پارلیمنٹ توڑنے بارے کپتان کا خفیہ منصوبہ بے نقاب، تہلکہ خیز انکشافات

ملتان(ویب ڈیسک) سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ 2014 کے دھرنے کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان سے ٹیکنوکریٹ حکومت اور بعد میں ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف کی فتح کے حوالے سے بات کی تھی۔ملتان میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی عہدے اور اقتدار کی دعا نہیں مانگیانہوں نے عمران خان کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کہا کہ تصدق جیلانی کے جانے کے بعد آنے والے جج پارلیمنٹ کو توڑ دینگے جبکہ نواز شریف خود استعفیٰ دے دیں گے۔’ عمران خان نے کہا کہ ستمبر کے آخر تک انتخابات ہوجائیں گے اور ان کی حکومت بن جائے گی جبکہ مقابلے پر آنے کی کوئی جرات نہیں کرسکے گا‘جاوید ہاشمی کے مطابق پی ٹی آئی رہنما عارف علوی اور شیریں مزاری نے ان سے کہا کہ عمران خان پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ ’ان کے چہروں کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں، مجھے کہا کہ آپ عمران کو سمجھائیں۔‘انہوں نے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں حلف اٹھا کر کہہ رہے ہیں جبکہ عمران خان بھی حلف اٹھاکر ان کی باتوں کی تردید کردیں۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ مجھےآفرتھی کہ آپ استعفا نہ دیں پی ٹی آئی کا فاروڈ بلاک بنائیں، میں نے کہا کہ میں فاروڈ بلاک نہیں بناو¿ں گا، میں عمران کی پارٹی کو ختم کرنے نہیں آیا۔

