جے آئی ٹی رپورٹ بارے اہم خبر ، ارکان نے سر جوڑ لیے

اسلام آباد (آئی این پی) پانامہ لیکس حتمی رپورٹ جمع کرانے میں دو دن رہ گئے‘ جے آئی ٹی ارکان نے سر جوڑ لئے‘ جے آئی ٹی حتمی رپورٹ مرتب کرنے میں مصروف ہیں‘ قطری شہزادے کا جواب آئے یا نہ آئے حتمی رپورٹ جمع کرادی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کو پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ میں حتمی رپورٹ جمع کرانے میں دو دن باقی رہ گئے۔جے آئی ٹی حتمی رپورٹ مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔ ارکان کو قطری شہزادے کو جواب کا انتظار ہے۔ اس بات پر جے آئی ٹی ارکان نے اتفاق کیا کہ قطری شہزاد کا جواب آئے یا نہ آئے حتمی رپورٹ جمع کرادی جائے گی۔ جے آئی ٹی نے اس سے پہلے قطری شہزادے حماد بن جاسم کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری خط بھیجا تھا۔

72 سے 80 گھنٹے کا کھیل باقی رہ گیا

راولپنڈی (بیورو رپورٹ) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ شریف برادران قطری شہزادے کو لے آئیں ورنہ پچھلے سال کی قربانی اس سال ہو جائے گی ۔ شیخ رشید نے ایک بیان میں کہا کہ پانامہ کیس کا معاملہ کیس سازش کے تحت نہیں نکلا بلکہ اس کی صورت میں شریف برادران اللہ کی پکڑ میں آ گئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے دو ججوں نے کہا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں جبکہ تین نے انہیں سیلین مافیا قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ چور نہیں بلکہ سچے ہیں تو ان کو اپنا مو¿قف ثابت کرنے کے لئے قطری شہزادے کو پاکستان لانا ہو گا ورنہ اس کے بھیجے گئے خط کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی ۔ پچھلے سال قصائی کے بھاگنے کے باعث جو قربانی نہ ہو سکی تھی وہ اس سال ہو جائے گی ۔ شیخ رشید نے کہا نواز شریف خود اپنے خلاف سازش کرتے ہیں سب کھیل ختم ہو گیا۔ عمران خان کو مبارکباد دیتا ہوں اٹامک دھماکے کرنے میں نواز شریف کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ 72 سے 80 گھنٹے کا کھیل باقی رہ گیا ہے خون کے آخری قطرے تک عمران کے ساتھ ہوں۔ شیخ رشید نے کہا کہ یہ سارا تین دن کا کھیل رہ گیا ہے۔ عمران خان نے ان کی تلاشی کرائی ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار کی انتخابی مہم کیلئے کراچی آیا ہوں۔ جب بھی نواز شریف کو اکثریت ملی۔ انہوں نے اپنے پاﺅں پر کلہاڑی ماری۔ نیا وزیراعظم کون ہو گا۔ یہ فیصلہ نواز شریف نے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا گیا تو صوبائی اسمبلیوں کو بھی تحلیل ہونا چاہیے۔ شیخ رشید نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ سے کوئی فیصلہ آتا ہے تو حکمرانوں کا کھیل اور کہانی ختم ہے۔ فیصلہ آنے کی صورت میں اداروں کی ذمہ داری ہے کہ نواز شریف سے 72 گھنٹوںمیں وزیر اعظم ہاﺅس خالی کرایا جائے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ وزیر اعظم ہاﺅس سازشوں کا ہیڈ کوارٹر بنا ہوا ہے۔ شریف خاندان نے اب تک کوئی منی ٹریل پیش نہیں کی۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ آج اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمان نواز شریف کے ساتھ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے سندھ میں نیب قوانین کو اپنے مفاد کیلئے ڈھالا گیا۔ عوامی مسلم لیگ عمران خان کے ساتھ مل کر ان کی سیاست کو نیست ونابود کر دے گی۔ آئندہ کی سیاسی صورتحال میں پیر پگاڑا اور ایم کیو ایم پاکستان کا کردار کلیدی ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے 2 تہائی اکثریت آنے کے بعد خود اپنے پیر پر کلہاڑی ماری ہے۔ جے آئی ٹی اور عمران خان کا فیصلہ آنے والا ہے دونوں میں عمران خان کی فتح ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف منروا کمپنی کی بینفشری اونر ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ 10 جولائی کو ہو جائے گا اور سب کچھ ثابت ہو جائے گا۔ آئندہ 6 سے 8 ہفتوں میں نئے وزیراعظم کا فیصلہ ہو گا۔ ایٹمی دھماکوں میں نواز شریف کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ایٹمی دھماکے گوہر ایوب، راجہ ظفر الحق اور میں نے کرائے تھے۔
شیخ رشید

