All posts by Khabrain News

سائفر پری پلان ڈرامہ تھا جسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا: اعظم خان نے اعترافی بیان ریکارڈ کرادیا

اسلام آباد(خبریں ڈیجیٹل) سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا۔

ذرائع کے مطابق اعظم خان نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف بیان ریکارڈ کراتے ہوئے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’سائفر کو غلط رنگ دے کر عوام کا بیانیہ بدل دوں گا‘:
اعظم خان کا بیان

ذرائع کے مطابق اعظم خان نے کہا کہ سائفر کے معاملے پر تمام کابینہ ارکان کو ملوث کیا گیا اور  تمام لوگوں کو بتایا گیا کہ سائفر کو کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے، سائفر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، سائفر کو صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، یہ ڈرامہ پری پلان بنایا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اعظم خان نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے تمام تر حقائق کو چھپا کر سائفر کا جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ بنایا، تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لیے سائفر کو بیرونی سازش کا رنگ دیا گیا۔

اعظم خان کے بیان کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’سائفر کو غلط رنگ دے کر عوام کا بیانیہ بدل دوں گا‘۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر مجھ سے 9 مارچ کو لے لیا اور بعد میں گم کر دیا: اعظم خان

اعظم خان نے بیان میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر مجھ سے 9 مارچ کو لے لیا اور بعد میں گم کر دیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر ڈرامے کے ذریعے عوام میں ملکی سلامتی اداروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا، سائفرکو جان بوجھ کر ملکی سلامتی اداروں اور امریکا کی ملی بھگت کا غلط رنگ دیا گیا،منع کرنے کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکریٹ مراسلہ ذاتی مفاد کے لیے لہرایا۔

ذرائع کے مطابق 8 مارچ 2022 کو سیکرٹری خارجہ نے اعظم خان کو سائفر کے بارے میں بتایا، شاہ محمود قریشی سابق وزیراعظم کو سائفر کے متعلق پہلے ہی بتا چکے تھے لیکن سابق وزیرا عظم نے سائفر کو اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ بنانےکے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، سابق وزیراعظم عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھ لیا جو کہ قانون کی خلاف ورزی تھی، سائفر واپس مانگنے پر چیئرمین پی ٹی آئی نے اس کے گم ہونے کا بتایا۔

سائفر کا معاملہ کیا ہے؟

خیال رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔

اس کے علاوہ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔

اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا۔

اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے  اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔

سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

امریکی فوج کی لاکھوں ای میلز ٹائپنگ غلطی سے روس کے اتحادی مالی کو بھیج دی گئیں

لاھور(خبریں ڈیجیٹل)برطانوی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج کی لاکھوں ای میلز ٹائپنگ غلطی سے  روس کے اتحادی ملک مالی کو بھیج دی گئیں، ڈومین میں ٹائپنگ کی معمولی غلطی سے برسوں سے امریکی فوج کی ای میلز مالی کوجاتی رہی ہیں، پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ای میل کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں.

برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی فوج کا ڈومین .mil اور مالی کا ڈومین .ml ہے، امریکی فوج کی مالی کو جانے والی ای میلز میں پاس ورڈ، میڈیکل ریکارڈ، فوجی تنصیبات کے نقشوں، فوجی افسران کی سفری تفصیلات جیسی حساس معلومات شامل تھیں۔

خبر کا پہلی بار انکشاف کرنے والے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ ڈچ انٹرنیٹ کاروباری جوہانس زیوربیئر نے 10 سال پہلے اس مسئلے کی نشاندہی کی تھی۔

اس کے پاس مالی کے کنٹری ڈومین کا انتظام کرنے کا معاہدہ ہے اور جو حالیہ مہینوں میں مبینہ طور پر ہزاروں غلط ای میلز چیک کر چکا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع اس معاملے سے آگاہ ہے اور فوجی ای میلز غلط ڈومینز پر نہ بھیجے جانے کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔

قومی اسمبلی کب تحلیل ہوگی ابھی کسی تاریخ پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا، وزیراطلاعات

