بھارت کو بھجوائے لیگل نوٹس پر بیک فائر نہیں کرینگے

لاہور(نیوزایجنسیاں)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے کہاہے کہ بھارت کے ساتھ سیریز کا معاہدہ ہے جس کی وجہ سے لیگل نوٹس بھیجاہے ،ہمارے وکلاءپراعتماد ہیں اور موقف مضبوط ہے۔ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار خان کا کہناتھا کہ بھارت کو بھیجے گئے لیگل نوٹس پر بیک فائر نہیں کریں گے ،پاکستان کرکٹ میں پنجابی ،پٹھان اور سندھی سمیت سب ہیں ،کسی قوم کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے بلکہ فیئر سلیکشن کرتے ہیں اور اگر سندھ کے وزیر کھیل اپنا الگ کرکٹ بورڈ بنانا چاہتے ہیں تو بنالیں۔ان کا کہناتھا کہ شاہد آفریدی کو پی سی بی میں کوئی ذمہ دار نہیں دے رہے۔واضح رہے گزشتہ روز بھارتی کرکٹ بورڈ نے پی سی بی کا لیگل نوٹس مسترد کر دیا تھا۔پی سی بی کے لیگل نوٹس کے جواب میں سیکریٹری بی سی سی آئی نے کہا ہے کہ مفاہمتی یاداشت کو دیکھ کر ہی جواب دیا جائے گا اور نوٹس کے جواب کیلئے معاہدے کی قانونی حیثیت دیکھنی ہوگی ویسے بھی وہ صرف ایک لیٹر تھا باقاعدہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔پی سی بی نے باہمی سیریز نہ کھیلنے پر بھارتی بورڈ کو 64 ملین ڈالر کے نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے لیگل نوٹس جاری کیا تھا، آئی سی سی قوانین کے مطابق بھارت کو ایک ہفتے میں جواب دینا تھا جس کے بعد معاملہ آئی سی سی کی تنازعات حل کرنے والی کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ نجم سیٹھی کی سربراہی میں کام کرنے والی پی سی بی نے آئی سی سی میں ”بگ تھری“ کی حمایت کا فیصلہ کیا تو بدلے میں بھارت کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے گئے، اس کے تحت 2014 سے 2023 تک دونوں ملکوں کے درمیان 6 دو طرفہ سیریز طے پائیں، ان میں پہلی سیریز کی میزبانی پاکستان کو کرنا تھی، اس دوران دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات اور سرحدوں پر کشیدگی پیدا ہونا شروع ہوگئی جس کے بعد بھارتی بورڈ اپنی حکومت سے اجازت نہ ملنے کا جواز پیش کرتے ہوئے سیریز کھیلنے سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔

فیصلہ کن معرکے کیلئے شاہینوں کی بھرپور ٹریننگ

ڈومینیکا(آئی این پی)پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین تیسرااورفیصلہ کن ٹیسٹ (کل)بدھ کو سےونڈسر پارک ڈومینیکا میں شروع ہوگا ،3میچوں کی سیریز1-1 سے برابر ہے،قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور یونس خان اپنے کیر ئیر کے آخری میچ اور سیریز کو یادرگار بنانے کیلئے پر عزم ہیں،آخری ٹیسٹ سے قبل قومی ٹیم کی بھر پور پریکٹس جاری ہے ،ٹیم نے ڈومینیکا میں 3گھنٹے کا پریکٹس سیشن کیا جس میں فٹنس اورفیلڈنگ پرخاص توجہ دی گئی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیزکے خلاف تیسرے ٹیسٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔تین میچز پرمشتمل سیریزکا پہلا ٹیسٹ پاکستان نے7 وکٹوں سے جیتا، میزبان ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میں 106 رنز سے فتح سمیٹتے ہوئے سیریزایک ایک سے برابر کردی۔ سیریزکا تیسرا اورفیصلہ کن ٹیسٹ بدھ سےونڈسرپارک ڈومینیکا میں شروع ہوگا، قومی ٹیم حتمی معرکہ کیلئے بھرپورتیاریوں میں مصروف ہے، ٹیم نے ڈومینیکا میں 3گھنٹے کا پریکٹس سیشن کیا جس میں فٹنس اورفیلڈنگ پرخاص توجہ دی گئی۔پاکستان کے پاس ویسٹ انڈین سرزمین پرپہلی بارٹیسٹ سیریزجیتنے کا آخری موقع ہے۔ کپتان مصباح الحق اوریونس خان بھی کیرئیرکےآخری ٹیسٹ میں ان ایکشن ہوں گے، فیصلہ کن ٹیسٹ کیلئے قومی ٹیم میں تبدیلیوں کا امکان ہے، احمدشہزاد کی جگہ شان مسعود کوموقع مل سکتا ہے۔قومی ٹیم ونڈسر پارک ڈومینیکا میں پہلی بارٹیسٹ میچ کھیلے گی، اب تک اس گراﺅنڈ پرکھیلے گئے4میچزمیں ویسٹ انڈین ٹیم صرف ایک میں کامیابی حاصل کرسکی، 2میں شکست جبکہ ایک میچ ڈرا ہوا۔

