All posts by Khabrain News

چیٹ جی پی ٹی 4 کو پیچھے چھوڑنے کیلئے گوگل کا طاقتور ترین اے آئی ماڈل متعارف

گوگل نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی اپنا سب سے طاقتور ماڈل متعارف کرا دیا ہے۔

لارج لینگوئج ماڈل جیمنائی پر کمپنی کی جانب سے کافی عرصے سے کام کیا جا رہا تھا۔

کمپنی اسے چیٹ جی پی ٹی 4 سے زیادہ بہتر تصور کرتی ہے اور یہ 3 مختلف کیٹیگریز میں دستیاب ہوگا۔

ایک جیمنائی الٹرا ہے جو تینوں میں سب سے طاقتور ہوگا، جس کے بعد جیمنائی پرو اور جیمنائی نانو ہے۔

گوگل چیٹ جی پی ٹی سے بھی بہتر اے آئی سسٹم تیار کرنے میں مصروف

گوگل کی جانب سے پہلے مرحلے میں 13 دسمبر سے ڈویلپرز اور کاروباری اداروں کو جیمنائی پرو تک رسائی فراہم کی جائے گی۔

جیمنائی پرو گوگل کی بیشتر اے آئی سروسز کے لیے استعمال کیا جائے گا اور گوگل بارڈ کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔

اس کے مقابلے میں جیمنائی نانو ایک بیسک ماڈل ہوگا جسے اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر استعمال کیا جاسکے گا۔

جیمنائی الٹرا ابھی تک تیار نہیں ہوا مگر ممکنہ طور پر یہ ڈیٹا سینٹرز اور مختلف ایپس کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا۔

جیمنائی الٹرا سب سے طاقتور اے آئی ماڈل ہوگا / فوٹو بشکریہ گوگل
جیمنائی الٹرا سب سے طاقتور اے آئی ماڈل ہوگا / فوٹو بشکریہ گوگل
گوگل کے مطابق اس کا چیٹ بوٹ بارڈ اب جیمنائی پرو پر مبنی ہوگا جبکہ پکسل 8 پرو کے صارفین جیمنائی نانو کے کچھ فیچرز استعمال کر سکیں گے، جبکہ الٹرا ماڈل اگلے سال کسی وقت متعارف کرایا جائے گا۔

جیمنائی اے آئی ماڈل ابھی صرف انگلش زبان میں دستیاب ہوگا مگر گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے بتایا کہ اسے بتدریج گوگل سرچ انجن، کروم براؤزر اور دیگر سروسز کا حصہ بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ مئی 2023 میں گوگل ڈویلپر کانفرنس کے دوران جیمنائی کا اشارہ دیا گیا تھا مگر تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔

بعد ازاں جون 2023 میں گوگل کی ڈیپ مائنڈ اے آئی لیب کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو (سی ای او) Demis Hassabis نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم ایک اے آئی سسٹم جیمنائی تیار کر رہے ہیں جو چیٹ جی پی ٹی سے زیادہ بہتر ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے 2016 میں ایلفا گو نامی اے آئی پروگرام تیار کیا تھا جس نے بورڈ گیم گو (go) کے ایک چیمپئن کو شکست دے دی تھی، اب اسی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے لارج لینگوئج ماڈلز کو حیرت انگیز خصوصیات سے لیس کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گوگل کو چیٹ جی پی ٹی اور دیگر جنریٹیو اے آئی ٹیکنالوجی سے سرچ انجن کے شعبے میں مسابقت کا سامنا ہے۔

نومبر 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے متعارف ہونے کے بعد گوگل کی جانب سے اے آئی چیٹ بوٹ بارڈ متعارف کرایا گیا تھا جبکہ اے آئی ٹیکنالوجی کو سرچ انجن سمیت متعدد پراڈکٹس کا حصہ بنایا گیا۔

اب نیا اے آئی ماڈل متعارف کرایا گیا ہے جو اوپن اے آئی کے طاقتور ترین ماڈل چیٹ جی پی ٹی 4 کا مقابلہ کرے گا۔

گوگل کے اے آئی چیٹ بوٹ کو زیادہ بہتر بنا دیا گیا

گوگل کے مطابق یہ نیا اے آئی ماڈل ویڈیو اور آڈیو کو سمجھنے اور اس کے مطابق اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں جیمنائی ٹیکسٹ سجیشنز پر کام کرے گا مگر زیادہ طاقتور ماڈلز جیسے جیمنائی الٹرا تصاویر، ویڈیو اور آڈیو پر کام کرسکیں گے۔

