نواز شریف نے وزیراعظم ہاﺅس چھوڑ دیا ، پنجاب ہاﺅس منتقل

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) میاں محمد نوازشریف نے وزیراعظم ہاﺅس چھوڑ دیا۔ نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق میاں محمد نوازشریف نے نااہل ہونے کے بعد وزیراعظم ہاﺅس چھوڑ دیا اور وہ پنجاب ہاﺅس منتقل ہو گئے نوازشریف کے ہمراہ ان کے اہل خانہ بھی پنجاب ہاﺅس منتقل ہو گئے ہیں

پیپلز پارٹی نے وزارت عظمیٰ کیلئے امیدوار لانے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج پاکستان اور جمہوریت کیلئے بہت بڑا دن ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ کرپشن کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو گا۔ کیس کا فائدہ کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ پورے ملک کو جاتا ہے۔ ساری جماعتوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سب سے پہلے پاناما کا معاملہ اٹھایا تھا۔ عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کرپشن کے خاتمے کی امید کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی جماعت اداروں کی حمایت جاری رکھے گی۔ نااہلی کے فیصلے بعد نواز شریف سے رابطے کے امکان کو انہوں نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی وزارت عظمیٰ کیلئے اپنا امیدوار سامنے لائے گی۔

ن لیگ اور پی ٹی آئی کارکن آمنے سامنے, سکیورٹی اہلکاروں کا فوری ایکشن

اسلام آباد(رپورٹنگ ٹیم) پانامہ کیس کے فیصلے کے موقع پر مسلم لیگ (ن) اورپی ٹی آئی کے کارکن سپریم کورٹ کے احاطے میں گتھم گتھا ہوگئے،کارکنوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی ،سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری اقدامات کرتے ہوئے کشیدہ حالات کو کنٹرول کیا۔ جمعہ کو مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی کے کارکن پانامہ کیس فیصلے کے موقع پر ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگ گئے۔ دونوں جماعتوں کے کارکن سپریم کورٹ کے احاطے میں جمع ہوگئے۔اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا کہ کارکن کسی تصادم میں نہ پڑجائیں۔ اس موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں نے ایکشن لیتے ہوئے کارکنوں کو کسی تصادم سے اوکااور حالات کو کنڑول میں لیا۔ سپریم کورٹ کے اردگرد سخت رکاروٹوں کے باوجود دونوں جماعتوں کے اہلکار اپنی جماعت سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے سپریم کورٹ بڑی تعداد میں پہنچ گئے۔

نواز شریف کو سسر نے بحال کیا تھا داماد نے نااہل کردیا، ایسی خبر جان کر آپ بھی حیران ہونگے

لندن (بی بی سی اردو ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک کا منظر 24 سال پہلے 1993 کے منظر سے بالکل ہی مختلف تھا۔ 24 برس پہلے جب اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی بحالی کے لیے عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ بینچ بیٹھا تھا اس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے وزیراعظم اور ا±ن کی کابینہ کو بحال کیا تھا۔ وزیراعظم کی حکومت کو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزام میں آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت ختم کردیا تھا۔ 15 جون 1993 اور 28 جولائی 2017 میں فرق یہ ہے کہ اس وقت وہ مدعی تھے اور اب وہ مدعا علیہ۔ نواز شریف اور ان کی حکومت کی بحالی کے وقت بھی شاید اتنے لوگ کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے جتنے آج ا±ن کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ سننے کے لیے موجود تھے۔ لوگ دو گھنٹے قبل ہی کورٹ روم نمبر ایک میں پہنچ گئے تھے اور وہاں پر لوگوں کا اتنا زیادہ رش تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار جو کہ وزیر اعظم کے نااہلی کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کا حصہ نہیں ہیں، ان کو یہ کہنا پڑا کہ سکیورٹی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ لوگ اتنے زیارہ تھے کہ سپریم کورٹ کے سکیورٹی انچارج کو ججز کے سامنے لگے ہوئے مائیک کو استعمال کرنا پڑا اور وہاں پر موجود لوگوں کو یہ کہنا پڑا کہ خاموشی اختیار کی جائے ورنہ زبردستی خاموش کروانا پڑے گا۔ کمرہ عدالت میں موجود لوگوں کی نظریں ججز کے اس دروازے پر لگی ہوئی تھیں جن کے کھلنے کے بعد وزیراعظم سمیت بہت سے لوگوں پر سیاست کے دروازے بند ہونے جارہے تھے۔ کمرہ عدالت میں موجود لوگ دیواروں پر لگی ہوئی پاکستان کے سابق چیف جسٹس صاحبان کی تصاویر کو دیکھ رہے تھے اور ان میں سے بعض ججز پر تبصرہ کررہے تھے جنہوں نے نظریہ ضرورت کے تحت اس وقت کے فوجی آمروں کا ساتھ دیا تھا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ جو چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے داماد ہیں، کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ وزیر اعظم اور ا±ن کے بچوں کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنانے کے لیے آیا تو لوگوں سے کچھا کھچ بھرے ہوئے کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے یہاں پر کوئی ہے ہی نہیں۔ سسر (نسیم حسن شاہ) نے تو نواز شریف کی حکومت کو بحال کیا لیکن اب ان کے داماد (جسٹس آصف سعید کھوسہ) نے وزیر اعظم کو نااہل کردیا۔ فیصلہ سننے کے بعد اطلاعات ونشریات کی سابق وزیر مملکت مریم اوررنگ زیب اور دیگر مسلم لیگی خواتین سپریم کورٹ کی عمارت میں ایک کونے میں افسردہ کھڑی تھیں۔

