سی پیک میرا خواب مگر اب, زرداری کا حیران کُن بیان

پشاور (سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سی پیک کا خواب میں نے دیکھا تھا جو اسلام آباد چلا گیا ،ہم نے یہ خواب خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے دیکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف امریکہ کی سوچ پر چل رہے ہیں جس کی وجہ سے مسائل در پیش ہیں۔پشاور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم عقل دوست دیکھ نہیں سکتے ،کے پی کے میں کیا آگ لگی ہے ،فیصلہ کر لیا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنا ہے، پہلے بھی کے پی کے میں گورنر فاٹا سے لگا یا تھا۔انہوں نے کہا کہ کچھ سیاستدان کہتے تھے کہ تین مہینوں میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی تو نام بدل دینا ، عوام یہ دعویٰ کرنے والے کا آج نیا نام پوچھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جنگلے اورٹرینیں بنا کر سوچتے ہیں کہ ہم سے جیت جائیں گے لیکن ہم اس بار دھاندلی نہیں کرنے دیں گے ،گزشتہ انتخابات میں مجھے عدالت نے الیکشن مہم چلانے سے روکا لیکن اس با بھرپور حصہ لے کر انتخابات جیتیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پرویز مشرف کو امریکہ نے ایک ہی دھمکی دی جس سے وہ گھبرا گئے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب کی سوچ امریکیوں والی ہے ‘ ہم خطے میں جنگ نہیں ہونے دینگے ‘ یہ مغل بادشاہ سمجھتے ہیں ہمیشہ حکومت میں رہیں گے ‘ اس بار دھاندلی نہیں ہونے دینگے‘ دھاندلی کی کوشش کی گئی تو پولنگ اسٹیشن پر قبضہ کر لیں گے ‘ عمران خان خود کہتے ہیں خان ہیں نہیں ، پیپلز پارٹی نے پختونوں کو شناخت دی ‘ آپ کو این ایف سی ایوارڈ دیا ‘ ہم نے آپ کیلئے سی پیک کا خواب دیکھا تھا مگر سی پیک اسلام آباد چلا گیا ‘ سی پیک کو خیبر پختونخوا لے کر آئیں گے ‘ فیصلہ کرلیا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنا ہے ‘ مخالفین کہتے تھے 6 ماہ میں بجلی نہیں لائی تو نام بدل دینا سوچ رہے ہیں کہ ان کا نام کیا رکھیں۔ وہ اتوار کو پشاور میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پختونوں کو شناخت دی۔ میں نے آپ کو این ایف سی ایوارڈ دیا۔ میں نے آپ کو آپ کا حق دیا۔ ہم نے آ پ کیلئے سی پیک کا خواب دیکھا تھا مگر سی پیک اسلام آباد چلا گیا۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کو خیبر پختونخوا لے کر آئیں گے۔ پختونوں کے کارڈ روک ر ان کو جیلوں میں ڈالا جا رہاہے۔ کراچی پختونوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ فیصلہ کر لیا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کریں گے۔ مخالفین کہتے تھے کہ 6 ماہ میں بجلی نہیں لائے تو نام بدل دینا سوچ رہے ہیں کہ ان کا نام کیا رکھیں؟۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ہمسایوں سے دوستی کرنا ہے ۔ میاں صاحب کی سوچ امریکہ کی سوچ ہے ہم خطے میں جنگ نہیں ہونے دینگے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی دفعہ میں نے الیکشن مہم نہیں چلائی اس بار میں انتخابی مہم کیلئے نکلا ہوں۔ یہ حکومت قرض پر قرض لے رہی ہے۔ یہ مغل بادشاہ سمجھتے ہیں ہمیشہ حکومت میں رہیں گے۔ آصف زرداری نے کہاکہ اس بار دھاندلی نہیں ہونے دیں گے۔ دھاندلی کی کوشش کی گئی تو پولنگ اسٹیشن پر قبضہ کر لیں گے۔ انتخابات کے نتائج لینے تک پولنگ اسٹیشن سے نہیں اٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ عمران خان خود کہتے ہیں خان ہیں نہیں۔

کراچی میدان جنگ بن گیا, 20رہنماءگرفتار،حالات کشیدہ