گوگل کے مطابق آئندہ سال بارڈ ایڈوانسڈ متعارف کرایا جائے گا جس کے لیے جیمنائی الٹرا کو استعمال کیا جائے گا۔

عمران خان نے اپنی نااہلی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

 اسلام آباد: تحریک انصاف کے بانی و سابق چیئرمین عمران خان نے اپنی 5 سال کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

سابق چئیرمین عمران خان نے بیرسٹر گوہر اور علی ظفر کی وساطت سے لاہور ہائی کورٹ میں اس حوالے سے درخواست دائر کی ہے جس میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

عمران خان نے درخواست میں کہا ہے کہ  الیکشن کمیشن نے 8 اگست 2023ء کو پانچ سال کے لیے بطور رکن اسمبلی نااہل کیا، الیکشن کمیشن نے درخواست گزار کو الیکشن سے باہر کرنے کے لیے جلد بازی میں غیر قانونی قدم اٹھایا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ  سپریم کورٹ کے احکامات پر الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے، درخواست گزار الیکشن میں حصہ لینا چاہتا ہے، درخواست گزار پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

عمران خان نے استدعا کی ہے کہ عدالت الیکشن کمیشن کی جانب سے مجھے پانچ برس کے لیے نااہل قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے، اس درخواست کے حتمی فیصلے تک نااہلی کا نوٹی فکیشن معطل کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ؛ العزیزیہ ریفرنس فیصلہ کالعدم قرار دینے کی نیب استدعا مسترد، کیس میرٹ پر سننے کا فیصلہ

 اسلام آباد: ہائی  کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس کو میرٹ پر سننے کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کی جانب سے کیس احتساب عدالت ریمانڈ بیک کرنے اور ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی کی استدعا مسترد کردی۔

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے کی، جس میں نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ اور نیب پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت نواز شریف کے ساتھ اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب، عطا تارڑ سمیت دیگرلیگی رہنما بھی موجود تھے۔  عدالت نے نواز شریف کی سزا کے خلاف اور نیب کی سزا بڑھانے کی اپیل کو یکجا کرکے سماعت کی۔  اس موقع پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے اپیل پر اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات پر ریفرنسز دائر کیے جن میں ایک جیسا الزام تھا۔

وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کر دیا تھا ۔ ایک ہی الزام پر الگ الگ ریفرنس دائر کیے گئے۔ ہم نے درخواست دی تھی کہ ایک الزام پر صرف ایک ہی ریفرنس دائر ہونا چاہیے تھا۔ 8 نومبر 2017ء  کے فیصلے میں احتساب عدالت نے کہا کہ ایک ساتھ تینوں ریفرنس نمٹائے جائیں گے۔ احتساب عدالت نے ٹرائل الگ الگ کیا لیکن فیصلہ ایک ساتھ سنانے کا کہاتھا۔

نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کاایک ساتھ ہی  فیصلہ سنانے کا حکم برقرار رکھا تھا اور اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ایک ساتھ تینوں کیسز کے فیصلے سے آسمان نہیں گر جائے گا۔

عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس میں الزام کیا تھا ؟، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کا کیس تھا ۔ اس کیس میں 22 گواہ ہیں جن میں 13 وہ ہیں جنہوں نے ریکارڈ پیش کیا ۔ وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے ۔ صرف دو گواہ رہ گئے ، ایک محبوب عالم اور دوسرے واجد ضیا۔ ایک نیب کے تفتیشی افسر اور دوسرے جے آئی ٹی کے سربراہ ہیں۔ میں ان گواہوں کے بیانات سے کچھ پورشن عدالت میں پڑھ کر سناؤں گا۔

وکیل نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کے مطابق سعودیہ کی اتھارٹیز کو ایم ایل اے بھیجا جس کا جواب نہیں آیا۔  پچھلے 7 سال میں یہ مؤقف رہا کہ میرے والد نے العزیزیہ اسٹیل ملز بنائی تھی۔ نواز شریف کا کبھی بھی کسی طور پر اس سے کوئی تعلق نہیں رہا۔  العزیزیہ اسٹیل ملز 2001ء  اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ 2005ء  میں بنائی گئی۔ حسین نواز کی عمر اس وقت 28 سال تھی جب العزیزیہ ملز لگائی گئی۔نواز شریف کا یہ کیس پچھلے کیس سے بھی بہتر ہے کہ وہ اس عرصہ میں پبلک آفس ہولڈر بھی نہیں تھے۔

