راولپنڈی: سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی صدر چوہدری پرویز الہیٰ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے روات کے قریب واقع تاریخی "تخت پڑی جنگل” کی سرکاری اراضی میں مبینہ خورد برد اور اسے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو منتقل کرنے کے ریفرنس میں چوہدری پرویز الہیٰ سمیت 18 ملزمان پر باقاعدہ طور پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
اس اہم کیس کی سماعت راولپنڈی کی احتساب عدالت میں ہوئی، جہاں نیب (NAB) کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس پر کارروائی کی گئی۔
کیس کا پس منظر اور الزامات:
-
1170 کنال اراضی کا غبن: نیب ریفرنس کے مطابق، ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے راولپنڈی روات کے قریب محکمہ جنگلات کی انتہائی قیمتی 1170 کنال سرکاری اراضی کو غیر قانونی طور پر ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی (بحریہ ٹاؤن) کے نام منتقل کیا اور کاغذات میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کیا۔
-
قومی خزانے کو نقصان: تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ملی بھگت اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، جبکہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچایا گیا۔
ملزمان کا مؤقف اور اگلی کارروائی:
سماعت کے دوران چوہدری پرویز الہیٰ سمیت عدالت میں موجود تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے صاف انکار کیا اور خود کو بے قصور قرار دیا۔ ملزمان کی جانب سے الزامات کو مسترد کیے جانے کے بعد عدالت نے کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے ریفرنس میں شامل گواہان کو بیانات قلمبند کرانے کے لیے 16 جون 2026 کو طلب کر لیا ہے، جہاں پہلی پیشی پر نیب کے 10 اہم گواہان عدالت کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروائیں گے۔
