جے آئی ٹی پیر کے بعد ختم ، فیصلہ سپریم کورٹ کا 3 ججوں پر مشتمل بنچ کریگا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے نعیم الحق نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ ہمیں علم ہو چکا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس تمام دستاویزات آ چکی ہیں جس کی بنیاد پر نوازشریف نااہل قرار دیئے جائیں گے۔ انہوں نے لندن فلیٹ 93,92 میں خریدے۔ عمران خان نے جو کیس نواز شریف کے خلاف کر رکھا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ رپورٹ جمع ہونے کے چند روز بعد کر دے گا۔ نوازشریف کا عہدے پر رہنا مکمل نہیں۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کا حصہ ہے۔ پیر کے بعد یہ ٹوٹ جائے گی۔ اس کے بعد تمام کارروائی سپریم کورٹ میں ہو گی اور پچھلا بنچ ہی فیصلہ لکھے گا۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بینک کے مقرر ہونے والے نئے گورنر طارق باجوہ، منسٹری آف فنانس میں سیکرٹری تھے۔ بینکوں کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ سٹیٹ بینک ایک خود مختار ادارہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ بینک وزارت خزانہ کا ایک بازو بن کے کام کر رہا ہے۔ منسٹری آف فنانس کے طارق باجوہ اسحاق ڈار کے بہت قریب ہیں۔ وہ یقینا حکومت کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھیں گے۔ اگر وہ چارج لے کر ورلڈ بینک اور بیرون دنیا کے معاملات کو صحیح طریقے سے ڈبل نہیں کریں گے تو دنیا میں اچھا پیغام نہیں جائے گا۔ ہمارے ملک میں اعتماد کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے اپنی ویب سائٹ پر پریس ریلیز جاری کی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ڈالر کی قیمت 108.2 روپے بالکل مناسب ہے۔ روپے کی قدر کم ہوئی ہے۔ اس سے پاکستان کے خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اور یہ معاشی حقائق کے عین مطابق ہے۔ وزیرخزانہ کی سوچ سٹیٹ بینک کی سوچ سے مختلف ہے۔ وزارت خزانہ اگر سٹیٹ بینک کے لئے پالیسی مرتب کرے گا تو شدید بحران پیدا ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے سٹیٹ بینک کو خود مختار ادارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ پچھلے 25 سال میں صرف ڈاکٹر شمشاد نے سٹیٹ بینک کی خود مختار پالیسی بنائی تھی۔ مشرف کے دور میں اس کا پریشر بینک پر تھا۔ بعد کی آنے والی حکومتی نے سٹیٹ بینک کی پالیسی سے ”کو“ کیا۔ شاید اسی لئے ڈاکٹر شمشاد کو 3 سال بعد نکال دیا گیا۔ ڈالر کی قیمت غلط تھی یا صحیح اس کا فیصلہ سٹیٹ بینک نے کیا تھا۔ وزیرخزانہ نے سٹیٹ بینک کے اس فیصلے پر سخت ایکشن لیا کہ آپ نے ناجائز منافع کمایا ہے۔ اب دنیا میں یہ پیغام جائے گا کہ ہمارا سٹیٹ بینک وزارت خزانہ کا بازو ہے اور ایک خود مختار ادارہ نہیں ہے۔ سٹیٹ بینک کے گورنر نے ایوب خان کو ٹکا سا جواب دے دیا تھا۔ اس پر انہوں نے سٹیٹ بینک کے گورنر کو فارغ کر دیا۔ اس پر غلام اسحاق خان نے انہیں سمجھایا کہ آپ اس کو فارغ نہیں کر سکتے۔ بعد کے آنے والے گورنر حکومت کے اشاروں پر چلنے لگے سوائے ڈاکٹر شمشاد کے۔ ہمارا قرض 80 ارب ڈالر کا ہے۔ اگر ہم ڈالر کی قیمت راتوں رات 10 روپیہ بڑھا دیں تو ہمارا قرضہ کس قدر بڑھ جائے گا۔ ہم اس طرح کی معاشی خود کشی تو نہیں کر سکتے۔ ہم آئی ایم ایف کے قرضے سے باہر نکل چکے ہیں۔ 2016ءمیں ہم نے اس کی آخری قسط دے دی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط اب ختم ہو چکی ہیں۔ اب ہم نے صرف 1½ سال بعد قرضہ واپس کرنا ہے۔ اب وہ شرائط نہیں لگا سکتے۔ حکومت اور اسحاق ڈار کبھی بھی آئی ایم ایف کا حکم مان کر ڈالر کو 116 روپے کا نہیں کریں گے۔ یہ ہماری معاشی خود کشی کے برابر ہو گا۔

