جے آئی ٹی : شریف خاندان کی تمام کمپنیوں کاریکارڈ طلب حسین نواز اور مریم نواز بارے اہم خبر

اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم) پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اسٹیٹ بینک سے شریف خاندان کی تمام کمپنیوں کا ریکارڈ مانگ لیا جب کہ کمپنیوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے شریف خاندان کی تمام کمپنیوں کا ریکارڈ مانگ لیا ہے، جے آئی ٹی کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو خط لکھا گیا ہے جس میں شریف خاندان کے بارے میں 19 کمپنیوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں جب کہ تمام تر تفصیلات کل تک فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔جے آئی ٹی کی جانب سے لکھے گئے خط میں شریف خاندان کی کمپنیوں کے1980ءسے اب تک کے قرضوں، شریف خاندان کی کمپنیوں کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی موجودہ پوزیشن کے بارے میں تفصیلات مانگی گئی ہیں، اس کے علاوہ جے آئی ٹی نے اسٹیٹ بینک سے شریف خاندان کے معاف کیے جانے والے قرضوں، ری شیڈول کروائے جانے والے اور سیٹلمنٹ کے بارے میں ریکارڈ سمیت شریف خاندان کے ممبران کے ساتھ ساتھ کمپنیوں کے تمام ڈائریکٹرز کے بارے الیکٹرانک کریڈٹ انفارمیشن بیورو سے متعلق بھی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔جے آئی ٹی کی جانب سے جن کمپنیوں کے بارے ریکارڈ مانگا ہے ان میں اتفاق فاﺅنڈریز لمیٹڈ، رمضان شوگر ملز لمیٹڈ، حسیب وقاص شوگر ملز لمیٹڈ، مہران رمضان ٹیکسٹائل ملز، رمضان بخش ٹیکسٹائل ملز، برادرز شوگر ملز لمیٹڈ، چوہدری شوگر ملز لمیٹڈ، اتفاق شوگر ملز لمیٹڈ، اتفاق برادرز لمیٹد، صندل بار ٹیکسٹائل ملز لمیٹد، خالد سراج ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ، حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ، برادرز ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ، اتفاق ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ، برادرز اسٹیل ملز لمیٹڈ، حدیبیہ پیپر ملز لمیٹڈ، الیاس انٹرپرائزز لمیٹڈ اور اتفاق اسپتال ٹرسٹ شامل ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے جن کمپنیوں بارے میں ریکارڈ مانگا گیا ہے ان میں سے بہت سی کمپنیاں میاں شریف کے بچوں کے نام ہی نہیں ہے جب کہ بعض کمپنیوں میں شریف خاندان کے لوگوں کے شیئرز ہیں اور پوری کمپنی کے مالک نہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل جے آئی ٹی شریف خاندان کے بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے بھی تمام ریکارڈ منگواچکی ہے۔ وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف پر دباو¿ ڈالنے کے لیے ہمیں جے آئی ٹی میں بلایا جارہا ہے تاہم 100 دفعہ بلائیں گے ہم آئیں گے لیکن جھوٹ جھوٹ رہے گا اور سچ سچ۔ جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے حسن نواز کا کہنا تھا کہ سارے دستاویزات جے آئی ٹی کو دے دیے ہیں اور یہ دستاویزات پہلے ہی سپریم کورٹ میں بھی جمع کراچکا ہوں، میں نے جے آئی ٹی سے ایک سوال پوچھا ہے کہ میرا کیا قصور ہے کہ جو مجھے بلا کر 5، 5 گھنٹے تفتیش کی جارہی ہے، شریف فیملی کے ہر فرد کو بار بار بلایا جارہا ہے، ہر ایک کو سمن جاری کیے جارہے ہیں جب کہ سمن کا جمعہ بازار لگایا ہو اہے لہذا کم از کم ہمیں الزام بھی بتا دیں۔ جے آئی کو کہا ہے سب کو بلایا جارہا ہے ،دادی ویل چیئر پر ہیں ان کو بھی بلایں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پہلے الزام لگتا ہے اور پھر تحقیقات ہوتی ہیں لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور اب الزام ڈھونڈا جارہا ہے تاہم کوئی موٹر سائیکل ہی چوری کرنے کا الزام لگادیں۔ حسن نواز نے کہا کہ ہم سب بتائیں گے، وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی جو مانگتی ہے دے دو، جو پوچھتے ہیں بتائیں گے لیکن ہمارا حق ہے کہ ہمیں ہمارا قصور بھی بتایا جائے، بتایا جائے کہ ہم پر الزام کیا ہے، نواز شریف پر دباو¿ ڈالنے کے لیے ان کے بچوں کو بلایا جارہا ہے تاہم 100 دفعہ بلائیں گے ہم آئیں گے لیکن جھوٹ جھوٹ رہے گا اور سچ سچ۔ ۔ مخالفین کو مجھ سے مریم سے یا حسین سے کوئی مسئلہ نہیں ہے مسئلہ صرف نواز شریف سے ہے ۔ برطانیہ میں 23 سال سے رہا ہوں اور 15 سال سے وہاں بزنس کر رہا ہوں وہاں کی ریگولیٹری اتھارٹی مجھ سے مطمئن ہیں میں نے آج برطانیہ میں اپنے بزنس کی تمام دستاویزات جے آئی ٹی کے حوالے کر دی ہیں اور ان سے یہ سوال بھی پوچھا ہے کہ مجھ پر الزام کیا ہے ۔یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے الزام نہیں بتایا جا رہا جے آئی ٹی نے سمن کا جمعہ بازار لگا رہا ہے کٹ پیسٹ کر کے سمن جاری کئے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ان کو مسئلہ مجھ سے یا مریم یا حسین سے نہیں بلکہ نواز شریف سے ہے وہ بچوں کو استعمال کر کے نواز شریف پر پریشر ڈال رہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ نواز شریف کی قیادت میں ملک ترقی کرے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ انصاف ضرور کرین لیکن انصاف ہوتا دکھائی دینا چاہئے ۔ عدالت میں مقدمہ ختم ہو چکا ہے لیکن پھر بھی تفتیش جاری ہے مجھے نواز شریف کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ جے آئی ٹی جہاں بلائے جتنی بار بلائے جاﺅ شریف فیملی پرامید ہے کہ جھوٹ جھوٹ اور سچ سچ رہے گا۔ وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسن نواز تیسری بار پانا ما لیکس کی تحقیقات کےلئے قائم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو ئے اور سوالوں کے جوابات دیئے ¾ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کے بڑے بیٹے حسین نواز (آج)منگل اور بیٹی مریم نواز کو(کل) بدھ کو طلب کررکھا ہے ۔ پیر کو وزیر اعظم کے بیٹے حسن نواز نے جوڈیشل اکیڈمی کے باہر پہنچ کر کارکنوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور پھر وہ اندر چلے گئے۔ حسن نواز نے دو گھنٹے سے زائد دیر تک جے آئی ٹی کے سوالوں کے جوابات دیئے حسن نواز جے آئی ٹی کے سامنے پہلی بار2جون اور دوسری بار 8جون کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز کو4 جولائی اور بیٹی مریم نواز کو 5 جولائی کوطلب کررکھا ہے، اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز پانچ مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف بھی 15 جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو ئے تھے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی حتمی رپورٹ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں جمع کرائےگی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی کے ساتھ سخت اور نامناسب رویہ اختیار کیا‘ سوالوں کے جواب میں لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جواب میں سخت اور نامناسب رویہ اختیار کیا اور کہا کہ حدیبیہ ملز میں بیان حلفی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ عدالت اس کیس کو ختم کرچکی ہے آپ اس سے کیا نکالنا چاہتے ہیں اس کیس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ شریف خاندان کی منی ٹریل کے حوالے سے اسحاق ڈار کوئی معقول جواب نہ دے سکے۔

