Tag Archives: zardari

نواز شریف خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں ،آصف زرداری

لاہور (ویب ڈیسک)لاہور میں پارٹی رہنماﺅں سے بات کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ جس ملک کے ریاستی ادارے تباہ ہوجائیں وہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کا حال افغانستان، عراق اور لیبیا جیسا ہوجاتا ہے، نوازشریف بھی ملکی اداروں کے ساتھ تصادم کا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور پاکستان کو اس طرف لے جارہے ہیں جہاں ملک کسی سے بھی سنبھل نہی پائے گا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ نوازشریف پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت تمام اداروں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور اپنی ذات اور خاندان کی خاطر ملکی سلامتی کو داﺅ پر لگار ہے ہیں وہ خود تو ملک تباہ کرکے ماضی کی طرح بیرون ملک بھاگ جائیں گے لیکن ہم نے پاکستان میں ہی رہنا ہے ہم نوازشریف کو ملک کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے نہیں دیں گے۔

آصف علی زرداری کے قتل کا منصوبہ بے نقاب

کراچی، لاہور (اے این این) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے الزام لگایا ہے کہ شریف برادران نے ماضی میں دو مرتبہ ان کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا جبکہ وہ اس مرتبہ ان سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے سیکرٹری اطلاعات چوہدری منظور نے آصف علی زرداری کے حوالے سے کہا کہ شریف برادران نے 1990 ءمیں حراست کے دوران دو مرتبہ ان کے قتل کا منصوبہ بنایا لیکن اللہ نے انہیں کامیاب ہونے نہیں دیا۔ گذشتہ روز کراچی سے روانگی سے قبل آصف علی زرداری نے بلاول ہاو¿س میں پارٹی کے رہنماو¿ں کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس میں شرکت کی اور انہیں سخت محنت کرنے کو کہا جیسا کہ عام انتخابات قریب آرہے ہیں۔ اجلاس کے شرکا سے بات چیت کرتے ہوئے آصف زرداری نے زور دیا کہ سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم نواز شریف نے ان سے حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن میں نے اسے مسترد کردیا۔ تاہم آصف علی زرداری نے بلاول ہاو¿س کراچی میں ہونے والے اجلاس میں بتایا کہ یہ مشکل ہوگیا ہے کہ شریف خاندان کے ساتھ مزید چلا جائے، وہ بہت جلد رنگ بدلتے ہیں، جب وہ مشکل میں ہوتے ہیں تو آپ سے تعاون چاہتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو آپ کو نظر انداز کرتے ہیں۔ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پارٹی رہنماو¿ں پر یہ واضح کیا کہ وہ 2018 ءکے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سے اتحاد کی باتیں بھول جائیں، اگلے انتخابات کے بعد ہم مضبوط ہوں گے۔