مشرف کے گھر جاکر بیان لیا جاسکتا ہے قطری شہزادہ سے کیوں نہیں

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پرویز مشرف سے گھر جا کر بیان لیا جا سکتا ہے تو قطری شہزادے حمد بن جاسم سے کیوں نہیں لیا جا سکتا، اگرنیت ہو تو دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کر بیان لیا جا سکتا ہے اور اگر بددیانتی ہو گی تو ڈرائیں دھمکائیں گے لیکن قطر نہیں جائیں گے۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ حمد بن جاسم کے بیان کے بعد کیس ختم ہو جاتا ہے، جے آئی ٹی کو سب سے پہلے حمدبن جاسم کا بیان ریکارڈ کرانا چاہیے تھا، جے آئی ٹی نے حمد بن جاسم سے پہلے بیان کیوں نہیں ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف سے گھر جا کر بیان لیا جاسکتا ہے تو قطری شہزادے حمد بن جاسم سے کیوں نہیں لیا جا سکتا، اگر نیت ہو تو دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کر بیان لیا جا سکتا ہے اور اگر بددیانتی ہو گیتو ڈرائیں گے، دھمکائیں گے لیکن قطر نہیں جائیں گے۔

قطری شہزادے کی جے آئی ٹی ارکان کو اپنے محل آنے کی دعوت

دو حہ/ اسلام آباد (این این آئی) قطری شہزادے حمد بن جاسم نے پانا ما لیکس کی تحقیقات کےلئے قائم جے آئی ٹی ارکان کو اپنے محل میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انکے ساتھ سوال وجواب بھی ان کے محل میں ہونگے ۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو خط لکھا تھا کہ آپ پاکستانی دائرہ اختیار تسلیم کر چکے ہیں اور آپ دائر اختیار سے انکار نہیں کر سکتے جے آئی ٹی نے لکھا تھا کہ آپ سے خط کی تصدق نہیں تفتیش مطلوب ہے ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے خط کے جواب میں قطری شہزادے نے جے آئی ٹی ارکان کو اپنے محل میں آنے کی دعوت دیدی ہے جے آئی ٹی کو لکھے گئے خط میں قطری شہزادے نے کہاکہ حمد بن جاسم نے قطر آنے کےلئے جے آئی ٹی ارکان کے نام مانگ لئے ہیں خط میں جے آئی ٹی سے قطر آمد کی تاریخ بھی مانگی گئی ہے قطری شہزادے نے اپنے خط میں کہاکہ ان کے ساتھ سوال و جواب بھی ان کے محل میں ہونگے ۔ذرائع کے مطابق شریف خاندان کے قریبی ساتھی نے جواب میں قطری شہزادے کی معاونت کی۔شریف خاندان کے قریبی ساتھی گزشتہ 2دن سے دوحہ میں موجود تھے۔ قطری شہزادے کو جے آئی ٹی نے تیسرا خط لکھ دیا ، خطوط کی تصدیق نہیں تفتیش درکار ہے ، بیان ریکارڈ نہ کرایا تو سابقہ خطوط کی ساکھ پر اثر پڑ سکتا ہے ، یہ آخری موقع ہے۔ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی نے قطری شہزادے حمد بن جاسم کے تیسرے خط کے جواب میں انہیں تیسرا اور آخری خط لکھ دیا۔ذمہ دار ذرئع کے مطابق جے ا?ئی ٹی نے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرانے سے قبل انہیں آخری موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دونوں خطوط کے تناظر میں دستاویزی ثبوت اور شواہد کے ساتھ اپنا بیان ریکارڈ کروا دیں۔ خط میں قطری شہزادے کو واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان سے خطوط کی تصدیق نہیں تفتیش کرنی ہے۔ اس لئے بیان ریکارڈ کرانے کا یہ آخری موقع دیا جا رہا ہے۔ قطری شہزادے حمد بن جاسم نے پاکستانی سپریم کورٹ اورجے آئی ٹی کا دائرہ اختیارتسلیم کرنے سے انکارکردیا۔قطری شہزادے حمد بن جاسم نے اپنے ایک اورخط میں پاکستانی سپریم کورٹ اورجے آئی ٹی کا دائرہ اختیارتسلیم کرنے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں، پاکستانی قوانین کا مجھ پراطلاق نہیں ہوتا، بیان ریکارڈ کرانا ہے تو گھر آجائیں جب کہ قطری شہزادے نے سفارتخانے آنے سے پھرانکا رکردیا تھا۔اس سے قبل جے ا?ئی کی جانب سے قطری شہزادے کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ آپ نے جے آئی ٹی کو دوحا میں مل کرخطوط کی تصدیق کی پیشکش کی، آپ سے خطوط کی صرف تصدیق نہیں تحقیقات بھی کرنی ہے،

