All posts by Khabrain News

ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے نئی مشکل، کئی کھلاڑی بیمار

ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے بھارت میں موجود پاکستان کرکٹ ٹیم کے کئی کھلاڑی بیمارپڑگئے۔ کھلاڑیوں کی بیماری کا اثر ٹیم کے پریکٹس سیشن پربھی پڑا۔

سینے میں وائرل انفیکشن نے اسکواڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس سے کم از کم چار سے پانچ کھلاڑی متاثر ہوئے۔ٹیم ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کئی کھلاڑیوں کو سینے میں شدید انفیکشن کے نتیجے میں تیز بخار ہوا۔

لیگ اسپنر اسامہ میر سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں سے ایک تھے جو پانچ دن تک بیماری سے لڑتے رہے اور انہیں اپنا وقت قرنطینہ میں گزارنا پڑا۔

تاہم خوش قسمتی سے کووڈ 19 اور ڈینگی سمیت اسامہ میر کے تمام ٹیسٹ منفی آئے۔

اسامہ میر کی صحت میں بہتری کے حوالے سے مثبت خبریں سامنے آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق وہ بہتر محسوس کر رہے ہیں اورٹیم کے لیے دستیاب ہیں۔

تاہم اسامہ کے بعد اہم کھلاڑی فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی بھی وائرل بیکٹیریل انفیکشن کا شکارہوگئے۔

شاہین شاہ آفریدی کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں اینٹی بائیوٹکس دی گئیں۔ عبداللہ شفیق کو بھی شدید بخار ہے اورڈاکٹران کا مکمل طبی معائنہ کررہے ہیں۔

اسامہ، عبدللہ شفیق اور شاہین شاہ کے علاوہ زمان خان کے وائرل انفیکشن میں مبتلا ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جس سے ٹیم کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ٹیم کے میڈیا منیجر نے کھلاڑیوں میں بیماری کی تصدیق کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ قومی ٹیم کے متعدد ارکان کو متاثر کرنے والے صحت کے مسائل کے باعث آج کا شیڈول پریکٹس سیشن بھی مختصر کردیا گیا ہے۔

ٹیم شام میں صرف 2 گھنٹے پریکٹس کرے گی۔

یہ صورتحال گرین شرٹس کے لیے یقینی طور پر چیلنجنگ ہے جو اب تک ورلڈ کپ میں تین میچز کھیل کر 2 میں کامیاب اور ایک میں ناکام ہوئے ہیں۔

فضل الرحمان نے “سیاسی گنجائش” کا فارمولا پیش کردیا

 اسلام آباد: جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سیاسی ماحول اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے سیاسی جماعتوں کو تجویز دیدی۔

مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کیلئے گنجائش پیدا کریں، وقت آگیا ہے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں بالغ نظری کا مظاہرہ کریں، سیاسی گنجائش لازمی ہے، اختلاف رائے کے باوجود سیاسی گنجائش پیدا کرنی چاہیئے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی منشور، سیاسی موقف دینا سب کا حق مگر اولین ترجیحی پارلیمنٹ کی بالادستی ہے، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے لئے گنجائش پیدا نہیں کریں گی تو نقصان سب کا ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ آصف علی زرداری اور بھٹو خاندان کیساتھ سیاسی اختلاف کے باوجود پرانے تعلقات ہیں، ہم ایک دوسرے کی خوشی و غمی میں شرکت کرتے ہیں، سیاسی انتشار اور خلفشار سے نہ جمہوریت مضبوط ہوگی نہ ملکی مسائل حل ہونگے، سیاسی جماعتوں کی آپس میں گنجائش کا فائدہ کسی ایک جماعت کو نہیں تمام سیاسی جماعتوں کو ہوگا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ سیاستدان کسی سے بھی اختلاف رائے یا الگ موقف رکھ سکتا ہے مگر اسے سیاسی انتشار کا شکار نہیں ہونا چاہیے، جمہوریت کی مضبوطی ضد اور ہٹ دھرمی میں نہیں بلکہ جمہوری رویوں کی مضبوطی میں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور امت مسلمہ دونوں کئی مشکلات کا شکار ہیں، پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک شخص یا جماعت کے پاس نہیں، معاشی ترقی و استحکام سیاسی و داخلی استحکام کیساتھ جڑا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افسوس خود سیاستدانوں کے سبب ماضی اور حال میں جمہوریت کیلئے مشکلات آئیں، اب سنبھلنا ہوگا، سب کے ماضی کا علم ہے مگر اب جمہوریت کی مضبوطی کیلئے سیاسی گنجائش کے فارمولے کیساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں تیزی، 6 سال بعد 50 ہزار کی حد بحال