نواز شریف بے قصور یا قصور وار ،زرداری نے دل کی بات کہہ دی

پشاور( صباح نیوز) پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف کہتے ہیں مجھے کیوں نکلا جب انہیں شک ہے اور اگر وہ بے قصور تھے تو کیوں نکلے ملک میں معاشی ایمرجنسی لگائی جائے، ملک معاشی لحاظ سے کمزور ہو رہا ہے تو کوئی تو ذمے دار ہوگا، جب بھی مسلم لیگ کو حکومت ملی اس نے ملک کو کنگال کیا، مسلم لیگ (ن) نے قرضہ بہت بڑھایا ہے جسے اتارنا بھی ہے، پیپلزپارٹی جب بھی حکومت میں آئی ایکسپورٹ اور فنانس بڑھی اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے ہمیشہ پاکستان کاخزانہ بھرا۔ ہمارے دورمیں دنیا میں معاشی بحران تھا، اب ایسا نہیں، پچھلے چار سال میں نوازشریف نے کچھ نہیں کیا، لاہور کے حلقے این اے 120 میں ضمنی الیکشن ہوئے تو لوگوں کو روزگار ملا، ضمنی انتخاب میں میاں صاحب کے حلقے میں مریم نوازگئیں تو راتوں رات کام ہوگئے۔ ہمارے دورمیں ایک جج صاحب ٹکر میں تھے، گیلانی کو گھربھیج دیا تھا، ہمارے دور میں وزیراعظم کو گھر بھیجا گیا تو اقتدار کی منتقلی آرام سے ہوگئی تھی اور ہم نے کوئی جلوس نہیں نکالا، ہم نے یوسف رضا گیلانی کو احتجاج کے لیے بھی نہیں کہا پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے انہوں نے کہا کہ ن لیگ کو جب بھی حکومت ملی پاکستان کو کنگال بنایا پی پی کی جب بھی حکومت آئی ملک کو معاشی لحاظ سے مضبوط کیا معاشی لحاظ سے کمزور ہو رہے ہیں کوئی تو ذمہ دار ہو گا اب وفاقی حکومت کو الیکشن قریب آنے پر یاد آرہا ہے کہ لوگوں کو سولر سسٹم گیس اور ٹرانسفارمر کی ضرورت ہے میں خوش ہوں کہ دو چار ضمنی انتخابات آجائیں تا کہ غریبوں کو سہولیات ملیں لاہور این اے 120میاں نواز شریف کا حلقہ تھا وہاں چار سال میں کوئی کام نہیں ہوا جیسے الیکشن قریب آیا تو مریم نواز وہاں پہنچیں اور راتوں رات غریبوں کو راستہ اور نوکریاں ملیں این اے 4میں ہمیں اچھے نتائج کی امید ہے انہوں نے ہمارے 11ہزار لوگوں کو نوکری سے نکال دیا تھا وہ نوکریاں ہم نے ہائیکورٹ میں لڑ کر ان سے واپس لی ہیں پی پی کا ہمیشہ یہ منشور رہا ہے روٹی، کپڑا اور مکان ہم جب بھی حکومت میں آتے ہیں لوگوں کو نوکریاں دیتے ہیں ان سے لیتے نہیں ہیں ہمارا وعدہ ہے کہ اگر اللہ تعالی نے ہمیں دوبارہ موقع ملا تو دوبارہ وہی کریں گے جو پہلے کیا ہے ہم دوبارہ نوکریاں دیں گے بی بی کاز کو بڑھائیں گے اگر اللہ نے چاہا تو فاٹا کو کے پی کے کے ساتھ ملا کر اسے ایک صوبہ بنائیں گے جب وہاں رٹ ہو جائے گی تو خانہ جنگی بھی کم ہو جائے گی کے پی کے کے لیے ایک خاص پیکج بنایا جائے گا جب تک یہاں کے نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا اسے کوئی بھی غافل بنا سکتا ہے میں گزشتہ روز پرویز خٹک سے گاﺅں میں تھا وہاں نیا پاکستان تو نظر نہیں آیا البتہ کچرے کے ڈھیر ضرور نظر آئے کپتان کی نظر میں سب سے اچھا انسان پرویز خٹک ہے ہم نے پختونوں کو شناخت دی اس دھرتی سے پیار ہے سندھ اب تک ڈیڑھ سو میگاواٹ بجلی دے چکا ہے مگر انہوں نے ایک میگاواٹ بھی نہیں دی پہلے کہتے تھے ہم تین ماہ میں بجلی پوری کر دیں گے پچھلی دفعہ ہماری حکومت نہیں تھی ہم حکومت میں شریک تھے حکومت کسی اور کی تھی بہرحال ہم اس ذمہ داری سے ہم اپنے آپ کو مبرا نہیں کر سکتے اس دفعہ ہم لحاظ نہیں کریں گے جو ترقی کرنی ہے وہ کریں گے ہر جگہ پہنچیں گے اور لوگوں کی خدمت کریں گے ن لیگ حکومت نے بہت قرضہ لے لیا ہے جتنا قرضہ اس نے بڑھا دیا ہے اس کو کسی طرح لوٹانا بھی ہے ہمارے زمانے میں ہمیں کچھ جج صاحب ٹکر گئے تھے میرے وزیر اعظم کو انہوں نے گھر بھیج دیا تھا اس کے باوجود ہم نے صاف شفاف منتقلی کی ہم نے کوئی جلوس نہیں نکالے تھے یوسف رضا گیلانی کو احتجاج کا نہیں کہا تھا یہ ان کا طریقہ ہے یہ مری سے نکلتے ہیں جب اسلام آباد پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں لوگ کم ہیں تو رک جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں ہمیں کیوں نکالا ؟ اگر آپ کو کوئی شک تھا تو آپ نکلتے ہی کیوں ہیںاب بھی وزیر اعظم ہاﺅس خالی ہے تب بھی خالی رہتا اب وہاں بیٹھ کر ملاقاتیں کرتے رہتے ان کو جعلی مینڈیٹ ملا تھا میاں صاحب کو تو ابھی تک پتہ ہی نہیں چلا کہ کیوں سزا دی گئی۔

