لنکن ٹیم نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا

لاہور(آئی این پی) سری لنکن کرکٹ ٹیم نے ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اکتوبر میں سیریز طے ہے،پی سی بی حکام نے سری لنکن بورڈ سے درخواست کی تھی کہ وہ 2 ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے اپنی ٹیم پاکستان بھجوائیں، چیئرمین پی سی بی کے مطابق سری لنکن حکام نے حامی بھرنے کے بعد اب معذرت کرلی ہے۔سری لنکن ٹیم کی جانب سے دورہ پاکستان سے انکار کے بعد اب سیریز کے تمام میچز یواے ای میں ہی ہوں گے، میچز کی تاریخیں سری لنکن بورڈ کو منظوری کے لیے بھجوادی گئی ہیں۔واضح رہے لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد ورلڈ الیون کے دورئہ پاکستان کی چھوٹی سی امید بھی دم توڑنے لگی۔ستمبر میں متوقع سیریز کیلئے حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کا امکان بہت کم رہ گیا۔ورلڈ الیون کا دورئہ پاکستان ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا تھا،آئی سی سی نے ٹیم بھجوانے کے فیصلے کی توثیق بھی کردی تھی، 3ٹی ٹوئنٹی میچز کیلئے مہمان کرکٹرز کی لاہور آمد ستمبر میں متوقع تھی، اہم غیرملکی کھلاڑیوں کی مصروفیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے شیڈول طے کرنے کی اطلاعات ملیں۔رخصتی کے قریب چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا تھا کہ ورلڈ الیون ستمبر کے وسط میں دورہ کرے گی تاہم اس ضمن میں کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آرہی تھی۔، یوا ین پی کے مطابق پی سی بی نے سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے پنجاب کے اعلی حکام سے رابطہ کیا لیکن پاناما کیس کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا،انتظامات کیلئے وقت بہت کم رہ جانے کی وجہ سے پہلے ہی ورلڈ الیون کیخلاف سیریز پر شکوک کے بادل منڈلارہے تھے۔ صرف موہوم سی امید باقی تھی کہ سیاسی حالات بہتر ہونے کی صورت میں شاید پنجاب حکومت سیکیورٹی فراہم کرنے کی حامی بھر لے، مگر فیروز پور روڈ پر دھماکے کے بعد امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق سیاسی اور امن و امان کی موجودہ صورتحال میں کرکٹ سیریز وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔یاد رہے کہ 3مارچ 2009کو لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے پاکستانی میدان ویران ہیں،طویل تعطل کے بعد 2015میں زمبابوے ٹیم نے قذافی اسٹیڈیم میں 3ون ڈے اور 2ٹوئنٹی20میچز کھیلے، رواں سال پی ایس ایل ٹو کا فائنل بھی اسی وینیو پر ہوا، دونوں ایونٹس کے دوران سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری مشینری کو دن رات ایک کرنا پڑے، نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب بھر سے آئے سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار نے قذافی اسٹیڈیم کو ایک قلعے میں تبدیل کردیا تھا۔

اپنے کیریئر میں 19 بلے بازوں کو زخمی کیا، شعیب اخترکاانکشاف

لاہور(آئی این پی) شعیب اختر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ دنیا کے واحد گیند باز ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ بیٹسمینوں کو زخمی کیا لیکن انہوں نے اس کو کبھی انجوائے نہیں کیا، سوائے ایک بلے باز کے، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کون ہیں؟۔راولپنڈی ایکسپریس نے اپنے ان خیالات کا اظہار سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر کے ذریعے کیا اور بتایا کہ وہ کھلاڑی سابق آسٹریلوی اوپنر میتھو ہیڈن تھے، جنھیں میں بری طرح سے گیند مارنے کی کوشش میں رہتا تھا، اور ایسا کرنے میں بہت مرتبہ کامیاب بھی رہا لیکن اب ہم بہت اچھے دوست ہیں۔شعیب اختر نے دعوی کیا کہ انہوں نے اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران 19 بلے بازوں کو زخمی کر کے واپس پویلین بھیجا تھا، لیکن وہ بیٹسمینوں کو اپنی تیز رفتار گیندوں سے زخمی کرنے سے قطعی خوش نہیں ہوتے تھے، تاہم آسٹریلیا کے میتھو ہیڈن واحد بلے باز تھے جنھیں بری طرح سے گیندیں مارنے کی خواہش وہ خود کرتے تھے۔