لاہور(خبریں ڈیجیٹل) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے 8 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی   خبروں کی تردید کردی۔

اپنی ٹوئٹ میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھاکہ قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے تاریخ کا فیصلہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھاکہ قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ خبر سامنے آئی تھی کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے قبل 8 اگست کو توڑنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ قومی اسمبلی توڑنےکے لیے 9 اور 10 اگست پر بھی غور کیا گیا تھا۔

واضح رہےکہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست رات 12 بجے تک ہے، اسمبلی مدت سے قبل تحلیل ہونے پر عام انتخابات کرانے کے لیے نگران سیٹ اپ 90 دن کے لیے آئےگا۔

13 جولائی کو قوم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے اگست 2023 میں معاملات نگران حکومت کے حوالے کرنےکا اعلان کیا تھا۔

شہریوں کے ملٹری ٹرائل کا کیس: حکومت کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

اسلام آباد: (خبریں ڈیجیٹل) فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے وفاقی حکومت کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بنچ نے مذکورہ درخواستوں پر سماعت کی۔

عابد زبیری کے دلائل 

سماعت کے آغاز پر صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری روسٹرم پر آگئے، انہوں نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں نے ایک متفرق درخواست دائر کی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

عابد زبیری نے کہا کہ میں نے تحریری جواب جمع کرا دیا ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نمائندگی کررہا ہوں، میری 5 معروضات ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ بات کرسکتے ہیں، جو بولنا ہے بتائیے، آپ کی رائے آنا اچھا ہوگا۔

عابد زبیری نے کہا کہ آرٹیکل 83 اے کے تحت سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوسکتا، عدالت کی توجہ سپریم کورٹ کےفیصلوں کی جانب دلانا چاہتا ہوں، 1999 میں سپریم کورٹ میں لیاقت حسین کیس سے اصول طے ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس اجمل میاں کے فیصلے کے مطابق صرف فوجی اہلکاروں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سویلنز کے ٹرائل کے لیے آئینی ترمیم درکارہو گی۔

عابد زبیری نے کہا کہ اکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر فیصلے میں عدالت نے جوڈیشل ریویو کی بات کی تھی، بنیادی نقطہ یہ ہے کہ جو الزامات ہیں ان سے ملزمان کا تعلق کیسے جوڑا جائے گا، اس معاملے پر عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں، عدالتیں کہہ چکی ہیں کہ ملزمان کا براہِ راست تعلق ہو تو ہی فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو سکتا ہے، سوال ہے کہ کیا آئینی ترمیم کے بغیر سویلینز کا فوجی عدالتوں ٹرائل ہوسکتا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ اپنا مؤقف واضح کریں کہ کیا ملزمان کا تعلق جوڑنا ٹرائل کے لیے کافی ہو گا؟  کیا آئینی ترمیم کے بغیر سویلینز کا ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا؟

عابد زبیری نے کہا کہ سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئینی ترمیم کے بغیر نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں ملزمان کا تعلق ٹرائل کے لیے پہلی ضرورت ہے؟ آپ کے مطابق تعلق جوڑنے اور آئینی ترمیم کے بعد ہی سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ لیاقت حسین کیس میں آئینی ترمیم کے بغیر ٹرائل کیا گیا تھا، فوج سے اندرونی تعلق ہو تو کیا پھر آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنے موقف کو خلاصہ میں بیان کرسکتے ہیں، اگر ملزمان کا تعلق ثابت ہوجائے تو پھر کیا ہوگا؟