پیپلز پارٹی کے متعدد رہنماءزرداری سے ناراض ، اختلافات شدت اختیار کر گئے

کراچی ( غلام عباس ڈاہری سے ) صوبہ سندھ میں بھی پی پی پی کے کچھ رہنماﺅں کے پی پی پی قیادت باالخصو ص سابق صدر آصف علی ذرداری سے اختلافات کی خبریں گردش کررہی ہیںاور ضلع گھوٹکی کے لونڈ برادرز کو پارٹی میں واپس لانے پر مہر گروپ بھی ناراض ہوگیا ہے جبکہ ضلع قمبرشہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر رکن سندھ اسمبلی میر نادر خان مگسی نے بھی پی پی پی قیادت سے اختلافات کے باعث پارٹی سے دوری پیدا کرلی ہے اور انکے گروپ کے پارٹی عہدیدار گزشتہ 4، سال سے غیر سرگرم ہیں باخبر ذرائع کے مطابق ضلع گھوٹکی سے پی پی پی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ سردار علی محمد خان مہر اور سردار علی گوہرخان مہر نے لونڈ برادرز کے سردار نثار احمد لونڈ کی پی پی پی مین واپسی بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جس پر مہر گروپ نے اظہارناراضگی ظاہر کی ہے اور انہیں اس فیصلے پر اعتماد نے لینے پر پارٹی قیادت کو اپنے خدشات سے آگاہ بھی کردیا ہے دوسری طرف لاڑکانہ ڈویژن کے بااثر سیاسی خاندان سابق صوبائی وزیر میر نادر علی مگسی اور انکے بھائی رکن قومی اسمبلی میر عامر علی مگسی گزشتہ 4 ، سالوں سے پی پی پی سے دوری اختیار کئے ہوئے ہیںاور میر نادر خان مگسی نہ صرف پارٹی اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے بلک سندھ اسمبلی کے اجلاس میںبھی کم نظر آتے ہیں اور گزشتہ 4، سالوں کے دوران انہوں نے نہ صرف آصف علی زرداری بلک بلاول بھٹو ذرداری سے بھی ملاقات نہ ہونے کے برابر کی ہیں ان اختلافات کو ختم کرانے کیلئے لاڑکانہ ڈویژن سے منتخب بگھیو قبیلے کے رکن قومی اسمبلی خزب اللہ بگھیونے بھی متعدد بار کوشش کی تاہم اختلافات کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی چلے گئے زرائع کے مطابق میر نادر علی خان مگسی نے مختلف سیاستدانوں سے بھی رابطوں کے اطلاعات موصول ہوئے ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ کسی بھی وقت مگسی خاندان پی پی پی کو خیر باد کہہ سکتے ہیں جبکہ مگسی خاندان کی جگہ اراکین سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیواور برہان خان چانڈیوپر آصف علی زرداری کی مہربانیاں جاری ہیں اور ضلع قمبر شہدادا کوٹ میں تمام اعلیٰ افسران چانڈیو خاندان کی مرضی سے تعنیات کئے گئے ہیں ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ مہر گروپ کی وجہ سے پی پی پی کو ضلع گھوٹکی کے علاوہ ضلع سکھر میں بھی سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