آل راﺅنڈر عماد وسیم کی ”ممکنہ دلہنیا“ کےساتھ تصاویر منظر عام پر آگئیں

لاہور( آن لائن ) قومی ٹیم کے آل راﺅنڈر عماد وسیم کی ”ممکنہ دلہنیا“ کے ساتھ تصاویر منظر عام پر آگئیں۔ تفصیلات کے مطابق عماد وسیم نے عامر لیاقت کے شو میں بولا تھا کہ وہ جس لڑکی سے شادی کرنے والے ہیں اس کا نام ”A“ سے شروع ہوتا ہے۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر عماد وسیم کی ایک خاتون کے ساتھ بعض تصاویر گردش کر رہی ہیں جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ یہ ممکنہ طور پر وہی لڑکی ہے جس سے عماد وسیم شادی کرنے والے ہیں۔اس بارے میں عماد وسیم کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیاہے۔

وقار کی پالیسیوں سے پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچا

لاہور(آئی این پی) قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کرکٹ دو ، تین سال پیچھے چلی گئی ہے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کامران اکمل کا کہنا تھا کہ وقار یونس ایک ناکام کوچ تھے اور انہوں نے پاکستان کرکٹ کو بہت نقصان پہنچایا،تجربے کرنے کے شوق میں انہوں نے جوش میں آکر ٹیم کے اہم بلے بازوں کو سائیڈ لائن کرکے پاکستان کرکٹ کو 2 سے 3سال پیچھے دھکیل دیا ۔کامران اکمل کا مزید کہنا تھا کہ انہیں تو علم نہیں لیکن وقار یونس کے بعض کھلاڑیوں سے تعلقات اچھے نہیں تھے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ پاکستان کرکٹ کو آگے کیسے لے جانا ہے ، اس کا واضح ثبوت ورلڈ کپ 2015میں نظر آیا جب انہوں نے یونس خان سے اوپن کرنے کا کہا اور وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد کو کئی اہم میچز میں نہیں کھلایا۔وکٹ کیپر بلے باز کا مزید کہنا تھا کہ وقار یونس نے کئی کھلاڑیوں کو حالات کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کرنے اور ٹیم میں سیٹل ہونے کا موقع نہیں دیا ۔،انہیں یاد ہے کہ ایشیا کپ 2014میں عمر اکمل نے افغانستان کیخلاف میچ میں سنچری سکور کی اور اگلے ہی مقابلے میں وہ شاہد آفرید ی کے بعد بلے بازی کرنے میدان میں اترے،وقار بلاشبہ ایک لیجنڈری فاسٹ بالر ہیں تاہم بطور کوچ وہ مکمل طور پر ناکام رہے ہیں ۔وکٹ کیپر بلے باز کا مزید کہنا تھا کہ وقار یونس کے دور میں پاکستان کی تینوں فارمیٹس میں رینکنگ تنزلی کا شکار رہی،وہ ورلڈ کپ 2015کے بعد 6،7نئے کھلاڑی بنگلہ دیش کے دورے پر لے گئے اور ہمیں تاریخ میں پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کیخلاف ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ باب وولمر سمیت دیگر کئی کوچز کے ساتھ کھیل چکے ہیں اور وہ یہ کہ سکتے ہیں کہ وہ کوچز منصوبے بناتے اور ٹیم کو اکٹھا رکھتے تھے تاہم وقار یونس کا تمام تر فوکس صرف اور صرف ٹریننگ پر مرکوز رہا اور انہوں نے کھلاڑیوں کی صلاحیتیں بڑھانے اورکھیل بہتر کرنے پر کوئی کام نہ کیا جس کا سب سے بڑا نقصان ملکی کرکٹ کو ہوا۔