پانامہ ہو بے نامہ پاکستان ترقی کرتا رہیگا ، شہباز شریف کا بڑا اعلان

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہاہے کہ 1320میگا واٹ کے ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کا 22ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونا انتھک محنت ، امانت ،دیانت اور شفافیت کی داستان ہے -اس منصوبے نے کم مدت میں مکمل ہو کر نہ صرف دنیا بلکہ چین کا اپنا ریکارڈ بھی توڑ دیاہے -2013-14میں پاکستان اور چین کی قیادت نے جو حسین خواب دیکھا تھا آج اس کا پہلا ستون سا ہیوال کول پاور پراجیکٹ کی تکمیل کی صورت میں مکمل ہوچکاہے اوریہ منصوبہ ہر لحاظ سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے-ساہیوال کول پاور پراجیکٹ سی پیک کا پہلا میگا منصوبہ ہے جو قومی معیشت کے استحکام میں شاندار کردار اداکررہاہے -180ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس منصوبہ کے معاہدے پر اپریل 2015 میں دستخط کئے گئے-اس وقت طے پایا تھا کہ یہ منصوبہ25دسمبر 2017کو مکمل ہوگا تاہم اس منصوبے کو مقررہ مدت سے7ماہ قبل مکمل کیا گیا-اس لحاظ سے اس منصوبے نے نہ صرف چین بلکہ دنیا کا ریکارڈ توڑ دیاہے-وہ آج ساہیوال میں1320میگاواٹ کے ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کی تکمیل پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کررہے تھے-وزیراعلی نے کہا کہ آج نہ صرف خوشی کا دن ہے بلکہ ایک تاریخی دن بھی ہے-وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں توانائی سمیت سی پیک کے دیگر منصوبوں پر بھی انتہائی برق رفتاری سے کام ہورہاہے اور پاکستان میں خوشحالی کا انقلاب آ رہاہے-وزیراعظم محمدنوازشریف نے پاک چین دوستی کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیاہے تاہم بعض عناصر جو باہر سے تو پاک چین دوستی کا دم بھرتے ہیں لیکن اندر سے اس کی مخالفت کر رہے تھے- انہوںنے سی پیک کے منصوبوں کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی-ہمارے مخالفین اور ناقدین کہتے تھے کہ یہ منصوبے عملی شکل اختیار نہیں کریںگے لیکن اللہ تعالی کے فضل وکرم سے سی پیک کا میگا منصوبہ آج 1320میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کررہاہے -انہوںنے کہاکہ چین کے صدر شی جن پنگ نے 2014میں پاکستان آنا تھا لیکن اس وقت بد قسمتی سے دھرنے دئےے گئے-پاکستانی قوم اس احسان عظیم کو کبھی فراموش نہیں کرسکے گی- انہوںنے کہاکہ ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کے 22ماہ میں مکمل ہونے سے آنے والے وقتوں میں اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا-بہاولپور میں 300میگا واٹ کا شمسی توانائی کا منصوبہ نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کررہاہے-اس طرح پورٹ قاسم میں بھی کول پاور پلانٹ لگایا جا رہاہے-چین نے سی پیک کے تحت 36ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں کے لئے رکھے ہیںجو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر سے زیادہ ہےں،اگر ہم اپنا زر مبادلہ ان منصوبوں کے لئے استعمال کرتے تو وہ ختم ہوجانا تھا-چین کا یہ عظیم احسان پوری قوم نہیں بھولے گی-وزیراعلی نے کہاکہ پانامہ ہو یا بے نامہ ،پاکستان ترقی کرتا رہے گا-وزیراعظم محمدنوازشریف کی قیادت میں پاکستان آگے بڑھتا جائے گا-دھرنوں اور لاک ڈاﺅن کے باوجود آج منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں-دھرنے ہوں یا لاک ڈاﺅن پاکستان کی تعمیر وترقی کے منصوبے مکمل کرتے جائیں گے- پاکستان اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوچکا ہے-20کروڑ عوام اس منزل کو کھوٹہ نہیں ہونے دیں گے -عوام نے ماضی میں بھی دھرنوں اور لاک ڈاﺅن کو ناکام کیا او راب بھی ناکام کریں گے او رپاکستان کی ترقی وخوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائیں گے-انہوں نے کہاکہ ماضی کی حکومتوں نے ملک کی تعمیر و ترقی اور توانائی کے منصوبوں میں کرپشن ،بدانتظامی او راقربا پروری کر کے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کیا ہے- 80ارب روپے کا نیلم جہلم کا منصو بہ 500ارب روپے تک پہنچ چکاہے او راس سے 985میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی جبکہ 180ارب روپے کے ساہیوال کول پاور پراجیکٹ سے 1320میگا واٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے ،اسی طرح نندی پور کا منصوبہ بھی لوٹ مار اور کرپشن کی بد ترین مثال ہے- انہوںنے کہاکہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں آج روشنی پھیل رہی ہے اور پاکستان کے عوام کو انہی روشنیوں کے سفر کی تلاش تھی-ساہیوال کول پاور پراجیکٹ بھی پوری قوم کے لئے ایک تحفہ ہے-یہ محنت، دیانت، امانت اور عظیم دوستی کا سفر ہے- پاکستان او رچین کی دوستی بے مثال ہے ،یہ دوستی پیار او رمحبت کی ہے،یہ دوستی کسی شرط کے بغیر ہے-چین نے 1965اور 71کی جنگ میں بغیر کسی شرط کے پاکستان کا ساتھ دیا-اقوام متحدہ میں ہمیشہ مسئلہ کشمیر کی حمایت کی-عالمی فورمز پر بھی چین پاکستان کے ساتھ کھڑا رہاہے -چین پاکستان کے دشمن کے سامنے بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوا ر کی طرح کھڑا رہاہے ،جو عناصر الزام لگاتے ہیں کہ سی پیک کے لئے چین نے شرائط عائد کی ہےں وہ پاکستان کے دشمن ہےں او رپاکستان کا بھلا نہیں چاہتے-چین نے سی پیک بغیر کسی شرط کے پاکستان کو دیا ہے اور دوستی کا عظیم حق ادا کیا ہے-سی پیک پہلے ہی دشمن کو بہت کھٹک رہاہے اور سی پیک نے پہلے ہی بہت دشمن بنا دئےے ہیں لیکن دشمن سن لیں پاکستان ایٹمی طاقت ہے،پاکستان کے دشمن ہمارا بال بیکا نہیں کرسکتے -عوام پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے والے دشمن کی آنکھیں نکال کر پاﺅں تلے روند دیں گے -انہوںنے کہا کہ پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی منزل محنت، دیانت،امانت پر عمل کرنے سے ہی حاصل ہوگی-چین کی قیادت تسلیم کرچکی ہے کہ پاکستان کی قوم ایک عظیم قوم ہے -وزیراعلی نے 1320میگا واٹ کے ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کی تکمیل پر چین کے صدر،چین کے وزیراعظم ، چینی قیادت ،نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے ایڈمنسٹریٹر نور بیکری ،این ڈی آر سی ،آئی سی بی سی ،ہیوانگ گروپ ،رویائی گروپ، اور دیگر متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا-این ڈی آر سی کے وائس چیئرمین اور نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے ایڈمنسٹریٹر نور بیکری،چین کے سفیر سن ویڈانگ ، ہیوانگ گروپ چائنہ کے چیئرمین چاہو پگسی ، صوبائی وزراء،چیف سیکرٹری ، اور معززین علاقہ کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی-