جی 20 اجلاس، ٹرمپ پیوٹن ملاقات، تعلقات بہتر بنانے کا عزم

ہیمبرگ (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان پہلی ملاقات اور مصافحہ جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں ’جی 20‘ کے سربراہ اجلاس کے موقعے پر ہوا ہے۔ دونوں رہنماو¿ں کے درمیان تفصیلی ملاقات بعد میں ہوگی اور دونوں کا کہنا ہے کہ وہ تنازعات کا شکار ہونے والے اپنے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ دیگر مسائل کے علاوہ صدر ٹرمپ اور صدر پوتن کے درمیان ایک بڑا تنازعہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت ہے۔جی 20 کے اجلاس میں جن امور پر بات ہو گی ان میں موسمیاتی تبدیلی اور تجارت سر فہرست ہیں۔ اس حوالے سے اجلاس سے قبل ہیمبرگ میں بہت بڑا مظاہرہ بھی ہوا ہے جس کا عنوان تھا ’جہنم میں خوش آمدید‘۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جرمنی میں جدید ٹیکنالوجی کے صنعتی گڑھ ہیمبرگ میں جی 20 کا اجلاس منعقد کر کے چانسلر انگیلا میرکل یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ایک جمہوری معاشرے میں مظاہرے برداست کرنے کے صلاحیت ہونی چاہیے۔تاہم ان مظاہروں سے جی20 کے سربراہی اجلاس سے منسلک کئی تقریبات متاثر ہوئی ہیں۔جرمن حکومت کے فیس ب±ک صفحات پر شائع ہونے والی ایک مختصر ویڈیو میں جی 20 کے دیگر رہنماو¿ں کی موجودگی میں دونوں حضرات کو ہاتھ ملاتے اور مسٹر ٹرمپ کو مسکراتے ہوئے مسٹر پوتن کے بازو پر تھپکی لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ادھر پوتن نے بھی ایک جرمن اخبار میں جو مضمون لکھا ہے اس میں انھوں نے امریکہ سے کہا ہے وہ روس پر لگائی جانے والی وہ پابندیاں اٹھائے جو 2014 میں روس کی جانب سے کرائمیا کو اپنا حصہ بنانے کے بعد لگائی گئی تھیں۔اس کے علاوہ مسٹر پوتن نے ماحولیات کے حوالے سے پیرس معاہدے کی پرزور حمایت کا بھی کہا ہے اور اسے ’ماحولیات سے متعلق طویل المدت قانون سازی کی بنیاد‘ قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ کو پہلے ہی پیرس معاہدے سے نکال چکے ہیں۔ اگرچہ اس مضمون میں مسٹر پوتن نے شام کا زیادہ ذکر نہیں کیا۔ تاہم یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ شام میں کچھ حکومت مخالف گروہوں کی مدد کر رہا ہے جبکہ ماسکو صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ دونوں رہنماو¿ں کی ملاقات میں شام کے حوالے سے اختلافات پر خاصی لے دے ہونے کے امکانات موجود ہیں۔