پاناما کیس میں وزیراعظم اہل یا نااہل، فیصلہ آج ہوگا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں، کرائم رپورٹر) پاکستان کی سپریم کورٹ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کے معاملے میں فیصلہ سنایا جائے گا۔سپریم کورٹ کی جانب سے جمعرات کی شب جاری کی گئی سپلیمنٹری کاز لسٹ کے مطابق عدالت کا پانچ رکنی لارجر بینچ صبح ساڑھے گیارہ بجے اس مقدمے کا فیصلہ سنائے گا۔اس بینچ میں فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے والے تین رکنی بینچ کے ارکان جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس عظمت سعید شیخ کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد بھی شامل ہیں۔جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار پاناما کیس کے ابتدائی فیصلے میں اپنے اختلافی نوٹ میں نواز شریف کو پہلے ہی نااہل قرار دے چکے ہیں جبکہ بقیہ تین ججوں نے اس معاملے میں مزید تحقیقات کا حکم دیا تھا۔اس ابتدائی فیصلے کی روشنی میں ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کی گئی تھی جس نے 10 جولائی کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی تھی۔اس رپورٹ پر دلائل کے بعد تین رکنی خصوصی بینچ نے 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ پانامہ کیس کے فیصلے کا اعلان ہوتے ہی ریڈزون میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ ریڈزون کے داخلی راستوں اور سپریم کورٹ کے اطراف میں رینجرز، پولیس اور ایف سی کی بھارتی نفری تعینات کردی گئی۔ ریڈزون کے داخلی راستوں اور سپریم کورٹ کے اطراف میں خاردار تاریں لگائیں سیاسی رہنماﺅں کو بھی سپریم کورٹ میں جانے کیلئے اپنا کارڈ دکھا کر اندر جانے کی اجازت ہوگی اسی طرح میڈیا نمائندوں کو بھی مکمل دستاویزات دکھانے کے بعد ہی سپریم کورٹ میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ریڈزون کو آج صبح سے ہی سیل کردیاجائے گا اور عام افراد کا داخلہ بند رہے گا۔ اسلام آباد پولیس کی سکیورٹی کے خصوصی پلان کے مطابق ریڈزون اور سپریم کورٹ کے گرد رینجرز سمیت 3000اہلکار تعینات ہوں گے۔

مکی نے سرفرازکوعصرحاضرکاکپتان قراردیدیا

لاہور(نیوزایجنسیاں) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے سرفراز احمد کو عصرحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق کپتان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔مکی آرتھر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سرفراز احمد جارحانہ حکمت عملی اور انداز اختیار کرنے والے کرکٹر ہیں اور وہ حریف ٹیم کے خلاف جارحانہ کھیل کو پسند کرتے ہیں اور آج کل کی کرکٹ میں اسی کی ضرورت ہے۔مکی آرتھر کو یقین ہے کہ سرفراز احمد آنے والے دنوں میں مزید بہتر سے بہتر ہوتے جائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ نے نوجوان کرکٹرز کے اعتماد میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔انھوں نے اس سلسلے میں فخرزمان اور شاداب خان کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ فخر زمان کو برینڈن مک کلم اور جیسن روئے کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اسی طرح شین واٹسن اور بریڈ ہیڈن کے ساتھ کھیل کر شاداب خان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔مکی آرتھر نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار انٹرنیشنل کرکٹ کے قریب آنے سے دیگر کھلاڑیوں کو بھی فائدہ ہوگا۔مکی آرتھر نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم نے جس انداز کی کرکٹ کھیلی وہ بہت اہم تھی اور اس جیت کے بعد اب ہم بڑے اعتماد سے ورلڈ کپ کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں اور اپنے کھلاڑیوں کو مناسب وقت اور مواقع دے سکتے ہیں کہ وہ خود کو ورلڈ کپ کے لیے تیار کرسکیں۔درحقیقت چیمپئنز ٹرافی کی جیت نے ہمیں خوداعتمادی دی ہے۔مکی آرتھر کا مزید کہنا تھا پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کے سبب سب سے بڑا نقصان نوجوان کرکٹرز کو ہورہا ہے جو انٹرنیشنل سٹارز کو اپنے سامنے دیکھ نہیں رہے ہیں اور انھیں سیکھنے کا موقع نہیں مل رہا ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے طور پر انٹرنیشنل کرکٹ پاکستان میں واپس لانے کی ہرممکن کوشش کررہا ہے

