جمہوریت کیلئے 21 سال جدوجہد کی

لاہور ( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ مجھ پر فوج کے ساتھ ساز باز کر کے اقتدار حاصل کرنے کے الزامات غلط ہیں،میں نے نہ پہلے ایسا کیا ہے اور نہ آئندہ کبھی فوج کے ساتھ ساز باز کر کے اقتدار کے حصول کی خواہش ہے،انتخابی سیاست میں سیاسی خاندانوں کو ساتھ ملانا ضروری ہے، ایک ہزار حلقوں میں انتخاب لڑنا ہے اور ان سب حلقوں کے لیے نئے لوگ لانا ممکن نہیں ۔ بی بی سی اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ایسے موقع کئی بار آئے جب وہ ملک میں انتشار کا باعث بن سکتے تھے لیکن صرف اسی خدشے کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا کہ کہیں فوج نہ آ جائے۔پاکستان میں جمہوریت برقرار رکھنے میں سب سے زیادہ دلچسپی مجھے ہی ہے۔جمہوریت کا مجھ سے زیادہ بڑا سٹیک ہولڈر پاکستان میں اور کون ہے؟ نواز شریف جنرل جیلانی کے ذریعے سیاست میں آئے اور ذوالفقار علی بھٹو تو چھوٹے سے تھے جب انھیں ایوب خان اوپر لائے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 21 سال جدو جہد کی ہے جس کے بعد وہ اس مقام پر پہنچے ہیں۔ میں نے 21 سال جدوجہد کیا اس لیے کی ہے کہ فوج کو اقتدار میں لے کر آﺅں؟۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے پاس جتنی بڑی ”سٹریٹ پاور“ہے اس کے ذریعے اگر وہ چاہیں تو کسی بھی وقت ملک میں انتشار پھیلا سکتے ہیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔گذشتہ سال اسلام آباد لاک ڈاﺅن کے موقع پر اگر میں پارٹی کی مخالفت کے باوجود پشاور سے آنے والی ریلی کو نہ روکتا تو مجھے پتہ تھا کہ انتشار ہو گا اور گیم ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی اور فوج مداخلت کرے گی۔ اس لیے میں نے انہیں واپس بھیجا اور خود سپریم کورٹ چلا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ جو آدمی ملک میں آزاد انتخابات کے لیے جدوجہد کرتا ہو وہ کیسے چاہے گا کہ فوج اقتدار میں آ جائے۔پارٹی میں نئے شامل ہونے والے سینئر سیاستدانوں اور ان پر اعتراضات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ انتخابی سیاست میں سیاسی خاندانوں کو ساتھ ملانا ضروری ہے۔ایک ہزار حلقوں میں انتخاب لڑنا ہے اور ان سب حلقوں کے لیے نئے لوگ لانا ممکن نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے روایتی سیاست کی مخالفت کرتے رہے ہیں، روایتی سیاستدانوں کی نہیں۔اگر آپ نے صرف نئے لوگوں کو ہی الیکشن لڑانا ہے تو ایسا پاکستان میں تو نہیں چاند پر ہی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ صاف ستھرے لوگوں کو ٹکٹ دیں جو سیاسی خاندانوں سے ہیں اور انتخاب جیت سکتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی تک ایک بھی ایسے شخص کو پارٹی میں شامل نہیں کیا جس کے خلاف نیب میں بد عنوانی کا مقدمہ ہو۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کی مافیا نے یو اے ای میں اقامے حاصل کر رکھے ہیں کیونکہ اقامہ بھاگنے کا آسان راستہ ہوتا ہے۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور چند وزراءکی بددیانتی حیرت انگیز ہے اور ان لوگوں کے لیے بھی یہ حیرت کی بات ہے جو پیسوں کے لیے ان کی لالچ سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی مافیا نے یو اے ای میں اقامے حاصل کر رکھے ہیں کیونکہ اقامہ بھاگنے کا آسان راستہ ہوتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ یواے ای کا مرکزی بینک کھاتہ داروں اور اقامہ رکھنے والوں کی تفصیلات دینے کا پابند نہیں تاہم بین الاقوامی معاہدے کے تحت یو اے ای کا مرکزی بینک غیر ملکیوں کے اکاونٹ کی تفصیلات دینے کا پابند ہے۔