پانامہ لیکس پر جے آئی ٹی کا اہم مطالبہ, کام شروع کردیا گیا

اسلام آباد(صباح نیوز+آئی این پی)پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا ہے ۔ اجلاس میں ایس ایس پی سکیورٹی جمیل ہاشمی نے شرکاءکو کیس کے حوالے سے بریفنگ دی اور کیس کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے ۔ پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے قائم کی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں سٹیٹ بینک کے عامر عزیز ، ایس ای سی پی سے بلال رسول ، نیب کے عرفان نعیم منگی ، آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید جبکہ ایم آئی سے بریگیڈیئر کامران خورشید شامل ہیں ، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی سربراہی کے فرائض واجد ضیا انجام دے رہے ہیں۔ پانامہ کیس کی تحقیقات کےلئے قائم 6رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء نے جوڈیشل اکیڈمی کا دورہ کیا اور جے آئی ٹی کے بعض ارکان نے واجد ضیاءسے غیر رسمی ملاقات بھی کی تاہم جے آئی ٹی باضابطہ طور پر کام کا آغاز نہ کرسکی ، دوسری طرف فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو جے آئی ٹی کا سیکرٹریٹ ڈکلیئر کردیا گیا ہے ، ایس ایس پی سیکیورٹی جمیل ہاشمی نے جوڈیشل اکیڈمی کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور جے آئی ٹی کے سربراہ اور ارکان کو فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ، جے آئی ٹی کی معاونت کےلئے ایف آئی اے اور نجی شعبے سے ماہرین کی خدمات لی جائیں گی ، عدالت عظمیٰ نے ملک کے تمام سرکاری اداروں ،و زارتوں اور ڈویژنوں کو جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔تفصیلات کے مطابق پیر کو سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس کی تحقیقات کےلئے بنائی گئی 6رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے جوڈیشل اکیڈ می کا دورہ کیا جہاں انہوں نے جے آئی ٹی کےلئے قائم سیکرٹریٹ میں انتظامات کا جائزہ لیا ۔ اس دورہ جے آئی ٹی کے بعض ارکان بھی جوڈیشل اکیڈمی پہنچے جنہوں نے واجد ضیاءسے غیر رسمی ملاقات کی ، جے آئی ٹی اپنا پہلا باضابطہ اجلاس ارکان پورے ہونے پر منعقد کرے گی جس میں سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس کے فیصلے اور دستیاب دستاویزی مواد کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد باضابطہ طور پر تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق واجد ضیاءسمیت جے آئی ٹی کے ارکان اپنے دفاتر کی بجائے اب جوڈیشل اکیڈمی بیٹھا کریں گے اور جب تک پانامہ کیس کی تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں اس وقت تک جے آئی ٹی ارکان اپنے متعلقہ محکموں میں نہیں جائیںگے ۔ دوسری طرف جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءمعاونت کےلئے ایف آئی اے سے افسران بھی لیں گے اور ڈی جی ایف آئی اے کو وائٹ کالر کرائمز کے ایکسپرٹ پانچ افسروں کا پینل دینے کا کہا جائے گا اور ان پانچ میں سے ایک افسر جے آئی ٹی کی معاونت کےلئے لیا جائے گا جبکہ نجی شعبے سے بھی ماہرین کی خدمات لی جائیں گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ بینکنگ سیکٹر سے ماہرین لیے جائیں گے جن کا فیصلہ جے آئی ٹی کے اجلاس کے دوران کیا جائے گا ۔ جو منی لانڈرنگ سمیت رقوم کی منتقلی سے متعلق تحقیقات میں معاونت کریں گے ۔جے آئی ٹی کے سربراہ اور ارکان کی سیکیورٹی کے لئے آئی جی اسلام آباد نے ایس ایس پی سیکیورٹی جمیل ہاشمی کو ذمہ داری سونپ دی ہے اور جمیل ہاشمی نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا سے بھی ملاقات کی اور انہیں فول پروف سکیورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ۔ جے آئی ٹی کے سربراہ اور اراکین کو آمد ورفت کے دوران خصوصی سکیورٹی سکواڈ فراہم کئے جائیں گے جبکہ جوڈیشل اکیڈمی کی سیکیورٹی کو بھی بڑھا دیا گیا ہے اور بغیر خصوصی پاس ملازمین کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ہم باتیں نہیں کرتے, انقلاب لا کر دکھائینگے, دبنگ اعلان

