نواز شریف وزیراعظم ہوں یا نہ ہوں وہ دلوں میں رہتے ہیں

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہاہے کہ نواز شریف وزیراعظم ہوں یا نہ ہوںوہ دلوں میں رہتے ہیں۔ٹوئٹر پراپنے بیا ن میں کہا کہ محمد نواز شریف کا مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پرتپاک استقبال کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف وزیراعظم ہوں یا نہ ہوں وہ دلوں میں رہتے ہیں۔

آئندہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ن؟ اہم نام سامنے آ گیا

اسلام آباد/لاہور (ویب ڈیسک) شہباز شریف کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کون ہو گا؟ سینئر لیگی قیادت کا غور و فکر جاری ہے۔ کیا مسلم لیگ نون کی طاقت کے مرکز پنجاب کو شہباز شریف جتنا مضبوط اور طاقتور کوئی دوسرا رہنماءمل سکے گا؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس نے لیگی رہنماو¿ں کو خاصا پریشان کر رکھا ہے۔ رانا ثناءاللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاو¿ن میں لیا جانے کے سبب اور ان کی شیر علی گروپ سے مخالفت کے باعث وہ متنازعہ شخصیت کے حامل ہیں مگر میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان وزارتِ اعلیٰ کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ بعض حلقے حمزہ شہباز، ندیم کامران اور رانا ثناءاللہ کے نام بھی لے رہے ہیں۔ لیکن تخت لاہور کا اگلا حاکم جو بھی ہو کیا وہ شہباز شریف کی طرح جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنا سکے گا؟ شہباز شریف کی طرح چھاپہ مار کارروائیاں جاری رکھے گا؟ یا اپنا علیحدہ طریقہ متعارف کروائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کا جواب تلاش کرنا اس وقت میاں نواز شریف اور شہباز شریف کیلئے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

پیپلز پارٹی حقیقی جمہوری قوت، اہم انکشاف

لےاقت پور ( سپےشل رپورٹر)پاکستان پےپلزپارٹی کے شرےک چےئرمےن آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک مےں بڑی سےاسی تبدےلی رونما ہوچکی ہے پی پی پی پی ہی قومی اور حقےقی جمہوری طاقت ہے جو ملک کو بحرانی کےفےت سے نکالنے کی صلاحےت رکھتی ہے سابق وفاقی وزےر صاحبزادہ سےد حامد سعےد کاظمی کی ٹےلی فون پر عےادت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی آنکھوں کی بےماری سے صحت ےاب ہو کر حلقہ اےن اے 192مےں باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز کرےں سابق وفاقی وزےر نے سےنئر صحافی سےد رضا گےلانی سے ٹےلی فونگ گفتگو کرتے ہوئے بتاےا کہ آصف علی زرداری نے ان کی خےرےت درےافت کرنے کے علاوہ ملکی اور حلقہ اےن اے 192کی سےاسی صورتحال پر بھی گفتگو کی سےد حامد سعےد کاظمی نے عےادت کرنے پر سابق صدر آصف علی زرداری ،سابق وزےر اعظم سےد ےوسف رضا گےلانی اور دےگر رہنماﺅں و احباب کا شکرےہ ادا کےا ۔
آصف زرداری