نیا وزیراعظم لانا فائدہ مند نہیں

اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس وقت جب الیکشن میں 10مہینے باقی رہ گئے ہیں کوئی نیا وزیراعظم لانا ملک کےلئے کسی طور پر بھی فائدے مند نہیں ہے، وزیراعظم نوازشریف منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاستدان ہیں اور پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں ، عمران خان ساری عمر لگے رہیں پھر بھی الیکشن کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کو شکست نہیں دے سکتے، اس وقت ملک شدید قسم کے چیلنجز میں گھرا ہے اس لئے ملک میں سیاسی عدم استحکام نہیں آنا چاہئے۔ وہ جمعرات کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو شدید قسم کے چیلنجز درپیش ہیں ، اس وقت مڈل ایسٹ ، افغانستان ، انڈیا اور اسرائیل کے ذریعے وزیراعظموں کی ملاقاتوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے علاوہ انڈیا اور امریکن لابی مل کر جو گھناﺅنے منصوبے پاکستان کے خلاف بنا رہی ہے وہ سب کے سامنے ہیں ایسے موقع پر ہاکستان میں سیاسی عدم استحکام لانا آ بیل مجھے مار والی پالیسی کے مترادف ہوگی ۔ یہ تاریخ دیکھے گی کہ ہم اس مرحلے پر اس موقع سے کیسے گزرے ہیں ۔ احسن اقبال نے کہا کہ تاریخ بتائے گی اس موقع پر جو کچھ ہورہا ہے یہ سہی تھا یا غلط ، پیپلزپارٹی کے دور میں پاور صدر کے پاس تھی مگر ہمارے ساتھ معاملہ الٹ ہے اب وزیراعظم نوازشریف کے پیچھے پوری پاکستانی قوم کا ووٹ ہے ، بدقسمتی سے ہم لوگ دائروں کا سفر توڑنے میں کامیاب نہیں ہو پارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت انتخابات آنے میں بہت کم وقت باقی رہ گی اہے تو نیا وزیراعظم لانا ملک کےلئے کسی طور بھی فائدے مند نہیں ہے ،وزیراعظم نوازشریف منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاستدان ہیں اور پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں ، عمران خان ساری عمر لگے رہیں پھر بھی الیکشن کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کو شکست نہیں دے سکتے۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اللہ خیر کرے گا ،جو بھی صورتحال ہوگی اس کا سامنا کریں گے ،میں صرف یہ جانتا ہوں کہ فیصلوں پر عملدرآمد ہونا چاہیے، معزز بینچ کے بننے پر بھی ہمارے وکلا کو حیرت ہوئی ۔وہ جمعرات کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر عمل درآمد ہوگا، معزز بینچ کے بننے پر بھی ہمارے وکلا کو حیرت ہوئی کیونکہ قانونی مشیر کے مطابق 2 فاضل جج صاحبان پہلے ہی رائے کا اظہار کرچکے ،عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اللہ خیر کرے گا ہم کیوں کچھ ایسا سوچیں جس سے دوسری صورتحال پیدا ہو۔

ایسا کیا ہوگیا کہ ترجمان وزیراعظم بھی حیرت زدہ رہ گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے کہا ہے کہ نئی تاریخ ختم ہونے جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے 5 رکنی بنچ تشکیل دیا ہے تو بہتر ہی کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی سماعت 3 رکنی بنچ نے کی اس لیے حیران ہوں کہ جو دو ججز رپورٹ کی سماعت میں شامل نہ تھے وہ کیسے بنچ کا حصہ ہونگے۔