عمران جھوٹا ، بزدل ، ٹیکس چور ، جواری ، اسحاق ڈار پھٹ پڑے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ عمران خان آج بھی ٹیکس چور اور جواری ہیں تو وہ کس منہ سے نوازشریف کے خلاف آرٹیکل 62 اور 63 کی بات کرتے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے جہاں وزیر خزانہ سے حدیبیہ پیپرز ملز اور ان کے بیان حلفی سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔ پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ انہیں پہلی بار جے آئی ٹی میں بلایا گیا اورمقررہ وقت سے پہلے ہی یہاں آگئے تھے۔ جے آئی ٹی نے جو سوالات پوچھے ان کے جوابات دے دیے اور تمام معاملات شفاف ہیں، پاناما پیپرز میں نواز شریف کا نام نہیں جب کہ جن کے نام پاناما میں ہیں وہ دوسری جماعتوں میں ہیں، وزیراعظم نواز شریف کے خلاف کوئی کیس نہیں تاہم چند ریفرنسز پرویز مشرف کے زمانے میں جھوٹ کی بنیاد پر بنائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سامنے تمام حساب پیش کردیا ہے اور پرویز مشرف دور میں ان کا دیا گیا بیان ردی کے ٹکڑے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا، وہ بیان حلفی ان کے ہاتھ سے نہیں لکھا ہوا، اس پر ان سے زبردستی دستخط کروائے گئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے12 سال میں پاکستان دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائے گا اور جب بھی ملک میں استحکام آتا ہے یہ تماشا شروع ہوجاتا ہے لہذا 23 سال سے جاری اس تماشے کو اب ختم ہوجانا چاہیے۔ دنیا میں کہیں بھی ایسی پٹیشن نہیں دائر ہوتی جو ملک میں ہوتی ہے، سپریم کورٹ نے ارسلان افتخار کیس میں جے آئی ٹی کا طریقہ کار طے کیا تھا، جج کے بیٹے کیلئے کوئی اور قانون اور وزیراعظم کے بیٹے کیلئے کوئی اورقانون نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہن عظمی اور علیمہ کو بھی اگر ایسے بلایا جائے گا تو برا لگے گا، مریم نواز شریف وزیر اعظم کے ساتھ قوم کی بھی بیٹی ہے، سپریم کورٹ مریم نواز کو ایسے بلانے پر نوٹس لے،جے آئی ٹی مریم نواز کو بلانے کے بجائے ان کو سوالات بھیجے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ جو منہ میں آئے بول دینا بڑا آسان ہے لیکن آدمی کو سوچ سمجھ کر بات کرنا چاہیے، عمران خان بنیادی طور پر ڈرپوک آدمی ہیں، یہ تو اپنی شادی بھی چھپاتے ہیں ، ان کی جمائمہ سے شادی بھی جہاں بتاتے ہیں وہاں نہیں کہیں اور ہوئی ہے، وہ کس منہ سے نوازشریف کے خلاف 62 اور 63 کا کیس کرتے ہیں، انہوں نے عطیات کی رقم سے جوا کھیلا، وہ آج بھی ٹیکس چور اور جواری ہیں۔ ان کے لیے کیلی فورنیا کا کیس ہی کافی ہے۔ وہ پیسے باہر بھیجنے کی بات کرنے سے پہلے اپنے دائیں بائیں اے ٹی ایم مشینوں کو دیکھیں۔ عمران خان کے جھوٹ ان کے منہ پر آئیں گے اور صرف سچ باقی رہے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جب سے 2013 کا الیکشن ہوا ہے اس وقت سے عمران خان کو چین نہیں آیا، انہوں نے نوجوانوں کا اخلاق تباہ کردیا ہے، ان سے کوئی اور تماشا کروارہا ہے، عمران خان وزارت عظمیٰ کیلئے پرویز مشرف کی جوتیاں چاٹتے رہے اور پھر ریفرنڈم کی حمایت پر انڈے کھائے۔ عمران بتائیں کہ ان کی وفاداری پاکستان کے ساتھ ہے یا یہودیوں کے ساتھ، میں چارٹرڈ اکاونٹنٹ ہوں لیکن عمران خان بتائیں کہ ان کے اثاثے مجھ سے زیادہ کیسے ہوگئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حسن نواز، حسین نواز، وزیراعظم کے کزن طارق شفیع اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔

معمولی ہدف پہاڑ بن گیا ، بھارتی سورما کالی آندھی کے سامنے ڈھیر

اینٹیگا(اے پی پی) ویسٹ انڈیز نے چوتھے ون ڈے انٹرنیشنل میں بھارت کو 11 رنز سے شکست دے دی۔ بھارتی ٹیم 190 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ جیسن ہولڈر کو 5 وکٹیں حاصل کرنے پرمیچ کا بہترین پلیئر قرار دیا گیا۔ اینٹیگا میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 189 رنز بنائے۔ ایون لوئس اور کائل ہوپ 35 ، 35 جبکہ شے ہوپ 25 اور روسٹن چیز 24 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ امیش یادیو اور ہارڈیک پانڈیا نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔ بھارت کی ٹیم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم 49.4 اوورز میں 178 رنز بناکر آﺅٹ ہوگئی۔ اجنکیا راہانے 60 اور ایم ایس دھونی نے 54 رنز بنائے۔ جیسن ہولڈر نے تباہ کن باﺅلنگ کی اور 27 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔ انہیں میچ کا بہترین پلیئر قرار دیا گیا۔

ڈائنابیگ ویمنزکرکٹ کی ”جونٹی روڈ“قرار

لندن (نیوزایجنسیاں)انگلینڈ میں جاری آئی سی سی ورلڈ کپ میں پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں 95 رنز سے شکست تو ہوئی مگر اس میچ نے پاکستان کو ڈائنا بیگ کی صورت میں ایسا کھلاڑی دیا ہے جس کی شاندار بولنگ اور فیلڈنگ سے کرکٹ کے ماہرین بہت متاثر ہوئے ہیں اور سب کا یہی سوال ہے کہ ڈائنا کو ٹورنامنٹ میں پہلے کیوں موقع نہیں دیا گیا۔ٹورنامنٹ میں انڈیا کے خلاف ڈائنا بیگ کو کائنات امتیاز کی جگہ کھلایا گیا اور انھوں نے اپنے دوسرے ہی اوور میں سمریتی مندہنہ کی قیمتی وکٹ حاصل کی۔ ایک خصوصی انٹرویو میں ڈائنا نے کہا ‘میں نے میچ سے پہلے سمریتی کی بیٹنگ کی کافی ویڈیوز دیکھیں جس کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ان سوِئنگ پر کمزور ہیں، اس لیے میں نے سوچا کہ میں ان کو وہیں کھلاو¿ں جہاں وہ پھنستی ہیں۔میں نے اپنا پلان فالو کیا اور اسی لیے مجھے وکٹ مل گئی۔ یہ وکٹ لے کر مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ یہ میرے ون ڈے کریئر کی پہلی وکٹ ہے۔’21 سالہ ڈائنا بیگ کا کہنا ہے ‘مجھے فیلڈنگ کا بہت شوق ہے۔ میں کافی ایتھلیٹک ہوں اور اس ورلڈ کپ کے لیے میں نے فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دی۔’ڈائنا کی عمدہ فیلڈنگ کی وجہ سے انہیں لڑکیوں کا جونٹی رہوڈز بھی کہا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ‘میرے کالج میں سر ہمیشہ مجھے لڑکیوں کا جونٹی رہوڈز کہتے تھے۔’ڈائنا نے بتایا کہ ‘میں نے ڈائیو لگانا جنوبی افریقہ کے جونٹی رہوڈز سے سیکھا۔ میں ان سے بہت متاثر ہوں۔ میں ان کی ویڈیوز دیکھتی ہوں تاکہ اپنی کارگردگی بہتر کر سکوں۔ میں دائیں طرف اچھی ڈائیو کرتی ہوں مگر بائیں جانب کام کرنے کی ضرورت ہے۔’ڈائنا پانچ تاریخ کو لیسٹر میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اگلے میچ میں اس سے بھی بہتر کارگردگی دکھانے کی کوشش کریں گی۔ڈائنا ماضی میں پاکستان کے لیے انٹرنیشنل فٹ بال کھیل چکی ہیں وہ فٹبال کے میدان میں ڈیفینڈر کی حیثیت سے اپنے جوہر دکھاتی تھیں۔ تاہم اب وہ کرکٹ پر پوری توجہ دینا چاہتی ہیں اس لیے تقریباً ایک سال سے انھوں نے فٹبال نہیں کھیلی۔ڈائنا کو 16 برس کی عمر میں ڈومیسٹک کرکٹ میں پہلی بار موقع ملا تھا جبکہ پاکستان اور انڈیا کا مقابلہ کسی بھی ورلڈ کپ میں ڈائنا کا پہلا اور ان کے انٹرنیشنل کریئر کا تیسرا ون ڈے میچ تھا۔ اس سے پہلے وہ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے جبکہ ایک ٹی ٹوئنٹی میچ بھی کھیل چکی ہیں۔