بنگلہ دیش میں سینکڑوں جیلوں کا انکشاف، متعدد تشدد سے ہلاک

ڈھاکہ (آئی این پی )انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے سینکڑوں افراد بشمول حزب کے لوگوں کو گرفتار کرکے خفیہ جیلوں میں قید کیا، جہاں بعد ازاں متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے ادارے ہیومن رائٹس واچ (ایچ ڈبلیو آر) کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب ایک روز قبل ہی گورنمنٹ پر ایک حکومت مخالف کو اغوا کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ایچ ڈبلیو آر ایشیا کے ڈائریکٹر براڈ ایڈمز کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں 2013 سے لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے صرف گزشتہ برس میں ہی 90 افراد کو اٹھاکر خفیہ جیلوں میں رکھا گیا۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی سکیورٹی فورسز کو لوگوں کو اٹھانے، قید کرنے، بے گناہ یا قصور وار قرار دینے اور انہیں سزا سنائے جانے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حتیٰ کہ لاپتہ یا اٹھائے جانے والے افراد کے حوالے سے حکومت کو دستاویزات اور معلومات فراہم کی گئیں۔ تاہم اب تک حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا۔ انسانی حقوق کے اداری کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 2016 میں ایسے ہی کیسز میں 21 افراد کو قتل کیا گیا، جبکہ 9 افراد تاحال نامعلوم مقامات پر قید ہیں۔ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ کہتی ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں حزب اختلاف کی اہم جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ 37 سالہ سجیدالاسلام سمن بھی ہیں۔رپورٹ میں سجیدالاسلام کی بہن سنجیدا اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کے بھائی اور بی این پی کے 5 کارکنوں کو ایلیٹ فورس ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) کے اہلکاروں نے 4 دسمبر 2013 کو اٹھایا۔سنجیدا اسلام نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ 3 سال 8 ماہ سے ملک کی تمام خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیز کے دروازے کھٹکائے مگر تاحال انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ برس عام انتخابات کے دوران سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے بعد سیاسی مخالفین کو نشانہ بنائے جانے کی شکایت بھی سامنے آنے لگیں۔ حالیہ برسوں میں بی این پی اور اس کی اتحادی پارٹی جماعت اسلامی(جے آئی) کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسدالزمان خان نے ایچ آر ڈبلیو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق تنظیم حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بنگلہ دیشی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسی تنظیمیں آغاز سے ہی ان کے ملک کے خلاف ہیں، اسی لیے وہ منفی پروپیگنڈا پر کام کر رہی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ علاوہ ازیں پولیس نے کچھ دن قبل اغوا کیے جانے والے حکومت مخالف فرہاد مظہر کی گمشدگی سے متعلق ان کی اہلیہ کی فریاد پر مقدمہ درج کرکے انہیں گزشتہ ہفتے بازیاب بھی کرایا۔پولیس کے مطابق فرہاد مظہر نے بتایا کہ ان کی آنکھیں بند کرکے انہیں راستے سے اٹھایا گیا۔

پہلی برسی ، برہان وانی کی والدہ نظر بند

لاہور (وقائع نگار) حریت رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ بھارت چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے ہندوستانی افواج کی بربریت اور بے گناہ کشمیریوں پر بدتر سلوک دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں،ہم کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے کہ ہمارے ملک پر کوئی آ کر قبضہ کر لے ،برہان وانی کی والدہ کو نظر بند کیا ہوا ہے، وکلاءکشمیریوں کی آواز بنے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز شہید برہان وانی کی برسی کے موقع پر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن چوہدری ذوالفقار علی ،نائب صدر راشد جاوید لودھی ،سیکرٹری عامرسعید راں اور فنانس سیکرٹری محمد ظہیر بٹ اور ممبران نے ان کا پر تپاک استقبال کیا ۔ مشعال ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی افواج کی بربریت اور بے گناہ کشمیری مرد، خواتین اور بچوں کے ساتھ جنگلی درندوں سے بھی بدتر سلوک دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے گولڈ میڈلسٹ برہان وانی کو بہیمانہ طریقے سے شہید کر دیا گیا۔ 8جولائی کو جب برہان وانی کو شہید کیا گیا تو کشمیر کے ہر گھر میں سناٹا تھا ، برہان وانی کے گھر کو جلا دیا گیا اور انکے ماں باپ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں لاکھوں برہان وانی پیدا ہوئے ۔مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ نہتے اور مظلوم کشمیری جو حقِ خود ارادیت کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں ان پر ہندو درندے فاسفورس شیل برساتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا چاہتا ہے کہ کشمیری جلد از جلد کشمیر سے نقل مکانی کر جاہیں ہم کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے کہ ہمارے ملک پر کوئی آ کر قبضہ کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں آج بھی انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی سہولت بند ہے اور برہان وانی کی والدہ کو نظر بند کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاءکشمیریوں کی آواز بنے۔ صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن چوہدری ذوالفقار علی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن حقوق انسانی کی علمبردار ہے اور ہمیشہ ظالم کے خلاف آواز اٹھائی اور اس بار سے تحریکوں نے جنم لیا لہٰذا وکلاءکشمیریوں کی کاز کیلئے ہماری مدد کریں۔ راشد جاوید لودھی اور محمد ظہیر بٹ نے مشعال ملک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن مقبوضہ کشمیر کے عوام کی ہر سطح پر حمایت کر رہی ہے اور ہمارا دل کشمیری عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے۔

