انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس (Ben Stokes) کی ٹیسٹ کپتانی کے مستقبل کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں، کیونکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے پیر کی علی الصبح لندن کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے اور "ٹیم پروٹوکولز کی خلاف ورزی” پر ان کے اور فاسٹ بولر گس اٹکنسن (Gus Atkinson) کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
-
یہ واقعہ نیوزی لینڈ کے خلاف لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کی 115 رنز سے شاندار کامیابی کے بعد پیش آیا۔ میچ اتوار کو ختم ہوا، جس کے بعد پیر کی علی الصبح لندن کے علاقے کنگز روڈ پر واقع ‘ریکس رومز’ (Rex Rooms) نائٹ کلب میں کھلاڑی موجود تھے۔
-
رپورٹ کے مطابق، نائٹ کلب میں ساراسینز رگبی کلب (Saracens rugby club) کے کھلاڑی بھی سیزن کے اختتام کی پارٹی منا رہے تھے۔ وہاں ایک بدمزگی یا تصادم ہوا، جس میں مبینہ طور پر گس اٹکنسن پر مکا تانا گیا لیکن وہ ای سی بی (ECB) کے سیکیورٹی اہلکار کو جا لگا جسے بعد میں ٹانکے لگوانے پڑے۔ تاہم، خود بین اسٹوکس یا اٹکنسن اس واقعے میں زخمی نہیں ہوئے۔ ساراسینز رگبی کلب نے بھی اپنے ایک اکیڈمی کھلاڑی کے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے اور وہ اپنی سطح پر اس کی انکوائری کر رہے ہیں۔
ای سی بی (ECB) کا مؤقف اور ایکشن:
-
ای سی بی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے: "ہم نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے اختتام کے بعد ٹیم پروٹوکولز کی خلاف ورزی کے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ بین اسٹوکس اور گس اٹکنسن پیر کی علی الصبح ایک نائٹ کلب میں موجود تھے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ ہم اس وقت مزید معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے اسکواڈ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔”
-
یہ معاملہ ‘کرکٹ ریگولیٹر’ (Cricket Regulator) کے سپرد کر دیا گیا ہے جو کہ ایک آزاد انضباطی ادارہ ہے اور کھلاڑیوں پر جرمانہ یا پابندی عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
کپتانی کا مستقبل خطرے میں کیوں ہے؟
-
برطانوی میڈیا اور معتبر کرکٹ ویب سائٹ ESPNcricinfo کے مطابق، یہ معاملہ اتنا سنجیدہ نوعیت کا ہے کہ بین اسٹوکس خود بھی کپتانی کے عہدے پر برقرار رہنے کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور ان کی پوزیشن خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔
-
انگلش کرکٹ ٹیم کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ خفت کا باعث ہے کیونکہ رواں سال کے آغاز میں آسٹریلیا کے دورے (ایشز سیریز) کے دوران کھلاڑیوں کے حد سے زیادہ شراب نوشی کے کلچر اور نائٹ لائف پر سخت تنقید ہوئی تھی، جس کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور کوچ برینڈن میکولم نے ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے آدھی رات کا کرفیو (Midnight Curfew) نافذ کیا تھا۔ اسٹوکس اور اٹکنسن نے مبینہ طور پر اس کرفیو اور پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی ہے۔
متبادل کپتان کون ہو سکتا ہے؟
-
اگر بین اسٹوکس کو کپتانی سے ہٹا دیا جاتا ہے یا وہ خود استعفیٰ دے دیتے ہیں، تو نائب کپتان ہیری بروک (Harry Brook)، جو پہلے ہی محدود اوورز (وائٹ بال) فارمیٹ میں انگلینڈ کی قیادت کر رہے ہیں، اوول (The Oval) میں 17 جون سے شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ٹیم کی کمان سنبھال سکتے ہیں۔