غلط شاٹ سلیکشن تیسرے میچ میں ہارکاسبب

نارتھ ساﺅنڈ ( نیو ز ا یجنسیا ں ) ویرات کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں عبرتناک شکست کی وجہ بیٹسمینوں کی غلط شاٹ سلیکشن کو قرار دیدیا۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے 189 رنز کے جواب میں پوری ٹیم 178 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی، کپتان جیسن ہولڈر نے 5 وکٹیں حاصل کرتے ہوئے ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا کہ ہمارے بولر ز نے اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو 189 تک محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا، ہماری شاٹ سلیکشن درست نہیں تھی، اہم مواقع پر بڑی وکٹیں گنوانے سے یقینی فتح سے ہاتھ دھونے پڑے۔کوہلی کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈین بولرز کو کریڈٹ دوں گا کہ جنہوں نے ڈاٹ بالز کے ذریعے بیٹسمینوں کو غلطیاں کرنے پر مجبور کیا تاہم کرکٹ میں ایسے ہوتا رہتا ہے، اب ہماری پوری توجہ سیریز کے آخری میچ پر مرکوز ہے جس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے۔

جنوبی افریقن ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ڈوپلیسی بیٹی کے باپ بن گئے

لاہور(نیوزایجنسیاں) کرکٹ کے شائقین کیلئے خوشخبری ہے کہ جنوبی افریقی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی ایک بیٹی کے باپ بن گئے ہیں۔ انھیں جیسے ہی یہ خبر ملی انہوں نے یہ وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا اور فوری طور پر جنوبی افریقا واپس پہنچ گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فاف ڈوپلیسی 6 جولائی کو لارڈز میں انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں دستیاب نہیں ہونگے۔ ان کی جگہ ڈین ایلگر کو کپتانی کے فرائض سونپے جانے کا امکان ہے۔

کرکٹرز ہائی پرفارمنس کیمپ میں ٹریننگ کےلئے تیار

لاہور (نیوزایجنسیاں ) نیشنل کرکٹ اکیڈمی نے قومی ٹیم کی آئندہ غیرملکی سیریز میں بہترین کارکردگی کیلئے 10ہفتوں کا تربتی کیمپ کافیصلہ کر لیا، این سی اے کے کوچزکیمپ میں کھلاڑیوں کی تربیت کر ینگے۔ تربیتی کیمپ 5جولائی سے شروع ہو گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر نیشنل کر کٹ اکیڈمی میں قومی ٹیم کے آئندہ غیر ملک میچز کو مد نظر رکھتے ہوئے 10ہفتوں کے تربیتی کیمپ کا فیصلہ کر تے ہوئے کل سے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جس میں این سے اے کے کوچز کھلاڑیو ں کی تربیت اور مستقبل میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ کھیلنے والے ممالک کو مد نظر رکھتے ہوئے بائیو مکینکل اسٹڈی بھی کروائینگے ،کیمپ کے پہلے دو دنوں میں کھلاڑیوں کے لئے کوچز انفرادی تربیت کرینگے ۔اوپنرز میں سمیع اسلم، فخر زمان، امام الحق، صاحبزادہ فرحان، مڈل آرڈر میں عمر امین، حارث سہیل، عثمان صلاح الدین، آصف ذاکر، عمر اکمل، فاسٹ بولرز میں عثمان شنواری، ثمین گل، محمد عرفان، میر حمزہ، رومان رئیس، اسپنرز میں محمد اصغر، شاداب خان، بلال آصف، محمد عرفان، اسامہ میر، فاسٹ بولنگ آل راﺅنڈرز میں عامر یامین، فہیم اشرف، عماد بٹ اور حسین طلعت، اسپن بولنگ آل راﺅنڈرز میں محمد نواز، آغا سلمان اور وکٹ کیپرز میں محمد رضوان اور محمد حسان شامل ہیں۔

