All posts by Khabrain News

غلام سرور خان نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

راولپنڈی: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے اور میرے خاندان کو سیاست میں 50 سال ہوچکے ہیں، پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں ہیں،شہدا کی یادگاروں، جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس اور میانوالی بیس پر حملہ کرنے والے ملک دشمنی کے مرتکب ہوئے ہیں، انہوں نے کورکمانڈر ہاؤس پر نہیں بلکہ پاکستان کے دل پر حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانیت پر حملے کے ان تمام ناپاک عزائم اور اقدام کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے، جن لوگوں نے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی میں اس محاذ آرائی کی بھی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس محاذ آرائی کی پالیسی سے اختلاف میں نے پارٹی کے ہر فورم پر بھی کیا کہ ہمیں محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے، اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہیے، جو کچھ ہوا بہت برا ہوا، اس بنا پر تحریک ِ انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔

سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کیلئے حکم امتناع کی درخواست مسترد

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کیلئے حکم امتناع کی درخواست مسترد کر دی۔
سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف بنایا گیا نو رکنی بینچ قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق کے علیحدہ ہونے سے ٹوٹ گیا، چیف جسٹس نے نیا سات رکنی بنچ بنا دیا، چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کا احوال
سماعت شروع ہوتے ہی جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کو اس بنچ پر اعتراض ہے تو پہلے بتا دے، درخواست گزار اعتزاز احسن نے کہا کہ کسی کو بھی اس بنچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل نے بھی کہا کہ ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں، بعدازاں پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کو بھی مدنظر رکھا جائے، چھٹیوں کی وجہ سے ججز مختلف رجسٹریوں میں بیٹھیں گے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ میرے کیس میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض عائد کیا گیا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی درخواست میں ملٹری کورٹس کے سوا بھی بہت سی استدعائیں ایک ساتھ کی گئی ہیں، کوشش کریں کہ ملٹری کورٹس کے سوا دیگر استدعا کو واپس لے لیں، اس پر وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ملٹری کورٹس بنانے کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ہم مقدمات میں ملٹری کورٹس کے معاملے پر فوکس کر رہے ہیں، ہم آپس میں مشاورت کر کے بتائیں گے کہ آپ کو الگ سننا ہے یا اسی کیس میں سنیں گے۔
دوران سماعت لطیف کھوسہ نے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کا نوٹی فکیشن واپس ہو گیا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ درست ہے۔
سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ 15 مئی کو کور کمانڈر میٹنگ میں کہا گیا 9 مئی کے واقعات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، فارمیشن کانفرنس کا بیان بھی موجود ہے۔
چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ پریس ریلیز میں یہ کہا گیا کہ ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اس لیے ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو گا؟ جس پر لطیف کھوسہ نے اثبات میں سرہلایا اور کہا کہ جی پریس ریلیز میں یہ ہی کہا گیا ہے بعدازاں انہوں ںے پریس ریلیز پڑھ کر سنا دی۔
لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل یا تو کوئی کرنل کرے گا یا بریگیڈیئر، جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل لطیف کھوسہ سے سوال کیا کہ یہ جو آپ پڑھ رہے ہیں اس میں آئی ایس پی آر کا نام کہاں لکھا ہے؟
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ آئی ایس پی آر کا ہی جاری اعلامیہ ہے، کابینہ نے آئی ایس پی آر کے اعلامیے کی توثیق کی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیانات سے نکل کر اصل قانون کیا ہے وہ بھی بتا دیں۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت سے درخواست کر کے سویلینز کے کیسز فوجی عدالتوں میں منتقل کرنے کا کہا گیا، جس نے بھی تنصیبات پر حملہ کیا ان سے میری کوئی ہمدردی نہیں ہے، جس نے جو جرم کیا ہے اس کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ جو تمام مقدمات بنائے گئے انہیں سننے کا اختیار تو انسداد دہشت گردی عدالت کو پہلے ہی حاصل ہے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا یہی مؤقف ہے کہ کیسز انسداد دہشت گردی عدالت میں چلیں فوجی عدالتوں میں نہیں، 9 مئی کے واقعات کی آڑ میں 9، 10 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم چاہ رہے ہیں کہ صرف حقائق میں رہیں، جو مقدمات درج ہوئے ان میں متعدد نام ہیں، مقدمات میں کچھ پولیس اہلکاروں کے نام کیوں شامل کیے گئے؟