نواز شریف تا حیات نااہل ، کابینہ تجلیل، اسحاق ڈار اور کیپٹن (ر)صفدر فارغ

اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم) سپریم کورٹ نے پاناما کیس سے متعلق دائر درخواستوں پر نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کے مطابق نواز شریف کی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ تفصیل کے مطابق پانچ ججزکا متفقہ فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل ہے جسے جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا ہے جس کا پہلا 18صفحات پر مشتمل حصہ جسٹس اعجاز افضل خان نے پڑھ کرسنایا جب کہ8 صفحات پرمشتمل عدالت عظمی کا حتمی حکم نامہ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کھلی عدالت میں پڑھ کرسنایا۔سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں قومی احتساب بیورو(نیب) کو حکم دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے جاری ہونے کے بعد 6 ہفتوں کے اندر جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد، ایف آئی اے اور نیب کے پاس پہلے سے موجود مواد کی روشنی میں ریفرنس تیار کرے اور راولپنڈی اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس پیش کرے۔ نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مواد سے بھی استفادہ حاصل کر سکتی ہے جو کہ جے آئی ٹی کی طرف سے میوچل لیگل اسسٹنٹس کے ذریعے بیرونی ممالک سے مانگا گیا ہے عدالت نے نیب کو 5 مختلف ریفرنسز دائر کرنے کی ہدایت کی ہے جن میں پہلا ریفرنس میاں محمد نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز یعنی برطانیہ میں لندن کے پارک لین میں موجود فلیٹس 16، 16۔A، 17، 17۔A کے حوالے سے ہو گا۔اپنے فیصلے میں نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہلے سے جمع شدہ ریکارڈ کا جائزہ لے کر ریفرنس تیار اور احتساب عدالت میں دائر کرے۔ نواز شریف، حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف دوسرا ریفرنس عزیزیہ اسٹیل ملز اور ہل میٹل قائم کرنے کے حوالے سے ہوگا۔ تیسرا ریفرنس نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈ، ہارسٹون پرائیویٹ پراپرٹی، کو ہولڈنگ لمیٹڈ، کوائنٹ ایٹن پلیس ٹو، کوائنٹ سیلون لمیٹڈ، کوائنٹ لمیٹڈ، فلیگ شپ سکیورٹیز لمیٹڈ، کوائنٹ گلوسٹر پلیس لمیٹڈ، کوائنٹ پے ڈنگٹن لمیٹڈ، فلیگ شپ ڈویلپمنٹ لمیٹڈ، الانہ سروسز لمیٹڈ، لینکن ایس اے (بی وی آئی)، کیڈرن، اینسبیکر، کومبر اور کیپیٹل زیڈ ای کے حوالے سے دائر کیا جائے۔ چوتھا ریفرنس اسحاق ڈار کے خلاف اثاثوں میں آمدن سے زائد اضافے کی بنیاد پر دائر کیا جائے گا۔فیصلے کے مطابق اسحاق ڈار کے اثاثے 1993ءمیں 90 لاکھ 11 ہزار روپے تھے جو 2000 میں 83 کروڑ 17 لاکھ تک پہنچ گئے۔ عدالت نے نیب کو ہدایت کی ہے کہ پانچواں ریفرنس شیخ سعید، موسیٰ غنی، کاشف مسعود قاضی، جاوید کیانی اور سعید احمد کے خلاف دائر کیا جائے جنہوں نے بالواسطہ یا بلاواسطہ نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور اسحاق ڈار کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں معاونت فراہم کی۔ عدالت نے نیب کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر کوئی ایسا دوسرا اثاثہ سامنے آ جائے جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آ سکا تو مزید ضمنی ریفرنسز بھی دائر کرے گی۔ عدالت نے احتساب عدالت کو ہدایت کی ہے کہ یہ تمام ریفرنسز دائر ہونے کے بعد 6 ماہ کے اندر نمٹائے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر احتساب عدالت کے سامنے یہ بات آئے کہ مدعا علیہان یا کسی اور شخص کی طرف سے جمع کرایا گیا، کوئی ڈیڈ، دستاویز یا بیان حلفی جعلی یا جھوٹااور جعل سازی سے تیار کیا گیا ثابت ہو تو متعلقہ شخص کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے گا۔ چونکہ نواز شریف کیپیٹل ایف زیڈ ای جبل علی کے حوالے سے ملنے والی مراعات عام انتخابات 2013ءمیں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں جو کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976ء(روپا) کی خلاف ورزی ہے اور نواز شریف نے اس ضمن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا جس کی وجہ سے وہ روپا کے سیکشن 99(f) اور آئین کے آرٹیکل 6 b1f) کے تحت صادق اور امین نہیں رہے اس لئے وہ بطور رکن مجلس شوریٰ نااہل ہو چکے ہیں۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ فوری طور پر میاں نوازشریف کی نااہلی کا نوٹی فکیشن جاری کرے جس کے بعد وہ وزیراعظم نہیں رہیں گے۔ عدالت نے صدر پاکستان سے کہا ہے کہ وہ آئین پاکستان کے تحت تمام ضروری اقدامات اٹھائیں تاکہ ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے ایک جج کو نیب اور احتساب عدالت کی کارروائی مانیٹرنگ اور نگرانی کے لئے نامزد کریں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی کے ممبران کے انتھک کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے قلیل عرصے میں عدالتی حکم پر مفصل اور جامع رپورٹ تیار کر کے جمع کروائی۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ جے آئی ٹی میں شامل تمام افسران کی ملازمت کو تحفظ دیا جاتا ہے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرف سے تحقیقات کی نگرانی کے لئے نامزد فاضل جج کی اجازت کے بغیر ان کے خلاف بشمول ٹرانسفر اور پوسٹنگ کسی قسم کا ایکشن نہیں لیا جا سکتا۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے فیصلے کے مطابق نواز شریف کی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ دوسری جانب ترجمان مسلم لیگ (ن) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی عملدرآمد بینچ کے روبرو جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی عدالت نے 5 سماعتوں کے دوران رپورٹ پرفریقین کے اعتراضات سنے اور 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے نواز شریف اور ان کے بچوں سمیت کیپٹن (ر) صفدر اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتساب عدالت چھ ماہ میں ریفرنس کا فیصلہ کرے‘ نواز شریف نے انتخابی گوشواروں میں ایف زیڈ ای کمپنی کو ظاہر نہیں کیا نواز شریف نے جان بوجھ کر جھوٹا حلف لیا وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے‘ الیکشن کمیشن نواز شریف کو فوری نااہل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرے‘ صدر مملکت جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے اقدامات کریں۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کا فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سنایا‘ عدالت نے کہا کہ تاخیر پر معذرت چاہتے ہیں۔ تمام مواد احتساب عدالت بھجوایا جائے۔ عدالت نے چھ ہفتے میں نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے ‘ حسن ‘ حسین ‘ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیا جائے۔ عدالت نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ وزیراعظم فوری اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ صدر مملکت جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے اقدامات کریں۔ احتساب عدالت چھ ماہ میں ریفرنس کا فیصلہ کرے۔ عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے کہا کہ نواز شریف نے انتخابی گوشواروں میں ایف زیڈ ای کمپنی کو ظاہر نہیں کیا نواز شریف نے جان بوجھ کر جھوٹا حلف لیا وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ پاناما کیس سنانے والے پانچ رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ نوازشریف کے معاملات میں چیئرمین نیب قمر زمان چودھری کی غیر جانبداری میں سمجھوتے کا عنصر پایا گیا ہے لہذٰا انہیں ان امور میں اپنے کسی اختیار، اثر ورسوخ اور عمل کو استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ معزز چیف جسٹس آف پاکستان سے مذکورہ معاملے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا عملدرآمد بینچ تشکیل دینے کی درخواست کرتے ہیں اور مکمل انصاف کرنے کیلئے حکم دیا جاتا ہے کہ نوازشریف کے معاملات میں چیئرمین نیب کے اختیارات ، اتھارٹی اور عوامل عملدرآمد بینچ دیکھے گا جبکہ قمر زمان چودھری کی مدت ملازمت تک نیب کے متعلقہ حکام ان معاملات پر ضروری احکامات عملدرآمد بینچ سے لیں گے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عملدرآمد بینچ نوازشریف کے معاملات میں نیب کی کارکردگی کی نگرانی کریگا اورجب ضروری سمجھا گیا ان معاملات میں تفتیش کے عمل کی بھی نگرانی کی جائے گی ۔سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے کام کو سراہتے ہوئے جے آئی ٹی ارکان کی جاب سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔ سپریم کورٹ کے نگران جج کو مطلع کیے بغیر تبادلے اور تعیناتی کی جاسکے گی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی کارروائی۔سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کے فیصلے میں جے آئی ٹی کے کام کو سراہا ہے۔ فیصلے میں مقدمے کی تحقیقات میں معاونت کرنے اور حکم کے مطابق رپورٹ مرتب کرنے پر جے آئی ٹی ممبران کے کام کی تعریف کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی ارکان کی بقیہ مدت ملازمت کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، اور سپریم کورٹ کے نگران جج کو مطلع کیے بغیر تبادلے اور تعیناتی سمیت ان افسران کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جائے گی۔واجد ضیا کی سربراہی میں بلال رسول، عامر عزیز، بریگیڈیئر کامران خورشید، نعیم منگی اور بریگیڈیئر نعمان سعید پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 60 روز تک مسلسل کام کیا اور مقررہ وقت میں رپورٹ پیش کی۔ جے آئی ٹی نے کیس کی تحقیقات کے بعد 10 جلدوں پر مشتمل سفارشارت پیش کیں، جسے عدالت نے سراہا ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کے سبکدوش ہونے کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے فیصلے کے بعد وزیراعظم نوازشریف اپنے منصب سے سبکدوش ہو گئے جس کے بعد کابینہ بھی تحلیل ہو گئی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نواز شریف کی قومی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاالیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 لاہورIII سے رکنیت کو ختم کردیا گیا ہے جس کا نفاذ فوری طور پر ہوگا۔