وزیر اعظم نوازشریف کی آرمی چیف سے ون ٹو ون ملاقات ,اندرونی کہانی سامنے آ گئی

لاہور، مری (نمائندگان خبریں) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سیشن عدالت لاہور میں 10 ارب روپے ہرجانے کا دعوی دائر کر دیا ۔ ان کی طرف سے مصطفی رمدے ایڈووکیٹ نے دعویٰ لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج اظفر سلطان کی عدالت میں دائر کیا جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور جن کے بڑے بھائی نواز شریف وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر تعینات ہیں جبکہ ان کا تعلق انتہائی معزز گھرانے سے ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ عوامی خدمت اور فلاح و بہبود کی بنا پر درخواست گزار کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت عزت و احترام کیا جاتا ہے جبکہ درخواست گزار کے سیاسی مخالف عمران خان نے اپریل 2017ءمیں الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ شہباز شریف نے پاناما لیکس کے معاملے پر چپ رہنے اور موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے دس ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔اس کے علاوہ 28اپریل 2017ءکو پریڈ گراﺅنڈ میں جلسے کے دوران بھی چیئرمین پی ٹی آئی نے پاناما لیکس کے معاملے پر خاموش رہنے کے لیے دس ارب روپے کی پیشکش کا الزام دہرایا اس کے علاوہ عمران خان نے درخواست گزار کو مافیا جیسے غیر مہذب القابات سے نوازا تھا۔درخواست میں موقف اختیار دیا گیا کہ درخواست گزار نے ڈی فیمیشن آرڈیننس 2002ءکی سیکشن 8کے تحت عمران خان کو 8مئی کو ایک لیگل نوٹس بھجوایا تھا، جس میں جھوٹے الزامات لگانے پر معافی مانگنے کا کہا گیا اور ہتک عزت کے تحت دس ارب روپے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔وزیراعلی شہباز شریف کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ درخواست گزار کے حق میں دس ارب روپے کی ڈگری جاری کی جائے، عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد نوٹس جاری کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے 21جولائی تک جواب طلب کرلیا۔یاد رہے کہ شہباز شریف کی جانب سے گذشتہ برس بھی عمران خان کے خلاف ایک لیگل نوٹس بھجوایا گیا تھا جس میں جاوید صادق کو فرنٹ مین مقرر کر کے اربوں روپے وصول کرنے کے الزام پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر سلطان کی عدالت میں دائر دعوے میں موقف احتیار کیا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، جن کے برے بھائی نوازشریف وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر تعینات ہیں، کا تعلق انتہائی معزز گھرانے سے ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے شریف خاندان پر کوئی الزامات نہیں لگا رہا،میں اگر ان پر الزام لگاﺅں تو پوری کتاب لکھی جائے گی،پاکستان میں کرپشن کے گارڈ فادرز کے خلاف ایک جہاد کر رہا ہوں، وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ رشوت کا الزام لگا کر ان کی ساکھ متاثر کی گئی ہے لیکن ساکھ اس شخص کی متاثر ہوتی ہے جس کی کوئی ساکھ ہو۔