مشترکہ امیدوار لانے میں اپوزیشن پھر تقسیم ، وجہ کیا بنی ؟

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وزارت عظمیٰ کیلئے مسلم لیگ (ن) کے نامزد اُمیدوار شاہد خاقان عباسی، تحریک انصاف کے اُمیدوار شیخ رشید احمد اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔ خورشید شاہ نے اپوزیشن کے متفقہ اُمیدوار کے لیے 6 کاغذات حاصل کیے۔ تمام اُمیدوار آج قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں کاغذات جمع کرائیں گے، آج ہی کاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی اور حتمی اُمیدواروں کی فہرست جاری کی جائے گی۔ نئے وزیراعظم کا انتخاب کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ شاہد خاقان کے بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہونے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ وہ منگل کو ہی حلف اُٹھالیں گے۔ (ن) لیگ کو قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہے جبکہ اسے جمعیت علمائے اسلام (ف)، مسلم لیگ (فنکشنل)، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور فاٹا کے اراکین کی حمایت حاصل ہے جبکہ ایم کیو ایم بھی شاہد خاقان کو ووٹ دے سکتی ہے۔ (ن) لیگ کی قومی اسمبلی میں 188 نشستیں ہیں جبکہ سادہ اکثریت کے لیے 172 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ جے یو آئی (ف) کے 13، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی 3، مسلم لیگ (فنکشنل) کے 5، نیشنل پارٹی کے ایک رُکن کی بھی انہیں حمایت حاصل ہے۔ مسلم لیگ (ضیا) ایک، نیشنل پیپلزپارٹی کے 2 اور آل پاکستان مسلم لیگ کے ایک ممبر کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دیئے جانے کا امکان ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا وہ جلد ہی شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی ٹھیکے سے متعلق کیس دائر کریں گے۔ شہبازشریف بھی حدیبیہ پیپرز کیس میں پھنس جائیں گے کیونکہ وہ اس میں مرکزی کردار ہیں۔ ایاز صادق نے کہا کہ ملک میں چیف ایگزیکٹو کے حوالے سے خلاءپایا جاتا ہے اس لیے مختصر ترین وقت میں وزیراعظم کا انتخاب کرایا جارہا ہے۔ آئین کے مطابق ڈویژن کی بنیاد پر وزیراعظم کا انتخاب کھلی رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ ادھر نئے وزیراعظم کے لیے مشترکہ اُمیدوار کے معاملے پر اپوزیشن پھر تقسیم ہوگئی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے شیخ رشید نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی نے شیخ رشید پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماو¿ں کا اجلاس آج اپنے چیمبر میں بلا رکھا ہے جس میں وزارت عظمیٰ کے لیے مشترکہ اُمیدوار لانے پر غور کیا جائے گا۔ ایک بیان میں خورشید شاہ نے کہا عمران خان نے شیخ رشید کو وزارت عظمیٰ کا اُمیدوار بنانے کے معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا۔ مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس سے پہلے وزیراعظم کے اُمیدوار کا اعلان زیادتی ہوگی۔ تمام اپوزیشن جماعتوں سے اس لیے رابطہ کیا کہ وزارت عظمیٰ کا مشترکہ اُمیدوار لانا چاہیے جس کے لیے آج ملاقاتیں ہوں گی۔ اپوزیشن لیڈر نے فاٹا کے پارلیمانی لیڈر شاہ جی گل آفریدی سے بھی فون پر بات کی اور اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ قومی وطن پارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ طے ہوا تھا کہ اپوزیشن کے مشترکہ اُمیدوار کا معاملہ تمام جماعتیں مل کر کریں گی جبکہ اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور کا کہنا ہے کہ شیخ رشید مشترکہ اپوزیشن کے اُمیدوار نہیں اور حتمی فیصلہ آج ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔ اے این پی کے مطابق اگر اپوزیشن کا متفقہ اُمیدوار سامنے نہ آسکا تو وہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے رائے شماری میں حصہ نہیں لے گی۔ شیخ رشید نے کہا اپوزیشن کا اُمیدوار میں بنوں یا کوئی اور، متفقہ ہونا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے وزارت عظمیٰ کے انتخاب پر حمایت حاصل کرنے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ سے رابطہ کیا تاہم ایم کیو ایم پاکستان نے جواب دیا کہ اگر وزیراعظم کا اُمیدوار خود بات کرنے آئے گا تو بات کریں گے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں وزیراعظم کے عہدے کے انتخاب کیلئے اپوزیشن جماعتوںکا متفقہ امیدوار سامنے لانے کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں سے ٹیلی فونک رابطے کئے ہیں اس سلسلے میں گزشتہ روز چوہدری شجاعت نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماءاور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشد احمد شاہ اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ نوازشریف نے آج (ن) لیگی ارکانِ اسمبلی کو مری طلب کرلیا ہے تاکہ کل عبوری وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر متفقہ حکمت عملی تیار کی جاسکے۔ ذائع نے بتایا کہ ناراض ایم این ایز کی شکایات بھی دور کی جائیں گی تاکہ (ن) لیگی اُمیدوار کو بھاری اکثریت مل سکے۔
عبوری وزیراعظم

این اے 120ضمنی الیکشن،تاریخ میں پہلی بار وہ ہوگا جو پہلے کبھی نہ ہوا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن نے این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں بائیو میٹرک مشینوں کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں بائیو میٹرک مشینوں کا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق 150 کے قریب الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں الیکشن کمیشن کو موصول ہوچکی ہیں تاہم ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری ہونے کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نادرا سے ووٹرز کا ڈیٹا حاصل کرے گا اور پھر فیصلہ کیا جائے کہ کس پولنگ اسٹیشن پر مشینیں نصب کی جائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کو نااہل کیے جانے بعد لاہور کے حلقہ این اے 120 کی سیٹ خالی ہوگئی تھی جب کہ اب آئندہ ضمنی الیکشن میں (ن) لیگ کی جانب سے شہباز شریف جب کہ تحریک انصاف کی جانب سے یاسمین مدمقابل ہوں گی۔