لطیف کھوسہ نے کہا کہ کیا کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ پڑھ کرسناؤں؟ اس پر جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ درخواستوں کے ساتھ لگایا گیا ہے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کور کمانڈر کانفرنس اور فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے پڑھ کر سنائے اور کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ آرٹیکل 10 اے کے خلاف ہے، فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں کرنل لیول کے اور اس کے اوپر کے افسران شریک ہوئے تھے، فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کرنے کا فیصلہ خلاف آئین ہے، سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہوسکتا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں بتائیں ایف آئی آر ہوئی؟ انسداد دہشت گردی عدالت میں کیا ہوا؟ ہمیں ایف آئی آر بتائیں کون سی دفعات لگائی گئیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں حقائق تک محدود رکھیں، اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ 9 مئی کے ذمہ داروں کو یہ نہیں کہتا کہ چھوڑ دیا جائے، کہیں بھی کسی بھی حملے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہیے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ سب بیانات میں ہمیں دکھائیں کہ ٹرائل کہاں شروع ہوا؟
لطیف کھوسہ نے انسداد دہشت گردی عدالتوں سے ملزمان کی حوالگی کے فیصلے پڑھنا شروع کردیئے اور کہا کہ ملک کی تمام ملٹری قیادت نے بیٹھ کر فیصلہ دے دیا ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
جسٹس منصور نے کہا کہ کیا یہ دستاویز ان کی ویب سائٹ پر موجود ہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا آئی ایس پی آر کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، فارمیشن کمانڈرز نے کہہ دیا ناقابل تردید شواہد ہیں تو ایک کرنل اب ٹرائل میں کیا الگ فیصلہ دے گا؟ 7 جون کو فارمیشن کمانڈر کا اعلامیہ آیا، فارمیشن کمانڈر میں کرنل سے لے کر سب آتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ صرف متعلقہ پیراگراف پڑھیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ متعلقہ پیراگراف میں کہا گیا ذمہ داروں کو آرمی ایکٹ کے تحت جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، فارمیشن کمانڈرز اعلامیے میں ٹرائل شروع کرنے کا کہا گیا ہے اس لیے عدالت سے حکم امتناع دینے کی استدعا کی۔
جسٹس منصور نے کہا کہ یہ اعلامیہ آپ نے کہاں سے لیا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ دونوں اعلامیے آئی ایس پی آر کی ویب سائیٹ سے لیے، دونوں اعلامیوں پر کابینہ نے بھی مہر ثبت کردی ہے تو فئیر ٹرائل کہاں ہو گا؟ 9 مئی کے واقعہ کی یقیناً کوئی وضاحت نہیں، صرف جناح ہاؤس یا کور کمانڈر ہاؤس ہی نہیں میرے گھر پر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
جسٹس منصور نے کہا کہ آپ نے اعلامیے بتا دئیے اب قانون بتادیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ لاہور، ملتان، راولپنڈی سے لوگوں کو ملٹری ٹرائل کے لیے حوالے کیا گیا، حملہ آوروں سے میری کوئی ہمدردی نہیں، مجھے ساتھی کہہ رہے ہیں کور کمانڈر ہاؤس کو جناح ہاؤس نہ کہیں، میں نے بھی جناح ہاؤس کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔
انہوں ںے کہا کہ مقدمات قتل، اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج کیے گئے، 9 سے 10 ہزار افراد انہی مقدمات کے تحت گرفتار کیے گئے، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ان مقدمات کا آرمی ایکٹ سے تعلق بنتا نہیں ہے۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر ایف آئی آرز کے ناموں کے تذکرے پر دلچسپ مکالمے سامنے آئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں ناموں سے دلچسپی نہیں۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ 10 مئی کو پورے 4 ہزار افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا، جتنی بھی ایف آئی آرز درج ہوئیں ان میں آرمی ایکٹ کی دفعات کا کوئی حوالہ شامل نہیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی جو شقیں لگائی گئی ہیں وہ ہیں کیا؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ جو لوگ مقدمات میں نامزد ہوئے انہوں نے اسے چیلنج کیا اس پر کھوسہ نے کہا کہ کون چیلنج کرسکتا ہے؟ جسٹس عائشہ نے کہا کہ سوال یہ تھا کہ ایف آئی آرز میں لگائی گئیں دفعات چیلنج ہو سکتی ہیں یا نہیں؟ لطیفہ کھوسہ نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے آرڈر کو نہیں مانتے، یہاں کہاں مانیں گے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ پہلے ان سے پوچھ لیا جائے کن دفعات کا اطلاق کیا جا رہا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل پوچھ لیں، ہمیں تو وہ کچھ بتاتے نہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پتا نہیں لگ رہا کن دفعات کا اطلاق کرنا چاہتے ہیں، یہ بتائیں! کتنے لوگوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہونا ہے؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ پورے ملک سے لوگ اٹھائے گیے آپ ججز بہترین ججز ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں، اس بات پر کمرۂ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر ایک عمل انہوں نے شروع کیا وہ کیسے شروع ہوا؟ آپ ہمیں قانونی سوالات کا قانونی جواب دیں، جسٹس منصور نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے کس قانون کے تحت لوگ فوجی ٹرائل کے حوالے کیے؟ کیا انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے کوئی شواہد تھے جن کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا؟ کیا انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل کا فورم ہے یا نہیں؟
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت انسداد دہشت گردی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے؟ اس پر وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اگر دہشت گردی کا پہلو ہو تو ایسا وہ کرسکتے ہے۔
جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ جن افراد کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھیجا گیا کیا انھوں نے اس اقدام کو چیلنج کیا؟ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان افراد کا میں وکیل نہیں مجھے معلوم نہیں جب کہ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ان افراد تک کسی کی رسائی ہی نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ مقدمات دائر ہوں بھی تو کس نے سننا ہے، سپریم کورٹ کے احکامات نہیں مانے جارہے تو ان عدالتوں کا حکم کون مانے گا؟
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پہلے آرمی ایکٹ کی سیکشن ٹو ون ڈی کو پڑھیں، آرمی ایکٹ کی کس شق کے تحت ٹرائل کیا جارہا ہے یہ واضح نہیں، درخواست گزاروں نے بھی جو چیزیں لگائیں وہ نامکمل ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم ملک اور 25 کروڑ عوام کی فکر میں آئے ہیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جاننا چاہتے ہیں مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجنے کا کیا طریقہ کار اپنایا گیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مقدمات ملٹری کورٹس بھیجنے کا فیصلہ تو عدالت کرے گی، ججز کو تو وجوہات کے ساتھ فیصلہ دینا ہوتا ہے، کیا پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ ان فیصلوں کو چیلنج نہیں کرےگا؟
لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتوں میں بھی نہ ملزم پیش ہوئے نہ ہی وکلاء، جسٹس منیب نے پوچھا کہ کیا انسداد دہشت گردی کی عدالتیں آرمی ایکٹ میں آنے والوں کا ٹرائل کرسکتی ہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مقدمات میں تو میں پیش ہوتا رہا ہوں، جسٹس عائشہ نے کہا کہ حوالگی تو ان کے اپنے افراد کی ہوسکتی ہے سویلینز کی نہیں۔
فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد
لطیف کھوسہ نے سویلینز کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے خلاف حکم امتناع کی استدعا کی، سپریم کورٹ نے فوری حکم امتناع کی درخواست مسترد کر دی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکم امتناع جاری نہیں کرسکتے، وکلاء سائلین کا دفاع کرتے ہیں تاہم وکلاء کو ہراساں کیا جارہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کتنے لوگ عام جیلوں اور کتنے فوج کی تحویل میں ہیں؟ تفصیل دیں، آپ صحافیوں کی بات کرتے ہیں میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا، صحافیوں کو رہائی ملنی چاہیے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ کا کیس تو صرف یہ ہے کہ سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوسکتا ہے یا نہیں، سمجھ نہیں آ رہی آپ آرمی ایکٹ کی شقوں کو کیوں چیلنج کر رہے ہیں؟
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جب انسداد دہشت گردی کی عدالت کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سننے کا اختیار نہیں تو وہ کسی فرد کو فوج کے حوالے کرسکتی ہے؟
بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والا بنچ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کے اعتراضات کے بعد اٹھ کر چلا گیا تھا۔