جمعہ کے روز نتھیا گلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مفاد پرست لوگ سسٹم کو بچانا چاہتے ہیں ، عوام صرف تبدیلی چاہتی ہے ، کرپٹ مافیا ایک طرف خوف پھیلاتا ہے اور دوسری طرف لالچ دلاتا ہے ،کرپشن کے کینسر نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد زبردست میچ ہونے جارہا ہے،بہت دیر سے اس وقت کا انتظار کررہاتھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اربوں روپے کے اشتہارات اپنے دفاع کے لئے دے رہی ہے، سپریم کورٹ نے بھی کہا ہے کہ ادارے تباہ کئے گئے ہیں، ایک چھوٹے سے طبقے نے چوری کر کے کرپشن کے پیسے ملک سے باہر بھیجے ہیں، کیا ملک کو لوٹنے والے منی لانڈنگ روکیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہر سال 1 ہزار ارب روپے ملک سے منی لانڈرنگ ہوتے ہیں، اسحاق ڈار نے تسلیم کیا ہے کہ سعید احمد خان کے ذریعے منی لانڈرنگ ہوتی تھی، کیا چوری کرنے والے خود چوری روک سکتے ہیں؟ کرپشن کے کینسر نے ملک کو کھوکھلا کردیا ہے، ملک لوٹنے والے کبھی منی لانڈرنگ نہیں روکیں گے۔ ہم سیاست نہیں کررہے، مافیا کے خلاف جہاد کررہے ہیں اور یہ جہاد مافیا کے گاڈ فادر کیخلاف ہے۔ ہم سیاست نہیں کررہے بلکہ مافیا کے خلاف جہاد کررہے ہیں اور یہ جہاد مافیا کے گاڈ فادر کیخلاف ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس طرح شریف خاندان کا احتساب ہوگا، ان کی شکلوں سے پتا چلتا ہے کہ جے آئی ٹی کے اندر کے حالات برے ہیں، ان کے پاس جواب نہیں ہے اس لئے جے آئی ٹی کے باہر ڈرامہ کرتے ہیں،عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں فیصلہ کن جنگ جاری ہے، ایک طرف تبدیلی چاہنے والے اور ایک طرف فائدہ اٹھانے والے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ فیصلہ کن جنگ میں خواتین اور نوجوان بھرپور شرکت کریں۔ لندن فلیٹس کی اصل مالکہ مریم نواز شریف نکلتی ہیں تو کیس ختم ہو جائے گا، میں نواز شریف کو اڈیالہ میں دیکھ رہا ہوں،حکمران خاندان کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ یہ لوگ پکڑے جائیں گے، کرکٹ میں بھی نواز شریف امپائرکو ساتھ ملا کر کھیلتے تھے اور ان کی اب بھی یہ عادت برقرار ہے۔ نتھیا گلی میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف پر بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ساری زندگی رشوت دی اور کرپشن کی۔ ان کی کون سی شہرت ہے جس پر داغ پڑ گیا۔ انہوں نے تو لوگوں کو قتل کیا ہے۔ ان کی جانب سے مجھ پر 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا گیا ہے، لیکن میرے پاس تو پیسہ ہی نہیں ہے، حمزہ شہباز سے لے کر دیدوں گا۔ عمران خان نے کہا کہ پہلے 10 ارب رشوت کی پیشکش کی، پھر کیس بنا دیا۔ میں انتظار کر رہا ہوں کہ شہباز شریف مجھے عدالت لے کر جائیں، وہاں پر ان کے سارے کام گنواو¿ں گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنے بچوں کے نام پر ملک سے باہر پراپرٹی لی۔ مریم نواز نے کہا کہ ان کی باہر تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے۔ مریم نواز کے پاس 1993ئ میں پیسہ نہیں تھا، اس کا مطلب ہے کہ نواز شریف نے ملک سے پیسہ چوری کر کے باہر بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نیلسن اور نیسکول کی بینی فیشر آنر اور لندن میں فلیٹس کی مالکہ بھی ہیں۔ یہ الزام میں نے نہیں لگایا بلکہ بین الاقوامی انکشاف ہوا۔