ویمنز ٹیم کی کوچنگ ، محسن نے سخت شرائط رکھ دیں

لاہور( این این آئی) سابق کرکٹر محسن حسن خان ویمنز کرکٹ ٹیم کی سلیکشن میں اختیارات ملنے سمیت اپنی سخت شرائط پر عہدہ سنبھالنے کیلئے تیار ہیں تاہم چیئرمین پی سی بی حتمی فیصلہ کرینگے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی ناقص ترین کارکردگی کے بعد پی سی بی نے ویمنز کرکٹ کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کیلئے منصوبہ بندی کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ویمنز ٹیم کے معاملات یونس خان کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر جب بورڈ نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے ذمہ داری لینے سے صاف انکار کر دیا۔ اس حوالے سے مصباح الحق کا نام بھی زیر غور تھا لیکن اب محسن حسن خان کو معاملات سونپنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ویمنز کرکٹ میں سفارش کی خبریں منظر عام پر آنے کیساتھ ساتھ سابق کوچز ٹیم میں سینئر کھلاڑیوں کی من مانی کی شکایات کر رہے ہیں جبکہ ورلڈ کپ کیلئے منتخب کی گئی کچھ کھلاڑیوں پر بھی سوالیہ نشان موجود ہے اور اس پر میڈیا کی جانب سے بھرپور تنقید کی جا رہی ہے۔ محسن حسن خان میرٹ کو برقرار رکھنے کی شہرت رکھتے ہیں اس لئے بورڈ انہیں ذمہ داری سونپنا چاہتا ہے۔ذرائع کے مطابق بورڈ کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ کھلاڑیوں کی سلیکشن میں کچھ اختیارات سمیت اپنی سخت شرائط پر عہدہ سنبھالنے کیلئے تیار ہیں۔ انہیں ویمنز ٹیم کا ہیڈ کوچ بنایا جائے گا اور مکمل اختیارات دیتے ہوئے ہر قسم کی مداخلت سے گریز کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے مگر تبدیلی کے حوالے سے حتمی فیصلہ چیئر مین پی سی بی ہی کرینگے۔ شہریار خان کو ورلڈ کپ میں ویمنز ٹیم کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے ٹیم مینجمنٹ کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ویمنز ٹیم کے موجودہ کوچ صبیح اظہر نے اپنی رپورٹ میں ٹیم میں سینئر کھلاڑیوں کی من مانیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ میڈیا میں آنیوالی رپورٹس کے مطابق ورلڈ کپ میں کپتان اور ہیڈ کوچ ایک پیج پر نہیں تھے اور بہت سے فیصلوں میں ثنا میر نے اپنی مرضی کی۔دوسری جانب پی سی بی کے مطابق 28 جولائی کو لاہور میں گورننگ بورڈ اجلاس میں ویمنز کرکٹ، کوچز کے کنٹریکٹ اور دیگر معاملات پر اہم فیصلے ہوں گے۔ ایک پی سی بی آفیشل نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ محسن خان کا نام ویمنز کرکٹ کے حوالے سے زیر غور نہیں ۔