صدر مملکت سے گورنر خیبرپختونخوا، نگران وزیراعلیٰ کی ملاقات

پشاور: (ویب ڈیسک) دورہ پشاور پر موجود صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے گورنر خیبرپختونخوا غلام علی، نگران وزیراعلیٰ اعظم خان اور صوبائی کابینہ کے ممبران نے ملاقات کی۔
ملاقات میں خیبر پختونخوا کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے اور جامعات سے متعلق مسائل پر گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے خیبرپختونخوا کی جامعات گریجویٹس کی تعداد میں اضافہ کر سکتی ہیں، خیبر پختونخوا کی جامعات آن لائن تعلیم کے حجم میں اضافہ كریں۔
انہوں نے کہا کہ جامعات زیادہ تعداد میں ہنر مند افرادی قوت پيدا کرنے کیلئے مختلف شفٹیں شروع کریں، جامعات مالی مسائل کے حل اور تحقیقی گرانٹس کیلئے گرانٹ سپیشلسٹ کی خدمات حاصل کریں۔

پولیس نے عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا

لاہور: (ویب ڈیسک) پولیس نے پی ٹی آئی رہنما عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا، سابق گورنر کی بیوی انسداد دہشت گردی عدالت اپنے شوہر سے ملنے آئی تھیں۔
قبل ازیں عمر سرفراز چیمہ کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر انسداد دہشتگری کی عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے تفتیشی افسر کو عمر سرفراز چیمہ کے خلاف چالان مکمل کر کے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ گلبرگ میں عسکری پلازے میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں گرفتار ہیں۔

پرویز الہٰی کی 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں واپس لینے پر کیس نمٹا دیا گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر کیس نمٹا دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے چودھری پرویز الہٰی کی 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے سینئر وکیل عدالت میں پیش نہ ہوئے۔
جونیئر وکیل نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے مقدمے میں چودھری پرویز الہٰی جوڈیشل ہوچکے ہیں۔
جونیئر وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں جس پر عدالت نے حفاظتی ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر کیس نمٹا دیا۔
یاد رہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے اینٹی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
پرویز الٰہی کی جانب سے دائر درخواست میں ایف آئی اے اور پولیس سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ پرویز الٰہی سابق وزیر اعلیٰ پنجاب رہے، ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کئے جا رہے ہیں، عدالت مقدمات کی تفصیلات فراہم کرے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت منی لانڈرنگ کے مقدمے میں پرویز الٰہی کی حفاظتی ضمانت منظور کرے۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ ہونے تک ہر بنچ غیر قانونی ہے: جسٹس قاضی فائز