 

کے پی میں ہر طرف کچرا اور ڈینگی ہے، نیا پاکستان دوربین سے بھی نظر نہیں آیا

پشاور:  پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے پشاور میں ہمایوں خان کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کپتان اپنی مگن میں مست ہیں، پشاور میں ہر طرف ڈینگی اور کچرا نظر آ رہا ہے، عمران کی نظر میں کے پی میں پرویز خٹک سب سے اچھا انسان ہے، تحریک انصاف نے سینیٹ میں ن لیگ سے اتحاد کر لیا ہے، میاں صاحب کو ابھی تک خود نہیں پتہ کہ انہیں کیوں نکالا گیا، شریف خاندان واپس آ جائے، جیلیں بھریں، جد و جہد کریں تو شاید کچھ بات بن جائے۔آصف زرداری نے مزید کہا کہ دیکھتے ہیں نواز شریف، مریم اور صفدر جیل جاتے ہیں یا نہیں، میاں صاحب کو چاہئے واپس آ کر جدوجہد کریں۔ سابق صدر نے کہا کہ پاکستان کو اپنے قیام سے لیکر آج تک خطرات کا سامنا ہے، قوموں کو خطرات کا سامنا ہوتا ہے، یہ کوئی ایسا ایشو نہیں، خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے بھی ملک کو چلانا ہے لیکن خزانے پر منشی بٹھایا گیا تھا، اب اس منشی کو کیا کہوں؟آصف زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرف مفرور ہے، وہ قوم کا اور ہمارا مجرم ہے، اگر وہ اتنا بہادر کمانڈو ہے تو ملک سے بھاگا کیوں ہے؟ پرویز مشرف اتنا بہادر اور کمانڈو ہے تو واپس آ کر کیسز کا سامنا کرے۔

آصف زرداری نے عمران اور نواز شریف کو اداکار قرار دیدیا،اہم انکشافات بھی کر ڈالے

پشاور(آئی این پی‘ این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے سربراہ و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب اب تک پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ، میاں صاحب آپ ہماری وجہ سے نہیں نکالنے والوں کے خوف کی وجہ سے نکلے ،اگر آپ کو نہیں پتہ تھا تو نکلے کیوں گھر بیٹھ جاتے اور وزیراعظم ہاﺅس خالی نہ کرتے ،اگر عمران خان وزیراعظم بن گیا تو کرے گا کیا ، ان سے ڈینگی نہیں سنبھالا جاتا ،یہ نیا پاکستان تو کیا نیا کے پی کے بھی نہ بنا سکے، قوموں کی زندگی میں ایسے فنکار آتے ہیں جیسے عمران خان صاب یا میاں نوازشریف ہیں ،قوموں کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بچا کر رکھنا چاہیے ، جب میں صدر تھا تو میں نے فاٹا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو گورنر لگایا تھا جو کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا تھا۔منگل کو پیپلزپارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ قوموں کی زندگی میں ایسے فنکار آتے ہیں جیسے عمران خان صاب یا میاں نوازشریف ہیں ،قوموں کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بچا کر رکھنا چاہیے ، قوموں کی زندگی میں چار یا پانچ سال اہمیت نہیں رکھتے ، قومیں ہزاروں سال چلتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب میں صدر تھا تو میں نے فاٹا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو گورنر لگایا تھا جو کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا تھا ، ہمارے دور میں فاٹا کےلئے قانون بنائے گئے جو کہ نافذ بھی ہوئے ، ہماری حکومت آتے ہی فاٹا کا مسئلہ حل ہوگا،ہمارا ایجنڈا فاٹا کو خیبرپختونخوا سے ملانا ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ غریبوں کو روزگار دینے کی بات کی ہے ، روزگار چھیننے کی بات نہیں کی گئی ، ہمارے دور حکومت میں لگائے گئے افراد کو حکومت نے نکال دیا جس پر ہم عدالت میں گئے اور عدالت نے ان سب افراد کو بحال کردیا ، یہ بات پی پی پی کی شناخت رہی ہے کہ ہم روزگار دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کا بس چلتا تو یہ پورا پاکستان بیچ دیتے ، میاں صاحب اب تک پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ، میاں صاحب آپ ہماری وجہ سے نہیں نکالنے والوں کے خوف کی وجہ سے نکلے، اگر آپ کو نہیں پتہ تھا تو نکلے کیوں گھر بیٹھ جاتے اور وزیراعظم ہاﺅس خالی نہ کرتے، ہم نے تو آپ کو نہیں نکالا۔ آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان بیچارے معصوم کرکٹر ہیں، وہ روزانہ ٹی وی پہ اپنی آواز اور تصویر دیکھنے کے شوق میں پھنس گئے، اگر عمران خان وزیراعظم بن گیا تو کرے گا کیا، ان سے ڈینگی نہیں سنبھالا جاتا، یہ نیا پاکستان تو کیا نیا کے پی کے بھی نہ بنا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور میاں صاحب آپ حکومت نہیں چلا سکیں گے اسی لئے ہم چھوڑ کر چلے گئے، اگر ہم پہلے ہی پھڈا ڈال دیتے تو آپ کہتے کہ ہمیں چلنے نہیں دیا گیا، ہم نے حکومت بننے دی مگر آپ سے چلائی نہیں گئی۔ کے پی کے میں ضمنی انتخاب ہورہا ہے اس میں پوری کوشش کریں، وفاقی حکومت سے ٹرانسفارمرز اور صوبائی حکومت سے شمسی توانائی کے بلب پر مقابلہ ہے ۔آصف زرداری نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ کے پی کے میں ایسے ایمان والے موجود ہیں جو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ، شہید رانی کے ساتھ ، آپ کے ساتھ اور اس فقیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

