راحیل شریف کے اچانک پاکستان آنے کی اصل وجہ سامنے آ گئی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق آرمی چیف اور اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ جنرل (ر)راحیل شریف کے اچانک سعودی عرب سے پاکستان آنے کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق راحیل شریف گزشتہ روز سعودی حکومت کے خصوصی طیارے پر لاہور پہنچے تھے اور ان کے ساتھ ایک سعودی شہری بھی تھا ۔راحیل شریف پاکستان ذاتی نوعیت کے دورے پر آئے ہیں ،سابق آرمی چیف کے خاندانی ذرائع کا کہناہے کہ وہ فیملی کی ایک نجی تقریب میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر پاکستان آئے ہیں ۔گزشتہ روز سعودی عرب کا خصوصی طیارہ رات گئے واپس روانہ ہو گیا تھا تاہم جہاز کے عملے کو کچھ گھنٹوں کے لیے لاہور کے نجی ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا ۔واضح رہے کہ اس سے قبل میڈیا میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ راحیل شریف اسلامی عسکری اتحاد کی سربراہی سے دستبردار ہو رہے ہیں تاہم اس حوالے سے کسی قسم کی تردید یا تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔اپریل کے شروع میں وفاقی حکومت کی جانب سے راحیل شریف کو سعودی عرب کی سربراہی میں بنائے جانے والے اسلامی عسکری اتحاد کی قیادت کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی گئی تھی۔اس کا ہیڈ کواٹر سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہے ،عسکری اتحاد میں سعودی عرب ،پاکستان ،ترکی ،متحدہ عرب امارات ،بحرین، بنگلہ دیش، سوڈان، ملائشیا، مصراور یمن سمیت دیگر مسلم ممالک شامل ہیں ۔

جے آئی ٹی کی ایک اور بیٹھک، قطری شہزادے کے چوتھے جواب کا جائزہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جے آئی ٹی کے پاس حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرانے کیلئے صرف دو دن باقی ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی سے تیرہ سوالات پوچھے گئے تھے جن کے جواب تلاش کرنے کیلئے جے آئی ٹی گزشتہ دو ماہ سے تفتیش میں مصروف تھی۔

ایران کی پاکستانی علا قے پر گولہ باری ،کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘عوام میں خو ف و ہراس

پنجگور(آن لائن)ایران نے ایک بار پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کر تے ہوئے مارٹر گولے داغ دیے،تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی بارڈر فورس نے پنجگور کی تحصیل پروم میںرات گئے تین مارٹر گولے داغے ہیں تاہم اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ۔ایران کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے پاکستانی حدود کے 8کلو میٹر اندر آکر گرے جس سے لوگوں میں شدید خوف پھیل گیا تاہم مارٹر گولوں سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔

بچوں کی طرح رو نہیں رہے بلکہ شیروں کی طرح دھاڑ رہے ہیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہم بچوں کی طرح رو نہیں رہے بلکہ شیروں کی طرح دھاڑ رہے ہیں ،انتخابات میں شکست کھانے والے عدالتی کندھا استعمال کرکے اور چور دروازوں سے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں ، چوردروازوں سے اقتدار میں آنے کا وقت گزر چکاہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم چار وں وزیر مسلم لیگ(ن) کے شیر ہیں ہم بچوں کی طرح رو نہیں رہے بلکہ شیروں کی طرح دھاڑ رہے ہیں۔

بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر گولہ باری ، 5شہید ، 9 زخمی

