ریاض(خصوصی رپورٹ) سعودی عرب کے ایک عالم نے فتویٰ دیا ہے کہ مسلمان کلیسا اور سینیگاگ میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی سینئر علما کونسل کے رکن رکین عبد اللہ بن سلیمان المانع نے کہا ہے کہ اسلام برداشت اور رحم کا دین ہے۔ اس میں عدم تشدد، عدم برداشت اور دہشت گردی کی چنداں گنجائش نہیں۔ شیخ المانع نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ حقیقی اسلام کی ترویج کریں اور نبی رحمت کی اس سنت پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاریں جس میں انہوں نے مختلف ادیان کے لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے رواداری کا مظاہرہ کیا۔کویتی اخبار الانبا میں شائع ہونے والے اپنے ایک فتوی میں شیخ المانع کا کہنا تھا کہ مسلمان شیعہ، صوفی مساجد سمیت کلیساﺅں اور یہودی معبدوں میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حدیث مبارک کی روشنی میں ساری زمین اللہ کی ملکیت ہے۔سعودی عالم دین کا مزید کہنا تھا کہ اسلام بقائے باہمی اور عدم تشدد کا دین ہے۔ انھوں نے کہا مسلمان عقیدے کے معاملے میں اختلافات کا شکار نہیں ہو سکتے، تاہم وہ فروعی امور میں اختلاف کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ شیخ المانع کے دفتر سے دس برس قبل ایک بیان جاری ہوا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کلیساﺅں سے متعلق جانکاری کے لئے مسلمان وہاں جا سکتے ہیں۔ مذکورہ بیان میں دراصل ایک واقعے کا حوالہ تھا کہ جب خلیفہ دوئم حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے یروشلم کے ایک چرچ میں اس لئے نماز ادا کرنے سے انکار کیا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی وجہ سے عیسائیوں کو کوئی تکلیف پہنچے۔ چرچ کے بجائے انہوں نے قریبی جگہ پر نماز ادا کی جہاں بعد ازاں ان سے موسوم مسجد عمر تعمیر ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے یہ نہیں کہا کہ مسلمانوں کو چرچ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔المانع نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ کلیسا سے متعلق جانکاری کے لئے وہاں جا سکتے ہیں اور عیسائی مسجد حرام کے علاوہ دیگر تمام مساجد میں داخل ہو کر وہاں اپنی نماز ادا کر سکتے ہیں۔
یہودی عبادتگاہوں ،گر جا گھروں میں نماز جائز؟ نیا سعودی فتوی آ گیا

