All posts by Khabrain News

امریکی مسلمانوں نے بائیڈن کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کردیا

امریکی مسلمانوں نے 2024 میں ہونے والے انتخابات میں جوبائیڈن کو عطیات اور ووٹ نہ دینے کی دھمکی دے دی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ صدر جوبائیڈن جب تک کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات نہیں اٹھاتے، تب تک ہم اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے۔

نیشنل مسلم ڈیموکریٹک کونسل جس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈران شامل ہیں، ان ریاستوں سے انتخابات کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ ان ریاستوں میں مشی گن، اوہائیو اور پنسلوانیا شامل ہیں۔

ایک کھلے خط میں کہا کہ مسلم رہنماؤں نے مسلم، عرب اور دیگر ووٹرز کو متحرک کرنے کا عہد کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کی حمایت کرنے والے کسی بھی امیدار کو ووٹ نہ دیا جائے۔

خط میں امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل کے لئے آپ کی انتظامیہ کی غیر مشروط حمایت میں فنڈنگ ​​اور ہتھیار شامل ہیں، جس نے تشدد کو ہوا دی ہے، اس عمل سے آپ ووٹر کی جانب سے حمایت کو کھوبیٹھے ہیں، جو اعتماد کرتے تھے۔

ایمگیج نامی ایک مسلم امریکی شہری گروپ کے مطابق 2020 کے انتخابات میں تقریباً 11 لاکھ مسلمانوں نے ووٹ ڈالے تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایگزٹ پولز کے مطابق 64 فیصد مسلمانوں نے ڈیموکریٹ کے بائیڈن اور 35 فیصد نے ان کے ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا۔

عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 37 لاکھ امریکی شہریوں کا تعلق عرب ممالک سے ہے، منگل کو جاری کردہ پول کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بائیڈن کی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں زہر دینے کی خبروں کی تردید

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیراز احمد رانجھا نے عمران خان کو جیل میں زہر دیے جانے کی خبروں کی تردیدی کردی۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں زہر دیے جانے کی خبریں زیر گردش ہیں تاہم ان کے وکیل نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اپنے ویڈیو بیان میں وکیل شیراز احمد رانجھا نے کہا ہے کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو زہر دیا گیا یا انہیں زہر دیے جانے کا خدشہ ہے۔
وکیل شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ انہیں کل سمجھنے میں فرق لگا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی پر دو مرتبہ قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے اس لیے انہیں خدشہ ہے کہ انہیں سلوپوائزن دیا جاسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اے پی ایم ایل کی رجسٹریشن ختم کردی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے مرحوم جنرل (ر) پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کو خارج کرنے کا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق آل پاکستان مسلم لیگ کی رجسٹریشن ختم کر دی گئی، قبل ازیں الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آل پاکستان مسلم لیگ نے گزشتہ چار سال سے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کراٸیں اور نہ ہی
انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن نے فیصلے میں لکھا ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کا ملک میں کوٸی عہدے دار نہیں اور نہ ہی اس جماعت کا ملک میں کوٸی وجود ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ سے عقاب کا انتخابی نشان بھی واپس لے لیا تھا۔

زخمی فلسطینیوں کےعلاج اورغیرملکیوں کے انخلا کیلیے رفح بارڈر کھول دیا گیا

غزہ: قطر کی ثالثی میں مصر، حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے تحت زخمی فلسطینیوں کے مصر میں علاج اور دہری شہریت رکھنے والوں کے غزہ سے انخلا کے لیے رفح کراسنگ بارڈر کو محدود پیمانے پر کھول دیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ سے انخلا کے واحد راستے رفح کراسنگ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے بند کردیا گیا تھا جس کے باعث دنیا بھر سے آنے والی امداد اور غزہ سے انخلا کے خواہش مند شہری سرحد پر پھنس گئے تھے۔

اقوام متحدہ سمیت عالمی تنظیموں اور مغربی ممالک نے بھی رفح کراسنگ کو کھولنے پر زور دیا تھا تاکہ امدادی سامان ان فلسطینیوں تک پہنچ سکے جن کی اسے شد ضرورت ہے اور بے گھر ہونے والے فلسطینی مصر میں پناہ حاصل کرسکیں۔

