”نئے وزیر اعظم کیلئے نام فائنل“

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے نا اہل ہونے کے بعد وزیر اعظم ہائوس میں ہنگامی اور اہم ترین اجلاس جاری ہے جس میں پی ایم ایل این کے آئندہ کے وزیر اعظم کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔نواز شریف کی جانبسے شاہد خاقان عباسی اور سردار ایاز صادق کا نام وزارت عظمیٰ کیلئے دیا گیا ہے اور اس پر حتمی فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ (ن) لیگ کے اہم رہنما اور وفاقی وزرا اس وقت وزیر اعظم ہائوس میں موجود ہیں۔ قبل ازیں وزیر اعظم ہائوس پہنچنے والے وفاقی وزیر داخلہ چوہدرینثار عین سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت وزیر ہائوس سے پنجاب ہائوس کیلئے روانہ ہو گئے۔مزید برآںمیڈیا رپورٹ کے مطابق نواز شریف اور ان کے خاندان کے تمام افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نواز شریف کے سپریم کورٹ سے نا اہل ہونے کے بعد حکم جاری کیا ہے کہ شریف خاندان کےتمام افراد کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے تا کہ ان میں سے کوئی بیرون ملک نہ جا سکے۔ مسلم لیگ نون کے اہم راہنماءاور وفاقی وزیردفاع خواجہ محمد آصف دودن سے ملک سے باہر ہیں اور نیویارک میں ایک دوست کی رہائش گاہ پر مقیم ہیں -مسلم لیگ نون کی میڈیا ٹیم کے اہم رکن طلال چوہدری کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ بھی دو دن پہلے ملک سے باہر چلے گئے تھے اسی طرح کئی دیگر وزراءاور اراکین اسمبلی بھی بیرون ملک چلے گئے ہیں -مسلم لیگ نون کے قریب سمجھے جانے والے کئی بیوروکریٹس‘وزراءاور اراکین پارلیمنٹ نے اپنے خاندان پچھلے ہفتے بیرون ممالک بجھوادیئے تھے-

نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ترجمان مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ نواز شریف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔ترجمان مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیا ہے جب کہ کابینہ بھی تحلیل ہوگئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ پٹیشن کے اندراج سے فیصلے تک مختلف مراحل میں شدید تحفظات کے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ترجمان (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ پورے عدالتی عمل کے دوران ایسی مثالیں قائم ہوئیں جن کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی جب کہ منصفانہ ٹرائل کے آئینی اور قانونی تقاضے بری طرح پامال کئے گئے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، عدالتی فیصلے کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں تاہم تمام آئینی و قانونی آپشن استعمال کئے جایئں گے اور عوام کی عدالت میں سرخرو ہوں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے پاناما کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے۔

نئے وزیراعظم بارے جمائما کا حیرت انگیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ا?ئی) چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی پر خوشی کا اظہار کیا۔ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں بظاہر عمران خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں کسی وزیراعظم نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہیں کی۔ انشائ اللہ اگلا وزیراعظم کرے گا۔‘