خاتون لیگی ایم پی اے کی دھمکیاں, وجہ کیا بنی؟

فیصل آباد(سٹی بیورو)لیگی ایم پی اے مدیحہ رانا کا بیوٹی پارلر پرملازمین سے جبری مشقت لینے کی کوشش، صبح6بجے ایم پی اے کا میک اپ سے انکار پر غریب محنت کش ملازمین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں، اپنے بیوٹی پارلر میں کام نہ کرنے پر چوری کے الزام میں پھنسائے جانے اور اغواءکی دھمکیاں تفصیل کے مطابق علاقہ اقبال کالونی سی بلاک کی رہائشی سحر نسیم اور وارث پورہ یٰسین آباد کی رہائشی رابعہ کی جانب سے تھانہ بٹالہ کالونی میں درخواست دی گئی ہے کہ وہ سولہ سنگار بیوٹی پارلر پر کام کرتی تھیں جہاں پرن لیگی ایم پی اے مدیحہ رانا میک اپ کروانے کے لیے آتی تھیں مدیحہ رانا نے اپنے گھر پر پارلرمیں کام کرنے پر بہتر اجرت دینے کا کہا جس پر ہم دونوں نے سولہ سنگار سے ملازمت چھوڑ کر مدیحہ رانا کے پاس جاب شروع کردی مدیحہ رانا نے جب بھی کبھی پارٹی کے کسی کام یا اسمبلی میں جانا ہوتا ہمیں ہمارے گھروں سے مدیحہ رانا کا شوہر اپنے گھر پارلر لے جاتا او مدیحہ رانا کا صبح سویرے میک اپ کرنا پڑتاجو بات ہمارے گھر والوں کو بری لگتی جس پر ہم نے گھر والوں کے کہنے پر ملازمت چھوڑنے کا ارادہ کیا اور پارلر کی چابیاں مدیحہ رانا کے روبروبیٹے کے سپرد کردی جس پر مدیحہ رانا نے ان کے پاس ملازمت نہ کرنے پر گھر سے اغواءکرنے اورچوری کے الزامات میں پھنسانے کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔اس حوالے سے مدیحہ رانا کا موقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی مگران سے رابطہ نہیں ہوپایا۔

سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو 10روز کی مہلت دیدی

اسلام آباد (آئی اےن پی) سپرےم کورٹ نے جہانگیر ترین کے وکیل کو دس روز میں آف شور کمپنی سے متعلق دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سماعت کے دوران رےمارکس دےئے کہ کیا ہم حقائق سے پردہ اٹھانے کےلئے تحقیقات کا آغاز کردیں، تحقیقات کرانا پڑیں گی کہ حقائق سے پردہ اٹھے، اگر دستاویزات نہیں ہیں تو کیسے مان لیں آف شور کمپنی جہانگیر ترین نے بنائی ،جہانگیر ترین کا آف شور کمپنی بنانے کا آپ کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے ، انکم ٹیکس کم دیا تو جہانگیر ترین جانیں یا انکم ٹیکس والے ہمارے پاس یہ معاملہ نہیں ،ہمارے پاس معاملہ جہانگیر ترین کے صادق اور امین ہونے کا ہے۔ جہانگیر ترین نے انٹرویو عدالت کے سامنے نہیں دیا تھا، دیکھنا ہوگا انٹرویو کی قانونی حیثیت کیا ہوگی، اپنی رائے کا اظہار صرف فیصلے کے ذریعے کرتے ہیں، ہم صرف سمجھنے کےلئے سوالات اٹھاتے ہیں ، ہم آف شور کمپنی کی قانونی حیثیت کو اس وقت نہیں دیکھیں گے، کیا ٹرسٹ ڈیڈ ہے؟ آپ نے ٹرسٹ بنایا آپ کے پاس تو ٹرسٹ ڈیڈ ہونی چاہئے؟ اگر آپ کے پاس نہیں تو بچوںکے پاس تو ہونی چاہئے۔ہم نہیں چاہتے کسی کا استحقاق کمپرومائز ہو میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ آپ نے کہا تھا ٹیکس معاملے پر عدالت نے حکم جاری کیا تھا آف شور کمپنی پر عدالت نے کونسا حکم جاری کیا ہے؟ ٹی وی انٹرویو کے علاوہ آف شور کمپنی سے متعلق کیا مواد ہے؟ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ میرے پاس دیگر مواد دستیاب نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر دستاویزات نہیں ہیں تو کیسے مان لیں آف شور کمپنی جہانگیر ترین نے بنائی۔ ہمیں کووارنٹو کا اسکوپ بتائیں ،جہانگیر ترین کا آٰف شور کمپنی بنانے کا آپ کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ حنیف عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس اخباری تراشوں کی بنیاد پر سنا عدالت نے کہا کہ پانامہ کیس میں تقاریر‘ ٹی وی انٹرویو اور دیگر مواد پر کارروائی شروع کی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو یہ بھی نہیں پتہ کہ جہانگیر ترین کی آف شور کمپنی کا نام کیا ہے۔ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین نے 545 ملین روپے کی زرعی آمدن ایف بی آر میں ظاہر کی۔ الیکشن کمیشن کے سامنے زرعی آمدن 120 ملین روپے ظاہر کی گئی۔ جان بوجھ کر الیکشن کمیشن کو غلط بتایا گیا۔ 2010 میں فرق 425 ملین کا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انکم ٹیکس کم دیا تو جہانگیر ترین جانیں یا انکم ٹیکس والے ہمارے پاس یہ معاملہ نہیں ہمارے پاس معاملہ جہانگیر ترین کے صادق اور امین ہونے کا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو یہ سمجھائیں کہ غلطی کیا ہے؟ حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین کو اپنی اصل آمدن ظاہر کرنی چاہئے تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی زیر التواءہے ہم کیسے کہہ دیں یہ غلط بیانی ہے۔ وکیل نے کہا کہ عدالت صرف غلط بیانی کو دیکھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھتے ہیں اس معاملے پر جہانگیر ترین کے وکیل کیا موقف دیتے ہیں؟ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کے بچوں کے گوشوارے پیش کروں گا دستاویزات حاصل کرلئے ہیں جمع کرادوں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ ہفتے تک دستاویزات جمع کرادیں کیس کے دوران کم ہی تبصرہ کرتا ہوں۔ جہانگیر ترین نے انٹرویو عدالت کے سامنے نہیں دیا تھا۔ دیکھنا ہوگا انٹرویو کی قانونی حیثیت کیا ہوگی کسی دوسرے کیس پر کوئی بات کرکے اثر انداز نہیں ہونا چاہتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی رائے کا اظہار صرف فیصلے کے ذریعے کرتے ہیں، ہم صرف سمجھنے کےلئے سوالات اٹھاتے ہیں۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہاکہ جہانگیر ترین کے بچوں کی ویلتھ اسسمنٹ اور دستاویزات فراہم کریں گے، کمپنی کا نام شائنی ویو لمیٹڈ ہے، 27اپریل 2011کو قائم ہوئی، آف شور کمپنی کا ایک شیئر ہے جس کی پاور ویلیو نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آف شور کمپنی کی قانونی حیثیت کو اس وقت نہیں دیکھیں گے۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ آف شور کمپنی کا ایک شیئر ای ایف جی کمپنی کے نام ہے، دی رینڈم ٹرسٹ کمپنی کو جہانگیر ترین نے 5مئی 2011کو قائم کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جائیداد کی نوعیت کیا ہے، رقبہ کیا ہے؟اس کی تفصیل بتائیں۔ وکیل نے کہا کہ کمپنی کے ٹرسٹی سے رابطہ ہوا، اس نے تفصیلات کی فراہمی کےلئے عدالتی آرڈر مانگا، آف شور کمپنی کی ملکیت جہانگیر ترین کے ایک بیٹے اور3 بیٹیوں کے نام ہیں، آف شور کمپنی کی خریداری کتنے میں ہوئی، اس کی تفصیلات بعد میں دوں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم حقائق سے پردہ اٹھانے کےلئے تحقیقات کا آغاز کردیں۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ 2.5ملین پاﺅنڈز سے آف شور کمپنی بنائی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کےلئے تحقیقات کروانا پڑیں گی، تحقیقات کرانا پڑیں گی کہ حقائق سے پردہ اٹھے ،بتائیں پاﺅنڈز میں کتنے اثاثے خریدے گئے۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ 2011 میں 2.5 ملین پونڈ ٹرسٹ کے لئے بھیجے گئے۔ 2012 میں ہاف ملین پونڈ بھیجے گئے ‘ 2014 میں 1.1 ملین ڈالر بھیجے گئے۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ پراپرٹی ایک ہے پے منٹس تین کی گئیں کب خریدی یہ بتائیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ نے جو تحائف بھیجے وہ پاکستانی روپے میں بھیجے؟ وکیل نے کہا کہ یہ رقم آفیشل بینکنگ چینل کے ذریعے بھیجی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ٹرسٹ ڈیڈ ہے؟ آپ نے ٹرسٹ بنایا آپ کے پاس تو ٹرسٹ ڈیڈ ہونی چاہئے؟ اگر آپ کے پاس نہیں تو بچوںکے پاس تو ہونی چاہئے۔ وکیل نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کے لئے میں کمپنی سے رابطہ کررہا ہوں میرے موکل جہانگیر ترین بینی فیشل آنر نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے موکل جہانگیر ترین ٹرسٹ کے بینفشری نہیں؟ وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین نہیں انکے بچے بینفشری ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بچے ڈیپنڈنٹ ہیں ٹیکس ریکارڈ میں بتایا گیا ہے؟ جہانگیر ترین بےنےفشل فیشل آنر ہیں اور آپ نے ڈیکلیئر نہیں کیا ،کیا یہ بات درست ہے؟ وکیل نے کہا کہ عدالت کو مطمئن کروں گا بینی فیشل آنر جہانگیر ترین نہیں ان کے بچے ہیں۔ میں آف شور کمپنی سے متعلق مزید دستاویزات دوں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کسی کا استحقاق کمپرومائز ہو۔ آپ نے یہ ثابت کرنا ہے جو تحائف دیئے وہ اتنے ہی وصول بھی کئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اﷲ سپریم کورٹ کو سب کے ساتھ انصاف کی توفیق دے۔ عدالت نے جہانگیر ترین کے وکیل کو دس روز میں آف شور کمپنی سے متعلق دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی۔

