گگومنڈی،ساہوکا(میاں ذوالفقار، محمد یار بھٹی سے) بابا حاجی شیردربارپرذہنی معذور افراد کو زنجیروں سے باندھنے کا سلسلہ عرصہ درازسے جاری۔ ضعیف العقیدہ لوگ سمجھتے ہی کہ ایساکرنے سے ذہنی معذور تندرست ہوجاتے ہیں اور ان کی زنجیریں خود بخودکھل جاتی ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ دربارکے نزدیک ہی ایک رفاحی ادارے نے نفسیاتی مریضوں کیلئے ہسپتال بنایا ہوا ہے لیکن سادہ لوح لوگ اپنے مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی بجائے دربار پر زنجیروں سے باندھ کر مطمعن ہوجاتے ہیں کہ بابا جی ہی انہیں تندرست کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق عوامی شکایات پرخبریں انسپکشن ٹیم میاں ذوالفقار، محمد یار بھٹی گگو منڈی سے 30کلو میٹرکی مسافت پر دربار بابا حاجی شیر دیوان چاولی مشائخ پر پہنچی تو ہر طرف بندھے زہنی معذور افراد کو دیکھ کردنگ رہ گئی کہ اس سائنسی دور میں بھی سادہ لوح لوگ پتھرکے زمانہ میں رہ رہے ہیں۔ انسپکشن ٹیم کو بتایا گیا کہ دربار بابا حاجی شیر دیوان کے درجن بھر سے زائدگدی نشین ہیں اور ہر ایک نے اپنا علیحدہ آستانہ بنایا ہوا ہے جہاں ہرایک کے آستانہ پر ذہنی معذور افراد کو زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا ہے۔ تصاویرمیں نظر آنے والے مریض صرف ایک گدی نشین کے ڈیرہ پربندھے ہوئے افرادکی ہے جبکہ دیگر آستانوں پر انسپکشن ٹیم کی رسائی ممکن نہیں ہوسکی۔ راسخ العقیدہ لوگوں کا ماننا ہے کہ دربار پر زنجیروں سے باندھنے سے ان کے مریض خود بخود تندرست ہوجاتے ہیں جس کے بعد ان کی زنجیریں خود بخودکھل جاتی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دربارکے نزدیک ہی ایک رفاحی ادارے نے نفیساتی مریضوں کے علاج کیلئے ہسپتال بنایا ہوا ہے لیکن سادہ لوح لوگ ہسپتال میں علاج کی بجائے اپنے مریضوں کو دربار پر ہی باندھ کر مطمعن ہوجاتے ہیں کہ ان کے مریض کو صرف باباجی ہی تندرست کریں گے۔ 20ویں صدی کے اس سائنسی اور ترقی یافتہ دور میں دربار پر ہر طرف مرد و خواتین زنجیروں سے بندھے نظرآتے ہیں اوریہ سب کچھ حکومت کی ناک کے نیچے ہورہاہے کیونکہ دربار محکمہ اوقاف کی زیر نگرانی ہونے کی وجہ سے دربار پر محکمہ اوقاف کے افسران مستقل قیام پذیر ہیں جبکہ وزیراعلیٰ، وفاقی و صوبائی منسٹرزکے علاوہ پولیس سمیت دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران اکثر دربار پر آتے رہتے ہیں لیکن زنجیروں سے بندھے ہوئے ان انسانوں کی زنجیریں کھلوانے کیلئے اب تک کسی نے کوئی اقدام نہیں کیاہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی مرد یا خاتون کو زنجیروں سے باندھنے کے خلاف حکومت نے سخت قوانین بنارکھے ہیں لیکن دربار حاجی شیر دیوان پر سر عام بندھے ان انسانوں کی زنجیریں کھلوانے کیلئے کسی بھی حکومتی ادارے میں ہمت نہیں ہے۔ پتہ چلا ہے کہ پاکستان بھر سے لوگ اپنے ذہنی مریضوں کو دربار پر باندھنے کیلئے آتے ہیں جن میں سے اکثر اپنے پیاروں کو باندھ کر بے یار و مدد گار چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور کئی ایک تو واپس آکران کی خبرتک نہیں لیتے۔ پتہ چلاہے کہ دربار پر عام دنوں میںہرہفتہ دولاکھ اورعرس کے موقع پرکروڑوں روپے چندہ کی مد میں رقم اکٹھی ہوتی ہے لیکن گندی اور بدبو دار جگہ پر بندھے ان افرادکو دیکھ کر حیرت دنگ رہ جاتی ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ دربارپراکٹھے ہونے والے پیسوں سے کچھ پیسے خرچ کرکے ان مریضوں کا علاج کروایا جائے توکوئی وجہ نہیں کہ یہ غریب اورسادہ لوح افرادجلد تندرست نہ ہوجائیں لیکن محکمہ اوقاف سمیت دربارکے گدی نشین جمع ہونے والے لاکھوں روپے چندہ سے اپنا پیٹ ہی پالتے دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع سے پتہ چلاہے کہ دربار کے ارد گرد رہائشی آبادی میں رہائش پذیر افراد کی اکثریت چاولی خاندان سے ہے جو بابا حاجی شیر دیوان کے خاندان سے ہی چلے آرہے ہیں۔ سیاسی طور پر اثر ورسوخ رکھنے کی وجہ سے ان کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ مقامی سماجی حلقوں نے ارباب اختیارسے فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔
ظلم کی انتہا, دربار پر ذہنی معذور افراد کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟ سنسنی خیز خبر