”اس شخص نے مجھے کمرے میں بند رکھا“ ماہین فاطمہ کا قائمہ کمیٹی میں زبرست انکشاف

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے حکام نے سابق چیئرمین ظفر حجازی کےحوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کر دئےے۔کمشنر ایس ای سی پی طاہر محمود نے کہا کہ ظفر حجازی نے جون 2016میںافسران پر دباﺅ ڈال کرچوہدری شوگر ملز کی انکوائری پرانی تاریخوں جنوری2013 میں بند کر ائی،کیس پرانی تاریخوں میں بند کرانے سے انکو کیا فائدہ ہوا اس بارے کچھ نہیں بتا سکتا، اس کی وجہ شائد یہ ہو کہ جون 2016میں پانامہ کیس شروع ہو چکا تھا اور جبکہ جنوری 2013میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ ایس ای سی پی کی ڈرایکٹر انفورسمنٹ ماہین فاطمہ نے کہا کہ پانامہ جے آئی ٹی کے سامنے دیئے جانے والے بیان کو تبدیل کرنے کےلئے ظفر حجازی نے مجھے 14 جون کو 3گھنٹے تک کمرے میںمحصور رکھااور کہا کہ تحریری طور پر بیان تبدیل کرو اور لکھ کر دو کہ جے آئی ٹی نے مجھ سے زبردستی بیان لیا،مجھے طاہر محمود اور عابد حسین کی مداخلت پر جانے دیا گیا،ایس ای سی پی کے آفسر علی عظیم نے کہا کہ ظفر حجازی نے مجھے برطانوی حکام کو خطو ط لکھنے اور ان سے ریکارڈ طلب کرنے پر ڈانٹا تھا ۔چیئر مین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سٹیٹ بینک کی جانب سے جے آئی ٹی میں بیان ریکارڈ کروانے والے ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک ریاض رضی الدین کی کمیٹی میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاض رضی الدین نے تصدیق کی تھی کہ وہ کمیٹی میں آئیں گے ،ریاض رضی الدین نے کمیٹی کو جے آئی ٹی کو فراہم کیے گئے ریکارڈ پر بریفنگ دینا تھی،ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو کمیٹی میں آنے سے کیوں روکا جارہا ہے؟کمیٹی نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو آئندہ کمیٹی اجلاس میں ہر صورت میں اپنی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا،جس میں کمیٹی ارکان سمیت قائم مقام چیئر مین سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ظفر عبداللہ،کمشنر ایس ای سی پی طاہر محمود،پانامہ کیس میں بنائی گئی جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کروانے والے ایس ای سی پی کے حکام علی عظیم ،ماہین فاطمہ ،عابد حسین،گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ،چیف شماریات آصف باجوہ و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔چیئر مین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن انتہائی اہم ادارہ ہے ادارے کا سربراہ گرفتار ہوا جس سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی،جانناچاہتے ہیں ایس ای سی پی کاامیج کیوں خراب ہوا؟ بتایاجائے چیئرمین ایس ای سی پی سپریم کورٹ کے حکم پرکیوں گرفتارہوئے؟ ۔ مقام چیئر مین سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ظفر عبداللہ نے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اسلئے اس پر بات کرنا مناسب نہیں ،جس پر چیئر مین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں نے ایک جواب رٹ لیا ہوا ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے اسلئے اس پر بات نہیں سکتے،پانامہ کیس پوری دنیا میں زیر بحث ہے ہم کیوں اس پر بات نہیں کر سکتے ہمیں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے کیوں چیئر مین ایس ای سی پی گرفتار ہوئے۔اس موقع پر کمشنر ایس ای سی پی طاہر محمود نے کہا کہ 2011میں ایس ای سی پی نے چوہدری شوگر مل سمیت کچھ کمپنیز کیخلاف تحقیقات شروع کیں، جس کے انکوائری آفیسر علی عظیم ،ماہین فاطمہ تھے،ایس ای سی پی نے ”ایف ایف اے برطانیہ” اور” یوکے سینٹرل اتھارٹی ”کو معلومات حاصل کرنے کیلئے خطوط لکھے،ایف ایف اے نے 7سے 8مہینے بعد جواب دیا مگر یو کے سینٹرل سینٹرل اتھارٹی نے 2سال بعد 2013میں جواب میں21پوائنٹس پر مشتمل سوالنامہ ہمیں بھیجا کہ کیوں یہ معلومات ایس ای سی پی کو درکار ہیں مگر ہم ان سوالات کا جواب نہ دے سکے، چیئر مین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جتنے بھی سرکاری افسران یہاں بیٹھے ہیں،ان سے درخواست ہے کہ وہ کسی ایک شخص کی ایماءیا اپنی ترقی کیلئے غلط کام نہ کریں۔اس موقع پر کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک فریق کا موقف سنا ہے جب تک ہم دوسرے فریق کا موقف نہیں سن لیتے تب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔چیئر مین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سٹیٹ بینک کی جانب سے جے آئی ٹی میں بیان ریکارڈ کروانے والے ڈپٹیگورنر سٹیٹ بینک ریاض رضی الدین کی کمیٹی میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ریاض رضی الدین کو طلب کیا تھا ، ریاض رضی الدین نے تصدیق کی تھی کہ وہ کمیٹی میں آئیں گے ،ریاض رضی الدین نے کمیٹی کو جے آئی ٹی کو فراہم کیے گئے ریکارڈ پر بریفنگ دینا تھی،ریاض الدین نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کی انکوائری رپورٹ پیش کرنا تھی،ریاض رضی الدین کو جان بوجھ کر کمیٹی میں نہیں آنے دیا گیا،گورنر اسٹیٹ بینک سے اس معاملے سے وضاحت طلب کی گئی ہے ،ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو کمیٹی میں آنے سے کیوں روکا جارہا ہے۔کمیٹی نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ریاض رضی الدین کو آئندہ اجلاس میں ہر صورت میں اپنی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