مسلم ممالک کی جانب سے بھی بارہا رفح کراسنگ کو کھولنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا لیکن تین ہفتے گزر جانے کے باوجود ایسا نہ ہوسکا تھا۔ قطر نے ثالثی کا کردار نبھاتے ہوئے مصر اور اسرائیل کو رفح کراسنگ کھولنے کا معاہدہ طے کرادیا۔

ان 500 فلسطینیوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو جاپان، آسٹریلیا، بلغاریہ، انڈونیشیام اردن، اٹلی، یونانی اور چیک جمہوریہ کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔

علاوہ ازیں جن غیر ملکیوں کو رفح کراسنگ پر کرنے کی اجازت دی گئی ہے میں مختلف این جی اوز کے لیے کام کرنے والے امریکا،جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی، جاپان، آسٹریلیا، فلپائن اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر 16 ممالک کے شہری شامل ہیں۔

معاہدے کے تحت فی الحال زخمی فلسطینیوں کو علاج کے لیے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر آنے کی اجازت دی جائے گی اور دہری شہریت کے حامل افراد بھی غزہ سے انخلا کے لیے رفح کراسنگ استعمال کرسکیں گے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : اسرائیل الشفا اسپتال کو بمباری کرکے تباہ کرنا کیوں چاہتا ہے؛ وجہ سامنے آگئی

انتظامیہ نے آج 500 فلسطینیوں کو آگاہ کیا کہ انھیں علاج کی غرض سے مصر میں داخل ہونے کی اجازت دیدی گئی ہے اور اب وہ اپنا علاج مصر کے اسپتالوں میں کراسکتے ہیں تاہم علاج مکمل ہونے کے بعد واپس غزہ جانا ہوگا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ رفح کراسنگ کتنے عرصے تک کھلی رہے گی۔ قبل ازیں رفح کراسنگ پر کھڑے سیکڑوں امدادی ٹرکوں میں سے چند کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیدی گئی تھی۔

اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی کہ یہ معاہدہ کن شرائط کے تحت طے پایا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کے قبضے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیل کی جانب سے پانی، ایندھن اور خوراک کی سپلائی بحال کرنے جیسے معاملات معاہدے کا حصہ نہیں۔

دوسری جانب حماس کی القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو میں کہا کہ ثالثوں کو 200 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے کچھ کو رہا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس میں آصف زرداری سمیت 15 ملزمان طلب

اسلام آباد: احتساب عدالت اسلام آباد میں ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت 15 ملزمان کو طلب کرلیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس کی سماعت کی اور اس دوران حکم دیا کہ آصف زرداری سمیت تمام 15 ملزمان عدالت میں پیش ہوں۔

ملزمان میں سابق سیکریٹری اعجاز احمد خان، علی اکبر، اعجاز میمن، علی اکبر ابڑو، خواجہ عبدالغنی مجید، مناہل مجید، عبدالندیم بھٹو شامل ہیں۔
عدالت نے تمام ملزمان کو طلبی کے نوٹس جاری کردیے، ملزمان کو 18 دسمبر کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ورلڈکپ؛ جنوبی افریقا کی نیوزی لینڈ کیخلاف بیٹنگ جاری

آئی سی سی ورلڈکپ کے 32ویں میچ میں جنوبی افریقا نے نیوزی لینڈ کے خلاف 25 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 124 رنز بنالیے۔

پونے کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں اوپنرز ٹیم کو اچھا دینے میں ناکام رہے، کپتان ٹمبا باؤما 24 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ کوئنٹن ڈی کوک 57 اور 36 رنز بناکر کریز پر موجود ہیں۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے واحد وکٹ ٹرینٹ بولٹ نے حاصل کی۔

قبل ازیں نیوزی لینڈ کے کپتان ٹام لیتھم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں جیت سے چند قدم کے فاصلے پر رہے تاہم کوشش کریں گے میں کامیابی سمیٹیں اور اپنی پوزیشن مستحکم کریں۔

اس موقع پر نے کہا کہ جنوبی افریقا کے کپتان ٹمبا باؤما نے کہا کہ میچ میں کامیابی سمیٹ کر سیمی فائنل میں پہنچنے کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔

