Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • تحقیق میں انکشاف: ویڈیو گیمز کھیلنا دماغی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے
    • روپے پر دباؤ برقرار، پاؤنڈ 360 اور یورو 315 روپے تک پہنچ گی
    • صنعا ایئرپورٹ پر حملے کے بعد حوثیوں کا سعودی عرب پر میزائل حملہ
    • ایف بی آئی چیف کاش پٹیل کی محسن نقوی سے ملاقات، پاک -امریکہ تعاون کو اہم قرار دیا
    • ایشین جوجِتسو چیمپئن شپ پاکستان کی شاندار کارکردگی ،2 گولڈ اور 2 سلور میڈلز حاصل کر لیے
    • ایرانی میزائل حملوں میں امارات کے دو تیل بردارجہاز متاثر، ایک بھارتی جاں بحق
    • فرانس نے شدید گرمی کی لہر کے باعث جوہری ری ایکٹرز بند کر دیے
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کو انقرہ میں ترکی کا اعلیٰ ترین سروس اعزاز سے نوازا گیا
    • 21 سال بعد 2005 زلزلے میں لاپتہ بچے کی لاش برآمد
    • کیلیان ایمباپے کا نیا ریکارڈ، 20 ورلڈ کپ گولز تک تیز ترین رسائی
    • غزہ میں اسرائیلی حملے: 3 فلسطینی جاں بحق، 15 زخمی
    • ایران نے آبنائے ہرمز میں تصادم کے بعد عملہ بچا لیا
    • ٹرمپ: آبنائے ہرمز ایران کے ساتھ یا بغیر بھی کھلی رہے گی
    • بحرین میں نیا فضائی حملے کا الرٹ، شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت
    • یو اے ای میں امریکی سفارتخانے اور قونصلر سروسز 13 تا 15 جولائی تک معطل
    • حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا
    • راول ڈیم میں سینکڑوں مچھلیاں مردہ پائی گئیں
    • محکمہ موسمیات نے کراچی میں تین روزہ بارشوں کی پیشگوئی کر دی
    • سنر نے زویریف کو شکست دے کر ومبلڈن کا مسلسل دوسرا ٹائٹل جیت لیا
    • ’جراسک پارک‘ کے نامور اداکار سیم نیل 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    مجید نظامی کے بعد پیدا ہونے والا خلا ضیا شاہد نے پورا کیا

    By Daily Khabrainاکتوبر 31, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    colam nigar.jpg
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

     لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے مختلف موضوعات کا احاطہ کرنے والے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ کار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ لیگی رہنما لندن میں سرجوڑے بیٹھے ہیں۔ نواز شریف کی عدالت میں پیشی اس وقت ان کےلئے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیگی رہنما ذاتی خرچے پر تو لندن نہیں گئے ہونگے۔ پاکستان کے فیصلے تو عموماً امریکہ میں ہوتے ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کی ڈیوٹی شاید برطانیہ کی لگائی جاتی ہے۔ اسی لئے ہمارے رہنما برطانیہ جاتے اور وہیں جائیدادیں بنانا پسند کرتے ہیں۔ 1970ءمیں پہلا لندن پلان سامنے آیا تھا جب انٹی بھٹو گروپ وہاں جمع ہوا تھا۔ موجودہ حالات میں وزیراعظم شاہد خاقان کے اعصاب جواب دینا شروع ہو گئے ہیں۔ روزنامہ ”خبریں“ کے قیام کو 25 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ضیاشاہد ایک ورکنگ جرنلسٹ تھے اور ایک ورکنگ جرنلسٹ کا پاکستان میں اخبار نکالنا اور اسے کامیابی سے چلانا ناممکن تھا جسے ضیاشاہد نے ممکن کر دکھایا۔ ضیاشاہد کی حال ہی میں چار پانچ کتابیں شائع ہوئی ہیں ایک کتاب ”قلم چہرے“ تکمیل کے مراحل میں ہے جو تاریخ کے طالبعلموں کےلئے نادر تحفہ ہوگی۔ ضیاشاہد نے زندگی میں بڑے حادثات کا سامنا کیا۔ بیٹا اور داماد دنیا سے رخصت ہوگئے خود انہوں نے طویل بیماری کاٹی مگر کبھی حوصلہ اور ہمیت نہ ہاری اور عزم کے ساتھ صحافتی زندگی کا سفر جاری رکھا۔ معروف کالم نویس اسلم خان نے کہا کہ لندن میں لیگی رہنما اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ نواز شریف کی عدالت سے جان کیسے چھڑائی جائے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو نواز دور میں عدالتوں کے چکر لگوائے جاتے رہے تاہم انہوں نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا اور پیشیاں بھگتتی رہیں۔ نواز شریف بھی اب اسی طرح ہمت کریں اور عدالتوں کا سامنا کریں۔ مریم نواز 4 سال تک بغیر کسی عہدے کے حرکت کرتی رہیں ہیں۔ غیر فطری چیزیں نہیں چل سکتیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شاہد خاقان کب تک معاملات کو لیکر چلتے ہیں۔ نواز شریف اللہ کی پکڑ میں آئے ہیں۔ نواز شریف، شاہد خاقان اور جنرل باجوہ کی بھی تثلیث ہے۔ شاہد خاقان کے سسر جنرل (ر) ریاض جنرل باجوہ کا رشتہ لیکر جنرل (ر) اعجاز عظیم کے گھر گئے تھے اور رشتہ کرایا تھا۔ شاہد خاقان کے برادر نسبتی عابد ریاض اور جنرل قمر جاوید میں گہری دوستی ہے۔ نواز شریف نے شاہد خاقان کو وزیراعظم بھی اسی لئے بنایا کہ وہ فوج سے معاملات کو ٹھیک چلا سکتے ہیں۔ ضیاشاہد سے میرا بڑی محبت کا ر شتہ رہا ہے وہ بڑے فراخ دل، محبت کرنے والے اور پناہ دینے والے ہیں۔ موجودہ وقت میں بھی ضیاشاہد ہی ہیں جنہوں نے پاکستان کا جھنڈا تھام رکھا ہے کسی اور میں یہ ہمت دکھائی نہیں دیتی۔ مجید نظامی کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو ضیاشاہد نے پر کیا ہے۔ چیئرپرسن پلاک ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کہا کہ لندن میں پہلی بار سیاسی رہنما اکٹھے نہیں ہوئے ماضی میں کئی بار لندن میں پلان بنتے رہے ہیں۔ لیگی رہنماﺅں کا وہاں اکٹھے ہوننا اچنبھے کی بات نہیں ہے ان کا لیڈر وہاں ہے تو اس سے مشاورت تو کرینگے۔ عدالتوں کو ڈکٹیٹروں نے بھی کبھی سنجیدہ نہیں لیا۔ انصاف سب کےلئے برابر ہونا چاہیے۔ احتساب وزیراعظم سے شروع ہوا ہے تو باقی سب کو بھی پکڑا جانا چاہیے۔ پھر ہی عوام کا اعتماد بحال ہو گا صرف ایک شخص کا احتساب ہوا تو عوام میں اس کےلئے ہمدردی پیدا ہوگی۔ عمران کی کوشش ہے کہ حکومت رخصت ہو جائے اور انہیں موقع مل جائے۔ ان کے جلسوں کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔ ضیاشاہد کی کتاب ”امی جان“ پڑھی تو پتہ چلا کہ ان کا تعلق ایک پڑھے لکھے اور معتبر گھرانے سے ہے۔ وہ ایک ذہین و فطین آدمی ہیں جنہیں اپنے اخبار اور چینل سے جنون کی حد تک محبت ہے۔ ضیاشاہد نے بیٹے اور داماد کے غم کے باوجود اپنا صحافتی مشن جاری رکھا۔ وہ جس طرح مختلف محاذوں پر ڈٹے نظر آتے ہیں اس طرح کوئی اور صحافی نظر نہیں آتا۔ ضیاشاہد کی شخصیت میں منافقت نہیں ہے اگر وہ ناراض ہوں تو چھپاتے نہیں ہیں۔ معروف تجزیہ کار سجاد بخاری نے کہا کہ اگر لندن میں بیٹھ کر ہی پاکستان کے فیصلے کرنے ہیں تو پھر آزادی حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ نواز شریف کو بچانے کےلئے نہیں ان سے جان چھڑانے کےلئے لندن میں اکٹھے ہوئے ہیں کیونکہ نواز شریف کی وجہ سے حکومت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اگر لیگی رہنما سرکاری خرچ پر وہاں گئے ہیں تو یہ قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔ لندن عالمی سیاست کا مرکز ہے۔ نواز شریف تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود کو مشکل کا شکار خود ہی کیا ہے۔ الیکشن جلد ہونے کے امکانات موجود ہیں، پیپلز پارٹی کی بیڈ گورننس کے باعث تحریک ا نصاف کو ا بھرنے کا موقع ملا اور اس نے ا پنے لئے چانس پیدا کر لیا ہے۔ ضیاشاہد کو صحافتی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے جرنلزم میں نئے ٹرینڈ متعارف کرائے۔ ایک عام صحافی کو طاقتور بنایا۔ ہمیشہ جرا¿ت و بہادری کا مظاہرہ کیا اور جدوجہد کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ اپنی جرا¿ت بہادری اور دلیری سے جرنلزم کے شعبہ کو عزت دلوائی۔ ان سے پہلے جرنلزم کا تاثر مختلف تھا۔ ضیاشاہد کی تحریریں بڑی جاندار اور پرتاثیر ہوتی ہیں۔ ان کی کتابیں پاکستان کی تاریخ ہیں۔ ضیاشاہد کو اپنی بائیوگرافی بھی لکھنی چاہیے۔ وہ ایک سچے اور کھرے آدمی ہیں جنہوں نے زندگی میں سخت محنت کر کے اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ ضیاشاہد نے زندگی کے کٹھن سفر میں عام آدمی کی حیثیت سے سفر شروع کیا۔ معمولی کام بھی کئے تاہم آج جب وہ ایک بڑے مقام پر ہیں پھر بھی کبھی ماضی کو چھپانے کی کوشش نہیں کی اور یہی ایک بڑے آدمی کی پہچان ہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ایف بی آئی چیف کاش پٹیل کی محسن نقوی سے ملاقات، پاک -امریکہ تعاون کو اہم قرار دیا

      فیلڈ مارشل عاصم منیر کو انقرہ میں ترکی کا اعلیٰ ترین سروس اعزاز سے نوازا گیا

      21 سال بعد 2005 زلزلے میں لاپتہ بچے کی لاش برآمد

      تازہ ترین

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      یورپ ‘اومیگا بلاک’ کی گرفت میں، عالمی ادارہ صحت نے 1,300 اموات کی سنگین حقیقت کا انکشاف کیا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.