عابد زبیری نے کہا کہ گزارش یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ ٹرائل آئینی ترمیم سے ہی ممکن ہے، 9 مئی پر کچھ لوگوں پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ لاگو ہوا کچھ پر نہیں، اگر آپ نے خصوصی ٹرائل کرنا ہے تو آئینی ترمیم سے خصوصی عدالت بنانا ہی ہو گی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خصوصی عدالت سے مراد آپ کی وہ عدالت ہے جو ہائی کورٹ کے ماتحت ہو؟ عابد زبیری نے جواب دیا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلانے والے جوڈیشنل نہیں ایگزیکٹیو اراکین ہوتے ہیں، ٹرائل کے بعد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جوڈیشل ری ویو ملنا چاہیے، اکیسویں آئینی ترمیم ایک خاص مدت کے لیے تھی، آرٹیکل 175/9 کے تحت سویلنز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے لیے ترمیم ضروری ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر ملزمان کا اندرون تعلق ثابت ہو جائے تو کیا ہوگا؟ عابد زبیری نے جواب دیا کہ موجودہ حالات میں ٹرائل کے لیے خاص ترمیم کرنا ہوگی، کچھ ملزمان کو چارج کیا جارہا ہے کچھ کو نہیں، ہمیں معلوم نہیں کہ ملزمان کے فوج عدالتوں میں مقدمات چلانے کا پیمانہ کیا ہے، فوجی عدالتوں میں مقدمات سننے والے جوڈیشل کی بجائےایگزیکٹو ممبران ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 21 ویں اور 23 ویں ترامیم خاص مدت کے لیے تھیں، 21 ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نے اجازت تو دی لیکن سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں ریویو کا اختیار بھی دیا، سپریم کورٹ نے دائرہ اختیار یا اختیارات سے تجاوز بدنیتی کی بنیاد پر جوڈیشل ریویو کا اختیار دیا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے پولیس گرفتار کر کے عام عدالتوں میں فرد جرم لگوائے پھر معاملہ ملٹری کورٹس جائے؟ عابد زبیری نے کہا کہ قانون میں ملزم کا لفظ ہی ہے جب تک فرد جرم عائد نہ ہو بندہ مجرم نہیں ہوتا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کیس پہلے عام عدالت میں چلے پھر ملٹری کورٹس جاسکتا ہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ لیاقت حسین کیس میں کہا گیا ملٹری اتھارٹیز تحقیقات کرسکتی ہیں سویلین کا ٹرائل نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کس پر آرمی ایکٹ لگے گا کس پر نہیں؟ عابد زبیری نے جواب دیا کہ تحقیقات کرنا پولیس کا کام ہے، پولیس ہی فیصلہ کرے گی۔

عابد زبیری نے مختلف امریکی عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی فوج کی جانب سے حراست بھی غیر قانونی ہے۔

اٹارنی جنرل کے دلائل
دریں اثنا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کیا۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ سویلینز پر آرمی ایکٹ کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق دلائل دینے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کے وکیل نے ایف بی علی اور 2 مزید فیصلوں پر بات کی، عدالت کے سامنے اکیسویں آئینی ترمیم اور لیاقت حسین کیس کو بھی زیر بحث لایا گیا، لیاقت حسین کیس میں 9 رکنی بنچ تھا، میں عدالت کے 23 جون کے حکمنامے کو پڑھوں گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس بات کی خوشی ہے کہ آرمی کے زیرِ حراست افراد کو خاندان سے ملنے دیا جا رہا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا نوٹ پڑھا، انہوں نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کا کہا، جسٹس یحییٰ آفریدی کے نوٹ میں دیگر بنچ اراکین کے بنچ پر اعتراض کا تذکرہ کیا گیا۔

جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ آپ 26 جون کا حکم نامہ بھی پڑھیں، وفاقی حکومت نے خود بنچ کے ایک رکن پر اعتراض کیا، کیا اب حکومت فل کورٹ کا کہہ سکتی ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ استدعا ہے کہ دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے، اس پر جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کون فیصلہ کرے گا کہ کون سے ججز دستیاب ہیں؟ آپ خود مان رہے ہیں کہ بنچ کی تشکیل کا فیصلہ چیف جسٹس کریں گے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ یہ بنچ اس کیس کو سن چکا ہے، آپ اپنی گزارشات جاری رکھیں، کافی حد تک موجودہ بنچ یہ کیس سن چکا ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہ رہے ہیں 17 سے زیادہ ججز اس کیس کیلئے دستیاب ہوں جو کہ ممکن نہیں۔

دوران سماعت وزارت دفاع کے وکیل عرفان قادر نے اٹارنی جنرل کو لقمہ دیا، اٹارنی جنرل نے عرفان قادر کو بیٹھنے کی ہدایت دی۔