کراچی (نمائندہ خصوصی) پاک سرزمین پارٹی کی ریلی وزیراعلیٰ ہاﺅس کی جانب بڑھ رہی تھی کہ پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج،2 افراد زخمی، شارع فیصل کے قریب میٹروپول کا علاقہ میدان جنگ بن گیا، مصطفی کمال، انیس قائم خانی، رضا ہارون، ڈاکٹر صغیر احمد، آصف حسنین سمیت 20 سے زائد رہنماﺅں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاک سر زمین پارٹی نے کراچی میں ملین مارچ کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہاﺅس پہنچنے کا فیصلہ کیا تھا، انیس قائم خانی ریلی کی قیادت میں ریلی کا آغاز ہوا ، ریلی نے شاہراہ فیصل سے آغاز کیا جس دوران پیپلز پارٹی کے رہنماءپی ایس پی کے رہنماﺅں سے ملاقات کے لئے پہنچے ، دونوں پارٹیوں کے درمیان مذاکرات کے 4دور ہوئے مگر چاروں بار مذاکرات ناکام ہوئے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پی ایس پی نے اپنی ریلی کا آغاز کیا۔ ریلی کی شرکاءکو پولیس نے عائشہ بوانی کالج کے پاس روک لیا۔ جس پر پی ایس پی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں، پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔شاہراہ فیصل کراچی کی شہ رگ سمجھنے والی سڑک ہے جس پر شہر کی تمام ٹریفک کا رش ہوتا ہے، ریلی کے شرکاءاور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں میٹرو پل اور ائرپورٹ کی جانب جانے والی گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ جبکہ پولیس نے پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی رہنماﺅں مصطفی کمال انیس قائم خانی، رضا ہارون، ڈاکٹر صغیر احمد، آصف حسنین سمیت 10سے زائد رہنماﺅں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔کارکنوں کی گرفتاریوں، آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج پر امن تھا، پولیس نے امن پسندوں پر تشدد کا راستہ اختیار کیا، حکومت نے احتجاج کو گلیوں میں پھیلا دیا، ہمیں دبایا جا سکتا ہے، جھکایا نہیں جا سکتا۔ نقاب پوش پولیس اہلکاروں کی جانب سے شرکاءکی طرف پھینکا گیا ایک شیل سربراہ پی ایس پی مصطفی کمال کو جا لگا جس سے وہ زخمی ہو گئے جس کے باوجود ان کا قافلہ وزیراعلیٰ ہاﺅس کی جانب رواں دواں رہا تاہم اہلکاروں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ پولیس نے پی ایس پی کے رہنما انیس قائم خانی پر بھی واٹر کینن کا استعمال کیا جس سے وہ پانی میں نہا گئے، پولیس نے روایتی انداز میں طاقت کا استعمال کرتے ہوئے پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا جب کہ پولیس نے انیس قائم خانی کو حراست میں لینے کی کوشش کی تو کارکنان کی بڑی تعداد نے اہلکاروں کو گھیر لیا جس پر پولیس اہلکاروں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس سے قبل ایف ٹی سی کے قریب شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ملین مارچ کا مقصد حکومت گرانا نہیں بلکہ شہر کے لوگوں کو ان کے حقوق دلوانا ہیں، عوام کے بنیادی حقوق پر حال میں لے کر رہیں گے، عوام اپنے حقوق کی آواز بلند کریں اور پاکستان کے لئے سوچیں کیوں کہ ہم پانی کے لئے ترس رہے ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے پی ایس پی کے ملین مارچ پر پولیس کی شیلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی اجتماع پر اتنا شدید ردعمل سمجھ سے بالاتر ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے پی ایس پی کی ریلی پر پولیس کی شیلنگ، واٹر کینن کا استعمال اور مصطفی کمال سمیت سینئر رہنماﺅں کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ آئین پرامن احتجاج و عوامی مسائل کے حل کیلئے سیاسی اجتماع کی اجازت دیتا ہے۔ سندھ حکومت عوام کے حقوق مانگنے والوں پر تشدد پر اتر آئی ہے وہ کراچی کے عوام کے مسائل سے لاتعلق ہے۔ پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے معصوم لوگوں کو جو صاف پانی مانگ رہے تھے کہ غیر قانونی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بچوں، خواتین اور بوڑھوں پر شیلنگ کی گئی۔ اس طرح سے کراچی کو نہیں چلنے دیں گے۔ کراچی والوں سے کہتا ہوں کہ اپنے حقوق کے لئے باہر نکلو، قانون کو ہم نے نہیں بلکہ صوبائی حکومت نے ہاتھ میں لیا ہے۔ حکمرانوں نے ظالمانہ اقدام اٹھا کر ہمارا کام آسان کر دیا ہے اب کراچی کی گلی گلی میں احتجاج ہو گا۔ کارکنان نے شاہراہ فیصل پر دھرنے دے دیا شاہراہ فیصل میدان جنگ بنا رہا اور ریلی کے شرکاءنے پولیس پر پتھراﺅ شروع کر دیا۔ سندھ کے صوبائی وزیر ناصر شاہ نے کہا کہ جلاﺅ گھیراﺅ کی اجازت نہیں دیں گے، قانون کی ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹیں گے، پی ایس پی کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ ملین مارچ کا اعلان کرنے والوں کے ساتھ محض چند ہزار لوگ ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر شاہ نے کہا کہ ڈی سی کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ریلی ریڈ زون کی جانب نہیں جائے گی لیکن اس کی خلاف ورزی کی گئی۔ پی ایس پی رہنما آفاق جمال گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق آفاق جمال کی ٹانگ پر گولی لگی ہے۔گورنر ہاﺅس کو جانے والا راستہ دونوں اطراف سے کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔ جبکہ ریڈزون میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما شہلا رضا نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو رٹ قائم کرنا ااتی ہے۔ لاٹھی چارج نہیں کیا گیا صرف واٹر کینن اور شیلنگ کی گئی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایس پی جب تک دھرنے پر بیٹھی رہی کسی نے کچھ نہ کہا لیکن ریڈ زون میں گھسنے کی کوشش کی تو حکومت کو ایکشن کرنا پڑا۔ پنجاب اور کے پی کے سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار کے لئے کراچی آتے ہیں ان حالات کے باعث پینے کے پانی سمیت دیگر وسائل میں کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ گورنر سندھ محمد زبیر نے مصطفی کمال کے مارچ پر پولیس ایشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی قیادت کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ خواتین و بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کو معمول پر لانے کے اقدامات کئے جائیں۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمران اسماعیل نے کہا کہ کراچی میں پی ایس پی کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کیا گیا، چودھری نثار کو آج بڑی مذمت یاد آئی ہے یہ مذمت ماڈل ٹاﺅن میں 14 قتل ہوئے تب انہیں یاد کیوں نہ آئی۔ پی ایس پی ریلی پر پولیس ایکشن کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں حالات کشیدہ ہو گئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق نیو کراچی، نارتھ کراچی، ملیر سمیت مختلف علاقوں میں کشیدگی، عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ پی ایس پی نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ انیس قائم خانی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا اور اہم فیصلے ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کارکنوں کے ساتھ محفوظ مقام پر ہیں۔ پی ایس پی سٹوڈنٹ ونگ نے آج یوم احتجاج کا اعلان کر دیا۔ کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں احتجاج کیا جائے گا۔