کی زہریلی حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا جیسا کہ جرمنی اور جاپان میں کیا گیا تھا۔

جس پر ایکس کے مالک ایلون مسک نے نیتن یاہو سے کہا کہ میں آپ کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کیوں کہ اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں، حماس یہودیوں کی نسل کشی کرنا چاہتی ہے۔

ایلون مسک نے مزید کہا کہ حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں “ناگزیر” ہیں اور اسرائیل حماس کے خلاف اپنی جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش بھی کر رہا ہے۔

امریکی ارب پتی تاجر ایلون مسک نے یہ بھی کہا کہ وہ جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو میں مدد کرنا چاہیں گے اور یقین رکھتے ہیں کہ غزہ کی بحالی اور ترقی مستقبل میں جنگ کو روکنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا چوتھا اور آخری روز ہے لیکن یرغمالیوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل نہیں ہوسکا ہے جس کے باعث امریکا، قطر اور مصر نے سیز فائر میں توسیع پر زور دیا ہے۔

حماس نے بھی جنگ بندی میں دو سے 4 روز کی توسیع پر ہامی بھری ہے اور اسرائیل نے بھی امریکا کو یقین دلایا ہے کہ وہ جنگ بندی میں ایک روز کی توسیع کے لیے راضی ہے تاہم اب تک اس کا اعلان نہیں ہوسکا ہے۔

عالیہ بھٹ اور منوج باجپائی نے بہترین اداکاری پر فلم فیئر او ٹی ٹی ایوارڈز جیت لیے

 ممبئی: بالی وڈ کے نامور اداکارہ عالیہ بھٹ اور منوج باجپائی نے فلم فیئر او ٹی ٹی ایوارڈ میں بہترین اداکاری کے ایوارڈز جیت لیے۔ 

عالیہ بھٹ کو ویب اورجنل فلم کے تحت نیٹ فلکس میں ان کی ڈیبیو فلم ’ڈارلنگ‘ پر بیسٹ ایکٹریس کا ایوارڈ ملا ہے۔

منوج باجپائی نے نیٹ فلکس کے کورٹ روم ڈرامہ فلم ’صرف ایک بندہ کافی ہے‘ پر بہترین اداکاری کا ایوارڈ جیتا۔

او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی ویب سیریز کہرا، اسکوپ، مونیکا : او مائے ڈارلنگ اور گل موہر کو بھی بہترین سیریز کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

بہترین اداکاری کا ایوارڈ جیتنے والوں میں وجے ورما بھی شامل تھے جنہیں کرائم سیریز ’دھاڑ‘ پر اپنی شاندار پرفارمنس سے یہ اعزاز حاصل ہوا۔

ٹیکس نیٹ اور ٹیکس ریونیو بڑھانے کیلیے آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

 اسلام آباد: آئی ایم ایف کے ماہرین کی ایک ٹیم پاکستانی حکام سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئی، ٹیم ٹیکس نیٹ اور ٹیکس ریونیو بڑھانے کے معاملے میں وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے حکام سے ملاقاتیں کرے گی اس ٹیم کا قرض پروگرام کی قسط سے کوئی تعلق نہیں۔

ذرائع نے بتانا ہے کہ آئی ایم ایف ماہرین کی ٹیم ٹیکس ریونیو اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے مشاورت کرے گی، تکنیکی ماہرین کا وفد پاکستانی حکام سے تقریباً ایک ہفتہ ٹیکس پالیسی پر مشاورت کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد اور ایف بی آر ٹیکس پالیسی میں ترامیم کے لیے اقدامات کریں گے، ٹیکس پالیسی میں ترامیم کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق ماہرین کی مشاورت کا مقصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا، ریٹیلرز کیلئے اسکیم کا بنیادی ڈھانچہ بھی تکنیکی وفد کے ساتھ مل کر بنایا جائے گا۔

ذرائع نے کہا ہے کہ مزید 10 لاکھ لوگ ٹیکس نیٹ میں لاکر ٹیکس دہندگان کی تعداد 60 لاکھ تک پہنچائی جائے گی، تکنیکی وفد کے ساتھ مل کر ٹیکس پالیسی میں ترامیم تیار کی جائیں گی، تیار کی جانے والی ٹیکس ترامیم آئندہ بجٹ میں نافذالعمل ہوں گی۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس پالیسی اور انفورسمنٹ میں بہتری کیلئے آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد معاونت کرے گا، آئی ایم ایف کے ماہرین کی ٹیم ایک ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گی تاہم اس ٹیم کا موجودہ قرض پروگرام اور اس کی قسط سے کوئی تعلق نہیں۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب 15 فیصد تک بڑھانے کیلئے ترامیم کا فیصلہ کیا جائےگا، آئی ایم ایف کی شراکت داری سے کمپلائنس امپرومنٹ پلان مارچ 2024ء تک تیارکیا جائےگا، کمپلائنس امپرومنٹ پلان کے تحت رسک رجسٹرڈ رپورٹ اور ڈیش بورڈ تیارکر لیا گیا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف بی آر فیلڈ فارمیشنزکی جانب سے ٹیکس دہندگان کی معلومات پر رسک رجسٹرڈ تیارکیا جائےگا، ایف بی آرفیلڈ فارمیشنزکو ٹیکس دہندگان کی معلومات بینکوں، نادرا اور ایف بی آر انٹیگریشن سے ملیں گی،  ٹیکس نیٹ سے باہر لوگوں کیلئے فہرست مرتب کی جائے گی جو آئی ایم ایف سے بھی شیئر ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس پالیسی میں ترامیم کے ذریعے کمپلائنس رسک مینجمنٹ کو ٹیکس پالیسی کا حصہ بنایا جائےگا، کمپلائنس رسک مینجمنٹ کی تیاری میں ایف بی آر اور آئی ایم ایف شراکت داری سے کام کریں گے، ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور ٹیکس پالیسی کو الگ کرنے کیلئے ایف بی آر تکنیکی وفد سےمذاکرات ہوں گے۔