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر بنایا گیا 9 رکنی بنچ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق کے علیحدہ ہونے سے ٹوٹ گیا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائلز کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
لارجر بنچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل تھے۔
چیف جسٹس نے وکلاء سے کہا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، بنچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں کچھ آبزرویشن دینا چاہتا ہوں۔
فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں خوشی کا اظہار تو کرنے دیں، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ خوشی کا اظہار باہر کر سکتے ہیں یہ کوئی سیاسی فورم نہیں، حلف کے مطابق میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا۔
تعجب ہوا کہ کل رات 8 بجے کاز لسٹ میں میرا نام آیا: جسٹس قاضی فائز
کیس کی سماعت پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ تعجب ہوا کہ کل رات 8 بجے کاز لسٹ میں میرا نام آیا، اٹارنی جنرل روسٹرم پر آئیں میں نے کچھ کہنا ہے، عدالت کو اختیار سماعت آئین کا آرٹیکل 175/2 دیتا ہے، میں اپنی قومی زبان اردو میں بات کروں گا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر کوئی بات نہیں کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل ابھی بنا نہیں تھا کہ 13 اپریل کو سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ نے حکم امتناع دیا، سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی سماعت جولائی تک ملتوی کی، سپریم کورٹ رولز پڑھیں کیا کہتے ہیں، آئین سپریم کورٹ کو سماعت کا اختیار دیتا ہے، جج کا حلف کہتا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایک قانون ہے، میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں بینچ کا حصہ نہیں، کچھ نہیں کہوں گا۔
میری دانست میں قانون کو مسترد کیا جا سکتا ہے معطل نہیں کیا جا سکتا
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے 6 ممبر بنچ پر نوٹ تحریر کیا جسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کے بعد ہٹا دیا گیا، چیف جسٹس نے 16 مئی کو پوچھا کہ کیا میں چیمبر ورک کرنا چاہتا ہوں یا نہیں، بتاتا ہوں کہ میں نے چیمبر ورک کو ترجیح کیوں دی، ایک قانون بنا دیا گیا بنچز کی تشکیل سے متعلق، کسی پر انگلی نہیں اٹھا رہا لیکن میرے پاس آپشن تھا کہ حلف کی پاسداری کروں یا عدالتی حکم پر بنچ میں بیٹھوں، میری دانست میں قانون کو مسترد کیا جا سکتا ہے معطل نہیں کیا جا سکتا۔
چہ مگوئیوں سے بچنے کے لیے ساری بات کھلی عدالت میں ہونی چاہیے
انہوں نے کہا کہ مجھ سے جب چیمبر ورک کے بارے میں دریافت کیا گیا تو میں نے 5 صفحات پر مشتمل نوٹ لکھا، چہ مگوئیوں سے بچنے کے لیے میں اس بات کا قائل ہوں کہ ساری بات کھلی عدالت میں ہونی چاہیے، اب تو نوٹ بھی ویب سائٹ سے ہٹائےجاتے ہیں اس لیے اپنا جواب یہیں پڑھ رہا ہوں، میں نے چیف جسٹس کو لکھا نوٹ اپنے تمام کولیگز کو بھی بھیجا، میں نے نوٹ میں کہا کہ میرے ساتھیوں نے قانون معطل کر کے مجھےعجیب کشمکش میں ڈال دیا ہے، وفاقی حکومت نے میری سربراہی میں ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا، انکوائری کمیشن کو 19 مئی کو 5 رکنی بینچ نے کام کرنے سے روک دیا؟ میں نے انکوائری کمیشن میں نوٹس ہونے پر جواب بھی جمع کرایا۔
اس بنچ کو “بنچ” تصور نہیں کرتا
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے جو درخواست رات گئے موصول ہوئی اس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بھی درخواست تھی، آج کاز لسٹ میں آخر میں آنے والی درخواست سب سے پہلے مقرر کر دی گئی، میں اس بنچ کو “بنچ” تصور نہیں کرتا۔
پریکٹس اینڈ پروسیجربل کا فیصلہ آنے تک کسی بنچ میں نہیں بیٹھ سکتا
جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میں کیس سننے سے معذرت نہیں کر رہا، پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا فیصلہ کیا جائے، میرا مؤقف یہ ہے کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجربل کو ٹھکانے نہ لگایا جائے تب تک میں کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا، میں اور جسٹس سردار طارق مسعود اس کشمکش میں تھے کہ کیس سننے سے معذرت کریں یا نہیں، سب سے معذرت چاہتا ہوں۔
میں بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے اتفاق کرتا ہوں: جسٹس سردار طارق مسعود
جسٹس سردارطارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے اتفاق کرتا ہوں، اس وقت ہم 9 ججز ہیں اور ہم فیصلہ کر دیتے ہیں اس کیس میں تو کل کو اپیل پر فیصلہ کون کرے گا؟ جب تک ان قوانین کا فیصلہ نہیں ہوتا تب تک ہم بنچ میں نہیں بیٹھ سکتے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کیس نہیں سنیں گے تو 25 کروڑ عوام کہاں جائے گی؟ جس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ 25 کروڑ عوام کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟
وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس سن لیجیے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتزاز احسن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بہت قدر کرتا ہوں، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بار میں اپنے حلف کی خلاف ورزی کردوں، اعتزاز احسن نے کہا کہ گھر کے تحفظ کے لیے کیس سن لیجیے، آپ سپریم کورٹ میں مل بیٹھ کر فیصلہ کرنے کے پابند ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ گھر نہیں سپریم کورٹ ہے۔
آپ کے کیس کا کوئی اور حل کرتے ہیں: چیف جسٹس
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ دو معزز سینئر ججز نے اعتراض کیا ہے، ممکن ہے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر حکم امتناع ختم ہو جائے، اس عدالت کی روایت کے مطابق 2 سینئرججز کے اعتراض کے بعد تکرار نہ کریں، ہم نے بھی یہ بنچ اپنے آئین کے تحت قسم کے مطابق بنایا ہے۔