مظفرآباد/جموں/اسلام آباد(اے این این، آن لائن)بے لگام بھارتی فوج کی کنٹرو ل لائن پرپھراشتعال انگیزی ، نکیال، عباس پور اور حاجرہ سیکٹروں میں شہری آبادی کونشانہ بنایا،تین خواتین سمیت 5 افراد جاں بحق اور9زخمی، ایک گھرمکمل طورپرتباہ، پاک فو ج کی موثرجوابی کارروائی،دشمن کی چوکیوں کونشانہ بنایا،اسلام آبا د میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنرجے پی سنگھ کی دفترخارجہ طلبی،جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پرشدیداحتجاج ریکارڈ کرایاگیا،ادھربھارتی فوج کا روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان پرجنگ بندی کی خلاف ورزی کاالزام،چھٹی پر موجود اپنے ایک اہلکاراوراس کی بیوی کے ہلاک جبکہ ان کی تین بیٹیوں کے زخمی ہونے کادعویٰ ۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کوبرہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پربھارتی فوج نے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف مقامات پر شہری آبادی کونشانہ بنایا ۔ ضلع پونچھ کے ڈپٹی کمشنر راجا طاہر ممتاز کے مطابق عباس پور اور حاجرہ سیکٹرز میں بھارتی فو ج کی فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ صبح 6 بجے سے شروع ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیٹری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کے نزدیک موجود گاو¿ں بھیرا کے 75 سالہ رہائشی محمد شریف شیلنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کا گھر بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ بزرگ شخص کے علاوہ ٹیٹری نوٹ میں 70 سالہ سسی بیگم بھی فائرنگ کی زد میں آنے کے بعد جانبر نہ ہوسکیں، بزرگ خاتون بٹال سیکٹر سے اپنے رشتے داروں سے ملاقات کے لیے ٹیٹری نوٹ آئی تھیں۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق اسی علاقے میں 35 سالہ ریاست اور 18 سالہ اقصی افتخار بھی بھارتی فورسز کی اشتعال انگیزی سے زخمی ہوئے۔ دریں اثنا عباس پور سیکٹر میں مارٹر شیل کی زد میں آ کر 26 سالہ فائزہ سلیم جاں بحق جبکہ 22 سالہ ادیبہ اور 17 سالہ ماہ نور زخمی ہوگئیں، تینوں خواتین کا تعلق ایک ہی گھرانے سے تھا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ایک اور 35سالہ خاتون عباس پور سیکٹر کے چافر گاو¿ں میں جاں بحق ہوئیں۔ عباس پور سیکٹر کے بتول اور چاترا گاو¿ں میں 16 سالہ رضوان حنیف اور 14 سالہ فیضان علی جبکہ چافر گاو¿ں میں 22 سالہ عبدیہ پروین بھی بھارتی فورسز کی اشتعال انگیزی کی زد میں آکر زخمی ہوگئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ابتدائی رپورٹس کے برخلاف متاثرین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ علاوہ ازیں نکیال سیکٹر میں بھی صبح سویرے ہونے والی فائرنگ سے 22 سالہ انیبہ جمشید شدید زخمی ہوئیں۔ نکیال پولیس اسٹیشن کے حکام نے بتایا کہ بھارتی فو ج کی فائر کی گئی ایک گولی انیبہ کے سر میں آلگی جس سے وہ شدید زخمی ہوئیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال کوٹلی منتقل کیا گیا تاہم دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انیبہ جمشید بھی چل بسیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بھی بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پاکستانی فوجی اہلکاروں کی جانب سے موثر جوابی کارروائی کی گئی۔ دوسری جانب بھارتی فوج نے روایتی ہٹ دھرمی کامظاہر ہ کرتے ہوئے پاکستان پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اورکہا کہ پاکستانی فوج نے ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن کے ساتھ خادی ،کارمرا اور گپلور کے علاقوں میں اس کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنایا ۔ بھارتی دفاعی ترجمان کے مطابق ہفتہ کی صبح ساڑھے چھ بجے کی گئی فائرنگ ہلکے اور خود کار ہتھیاروں کاااستعمال کیاگیا اور مارٹر گولے داغے گئے جس کے نتیجے میں کارمراکے علاقے میں چھٹی پرموجودبھارتی فوج کااہلکار اور اس کی بیوی ہلاک اوران کی تین بیٹیاں زخمی ہوگئیں۔ دریں اثناء پاکستان نے ایل او سی پر بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دیئے جانے والے احتجاجی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ بھارت ان خلاف ورزیوں سے باز رہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بھارتی فوج کے درمیان کشمیر میں ایل او سی پر حالات کافی عرصے سے کشیدہ ہیں۔ گذشتہ ماہ 28 جون کو ضلع کوٹلی کے جنوبی علاقے نکیال سیکٹر پر بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ 22 جون کو نکیال سیکٹر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ایک خاتون اور کم سن لڑکی زخمی ہوئی تھی جبکہ 15 جون کو ضلع بھمبر میں 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔ 12 جون کو کوٹلی کے علاقے تتہ پانی میں بھارتی فوج کی شیلنگ کے نتیجے میں دو نوجوان جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔ حکام کے مطابق رواں برس جنوری سے اب تک بھارت لائن آف کنٹرول پر 400 سے زائد مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے، جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد 382 تھی۔ پاکستان نے کنٹرول لائن(ایل او سی) پربلا اشتعال فائرنگ اور فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارت سے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے جوعالمی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ، اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو کنٹرول لائن پرمانٹرنگ کی اجازت دے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل برائے جنوبی ایشیاءاور سارک ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن (ایل او سی ) کی خلاف ورزی کرکے نہتے پاکستانیوں کو شہید کرنے پر بھارت کے قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا اور پاکستان کی جانب سے نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا ہے۔ پاکستان نے بھارت پر واضح کردیا ہے وہ ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی پابندی کرے اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی روش ناقابل برداشت ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی قوانین ،انسانی تقدس اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے منافی ہے ۔دفتر خارجہ نے بھارت پر زوردیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان 2003ءکے فائربندی معاہدے کی پاسداری کرے اور کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کے حالیہ واقعہ سمیت دیگر واقعات کی تحقیقات کرے جبکہ ساتھ ہی فائر بندی معاہدے کا احترام بھی کیا جائے۔انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کوکنٹرول لائن پر مانٹیرنگ کی اجازت دے ۔واضح رہے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے موقع پر بھارت نے ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی بربریت کے نتیجے میں دو شہری شہید اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