انٹر بینک میں روپے کی مقابلے میں ڈالر کی قیمت مزید کم ہوکر 275 روپے 60 پیسے پر آگئی، جب کہ 100 انڈیکس میں 6 سال بعد 50 ہزار کی حد بحال ہوگئی۔ **

ڈالر کی بے قدری کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے 23 پیسے کمی ہوگئی، جس کے بعد ڈالر 275 روپے 60 پیسے پر آگیا۔

گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 276 روپے 83 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی۔

دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بھی تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا، اور 6 سال بعد 50 ہزار کی حد بحال ہوگئی۔

اسرائیل حماس جنگ، امریکی صدر جو بائیڈن کا کل اسرائیل کا دورہ متوقع

بدھ کو، میں حماس کے دہشت گردانہ حملے کے خلاف اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کا سفر کروں گا۔ اس کے بعد میں سنگین انسانی ضروریات سے نمٹنے کے لیے اردن کا سفر کروں گا، رہنماؤں سے ملاقات کروں گا، اور یہ واضح کروں گا کہ حماس فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے لیے کھڑی نہیں ہے”

امریکی صدر جو بائیڈن بدھ کے روز اسرائیل کا ایک اعلیٰ ترین دورہ کریں گے کیونکہ وہ حماس کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کو تیز کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس نے غزہ میں انسانی بحران کو جنم دیا ہے اور ایران کے ساتھ وسیع تر تنازعے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

 

بائیڈن کا دورہ 7 اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کے اس کے سب سے بڑے اتحادی کے لیے امریکی حمایت کا ایک اہم مظاہرہ ہوگا۔ منگل کو اسرائیلی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد 1,400 تک پہنچ گئی ہے۔


لاہور میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ

 لاہور: مسافروں کے لیے بڑی خوش خبری سامنے آگئی۔

وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے ریلیف کو عوام تک منتقلی کا آغاز کردیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے موٹر ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے عہدے داروں سے مذاکرات کامیاب ہوگئے۔

موٹر ٹرانسپورٹ فیڈریشن ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد تک کمی کرے گی، پرائیویٹ اڈوں سے چلنے والی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی 10 فی صد فیصد تک کمی کی جائے گی۔

ڈی سی لاہور رافعہ حیدر نے کہا کہ موٹر ٹرانسپورٹ فیڈریشن نے کرایوں میں فوری کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے، تیل کی قیمتیں گرنے سے اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے پر کاروباری افراد دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی لائیں، وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق عوام تک ہر ممکن ریلیف پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ورلڈکپ: اسٹیڈیم میں نماز پڑھنے پر بھارتی وکیل نے محمد رضوان کے خلاف شکایت درج کردی

بھارتی وکیل وینیت جندال نے اسپورٹس پریزینٹر زینب عباس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ورلڈکپ میچ کے بعد گراؤنڈ کے اندر نماز ادا کرنے پر محمد رضوان کے خلاف شکایت درج کردی ہے۔

خیال رہے کہ یہ وہی بھارتی وکیل ہے جنہوں نے اس سے قبل پاکستان کی اسپورٹس پریزینٹر زینب عباس کے خلاف ہندو مذہب اور بھارت کے خلاف سوشل میڈیا پر پیغامات لکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے شکایت درج کی تھی، جس کے بعد بھارتی صارفین نے سوشل میڈٰیا پر زینب عباس کے خلاف شدید ٹرولنگ شروع کی تھی۔

بھارتیوں کی جانب سے آن لائن ٹرولنگ اور شدید ردعمل کے بعد زینب عباس نے ’ذاتی وجوہات کی بنا‘ پر بھارت چھوڑ دیا تھا اور بعدازاں انہوں نے  بھی جاری کیا تھا۔

اس واقعے کے بعد اب بھارتی وکیل نے ایک بار پھر پاکستانی کے خلاف شکایت درج کی ہے اور اس بار انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز محمد رضوان کو نشانہ بنایا ہے۔