نیب پراسیکیوٹر نے  عدالت کو بتایا کہ  یہ میرٹس پر بحث کر رہے ہیں، ان کی کچھ متفرق درخواستیں بھی ہیں۔ یا تو یہ اپنی وہ درخواستیں واپس لیں، جس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ  جی، جج کی وڈیو کے حوالے سے درخواستیں ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ  اس حوالے سے مریم نواز نے بھی پریس کانفرنس کی تھی، معاملہ سپریم کورٹ گیا تھا۔

نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جج ویڈیو اسیکنڈل سے متعلق اپنی درخواست کی پیروی نہیں کریں گے۔ جج ارشد ملک انتقال کر چکے ہیں، اس لیے ویڈیو سے متعلق درخواست کی پیروی نہیں کریں گے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ اگر جج کا کنڈکٹ اس کیس کے فیصلے کے وقت ٹھیک نہیں تھا ، بدیانت تھا تو اس کے اثرات ہوں گے۔ ہمیں بتائیں ان کو بطور جج کیوں برطرف کیا  گیا تھا ؟ چارج کیا تھا ؟ آپ اس درخواست کی پیروی کریں گے تو ہم اس کو دیکھیں گے ۔ ارشد ملک اب نہیں ہیں لیکن باقی لوگ ابھی موجود ہیں ۔ عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ اس درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں ؟۔

وکیل نے جواب دیا کہ مجھے ہدایت دی گئی ہے کہ جج ارشد ملک ویڈیو اسیکنڈل سے متعلق درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے ۔ میں جج ارشد ملک کے حوالے سے دعا گو ہوں، اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اب یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جج ارشد ملک کا معاملہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ نہیں کیونکہ درخواست تو موجود ہے۔ ہم یہاں اسکرین لگا دیں گے اور ویڈیو چلا دیں گے، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ یہ دو دھاری تلوار بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں ہمارے پاس 2 آپشنز ہیں۔ ایک یہ کہ ہم خود شواہد منگوا کر میرٹ پر فیصلہ کردیں۔ دوسرا یہ کہ ریفرنس کو دوبارہ احتساب عدالت کو ریمانڈ بیک کریں۔ اگر آپ کہتے ہیں تو میرٹ پر فیصلہ کردیں گے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ چیف جسٹس نے وکیل اعظم نذیر تارڑ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمیں اپنا فیصلہ بتانا ہے۔

وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں کہا کہ نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں۔ ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے۔ اس سے قبل بھی دو اپیلوں پر فیصلہ اسی عدالت میں ہو چکا ہے۔

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیے کہ کیس اگر ریمانڈ بیک کر بھی دیتے ہیں تو نواز شریف ملزم تصور ہوں گے، سزا یافتہ نہیں۔ ٹرائل کورٹ نے دوبارہ کیس کا فیصلہ کرنا ہو گا اور اگر نیب کا یہی رویہ رہا تو پھر تو آپ کو مسئلہ بھی نہیں ہو گا تو آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟۔ ایک راستہ اپیل خارج کردیں، دوسرا یہ کہ اپیل منظور کرکے نوازشریف کو بری کر دیں۔ تیسرا راستہ یہ ہے کہ اپیل منظور کرتے ہوئے احتساب عدالت کو واپس بھجوا دیں۔

دوران سماعت نیب نے عدالت سے العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔ نیب پراسیکیوٹر نے درخواست کی کہ عدالت فیصلہ کالعدم قرار دے کر ریمانڈ بیک کر دے ۔ اپیل میرٹ پر منظور ہوئی تو تشنگی رہ جائے گی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ ریمانڈ کرنا دو دھاری تلوار ہوسکتا ہے، جس پر وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ارشد ملک زندہ ہوتے تو انہیں طلب کرنے کی استدعا کرتے۔ معلوم ہے کہ ٹرائل کورٹ سے کوئی بھی فیصلہ آ سکتا ہے۔ وکیل امجد پرویز نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت ریمانڈ بیک کرنے کی صورت میں ڈائریکشن دیدے کہ فیصلہ جلد کیا جائے۔دوبارہ فیصلے کے لیے کیس احتساب عدالت کو بھجوانے کے مؤقف سے متفق ہیں۔ ہائی کورٹ احتساب عدالت کو ایک جلد  فیصلے کی ہدایت دے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے  مقدمہ احتساب عدالت کو بھجوانے کی نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے العزیزیہ ریفرنس میرٹ پر سننے کا فیصلہ کردیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم اس ریفرنس کو میرٹ پر سنیں گے۔عدالت نے جج ویڈیو اسیکنڈل کیس سے متعلق نواز شریف کی جانب سے درخواست کی پیروی نہ کرنے کی استدعا منظور  کرلی۔

پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرانے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کردیا

 لاہور: تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس حوالے سے آئینی درخواست پی ٹی آئی اور سابق چئیرمین عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے،  درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس دس جون کو قانون اور آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کرائے، الیکشن کمیشن نے بیس دن کے اندر دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا غیر قانونی حکم پاس کیا، الیکشن کمیشن کا حکم غیر قانونی اور آئین کے بھی منافی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ الیکشن کمیشن کا دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم کالعدم قرار دے، عدالت دس جون 2022ء کو کرائے گئے انٹرا پارٹی الیکشن کو درست قرار دے۔

پرانی سیاست کو دفن کرکے نئی سیاست لانی ہے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ ہم نے پرانی سیاست کو دفن کرکے نئی سیاست کو لانا ہے، پرانے سیاستدان مسائل کی طرف نہیں دیکھ رہے ہیں نہ ہی مستقبل میں کوئی پلان ہے۔

شانگلہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگوں کا دل سے مشکور ہوں، جنہوں نے ثابت کر دیا بھٹو آج بھی زندہ ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان کےعوام کو مشکلات کاسامنا ہے، معاشی حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں، ملک میں تقسیم کی سیاست عروج پر ہے، پرانے سیاستدان آج بھی پرانی اور انا کی سیاست کر رہے ہیں، سیاست کو اختلاف رائے کے بجائے ذاتی دشمنی تک پہنچا دیا گیا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پرانے سیاستدان کوعوام کے اصل مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں، مہنگائی غربت، بیروزگاری میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، پاکستان کے عوام بہت مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، ایک طرف نفرت اور تقسیم کی سیاست عروج پر ہے، دوسری طرف معاشی بحران بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ والدہ سے سیکھا ہے کہ غریبوں، مزدوروں، کسانوں کی کیسے نمائندگی کرنی ہے، ہمیں گالم گلوچ اور ٹک ٹاک کی سیاست نہیں آتی، میں کسی اور کی طرف نہیں دیکھنا چاہتا،عوام پر اعتماد کرتا ہوں، ہمارے سیاستدانوں کیلئے مہنگائی، غربت، بے روزگاری کوئی ایشو نہیں، وہ آپ کے مسائل کی طرف نہیں دیکھ رہے ہیں نہ ہی مستقبل میں کوئی پلان ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پاکستان کے مزدوروں، کسانوں، طالبعلموں کو بتانا چاہتا ہوں، پیپلز پارٹی نے ہی آپ کو ماضی میں بھی مشکلات سے نکالا ہے، آج بھی پی پی واحد جماعت ہے جو آپ کو روٹی، کپڑا اور مکان دے سکتی ہے، اور کہتی ہے ہمارا سیاسی کوئی مخالف نہیں، پیپلزپارٹی کا مقابلہ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی سے ہے، 3 نسلوں سے یہی جدوجہد کررہے ہیں، بڑوں سے یہی سیکھا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میرا ملک مشکل میں ہے عوام تکلیف میں ہیں آپ لوگ میرا ساتھ دیں، میں دکھاؤں گا کہ کیسے ملک اور عوام کی قسمت تبدیل کریں گے، سب سیاستدانوں کو پہچان چکا ہوں، ہم نے پرانی سیاست کو دفن اور نئی سیاست کو لانا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ نئی سیاست لے کر جانی ہے جس میں عوام کی خدمات کی جاتی ہے، ان کی سیاست اس چیز کی ہے کہ اپنی جیب کیسے بھرنی ہے، میرے ہاتھ صاف ہیں، میرے مخالف بھی کچھ نہیں کہہ سکتے، میں اپنی جیب کے بجائے عوام کی جیب بھرنا چاہتا ہوں، ہمارامنصوبہ ہے 5سال میں عام آدمی کی تنخواہ دگنی کرنی ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سب سیاستدانون کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آچکا ہے، پاکستان کی سیاست میں ہاتھ صاف رکھنا مشکل ہے، ہم کسانوں کو خوشحال کروائیں گے، کسانوں کو ان کی فصل کی قیمت دلوائیں گے۔