نواز شریف نا اہل ہونے کے بعد سب سے بڑی خبر، تا حیات نا اہل قرار

جسٹس ا?صف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعیداور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے 21 جولائی کو 3 رکنی خصوصی بینچ کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا۔فاضل بینچ کے پانچوں جج صاحبان نے متفقہ طور پر نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا ہے، اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب کو حکم دیا ہے کہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف 6 ہفتوں میں ریفرنس دائر کیا جائے۔واضح رہے کہ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی عملدرا?مد بینچ کے روبرو جے ا?ئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی عدالت نے 5 سماعتوں کے دوران رپورٹ پرفریقین کے اعتراضات سنے اور 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

ن لیگ کو ایک اور بڑا جھٹکا ،سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کو بھی نااہل قرار دیدیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بھی نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے دیا۔اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجازافضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ کورٹ نمبر ایک میں فیصلہ سنایا۔جسٹس اعجاز افضل خان نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بینچ کے پانچوں ججوں نے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا۔ وزیراعظم نوازشریف کو ا?ئین کے ا?رٹیکل 62 اور 63 کے تحت نا اہل قرار دیا گیا۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہےکہ وہ فوری طور پر وزیراعظم کی نااہلی کا نوٹی فکیشن جاری کرے۔

سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کا اہم فیصلہ آج سُنایا جائےگا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ ملکی تاریخ کے اہم ترین پاناما کیس کاحتمی فیصلہ آج سنائے گی۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلے کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس شیخ عظمت سعیداور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل5 رکنی لارجر بینچ صبح ساڑھے 11 بجے کورٹ روم نمبر ایک میں وزیراعظم کی اہلیت یا نااہلی کے متعلق فیصلہ سنائے گا۔ اس حوالے سے درخواست گزاروں عمران خان، سراج الحق، شیخ رشید اور مدعا علیہان وزیراعظم، انکے بچوں، اسحاق ڈار اور کیپٹن(ر) صفدر کے وکلا کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، اسکے علاوہ سیکرٹری داخلہ، سیکریٹری قانون و انصاف اور سیکریٹری الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔قبل ازیں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل3 رکنی عملدرآمد بینچ کے روبرو جے آئی ٹی نے 10جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی عدالت نے 5سماعتوں کے دوران رپورٹ پرفریقین کے اعتراضات سنے اور21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا، اب حتمی فیصلے کیلیے چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔

منتخب وزیراعظم کو عدالتوں کے زریعے ہٹانے کی سوچ زہر قاتل

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ منتخب وزرا اعظم کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے ہٹوانے کی سوچ اور عمل ملک کے لیے زہر قاتل ہیں۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ منتخب وزیر اعظم کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے ہٹوانے کی سوچ اور عمل ملک کے لیے زہر قاتل ہیں جب کہ آئین میں دفعہ62/63 کی حیثیت مرحومہ58-2بی کے مساوی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ مسلسل 4 برس ملک کو بحرانوں سے نکالتے اور سازشوں کو ناکام بناتے گزارے تاہم نفرت، تعصب اور انتقام ترقی و استحکام کی شاہراہ پر گامزن پاکستان کو منزل سے ہٹاسکتا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جے آئی ٹی کی بھاری بھرکم رپورٹ بدنیتی اور عدم انصاف کا شاہکار تھی کیونکہ یہ کام 2 ماہ میں ممکن ہی نہیں تھا، لگتا ہے کہ جنات نے جے ا?ئی ٹی کی مدد کی، پانامہ پیپرز عالمی طاقتوں کی سازش ہے جس کا نشانہ پیوٹن نواز شریف اور کیمرون تھے جب کہ پانامہ پیپرز سازش کے پاکستانی کھلاڑی جلد اپنے کیے پر پچھتائیں گے، ہمیں گرانے کے شوق میں ملک اور جمہوری نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