یاسین ملک ایک برس کے دورا ن 20 مرتبہ گرفتار، 180روز زیر حراست

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے بھارتی پولیس کی طرف سے پارٹی چیئرمین محمد یاسین ملک کی باربارکی\ گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف گزشتہ ایک برس کے دورا ن انہیں 20 مرتبہ گرفتار کیا گیا اور قریباً180روز تک حراست میں رکھا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما نور محمد کلوال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جمہوریت کے دعویداروں نے مقبوضہ علاقے میں جمہوری قدروں کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی مبنی حق آواز کو دبانے کے لیے کرفیو اور پابندیاں لگائی جاتی ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور موبابل فون سروسز بند کی جاتی ہیں۔ نور محمد کلوال نے پارٹی کارکن مشتاق احمد کی بھی بار بار گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بیگناہوں کو گرفتار کرنا، گھروں پر چھاپے مارکر چادر اور چار دیواری کی حرمت کو پامال اور مکینوں کو زدوکوب کرنا بھارتی پولیس کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔

طارق باجوہ سٹیٹ بینک کے نئے گورنر تعینات‘تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری

اسلام آباد (این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق ڈائریکٹر طارق باجوہ کو آئندہ 3 برس کےلئے مرکزی بینک کے نئے گورنر کی حیثیت سے تعینات کردیا گیا۔فنانس ڈویژن کی جانب سے طارق باجوہ کی بحیثیت گورنر اسٹیٹ بینک تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا جو آئندہ چند روز میں اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔طارق باجوہ کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے ہے جو گذشتہ ماہ 18 جون کو سیکریٹری خزانہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔اس سے قبل وہ سیکرٹری دفاعی امور ڈویژن، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ¾ سیکرٹری خزانہ پنجاب کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔یاد رہے کہ رواں سال 29 اپریل کو اشرف وتھرا اپنی تین سال کی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تھے جس کے بعد ریاض ریاض الدین قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

ہم عہدوں کو نہیں بیٹیوں کو سیلوٹ کرتے ہیں

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم عہدوں کو نہیں بیٹیوں کو سیلوٹ کرتے ہیں ، اگر کوئی آپ کو عزت دیتا ہے تو جوابا اسے بھی عزت دیں۔جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز نے اپنی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر سیکیورٹی پر مامور خواتین اہلکاروں کو سلیوٹ کرنے کی تصویرشیئر کی جس میں مریم نواز سیکیورٹی پر مامور خواتین اہلکاروں کو سلیوٹ کر رہی ہیں۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ ہم عہدوں کی بجائے بیٹیوں کو سلیوٹ کرتے ہیں کیونکہ اگر کوئی آپ کو عزت دیتا ہے تو جوابا اسے بھی عزت دیں۔ دختر اول نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ تمام سلیوٹ پروٹوکول نہیں ہوتے بلکہ عزت دلوں سے کی جاتی ہے۔یاد رہے گزشتہ دنوں وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف پاناما جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی تھیں تو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تعینات ایس ایس پی ارسلہ سلیم نے مریم نواز کو گاڑی سے نکلتے ہوئے سلیوٹ کیا تھا جس پر عمران خان سمیت اپوزیشن کی جانب سےانہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جے آ ئی ٹی جو کر رہی ہے وہ سب جانتے ہیں

