Tag Archives: islamabad

بلاول نے پیپلز پارٹی کا منشور پیش کر دیا، جمہوریت اور معیشت مضبوط کرنے کا عزم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیئرمین پیپلر پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی جڑیں گہری کرنا ہماری پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بطور پارٹی سربراہ اپنا پہلا منشور پیش کیا جو مجموعی طور پر پارٹی کا گیارہواں منشور ہے۔پیپلز پارٹی کا پہلا منشور 1967 میں ذوالفقار علی بھٹو نے پیش کیا تھا۔پیپلز پارٹی کے موجودہ منشور کا نام ’ بی بی کا وعدہ نبھانا ہے، پاکستان کو بچانا ہے‘ رکھا گیا ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کا ہر شعبہ استحصال کا شکار ہے لیکن ہم دنیا میں پاکستان کی جائز حیثیت بحال کرائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان مفلوج ہو چکا ہے، دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کے باوجود پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر تمام ادارے تباہ کر دیے گئے اور پارلیمنٹ خاموش تماشائی بن کر ریاست و معیشت کو لاحق خطرات کو دیکھتی رہی لیکن ہم ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیں گے اور پارلیمنٹ اور دیگر ادارہ جاتی ڈھانچوں کو مضبوط بنائیں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ملک کے وقار پر سمجھوتا نہیں کریں گے اور دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات رکھیں گے، پارلیمان کو خارجہ پالیسی پر اعتماد میں رکھیں گے۔انہوں نے بتایا کہ سلالہ پر حملے کے بعد شمسی ایئربیس کر دیا اور 7 ماہ نیٹو سپلائی بند کی، امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اور پہلی مرتبہ ایک سپر پاور ملک کو معافی مانگنی پڑی۔
پانی کا مسئلہ
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں پانی کا مسئلہ سنگین ہے، پانی کے مسلے کو حل نہ کیا تو یہ سنگین صورتحال اختیار کر جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ عوام میں شعور اجاگر کرنا ہو گا کہ پانی کی بچت میں بقا ہے، ہم نے جام شورو میں ڈیمز بنائے لیکین ہمیں ملک بھر میں ڈیمز بنانے ہوں گے۔
پیپلزپارٹی پانی کے مسئلے پر کام کر رہی ہے لیکن افسوس ہے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ایک پانی کا منصوبہ نہیں بنا، ہمیں ڈیم بنانے ہوں گے اور ڈرپ اریگیشن کو فروغ دینا ہو گا۔
زرعی اصلاحات اور ٹیکسٹائل
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کی زراعت کا برا حال ہے لیکن ہم ملک کے کسانوں کی رجسٹریشن کر کے انہیں بے نظیر کسان کارڈ جاری کریں گے، خواتین کسانوں کی رجسٹریشن بھی کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ قومی پیداوار میں اضافے کے لیے مقامی کاشتکاروں کو سبسڈی دی جائے گی، یوریا کھاد کی قیمت 500 روپے اور ڈی اے پی کھاد کی قیمت 1700 روپے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کو پاکستانی معیشت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے لیکن آج اس شعبے کا برا حال ہے، ہم ٹیکسٹائل کے شعبے کو بحال کریں گے اور ٹیکسٹائل پر زیرو ٹیکس ہو گا۔
صحت کی سہولیات
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی، ٹنڈو محمد خان، مٹھی اور خیرپور میں اسپتال کھولے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کینسر کا علاج متعارف کرایا، بدین میں 8 منزلہ جدید اسپتال قائم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اقتدار میں آ کر صحت کی سہولتوں کے نظام کو ملک بھر میں پھیلائیں گے اور پہلی مرتبہ فیملی ہیلتھ پروگرام شروع کیا جائے گا۔
مضبوط جمہوریت
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے دشمنوں کی سازشیں جاری ہیں، سالہا سال سے پارلیمنٹ میں غیرحاضر رہ کر ووٹ کو عزت نہیں دی جا سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے سے بھی جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی، تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے پر قدعن لگائی جا رہی ہے لیکن پیپلزپارٹی کو سینسر اور ملاوٹ شدہ جمہوریت قبول نہیں ہے، پیپلزپارٹی معیاری جمہوریت کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔

طلباءاور ٹریڈ یونینز کی بحالی
چیئرمین پیپلز پارٹی طلباء یونین اور ٹریڈ یونین پر پابندی ختم کی جائیں گی، منشور میں پہلی مرتبہ لونگ ویج کا پیکج متعارف کرایا ہے جس کے تحت کسی کو ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