قطری شہزادے سے تفتیش کے بغیر فیصلہ نہیں

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) حکومتی مشاورتی اجلاس میں جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد میاں نواز شریف کے متبادل وزیراعظم نہ لانے کا فیصلہ کیا گیا، حکومتی اراکین نے متبادل قیادت لانے کے فیصلے کو محض مفروضہ قرار دے دیا، ضرورت پڑنے پر قانونی اور آئینی طریقے کار اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ ہفتہ کے روز وزیراعظم ہا س میں وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا سیاسی صورتحال پر اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں سیاسی صورتحال کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا گیا، اجلاس میں وفاقی وزرائ، مشیر اور قانونی ماہرین نے شرکت کی، وزیراعظم کو آئینی اور قانونی ماہرین نے اب تک جے آئی ٹی میں پانامہ کیس کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا، اجلاس میں موجود شرکاءنے جے آئی ٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کے ابھی تک قطری شہزادے محمد بن جاسم کا بیان لینے کے حوالے سے کوئی کوشش نہیں کی اور نہ کسی نے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے قطر جانے کی رضامندی ظاہر کی، اس اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہر محاذ پر اپوزیشن کا مقابلہ کیا اور اپوزیشن کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے خود کو جے آئی ٹی کے سامنے اس لئے پیش کیا کہ ملک میں قانون کی سربلندی ہو سکے، مجھے میری بیٹی سمیت پورے خاندان کو بلایا لیکن یہ تک نہیں بتایا کہ شریف خاندان پر الزام کیا ہے، انہوں نے کہا جب تک ملک میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے ملک کی سلامتی ترقی، توانائی کے بحران پر قابو پانے کے معاملات ہوں اپنے ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا رہیں گے، مخالفین ملک کی ترقی کے ایجنڈے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، ملکی ترقی کے ایجنڈے پر کوئی بھی کمزوری نہیں دیکھائی جائے گی، اجلاس میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے حوالے سے بھی بات کی گی، ضرورت پڑھنے پر تمام قانونی اور آئینی طریقہ کار کا استعمال کیا جائے گا، جے آئی ٹی پر تحفظات ہونے کے باوجود جے آئی ٹی کے تمام پراسس کو قبول کیا، اجلاس میں موجود تمام قیادت نے وزیراعطم پر اعتماد کا اظہار کیا نواز شریف ہی وزیراعظم رہیں گے، نواز شریف کے متبادل کے حوالے سے تمام باتیں مفروضہ ہیں۔ حکومت نے قطری شہزادے کو شامل تفتیش نہ کرنے پر جے آئی ٹی کی رپورٹ قبول نہ کرنے کا اعلان اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگ ایڈٹ کیے بغیر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک گواہی لینے کی کئی مثالیں موجود ہیں اگر سابق قطر ی وزیر اعظم کو پاناما کیس کی تفتیش کا حصہ نہ بنایا گیا تو ہمیں جے آئی ٹی کی رپورٹ قبول نہیں ہوگی،جے آئی ٹی کی تمام کارروائی منظر عام پر لائی جائے اور تمام آڈیو ویڈیو ریکارڈنگز عوام کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ عوام کو بھی پتہ چلے شریف فیملی سے کیا سوالات ہوئے،گارڈ فادر اور سسلین مافیا آزاد عدلیہ کیلئے جنگ نہیں لڑتے ،جے آئی ٹی کے حوالے سے بہت سے سوالات ہیں، ہمیں انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا،عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ چور دروازے سے اقتدار میں آنے کے دروازے بند ہوچکے ہیں اور ہم سیاسی ڈرامے کے ذریعے ملک کی ترقی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے،عمران خان خود کو مسٹر کلین سمجھتے ہیں، وہ ہم سے 40 سال کی تلاشی مانگ رہے ہیں مگر خود 4 سال کی تلاشی بھی نہیں دے رہے، وہ کرپشن کے مگرمچھوں کو پالنے والے لیڈر ہیں،مخالفین فاضل عدالت کے ججز کے ریمارکس کو ہمارے خلاف توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور اس سے (ن) کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،وزیر اعظم جے آئی ٹی میں پیشی سے استثنی لے سکتے تھے مگر نہیں