نااہلی کا سلسلہ جاری رہا توبڑا حادثہ ہو سکتا ہے ,سابق وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ماضی میں بھی حکومتیں گرائی گئیں لیکن عوام نے ان طریقوں کو مسترد کردیا جب کہ وزیراعظم کو نکالنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ملک کسی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے۔ نوازشریف نے کہاہے کہ مجھے خوشی ہے کہ مجھے کرپشن کے الزامات میں نااہل نہیں کیا گیا ہے۔پنجاب ہاوس میں جاری پارٹی کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی اور فخر ہے کہ کرپشن کے الزامات پر نااہل نہیں کیا گیاہے۔انہو ںنے کہا کہ وہ کمپنی میرے بیٹے کی تھی اور اس میں مجھے اعزازی عہدہ دیا گیا تھا اور اس کے تحت میری تنخواہ 10ہزار درہم رکھی گئی تھی جو تقریبا ڈیڑھ یا پونے دو لاکھ روپے بنتی ہے ،وہ تنخواہ میں نے کبھی وصول ہی نہیں کی ،ان کا کہناتھا کہ تنخواہ وصول کیوں نہیں کی ؟ وصول کرو تب مصیبت نہ کرو تب مصیبت ہے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہےکہ میری ڈسکوالیفیکیشن کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی، قوم کو پتا چل رہاہے کہ ڈس کوالیفیکیشن کیوں ہوئی؟ آپ کو فخر ہوناچاہیے آپ کے پارٹی سربراہ کا دامن صاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہتےہیں تنخواہ کیوں نہیں لی؟ اثاثہ ہے، اس لیے ڈکلیئر کرنا چاہیے تھا، جب تنخواہ وصول ہی نہیں کی تو ڈکلیئر کیوں کرنا تھا؟۔ نوز شریف نے پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا میں 20,25سال پہلے نظریاتی شخص نہیں تھا مگر مجھے حالات نے نظریاتی بنا دیا۔ قوم کو پتہ چل رہا ہے کہ میری نااہلی کیوں ہوئی ؟ میرا جرم پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، درست راستوں کا تعین کیا جائے تو قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے،نظریاتی انسان ہوں، نظریات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا، حالات اور وقت نے مجھے نظریاتی بنایا، مجھے 5ارب ڈالر کی پیشکش کی گئی تھی، میں نے کلنٹن کی آفر کو ٹھکرا کر پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، اگر پیسہ چاہیے ہوتا تو 5ارب ڈالر کی آفر قبول کر لیتا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ نو وارد سیاستدانوں نے الزامات اور تہمتوں کی حد کردی، یہ نو وارد سیاستدان اب خود الزامات میں گھرے ہوئے ہیں، کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ میں مستعفی ہوجاو¿ں لیکن میں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کا بستر ہے، میرا ضمیر صاف ہے، اگر ضمیر ملامت کرتا کوئی خورد برد یا خیانت کی تو خود استعفیٰ دے دیتا۔انہوں نے کہا کہ قوم نے ہمیشہ مجھ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، میں ذہنی طور پر کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہوں، نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، نظریے کے حصول کے لیے پوری زندگی کی قربانی دینے کو تیار ہوں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں کٹھن سے کٹھن وقت دیکھا ہے، میرے خلاف ہائی جیکنگ کا کیس بنا کر مجھے ہائی جیکر بنادیا گیا، لوگوں نے کہا کہ آپ کو اس کیس میں سزائے موت سنائی جائے گی لیکن اللہ نے اس وقت بھی سرخرو کیا، میں آج سے 20، 25 سال پہلے نظریاتی نہیں تھا لیکن حالات نے نظریاتی بنادیا اور اب بھی آخری وقت تک مورچے پر کھڑا رہوں گا۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انسان جب ملک سے باہر ہوتا ہے تو سوچتا ہے کہ میں نے ملک کی خدمت کی ہے، اگر پیسا ہی مطمع نظر ہوتا تو مجھے 5 ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی تھی، میں نےاس ملک کے ایٹمی پروگرام کے بٹن پر ہاتھ رکھا، ایسے وزیر اعظم کے ساتھ یہ کر رہے ہیں جس نے پاکستان کو اقتصادی ترقی دی، جب بھی موقع ملا ہمیشہ خلوص دل اور عزم سے اس ملک کی خدمت کی ہے اور اگر اس وجہ سے مجھے کوئی سزا ملی تو اس کا دکھ نہیں بلکہ فخر ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما زاہد حامد نے کہا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قیادت نے نواز شریف کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

پاک فضائیہ نے قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی ، سپر مشاق طیاروں کی فروخت سے کثیر رقم ملنا شروع

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان اور آزربائیجان کے درمیان دس سپر مشّاق طیاروں کی فروخت کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ نے سنگِ میل عبور کرلیا۔ معاہدے کے تحت پاکستان آزربائیجان کو 10 سپر مشّاق طیارے فروخت کرے گا۔
اسلام آباد میں معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوئی جس میں ائر مارشل ارشد ملک اور چیئرمین پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ نے بھی شرکت کی۔ترجمان پاک فضائیہ نے کہا کہ معاہدے کے تحت پاک فضائیہ آزربائیجان کے پائلٹس اور تکنیکی عملے کی تربیت بھی کریگی، ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں تیار سپر مشّاق طیارے جدید آلات سے لیس ہیں جب کہ اس سے قبل ترکی، نائیجریا اور قطر کے ساتھ بھی سپر مشاق کی فروخت کے معاہدے کئے جاچکے ہیں۔

تحریک انصاف کو یو م تشکر سے پہلے بڑا جھٹکا ، دو صوبائی وزیر ساتھ چھوڑ گئے

پشاور (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو بڑا سیاسی جھٹکا، قومی وطن پارٹی کے2صوبائی وزراءاور2معاونین خصوصی مستعفی ہو گئے ، مستعفی ہونیوالوں میں سینئروزیرسکندرشیرپاﺅاورانیسہ زیب طاہرخیلی شامل جبکہ معاون خصوصی کریم خان اورارشد خان نے بھی استعفادےدیا،قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاﺅ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاتحریک انصاف نے پانامامعاملے پر ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی لیکن پھر قومی وطن پارٹی اپوزیشن کے ساتھ کھڑی رہی جبکہ معاہدے کے تحت پی ٹی آئی کو قومی معاملات پرمشاورت کرنی چاہئے تھی،آفتاب شیرپاﺅکا کہنا تھا ہمارا موقف تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کاانتظارکیاجائے، کے پی حکومت سے یکطرفہ الگ کرناتحریری معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا آج سے پی ٹی آئی سے اتحاد ختم ہو گیا ،اتحاد ٹوٹتے رہتے ہیں کوئی بات نہیں عمران خان خود کو تنہا کر رہے ہیں، پی ٹی آئی سے معاہدے میں صوبے کے مسائل کا ذکر تھا، اس پر عمل نہیں ہوا،آفتاب شیرپاﺅ کا کہنا تھا کسی صورت جمہوریت کوڈی ریل ہونے نہیں دیں گے۔