Akzonobleنے پاکستان میں اپنا پہلا Dulux Experience Storeقائم کردیا

لاہور(پریس ریلیز)پینٹس اورکوٹنگز بنانے والی معروف عالمی کمپنی AkzoNobel نے لاہور میں پاکستان کے اپنے پہلے Dulux Experience Storeکا افتتاح کردیا۔یہ اسٹور ”دیکھیں،چھوئیں اور محسوس کریں“کہ تصور پر قائم کیا گیا ہے،جہاں صارفین ملک میں پہلی بار قائم کردہ
Dulux Experience Storeمیں قدم رکھتے ہی رنگوں کا انتخاب اور مختلف مصنوعات کے عملی تجربہ سے مستفید ہوسکیں گے۔
AkzoNobel پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو مبشر عمر نے اس موقع پر کہا کہ ”AkzoNobel گھر کے اندرونی اور بیرونی حصوں کے لئے پینٹس کی ضروریات کے حوالے سے دور حاضر کے صارفین کے رجحان کو بغور دیکھ رہا ہے۔ گھروں کے مالکان اب بہتر پائیداری،آسان دیکھ بھال،گھروں کو موسمی سختیوں،دھول مٹی اور الکلی سے بچانے کے پینٹ کے اضافی فوائد کے ساتھ ساتھ خاندانوں کی صحت و تندرستی کے فوائد سے متعلق ماہرین سے مشاورت کرتے دکھائی دیتے ہیں،تاہم اس حوالے سے معتبر معلومات کا حصول ایک چیلنج ہے۔ہمیں امید ہے کہ بحریہ ٹاو?ن لاہور میں قائم کردہ Dulux Experience Storeپر خریداری کے حتمی فیصلہ سے قبل صارفین Dulux پینٹ کے فوائد کو زیادہ آسانی سے جانچ اور محسوس کرسکیں گے۔“
اس اسٹور پر گھروں کے مالکان اپنے خاندان کیلئے موزوں ترین پینٹ کے انتخاب سے قبل،ماہرین کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ پوری رینج میں شامل مصنوعات کی منفرد خصوصیات سمجھ سکیں گے،دیواروں پر لگانے پر Dulux مصنوعات کے نتائج کو براہ راست چھو کر اسے محسوس کرسکیں گے اور 2ہزار سے زائد رنگوں میں سے اپنی پسند کے رنگ کا انتخاب کرسکیں گے۔
Dulux Experience Store،ہمیشہ مقامی اسٹور کے تعاون کے ساتھ قائم کیا جاتا ہے اوراس بار AkzoNobel نے بحریہ ٹاو?ن میں Dulux Experience Storeکیلئے GS پینٹ کے ساتھ تعاون کیاہے۔
Dulux Experience Storeکی صورت میں Dulux کا مقصد Dulux ایشورنس پروگرام کے ذریعہ گھروں کے مالکان کو ذہنی سکون فراہم کرنا بھی ہے۔
#DuluxKaWaada صارفین کو یہ اعتماد دیتا ہے کہ Dulux پینٹ انہیں بہترین رنگ،عمدہ فنشنگ اور بیان کردہ کوریج فراہم کرے گا،بصورت دیگر پینٹ تبدیل کردیا جائیگا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات

پیرس: (ویب ڈیسک) فرانس میں نئے عالمی مالیاتی معاہدے سے متعلق سربراہی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات کی۔
ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے سربراہی اجلاس بلانے پر صدر میکرون کو خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم نے سربراہی اجلاس میں دعوت دینے اور پرتپاک میزبانی پر فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مالیاتی انصاف پر مبنی نظام کی طرف جرات مندانہ قدم اٹھانے پر مشکور ہیں، ترقی پذیر ممالک کو وسائل کی عدم دستیابی کا سامنا ہے، قرض اور سود کی ادائیگیوں کے بوجھ اور منجمند ترقی کے مسائل درپیش ہیں، قرض کی دلدل میں ڈوبے ترقی پذیر ممالک کی مدد وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے صدر میکرون سے گفتگو میں مزید کہا کہ موسمیاتی اثرات نے مسائل کا شکار ترقی پذیر ممالک کو مزید مشکلات سے دو چار کر دیا ہے، اہم مسئلہ پر عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے کی آپ نے اہم کاوش کی۔
صدر میکرون نے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ دلچسپی کے امور پر رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