جنوبی افریقا نے تبریز شمسی کی جگہ کاگیسو ربادا جبکہ نیوزی لینڈ نے لوکی فرگوسن کی جگہ ٹم ساؤتھی کو پلئینگ الیون میں جگہ دی ہے۔

جنوبی افریقا کا اسکواڈ

کپتان، ٹمبا باؤما، ایڈن مارکرم، کوئنٹن ڈی کوک، راسی وین ڈیر ڈوسن، ہینرک کلاسن، ڈیوڈ ملر، مارکو جانسن، جیرالڈ کوٹزی، کیشو مہاراج، کاگیسو ربادا اور لنگی نگیڈی

نیوزی لینڈ کا اسکواڈ

کپتان ٹام لیتھم، ڈیون کونوے، ول ینگ، راچن رویندرا، ڈیرل مچل، گلین فلپس، جیمز نیشم، مچل سینٹنر، میٹ ہنری، ٹم ساؤتھی، ٹرینٹ بولٹ

افغان موسیقاروں کی پاکستان بدری کیخلاف درخواست، وفاقی وزارت داخلہ سے جواب طلب

پشاور ہائی کورٹ نے افغان موسیقاروں کی پاکستان بدری کے خلاف درخواست پر وفاقی وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا۔

افغان موسیقاروں کی پاکستان سے جبری انخلا کے خلاف درخواست کی سماعت پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالشکور اور جسٹس سید ارشد علی نے کی۔ عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت افغان مہاجر فنکاروں کو زبردستی نکال رہی ہے جو کہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت آپ کو مہاجر کی حیثیت دی جائے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ یو این ایچ سی آر سے 2003 میں کیے گئے معاہدے کے تحت مہاجر کی حیثیت دی جاسکتی ہے۔ افغان فنکاروں کی رجسٹریشن کے لیے اسکریننگ جاری ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے پاس اس سلسلے میں اب تک کوئی ہدایات نہیں آئی ہیں۔ عدالت نے درخواست پر وفاقی وزارت داخلہ سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

آئی ایم ایف کا جائزہ مشن کل پاکستان آئے گا

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن کل پاکستان کے دورے پر آئے گا اور یہ وفد 2 ہفتے پاکستان میں رہے گا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد وزارتِ خزانہ، توانائی سمیت ریگولیٹری اداروں اور اسٹیٹ بینک سے مذاکرات کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد ایف بی آر اور صوبائی حکومتوں سے مذاکرات کرے گا، پاکستانی حکام پُرامید ہیں کہ مذاکرات کامیاب رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق بی آئی ایس پی کے تحت پہلی سہ ماہی میں تقریباً 90 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں، بیرونی فنانسنگ کے معاملے پر پاکستان کو اپنی پوزیشن واضح کرنی ہے۔

ذرائع کے مطابق بیرونی فنانسنگ کے مسئلے پر آئی ایم ایف خدشات کا اظہار کر چکا ہے جبکہ کرنسی ایکسچینج کے معاملے پر بھی اختلافات موجود ہیں اور آئی ایم ایف درآمدات کنٹرول کرنے کے لیے دسمبر 2022ء کا سرکلر واپس لینے کا مطالبہ بھی کر چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق توانائی کے شعبے کا گردشی قرض کم کرنے کے لیے پاکستان بجلی و گیس کی قیمت میں اضافہ کر چکا ہے، غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر بھی آئی ایم ایف کے مطالبے کے مطابق ہیں اور پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کا اسٹیٹ بینک سے قرض تقریباً41 ارب روپے ہے جو مقرر کردہ حد کے مطابق ہے جبکہ ایف بی آر نے اکتوبر تک ٹیکس وصولیوں کے لیے مقرر کردہ ہدف سے 66 ارب روپے زیادہ اکٹھے کیے ہیں۔

اداکارہ مدیحہ امام کا شادی کے 5 ماہ بعد ولیمہ

رواں سال کے آغاز میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والی پاکستان شوبز انڈسٹری کی اداکارہ اور معروف وی جے مدیحہ امام اور فلم میکر موجی بسر کی استقبالیہ تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں ۔

مدیحہ امام نے پہلے خاموشی سے شادی کی اور اب خاموشی سے ولیمہ کرکے سوشل میڈیا پر اعلان کیا اور تصاویر و ویڈیو بھی شیئر کر دیں۔