پانامہ کے افسانے ، وزیراعظم بارے شہباز شریف کا اہم انکشاف

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف نے کہا ہے کہ 2 سال قبل وزیراعظم محمد نوازشریف نے مخالفت کے باوجود 3600 میگاواٹ کے گیس پاور پلانٹس لگانے کا جرا¿ت مندانہ فیصلہ کیا اور وزیراعظم محمد نوازشریف کی سیاسی بصیرت اور قوم کے مفاد میں کیا گیا یہ تاریخی فیصلہ پاکستان کے 20 کروڑ عوام کیلئے درخشندہ مستقبل کا ضامن بنا ہے۔ وزیراعظم کا گیس پاور پلانٹس لگانے کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کیلئے باعث اعزاز بنا ہے اور یہ فیصلہ محمد نوازشریف کے سر پر تاج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے، زراعت کو ہرا بھرا کرنے، صنعتوں کی چمنیوں سے دھواں نکالنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت کا یہ فیصلہ پاکستان کے عوام کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔ ایک طرف پانامہ کا بڑا شور ہے تو دوسری طرف وزیراعظم کا قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں میں لانے کا اعمال نامہ ہے جسے قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پانامہ کے افسانے کا اس اعمال نامے سے کوئی مقابلہ نہیں۔ پانامہ کا افسانہ 4 ملین ڈالر جبکہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں 3600 میگاواٹ کے 3 گیس پاور پلانٹس میں غریب عوم کے 168 ارب روپے بچائے گئے ہیں۔ ان کے اس اعمال نامے کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ قوم یاد رکھے گی کہ ایک ایسا وزیراعظم آیا تھا جس نے قوم کے 20 سال کے اندھیروں کو اجالوں میں بدلا اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط ملک بنایا۔ ایک طرف وزیراعظم محمد نوازشریف کے اعمال نامے ہیں اور دوسری طرف آج پانامہ کے افسانے کا بڑا شور ہے۔ پانامہ کے سامنے جو کچھ وزیراعظم نے کیا ہے قوم اسے کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ پانامہ کے افسانے اور وزیراعظم محمد نوازشریف کے اعمال نامے کا کوئی مقابلہ نہیں۔ عدالت عظمیٰ کا قانونی کیس ہے جس کا ہم بہت احترام کرتے ہیں اور اس کے ہر فیصلے کا بے حد احترام ہے۔ قومیں اسی طرح بنتی ہیں جس طرح وزیراعظم محمد نوازشریف نے دن رات محنت کرکے اس قوم کو بنایا ہے۔ کوئی 168 ارب روپے کی بچت کی ایک مثال بھی سامنے لا کر بتا دے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ کونسا دور تھا جب قوم کے 168 روپے بھی بچائے گئے ہوں بلکہ ماضی میں منصوبوں میں تاخیر کی گئی۔ ایک طرف غریب قوم کے اربوں روپے بچانے والا مخلص لیڈر ہے اور دوسری طرف اس قوم کو کنگال کرنے والے ہیں جنہوں نے نیلم جہلم، نندی پور، رینٹل پاور کے نام پر لوٹ مار کی اور این آئی سی ایل اور بینکوں پر اربوں کھربوں کے ڈاکے ڈالے۔ قومیں اس طرح نہیں بنتیں بلکہ ملک اور قوم کو آگے بڑھانے کیلئے قائدؒ و اقبالؒ کے تصوارت پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو ہمیں سب کا کڑا احتساب کرنا ہوگا اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرنا ہوگا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کے ملک میں چھائے ہوئے 20 برس کے اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے کے کارنامے کو پاکستانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج جھنگ میں 1230 میگاواٹ کے حویلی بہادر شاہ گیس پاور پلانٹ کے پہلے مرحلے کے تحت 760 میگاواٹ کے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ وفاقی وزراءخواجہ محمد آصف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، عابد شیر علی، صوبائی وزرائ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، منصوبے پر کام کرنے والی چائنہ کنسٹرکشن کمپنی، سپیکو تھری اور جنرل الیکٹرک کمپنی کے اعلیٰ حکام کے علاوہ لوگوں کی بڑی تعداد تقریب میں موجود تھی۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے ساہیوال لیڈی ڈاکٹر ہوسٹل کے واقعہ پرسخت برہمی کا اظہار کےاہے اوروزےراعلیٰ کے حکم پرساہےوال کے اسسٹنٹ کمشنر ریونیو ایوب بخاری،اسسٹنٹ کمشنر جنرل بابر سلمان اور ڈی ایم ایس ہسپتال ڈاکٹر اختر رضا کو او ایس ڈی بنا دیا گیاہے اورانہےں عہدوں سے ہٹا دےاگےاہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نےجھنگ میں 1230 میگاواٹ کے حویلی بہادر شاہ گیس پاور پلانٹ کے پہلے مرحلے کے تحت 760 میگاواٹ کے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے جب اس گیس پاور پلانٹ کا افتتاح کیا گیا ہے اور آج کی تاریخ بھی بڑی خاص ہے کیونکہ آج 7 ویں مہینے کی 7 تاریخ ہے اور 2017 کا سال ہے۔ 7-7-17 پیغام دے رہا ہے کہ ساتھ ساتھ مل کر ایک ساتھ چلنا ہے اور ہمیں وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں اجتماعی قوت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہے۔