لیا اور خود کو احتساب کے لیے پیش کیا جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز بھی تحفظات کے باوجود جے آئی ٹی میں پیش ہوئیں،مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات میں سے زیادہ ووٹ لیے، ہمارا اثاثہ ووٹرز ہیں لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاناما اسکینڈل کے ذریعے انہیں ہم سے چھینا جارہا ہے،دھرنا ون اور ٹو کا مقصد حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کو روکنا تھا، دھرنوں کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو روک کر انتخابات کا ماحول بنانا تھا لیکن ہر سازش کو پاکستان کے عوام نے ناکام بنایا،فوج کا کام نہیں کہ سیاست میں مداخلت کرے ،جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کی شمولیت پر تحفظات تھے ۔ہفتہ کو یہاں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم 25سال سے میاں نوازشریف کے ساتھی بھی ہیں اور سیاسی کارکن بھی ہیں ، جے آئی ٹی کا معاملہ آپ سب کے سامنے ہے ،جب سے معاملہ سامنے آیا تو ہمارے رفقاءنے مشورہ دیا کہ وزیراعظم کو استثنیٰ حاصل ہے مگر انہوں نے اپنے استثنیٰ کے حق کو استعمال نہیں کیا بلکہ اس پراسس کے آگے سرخم کیا بغیر کسی سوال کے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے جے آئی ٹی سے مکمل تعاون کیا اور تمام ثبوت بھی جمع کروائے گئے ، ہمارے معاشرے میں یہ رویات نہیں ہے کہ خواتین تفتیش میں شامل ہوں مگر اس کے باوجود وزیراعظم نے اپنی بیٹی کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش کیا ۔ وزیرپیٹرولیم نے کہا کہ ایسے تعاون کی مثال شاید دنیا کی تاریخ میں نہیں ملے گی لیکن جب سے جے آئی ٹی کا معاملہ شروع ہوا بہت سے سوالات پیدا ہوئے جو کہ عوام کی عدالت میں پیش کرنے ضروری ہیں ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس عمل کے ذریعے شک پیدا ہوا وہ عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے ،محمد نوازشریف دو دفعہ وزیراعلیٰ اور تیسری دفعہ وزیراعظم بنے ، 1999میں ایک آمر نے منتخب حکومت کو گرایا اور نوازشریف کا کڑا احتساب کیا ، تمام ریکارڈ ان کے پاس تھے اس کے باوجود بھی آج تک کوئی کرپشن کیس ثابت نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ میڈیاپر بہت سے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں ، عدالت کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ کسی بھی وزیر کو کسی بھی وقت حکم دے دے کہ اپنے اثاثوں کی تفصیلات اور ذرائع پیش کریں ۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جے آئی ٹی تشکیل ، اس کے کام کے طریقہ کار اور بعض اراکین کی سلیکشن روز اول سے متنازع رہی ہے ، یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل کی جا سکتی تھی مگروزیراعظم نے جے آئی ٹی پر سوالات اٹھانے سے منع کر رکھا تھا ، ہمیں بھاری دل سے یہ باتیں کرنا پڑ رہی ہیں ،ہم پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور سب سے زیادہ ووٹ لیکر آئے ہیں ۔خواجہ سعدرفیق نے کہا کہ ہمارا اثاثہ ہماری کریڈیبلٹی ہے اور ہمارا اثاثہ چھپنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، بعض ججز کے ریمارکس کو ہمارے مخالفین ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں مگر عدالت سے انہیں روکا نہیں گیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک دو بار عدالت کی طرف سے عمران خان کی باتوں پر ریمارکس دیے گئے ہم نے وزیراعظم کو جھوٹا نہیں کہا ہم ان کے شکر گزار ہیں مگر اس کے باوجود ججز کے ریمارکس کو ہم پر تلوار کے طور پر استعمال کیا کیا ۔ وزیرریلوے نے کہا کہ جے آئی ٹی عجیب وغریب ملغوبہ بن گیا ہے ، قومی سلامتی کے ذمہ دار دو حساس اداروں کو اس میں شامل کیا گیا ، عدالتی حکم کے تحت اس وقت بھی وزیراوعظم کو قانونی مشیروں نے مشورہ دیا کہ بڑی پیچیدہ صورتحال ہے ملک اندرونی وبیرونی دشمنوں کا مقابلہ کر رہا ہے ، جب سول انجینئر موجود ہیں تو انہیں پر تکیہ کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا مگر وزیراعظم نے یہ اعتراض بھی دائر نہیں کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر ہمارے تحفظات نہیں ہیں ۔ وزیرریلوے نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کا ایک بیک گراﺅنڈ موجود ہے ، سول وعسکری قیادت نے بہت تدبیر سے معاملات میں اعتدال پیدا کیا ہے جس کے لئے بہت کوششیں کی گئی ہیں مگر اس طرح کی صورتحال خدانخواستہ پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے اس کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے تھا ۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے محترم ممبر جناب عامر عزیز صاحب غاصب مشرف کے دور میں انتقال کےلئے بنائی جانے والی نیب میں شریف خاندان کے پیچھے لگائے تھے ، یہ ریکارڈ کی بات ہے ، ہمارا اندازہ تھا کہکم سے کم شفاف بندوں کو جے آئی ٹی میں لگایا جائے گا ، عامر عزیز کا نام سامنے آنے پر تحفظات پیدا ہوئے کہ آخر انہیں کا نام کیوں شامل کیا گیا ۔ سعدرفیق نے کہا کہ ایک اور معزز جے آئی ٹی ممبر بلال رسول صاحب وہ جناب میاں محمد اظہر کے قریبی عزیز ہیں اور ان کی اہلیہ محترمہ پہلے مسلم لیگ(ق) میں تھیں اور اب پی ٹی آئی میں ہیں ، اپنے ان تحفظات پر درخواست دی مگر ہمیں تسلی بخش جواب نہیں ملا ، تصویر لیک کے معالے پر جے آئی ٹی مان تو گئی کہ ہم سے لیک ہوئی یہ تصویر مگر جس شخص نے لیک کی اس کا نام اور ادارہ قومی سلامتی کے نام پر چھپا لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ طارق شفیع اور سعید صاحب کے ساتھ جے آئی ٹی کے ایک رکن نے غیر مہذب سلوک کیا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے ، جے آئی ٹی تحریری طور پر فون ٹیپنگ کا تحریری طور پر اعتراف کر چکی ہے ، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ جے آئی ٹی نے کس قانون کے تحت فون ٹیپنگ کی ہے ۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ہمارا کوئی محاذ آرائی کا ذہن نہیں ہے ، ہم ملک کوآگے لے کر جانا چاہتے ہیں جس طرح اداروں کا احترام مقدم ہے اسی طرح منتخب پارلیمنٹ کا مقدم بھی کیا جانا چاہیے ، ہمارے اوپر جو ریمارکس دیے گئے اس کے خلاف ہم صرف محا ذ آرائی سے بچنے کےلئے عدالت نہیں گئے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر ہمارے تحفظات نہیں ہیں ،ہمیں بتایا گیا کہ ایف آئی اے جے آئی ٹی کو لیڈ کرے گی مگر اب خبر آئی ہے کہ ہمارے حساس اداروں کے پاس کا کنٹرول ہے ، مگر اس کی کوئی وضاحت بھی نہیں دی گئی اگر یہ عدالت آرڈر ہے تو ہمیں بھی بتایا جانا چاہیے ۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا کہ 2013میں مسلم لیگ (ن) کو بھرپور مینڈیٹ دیا گیا تھا ، اس وقت پاکستان میں اندھیرے چھپا رہے تھے اور معاشی گھٹنوں پر تھی ، ہم نے ملک کو تاریکیوں سے نکالنے کےلئے آغاز ہی کیا کہ ایک سیاسی جماعت نے ہمارے خلاف سازش کا آغاز کردیا جس وجہ سے پاکستانی معیشت کا شدید نقصان کیا گیا ، سی پیک تاخیر کا شکار ہوگیا ، 2015میں دھرنا ٹو کر کے۷ ملکی معیشت کو دھچکا لگایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین کو لگتا ہے کہ 2018مارچ میں سینیٹ الیکشن ہے تو مسلم لیگ (ن) کو تب اکثریت نہ مل جائے اس لئے وہ اس سے پہلے نئے الیکشن کی فضاءبنانا چاہتے ہیں ۔ احسن اقبال نے کہا کہ جو کام سڑک اور ووٹ کے ذریعے نہیں ہوسکا تو وہ کام سازشوں سے اور سپریم کورٹ کا سہارا لیکر اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتے ہیں ۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا کہ ہم سٹاک ایکس چینج کو 13ہزار پوائنٹ سے 50ہزار پوائنٹ پے لیکر آئے مگر گزشتہ ایک مہینے سے جب وے وزیراعظم اور اس کے خاندان کی طلبی کی گئی تو بے یقینی کی فضاءپیدا ہوئی جس سے سٹاک مارکیٹ گرگئی اور تقریباً12ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔ اس خسارے کا کون ذمہ دار ہے ، آج جب دنیا میں ترقی کا مقابلہ ہورہا ہے مگر پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے معاشی بحران پیدا کرنا ناقابل معافی جرم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سے ہر سطح پر انتخاب میں شکست کھا کر کچھ سازشوں کے ذریعے اقتدار پر قبضہ آنا چاہتا ہے ، ایک آمر مشرف 9سال تک ملک میں عوام کو ووٹ کی طاقت دینے سے گریزاں رہا مگر ناکام رہا تو آپ کون ہیں عوام سے ووٹ کی طاقت چھیننے والے ، اب ملک میں تبدیلی صرف عوام کے ووٹ سے ہی آئے گی ۔ احسن اقبال نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے ریکارڈ مدت مٰں ملک میں ایل این جی لیکر آئے ، خواجہ آصف صاحب بجلی پوری کرنے میں دن رات کوشاں ہیں اور سعد رفیق ریلوے دیکھ رہے ہیں ، میں سی پیک کے ذریعے پاکستان میں تعمیر وترقی میں کوشاں ہوں ، ہمارے خلاف کوئی ایک روپے کی کرپشن کا ثبوت تو لیکر آﺅ ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت میں ترقی نہیں تنزلی آئی ہے ، ہم سے 40سال پرانی تلاشی مانگی جا رہی ہے مگر کود چار سالہ تلاشی نہیں دی، کرپشن ہوتی تو گروتھ ریٹ 5.3پر نہیں جاتی ، سٹاک مارکیٹ اتنی ترقی پر نہیں جاتی ۔احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان خود کرپشن کے مگر مچھوں کو پناہ دینے والے لیڈر بن گئے ہیں ، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان کی درجہ بندی 9پوائنٹ بہتر کی ہے ، گاڈ فادر اور مافیا کا لقب دینے والوں سے پوچھتا ہوں کہ مافیا کے دور میں اس طرح عدالتیں نہیں لگتی اور نہ ہی حکمرانوں کے بچے عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں ۔ہم نے عدالتوں کے سامنے سرجھکایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوسروں کو بادشاہ کہنے والا خود الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوتا۔ وفاقی وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اگر قطر کے سابق وزیراعظم کو تفتیش کا حصہ نہ بنایا گیا تو ہم اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کریں گے بلکہ ان کے بیان کے بنا رپورٹ پیش کی گئی تو ہم سمجھیں گے یہ پہلے فکس ہے اس کے پیچھے جو عوامل ہیں وہ انصاف پر مبنی نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تمام رپورٹ قوم کو دکھائی جائے اور جے آئی ٹی کی تمام کاروائی کی آڈیو ،ویڈیو جاری کی جائے ، قوم کو بتایا جائے نوازشریف خاندان نے کیا جوابات دیے ، ہم قانون کا احترام اور آئین کی حفاظت کرتے ہیں ۔ وزیردفاع نے کہا کہ عمران خان نے خیرات کے پیسوں سے بیرون ملک سرمایہ کاری کی ، طلاق شدہ بیوی شوہر کو پیسے بھیجتی ہے بتایا جائے یہ معجزے کیسے ہوتے ہیں ، خان صاحب زکٰوة کے پیسوں کی تلاشی دے دو ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف عدلیہ کی بحالی کےلئے گھر سے نکلے تھے وہ گوجرانوالہ پہنچے تو عدلیہ بحال ہوگئی ، گاڈ فادر اور سسلین مافیا آزاد عدلیہ کے لئے جنگ نہیں لڑتے ، پاکستان کی ترقی میں رکاوٹیں ڈالی گئیں ، خدا کے فضل سے ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں ، مخالفین کی کوشش ہے ایٹمی طاقت کو معاشی قوت نہ بنانے دیا جائے ۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہم اپنے قانونی ماہرین اور مشیران کی رائے پر چلیں گے ، سب سے بڑی عدالت عوام کی ہے ، فوج کا پاکستان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ، فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے ، فوج نے جو آٹھ سال آئین کی پاسداری کی ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔خواجہ آصف نے کہا کہ بینظیر قتل کیس میں مارک سہگل سے بیرون ملک سے تفتیش کی گئی ،اگر قطری شہزادے کا بیان نہ لیا گیا تو ناانصافی ہوگی ، ہم قانون کا احترام اور آئین کی حفاظت کرنے والے لوگ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ارسلان افتخار کیس میں سابق چیف جسٹس کو استثنیٰ دیا گیا ، اسحاق خان ،شہید بینظیر بھٹواور مشرف نے بھی ہم پر الزامات لگائے تھے مگر پھر بھی عوام نے نوازشریف کو دو بار وزیراعلیٰ اور تین مرتبہ وزیراعظم بنایا ،اب1993یا1999والی کوئی صورتحال نہیں ہے ، پلوں کے نیچے بہت پانی بہہ چکا ہے ، ہم اپنا حق استعمال کرنا جانتے ہیں ، پہلے بھی نوازشریف سرخرو ہوئے آج بھی سرخرو ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی مشرف کے گھر جا سکتی ہے تو قطری کے گھر کیوں نہیں جاسکتی۔