صرف 2ہی لیڈر ہیں ،زرداری مقابلہ نہیں کر سکتے ،شاہد خاقان عباسی کی سی پی این ای کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد (اپنے نمائندے سے) شاہد خاقان عباسی نے عمران خان کو لیڈر تسلیم کرلیا، کہتے ہیں ملک میں صرف دو لیڈر ہیں ایک نواز شریف دوسرے عمران خان“ آصف زرداری کو لیڈر نہیں مانتا“ ان کے نام پر ووٹ نہیں پڑتا، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کوئی شخص ایسا نہیں جو وزیر خزانہ بن سکے“ جس دن مل گیا فوری وزیر خزانہ بنادونگا“ وہ وزیراعظم ہاو¿س میں سی پی این ای کے وفد سے بات چیت کررہے تھے، وفد کی قیادت سی پی این ای کے صدر اور خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے کی، وزیراعظم نے کہا قائداعظم کے بعد صرف چار لیڈر آئے جن میں ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان شامل ہیں، ان میں دو لیڈر اس وقت موجود ہیں، ایک نواز شریف اور دوسرے عمران خان ہیں، انہوں نے کہا کسی کو آئین کیخلاف ورزی نہیں کرنے دونگا چاہے وہ نواز شریف ہی کیوں نہ ہوں، نواز شریف کو عدالت نے وزارت عظمیٰ سے نااہل کیا ہے سیاست سے نہیں، ابھی تک نواز شریف نے کوئی خلاف آئین کام نہیں کیا“ وفد میں شامل اخبارات کے ایڈیٹروں سے گفتگو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں الیکشن وقت پر ہونگے“ 15 مارچ کو الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل ہوجائے گی“ 15 جولائی کو الیکشن ہوگا جبکہ نئی حکومت یکم اگست سے کام شروع کردے گی“ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور حکومت میں اتنے پراجیکٹ مکمل کئے جو گزشتہ 25 برسوں میں مکمل نہ ہوسکے تھے، انہوں نے کہا نواز شریف نے کبھی میرے کام میں مداخلت نہیں کی ہاں پارٹی سربراہ کے طور پر مشورہ ضرور دیتے ہیں“۔ وزیراعظم نے اے پی این ایس کے وفد سے بھی ملاقات کی اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ملک کے بہترین مفاد میں حکومت چلتی رہنی چاہیے بطور وزیراعظم انہیں کسی اندر یا باہر کے پریشر کی پرواہ نہیں اور وہ کسی قیمت پر اسمبلی تحلیل نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ملک میں کہیں سیاسی عدم استحکام نظر نہیں آتا اگر کسی کو وہ پسند نہیں ہیں تو بے شک ان کے خلاف عدم اعتماد لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ سول اور ملٹری تعلقات اچھی ڈگر پر چل رہے ہیں اور ہر بڑے مسئلے پر سول اور ملٹری قیادت سر جوڑ کر بیٹھتی ہے اور فیصلے کرتی ہے انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ نظام درست انداز میں چل رہا ہے خزانے کی چابیاں ان کے پاس ہیں اور معاملات ٹھیک ہیں۔ وزیراعظم نے کہا نیب کا قانون ایک بُرا قانون ہے اور اس قانون کو ایک آمر نے سیاسی جماعتوں کو توڑنے کیلئے بنایا تھا۔ قوم نے میاں نوازشریف کو ووٹ دیا نوازشریف نے ملک کو ایک صحیح ڈگر پر ڈالا اور اب ان کی حکومت عوام سے کئے گئے وعدے پورے کررہی ہے انہوں نے کہا کہ جس ریفرنس کا وجود نہیں اس پر ایک ہفتے میں دو دو پیشیاں ہوتی ہیں ایسا تو تب بھی نہیں ہوا تھا جب نوازشریف کے خلاف طیارہ کیس بنا تب بھی ہفتے میں ایک سے زیادہ پیشی نہیں ہوتی تھی۔ دوسری جانب عالم یہ ہے 22 ماہ گزرنے کے باوجود ڈاکٹر عاصم کے خلاف 450 ارب کی کرپشن کے مقدمہ کا چارج فریم نہیں ہوسکا۔ وزیراعظم نے کہا کسی کو حکومت میں مداخلت کا حق نہیں سیاسی جماعتیں ایک دن میں بنتی ہیں نہ ہی لیڈر۔ اس کے لئے ایک وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک سال سے عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ عوام خود فیصلہ کرے کہ 28 جولائی کے فیصلے سے ملک کو فائدہ ہوا یا نقصان۔ عدالتوں کو بھی اپنے فیصلے کے اثرات دیکھنے چاہئیں اور ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں جس سے ملک عدم استحکام کا شکار ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکوں کے لئے سب سے اہم چیز معیشت ہوتی ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو ملک کی معیشت کے مفاد میں پالیسیز بنانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنا نہیں چاہتے اور ان کا ذاتی خیال ہے کہ ڈالر کی قدر 110 روپے کے قریب رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں ہوگی اور مہنگائی قابو میں رہے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سٹیل مل کا فیصلہ حکومت کو 200 ارب روپے میں پڑا جبکہ کار کے فیصلے کی وجہ سے عالمی عدالت میں حکومت کو 765 ملین ڈالر دینے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے فیصلے ڈرائنگ روم کے بجائے پولنگ اسٹیشنوں پر ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرونی خسارے کے حوالے سے قیامت کا منظر پیش کرنے والے معاشی حقائق سے واقف نہیں۔ پچھلے سال یہ خسارہ مشینری اور انڈسٹری کی بھاری درآمد سے بڑھا تھا ہم نے معیشت کی ترقی کی شرح میں اضافہ کیا اور اسی طرح ٹیکس ریونیو کی مد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں ان چار سالوں میں جتنے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے اس کی نظیر پاکستان میں کبھی نہیں ملتی۔ آج بجلی کے بحران کا خاتمہ ہوگیا ہے تاہم اب بھی بجلی کی سیل اور لاگت میں 130 ارب کا خسارہ ہے۔ اس کی ایک وجہ بجلی کے بلوں کی وصولی ہے ہمیں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے صوبوں کو بھی اپنے ذمہ داری ادا کرنا چاہیے اور بجلی کے بلوں کی ریکوری میں وفاقی حکومت سے تعاون کرنا چاہیے۔ آج بجلی کے بل میں 3 روپے تو ہائیڈر پراجیکٹس کی مد میں وصول کئے جا رہے ہیں۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کی تکلیف آج سامنے آرہی ہے سوچے سمجھے بغیر کئے گئے اقدامات کے اثرات آج سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ایک جماعت کے طور پر میچور ہوچکی ہے اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ نوازشریف کے بطور وزیراعظم ہٹتے ہی تین دن میں نیا وزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔ خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت وہ اور ان کی کابینہ چلا رہے ہیں تمام فیصلے مشاورت سے کئے جاتے ہیں نوازشریف نے آج تک ان کے کام میں مداخلت کی نہ ہی کسی حوالے سے ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے قانون کی سینٹ سے منظوری کے لئے انہوں نے تمام پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں سے ملاقات کی ہے اور ان کے خدشات دور کر دیئے ہیں۔ جس کے بعد اب اس بل کا سینٹ سے پاس ہونے میں کسی رکاوٹ کا جواز باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے نگران حکومت کے دور میں 45 ہزار اسلحہ لائسنس بیچے گئے اس سے بڑی کرپشن اور کیا ہو سکتی ہے تاہم اس حوالے سے ایک مربوط پالیسی سامنے لا رہے ہیں۔