”پانامہ فیصلہ “ شہباز شریف نے اشارہ دیدیا

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف نے کہا ہے کہ 2 سال قبل وزیراعظم محمد نوازشریف نے مخالفت کے باوجود 3600 میگاواٹ کے گیس پاور پلانٹس لگانے کا جرا¿ت مندانہ فیصلہ کیا اور وزیراعظم محمد نوازشریف کی سیاسی بصیرت اور قوم کے مفاد میں کیا گیا یہ تاریخی فیصلہ پاکستان کے 20 کروڑ عوام کیلئے درخشندہ مستقبل کا ضامن بنا ہے۔ وزیراعظم کا گیس پاور پلانٹس گانے کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کیلئے باعث اعزاز بنا ہے اور یہ فیصلہ محمد نوازشریف کے سر پر تاج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے، زراعت کو ہرا بھرا کرنے، صنعتوں کی چمنیوں سے دھواں نکالنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت کا یہ فیصلہ پاکستان کے عوام کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔ ایک طرف پانامہ کا بڑا شور ہے تو دوسری طرف وزیراعظم کا قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں میں لانے کا اعمال نامہ ہے جسے قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پانامہ کے افسانے کا اس اعمال نامے سے کوئی مقابلہ نہیں۔ پانامہ کا افسانہ 4 ملین ڈالر جبکہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں 3600 میگاواٹ کے 3 گیس پاور پلانٹس میں غریب عوم کے 168 ارب روپے بچائے گئے ہیں۔ ان کے اس اعمال نامے کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ قوم یاد رکھے گی کہ ایک ایسا وزیراعظم آیا تھا جس نے قوم کے 20 سال کے اندھیروں کو اجالوں میں بدلا اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط ملک بنایا۔ ایک طرف وزیراعظم محمد نوازشریف کے اعمال نامے ہیں اور دوسری طرف آج پانامہ کے افسانے کا بڑا شور ہے۔ پانامہ کے سامنے جو کچھ وزیراعظم نے کیا ہے قوم اسے کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ پانامہ کے افسانے اور وزیراعظم محمد نوازشریف کے اعمال نامے کا کوئی مقابلہ نہیں۔ عدالت عظمیٰ کا قانونی کیس ہے جس کا ہم بہت احترام کرتے ہیں اور اس کے ہر فیصلے کا بے حد احترام ہے۔ قومیں اسی طرح بنتی ہیں جس طرح وزیراعظم محمد نوازشریف نے دن رات محنت کرکے اس قوم کو بنایا ہے۔ کوئی 168 ارب روپے کی بچت کی ایک مثال بھی سامنے لا کر بتا دے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ کونسا دور تھا جب قوم کے 168 روپے بھی بچائے گئے ہوں بلکہ ماضی میں منصوبوں میں تاخیر کی گئی۔ ایک طرف غریب قوم کے اربوں روپے بچانے والا مخلص لیڈر ہے اور دوسری طرف اس قوم کو کنگال کرنے والے ہیں جنہوں نے نیلم جہلم، نندی پور، رینٹل پاور کے نام پر لوٹ مار کی اور این آئی سی ایل اور بینکوں پر اربوں کھربوں کے ڈاکے ڈالے۔ قومیں اس طرح نہیں بنتیں بلکہ ملک اور قوم کو آگے بڑھانے کیلئے قائدؒ و اقبالؒ کے تصوارت پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو ہمیں سب کا کڑا احتساب کرنا ہوگا اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرنا ہوگا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کے ملک میں چھائے ہوئے 20 برس کے اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے کے کارنامے کو پاکستانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج جھنگ میں 1230 میگاواٹ کے حویلی بہادر شاہ گیس پاور پلانٹ کے پہلے مرحلے کے تحت 760 میگاواٹ کے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ وفاقی وزراءخواجہ محمد آصف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، عابد شیر علی، صوبائی وزرائ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، منصوبے پر کام کرنے والی چائنہ کنسٹرکشن کمپنی، سپیکو تھری اور جنرل الیکٹرک کمپنی کے اعلیٰ حکام کے علاوہ لوگوں کی بڑی تعداد تقریب میں موجود تھی۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے ساہیوال لیڈی ڈاکٹر ہوسٹل کے واقعہ پرسخت برہمی کا اظہار کےاہے اوروزےراعلیٰ کے حکم پرساہےوال کے اسسٹنٹ کمشنر ریونیو ایوب بخاری،اسسٹنٹ کمشنر جنرل بابر سلمان اور ڈی ایم ایس ہسپتال ڈاکٹر اختر رضا کو او ایس ڈی بنا دیا گیاہے اورانہےں عہدوں سے ہٹا دےاگےاہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نےجھنگ میں 1230 میگاواٹ کے حویلی بہادر شاہ گیس پاور پلانٹ کے پہلے مرحلے کے تحت 760 میگاواٹ کے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے جب اس گیس پاور پلانٹ کا افتتاح کیا گیا ہے اور آج کی تاریخ بھی بڑی خاص ہے کیونکہ آج 7 ویں مہینے کی 7 تاریخ ہے اور 2017 کا سال ہے۔ 7-7-17 پیغام دے رہا ہے کہ ساتھ ساتھ مل کر ایک ساتھ چلنا ہے اور ہمیں وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں اجتماعی قوت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہے۔