قوم کو نواز شریف اور عمران خان سے ہوشیار رہنا چاہئے،آصف علی زرداری

پشاور (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا پی پی کی سیاست کا مرکز بن گیا۔ آصف زرداری پشاور پہنچ گئے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پشاور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو نواز شریف اور عمران خان سے ہوشیار رہنا چاہئے، فاٹا کو خیبر پختونخوا سے ملانا ہے، لوگوں کو روزگار دینا پیپلز پارٹی کی شناخت ہے، عمران خان وزیر اعظم بن گئے تو کریں گے کیا؟ کے پی میں نیا پاکستان تو دے نہیں سکے۔ آصف زرداری نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غریبوں کو روزگار دینے کی بات کی، عمرن خان بیچارا ایک معصوم کرکٹر ہے، اس کو وزیر اعظم بننے کی سوچ دے دی گئی ہے مگر یہ اس کے بس کی بات نہیں۔آصف زرداری نے اعلان کیا کہ ضمنی الیکشن میں کارکن پوری جان لڑائیں، کارکن ہمارے ساتھ ہیں، ہم انشاءاللہ الیکشن جیتیں گے۔

عمران خان کے خواب چکنا چور ، آصف علی زرداری نے بڑا اعلان کردیا

لاہور( این این آئی)سابق صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی تبدیلی کی تحریک کو ناکام بنانے کے لئے خود میدان میں آنے کا فیصلہ کرلیا، اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرکے حمایت حاصل کی جائے گی ۔ بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی تبدیلی کیلئے جاری کوششوںکے بعد آصف علی زرداری نے خود خورشید شاہ کے دفاع کیلئے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پی پی کی قیادت پر عزم ہے کہ اس معاملے پر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے کر کے اس تحریک کو ناکام بنایا جائے گا ۔بتایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری کے رابطوں سے قبل سید خورشید شاہ نے بھی اپوزیشن رہنماؤں سے رابطوں کا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔

نواز شریف کو بچنے کا راستہ بتا دیا

کراچی (غلام عبا س ڈاہری سے ) سابق صدر ،پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی ذرداری نے کہا ہے کہ آئندہ وفاقی حکومت ہماری ہوگی تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی حکومت نہیں بناسکے گی جبکہ میاں نواز شریف لاہور ڈویژن تک محدود ہوجائیں گے اور پورے ملک میں پی پی پی چھاجائے گی ، پرویز مشرف جتنا بھی بھاگئے انٹر پول کے ذریعے اسے پکڑ کر لائیں گے او رعدالتی کٹہڑے میں کھڑا کریں گے ، وہ گزشتہ روز زرداری ہاﺅس نواب شاہ میں پی پی پی کے رکن سندھ اسمبلی سردار ڈاکٹر بہادر خان ڈاہری سے خصوصی بات چیت کررہے تھے انہوں نے کہا کہ نواز شریف اب قصہ پارینہ ہوچکے ہیں دل چاہتا ہے اسے ہمدردی کروں مگر وہ ہمدردی نہیں رحم کے قابل ہیں جب میں 11سال ، جیل میں رہا تو انہوں نے مجھ سے کھی ہمدردی نہیں کی اب میں اس سے ہمدردی کیوں کروں ؟انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو چائیے کہ وہ سیاست کے بجائے شاعری کریں اور اور انقلابی نظمیں لکھ کر اپنے مخالفین سے انتقام لیں ، ریلیوں اور مظاہروں سے الٹا اثر ہوگا اور وہ مزید پھنستے جائیں گے انہوں نے کہا ہے کہ نواز شریف کا باب بند ہوچکا ہے سردار ڈاکٹر بہادر ڈاہری نے خبریں سے بات چیت میں مزید بتایا ہے کوچیئرمین آصف علی زرداری نے ملاقات میں مزید یہ بھی بتایا ہے کہ تحریک انصاف والوں کو سندھ میں کہیں کچھ بھی نہیں ملے گا سندھ کی عوام باشعور ہوچکی ہے اور وہ شہید بھٹو ، شہید بی بی، کی پارٹی کو ہی ووٹ دیں گے انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے سندھ کے عوام کی بہت زیادہ خدمت کی ہے سابق صدر آصف علی زرداری نے مزید بتایا ہے کہ جنرل پرویز مشرف انٹر پول کے زریعے گرفتار کرکے لایا جائے گا اگر وہ پاکستان آئے تو اسے گرفتار کیا جائے گا انہوں نے کہا ہے کہ باہر بیٹھ کر پرویز مشرف جس طرح بھڑکیں مار رہے ہیں اگر اس میں جرات ہوتی تو وہ وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کرتے میں بھی بیمار ہونے کے باوجود 11سال تک جیل میں رہا اور مقدمات کا سامنا کرتا رہا انہوں نے کہا ہے میں نے نہیں عدالت نے پرویز مشرف کو بھگوڑاقرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ منظور حسین وسان خوابوں سے نکل کر عوام کی خدمت کریں تو بہتر ہے تاکہ وہ آئندہ الیکشن میں کامیاب ہو، انہوں نے مزید کہا ہے کہ بہادر کو مزید بہادری دکھانا ہوگی آپ جس جذبے سے عوام کی خدمت کررہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ پی پی پی کو آپ کی آپ کی ضرورت ہے سابق صدر نے ڈاکٹر بہادر ڈاہری کو شاباس دی اورکہا کہ اپنا کام جاری رکھیںواضع رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے تمام اراکین صوبائی اسمبلی وقومی اسمبلی کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوام کی زیادہ سے زیادہ خدمت کریں۔