سپریم کورٹ کا نواز شریف کو کلین چٹ دینا مشکل ہو گا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ چودھری نثار کی پریس کانفرنس ”کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا“ کے مترادف تھی۔ اگر وہ ایم این اے ہی نہیں رہیں گے تو نواز شریف ایسی چٹان کا کیا کریں گے؟ چودھری نثار اچھے آدمی ہیں لیکن سچ نہیں بولتے۔ کہتے ہیں کہ ڈیڑھ سال سے وزیراعظم سے ملاقات نہیں ہوئی جبکہ ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کے شروع میں جب سربراہ بنے تو سی پی این ای سے 2 میٹنگز میں کہا کہ وہ نوازشریف سے ملے ہیں۔ ڈان لیکس کے اصل حقائق تو وہ آج تک سامنے نہیں لائے۔ اس کے علاوہ شہباز شریف کے ساتھ رائے ونڈ میں بھی ملے اور کوئٹہ جاتے ہوئے جہاز میں بھی ملاقات کی۔ اگر وہ مشکل وقت میں بھی نوازشریف کے ساتھ رہیں گے تو پھر بتا دیں کہ ناراض کسی کے ساتھ ہے؟ چودھری نثار اگر اتنا اچھا مشورہ دینے والے تھے تو کیا شریف خاندان کو پانامہ کیس میں ایک جواب پر متفق ہونے کا مشورہ دیا تھا؟ ڈیڑھ سال میں وزیراعظم سے 5 ملاقاتیں کیں اور پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ ملاقات نہیں ہوئی۔ نوازشریف کو چاہئے کہ وہ چودھری نثار سے ملاقات کر کے بغل گیر ہوں، سارے گلے شکوے ختم ہو جائیں گے۔ چودھری نثار کے پاس کسی سوال کا جواب نہں تھا جس کی وجہ سے پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں کو سوال ہی نہیں کرنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کا آج فیصلہ آنے کی خبر سن کر خوش ہوں، ہر طرف سے اس کی بات کی جا رہی تھی۔ فیصلہ آنے سے بے یقینی کی صورتحال کا خاتمہ ہو جائے گا۔ میرے خیال میں ججوں کے لئے نوازشریف کو کلین چٹ دینا انتہائی مشکل ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حنیف عباسی اور جاوید ہاشمی سمیت متعدد لوگ جماعت اسلامی سے نون لیگ میں آئے۔ سراج الحق کو ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانی چاہئے کہ لوگ جماعت اسلامی کو چھوڑ کر کیوں جاتے ہیں۔ حنیف عباسی پر ایف ڈرین کیس ہوا پھر ان کو اہم منصوبوں کا انچارج بنا دیا گیا۔ لگتا نہیں کہ وہ اس کیس سے نکل پائیں گے البتہ ان کے لئے جیل میں بھی سہولتیں ہی سہولتیں ہوں گی۔ جیل سیاستدانوں کا دوسرا گھر ہوتا ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہو اسے جیل میں بھی تمام سہولتیں ملتی ہیں۔ انہوں نے ملتان میں بچیوں سے زیادتی کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف کا وہاں جانا اور تھانے کے عملے کو معطل کرنا خوش آئند لیکن وہ ایسے جتنے مرضی آرڈر کر لیں نظام ایسا ہے کہ ملزم پیسہ خرچ کردے تو عدالت میں برسوں کیس چلتا رہتا ہے۔ مختاراں مائی کا کیس بھی ہوا تھا لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اس کیس کو سب سے پہلے روزنامہ خبریں نے شائع کیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ ایسے بے ہودہ واقعات کی روک تھام کے لئے سحری ملٹری کورٹس کی طرح سحری سول کورٹس بنائیں جو زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کے اندر فیصلہ سنا دیں اور مجرم کو عبرتناک سزا دیں کہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے۔ تھانے ککا عملہ معطل کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ رانا ثناءاللہ ایک سال کے دوران ایسے واقعات اور معطل اہلکاروں کی لسٹ منظر عام پر لائیں کہ معطل اہلکاروں کو دوبارہ کہاں تعینات کیا گیا اور کیا سزا دی گئی؟ اگر وہ نہیں بتا سکتے تو ہم پورے صوبے کی تو نہیں البتہ ملتان میں زیادتی کے واقعات اور معطل اہلکاروں کی لسٹ شائع کر دیتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ چودھری نثار نے پریس کانفرنس نہیں بلکہ پریس ٹاک کی۔ کسی صحافی کو سوال ہی نہیں کرنے دیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی و پارٹی کے حوالے سے بات کی جو قومی ایشو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری نثار کی ایک بات سے متفق ہوں کہ پاکستان میں سیاست باعزت کام نہیں رہ گیا۔ چیف رپورٹر خبریں ملتان مرزا ندیم نے کہا ہے کہ پولیس نے زیادتی کیس میں 28 افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ مرکزی ملزم اشفاق مفرور ہے۔ واقعہ 15 روز پہلے کا ہے پولیس کی غفلت کے باعث مقدمہ تاخیر سے درج ہوا۔پولیس صرف ایک دفعہ وہاں گئی دوبارہ نہیں گئی۔ پہلے تھانوں میں حدود کا تعین ہی نہیں ہو سکا۔ پولیس مرکزی ملزم کو گرفتار کر سکتی ہے لیکن نہیں کر رہی۔ گرفتار افراد میں سے چند نے کہا کہ انہیں بکری چوری الزام میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے متاثرہ بچیوں کے بیانات خود سنے اور تھانے کا پورا عملہ معطل کرنے کے احکامات دیئے جن پر عملدرآمد ہو گیا ہے۔

پانامہ فیصلے پر اربوں کا جوا لگ گیا

اسلام آباد (آن لائن) پانامہ لیکس کے فیصلہ پر ملکبھر میں اربوں روپے کی شرطیں لگ گئیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد میں جوا ماسٹرز نے اپنے نیٹ ورک کو متحرک کرنے کے لئے رابطہ کر لئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیصل آباد فرسٹ جبکہ کراچی دوسرے نمبر پر دیکھا جا رہا ہے۔ متعدد جواری رات گئے تک آئینی ماہرین اور سینئر سیاستدانوں سےر ابطہ میں رہے ہیں اور ان سے متوقع فیصلے پر رائے لیتے رہے ہیں۔