ملک بھر میں گردوں کے ہزاروں آپریشن, انکشافات نے کھلبلی مچادی

لاہور (خصوصی رپورٹ) ملک بھر میں غیرقانونی طریقے سے گردوںکی پیوندکاری کے 7ہزار مراکز ہیں۔ پنجاب پہلے‘ سندھ دوسرے‘ خیبر پختونخوا تیسرے اور بلوچستان چوتھے نمبر پر‘ شہروں میں کراچی پہلے‘ ملتان دوسرے‘ لاہور تیسرے‘ اسلام آباد اور راولپنڈی چوتھے نمبر پر ہیں۔ گردہ پیوندکاری کرنےوالے غیرقانونی ہسپتال تو پاکستان کے اندر قائم ہیں جبکہ ان کو چلانے اور ان میں مریض لانے کیلئے قطر‘ عمان‘ سعودی عرب‘ کینیڈا‘ امریکہ‘ لندن‘ ساﺅتھ افریقہ‘ دبئی اور متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں باقاعدہ اس مافیا نے اپنے دفاتر بنا رکھے ہیں جہاں سے ڈیل کے تحت گردہ تبدیل کروانے والے افراد کے معاملات طے کر کے انہیں پاکستان لایا جاتا ہے۔ یہاں رہائش سے لے کر علاج معالجے تک کی قیمت فارن کرنسی میں وصول کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے بننے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی معروف ہسپتالوں میں بھی اس کیلئے باقاعدہ ڈیل کی جاتی ہے اور وہاں آئے ہوئے مریضوں کو خفیہ ہسپتالوں میں شفٹ کیا جاتا ہے۔ اس کیلئے کچھ سرکاری ڈاکٹر باقاعدہ فیس بھی وصول کرتے ہیں۔ پوش علاقوں میں کوٹھیوں کے اندر باقاعدہ نجی ہسپتال بنائے گئے ہیں جہاں صرف گردوں کو تبدیل کرنے کا کام کیا جاتا ہے اور ہسپتالوں کے ساتھ بنے گھروں کو کرائے پر لے کر گیسٹ ہاﺅسز میں تبدیل کیا جاتا ہے جہاں دوسرے ملکوں سے آئے مریضوں اور ان کے لواحقین کو رہائش دی جاتی ہے۔ کئی سرکاری ہسپتالوں کے معروف ترین ڈاکٹر باقاعدہ آپریشن کرتے ہیں اور ان ہسپتالوں کو یہی چلا رہے ہیں‘ فرنٹ پر کوئی اور ہوتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور شہر کے اندر سینکڑوں ایسے ہسپتال موجود ہیں جو اب بھی یہ کام کر رہے ہیں اور باقاعدہ ان لوگوں نے کمیشن پر ایسے لوگوں کو بھی رکھا ہوا ہے جو پسماندہ علاقوں میں جا کر غریب محنت کش افراد کو ایک لاکھ سے 3لاکھ روپے دے کر گردے خریدتے ہیں اور غیرملکیوں سے 60لاکھ سے لے کر ایک کروڑ روپے تک وصول کیا جاتا ہے۔ لاہور کے ایک معروف بڑے ہسپتالوں کے حوالے سے بھی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ وہاں یہ کام غیرقانونی طریقے سے جاری ہے۔ لاہور میں ڈیفنس‘ جوہر ٹاﺅن‘ ایونیو سوسائٹی‘ بحریہ ٹاﺅن‘ کینال ویو‘ پاک عرب‘ نشتر ٹاﺅن‘ اقبال ٹاﺅن کے علاقوں میں کوٹھیوں میں ایسے پرائیویٹ کلینک بنے ہوئے ہیں جبکہ ایک اہم شخصیت کے بھائی کے دو ہسپتالوں کا بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے جو محکمہ صحت میں خود بھی ایک اہم عہدے پر فائز ہے۔ رپورٹ میں کراچی کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ سب سے زیادہ یہ کام کراچی میں ہو رہا ہے۔ ڈیفنس کے سیکٹر 8کراچی میں 12ایسے ہسپتالوں کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ اسلام آباد کے اندر بھی تقریباً ہر سیکٹر کے اندر ایسے ہسپتال بنے ہوئے ہیں۔ کئی سفارتخانوں کا عملہ بھی ان کاموں میں ملوث ہے جو باقاعدہ اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ جن ممالک سے زیادہ لوگ پاکستان آتے ہیں وہاں پیوندکاری کے باقاعدہ سخت قوانین ہیں اور کئی کئی سال انتظار کرنا پڑتا ہے اور اسی وجہ سے یہ لوگ پاکستان اور بھارت کا رخ کرتے ہیں۔
لاہور (خصوصی رپورٹ)گردہ سکینڈل میں گرفتار خاتون صفیہ بی بی کا اعترافی بیان ریکارڈ کرانے کیلئے اسے جوڈیشل مجسٹریٹ طلعت محمود کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزمہ کو عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد پیش کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے ملزموں کو عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد پیش کرنا معمول بنا لا ہے، ایف آئی اے ریکارڈ بھی ساتھ نہیں لے کر آیا، عدالت ایف آئی اے کے پابند نہیں کہ ملزمہ کو آج بیانات قلمبند کروانے کے لیے پیش کیا جائے جبکہ ایف آئی اے نے گردہ سکینڈل میں ملوث ملزم ڈاکٹر التمش کے موبائل فون کی فرانزک رپورٹ حاصل کرلی ہے جس میں اہم انکشافات ہوئے ہیں اور ایک ایجنٹ اسلم منیر چودھری کی گفتگو کا ریکارڈ حاصل کرلیا جس میں ایک لیڈی ڈاکٹر ثناءخان کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ایف آئی اے نے ایجنٹ اسلم منیر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں۔ خاتون ملزمہ صفیہ کے متعلق بھی شواہد حاصل ہوئے ہیں اور پتہ چلا ہے کہ ملزمہ نے پچیس سے زائد لوگوں کے گردے فروخت کیے اور اس کے عوض کروڑوں روپے وصول کیے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے ملزمہ صفیہ کا بیان ریکارڈ کیا کہ وہ کس کے لیے کام کرتی ہے۔ ایف آئی نے ایجنٹ کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں جبکہ لیڈی ڈاکٹر کے متعلق بھی چھان بین شروع کردی۔ ڈاکٹر ثاقب کی گرفتاری کے لیے بھی مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ گرفتار ملزمہ کے مطابق ڈاکٹر فواد اور ڈاکٹر التمش کی گردوں کی پیوند کاری کے دوران دبئی کا رہائشی راشد بن یوسف اور ایک غیر ملکی خاتون زبیدہ دم توڑ گئی تھی۔ ڈاکٹر فواد نے راشد بن یوسف کا جعلی میڈیکل اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنایا۔ پیوند کاری کے لیے مریض سے اٹھارہ لاکھ روپے وصول کیے جاتے تھے، اب بھی متعدد افراد بطور ایجنٹ کا کام کر رہے ہیں۔ صفیہ بی بی نے بتایا کہ اس کا ڈاکٹر فواد سے تین سال قبل رابطہ وہا تھا اور اب تک اٹھارہ لاکھ روپے وصول کیے جاتے اور ڈاکٹر فواد کی فیس تیرہ لاکھ 35 ہزار روپے تھی۔