ایون فیلڈ، العزیزیہ ریفرنسز؛ نہ چارج صحیح فریم ہوا نہ نیب کو پتہ تھا شواہد کیا ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ

ن لیگ کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف ایون فیلڈ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز میں سزا کیخلاف اپیلوں کی سماعت میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوگئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایون فیلڈ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔

نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پاناما جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، جے آئی ٹی نے 10 جولائی 2017 کو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ، 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ دیا، 28 جولائی کو وزیر اعظم پاکستان کو نااہل قرار دیا گیا، سپریم کورٹ نے فیصلے کے چھ ہفتوں میں نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت دی تھی۔

وکیل نے کہا کہ نواز شریف، مریم نواز ، حسین نواز ، حسن نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس دائر کیا گیا ، فیصلے کی روشنی میں نواز شریف ، حسین اور حسن نواز کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس دائر کیا گیا، نیب دوران جرح تسلیم کرچکی ہے کہ ہمارے پاس ریفرنس دائر کرنے کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں تھا، احتساب عدالت کو چھ ماہ میں ریفرنس پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی، فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف بری ہوئے، العزیزیہ میں 7 سال اور ایون فیلڈ میں دس سال کی سزا ہوئی، العزیزیہ میں نیب نے سزا بڑھانے کی اپیل دائر کررکھی ہے۔

امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ہم نے جے آئی ٹی کا والیم 10 مانگا تھا مگر ہمیں فراہم نہیں کیا گیا، نیب نے جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنسز دائر کر دیے، نیب نے نواز شریف کو ایک کال اپ نوٹس بھیجنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا، گواہوں کے بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے، نیب نے ٹی وی انٹرویوز پیش کیے، نواز شریف کی اسمبلی فلور پر کی گئی تقریر کا حوالہ دیا، ایک گواہ رابرٹ ریڈلے پیش کیا جو نواز شریف کی حد تک کیس میں متعلقہ گواہ نہیں۔

وکیل نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں 19 اکتوبر کو فرد جرم عائد کیا گیا، والیم دس ایم ایل اے پر مشتمل تھا ، ہم نے والیم دس مانگا تھا مگر ہمیں فراہم نہیں کیا گیا، نیب کے کال اپ نوٹس میں تفتیش سے متعلق کچھ نہیں ہے۔

جسٹس حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ تو نیب نے اپنی طرف سے الگ سے کوئی تفتیش نہیں کی؟

وکیل امجد پرویز نے جوابد یا کہ جی بالکل، نیب نے صرف جے آئی ٹی کے سامنے بیان کی تصدیق چاہی، نیب نے نواز شریف کو خود سے کوئی سوالنامہ نہیں دیا۔

جسٹس حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پوری جے آئی ٹی رپورٹ نیب نے ریفرنس میں شامل کر دی؟۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ نواز شریف کو مالک اور مریم نواز سمیت دیگر بچوں کو بے نامی دار ثابت کرنے کا بوجھ پراسیکیوشن پر تھا، ہمارا مؤقف یہی رہا کہ چارج بھی غلط فریم ہوا ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ معذرت کیساتھ نا چارج صحیح فریم ہوا اور نا نیب کو پتہ تھا کہ شواہد کیا ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مریم نواز بینفشل اونر ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ نیب نے یہ کوشش ضرور کی مگر اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

وکلا نے کہا کہ احتساب عدالت نے نواز شریف پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز کا الزام مسترد کر دیا، نیب نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر نہیں کی، عدالت نے نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام پر سزا سنا دی، سمجھ سے باہر ہے کہ کرپشن کی بنیاد ختم ہو گئی لیکن عمارت پھر بھی کھڑی ہو گئی۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟، ایک عوامی نمائندہ کے اثاثے اگر معلوم  آمدن سے زائد اثاثے ہیں تو بغیر کرپشن کے وہ یہ کیسے بنا سکتا ہے؟۔

عدالت نے اپیلوں پر سماعت بدھ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی دو اپیلیں بھی سماعت کے لیے مقرر کردیتے ہیں۔