وینیت جندال نے آئی سی سی ورلڈکپ میں پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان میچ میں گراؤنڈ کے اندر نماز ادا کرنے پر محمد رضوان کے خلاف آئی سی سی کو شکایت کی ہے۔

بھارتی وکیل نے اپنی درخواست میں گیا کہ ’محمد رضوان کا اسٹیڈیم میں نماز پڑھنا کھیل کی روح اور آئی سی سی کے ضوابط کے منافی ہے‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’رضوان نے نماز ادا کرکے ظاہر کیا کہ وہ مسلمان ہیں، رضوان نے اس وقت نماز ادا کی جب ٹیم کے دوسرے کھلاڑی وقفے کے دوران پانی کا انتظار کر رہے تھے‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’اسٹیڈیم میں نماز ادا کرنے اور اپنی جیت کو غزہ کے لوگوں کے نام کرنے سے ان کا مذہب اور سیاسی نظریات ظاہر ہوتے ہیں، آئی سی سی نے سری لنکا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد محمد رضوان کی طرف سے اس فتح کو غزہ کے لوگوں کے نام کرنے پر کوئی کارروائی نہیں کی‘۔

وینیت جندال نے مزید لکھا کہ اس سے قبل 2021 میں بھی رضوان نے گراؤنڈ میں نماز ادا کی تھی جب بابر اعظم کی زیرقیادت ٹیم نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ’سپر 12‘ کھیل میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی، جس کے بعد پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر وقار یونس نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے بہت اچھا لگا کہ محمد رضوان نے ہندوؤں کے سامنے نماز پڑھی‘ کوئی بھی ایسا عمل جس سے کھیل کی روح کو نقصان پہنچے، حکام کی طرف سے اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔

ونیت جندال نے آئی سی سی سے درخواست کی ہے کہ رضوان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

سرکاری اسکولوں کی نجکاری کے حوالے سے پنجاب حکومت کی وضاحت

نگراں وزیراطلاعات اور پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ سرکاری اسکولوں کی نجکاری کا کوئی فیصلہ کیا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی پروگرام زیر غور ہے۔

پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کی نجکاری کے حوالے سے تمام خبریں حقائق کے منافی اور بے بنیاد ہیں کیونکہ نجکاری کاکوئی پروگرام زیر غور نہیں۔

پنجاب حکومت نے سرکاری سکولوں کی نجکاری کے حوالے سے بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کا سخت نوٹس لیاہے۔ ترجمان پنجاب حکومت نے وضاحت کی ہے کہ سرکاری سکولوں کی نجکاری کے حوالے سے تمام خبریں حقائق کے منافی ہیں۔

قبل ازیں نگراں وزیراطلاعات نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ حکومت نے سرکاری اسکولوں کی نجکاری کا کوئی فیصلہ نہیں کیا لہذا اساتذہ اپنے احتجاج سے دستبردار ہوجائیں۔

دوسری جانب پنجاب بھر میں سرکاری اساتذہ کا اسکولوں کی نجکاری کے خلاف جاری احتجاج 14ویں روز میں داخل ہوگیا ہے، مظاہرین نے اسکولوں کی نجکاری کا فیصلہ فوری واپس لینے اور دھرنے کے دوران گرفتار کیے جانے والے افراد کی رہائی سمیت مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نواز شریف کی واپسی سے مہنگائی آہستہ آہستہ کم ہوگی، خواجہ آصف

سیالکوٹ: سابق وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ چودہ ماہ کی حکومت میں ہر روز لگتا تھا کہ اقتدار ختم ہوجائے گا، نواز شریف کی وطن واپسی سے مہنگائی آہستہ آہستہ کم ہوگی۔

سیالکوٹ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ قائد کی واپسی میں چند روز رہ گے ہیں، نواز شریف کی محبت کا جذبہ زندہ تھا اور زندہ رہے گا۔ قائد کی جلاوطنی کارکنوں کے دلوں میں محبت کم نہ کر سکی۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کا دور ہو یا 2018 کا الیکشن ہو ہم پر عوام نے ہر بار بھروسہ کیا ہے، 2018 کے الیکشن میں ووٹ کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ شیر کی واپسی اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ کا فضل نواز شریف کے ساتھ ہے،دنیا کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ ایک شخص کو سازشیں کر کے تین دفعہ وزارت عظمی سے ہٹا گیا اس سازش میں سب شامل تھے مگر کوئی بھی سازش عوام کی محبت کو کمزور نہ کر سکی۔