ڈان لیکس پر فوج کے تحفظات, وزیراعظم کا بڑا اعلان

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی، اے پی پی) وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اہم ملاقات کی جس میں اہم امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ڈان لیکس کے نئے نوٹیفکیشن پر بھی مشاورت کی گئی۔ وزیر داخلہ نے نوٹیفکیشن پر وزیراعظم کو اعتماد میں لیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے نئی نوٹیفکیشن میں فوج کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے درمیان ملاقات میں ملک کی سکیورٹی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا جبکہ پاک افغان سرحدی کشیدگی پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اومان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ سلطان قابوس کی قیادت میں اومان تمام شعبوں میں مسلسل پیشرفت کر رہا ہے اور ان کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیئے جانا قابل تحسین ہے۔ انہوں نے یہ بات اومان کے وزیر خارجہ یوسف بن علاوی بن عبداﷲ سے پیر کو وزیراعظم ہاﺅس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزراءخارجہ کی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سیاسی مکالمہ سیاسی، سٹریٹجک اور اقتصادی مفادات سمیت تمام شعبوں میں جامع تبادلہ خیال کے لئے مناسب فورم فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ معیشت، تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں باہمی تعاون میں اضافہ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستانی اور اومان کی بندرگاہوں کے درمیان قریب تر روابط تشکیل دینے میں اومان کی گہری دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اومان کے درمیان سرکاری سطح پر اور کمرشل فیری سروس کے آغاز کا امکان مواصلاتی رابطے، عوامی سطح پر روابط اور پاک اومان دوطرفہ تجارت میں اضافہ کے لئے بالکل نیا شعبہ کھولے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اومان میں اور خاص طور پر رائل اومانی آرمڈ فورسز میں ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کا خصوصی خیال رکھنے پر اومان کی حکومت کے ممنون ہیں۔ یوسف بن علاوی بن عبداﷲ نے پرتپاک خیرمقدم پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم کی قیادت کو سراہا جنہوں نے پاکستان کو سماجی و اقتصادی ترقی، اقتصادی استحکام کی راہ پر گامزن اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز بھی اس موقع پر موجود تھے۔

فلم انڈسٹری کی نامور شخصیات نے سینما ہاﺅسز بنانے کا آغازکر دیا

لاہور(شوبز ڈیسک)فلم انڈسٹری کی نامور شخصیات نے سینما ہاﺅسز بنانے کا آغاز کر دیا۔اس سلسلے میں کراچی کے مختلف علاقوں میں 10نئے سینما بنائے جائیں گے جبکہ لاہو ر میں بھی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سینما بنائے جارہے ہیںلہذا نئے سینما بننے سے فلموں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اور زیادہ سے زیادہ فلموں کی نمائش ممکن ہوسکے گی۔

بچوں کیلئے ڈانس اینڈ مارشل آرٹس سکول کھولوں گا

ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف نے کہا ہے کہ وہ بچوں کو ڈانس اور مارشل آرٹس کی تربیت دینا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ عنقریب ڈانس اینڈ مارشل آرٹس سکول کھولیں گے جو ہمارے مستقبل کے ٹائیگرز ہیں ۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ’منا مائیکل‘ سٹار ٹائیگر نے کہا ہے کہ میری پہلی فلم ہیرو پنٹی کے بعد متعدد نوجوان اور ان کی فیملیز میرے پاس آئیں اور مجھ سے پوچھا کہ میں نے مارشل آرٹس اور ڈانس کی تربیت کہاں سے سیکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ مداحوں سے جو پیار اور تعریف ملی ہے۔
وہ اس سکول کے ذریعے بچوں کو اس میں تربیت دینے کی صورت میں واپس کرنا چاہتا ہوں ۔

آج بھی شان کے ساتھ کام کرنیکی خواہش ہے

 لاہور(شوبز ڈیسک) فلمسٹار میرا نے کہا ہے کہ مقبول جوڑیوں کے ساتھ دوبارہ فلمیں بنانے سے انڈسٹری کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں ، اداکارہ شان کے ساتھ میری جوڑی بڑی مقبول ہوئی ، ان کے ساتھ فلم ” کھلونا “ میں اداکاری کی اور یہ فلم سپرہٹ ہوئی اور اب بھی میری خواہش ہے کہ میں شان کے ساتھ کام کروں۔ انہوں نے کہا کہ میری اور شان کی جوڑی کو لیکر اگر نئی فلمیں بنائی جائیں تو میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ فلمیں بکس آفس میں شاندار بزنس کریں گی۔میں نے بابر علی کے ساتھ ”’ کھوئے ہوئے تم کہاں “ اور ” بازی گر “ جیسی کامیابی فلمیں کی جبکہ معمر رانا کے ساتھ اچھی بھی فلمیں کر چکی ہوں۔ میرا نے کہا کہ شان ، عجب گل ، معمر رانا اور بابر علی کے ساتھ میری فل میں زیادہ مقبول ہوئیں ان ہیروز کے ساتھ دوبارہ اداکاری کرنا چاہتی ہوں اور خاص طور پر شان کے ساتھ نئی فلم میں کام کرنے کی خواہشمند ہوں۔