 

اسلام آباد میں نواز شریف کے لندن جانے سے قبل کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں؟سنسنی خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک)سینئر تجزیہ نگار و صحافی کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے اگلے 24سے 48گھنٹوں میں نواز شریف لندن روانہ ہو جائینگے ،جس کے بعد مریم نواز اور اطلاعات کے مطابق شہباز شریف بھی چلے جائینگے ۔سوچنے کی بات یہ ہے جب نواز شریف لندن چلے جائینگے تو کیا اس کے ان کے خلاف جاری مقدمات میں جن مسائل کا سامنا ہے کیا وہ حل ہو سکیں گے ۔نواز شریف جائیں یا نہ جائیں پیچھے سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عدالت انہیں اشتہاری قرار دے جائیداد ضبط کر سکتی ہے ۔ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر کے مطابق اس وقت جو سب سے بڑی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں نیب کے دفاتر اچانک رنگ و روغن شروع کر دیا گیا ہے ۔خبر کے مطابق ایسے بڑے بڑے کرپشن ماسٹر مائنڈ لوگوں کی آمد متوقع ہے جو کہ نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ بھی لائیں جائینگے ۔

پاکستانی دارلحکومت بارے اہم خبر…. دو اہم ہمسائے ملک پیچھے رہ گئے

لاہور(ویب ڈیسک)سستے دارالحکومتوں کی فہرست میں اسلام آباد دہلی اور ڈھاکہ سے بازی لے گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پیٹرول، ڈیزل، گوشت، چکن، چاول اور ماش کی دال سستی جبکہ ہمسایہ ممالک بھارت کے دالحکومت دہلی اور بنگلہ کے دارالحکومت ڈھاکہ میںمیں یہ تمام اشیا ءمہنگی ہیں۔پاکستان میں مہنگائی کی شرح 3.7فیصد پر برقرار ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بنگلا دیش میں مہنگائی کی شرح 5 فیصد اور بھارت میں 4 فیصد ہے۔