اداکارہ مدیحہ امام نے یکم مئی 2023 کو اپنے قریبی دوست موجی بسر سے شادی کی تھی جس کی تصاویر کو سوشل میڈیا کی زینت بنایا تھا، تاہم اس جوڑے نے روایتی طریقے سے شادی کے فوراً بعد استقبالیہ نہیں کیا تھا۔

شادی کی خوبصورت تصاویر کے بعد مداح اس جوڑے کی استقبالیہ تصاویر دیکھنے کے لیے بھی بے تاب تھے کہ ایسے میں مداحوں کا یہ طویل انتظار اچانک ختم ہوگیا۔

انسٹاگرام پر اداکارہ نے گزشتہ روز حال ہی میں ہونے والے اپنے ولیمے کی تصاویر اور ویڈیو شیئر کی اور بتایا کہ ان کا ولیمہ 26 اکتوبر کو دبئی میں منعقد ہوا۔

مذکورہ تصاویرمیں یہ جوڑا دبئی کے دلفریب مقام پر موجود ہے جہاں انہوں نے کینڈل لائٹ ڈنر میں ولیمے کا فوٹو شوٹ کرایا۔

اس تقریب خاص میں اداکارہ نے گلابی اور سرخ رنگ کے دلکش عروسی جوڑے کا انتخاب کیا جس پر مدھم میک اپ اور نفیس زیورات نے دلہن کے حسن میں مزید اضافہ کردیا۔

فیض آباد دھرنا کیس: جاننا چاہتے ہیں فیض آباد دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا، چیف جسٹس

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہم پوچھ رہے ہیں فیض آباد دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون ہے۔

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کی سربراہی تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے، بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہرمن اللہ شامل ہیں۔

عدالتی حکم پر فیض آباد دھرنا کیس میں اٹارنی جنرل نے عملدرآمد رپورٹ جمع کروا دی، جب کہ درخواست گزارشیخ رشید نےنظرثانی درخواست واپس لینےکیلئےرجوع کر رکھا ہے۔

اٹارنی جنرل کے دلائل

اٹارنی جنرل نے بھی استدعا کی کہ وزارت دفاع کی نظرثانی درخواست واپس لیناچاہتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ابصارعالم کہاں ہیں۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ابصار عالم راستے میں ہیں۔

سپریم کورٹ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی قانونی حیثیت پرسوال اٹھا دیا

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابصارعالم نے وزارت دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات عائد کیے ہیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تحقیقات کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ابصارعالم کے الزامات درست ثابت ہوئے تو معاملہ وزارت دفاع کے دائرہ کارمیں آئے گا، تو کیا اب بھی وزارت دفاع اپنی درخواست واپس لینا چاہتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت فیصلے پرعملدرآمد کرنا چاہتی ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا قیام اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب تشکیل دی گئی ہے۔ جس پراٹارنی جنرل نے بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی 19 اکتوبرکو تشکیل دی گئی۔ چیف جسٹس نے پھر استفسار کیا کہ کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن کہاں ہے؟ رپورٹ کس کودے گی۔ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کمیٹی وزارت دفاع کو رپورٹ جمع کرائے گی، پہلا اجلاس 26 اکتوبر کو ہوچکا، کمیٹی رپورٹ عدالت میں بھی پیش کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمیٹی ٹی او آرز کے ذریعے ہی تمام لوگوں کو بری کردیا گیا ہے، اربوں کا نقصان ہوگیا مگر آپ کو کوٸی فکر نہیں، عدالت کا کام آپ کی ذمہ داری ادا کرنا نہیں ہے، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تھا، کمیٹی کے ٹی او آرز میں کوٸی ٹاسک نہیں دیا گیا، کیا حکومت ہوا میں کام کررہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم پوچھ رہے ہیں اس کا ماسٹرماٸنڈ کون ہے؟ اس دھرنے کو کس نے منیج کیا؟۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کیا ریاستی امور آٸین کے مطابق چلائے جارہے ہیں؟ فیکٹ فاٸندنگ کمیٹی کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی گٸی؟ کمیٹی کس قانون کے تحت قاٸم کی گٸی؟۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیٹی ٹی او آرز میں کہاں لکھا ہے کہ تحقیقات کس چیز کی کرنی ہیں، کیا تحقیقات سیلاب کی کرنی ہے یا کسی اورچیز کی؟ واضح کریں کمیٹی کی قانونی حیثیت کیا ہے، کمیٹی کے قیام کی دستاویزصرف کاغذ کا ٹکڑا ہے، کاغذ کے ٹکڑوں سے پاکستان نہیں چلے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس طرح حکومت معاملات چلانا چاہ رہی ایسے نہیں ہوگا، عدالت یہ قرار دے گی کہ حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں کچھ نہیں کیا، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ فیض آباد دھرنا کا ماسٹرمائنڈ کون تھا، چھ فروری 2019 سے آج تک فیصلے پرعملدرآمد نہیں ہوا، اس طرح تو یہاں ہر کوئی کہے گا کہ میں جو بھی کروں مجھے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔

اٹارنی جنرل نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن پڑھا۔ تو چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ کس کوپیش کرے گی۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ وزارت دفاع کو پیش کرے گی، رپورٹ پھر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس ساری مشق سے اصل چیز مسنگ ہے، یہ سب ایک آئی واش ہے، سب لوگ نظرثانی واپس لے رہے ہیں تو یہ کمیٹی ٹی اوآرز آنکھوں میں دھول کے مترادف ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ آج ضمانت دیتے ہیں ملک میں جو ہو رہا ہے آئین کے مطابق ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس معاملے کو ہینڈل کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں، ایک صاحب باہر سے امپورٹ ہوتے ہیں اور پورا مُلک مفلوج کر دیتے ہیں۔

عدالت نے وفاقی حکومت کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی مسترد کردی اور فیض آباد دھرنے کے معاملے پر انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دے دی۔ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو 2 دن میں آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

عدالت نے چیئرمین پیمرا کو فوری طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔

چیئرمین پیمرا اور ان کے وکیل کے دلائل

وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ابصارعالم کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے، بڑا تعجب ہوا کہ پیمرا کے وکیل نے رپورٹ نہیں پڑھی، عدالت کا یہ کام نہیں کہ کسی کو رپورٹ گھر دے کر آئے، عدالت کی کارروائی کوسنجیدہ لیا جائے۔

چیف جسٹس نے چیئرمین پیمرا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے یہ رپورٹ پڑھی ہے۔ جس پر چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ جی یہ رپورٹ پڑھی ہے۔ چیف جسٹس نے چیٸرمین پیمرا سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا ہے۔ جس پر چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے دوبارہ استفسار کیا کہ آپ چیئرمین پیمرا کب بنے۔ سلیم بیگ نے جواب دیا کہ جون 2018 میں چیئرمین پیمرا تعینات ہوا، ابصارعالم نے جو کہا وہ انہیں کے ساتھ ہوا ہوگا۔

چیف جسٹس کا چیئرمین پیمرا اور ان کے وکیل پرشدید برہمی کا اظہار

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ”فلاں کومارو ، فلاں کو آگ لگا دو“ یہ فریڈم آف سپیچ نہیں،
آپ کس چیز کے چیئرمین ہیں، ہر ادارہ مذاق بن کے رہ گیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہاں ہربندہ کرسی سے اترنے کے بعد کہتا ہے مجھ پر دباؤ تھا، سب بڑا مسئلہ ہی یہ ہے، بتائیں نشریات بند کرنے والے کیبل آپریٹرز کیخلاف کیا کارروائی کی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالتی فیصلے پرعمل نہیں کرنا چاہتے، آپ کے یہ کیسے وکیل ہیں جو اپنے موکل کو درست گائیڈ نہیں کرتے۔

چیئرمین پیمرا کے وکیل نے وکالت نامہ واپس لے لیا

چیف جسٹس کی برہمی کرنے پر پیمرا کے وکیل ایس اے رحمان نے وکالت نامہ واپس لے لیا، اور روسٹرم سے ہٹ گئے۔

چیئرمین پیمرا سچ بولنے سے قاصر ہیں

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین پیمرا سچ بولنے سے قاصر ہیں، پیمرا قانون کے مطابق بورڈ کے فیصلے تحریری ہوں گے زبانی نہیں، کیا چیئرمین پیمرا نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھایا کہ کیوں نہ نظرثانی درخواست بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین پیمرا کوعلم ہی نہیں نظرثانی کیسے دائر ہوئی تھی، سلیم بیگ آپ کا نام فیض آباد دھرنا کیس میں شامل ہے، آپ نےغلط بیانی کیوں کی کہ آپ کی تعیناتی بعد میں ہوئی، کیا آپ کو فیصلہ پسند نہیں تھا، آپ فیصلے پرعمل نہیں کرتے تو توہین عدالت بھی ہوسکتی ہے۔