سابق پی ٹی آئی رہنما اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری ن لیگ میں شامل

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور پی ٹی آئی دور حکومت میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی رہنے والے دوست محمد خان مزاری مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کا ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا ہر حلقے میں تقریباً 6 سے 8 درخواستیں موصول ہوئی ہیں لیکن ہر حلقے سے ایک امیدوار ہی الیکشن میں حصہ لے گا، جیسے ہی یہ عمل مکمل ہوتا ہے امیدواروں کا اعلان کر دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ کچھ عرصہ سے ہمارے ساتھ تعاون کر رہےتھے وہ آج مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے ہیں، این اے 110 سے مولانا آصف، بابر سیال اور پی پی 125 سے نیلم سیال ن لیگ میں شامل ہوئے، پی پی 127 سےشیخ محمد یونس، پی پی 128 سے خالد محمود سرگانہ، پی پی 129 سے خالد غنی، پی پی 130 سے امیر عباس سیال ن لیگ میں شامل ہوئے ہیں۔

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی

مولانا فضل الرحمان نے برطانوی ہائی کمشنر سے کہا کہ افغانستان میں خواتین اور بچوں کی تعلیم پر پریشان ہونے والوں کو غزہ کی خواتین اور بچوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی۔

مولانا فضل الرحمان اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات میں افغانستان اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی زیر بحث آئے، افغانستان میں خواتین کی تعلیم سمیت افغان مہاجرین کی واپسی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر رہنما جے یو آئی حافظ حمداللہ، جلال الدین ایڈووکیٹ اور مفتی ابرار بھی موجود تھے۔

برطانوی ہائی کمشنر نے مولانا فضل الرحمان سے افغانستان میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے تعاون کی اپیل کی۔ جس پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ خواتین کی تعلیم کے حامی ہیں، مغرب اور اسلام کے درمیان ثقافتی تقسیم کو تسلیم کیا جائے۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن وامان کے قیام میں بتدریج بہتری آرہی ہے، امن وامان کے قیام کے ساتھ ساتھ یہ مسائل بھی حل ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے برطانوی ہائی کمشنر سے کہا کہ افغانستان میں خواتین اور بچوں کی تعلیم پر پریشان ہونے والوں کو غزہ کی خواتین اور بچوں کی طرف توجہ دینی چاہیے، جہاں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ غزہ میں 4 ہزار خواتین، 6 ہزار بچے اور 20 ہزار عام شہریوں کو بموں کے ذریعے شہید کیا گیا، مغرب پھر بھی اسرائیل کی حمایت کررہا ہے، وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کرے، امن کے نام پر غزہ میں قتل عام بند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بند کی جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے خواتین کی تعلیم کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اسلامی مقامی اور پشتون روایات اور ثقافت کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔

افغانستان سے 23 دہشت گرد تنظیمیں آپریٹ ہونے کا انکشاف، 53 ممالک متاثر

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان سے 23 دہشت گرد تنظیمیں 53 ممالک میں دہشتگردی پھیلاتی ہیں، اور ان 23 میں سے17دہشت گرد تنظیمیں صرف پاکستان کو نشانہ بناتی ہیں۔

افغانستان عالمی دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان سے 23 دہشتگرد تنظیمیں 53 ممالک میں دہشت گردی پھیلا رہی ہیں۔ اور افغانستان خطے میں دہشتگرد تنظیموں کی باقاعدہ مالی معاونت کررہا ہے۔

افغانستان سے دہشتگردی کا نشانہ بننے والوں میں پاکستان سرفہرست ہے، اور 23 میں سے 17 دہشت گرد تنظیمیں صرف پاکستان کو نشانہ بناتی ہیں، ان کالعدم تنظیموں میں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور بلوچ تنظیمیں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان سے کالعدم القاعدہ اور داعش یورپ اورامریکا کو نشانہ بناتی ہے، کالعدم تحریکِ اسلامی نامی تنظیم ترکمانستان اور چین جب کہ آئی ایم یو ازبکستان کو نشانہ بناتی ہے۔