نواز شریف کی رکنیت کے خاتمے کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کے قائم مقام چیئرمین عبدالغفار سومرواور کمیشن کے تین ارکان کی منظوری کے بعد جاری کردیا گیا۔خیال رہے کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضاخان کیمبرج کانفرنس میں شرکت کے لیے برطانیہ میں موجود ہیں۔ اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم) وزیراعظم کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) کا اہم ہنگامی مشاورتی اجلاس ختم ہو گیا۔ جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 45 دنوں کیلئے نگران وزیراعظم لایا جائے گا۔ جبکہ میاں محمد نوازشریف کے چھوٹے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کو قومی اسمبلی کا الیکشن لڑوا کر اسمبلی میں لایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 45 دنوں کیلئے نگران وزیر لایا جائے گا جس کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم مستقبل میں میاں شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائے گا۔ حتمی فیصلہ نوازشریف کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس میں کل سہ پہر 4 بجے منعقد ہو گا۔ نگران وزیراعظم کے نام کا اعلان مشاورتی اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ اتحادی پارٹیوں نے نوازشریف کے فیصلوں کی تائید کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ 45 دن کے لئے کسی اور کو وزیراعظم بنایا جائے گا تاہم عبوری مدت کے بعد شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق خرم دستگیر، شاہد خاقان عباسی کا نام زیرغور ہے جبکہ ایاز صادق بھی وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ نوازشریف کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ شہباز شریف کو قومی اسمبلی کا رکن بنا کر قائد ایوان منتخب کرایا جائے۔ لیکن مجھے یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ کس کو بنایا جائے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعدکیا جائے گا۔ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کا مشاورتی اجلاس نوازشریف کی زیر صدارت ہوا۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نوازشریف نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ٰ قیادت نے وزیراعظم ہاﺅس میں میٹنگ روم میں بیٹھ کر پانامہ کیس کا فیصلہ سنا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کے فیصلے سے قبل وزیراعظم ہاﺅس میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء چوہدری نثار علی خان‘ رانا تنویر‘ اسحاق ڈار‘ خواجہ سعد رفیق‘ شیخ آفتاب‘ خرم دستگیر خان‘ ماروی میمن‘ سپیکر ایاز صادق‘ سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ‘ گورنر سندھ اور پنجاب سمیت دیگر اہم لیگی رہنماﺅں نے شرکت کی۔ وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ٰ قیادت نے وزیراعظم ہاﺅس میں میٹنگ روم میں بیٹھ کر پانامہ کیس کا فیصلہ سنا۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف‘ امیر مقام‘ چیئرپرسن وزیراعظم یوتھ لون لائلہ خان ‘ سابق سینیٹر عباس آفریدی‘ سینیٹر چوہدری تنویر خان‘ مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ ‘ سابق معاون خصوصی طارق فاطمی‘ میئر راولپنڈی سردار نسیم‘ سابق سنیٹر پرویز رشید‘ سنیٹر آصف کرمانی‘ وزیراعظم کے معاون عرفان صدیقی بھی موجود تھے۔ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں صدر مملکت کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے، جس میں ارکان قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب کریں گے، وزیراعظم بننے کی دوڑ میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق،شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق، حمزہ شہباز اور احسن اقبال کے نام شامل ہیں۔ عبوری وزیراعظم کیلئے رانا تنویر کا نام بھی زیر غور آ گیا مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق رانا تنویر بھی عبوری وزیراعظم کیلئے ایک مضبوطامیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کی صورت میں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کا نام زیرغور ہے۔ حمزہ شہباز مجتبیٰ شجاع کے وزیراعلیٰ بننے کی صورت میں ان کی معاونت کریں گے۔

”نواز شریف نے مجھے جیل بھجوانے کی کوشش کی“, جمائما کا سنسنی خیز انکشاف

لندن (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نوازشریف کو نااہل قرار دیے جانے کی خبریں اس وقت انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں اور ایسے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان نےنوازشریف کو نااہل قرار دیئے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹر پر کئی پیغام جاری کیے اور انہو ں نے عمران خان کو مبارک باد بھی دی۔تفصیلات کے مطابق جمائمہ خان کا ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ’اچھا ہوا اس شخص سے چھٹکارا مل گیا جس نے مجھے سمگلنگ کے جھوٹے الزام اس وقت جیل میں ڈالنے کی کوشش کی جب میں حاملہ تھی اوراس وقت میں دوسرے بچے کی ماں بننے والی تھی ‘۔اس سے قبل انہو ں نے ٹویٹرپر نوازشریف کو نااہل قرار دیئے جانے والی خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’گو نواز گو‘۔اضح رہے کہ جمائمہ اس بارے میں بات کر رہی ہیں جب وہ عمران خان کی اہلیہ تھیں اور 1999میں نوازشریف کے دور حکومت میں ان پر مبینہ طور پر سمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جمائمہ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہو ں نے لندن میں پنی والدہ کو دسمبر 1998میں انتہائی نایاب قسم کی 397ٹائلز غیر قانونی طریقے سے بھیجنے کی کوشش کی جسے پاکستانی کسٹمز نے پکڑ لیا تھا۔