چوہدری نثار کی نام لیے بغیر وزیراعظم کی صاحبزادی پر تنقید 3وزراءبھی نشانہ بنے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سنیئر صحافی و اینکر پرسن ڈاکٹر عبد المالک نے کہا ہے کہ چودھر ی نثار نے بغیر نام لئے مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بنایا ،چودھر ی نثار کو اعتراض تھا کہ وزیر اعظم نے تین وزراءخواجہ آصف ، احسن اقبال اور پرویز رشید سے میرے خلاف باتیں سنیں لیکن مجھ سے صفائی کیوں نہیں لی ، پریس کانفرنس اپنے وقت کے اعتبار سے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے اور ب یہ الزام دھرنا شروع کر دیا جائے گا کہ فوج اور عدلیہ مل کر وزیر اعظم کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی پر چودھر ی نثار کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں گالم گلوچ کے حوالے سے چودھر ی نثارنے بغیر نام لئے تنقیدکا نشانہ مریم نواز اور اپوزیشن کے مطابق ن لیگ کی میڈیا ٹیم طلال چودھر ی ، دانیا ل چودھری اور دیگر نے جو حالات پیدا کئے ہیں ،انہیں وزارتیں دیں اور اپنے معاملات چلانے کا مشورہ دیتے ہوئے کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی اپنے تینوں ادوار میں تمام آرمی چیفس سے تعلقات خراب رہے ہیں اوراب تک یہ سلسلہ چل رہے ہے اور یہ معاملہ پانامہ کیس کے نتائج کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے میں مشکلات پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اب پریس کانفرنس کے وقت کی بہت اہمیت ہو گئی ہے اور کئی لوگ یہ خیال بھی کریں گے کہ چودھر ی نثار کو معلوم تھا کہ فیصلہ آنے والا ہے لہذا انہوں نے فیصلے سے قبل پریس کانفرنس کر کے معاملے سے خودکو پیچھے کیا ہے اور اب یہ الزام دھرنا شروع کر دیا جائے گا کہ فوج اور عدلیہ مل کر وزیر اعظم کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

سگا باپ جنسی درندہ بن گیا, بیٹی سے زیادتی کا انکشاف

لاہور(کرائم رپورٹر) عزت کے محافظ سگے باپ نے بیٹی کی عزت کا جنازہ نکال دیا،ملت پارک کے علاقہ میں باپ کی سگی بیٹی کے ساتھ مبینہ زیادتی ، متاثرہ لڑکی کی درخواست پر مقدمہ درج ، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ۔ بتایا گیا ہے کہ تھانہ ملت پارک کے علاقہ پکی ٹھٹھی میں باپ نے اپنی سگی بیٹی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا ۔جواں سالہ متاثرہ لڑکی اقراءبی بی نے تھانے میں دی گئی درخواست میں پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے والد اور بھائی محمد علی کے ہمراہ ڈاکخانہ پکی ٹھٹھی ملت پارک کے علاقہ میں کرائے کے مکان میں رہائش پزیر ہیں۔ اقراءکا کہنا ہے کہ اسکا والداصغر رات کی ڈیوٹی کرتا ہے جبکہ بھائی محمد علی ایل ٹی سی میں بطور ٹکٹ چیکر دن کی ڈیوٹی کرتا ہے ۔اس کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز جب میرا بھائی ڈیوٹی پر جارہا تھا تو والد ڈیوٹی سے گھر واپس آگیا اور میں بھائی کو ڈیوٹی پر بھیج کر اپنے کمرے میں آکر لیٹ گئی جہاں میرا والد پہلے مجھ سے دست اندازی کرتا رہا ۔میری جانب سے چھیڑ چھاڑ پر سختی سے منع کر نے پر میرے والد نے میرے منہ میں کپڑا ٹھونس کر مجھے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور بعد میں مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگا ۔ میں نے موقع دیکھ کر ہمسائی کے فون سے اپنی والدہ اور بھائی کو کال کر کے تمام واقع بتایا جس پر وہ پہنچ گئے اور ان کی مدد سے میں تھانے میں اپنے ولد کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دے رہی ہوں ۔متاثرہ لڑکی کی درخواست پر ملت پارک پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مبینہ ملزم اصغر کو گرفتار کر کے مقدمہ نمبر 322/17درج کر کے کاروائی کا آغاز کر دیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا واقع ہے کہ جس سے انسانیت بھی شرما جائے۔