ن لیگ کا کھیل ختم ،نواز شریف کی جمہوریت دشمنی سامنے آ گئی، اہم شخصیات کے انکشافات

لاہور، اسلام آباد، کراچی (نمائندگان، ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو سمجھنا ہوگا کہ کرپشن ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اورجمہوریت کے حوالے سے حکمرانوں کا منطقی ہیر پھیر جمہوریت کی نفی ہے۔عمران خان نے ٹوئٹر پر کہا کہ عوام کومحتسب قرار دے کرنوازشریف نے جمہوریت مخالف ذہنیت کا اظہارکیا، عوام نمائندے منتخب کرتے ہیں اورامید کرتے ہیں کہ وہ قانون کی پاسداری کریں ، عوام نہیں چاہتے منتخب نمائندے بے فکری سے قانون کی دھجیاں اڑائیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی اور مغرب کی جمہوری روایات میں قانون کی ذمہ داریاں برابر ہیں جہاں جواب دہی ضروری ہے۔عمران خان نے کہا کہ ترقی مضبوط اداروں، قانون کی تابعداری، شفاف حکومت سے ممکن ہے جب کہ جمہوریت میں قانون کی حکمرانی اورعوامی نمائندوں کی جواب طلبی اہم ہے اورجمہوریت کے حوالے سے حکمرانوں کا منطقی ہیرپھیرجمہوریت کی نفی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کوجمہوریت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جب کہ کرپشن ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ نواز شریف کا کیس ختم اور گیم اوور ہو چکا ہے۔ وفاقی وزراءکی نیوز کانفرنس کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسی ہے۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے مزید کہا ہے کہ نواز شریف کے فیصلوں کا انہی کو نقصان ہوگا۔ وزراءکی نیوز کانفرنس کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسی ہے۔ ان کا کیس ختم اور گیم اوور ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قطری شہزادے کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی جبکہ لیگی وزرا نے پریس کانفرنس میں بتا دیاکہ ان کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا حکومتی وزرا کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومتی وزرا نے پریس کانفرنس میں اپنے پول کھول دیے ہیں اور اب یہ لوگ بھاگنا چاہ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ حکومت اور ان کے وزرا سیاسی شہید بننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما انکشافات کیا عمران خان نے کرائے؟ ڈیوڈ کیمرون کیا عمران خان کے کہنے پر پارلیمنٹ میں صفائی دینے گئے تھے؟ سنیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وفاقی وزراءکی پریس کانفرنس پر بہت افسوس ہوا۔ سوچ رہا تھا کہ برہان وانی کی شہادت پر پریس کانفرنس کرینگے جبکہ اس کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراءنے اپنا رونا رویا اور سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ آڈیو، ویڈیو سامنے آنے پر پتہ چل جائے گا کہ کس نے کیا جواب دیا۔ قطری شہزادے کو ایک فنانسر بنا کر سامنے لایا گیا۔ مرحوم شریف کبھی قطر نہیں گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزراءکو نوشتہ دیوار نظر آ گیا اب دھمکیاں دے رہے ہیں۔ 5 ججز میں سے کسی ایک نے بھی ان کے مو¿قف کو تسلیم نہیں کیا، اگر ججز نے ان کے مو¿قف کو تسلیم کیا ہوتا تو جے آئی ٹی نہیں بنتی۔ فواد چودھری نے کہا ہے کہ لگتا ہے آج گیم بالکل ہی الٹ گئی، آج اداروں کو نشانہ بنایا گیا، قطری ان کا گواہ ہے اور اپنے گواہ کو پیش نہیں کر رہے، شہادت انہوں نے دینی ہے، یا تو قطری شہزادہ مکر گیا یا پھر جے آئی ٹی کے پاس ثبوت جمع ہو گئے ہیں، انہوں نے قطری کو کہا آنے سے انکار کر دو تاکہ انہیں بہانہ مل جائے۔ فواد چودھری کا یہ بھی کہنا تھا کہ 60 دن پیش ہوئے، 63 ویں دن کہہ دیا منظور نہیں، کسی کے منظور ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑے گا، احتساب کا عمل رکے گا نہیں، آگے بڑھے گا۔ رہمناءپی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ آئندہ مزید اس طرح کے ڈاکو لٹیرے پریس کانفرنس کرتے نظر آئیں گے، کوئی شخص اہم نہیں آئین، ادارے اور ملک اہم ہے، نواز شریف ڈوب رہے ہیں وزراءکو بھی ساتھ لیکر ڈوبنا چاہتے ہیں، ایک خاندان کی خاطر ملک کو داو¿ پر نہ لگایا جائے۔