شریف خاندان ضمانت کرا لے، جلد باقی بڑے ڈاکو بھی پکڑے جائینگے

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پاناما کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی پر یوم تشکر منانے کیلئے اتوار کو پریڈ گراﺅنڈ اسلام آباد میں جلسے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج شروعات ہوئی، بڑے بڑے ڈاکو پکڑے جائیں گے، نوازشریف سے میری کوئی ذاتی لڑائی اور اختلاف نہیں ہے،نیا پاکستان نظر آ رہا ہے،قوم جاگ گئی ہے، اب اسے کوئی نہیں روک سکتا ،جلسے میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا، وقت آ گیا ہے کہ احتساب کا عمل آگے بڑھے ، بڑے بڑے ڈاکو اسمبلیوں میں ہیں، جے آئی ٹی نے60دنوں میںجوکام کیا جو مغرب بھی نہیںہوتا ،خوشی ہے کہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو سزا دی ہے،ہمارے ملک میں طبقاتی قانون ہے، ایک قانون کمزور کےلئے اور ایک طاقتور کےلئے ہے،آصف زرداری وزیراعظم ہاﺅس میں تھے تو کوئی کیس نہیں ہوتا تھا جیسے ہی ہٹتے تھے تو جیل جاتے تھے، افسوس ہے کہ حکومتی لوگ شوکت خانم ہسپتال پر لفظی حملے کر رہے ہیں، شوکت خانم میری کوئی شوگر مل تو نہیں قوم کا ہسپتال ہے، الزام کرپشن چھپانے کےلئے لگایا جائے، اس سے بڑا جرم کیا ہو گا، حکمران چیک اپ کےلئے بھی بیرون ملک جاتے ہیں، پانامہ فیصلے سے پاکستان بھی ممالک کی طرح آگے بڑھ سکے گا، عدلیہ نے ثابت کر دیا کہ طاقتور کا بھی احتساب ہو سکتا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ 2013کے الیکشن سے جدوجہد شروع ہوئی، دھرنے کے دوران ہم مشکلات کا شکار ہوئے، انصاف صرف کوشش کر سکتا ہے، کامیابی اللہ دیتا ہے، میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم ہمارے لیڈر تھے، وہ قانون کی بالادستی مانتے تھے، یہ ملک عدل و انصاف کےلئے بنا تھا، مجھے آج خوشی ہے کہ آج علامہ اقبال کے پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری اور نواز شریف کی لڑائی نہیں تھی ، میری ذاتی کوئی لڑائی نہیں ہے، ہمارے ملک میں طبقاتی قانون ہے، ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ ایک قانون کمزور کےلئے اور ایک طاقتور کےلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور جے آئی ٹی کے ممبر قوم کے ہیرو ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری وزیراعظم ہاﺅس میں تھے تو کوئی کیس نہیں ہوتا تھا جیسے ہی ہٹتے تھے تو جیل جاتے تھے، ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں، ہم مقروض ہیں، 10 ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا،10ارب ڈالر سالانہ منی لانڈرنگ ہو کر باہر جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کو چھوٹا چور نہیں بڑا چور تباہ کر رہا ہے، جن اداروں کے سربراہ ملے ہوئے تھے کرپشن کو تحفظ دینے کےلئے ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ کو اپنے بچوں کی فکر ہے؟ قومیں انصاف کے ادارے ختم ہونے سے تباہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی فیملی کو چالیس سال سے جانتا ہوں، نون لیگ کے وزراءکو پتا تھا کہ عدالت میں جھوٹ بولا جا رہا ہے لیکن پھر بھی لیگی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے، عدلیہ چاہے تو طاقتور کا احتساب بھی ہو سکتا ہے، آج شروعات ہوئی، بڑے بڑے ڈاکو پکڑے جائیں گے، اب وقت آ گیا ہے کہ احتساب کا عمل آگے بڑھے۔ طویل جدوجہد میں قربانیاں دینے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل بہت اچھا نظر آ رہا ہے، 21 سال سے نئے پاکستان کےلئے جدوجہد کر رہا تھا،پریڈ گراﺅنڈ میں اتوار کو یوم تشکر کا جلسہ منعقد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں وسائل کی حفاظت کرنی ہے، نیا پاکستان نظر آ رہا ہے،قوم جاگ گئی ہے، اب اسے کوئی نہیں روک سکتا، تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم اور اپنے ترجمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کوئی بھی شخص جو اکیس سال سے کسی بھی وقت میرے ساتھ تھا وہ پریڈ گراﺅنڈ آئے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ حکومتی لوگ شوکت خانم ہسپتال پر لفظی حملے کر رہے ہیں، شوکت خانم میں غریب لوگوں کا علاج ہوتا ہے، جنگ میں بھی ہسپتالوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، حکمران جماعت قوم کے پیسے سے بننے والے ہسپتال کو نشانہ بناتی رہی، شوکت خانم ہسپتال سے متعلق باتیں سچی تھیں تو ایکشن کیوں نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا اور جہانگیر ترین کا احتساب شروع ہو چکا ہے، ضروری تھا