خالد لطیف کا پھر پیش ہونے سے انکار

( نیوزایجنسیاں) پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے سپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث کرکٹر خالد لطیف کو منگل کو پیش ہونے کا خط لکھا۔پی سی بی اینٹی کرپشن ٹربیونل نے خالد لطیف کو آج طلب کیا تھا تاہم وقت پر نوٹیفکیشن نہ ملنے پر کرکٹر نے حاضر ہونے سے انکار کر دیا۔ خالد لطیف نے اینٹی کرپشن ٹربیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ اصغر حیدر کے اہلیت پر اعتراض اٹھایا تھا جسے پی سی بی کے مطابق ڈسپلنری ٹربیونل نے خارج کر دیا مگر کرکٹر کے وکیل بدر عالم کا کہنا ہے کہ ایک رکنی ڈسپلنری ٹربیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ فضل میراں چوہان کا دستخط شدہ فیصلہ موصول نہیں ہوا، اب پی سی بی اینٹی کرپشن ٹربیونل نے ایک روز پہلے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اتنے کم وقت میں نہیں پہنچا جا سکتا۔اینٹی کرپشن ٹریبیونل سربراہ کی اہلیت کےخلاف خالد لطیف کی درخواست پر فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کرکٹر کی جانب سے جسٹس (ر) اصغر حیدر پر لگایا گیا الزام بے بنیاد ہے، قوانین کے مطابق وہ کیس کی سماعت کرنے کے مجاز ہیں اور کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ خالد لطیف نے ڈسپلنری پینل میں ٹریبیونل کے سربراہ کی اہلیت کے خلاف درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جسٹس (ر) اصغر حیدر پی سی بی کے سابق لیگل ایڈوائزر رہے ہیں اور کیس کا ایک فریق پی سی بی ہے جس کے ساتھ وہ منسلک رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں ٹریبیونل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ درخواست پر دو مرتبہ سماعت ہوئی، ایک میں خالد لطیف حاضر نہیں ہوئے جب کہ گزشتہ روز وہ وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے تھے اور اپنا مو¿قف پیش کیا تھا جس کے بعد پینل نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔اس سے قبل وکیل بدرعالم نے گزشتہ پیشی کے بعد میڈیاسے گفتگو میں کہا تھا کرنل اعظم نے بتایا کہ 6 فروری کو بکی کی آمد کا علم ہو گیا تھا، 9 فروری کو بکی نے کھلاڑیوں سے رابطہ کیا، سوال یہ ہے کہ کھلاڑیوں کی نگرانی کیوں نہیں کی گئی اور انہیں خبردار کیوں نہیں کیا گیا، بکی کی گرفتاری کے حوالے سے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا جواب جمع کروا دیا ہے، ہمارا کیس بہت مضبوط ہے اور پی سی بی کے پاس ایک ثبوت بھی موجود نہیں ہے، خالد لطیف کے بیان کو توڑ مروڑ کر جرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا کہ کرکٹر کے وکیل کی جانب سے کرنل (ر) اعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، کبھی ان کے بیان کو اپنے حق میں اور کبھی اپنے خلاف لیتے ہیں۔
، ان پر جانبدارانہ کارروائی کا الزام لگایا گیا اور اب ٹریبیونل کے سربراہ پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، پلیئرز کو 9 مارچ کو بھی اینٹی کرپشن پر لیکچرز دیئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص کا کیس سے تعلق نہ ہو وہ سپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت کر سکتا ہے، پی سی بی کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں کوئی صداقت نہیں۔