اُن کا کہنا تھا کہ چار پانچ سالوں میں نواز شریف کے کارکنوں پر ظلم و جبر کیا گیا مگر کارکن وفا کا پیکر بن کر کھڑے رہے مگر اس مشکل وقت سے عوام کو اب نجات ملے گی، ایسے سفر کا آغاز کریں جو خوشحالی کی منزل کی جانب ہو گا۔ میں آج کوئی اختلافی بات نہیں کرنا چاہتا جس سے کشیدگی پیدا ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم ووٹوں کے ساتھ اقتدار میں آئے لیکن سازشیں جاری رہیں، ہم نے ان سازشوں کا اسمبلیوں اور گلی محلوں میں مقابلہ کیا، وطن عزیز کے ساتھ 75 سالوں میں جو کچھ ہوا وہ قابل فخر بات نہیں، آج جن حالات میں کھڑے ہیں ان میں اشرافیہ کا حصہ ہے،  ایک ادارہ ایسا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہاں انصاف کا بول بالا ہوتا رہے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمارے مسائل میں جہاں سب نے حصہ ڈالا ہے جتنا عدلیہ نے ڈالا ہے اتنا کسی نے نہیں ڈالا، عدلیہ نے نیا سفر شروع کیا ہے اس میں انصاف بھی نظر آرہا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ تمام کارکن اکیس اکتوبر کو قائد کے استقبال کے لئے لاہور پہنچیں، نواز شریف ووٹ کی عزت کو بحال کر کے چوتھی دفعہ وزیر اعظم بنے گا، 2018کے الیکشن میں ووٹ کی عزت کو پامال کیا گیا مگر اب نواز شریف وزیر اعظم بن کر ووٹ کی عزت کو بحال کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک بدعنوان حکومت جو چور دروازے سے اقتدار میں آئی اسے ہٹایا گیا، پھر شہباز شریف نے چودہ ماہ جو حکومت کی اسکا میں شاہد ہوں، اس دور اقتدار میں ایسا لگتا تھا کہ آج حکومت گئی۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ مہنگائی عروج پر ہے لیکن نواز شریف واپس آکر اس میں کمی کرے گا اور آہستہ آہستہ بہتری آئے گی نواز شریف کی واپسی سے معشیت میں بہتری آئے گی، اس ملک میں نواز شریف نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا ۔ مجھے یقین ہے جس سفر کا آغاز کیا ہے اسکی قیادت نواز شریف سنبھالیں گے وہ منزل پر ضرور پہنچے گا، ایسے حکمران نہ ہوں جو ذاتی مفاد کا تحفظ کرتے ہیں۔

پاکستان کا غزہ کیلیے امدادی سامان بھجوانے کا فیصلہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے  کہ پاکستان نے غزہ کے لیے امدادی سامان  بھجوانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 

ترجمان کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور محاصرے  کے پیش نظر مظلوم  فلسطینی بھائیوں کو امداد کی فوری ضرورت ہے ۔

غزہ میں رونما ہونے والے انسانی المیے کے پیش نظر حکومت پاکستان نے فلسطینی بھائیوں  کے لیے فوری طور پر انسانی بنیادوں پر امداد  روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی، اقوام متحدہ کی متعلقہ ایجنسیوں، حمصر اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ امدادی سامان کی ترسیل کے طریقوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔

آصف زرداری کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات

 اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اہم ملاقات ہوئی ہے۔

 صدر آصف علی زرداری اپنے پرانے اتحادی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کیلئے ان کی رہائش گاہ پہنچے، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔

سابق صدر نے جے یو آئی سربراہ سے ان کی خوش دامن کے انتقال پر تعزیت کی جبکہ دونوں رہنماؤں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی مشاورت ہوئی۔

جے یو آئی ایف کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری سربراہ جے یو آئی سے ان کی خوش دامن کے انتقال کے بعد اظہار تعزیت کیلئے آئے۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان 50 منٹ تک ملاقات جاری رہی، ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری ، ڈاکٹر عاصم حسین، مولانا اسعد محمود اور رخسانہ بنگش بھی شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور آئندہ عام انتخابات کے امور بھی زیر غور آئے، یہ ملاقات ایسے تناظر میں ہوئی جب جے یو آئی اور پیپلز پارٹی قیادت کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے کے دوران فاصلے بڑھے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور الزام تراشی بھی کی جاتی رہی ہے۔