کہ میرا بھی احتساب کیا جائے، شوکت خانم میری کوئی شوگر مل تو نہیں قوم کا ہسپتال ہے، الزام کرپشن چھپانے کےلئے لگایا جائے، اس سے بڑا جرم کیا ہو گا، حکمران چیک اپ کےلئے بھی بیرون ملک جاتے ہیں، پاکستان میں سب سے زیادہ زکوٰة اکٹھی کرتا ہوں، حکمران قوم کے غدار ہیں، پانامہ فیصلے سے پاکستان بھی دوسرے ممالک کی طرح آگے بڑھ سکے گا، عدلیہ نے ثابت کر دیا کہ طاقتور کا بھی احتساب ہو سکتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ تھا کہ ملک میں کمزور آدمی کیلئے الگ الگ نظام ہے، میں نے آٹھ دن جیل میںگزارے اور وہاں صرف غریب لوگ تھے، بڑے بڑے ڈاکو پارلیمان میں ہیں، عمران خان کا کہنا تھا کہ آج اپنی قوم کو کہتاہوں کہ بمباری سے قوم تباہ نہیں ہوتی ، جرمنی اور جاپان سامنے ہیں جو دس سال میں کھڑے ہوگئے، قومیں تب تباہ ہوتی ہیں جب انصاف کے ادارے ختم ہوں ، آج جس کو ہم جن ممالک کو تیسری دنیا کہتے ہیں ، وہ اس لیے غریب نہیں کہ وسائل نہیں بلکہ وسائل چوری ہورہے ہیں اور ادارے ملوث ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں امیدملی کہ سپریم کورٹ کھڑی ہوگئی، جے آئی ٹی نے جو کام کیا وہ مغربی ممالک میں بھی نہیں ہوتا۔ اگر یہاں عزم کرلیا جائے تو باہرگیا پیسہ بھی واپس آسکتا ہے ، اب جھوٹ بولنے والوں اور پیسہ واپس لانے کی بھی باری آئے گی ، ہمیں اپنے وسائل کی حفاظت کرنی ہے۔ قوم کا پیسہ تعلیم اور صحت پر لگ سکتاہے ، یہ خوش آئند دن ہے ، باقی بھی چورڈاکو پکڑے جائیں گے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ اور ججز کے ریمارکس کو دیکھتے ہوئے اندازہ تھا کہ ایسا ہی فیصلہ آئے گا۔ فیصلے کے بعد پہلا خیال یہ آیا کہ نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے قانون کی جیت ہوتی ہے۔ سٹیٹس کو کا مقابلہ کرنے کیلئے عوام کی حمایت ضروری ہے آج عوام کی طاقت سے ہی ایک طاقتور مافیا کو شکنجے میں لایا ہوں۔ جے آئی ٹی ٹیم کی جرا¿ت کو سلام کرتا ہوں عدالت عظمیٰ پر فخر ہے سیاست ایک مقصد کیلئے ہوتی ہے جبکہ شریف برادران کا مقصد صرف اور صرف لوٹ مار تھی جس کیلئے انہوں نے اداروں کو یرغمال بنایا سیاست کے نام پر ایک مافیا کو اکٹھا کیا تاکہ کوئی شریف آدمی سایست میں آنے کا نہ سوچے۔ عمران خان نے کہا کہ شریف فیملی تو مغل اعظم بنی ہوئی تھی اگلی حکومتی باریوں بچے تیار کیے جا رہے تھے۔ سرکاری خزانے سے موجیں کرتے اور باہر ممالک میں اربوں کی جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ 21 سال کی طویل جدوجہد کا پھل آج کا دن ہے۔ ملک کے سب سے طاقتور مافیا کو عدالت کے ذریعے نااہل کرایا۔ آج پاکستان اور قوم کیلئے بہت بڑی خوشی کا دن ہے۔ نواز شریف خود اپنے والد اور بچوں کو کیس میں لائے، لوٹ مار کی منی لانڈرنگ کی اور پیسے بچوں کے نام پر رکھوا دیئے جن کو عدالت میں آ کر جھوٹ بولنا پڑے اور اب وہ بھی مقدمات بھگتیں گے اس کے ذمہ دار نواز شریف ہیں۔ شریف خاندان نے سیاست میں آ کر یہ ساری دولت اکٹھی کی ہے آصف زرداری کی بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ عوام کا سیاسی شعور بیدار ہوا ہے۔ اگلا الیکشن بھی جیتیں گے۔ وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کے کئی طریقے ہیں لیکن میں صرف عوام کی طاقت اور ووٹ سے حکومت حاصل کروں گا عوام ساتھ نہ دیتی تو کیس سپریم کورٹ میں نہ جاتا۔ جب شریف برادران کسی کو خریدنے میں یا ڈرانے میں ناکام رہیں تو انہیں سازش لگتی ہے اپنا ایسا نہ ہو تو سازش لگتی ہے۔ عدالت عظمیٰ پر حملہ کیا، آئی ایس آئی سے پیسے لیے، اسامہ بن لادن سے پیسے لیے، یہ سب کیا سازش نہیں ہیں۔ 2013ءکے الکیشن میں باہر کے دو تین ملکوں نے ان کی مدد کی اسٹیبلشمنٹ نے مدد کی اور دھاندلی سے الیکشن جیت گئے۔ عدالت کا فیصلہ تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر کے اب یہ کیا کرینگے عوام تو ان کے ساتھ باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے، جے آئی ٹی کے سامنے تکبر سے پیش ہوتے۔ ایک میڈیا ہاﺅس کا مالک جو ان کیلئے جھوٹی خبریں چلاتا ہے اس کے تکبر کو عوام نے خود دیکھ لیا۔ اقامہ لینے کا صرف ایک مقصد تھا کہ اس سے دبئی کی شمولیت ملتی اور دنیا میں کہیں بھی اکاﺅنٹ کھلوا سکتے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ آج ہمارا اجلاس ہے جس میں لائحہ عمل طے کرینگے۔ اتوار کو پارٹی ورکروں اور عوام کو بلا لیا ہے کل کے بڑے جلسے میں لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔ کرپشن کے خلاف جہاد اب رکنے والا نہیں ہے۔ حدیبیہ کیس منی لانڈرنگ کا سب سے بڑا سنڈیکیٹ تھا جس میں شہباز شریف ڈائریکٹر ہے کیس کھلے گا تو شہباز شریف قابو آ جائیں گے فیصلہ آنے سے قوم میں بے یقینی اس لیے تھی کہ آج تک عدالتوں نے شریف برادران کے خلاف فیصلہ نہیں دیا۔ شہباز شریف تو جسٹس قیوم کا خون کر کے بینظیر کو سزا دلانے کا کہتے ہیں۔ پاکستان اب الیکشن کی جانب جائے گا کیونکہ شریف فیملی کی جمہوریت صرف انہی تک محدود تھی اب اور کوئی پارٹی کو کنٹرول نہیں کر پائے گا۔ عمران خان نے کہا کہ شریف فیملی کی ضمانت کرا لینی چاہیے کیونکہ ان پر بڑے سنجیدہ الزامات ہیں پوری پاکستانی قوم کو سپریم کورٹ پر فخر ہے کیونکہ وہ ساری صورتحال میں فعال کردار ادا نہ کرتی تو جے آئی ٹی کا وہی حال ہوتا جو اس سے قبل ایسی تحقیقاتی ٹیموں کا ہوتا آیا ہے۔ ابھی تو والیم 10 بھی کھلنا ہے۔ ماڈل ٹاﺅن سانحہ کی رپورٹ سامنے آنی چاہیے۔ 14 معصوم افراد کو بلاوجہ قتل کیا گیا سینکڑوں گولیاں ماری گئیں۔ شہباز شریف رپورٹ کو دبا کر بیٹھے ہیں لیکن ہم اسے سامنے لائیں گے۔ ڈان لیکس کی رپورٹ سامنے لانا ضروری ہے۔ ایک میڈیا ہاﺅس شریف خاندان کی ساری کرپشن، منی لانڈرنگ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا رہا کیا اس کو صحافت کہتے ہیں، یہ صحافت نہیں بلکہ مافیا کا کردار ہے جمہوریت میں تو میڈیا اپوزیشن کا کردار ادا کرتا ہے مشکل حالات میں سچ کیلئے ڈٹ جانے والے میڈیا اور صحافیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