اسلام آباد،جھنگ (نامہ نگار خصوصی،بیورو رپورٹ) جے آئی ٹی کی سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کیے جانے سے قبل پاکستان کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سرجوڑ کر بیٹھ گئی جس دوران ملک بھر میں جاری آپریشنز ،پاک افغان تعلقات اور امریکی وفد کے دورہ پاکستان پر تبادلہ خیال کیاگیا، اس اجلاس میں آرمی چیف کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی بھی شریک تھے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم ہاﺅ س میں ہونیوالے اجلاس کی صدارت نواز شریف نے کی جس میں سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ آرمی چیف کے ہمراہ آنیوالے ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کے علاوہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیرداخلہ چوہدری نثار اور وزیرقانون زاہد حامد سمیت وفاقی وزرا اور مشیروں‘ جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل زبیر محمود حیات‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ‘ سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل ذکائ ا?‘ پاک فضائیہ کے سربراہ سہیل امان سمیت مشیر قومی سلامتی جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس کے دوران آپریشن ضرب عضب کے دوران حاصل ہونیوالی کامیابیوں، ردالفساد میں پیش رفت کے علاوہ بیرونی سرحدوں کی سیکیورٹی اور افغانستان کیساتھ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق امریکی وفد کے حالیہ دنوں میں پاکستان اور پھر قبائلی علاقے وزیرستان کے دورہ پر بھی قیادت کو بریفنگ دی گئی۔ شرکائ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں ، احتساب سے گھبرانے والوں میں سے نہیں ، ہمیں ترقی کے راستے سے ہٹانے کی کوششیں کر رہے ہیں،جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیا ،یقین ہے آئندہ انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن ہی کامیاب ہوگی‘خطے کا امن کشمیر سمیت تصفیہ طلب امور سے جڑا ہوا ہے‘پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں‘ پاکستان افغان عوام اور قیادت پر مشتمل امن عمل کا حامی ہے۔ خبررساں ایجنسی ’ا?ئی این پی‘ کے مطابق اجلاس میں جے آئی ٹی رپورٹ، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال سمیت اسٹاک ایکسچینج سے متعلق امورپرگفتگوکی گئی۔ اجلاس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے وزیراعظم کو ڈالر کی قدر میں اضافے سے متعلق آگاہ کیا جب کہ جے آئی ٹی اور دیگرقانونی معاملات پروزیرقانون زاہد حامد نے بریفنگ دی، اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر پارلیمانی جماعتوں سے رابطوں اور ضرورت پڑنے پرتمام قانونی و آئینی آپشنز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ جو الیکشن نہیں جیت سکتا وہ ہمارے خلاف سازشیں کر رہا ہے، وہ الیکشن جیت نہیں سکتے اس لئے دھرنے اور دھاندلی کی سازشیں کر رہے ہیں۔ ہمیں روکنے کے لئے آسمان سر پر اٹھا یا گیا یہ لوگ سات آسمان بھی سر پر اٹھا لیں ہمیں پاکستان کی خدمت کرنے سے روک نہیں سکتے۔ یہ لوگ جے آئی ٹی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں، چھپ کر سازشیں کرنے والے بزدل ہوتے ہیں ، ان لوگوں نے مسلم لیگ (ن) سے ایک بار نہیں بار بار شکست کھائی ہے۔ہمت ہے تو چھپنے کی بجائے میدان میں آکر ہمارا مقابلہ کریں۔ قوم ایسے لوگوں کو ملک میں پسند نہیں کرتی جو ملک میں ترقی کی بجائے سازشوں کو فروغ دیتے ہیں۔ حویلی بہادر شاہ میں 760میگا واٹ پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنے سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے جو مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی ، مخالفین روزانہ نت نئی سازشیں کر رہے ہیں۔مخالفین ہزار آسمان سر پر اٹھا لیں ہمیں ترقی سے روک نہیں سکتے۔انہوں نے بغیر نام لئے سابق صدر پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کو لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ملک کے باہر بیٹھ کر بیانات داغتے ہیں اور جو کہتے ہیں نواز شریف کہاں سے بجلی لائے گا انہوں نے ہی ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ ملک میں اندھیرے چھائے تھے اب روشنیاں بحال ہو رہی ہیں۔پاکستان میں ایک روایت قائم ہو رہی ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ پاکستان کو نعروں سے نہیں بلکہ کمٹمنٹ سے چلایا جاتا ہے۔ملک میں اس وقت بجلی کے بڑے بڑے منصوبے جاری ہیں جنہیں بہت جلد مکمل کرلیا جائے گا،بجلی کے منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف بجلی پیدا ہوگی بلکہ عوام کو سستی بجلی بھی فراہم کی جائے گی۔پنجاب حکومت نے بجلی کے2منصوبوں میں 168ارب روپے کی بچت کی ہے۔ یہ بچایا گیا پیسہ ملک میں ترقی کے لئے نئے منصوبوں پر لگایا جائے گا۔ ملک میں بجلی کے بعض ایسے منصوبے بھی سابقہ حکومتوں میں بنائے گئے تھے جن سے 24روپے فی یونٹ بجلی حاصل کی جاتی تھی مگر اب بجلی کے نئے منصوبوں سے ساڑھے6روپے فی یونٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔آئندہ آنے والے وقت میں مزید سستی بجلی پیدا کریں گے۔ بجلی سستی ہوگی کسان کو فائد ہ ہوگا، کاشتکار اس سے مستفید ہو گا۔ انڈسٹری جب سستی بجلی استعمال کرے گی تو ایکسپورٹ کو فائدہ ہوگا۔ بجلی سستی ہوگی تو ملک کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔اس وقت ملک میں بجلی کے مزید منصوبوں پر کام جاری ہے ،10جولائی کو داسو پاور پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا جبکہ بھاشا ڈیم بھی تکمیل کے آخری مرحلے میں ہیں۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں ، احتساب سے گھبرانے والوں میں سے نہیں ، ہمیں ترقی کے راستے سے ہٹانے کی کوششیں کر رہے ہیں،جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیا ،یقین ہے آئندہ انتخابات میں بھی مسلم لیگ ن ہی کامیاب ہوگی‘خطے کا امن کشمیر سمیت تصفیہ طلب امور سے جڑا ہوا ہے‘پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں‘ پاکستان افغان عوام اور قیادت پر مشتمل امن عمل کا حامی ہے۔