افغانستان سے ہی کالعدم جنداللہ ایران میں، اور کالعدم حزب التحریر اور جماعت الاحرار پاکستان میں دہشتگردی پھیلاتی ہیں۔

ایشیا پیسیفک فورم کی رپورٹ کے مطابق آپریشن ضرب عضب اور ردّ الفساد سے تقریباً ختم ہو جانے والی کالعدم ٹی ٹی پی افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دوبارہ متحرک ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015 سے 2020 تک پاک فوج کے آپریشنز کی بدولت ٹی ٹی پی کے حملے مسلسل کم ہوتے گئے، لیکن 2020 کے بعد سے ٹی ٹی پی کے حملوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، اور اس تنظیم نے پاکستان میں 2020 میں 49 ، 2021 میں 198جب کہ 2022 میں237 حملے کیے۔ اور گزشتہ سال ٹی ٹی پی کے317 حملوں میں 389 پاکستانی شہید ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں بھی افغانستان میں چھوڑا جانے والا امریکی اسلحہ استعمال ہوا تھا، پچھلے دو سالوں میں پاکستان میں ہونے والے تمام خودکش حملہ آور بھی افغان تھے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، پاکستان کے بارہا مطالبے پر بھی کوئی ایکشن نہ لیا گیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوحہ معاہدے میں طالبان کی طرف سے دہشت گرد گروپوں کو توڑنے اور دیگر ممالک کے لیے سلامتی خطرہ نہ بننے کے وعدے پورے نہیں ہوئے، افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی پیچیدہ اورغیر یقینی ہو گئی ہے۔

امریکی نمائندہ برائے امن پروگرام کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان میں دہشت گردوں کی تربیت اوران کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کے لئے متحرک ہے۔

مسلم لیگ ن کا نئی حلقہ بندیوں کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ

سابق وفاقی وزیر سعد رفیق کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نئی حلقہ بندیوں سے مطمئن نہیں، میں اپنے حلقے کے حوالے سے الیکشن کمیشن گیا لیکن میری بات نہیں سنی گئی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں بہترین امیدوار میدان میں اترانے کی کوشش کریں گے، لیول پلئینگ فیلڈ کا طعنہ عجیب سا ہے، میں حلقے کے حوالے سے الیکشن کمیشن گیا، لیکن میری بات نہیں سنی گئی۔

سعدرفیق کا کہنا تھا کہ ابھی حلقہ بندیوں کےمسائل چل رہے ہیں، مسلم لیگ ن نئی حلقہ بندیوں سے مطمئن نہیں۔ نئی حلقہ بندیوں میں میرا اور شہبازشریف کا حلقہ متاثر ہوا ہے، نئی حلقہ بندیوں کے خلاف عدالت جارہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی نئی قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پربھارت کی نئی قانون سازی کو پاکستان مسترد کرتا ہے، جموں کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔

اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی نئی قانون سازی کو مسترد کرتا ہے، نئی قانون سازی بھارتی غیرقانونی قبضے کو طول دینا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امیت شاہ کے بیان کو مسترد کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کو رد نہیں کیا جا سکتا، جموں کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔

ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹرعافیہ کو ہراساں کرنے کا معاملہ امریکی محکمہ خارجہ کےسامنےاٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم نے ڈاکٹرعافیہ معاملے کی تحقیقیات کرانے کا کہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت کی سخت مذمت کرتے ہیں،اسرائیل حمایت والے ممالک اسرائیل کو بربریت سے روکیں، پاکستان نے سیکریٹری جنرل کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

ممتاز زہرا بلوچ نے مزید کہا کہ امریکا جانے والے افغانیوں کی فہرست امریکی سفارت خانہ سے ملی ہے، افغانیوں کی روانگی کے میکانزم پر مشاورت جاری ہے۔ دہشت گردی پر امریکی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، امریکی رپورٹ زمینی حقائق کے منافی ہے.

ترجمان نے بتایا کہ چمن بارڈر پر بندش ہے ارو طورخم بارڈر کھول دیا گیا ہے، پاک افغان بارڈر آمد و رفت صرف ویزا کے ذریعے ہوگی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سابق معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر پر برطانیہ میں مبینہ تشدد میں حکومتی اداروں کا کوئی کردار نہیں، برطانوی حکومت کی معلومات کا خیر مقدم کریں گے۔