امریکہ اور عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم بند کرائیں

اسلام آباد، راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی‘بیورو رپورٹ) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ شرکت دار گہرے دوست ہیں ، دونوں ملکوں میں اور مستحکم شرکت داری خطے کے لیے اہم ہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں، افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہترکرنے کے لیے اقدامات کیے، ا مریکہ اور عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرے۔ جبکہ امریکی سنیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں قابل قدرہیں۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو وزیراعظم نواز شریف سے امریکی سنیٹر کے وفد نے ملاقات کی ۔امریکی سینیٹ کی آرمڈ کمیٹی کے وفد میں جان مکین، لنڈسے گراہم، شیلڈن وہائٹ ہاوس، الزبتھ وارن اور ڈیوڈ پرڈیو جبکہ امریکی ناظم الامور جوناتھن پراٹ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہاپاکستان اور امریکہ مضبوط شرکت دار اور گہرے دوست ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار اور مستحکم شرکت داری خطے کے لیے اہم ہیں گزشتہ 4سال میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں۔پاکستان کی موجودہ سلامتی صورتحال حکومتی کوششوں کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروںکا اعتماد بہال ہوا اور ملک میں معاشی استحکام رہا۔ ہماری حکومت ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہاں ہے افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہترکرنے کے لیے اقدامات کیے۔پاکستان افغانستان نے پائیدار امن واستحکام کے لے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا افغانستان میں امن اور خوشحالی کے لیے پاک افغان امریکہ شراکت داری اہم ہے۔مقبوضہ کشیمر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش ہے۔ ا مریکہ اور عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خاتمہ کے لیے کردار کرے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر جان مکین نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان وامریکہ قریبی تعاون ضروری ہے۔امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔خطے میں امن کے لیے پاکستان امریکہ قریبی تعاون ضروری ہے۔امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان امریکہ کا قریبی دوست اور شراکت دار ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں قابل قدرہیں۔پاکستان امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارت اورسرمایہ کاری نے تعاون ضروری ہے۔ ملاقات میںوزیراعظم کے ہمراہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور دیگر اراکین شامل تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے ایئر چیف مارشل سہیل امان نے ملاقات کی جس میں پاک فضائیہ کے پیشہ وارانہ اور تربیتی امور سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وزیر اعظم محمد نواز شریف سے پاک فضائیہ کے ایئر چیف مارشل سہیل امان نے وزیر اعظم ہاﺅس میں ملاقات کی جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی شامل تھے اس موقع پر سہیل امان نے نواز شریف کو پاک فضائیہ کے پیشہ وارانہ اور تربیتی امور سے متعلق آگاہ کیا جس میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہوتی ہے اور پوری قوم کو فخر ہے اور وہ جانتی ہے کہ ہماری ایئرفورس کا ملکی دفاع میں اہم کردار ہے اور پاک فضائیہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے اور ہر طرح کے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ ایئرمارشل نے کہا کہ پاک سرزمین کی حفاظت کے لئے فضائیہ ہمہ وقت تیار ہے اور مادر وطن کی حفاظت پر کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے وفد نے سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا جہاں انہیں پاک افغان سرحدی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کے کام اور نگرانی کے نظام سمیت اٹھائے جانے والے دیگر اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے وفد نے سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا جہاں انہیں پاک افغان سرحدی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کے کام اور نگرانی کے نظام سمیت اٹھائے جانے والے دیگر اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد کو جنوبی وزیرستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ امریکی وفد کو جنوبی وزیرستان کا دورہ کرانے کا مقصد اسے سرحدی علاقے میں تعمیر ہونے والے نئے قلعوں، چیک پوسٹس، اسکولز، کالجز، اسپتال، فراہمی آب کی اسکیمز، سڑکوں اور مواصلاتی انفرااسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی کاموں سے متعلق آگاہ کرنا تھا۔امریکی وفد نے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد زمینی حقائق کو خود دیکھا اور علاقے میں دوبارہ قیام امن کے لیے پاک فوج اور مقامی قبائل کی قربانیوں کا بھی اعتراف کیا۔ امریکی سینیٹرز نے پاک افغان سرحد پر منظم سیکیورٹی ہم آہنگی اور تعاون کے میکنزم کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ بعد ازاں امریکی وفد کو لائن آف کنٹرول کا بھی دورہ کرنا تھا تاہم خراب موسم کی وجہ سے وہ ایل او سی تک نہ جاسکے۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کا دورہ کرنے اور فاٹا کی سماجی و معاشی ترقی کو سپورٹ کرنے پر امریکی سینیٹرز کا شکریہ بھی ادا کیا۔ قبل ازیں وانا پہنچنے پر امریکی وفد کا استقبال کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کیا۔