چین میں امریکی سرگرمیاں ، چینی لڑاکا طیارے روانہ

بیجنگ (آئی این پی)چین نے جنوبی بحیرہ چین میں امریکی سرگرمیوں کے جواب میں فوجی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کو بھیج دیا، امریکی رویہ نے چینیقوانین اور متعلقہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے، امریکہ نے امن، سلامتی اور متعلقہ پانی کے آرڈر میں رکاوٹ اور چینی جزائر پر سہولیات اور اہلکار کو خطرے میں ڈال دیا ہے،اس طرح یہ معاملہسنجیدگی سے سیاسی اور فوجی مداخلت کا متقاضی ہے،چین کی جانب سے قومی اقتدار اور سلامتی کی حفاظت کے لئے تمام ضروری ذرائع کا استعمال کیا جائے گا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کھانگ نے میڈیا کی جانب سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین نے جنوبی بحیرہ چین میں امریکی سرگرمیوں کے جواب میں فوجی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کو بھیجا ہے ۔امریکی رویہ چینی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔امریکہ نے امن، سلامتی اور متعلقہ پانی کے آرڈر میں رکاوٹ اور چینی جزائر پر سہولیات اور اہلکار کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ چین نے اپنی سلامتی و استحکام کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اقدام کیا ہے کیونکہ یہ معاملہ اس وقت سنجیدگی سے سیاسی اور فوجی مداخلت کا متقاضی ہے۔امریکہ اگر نیوی گیشن آزادی کی بنیاد پر وہاں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے تو چین کیوں نہیں۔آسیان ممالک سے مل کر چین نے جنوبی چین سمندر کی صورت حال کو بہتر بنایا ہے۔. چین کی جانب سے قومی اقتدار اور سلامتی کی حفاظت کے لئے تمام ضروری ذرائع کا استعمال کیا جائے گا۔

بدترین کارکردگی‘پی آئی اے عالمی درجہ بندی میں 80 ویں نمبر پر

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کسی بھی ملک کی ائرلائن اس کی ترقی اور خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، نقل و حمل کے تیز ترین اور جدید ترین ذریعے کے طور پر ائرلائنز ملک کی معیشت کو بھی سہارا دیتی ہیں۔ مگر پاکستان میں صورت حال اس سے مختلف ہے، قومی ائرلائن اکثر و بیشتر خبروں میں رہتی ہے، منشیات کی برآمدگی کا معاملہ ہو یا تاخیر سے آنے جانے کامعمول،جدہ کے فلائٹ قطر اترنے کی داستان ہو یا کراچی کے مسافروں کو برمنگھم پہنچانے کی باتیں، قومی ائر لائن مسافروں کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں ہے، مگر ایک وقت تک جب اس ائرلائن کا شمار دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں میں ہوتا تھا۔ اب انٹرنیشنل ائر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کی سالانہ درجہ بندی جاری کردی ہے جو کہ ہم سب کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انٹرنیشنل ائر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کی سالانہ رینکنگ جاری کردی ہے، ایک وقت میں دنیا کے بہترین ائر لائن کہلائی جانے والی قومی ائر لائن پی آئی اے 87بین الاقوامی ائر لائنز میں 80ویں درجے پر ہے۔ یہ درجہ بندی کمپنی کے معیار، بروقت روانگی اور تاخیر کی صورت میں مسافروں کو سہولیات کے حوالے سے دئیے جانے والی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی۔آئی اے ٹی اے نے قومی ائر لائن کو اپنی رینکنگ بہتر بنانے کے لئے اپنی معیار اور مسافروں کو بہتر سہولیات دینے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن فکر کی کوئی بات نہیں خطے کے دو بڑے ملکوں چین اور بھارت کی ائر لائنز کی بھی کوئی بہتر حالت نہیں ہے اور پاکستان سے ان کا کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