جب تک وہ تھک نہیں جاتے ۔۔ عدلیہ سے لڑتا نہیں ان کیساتھ بھاگتا ہوں

اسلام آباد:سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کسی بھی مقدمے میں مک مکا کہہ دینا آسان ہوتا ہے حالانکہ ہر کیس کی ایک طویل داستان ہے،مجھ پر سیاسی بنیادوں پر کیس قائم کئے گئے جن کے دوران 4سو سے5سو تک پیشیاں ہوئیں لیکن اس کے باوجود مجھ پر بنائے گئے تمام کیسز ختم کردئیے گئے۔ میری ایک عادت ہے کہ میں عدلیہ کے ساتھ لڑتا نہیں ہوں بلکہ ان کے ساتھ بھاگتا ہوں جب تک وہ تھک نہیں جاتے۔ہم پر این آر او کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں حالانکہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے این آر او اس لئے سائن کیا کیوں کہ اس میں انتخابی اصلاحات اور نواز شریف کی واپسی تھی،ہماری جنگ کسی سیاسی جماعت اور ادارے کے ساتھ نہیں بلکہ ہماری جدوجہد کا محور جمہوریت کی بحالی اور بقا کی خاطر ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صد رآصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ میرے خلاف سابق صدر غلام اسحاق خان کے دور میں12کیسز بنائے گئے جو میں نے جیل میں بیٹھ کر جیتے،مجھ پر تاریخ کا بدترین تشدد کیا گیا میری گردن اور زبان کاٹی گئی اور کہا گیا کہ میں نے خود کشی کی جبکہ بعد ازاں عدالت نے ثابت کیا میں نے خود کشی نہیں کی بلکہ مجھ پر تشدد کیا گیا۔ میرے خلاف گواہی دینے کے لئے جعلی گواہ تیار کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی گواہ میرے خلاف بیان دینے پر رضامند نہیں ہوا، میرے کیسز کی سماعت کے لئے اٹارنی جنرل آفس سے ججوں کی تقرریاں کی گئی اور ان ججز نے میرے کیسز کو طویل کیا کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اگر میرے خلاف کیسز ختم ہوگئے تو ان کے ملازمت بھی ختم ہوجائے گی۔ 7 سال کی سزا پر میں نے 24 سال قید کاٹی جبکہ میرے خلاف ایسے کیسز بنائے گئے جن پر میں اپیل بھی نہیں کر سکتا تھا لیکن بعد ازاں مشرف دور میں ہمارے کیسز سیشن کورٹ میں منتقل ہوئے۔آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ میرے میاں صاحب سے کوئی لڑائی نہیں ہے ،ایک کلرک بھی اپنے اختیارات کسی کو نہیں دیتا لیکن میں نے آئینی ترامیم کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے کبھی سیاسی انتقام نہیں لیے ، ہمارے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ میرے کچھ لوگوں نے کہا کہ پنجاب میںآپ حکومت بنا لیں لیکن میں نے میاں صاحب کو حکومت بنانے دی کیوں کہ اگر میاں صاحب کو پنجاب کی حکومت نہ دیتا تو ہم مشرف کو نہیں نکال سکتے تھے،مجھ سے پوچھا کہ مشرف کیا کریں گے تو میں نے کہا وہ گالف کھیلیں گے، اگر میں ایسا نہیں کرتا تو وہ آرمی سے مارشل لاءلگاوا دیتے۔ مفاہمت کی سیاست ہی کی وجہ سے جمہوریت پروان چڑھتی ہے اور ہمیں ذاتی مفادات کی بجائے جمہوریت کی بحالی کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھاکہ اب کرپشن کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے کیوں کہ میڈیا اور سوشل میڈیا بہت تیز ہوگیا ہے جب آپ گھر پہنچتے ہیں تو آپ کی کرپشن کی داستان آپ سے پہلے آپ کے بچوں کے علم میں آجاتی ہے اور وہ گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی پوچھتے ہیں کہ پاپا! آپ نے کرپشن کیوں کی؟

ملکی سیاست میں بھونچال ۔۔آصف علی زرداری نے نواز شریف کو آئینہ دیکھا دیا

لاہور: پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ میں نہیں تو جمہوری عمل بھی نہیں نوازشریف کی یہ سوچ بہت خطرناک ہے۔لاہور میں میڈیا سے غیررسمی گفتگوکرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ 2013 کے انتخابات میں آر اوز مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرتا تو بڑا بحران پیدا ہوجاتا لیکن میں نے جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے لئے ہمیشہ سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی اور ان کے ساتھ کھڑا ہوا لیکن نوازشریف نے مجھے پریشانی اور مشکل میں دیکھ کر غیرسیاسی قوت کی خوشنودی حاصل کی اور جب میں نے نوازشریف کے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت کے لئے ان کے پاس جانا چاہا تو انہوں نے انہی قوتوں کو خوش کرنے کے لئے مجھ سے ملنے سے انکار کردیا۔آصف زرداری نے کہا کہ نوازشریف تو پرویز مشرف سے سمجھوتہ کرکے بیرون ملک چلے گئے جیل تو میں نے کاٹی، اگر میں بھی تھوڑی سے مسکراہٹ دے دیتا تو جنرل مشرف سے سب کچھ لے سکتا تھا۔ عدالت نے نوازشریف کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے تو وہ اس فیصلے کو کیوں نہیں مانتے، میں نے بھی تو ایک وزیراعظم ہٹا کر دوسرے کو منصب سونپ دیا تھا، میں نہیں تو جمہوری عمل بھی نہیں نوازشریف کی یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے، انہیں چاہئے کہ وہ جمہوری عمل کو چلنے دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ  اعتزاز احسن جو بولتے ہیں وہ میری آواز ہیں جب کہ رضاربانی آزاد دانشور اور سینیٹ کے چئیرمین ہیں۔