دریں اثناء عدالت نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت ججز دستیاب نہیں فل کورٹ تشکیل دینا ناممکن ہے۔

بعدازاں عدالت نے فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں پر مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

ڈیفالٹ کا خطرہ ختم ہو چکا، ہمسایہ ملک کو معاشی میدان میں شکست دیں گے: وزیر اعظم شہباز شریف

اسلام آباد: (خبریں ڈیجیٹل) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈیفالٹ کا خطرہ اب ختم ہو چکا ہے، آنے والی حکومت چارٹر آف اکانومی پر عمل کرے، آج بھی یہی کہتا ہوں چارٹر آف اکانومی پر قوم متحد ہو جائے، معیشت کی بحالی کیلئے ہم نے پروگرام بنایا ہے، اب اگلی حکومت کو معاشی بحالی کے پروگرام پر کام کرنا ہو گا۔

اسلام آباد ماڈل سپیشل اکنامک زون کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد ماڈل سپیشل اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، افسوس یہ منصوبہ کئی سال پہلے معرض وجود میں آنا چاہیے تھا، پانچ سال کی تاخیر کے بعد آج سنگ بنیاد رکھا گیا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا ہے کہ نواز شریف دور میں سی پیک منصوبوں کا آغاز کیا گیااور بجلی کے منصوبے، سڑکوں کے جال بچھائے گئے، نواز شریف کے بعد سی پیک کو نا صرف جامد اور چین تعلقات میں بہت بڑا تعطل پیدا ہو گیا، پورے پاکستان میں سی پیک کے تحت سپیشل اکنامک زونز تعمیر ہونا تھے، پی ٹی آئی کے چار سالہ دور میں صنعتی زونز پر سست روی سے کام ہوا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے چودہ ماہ فائرفائٹنگ میں گزرے، تباہ کن سیلاب نے پورے ملک میں تباہی مچائی، وفاق نے سیلاب سے نمٹنے کیلئے 100 ارب تقسیم کیے، یوکرین، روس جنگ کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آیا، لاکھوں ٹن گندم امپورٹ کرنے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑے، تیل امپورٹ کرنے کیلئے 27 ارب ڈالر خرچ ہوئے، آئی ایم ایف ہمارے سر پر سوار تھا۔

انہوں نے مزید کہا اللہ کا شکر ہے مشترکہ کاوشوں سے معاہدہ ہوا، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ سمیت سب کی کاوشوں سے معاہدہ کیا، بجلی کی بہت زیادہ چوری ہوتی ہے، صنعتی ترقی کیلئے بہت اہم منصوبہ بندی کی ہے، بجلی کا بوجھ غریب آدمی پرمزید نہیں ڈال سکتے، پاکستان کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط پرعملدرآمد کے ہم پابند ہیں، ماضی میں آئی ایم ایف معاہدے پرعمل نہیں کیا گیا۔

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جتنی ہماری ایکسپورٹ ہے ڈوب مرنے کا مقام ہے، اگر ہم دن رات محنت کریں گے تو تمام منزلیں عبور کریں گے، پاکستان کے ذخائر 14 ارب ڈالر کے قریب ہیں، دوست ممالک کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے، قرضوں سے ہمیں اب نکلنا ہو گا، دوست ملکوں سے کہا خدا کرے اب ہمیں قرضوں کی درخواست نہ کرنی پڑے، ماضی میں سپیشل اکنامک زونز پر ایک دمڑی نہیں لگائی گئی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا ہے کہ ہمیں انڈسٹریل زونز کارو باری حضرات کو لیز پر دینے چاہئیں، اگر حکومت زمینوں کی قیمتیں بڑھائے گی تو کون آ کر سرمایہ کاری کرے گا، زمینیں لیز پر دیں گے تو ملک تیزی سے آگے رواں دواں ہو گا، ہم ہمسایہ ملک کو معاشی میدان میں شکست فاش دیں گے، باتیں نہیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

سعود شکیل سری لنکن بولرز کے سامنے دیوار بن گئے، ڈبل سنچری بنا کر تاریخ رقم کردی

لاہور (خبریں ڈیجیٹل )

   قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل سری لنکن بولرز کے سامنے دیوار بن گئے، ٹیل اینڈرز کیساتھ کھیلتے ہوئے اپنے کیریئر کی پہلی ڈبل سنچری مکمل کرتے ہوئے سری لنکا میں تاریخ رقم کردی۔

گال میں کھیلے جارہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں جب پاکستانی ٹیم انتہائی مشکلات کا شکار تھی تو س وقت سعود شکیل نے آغا سلمان کے ہمراہ ایک اینڈ سنبھالا۔

سعود شکیل نے میراتھن اننگز کھیلتے ہوئے پہلے آغا سلمان کا ساتھ دیا اور اپنی سنچری مکمل کی، یہاں آغا سلمان اسٹمپ آؤٹ ہوئے تو یوں لگا جیسے پاکستانی بیٹنگ لائن جلد سمٹ جائے گی۔

تاہم نعمان علی، شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور ابرار احمد کے ساتھ کھیلتے ہوئے سعود شکیل نے اپنی ڈبل سنچری مکمل کی۔

واضح رہے کہ یہ سعود شکیل کے کیریئر کی پہلی ڈبل سنچری ہے۔ انہوں نے یہ سنگ میل حاصل کرنے میں 352 گیندوں کا سہارا لیا جبکہ اس اننگز میں 19 چوکے بھی شامل ہیں۔

سعود شکیل سری لنکا میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹر بن گئے۔

مڈل آرڈر بیٹر نے چھٹے ٹیسٹ میچ کی گیارہویں اننگز میں ڈبل سنچری بنائی۔

سپریم کورٹ، سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست وفات کے بعد سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد: (خبریں ڈیجیٹل) سابق صدر پرویز مشرف کی کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کیخلاف درخواست ان کی وفات کے بعد سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کر لی گئی۔

واضح رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 2013ء کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا، اُن کی سپریم کورٹ میں دائر اپیل پر آخری سماعت 5 سال قبل ہوئی تھی۔

ووٹ کے اندراج،کوائف کی درستگی ، اخراج اور منتقلی ووٹ کی تاریخ میں توسیع

اسلام آباد: (خبریں ڈیجیٹل) الیکشن کمیشن نے ووٹ کے اندراج، کوائف کی درستگی، اخراج اور منتقلی ووٹ کی تاریخ میں توسیع کر دی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اب ووٹ کے اندراج، اخراج و درستگی کی آخری تاریخ 20 جولائی 2023 ہے، اس سلسلے میں ووٹر اپنے ووٹ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنا شناختی کارڈ نمبر 8300 پر ایس ایم ایس کر کے اپنے ووٹ سے متعلق تفصیلات حاصل کریں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹ کا اندراج شناختی کارڈ پر موجود مستقل یا عارضی پتے میں سے کسی ایک پر کروایا جا سکتا ہے، اگر ووٹر اپنے ووٹ کا اندراج، منتقلی، اخراج یا کوائف میں درستگی چاہتے ہیں تو الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے فارم ڈاون لوڈ کرکے پر کریں اور اپنے متعلقہ ضلعی الیکشن کمشنر کے دفتر میں جمع کروائیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اندراج و منتقلی ووٹ کے لیے فارم نمبر 21 استعمال کریں، اعتراض اور اخراج ووٹ کے لیے فارم نمبر 22 استعمال کریں، کوائف کی درستگی کے لیے فارم نمبر 23 استعمال کریں۔

ملک بھر میں آئندہ ہفتے سے مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان

لاہور: (خبریں ڈیجیٹل) ملک بھر میں آئندہ ہفتے سے مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے آئندہ ہفتے سے سندھ میں مون سون کے نئے سسٹم کے اثر انداز ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 20 سے 22 جولائی کے درمیان مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ سندھ پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں بارشوں کا امکان ہے، بارشوں کا نیا سلسلہ خلیج بنگال سے پاکستان میں داخل ہوگا، کراچی میں بارشوں کی شدت کا اندازہ سسٹم کے قریب آنے پرہو گا۔