سیٹھی پی سی بی کی ایگزیکٹوکمیٹی کے رکن نامزد

اسلام آباد (نیوز ا یجنسیا ں)آئی سی سی چیمپئین شپ پاکستان کے نام کر نے پر نجم سیٹھی کو انعام مل گیا ،پی سی بی کی ایگزیکٹو کمیٹی میں بطور ممبر نامز د کر دیا جبکہ دوسری جانب نجی ٹی وی نے دعویٰ کیاہے کہ چیئرمین پی سی بی بننے کے بھی امکانات روشن ہیں ۔تفصیل کے مطابق وزیرا عظم محمد نواز شریف نے پی سی بی کی ایگزیکٹوکمیٹی کے 2ارکان کو نامزد کر تے ہوئے نجم سیٹھی اور عارف اعجاز کو تین سال کے لئے انکی خدمات حاصل کی گئی ہیں جس کا اعلان وزیر اعظم ہاﺅس کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کر کیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق نجم سیٹھی کو آئی سی سی چیمپین شپ کو پاکستان کے نام کروانے میں بہترین کر دار ادا کرنے پر انہیں انعام کے طور پر ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر کے طورنامزد کیا گیا ہے جبکہ انہیں چیئرمین پی سی بی بنائے جانے کے روش امکانات ہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف پہلے بھی نجم سیٹھی کو پی سی بی کا چیئرمین بنا چکے ہیں تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جس پر انہیں ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر کے طور پر پی سی بی کا عہدہ تفویض کیا گیا تھا جس کی معدت مکمل ہونے پر انہیں اگلے تین سال تک دوبارہ نامزد کیا گیا ہے۔

زمبابوے نے پھرلنکاکے اوسان خطاکردئیے

ہمبنٹوٹا(نیوزایجنسیاں ) زمبابوے نے سری لنکا کو چوتھے ون ڈے میچ میں ڈک ورتھ لوئس میتھڈکے تحت 4وکٹوں سے شکست دیدی ہے جس کے بعد پانچ میچوں کی سیریز 2-2سے برابر ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سری لنکا نے چھ وکٹو ںکے نقصان پر پچاس اوورز میں 300رنز بنائے اور 301رنز کا ہدف دیا تاہم بارش کے باعث ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت میچ کو 31اوورز تک محدود کرتے ہوئے ٹارگٹ 219رنز کر دیا گیا جسے زمبابوے نے 6وکٹوں کے نقصان پر 29.2اوورز میں 6وکٹوں کے نقصان پر عبور کر لیا۔جس میں کریگ اروائن 69رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے ،سولومن میر نے 43،موسا کنڈا نے 30اور ہمیلٹن نے 28رنز کی اننگ کھیلی۔اس سے قبل سری لنکا نے مقرررہ 50اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 300رنز بنائے جس میں نیرو شان نے 116رنز کی انتہائی شاندار اننگ کھیلی جبکہ دنشکا نے 87رنز بنائے اور دوسرے نمبر پر رہے۔ان کے علاوہ میتھیوز نے 42اور اوپل تھرنگا نے 22رنز بنائے۔

باہمی سیریز کھیلنے سے نکار ، پاکستان کا بھارت کیخلاف ”ڈسپیوٹ کمیٹی “میںجانیکا فیصلہ

لاہور (نیوزایجنسیاں) بھارت کے پاکستان کے ساتھ سیریز نہ کھیلنے کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی ڈسپیوٹ کمیٹی میں جانے کا فیصلہ کر لیا ۔ ذرائع کے مطابق دونوں بورڈز کے درمیان دبئی اور انگلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہو سکی۔ چنانچہ پی سی بی کی قانونی ٹیم نے آئی سی سی ڈسپیوٹ کمیٹی میں معاملہ اٹھانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے میں غیرملکی لا فرم سے بھی خدمات حاصل کریگا۔ پاکستان کیساتھ سیریز نہ کھیلنے پر پی سی بی نے بھارت کو ہرجانے کا نوٹس بھی بھجوایا تھا۔دوسری جانب اس سے قبل چیئرمین پی سی بی شہریار خان اگلے ماہ اپنے عہدے کی مدت پوری کر رہے ہیں اس لئے انہوں نے اپنی رخصتی سے قبل ششانک منوہر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تھی جو انہوں نے قبول کرلی۔چیئرمین آئی سی سی کے دورہ سے ورلڈ الیون کی پاکستان آمد کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوگی۔ ادھرآئی سی سی پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے کوشاں ہے۔واضح رہے کہ رواں سال ستمبر میں پاکستان آنے والی ورلڈ الیون لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلے گی جو انٹرنیشنل سٹیٹس کے حامل ہوں گے۔ آئی سی سی نے ان میچوں کے پاکستان میں کامیابی سے انعقاد کیلئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ دورے کیلئے تمام تر تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور جلد ہی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