لاہور (خصوصی رپورٹ) ملک بھر میں غیرقانونی طریقے سے گردوںکی پیوندکاری کے 7ہزار مراکز ہیں۔ پنجاب پہلے‘ سندھ دوسرے‘ خیبر پختونخوا تیسرے اور بلوچستان چوتھے نمبر پر‘ شہروں میں کراچی پہلے‘ ملتان دوسرے‘ لاہور تیسرے‘ اسلام آباد اور راولپنڈی چوتھے نمبر پر ہیں۔ گردہ پیوندکاری کرنےوالے غیرقانونی ہسپتال تو پاکستان کے اندر قائم ہیں جبکہ ان کو چلانے اور ان میں مریض لانے کیلئے قطر‘ عمان‘ سعودی عرب‘ کینیڈا‘ امریکہ‘ لندن‘ ساﺅتھ افریقہ‘ دبئی اور متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں باقاعدہ اس مافیا نے اپنے دفاتر بنا رکھے ہیں جہاں سے ڈیل کے تحت گردہ تبدیل کروانے والے افراد کے معاملات طے کر کے انہیں پاکستان لایا جاتا ہے۔ یہاں رہائش سے لے کر علاج معالجے تک کی قیمت فارن کرنسی میں وصول کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے بننے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی معروف ہسپتالوں میں بھی اس کیلئے باقاعدہ ڈیل کی جاتی ہے اور وہاں آئے ہوئے مریضوں کو خفیہ ہسپتالوں میں شفٹ کیا جاتا ہے۔ اس کیلئے کچھ سرکاری ڈاکٹر باقاعدہ فیس بھی وصول کرتے ہیں۔ پوش علاقوں میں کوٹھیوں کے اندر باقاعدہ نجی ہسپتال بنائے گئے ہیں جہاں صرف گردوں کو تبدیل کرنے کا کام کیا جاتا ہے اور ہسپتالوں کے ساتھ بنے گھروں کو کرائے پر لے کر گیسٹ ہاﺅسز میں تبدیل کیا جاتا ہے جہاں دوسرے ملکوں سے آئے مریضوں اور ان کے لواحقین کو رہائش دی جاتی ہے۔ کئی سرکاری ہسپتالوں کے معروف ترین ڈاکٹر باقاعدہ آپریشن کرتے ہیں اور ان ہسپتالوں کو یہی چلا رہے ہیں‘ فرنٹ پر کوئی اور ہوتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاہور شہر کے اندر سینکڑوں ایسے ہسپتال موجود ہیں جو اب بھی یہ کام کر رہے ہیں اور باقاعدہ ان لوگوں نے کمیشن پر ایسے لوگوں کو بھی رکھا ہوا ہے جو پسماندہ علاقوں میں جا کر غریب محنت کش افراد کو ایک لاکھ سے 3لاکھ روپے دے کر گردے خریدتے ہیں اور غیرملکیوں سے 60لاکھ سے لے کر ایک کروڑ روپے تک وصول کیا جاتا ہے۔ لاہور کے ایک معروف بڑے ہسپتالوں کے حوالے سے بھی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ وہاں یہ کام غیرقانونی طریقے سے جاری ہے۔ لاہور میں ڈیفنس‘ جوہر ٹاﺅن‘ ایونیو سوسائٹی‘ بحریہ ٹاﺅن‘ کینال ویو‘ پاک عرب‘ نشتر ٹاﺅن‘ اقبال ٹاﺅن کے علاقوں میں کوٹھیوں میں ایسے پرائیویٹ کلینک بنے ہوئے ہیں جبکہ ایک اہم شخصیت کے بھائی کے دو ہسپتالوں کا بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے جو محکمہ صحت میں خود بھی ایک اہم عہدے پر فائز ہے۔ رپورٹ میں کراچی کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ سب سے زیادہ یہ کام کراچی میں ہو رہا ہے۔ ڈیفنس کے سیکٹر 8کراچی میں 12ایسے ہسپتالوں کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ اسلام آباد کے اندر بھی تقریباً ہر سیکٹر کے اندر ایسے ہسپتال بنے ہوئے ہیں۔ کئی سفارتخانوں کا عملہ بھی ان کاموں میں ملوث ہے جو باقاعدہ اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ جن ممالک سے زیادہ لوگ پاکستان آتے ہیں وہاں پیوندکاری کے باقاعدہ سخت قوانین ہیں اور کئی کئی سال انتظار کرنا پڑتا ہے اور اسی وجہ سے یہ لوگ پاکستان اور بھارت کا رخ کرتے ہیں۔
لاہور (خصوصی رپورٹ)گردہ سکینڈل میں گرفتار خاتون صفیہ بی بی کا اعترافی بیان ریکارڈ کرانے کیلئے اسے جوڈیشل مجسٹریٹ طلعت محمود کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزمہ کو عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد پیش کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے ملزموں کو عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد پیش کرنا معمول بنا لا ہے، ایف آئی اے ریکارڈ بھی ساتھ نہیں لے کر آیا، عدالت ایف آئی اے کے پابند نہیں کہ ملزمہ کو آج بیانات قلمبند کروانے کے لیے پیش کیا جائے جبکہ ایف آئی اے نے گردہ سکینڈل میں ملوث ملزم ڈاکٹر التمش کے موبائل فون کی فرانزک رپورٹ حاصل کرلی ہے جس میں اہم انکشافات ہوئے ہیں اور ایک ایجنٹ اسلم منیر چودھری کی گفتگو کا ریکارڈ حاصل کرلیا جس میں ایک لیڈی ڈاکٹر ثناءخان کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ایف آئی اے نے ایجنٹ اسلم منیر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں۔ خاتون ملزمہ صفیہ کے متعلق بھی شواہد حاصل ہوئے ہیں اور پتہ چلا ہے کہ ملزمہ نے پچیس سے زائد لوگوں کے گردے فروخت کیے اور اس کے عوض کروڑوں روپے وصول کیے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے ملزمہ صفیہ کا بیان ریکارڈ کیا کہ وہ کس کے لیے کام کرتی ہے۔ ایف آئی نے ایجنٹ کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں جبکہ لیڈی ڈاکٹر کے متعلق بھی چھان بین شروع کردی۔ ڈاکٹر ثاقب کی گرفتاری کے لیے بھی مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ گرفتار ملزمہ کے مطابق ڈاکٹر فواد اور ڈاکٹر التمش کی گردوں کی پیوند کاری کے دوران دبئی کا رہائشی راشد بن یوسف اور ایک غیر ملکی خاتون زبیدہ دم توڑ گئی تھی۔ ڈاکٹر فواد نے راشد بن یوسف کا جعلی میڈیکل اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنایا۔ پیوند کاری کے لیے مریض سے اٹھارہ لاکھ روپے وصول کیے جاتے تھے، اب بھی متعدد افراد بطور ایجنٹ کا کام کر رہے ہیں۔ صفیہ بی بی نے بتایا کہ اس کا ڈاکٹر فواد سے تین سال قبل رابطہ وہا تھا اور اب تک اٹھارہ لاکھ روپے وصول کیے جاتے اور ڈاکٹر فواد کی فیس تیرہ لاکھ 35 ہزار روپے تھی۔

