ن لیگ کی قیادت اور وفاق کی حکمرانی ، اتنا لوڈ صرف شہباز شریف اٹھا سکتے ہیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار نے کہا ہے کہ نوازشریف کو صرف اقامہ ہونے پر نہیں بلکہ وہاں سے لینے والے پیسوں کا کاغذات نامزدگی میں ذکر نہ کرنے کی بنیاد پر نااہل کہا گیا۔ ترجمان مصدق ملک نے وضاحت کی تھی کہ فارم میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے صرف اقامہ لکھا تھا۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے مجھے بتایا کہ اگر کسی چیز بارے فارم میں جگہ نہیں تو کورنگ پیپر لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس جنرل صیا نے بھٹو کو پھانسی لگایا اور نوازشریف کو اپنا سیاسی وارث قرار دیتے رہے، آج تاریخ خود کو دہرا رہی ہے اسی نوازشریف کے ساتھیوں کو اچانک خیال آ گیا کہ بھٹو کا جوڈیشل قتل ہوا تھا۔ اس وقت نوازشریف یا نون لیگ نے جنرل ضیا کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا۔ سیاستدانوں کا وطیرہ ہے کہ عوام کو اپنی جیب کی گھڑی سمجھتے ہیں۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سو فیصد عوام اس کے ساتھ ہیں اس کا فیصلہ 2018ءکے انتخابات میں یا کسی ریفرنڈم میں ہو سکتا ہے۔ عوام کا ایک حصہ نون لیگ کے ساتھ ہے لیکن گزشتہ روز اس کی پرفارمنس بہت کمزور تھی۔ نوازشریف جیسے بڑی پارٹی کے لیڈر کو نااہل قرار دیا جاتا ہے اور 20، 22 سے زیادہ لوگ باہر نہیں نکلتے۔ اس سے یہ مراد نہیں لیا جا سکتا کہ عوام اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ نوازشریف کی سیٹ پر شہباز شریف الیکشن لڑیں لیکن ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ وہ حمزہ شہباز کی سیٹ پر الیکشن لڑیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب اور شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے۔ چند نون لیگی ارکان کہتے ہیں کہ مریم نواز وزیراعظم ہوں لیکن حالات کے مطابق شہباز شریف، نوازشریف کا اچھا متبادل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند روز پہلے کہا جا رہا تھا کہ نوازشریف کو ایٹمی دھماکہ کرنے کی سزا ملی، آج کہا جاتا ہے کہ سی پیک کی سزا ملی یہ سب سیاسی بیان بازی ہوتی ہے۔ اس وقت ہی ایک غصہ یا ردعمل سامنے آ رہا ہے، چھوٹے موٹے مظاہرے بھی ہو رہے ہیں لیکن اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ اگر عدالتی فیصلوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے تو نتیجے میں ایک ایسا معاشرہ بنے گا جو عدالتوں سمیت کسی ادارے کو نہیں مانے گا۔ نون لیگ کو کسی قسم کے اشتعال میں آنے کے بجائے خود کو انتخابات کیلئے تیار کرنا چاہئے۔ الیکشن کے نتیجے میں ہی کسی کی طاقت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ سڑکوں پر مظاہرے کرنے سے نہیں۔ نون لیگ کو تجویز دیتا ہوں کہ فوری مایوس نہ ہوں ابھی 6 ماہ تک ریفرنس چلنے ہیں، آئینی و قانونی راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق نے طے کیا ہوا ہے کہ پارٹی کو مزید مشکلات میں ڈالیں گے۔ اگر شہبازشریف 6 ماہ کیلئے ان کی زبان بندی کر دیں تو ان کے اور پارٹی کے حق میں بہتر ہو گا۔ نون لیگ کا ایک رکن تو فرار بھی ہو گیا ہے۔ انہی لوگوں نے اپنے لیڈر کی پوزیشن کو مزید کمزور کیا۔ شہباز شریف کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اب پارٹی کا بوجھ ان پر ہے شاید وزیراعظم بھی بن جائیں۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں کہ حمزہ شہباز بھنگڑے ڈالیں، شہباز شریف کو کوئی پھولوں کی سیج نہیں ملی اگر وہ وزیراعظم بنتے ہیں تو انہیں دیکھنا ہو گا کہ سندھ کی سیاسی جماعتیں ان کے خلاف ہیں۔ نوازشریف بھی سندھ اور کے پی کے میں اکثریت پیدا نہیں کر سکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ کرپشن میں اندر ہونا چاہئے تھا، معاملہ ریفرنس میں چلا گیا۔ وہ نئے وزیراعظم سے تعلقات بنائیں گے اور اپنا مفادحاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا۔ اسمبلی 2 تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میں ترمیم کر کے 62 اور 63 دفعات کو نکال سکتی ہے لیکن اگر ایسا ہو بھی گیا تو اس کو ماضی کے فیصلوں پر موثر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو مشورہ دیا تھا کہ اب ان کے لئے دونوں دروازے کھلے ہیں۔ نون لیگ، پی ٹی آئی جس میں چاہے جا سکتے ہیں لیکن جس طرح وہ اپنی سیاسی زندگی کا افتتاح کر رہے ہیں، لگتا ہے کہ وہ آخری سانس تک عمران خان پر الزام لگاتے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی لوگ سیاسی خودکشی کرنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ چودھری نثار نے 2 ہفتوں میں بار بار سیاسی خودکشی کی کوشش کی۔ طویل پریس کانفرنس میں کہتے رہے کہ فیصلہ آنے پر وزارت و سینٹ دونوں سے استعفیٰ دے دوں گا۔ چند گھنٹوں بعد اپنا موقف تبدیل کرتے ہیں کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ قیاس اارائیاں ہو رہی ہیں کہ اگر شہبازشریف وزیراعظم بن گئے تو وہ وزارت خارجہ کے امیدوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی کامیابی یہ ہے کہ وہ نئے آدمی ہیں۔ جن کے دلوں میں بھٹو اور بے نظیر کا احترام ہے بلاول کا بھی ہے جبکہ آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں کا نہیں۔ اگر زرداری 5 سال کے لئے باہر چلے جائیں تو بلاول بھٹو پارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تجزیہ کار نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق سمیت نون لیگ کے لوگوں کو ااج بھٹو کی پھانسی جوڈیشل قتل نظر آ رہا ہے اس سے بے نظیر کی پیش گوئی سچ ثابت ہو گئی جو بلاول بھٹو نے بتائی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ”شاید آج نوازشریف سازشیں کر کے میرے خلاف کامیاب ہو جائے لیکن ایک دن بے نظیر اور بھٹو کو یاد کر کے روئے گا۔“ مسلم لیگ ن کے رہنما میاں مرغوب احمد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جانبدارانہ، عدلیہ کی تاریخ ارتکائی مراحل سے گزر رہی ہے۔ ماضی میں جس طرح بھٹو کو پھانسی دی گئی پھر انہی ججز نے اسے جوڈیشل قتل تسلیم کیا تھا یہ کہانی بھی خود کو دہرائے گی۔ عدلیہ کی بحالی کے لئے نون لیگ نے جدوجہد کی۔ قوم کو مضحکہ خیز بات لگ رہی ہے کہ بیٹے نے باپ کو اپنی کمپنی میں چیئرمین مقرر کر دیا۔ انہوں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، عدالت کہتی ہے کہ یہ آپ کا اثاثہ بن گیا آپ نے ڈکلیئر نہیں کیا اور نااہل کر دیا، قوم کو یہ بات ہضم نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کارگل پر کوئی کمیشن نہیں بنا، کبھی کسی ڈکٹیٹر یا جج کو سزا نہیں ہوتی۔ نوازشریف جب بھی وزیراعظم بنا ایک بار 58/2B کے تحت، پھر مشرف نے اور آج تیسری دفعہ عدالتوں کے ذریعے نکال دیا گیا۔ یہ توہین عوام کی توہین ہے۔ وہی اسے غلط ثابت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آصف زرداری کے ساتھ چین نے کوئی معاہدہ نہیں کیا، سی پیک کا کریڈٹ ان کو نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ فیصلہ قوم کے ساتھ مذاق ہوا ہے۔ قوم کو جس طرح ایک ڈکٹیٹر نے برسوں پیچھے دھکیل دیا تھا آج پھر ایک سازش ہے کہ ملک کو گہرائیوں میں دھکیل دیا جائے۔ عمران خان یہودی ایجنٹ اور ملکی ترقی کا دشمن ہے۔ سارے تماشے وزیراعظم بننے کیلئے کر رہا ہے۔ شیخ رشید سیاست میں ایک مداری ہے، قوم جانتی ہے وہ کس کا ایجنٹ ہے۔ ان اچکوں کے رویوں سے قائداعظم و علامہ اقبال کا پاکستان نہیں بن سکتا۔ ماہر قانون جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ بنچ نے ایف زیڈ ای کا معاملہ الگ کر کے اس بنیاد پر نوازشریف کو نااہل کیا ہے۔ ججز نے بہت احتیاط سے فیصلہ دیا ہے اگر دیگر معاملات پر نااہلی کی جاتی تو اس کا اثر ٹرائل پر ہونا تھا۔ یہ صرف پیسے کا معاملہ نہیں، اقامہ حاصل کرنے کے لئے ایک جھوٹ بولا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت 2 فیصلوں میں کہہ چکی ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف میں سزا تاحیات ہوتی ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رصا گیلانی کی سزا آرٹیکل 63 کی تھی جبکہ نوازشریف کو ملنے والی سزا دوسری چیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں، نظرثانی کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ عام طور پر ریویو کامیاب نہیں ہوتا۔ نپی ٹی آئی کی خاتون رہنما تنزیلا عمران نے کہا ہے کہ آج نیا پاکستان شروع ہو گیا ہے اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے بھی منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجا گیا تھا۔ نوازشریف کے خلاف فیصلہ سیاسی بنیادوںپر نہیں میرٹ پر تھا حکومت ان کی تھی۔ انہوں نے کہا پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا تھا۔ ان لوگوں نے ہمارے پارٹی پرچم لے کر خود حملہ کروایا تھا۔ ثابت کریں وہ پی ٹی آئی کے لوگ تھے، انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو پارٹی میں آنے سے منع نہیں کر سکتے جو بھی ہمارے پاس آئے گا حساب کلیئر کر کے آئے گا۔ ہماری پارٹی میں چیئرمین سمیت ہر فرد جوابدہ ہے۔ جاوید ہاشمی انتہائی بدقسمت انسان ہیں دونوں پارٹیوں نے انہیں بہت عزت دی شاید عمر کا اثر ہے کہ وہ اپنی کسی بات پر قائم نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو یوم تشکر منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این اے 120 میں نوازشریف کے خلاف پی ٹی آئی کی یاسمین راشد نے الیکشن لڑا تھا اب پارٹی جس کو ٹکٹ دے گی وہ کامیاب ہو گا۔ لاہور میں پی ٹی آئی کے جلسوں میں خواتین سے بدتمیزی ہوئی تو گڑ بڑ محسوس ہوئی۔ وقت نے ثابت کیا کہ پلانٹڈ لوگ تھے جن کو اس کام کے لئے بھیجا گیا تھا۔