اسکول میں ایسے جواب پر استاد کونے میں کھڑا کردے گا

چیف جسٹس نے چیئرمین پیمرا سے سوال کیا کہ چیئرمین پیمرا کی مدت ملازمت کتنی ہے۔ جس پر سلیم بیگ نے بتایا کہ 4 سال کی مدت ہے۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ پھر آپ کیسے اب تک بیٹھے ہیں۔ جس پر چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے بتایا کہ دوبارہ تعیناتی کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی عمر کتنی ہے۔ جس پر چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے بتایا کہ اس وقت عمر 63 سال ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اس وقت کا کیا مطلب ہے، آج کی عمر ہی پوچھی ہے کل کی نہیں، اسکول میں کوئی ایسا جواب دے تو استاد کونے میں کھڑا کر دے گا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل قمر افضل کے دلائل

کیس کی سماعت میں ایک بار پھر وقفہ کیا گیا اور وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ جاری شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے بھی نظرثانی کسی کے حکم پر دائر کی تھی، الیکشن کمیشن نے قانون کو محض دکھاوا قرار دیا تھا۔

وکیل الیکشن کمیشن قمر افضل نے مؤقف پیش کیا کہ ان ریمارکس سے لاتعلقی کرنا چاہتے ہیں، عدالتی فیصلے پرعملدرآمد کر دیا ہے، سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نظرثانی بھی دائر کی اور فیصلے پرعمل بھی کررہے ہیں۔

خادم رضوی کو حافظ کیوں لکھا ہے

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صرف قانون کو کاسمیٹک یعنی دکھاوا قرار دینے کا لفظ حذف کرانا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ اپنے جواب میں خادم رضوی کو حافظ کیوں لکھا ہے، ان کو آٸینی ادارہ اتنی عزت کیوں دے رہا ہے، عدالتی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے کیا کارروئی کی۔

وکیل نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن قانون کے مطابق کوئی کمیٹی بنا سکتا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال پوچھا کہ الیکشن کمیشن اپنا موقف لے چکا تھا اس پر کیا انکوائری کرنی تھی۔

راتوں رات سیاسی جماعتیں کیسے رجسٹر ہو جاتی ہیں

چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے ٹی ایل پی رجسٹر کرانے والے شخص کو بلایا، ٹی ایل پی رجسٹریشن کرانے والا شخص تو دوبئی میں رہتا ہے۔ وکیل قمر افضل نے جواب دیا کہ ٹی ایل پی کو بلایا تھا رجسٹر کرانے والے کو نہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن اس طرح کام کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ راتوں رات سیاسی جماعتیں کیسے رجسٹر ہو جاتی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں اوپر سے حکم آتا ہے کچھ کہتے ہیں پہیے لگ جاتے ہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا بیرون ملک رہنے والا سیاسی جماعت رجسٹر کروا سکتا ہے۔ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ بیرون ملک رہنے والوں کے پارٹی رجسٹرکرانے والوں پرپابندی نہیں، سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کیلئے 2 ہزار شناختی کارڈ لازمی ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ٹی ایل پی والوں کے 2 ہزار شناختی کارڈ کہاں ہیں، ان کی پارٹی رجسٹریشن کا ریکارڈ کہاں ہے، الیکشن ایکٹ 2017 پرعملدرآمد کا ریکارڈ کہاں ہے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹی ایل پی کی فارن فنڈنگ کی تحقیقات کی ہیں، معمولی رقم باہر سے ملی تھی جسے فارن فنڈنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے فارن فنڈنگ توہے لیکن بہت معمولی سی، میرے لیے تو 15 لاکھ روپے بڑی رقم ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر 10 روپے بھی فارن فنڈنگ آئیں تو قانون کیا کہتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پہلے کہا قانون کاسمیٹک ہے اب کہتے ہیں فنڈنگ پینٹس ہیں۔