مائیکل جیکسن کی موت بارے حیرت انگیز انکشاف

سڈنی(شوبز ڈیسک) ہالی ووڈ کے معروف گلوکار مائیکل جیکسن نے مرنے سے ایک ہفتہ قبل اپنے قریبی دوست سے قتل کیے جانے کے شبہے کا اظہار کیا تھا۔دنیا بھر کے مشہور پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کو دنیا سے گزرے 8 سال ہوگئے ہیں اور اب بھی ان کی موت معمہ بنی ہوئی ہے جب کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق مائیکل جیکسن کی موت ادویات کے زیادہ استعمال کے باعث ہوئی ہے تاہم ان کی بیٹی والد کی موت کو قتل قرار دیتی ہیں لیکن اب پاپ گلوکار کے انتہائی قریبی دوست کے حیران کن دعوے کے بعد ایک بار پھر مائیکل جیکسن کی موت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کے دوست اورجرمن بزنس مین جیکب شیگن نے گلوکار کے اپنے انتقال سے ایک ہفتہ قبل قتل کیے جانے کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔ جیکب نے آسٹریلوی ٹی وی شو کے دوران بتایا کہ اپنی موت سے چند ہفتے قبل مائیکل جیکسن نے انہیں 13 پیغامات بھیجے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا جب کہ ایک بار مائیکل جیکسن فون کر کے روپڑے تھے اور اپنے قتل کیے جانے کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔

”جے آئی ٹی کے ارکان سپریم کورٹ نے منتخب کیے کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پانامہ کیس میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی جس کے ارکان کا چناﺅ بھی بنچ نے خود کیا ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل پر بعض جماعتوں اور حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ تنقید کی گئی جس پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور خود اچھی شہرت کے حامل افسران کا چناﺅ کیا اس لئے اب کسی کو جے آئی ٹی پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ جے آئی ٹی کو متعین سوالات دیئے گئے ہیں کہ ان کے جوابات تحقیق کے ساتھ پیش کریں جو ہر 15 دن بعد بنچ کو پیش کئے جائیں گے، پوری قوم، وکلا، ججز حضرات سب کی نظریں اس کیس پر ہیں اس لئے گڑ بڑ کا امکان نہیں ہے۔ جے آئی ٹی کے حاصل کردہ جوابات کا ایک ایک لفظ پبلک ہو گا۔ سینئر صحافی نے کہا کہ پیمرا سمیت تمام ریگولیٹری باڈیز کو دباﺅ کا نشانہ بنانا مہذب معاشروں کا وطیرہ نہیں ہے۔ آزادی صحافت ایسا موضوع ہے جس پر برسوں سے بحث جاری ہے۔ یہ ایک طویل جنگ ہے جس میں حمایتی اور اختلاف کرنے والے اپنا اپنا موقف رکھتے ہیں اس بارے کون صحیح ہے کون غلط، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ دو فریقوں میں کسی معاملے پر جھگڑا ہو تو مہذب طریقہ یہی ہے کہ خود ڈانگ سوٹے چلانے کے بجائے عدالت سے رجوع کیا جائے۔ پیمرا کے ساتھ مختلف اوقات میں کئی چینلز کے مسائل چلتے رہے ہیں جو بالآخر عدالت میں جا کر حل ہوتے ہیں۔ میں خود اس بات کی مکمل حمایت کرتا ہوں کہ ہمیں عدالت سے رجوع کرنا چاہئے اور فیصلہ آنے پر اسے من و عن تسلیم کرنا چاہئے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات بہت پرانے ہیں۔ بھٹو دور میں ایک سیاسی جماعت نیپ پر اعلیٰ عدالت نے ملک توڑنے کی سازش کے تحت پابندی بھی لگا دی تھی اس وقت سے آج تک دونوں ملکوں میں اختلافات کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے ہیں۔ چمن میں جو حملہ کیا وہ دہشتگردوں نے نہیں بلکہ افغان فوج نے کیا۔معمول کی دہشتگردی کا واقعہ نہیں تھا، اس میں افغان فوج شامل تھی جسے افغان حکومت کی تائید حاصل ہے، افغان فوج کے ایسے حملے بھی معمول بن رہے ہیں جبکہ پاکستان معمول سے ہٹ کر بھی ان پر قابو پانے کی بڑی کوشش کرتا ہے۔ پاک آرمی کے سب سے بڑے عہدیدار جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل زبیر محمودحیات کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد کابل گیا افغان حکومت اور فوج سے مذاکرات کئے اور طے پایا کہ دونوں ملک سرحد کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، اس وفد کو واپس آئے 24 گھنٹے نہ گزرے تھے کہ چمن پر حملہ کر دیا گیا۔ یہ صرف چمن پر حملہ نہ تھا بلکہ افغان حکومت کی حمایت سے افغان فوج نے کیا اس لئے یہ پاکستان پر حملہ تھا۔ اس واقعہ پر صرف رسمی احتجاج کافی نہیں ۔سینئر صحافی نے کہا کہ افغان حکومت ایک منتخب حکومت نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ نے مک مکا کے تحت تشکیل دی، امریکہ کی لے پالک افغان حکومت ہر تیسرے دن پاکستان کی سالمیت پر حملے کر رہی ہے اس لئے پاک فوج نے جو دندان شکن جواب دیا وہ بالکل صحیح ہے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ سب سے بڑی جہالت یہ ہوتی ہے کہ آپ بغیر کسی چیز کو سنے ہی اس پر اظہار خیال شروع کر دیں۔ پانامہ کیس میں اب ججز حضرات ہر 15 دن بعد رپورٹ لینگے، ان کے ریمارکس سے بھی پتہ چلے گا کہ وہ جے آئی ٹی کے حاصل کردہ جوابات سے مطمئن ہیں یا نہیں۔ سب کو جے آئی ٹی کی پہلی قسط کا انتظار کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ بنچ کا حتمی فیصلہ سامنے آئے تبھی اس پر بات ہو سکتی ہے۔ آئین، قانون، اخلاق اور ضابطہ کار کا تقاضہ ہے کہ اس سے قبل بالکل خاموش رہا جائے، صحافت کے شعبہ میں آیا تو استاد نے سب سے پہلی بات یہ سکھائی کہ آپ کے پاس کوئی خبر لیکر آئے تو اس سے پہلا سوال یہ کریں کہ کیا یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تو نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس بارے ایک جملہ بھی شائع نہیں کیا جاسکتا۔ سینئر صحافی نے کہا کہ فوجداری کا کوئی معاملہ ہو تو اخبارات اور میڈیا پر شور مچ جاتا ہے تاہم کیس جونہی عدالت میں پیش ہو تو تمام قیاس آرائیاں اور الزامات ختم ہو جاتے ہیں، اگر کوئی اخبار یا چینل اس بارے حمایت یا خلاف کوئی بات کرے تو شکایت پر توہین عدالت کے تحت طلبی ہو جاتی ہے اس لئے ہمیشہ یہی بات کی ہے کہ عدالت کے فیصلے سے قبل ہم کسی کو قطعی طور پر قصوروار یا بے گناہ قرار نہیں دے سکتے۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد نے کہا کہ جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ نے تشکیل دیا ہے، بنچ نے خود ارکان کا چناﺅ کیا جسے دونوں فریقوں نے تسلیم کیا ہے جے آئی ٹی اس کیس میں عدالت کے سامنے پیش کردہ ریکارڈ کی تشکیل اور دیگر شواہد ریکارڈ کرنے کی مجاز ہو گی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں عدالت کے فیصلے کو پڑھے بغیر ہی اس میں لمبی بحثیں ہوتی ہیں حتی کہ بعض اوقات خود ججز حضرات کو کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات ہم نے نہیں کہی۔ پوری امید ہے کہ جے آئی ٹی میرٹ پر کام کرے گی اور کسی قسم کا دباﺅ نہیں لے گی۔ مجرموں کےلئے جے آئی ٹی حکومت بناتی ہے جبکہ پانامہ کیس میں جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے شق 184 کے تحت کیس کی سماعت کی روشنی میں بنائی ہے، تمام جماعتوں کو اس پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے۔ سیاسی رہنماﺅں کے ایک دوسرے پر ذاتی حملے افسوسناک ہیں ہماری کوئی تو اخلاقی حدود ہونی چاہیے۔ ایک سماعت عدالت میں ہوتی ہے تو دوسری عدالت کے باہر ہوتی ہے جس پر ججز نے ناراضی کا بھی کئی بار اظہار کیا۔ پاکستان بار کونسل کے سیمینار میں وکلاءکی اکثریت نے طے کیا کہ جب تک پانامہ پر جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ سامنے نہیں آ جاتی انتظار کرنا چاہیے۔ ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بڑی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ جے آئی ٹی فلاں فلاں معاملے پر انکوائری کرے گی۔ اس فیصلے سے قبل آج تک سپریم کورٹ نے جتنے بھی کیسز پر احکامات جاری کئے کسی جگہ بھی کورٹ نے انکوائری کا سپروائزری رول نہیں لیا۔ یہ نکتہ بارہا سپریم کورٹ کے سامنے پیش بھی کیا گیا۔ قانون آئین کے تحت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ سپروائزری رول نہیں لے سکتی تاہم اعلیٰ عدلیہ کے طویل تجربے اور دانائی کو دیکھتے ہوئے قانون پر یقین رکھنے والے ہر شہری کا اس پر سرنگوں ہونا بنتا ہے۔ ہر کسی کو اب جے آئی ٹی کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔

10ارب کا الزام, عمران خان اپنے ہی جال میں پھنس گئے

لاہور ( این این آئی) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو 10ارب روپے ہر جانے کا لیگل نوٹس بھجوا دیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عمران خان کو ہتک عزت قانون کے تحت نوٹس بھجوایا جس میں کہا گیا کہ عمران خان نے میرے موکل پر الزام عائد کیا ہے ،عمران خان ان الزامات پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈ یا پر معافی مانگیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو14دن کے بعد 10ارب روپے ہر جانے کا دعویٰ دائر کریں گے ۔واضح رہے کہ عمران خان نے الزام عائد کیا تھاکہ انہیں پاناما لیکس کے معاملے پر خاموش ہونے کے لیے 10ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی اور جس شخص نے پیشکش کی تھی وہ شہباز شریف کا قریبی ساتھی ہے ۔

میسی سے مشابہہ ایرانی طالب علم سٹاربن گیا

تہران (نیوز ایجنسیاں) دنیا میں کئی افراد کسی نہ کسی کے ہم شکل ہوتے ہیں اور وہ ان سے اتنی مشابہت رکھتے ہیں جس پر دھوکا بھی ہوجاتا ہے لیکن ایرانی نوجوان رضا پاراسٹیش ارجنٹینا کے فٹبالر لیونل میسی سے اتنا مشابہت رکھتا ہے جس پر مداح اسے میسی سمجھ بیٹھے اور نوجوان کو ناخوشگوار صورتحال پیدا ہونے پر پولیس نے پکڑ لیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے نوجوان رضا پاراسٹیش ارجنٹینا کے معروف فٹبالر لیونل میسی کے بہت بڑے مداح ہیں اور ان کی شکل بھی اپنے پسندیدہ فٹبالر سے ملتی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنے بال اور داڑھی کا اسٹائل بھی ویسا ہی رکھا ہے جیسے آج کل میسی نے اپنایا ہوا ہے اور وہ بارسلونا کی 10 نمبر کی جرسی بھی پہنے رکھتے ہیں۔دنیا میں کئی افراد کسی نہ کسی کے ہم شکل ہوتے ہیں اور وہ ان سے اتنی مشابہت رکھتے ہیں جس پر دھوکا بھی ہوجاتا ہے لیکن ایرانی نوجوان رضا پاراسٹیش ارجنٹینا کے فٹبالر لیونل میسی سے اتنا مشابہت رکھتا ہے جس پر مداح اسے میسی سمجھ بیٹھے اور نوجوان کو ناخوشگوار صورتحال پیدا ہونے پر پولیس نے پکڑ لیا۔ر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے نوجوان رضا پاراسٹیش ارجنٹینا کے معروف فٹبالر لیونل میسی کے بہت بڑے مداح ہیں اور ان کی شکل بھی اپنے پسندیدہ فٹبالر سے ملتی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنے بال اور داڑھی کا اسٹائل بھی ویسا ہی رکھا ہے جیسے آج کل میسی نے اپنایا ہوا ہے اور وہ بارسلونا کی 10 نمبر کی جرسی بھی پہنے رکھتے ہیں۔ایرانی طالبعلم رضا پرستش اپنی پسندیدہ کھیلوں کی ہستی لیونل میسی سے اتنی مشابہت رکھتے ہیں کہ رواں ہفتے عوامی نظام میں خرابی پیدا کرنے پر وہ جیل جانے سے بال بال بچے۔ایران کے مغربہ شہر حمدان میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر رضا کے ساتھ سیلفی بنوانے کیلئے جم غفیر امڈ آیا اور پولیس کو ہنگامی صورتحال اور بے ہنگم ٹریفک پر قابو پانا مشکل ہو گیا اور اس پر قابو پانے کیلئے انہیں کچھ دیر کیلئے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔رضا کی شکل میسی سے اتنی مشابہت رکھتی ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے یورو اسپورٹ نے اصل میسی کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے غلطی سے ان کی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کر دی۔اس تمام معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب دیوانگی کی حد تک فٹبال سے لگاو¿ رکھنے والے رجا کے والد نے اپنے بیٹے کی بارسلونا کی دس نمبر کی جرسی میں تصویر کھینچ کر اسپورٹس ویب سائٹ کو ارسال کر دیں۔انہوں نے بتایا کہ میں رات میں تصویر بھیجی اور صبح انہوں نے مجھے کال کر کے انٹرویو کیلئے آنے کا کہا۔ابتدا میں ہچکچاہٹ کے باوجود 25 سالہ رضا نے میسی کی طرح بال کٹوا لیے اور اکثر باہر جاتے ہوئے بارسلونا کی جرسی پہننے لگے۔ ان کی یہ کاوش رنگ لے آئی اور انہیں جلد ہی انٹرویو اور ماڈلنگ کیلئے مختلف لوگوں نے رابطہ کرنا شروع کردیا۔رضا نے کہا کہ اب لوگ واقعی مجھے ایرانی میسی کے طور پر دیکھنے لگے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں سب کچھ ویسے ہی کروں جیسے میسی کرتے ہیں۔ایران میں لوگ فٹبال سے جنون کی حد تک لگاو¿ رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے اکثر اوقات رضا کو لوگ میسی سمجھ کر ان کے ساتھ سیلفی بنوانے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔رضا پرستش بھی فٹبال سے بہت لگاو¿ رکھتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی پیشہ ورانہ فٹبال نہیں کھیلی لیکن وہ فٹبال کی چند تراکیب سیکھ رہے ہیں تاکہ اپنے چاہنے والوں کی امیدوں پر مزید پورا اتر سکیں۔

چیمپئنز ٹرافی کے لئے بھارتی سکواڈ کا اعلان

نئی دلی(آئی این پی) بھارت نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لئے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جس میں ویرات کوہلی کو ٹیم کا کپتان برقرار رکھا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی سی آئی نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لئے اپنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جس کے لئے ویرات کوہلی کو ٹیم کا کپتان برقرار رکھا گیا ہے۔ دیگر کھلاڑیوں میں مہندرا سنگھ دھونی، یووراج سنگھ، شیکر دھون، روہت شرما، اجنکیا رہانے، امیش یادیو، رویندرا جڈیجا، روی چندرن ایشون، محمد شامی، بھونیشور کمار، ہردیک پانڈے اور جسپریت بمراہ شامل ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بی سی سی آئی نے آئی سی سی اور بھارتی سپریم کورٹ کے دبا میں آ کر چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی یکم جون سے 18 جون تک انگلینڈ کے 3 شہروں میں کھیلی جائے گی جس میں پاک بھارت ٹاکرا 4 جون کو شیڈول ہے۔ بی سی سی آئی نے 14 روز کی تاخیر کے بعد ٹیم کا اعلان کیا۔