کون بنے گا وزیر اعظم؟

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم میاں نواز شریف کی نا اہلی کی صورت میں وزارت عظمیٰ کے حصول کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے چوہدری نثار علی خان سے مدد مانگ لی ہے۔ مستقبل قریب میں چوہدری نثار کو وزیر خارجہ یا وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی یقین دہانی کروادی گئی۔ وزارت عظمیٰ کے لئے مسلم لیگ (ن) میں دو دھڑے کھل کر سامنے آ گئے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز شاہد خاقان عباسی یا خواجہ آصف اور احسن اقبال میں سے کسی ایک کو وزیراعظم بنانے کے لئے بضد ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری نثار علی خان کا پتہ استعمال کر کے وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اندر اس وقت وزریاعظم میاں نواز شریف کے متبادل کے لئے شدید جنگ جاری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیر دخالہ چوہدری نثار علی خان کو دو مسلسل ملاقاتوں کے بعد انکشافات سے بھرپور پریس کانفرنس کرنے سے روک لیا۔ چوہدری نثار علی خان کو محدود پریس کانفرنس کی اجازت دی گئی۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف نے چوہدری نثار علی خان سے سیاسی مددکی بھی اپیل کی ہے تاکہ خواجہ آصف چوہدری احسن اقبال یا شاہد خاقان عباسی کی بجائے انہیں وزیراعظم بنایا جائے اس کے بدلے میں چوہدری نثار علی خان نے اس خواہش کا اظہار کی اہے کہ انہیں مستقبل قریب میں یا تو وزارت خارجہ کا قلمدان دیا جائے اور یا پھر وزیراعلیٰ پنجاب بنایا جائے۔ ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف نے چوہدری نثار علی خان سے وعدہ کیا ہے اگر وہ وزیراعظم ہوئے تو وہ ان دو عہدوں میں سے ایک پر انہیں نامزد کریں گے۔ واضح رہے کہ شریف برادران نے جلا وطنی کے دوران بھی چوہدری نثار علی خان سے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں انہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا جائے گا لیکن اقتدار ملنے کے بعد شریف برادران اس وعدے سے منحرف ہو گئے اور 2013ءکے الیکشن میں چوہدری نثار علی خان نے پارٹی پالیسی کیخلاف پنجاب اسمبلی کا الیکشن گائے کے انتخانی نشان پر لڑا اور نشست بھی چیت لی لیکن مسلم لیگ (ں) ایک بار پھر انہیں نظر انداز کر کے وزارت اعلیٰ شہباز شریف کے پاس ہی رکھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت عظمیٰ کے لئے میاں شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان اور حمزہ شہباز شریف لابنگ کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وزیراعظم میاں نواز شریف انکی صاحبزادی ، مشیر خاص عرفان صدیقی ، وزیر دفاع خواجہ آصف بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی طرح وزارت عظمیٰ میاں شہباز شریف یا انکے نامزد کردہ کسی شخص کے پاس نہ جائے۔ آج سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کسی فیصلے پر پہنچ پائے گی کہ نواز شریف اگر نا اہل ہو گئے تو متبادل وزیراعظم کون ہو گا؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو وزیراعظم نہ بنائے جانے کی صورت میں چوہدری نثار علی خان شدید رد عمل کا اظہار کریں گے اور مسلم لیگ (ن) میں بڑے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہونے کا امکان ہے۔

عمران خان پانامہ کا فیصلہ سننے سپریم کورٹ کیوں نہیں جارہے؟ سنسنی خیز انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پاناما کیس کا فیصلہ سننے سپریم کورٹ نہیں جائیں گے۔چئیرمین تحریک انصاف عمران خان پاناما کیس کا فیصلہ سننے سپریم کورٹ نہیں جائیں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان پاناما کیس کا فیصلہ گھر میں ٹی وی پر سنیں گے تاہم عمران خان کے وکیل پاناما کیس کا فیصلہ سنیں گے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے 41 رہنماو¿ں کو سپریم کورٹ کے خصوصی پاس جاری کیے گئے ہیں جو سپریم کورٹ میں جاکر پاناماکیس کا فیصلہ سنیں گے۔