گرمی بڑھتے ہی طویل لوڈشیڈنگ، دورانیہ 10 گھنٹے تک پہنچ گیا

اسلام آباد، لاہور: (ویب ڈیسک) ملک بھر میں گرمی بڑھتے ہی طویل لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10 گھنٹے تک پہنچ گیا، بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 160 میگا واٹ ہوگیا۔
ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کی مجموعی پیداوار 20 ہزار 540 میگاواٹ ہے جبکہ ملک بھر میں بجلی کی طلب 26 ہزار 700 میگاواٹ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پن بجلی کی پیداوار 8 ہزار میگاواٹ ہے، سرکاری تھرمل پاور پلانٹس 570 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں،نجی شعبے کے بجلی گھروں کی پیداوار 7 ہزار 300 میگاواٹ ہے۔
پاور ڈویژن ذرائع نے کہا کہ ونڈ پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار 1200 میگاواٹ ہے، سولر بجلی گھروں کی پیداوار 120 میگاواٹ ہے، بگاس سے 150 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جبکہ نیوکلیئر پاور پلانٹس کی پیداوار 3 ہزار 200 میگاواٹ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 8 سے 10 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
لیسکو کا شارٹ فال
گرمی بڑھتے ہی لاہور الیکٹرسٹی سپلائی کمپنی (لیسکو) کی بجلی کی طلب بھی 5400 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی جس کے باعث بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
لیسکو کو 800 میگاواٹ بجلی کے شارٹ فال کا سامنا ہے، بجلی کی طلب 5400 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی جبکہ این پی سی سی کی جانب سے 4600 میگاواٹ بجلی کی فراہمی جاری ہے۔
لیسکو نے شارٹ فال زیادہ ہونے کے باعث شہر میں 2 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کیا جبکہ شیڈول کے برعکس شہر کے مختلف علاقوں میں 3 سے 4 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
لیسکو کارکردگی
دوسری جانب شدید گرمی نے لیسکو انتظامیہ کی کارکردگی کا پول بھی کھول دیا۔
بجلی کے ترسیلی سسٹم پر لوڈ بڑھتے ہی لیسکو کے اوور لوڈڈ ٹرانسفارمرز جواب دے گئے، شہر کے مختلف علاقوں میں ٹرانسفارمرز جلنے اور دیگر تکنیکی خرابیوں کے باعث گھنٹوں بجلی بند رہنا معمول بن گیا ہے، لیسکو ٹیمیں ریکوری میں مصروف ہیں، صارفین خوار ہو کر رہ گئے۔
گزشتہ رات بھی سسٹم اوور لوڈ ہونے سے شہر کے مختلف علاقوں میں رات بھر بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا ، ٹرانسفارمرز جلنے سے متعدد علاقے رات سے بجلی سے محروم ہیں۔
لاہور کےعلاقوں تاجپورہ، اسلامیہ پارک، مزنگ، امین پارک، بادامی باغ، داتا نگر اور شاد باغ سمیت متعدد علاقوں میں ٹرانسفارمرز خراب ہو چکے ہیں۔
مزنگ وارث روڈ، جوہر ٹاؤن ،ٹھوکر نیاز بیگ، سمن آباد، شاہدرہ، گڑھی شاہو ،مصطفیٰ آباد،عامر ٹاؤن، ہربنس پورہ اور مغل پورہ کے متعدد علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔

آئی ایم ایف، وزارت خزانہ میں جنیوا ڈونر کانفرنس کے تحت فنانسنگ پر اختلافات

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور وزارت خزانہ کے درمیان جنیوا ڈونر کانفرنس کے تحت فنانسنگ پر اختلافات سامنے آ گئے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانسنگ گیپ پورا کرنے کیلئے پلان میں ڈونر کانفرنس سے ملنے والی رقم شامل تھی، آئی ایم ایف کو جنیوا ڈونر کانفرنس کے تحت جون تک 50 کروڑ ڈالر حاصل کرنے کا پلان دیا گیا، کانفرنس کے تحت ابھی تک صرف 15 کروڑ ڈالر موصول ہو سکے ہیں۔
جنیوا ڈونر کانفرنس کے تحت وزارت منصوبہ بندی اور وزارت خزانہ رقم حاصل کرنے میں ناکام رہی، وزارت منصوبہ بندی ڈونر کانفرنس کے تحت ہونے والوں معاہدوں پر پیشرفت کو بھی بڑھا نہ سکی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جنیوا ڈونر کانفرنس کے تحت فنانسنگ نہ ملنے پر اعتراض اٹھایا گیا، ڈونر کانفرنس کے تحت ملنے والی رقم سیلاب زدہ علاقوں میں ریکوری و بحالی کے کاموں پر خرچ ہونی ہے۔