جمہوریت اور پارلیمنٹ کو خطرہ نہیں

لاڑکانہ (بیورورپورٹ) چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی احتساب پر یقین رکھتی ہے نواز شریف کے خلاف فیصلے سے جمہوریت اور پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حکومت سندھ صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے میں وزیر اعلی پنجاب سمیت تینوں صوبوں کے وزیر اعلی کو چیلنج کرتا ہوں کہ ایسا ادارہ اپنے صوبوں میں بنا کر دکھائیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوا رکو لاڑکانہ میں این آئی سی وی ڈی سینٹر کے افتتاحی تقریب کے موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ لاڑکانہ کی عوام نے پی پی پی کیلئے لاتعداد قربانیاں دیں ہمیں بھرپور عزت دی جن کا ہم پر قرض ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 میں چانڈکا میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی جس وقت یہ سہولیات صرف ملک کے بڑے بڑے شہروں میں موجود تھیں پی پی پی حکومت ان کے مشن کو آگے اسپتالوں وکو اپ گریٹ کرنے کے ساتھ صحت کی بنیادی سہولیات صوبے کے کونے کونے میں فرائم کر رہی انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بہتر نتائج دے رہی ہے اور ان پر اعتماد کے باعث ہی ایسے ادارے بن رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ نے اپنے دور اقتدار میں لیڈی ہیلتھ ورکرز بھرتی کرکے صوبے کے گھر گھر تک صحت کی سہولیات فراہم کیں تھیں انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی ایک اچھا ادارہ ہے جو بہتر کام کرتا ہے جو قریبی اضلاع کے لوگوں کو بھی سہولیات مفت فراہم کرے گا نئی عمارت کی تعمیر کے کارڈیالوجی سرجری بھی شروع کی جائے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد 2011 میں این آئی سی وی ڈی وفاق سے صوبے کے حوالے اور رواں سال ہم نے اس کا بجٹ چار ارب روپے بڑھا کے 5.8 ارب روپے کردیا ہے کراچی کے بعد رواں سال لاڑکانہ سکھر،ٹنڈو محمد خان اور سکھر میں یہی سینٹرز قائم کئے جارہے ہیں جبکہ اگلے سال میرپورخاص خیرپور اور بوابشاہ میں یہ مراکز قائم ہوں گے انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ہم خود کو کمزور محسوس کرتے ہیں وہیں پرائیوٹ سیکٹر اور نجی اسپتالوں کے ساتھ مل عوام کو صحت کی مطلوبہ سہولیات فراہم کر رہے ہیں سندھ میں پی پی پی 1970 سے عوام کی حمایت یافتہ ہے ہم آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی سرپرستی میں عوام کی خدمت کر رہے ہیں دیگر سیاستدان صف باتیں اور ہم کام کرتے ہیں جس کی مثال ایسی اداروں کا قیام ہے اس موقع پر نثار کھوڑو ڈاکٹر سکندر میندرو و دیگر بھی موجود تھے۔

نئے وزیراعظم کیلئے 2,4نہیں کتنے امیدوار میدان میں ….دیکھئے اہم خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اپوزیشن جماعتیں کسی ایک امیدوار پر متفق نہ ہوسکیں جس کی وجہ سے اب اس منصب کے 6 امیدوار میدان میں آگئے ہیں۔پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ (ن) کے مد مقابل اپنا کوئی متفقہ امیدوار سامنے لانے میں ناکام ہوگئی ہیں، جس کے بعد شاہد خاقان عباسی کے مقابلے میں اپوزیشن کے 5 امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اپنے تجویز کنندہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ کاغذات نامزدگی جمع کرادئے۔ انہیں تحریک انصاف کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کی بھی حمایت حاصل ہے، پیپلز پارٹی کی جانب سے خورشید شاہ اورسید نوید قمر نے وزارت عظمیٰ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، جب کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے کشور زہرہ نےکاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے صاحب زادہ طارق اللہ نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ جانچ پڑتال کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے۔

متوقع وزیر اعظم شہباز شریف این اے 120سے الیکشن لڑیں گا یا نہیں،اصل خبر کچھ اور ہی نکلی

لاہور (ویب ڈیسک)شہباز شریف NA 120کیساتھ ساتھ NA 154سے بھی الیکشن لڑینگے گے ۔این اے 154سے ریا ض الحق نے اپنا حلقہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے

نامزد وزیراعظم کس حیثیت سے بنایا گیا؟….بات سپریم کورٹ تک جاپہنچی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)نامزد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان کو عبوری وزیراعظم نامزد کرنے پر حکم امتناعی جاری کیا جائے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار شاہد خاقان عباسی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف عدالتی فیصلے کے بعد پارلیمانی اور پارٹی سیاست سے نا اہل ہوگئے لہذا ان کے پاس شاہد خان عباسی کو عبوری وزیراعظم نامزد کرنے کا اختیار نہیں تھا۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی درآمد کا معاملہ نیب میں زیرالتواءہے، شاہد خاقان نے پیپرا رولز کی خلاف ورزی کر کے ایل این جی کا ٹھیکہ دیا اور خلاف قواعد ایل این جی ٹھیکہ دے کر قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا۔

طاہر القادری نے بھی سیاسی مخالفین کو بڑی مشکل میں ڈال دیا

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں جاری سیاسی ہل چل کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے 8 اگست کو وطن واپس آنے کا اعلان کردیا۔طاہر القادری نے بیرونی ملک مصروفیات منسوخ کرتے ہوئے پاکستان واپس آنے کا اعلان کردیا اور ایک مرتبہ پھر شریف خاندان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع کرنے کا عندیہ دے دیا۔سربراہ عوامی تحریک کی آمد پر 8 اگست کو پارٹی کارکنان ان کا لاہور ائر پورٹ پر استقبال کریں گے۔یاد رہے کہ ملک میں سیاسی ہل چل کے حوالے سے حال ہی میں عوامی تحریک کے سربراہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے اور سانحہ ماڈل ٹاو¿ن میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ان کا اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ ہماری جدوجہد اس نظام کے خلاف ہے جس میں امیر اور غریب طبقے کے لیے علیحدہ قانون ہیں اور کمزور پر مزید دباو¿ ڈالا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاستدان آئین کے آرٹیکل 62، 63 کو ختم کرنے کے درپے ہیں تاکہ کرپشن کو محفوظ کیا جاسکے اور ان کے خلاف نااہلی کی تلوار نہ لٹکتی رہے۔

دوسرے شریف کو بھیجو گے تو تیسرا شریف لائینگے

لاہور (ویب ڈیسک) سابق وفاقی وزیر ریلوے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اگر اس ملک میں صادق اور امین کا تماشا لگایا گیا تو بات بہت دور تک جائے گا، ایک شریف گیا تو دوسرا آرہا ہے لیکن اگر دوسرے شریف کو بھیجوگے تو تیسرے شریف کو لائیں گے۔ سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے آئین کی شق 62 اور 63 کو آئین سے نہ نکالنا حکمراں جماعت کی نااہلی ہے، معلوم نہیں تھا کہ 62 اور 63 ہمارے لیے 58 ٹو بی بن جائے گا۔

مسلم لیگ کے دونوں امیدوار نااہل ،سنسنی خیز انکشاف نے ہلچل مچادی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے وزارت عظمیٰ کےلیے عارضی اور مستقل دونوں امیدوار نااہل ہیں۔اسلام آباد میں اپوزیشن اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے عارضی اور مستقل دونوں نااہل امیدوار نامزد کیے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا حدیبیہ اور نیب ریفرنس میں ذکر ہے اور ان کی نااہلی کے امکانات ہیں، وہ وزارت عظمیٰ کا الیکشن لڑنے کی اہلیت نہیں رکھتے، پی ٹی آئی شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات اٹھائے گی اور (ن) لیگ کو ان دونوں امیدواروں پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے دیگر اپوزیشن رہنماو¿ں سے درخواست کی ہے کہ پاناما کیس میں کلیدی کردار ادا کرنے پر شیخ رشید کو وزیراعظم کا امیدوار بنانا چاہیے، پاناما کیس میں سب سے اہم کردار عمران خان، پھر سراج الحق اور شیخ رشید نے ادا کیا ہے، شیخ رشید نے نہ صرف سیاسی جنگ بلکہ قانونی جنگ بھی لڑی، اس لیے انہیں اپوزیشن کا متفقہ امیدوار بننے کا اعزاز ملنا چاہیے، تاہم باقی اپوزیشن جماعتوں نے اس پر غور کرنے کے لیے مہلت مانگی ہے، باہمی مشاورت کا عمل جاری ہے اور کوشش ہے کہ اپوزیشن متفقہ امیدوار لانے میں کامیاب ہوجائے۔