نواز شریف کو ن لیگ , عمران خان کو تحریک انصاف سے نکالا گیا تو , اہم انکشاف ہو گیا

اسلام آباد (بی بی سی) سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے خلاف درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔عمران خان اور جہانگیر خان ترین کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں میں آئین کے اسی آرٹیکل کے تحت نااہلی مانگی گئی ہے جس کے تحت پاناما لیکس کے مقدمے میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کی درخواست کی گئی ہے۔ پاناما لیکس کے مقدمے میں وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف عمران خان چونکہ نواز شریف نے نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے بلکہ انھوں نے پارلیمان اور قوم سے خطاب کے دوران جھوٹ بولا اس لیے وہ آئین کے عوامی نمائندگی ایکٹ کے آرٹیکل 62 ایف ون کے تحت صادق اور امین نہیں رہے لہذا انھیں نااہل قرار دیا جائے۔وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف دائر درخواستوں میں درخواست گزاروں کا موقف یہ ہے کہ جائیدادوں کے بارے میں ثبوت پیش کرنا مدعا علیہان کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ ثبوت نہ دے سکیں تو پھر وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جائے جبکہ اس کے برعکس عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر درخواستوں میں ان دونوں رہنماو¿ں کا موقف ہے کہ بار ثبوت درخواست گزاروں پر ہے اور اگر وہ ثبوت نہ دے سکیں تو ان درخواستوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے۔پاناما کیس کی سماعت کے دوران عمران خان نے عدالت سے کہا تھا کہ اپوزیشن کا کام تو الزام لگانا ہے جبکہ ثبوت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواستوں میں درخواست گزار اور حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی کے وکیل بھی جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے رہے کہ بار ثبوت کسی چیز کی ملکیت تسلیم کرنے والے پر ہوتا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اسی پانچ رکنی بینچ کی سربراہی کی تھی جن میں سے ان سمیت دو ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ان درخواستوں کی سماعت کے دوران وکلا کے دلائل سننے کے بعد یقین نہیں ہوتا تھا کہ یہ وہی وکلا ہیں جو وزیر اعظم کے خلاف درخواستوں میں اس کے برعکس دلائل دے رہے تھے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف نااہل ہوئے تو پھر عمران خان کی نااہلی بھی پکی ہے کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی جیسی درخواستوں میں ایک کو نااہل قرار دیا جائے اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے۔ایک طرف جہاں عمران خان وزیر اعظم کو نااہل قرار دلوانے میں بےتاب ہیں تو دوسری طرف حکمراں جماعت کی بھی یہی خواہش ہے کہ اگر ان کی قیادت کو نااہل قرار دیا جاتا ہے تو اگلے ہی لمحے عمران خان اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا جائے تاکہ حساب برابر ہو۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان مسلم لیگ نواز سے وزیر اعظم کو نکال دیا جائے تو پھر یہ جماعت دھڑم سے نیچے آ جائے گی اور بالکل اسی طرح اگر عمران خان کو تحریک انصاف سے مائنس کر دیا جائے تو اس جماعت کی عوام میں مقبولیت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔

وزیراعظم ہاﺅس کے بند کمرے میں پانامہ فیصلہ بارے اہم اجلاس

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم ہاﺅس میں بند کمرے میں اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس، اٹارنی جنرل بھی اجلاس میں شریک، پانامہ کیس کے فیصلے کے حوالے سے ممکنہ صورتحال پر غور کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم کے انتہائی قریبی رفقاءاور معاونین نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاءنے پانامہ فیصلہ آنے کے بعد صورتحال پر غور کیا۔ اٹارنی جنرل بھی قانونی طور پر مشورے دینے کیلئے اجلاس میں موجود تھے۔