لاہور،سیالکوٹ( اپنے سٹاف رپورٹر سے، بیورو رپورٹ) وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے کہا ہے کہ کسانوں کامفاد بے حد مقدم ہے۔کسانوں کے ساتھ زےادتی کسی صورت برداشت نہےں کروں گا۔متعلقہ افسران سن لےں کوئی بہانہ بازی نہےں چلے گی ،مجھے صرف نتائج چاہئےں۔خرےداری مہم کا ذاتی طورپر جائزہ لے رہا ہوں،کسی کو بھی کاشتکاروں کے مفادات کے ساتھ کھےلنے نہےں دوں گا۔وزےراعلیٰ نے ہےڈ سلےمانکی گندم خرےداری مرکز مےں کاشتکاروںکی شکاےات اورفرائض مےں غفلت پراوکاڑہ کے اےڈےشنل ڈپٹی کمشنر رےونےو، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر، ڈی اےس پی ،اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر ، تحصےلدار اورخرےداری مرکز کے عملے کو معطل کرنے کاحکم دےتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کو سہولتوں کی فراہمی پرغفلت برتنے والوں کو عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہےں ۔وزےراعلیٰ نے اس امر کا حکم آج ےہاں وےڈےو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دےا۔وےڈےو کانفرنس مےںگندم خرےداری مہم2017ءاور وزےراعلیٰ کے پسرورکے علاقے پورب کلےئر و دےپالپور کے علاقے ہےڈ سلےمانکی کے خرےداری مراکزکے دورے کے دوران سامنے آنےوالے مسائل کا جائزہ لےاگےا۔وزےراعلیٰ کو پورب کلےئر خرےداری مرکز اور ہےڈ سلےمانکی خرےداری مرکزمےں کاشتکاروں کی شکاےات کے بارے مےںانکوائری رپورٹس پےش کی گئیں۔وزےراعلیٰ نے وےڈےو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے کاشتکاروں سے 40لاکھ ٹن گندم خرےدنے کا ہدف مقرر کےا ہے جس کے حصول کےلئے کوئی کسر اٹھانہےں رکھی جائے گی۔ وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے کہاہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی یہ واضح سوچ ہے کہ جب تک پاکستان کا ہر بچہ اور بچی زیور تعلیم سے آراستہ نہیں ہوجاتی اس وقت تک پاکستان ترقی یافتہ ملک نہیں بن سکتا،یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے 2008 ءمیں 2 ارب روپے سے پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ قائم کیااور آج اس کاحجم 17ارب روپے سے بڑھ چکاہے اور یہ تعلیمی فنڈ جنوبی ایشیاءکا سب سے بڑا فنڈ بن چکاہے اور اس تعلیمی فنڈ سے 2لاکھ سے زائد بچے اور بچیاں مستفید ہوچکے ہیں-اگر یہ فنڈ 2008 کی بجائے 14اگست1947 ءکو قائم کر دیا جاتا تو پشاور سے لے کر مہران کی وادیوں تک آج کوئی بچہ وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہتا اورملک صحیح معنوں میں قائدؒ و اقبالؒ کا پاکستان بن چکا ہوتا-پنجاب حکومت کے اس تعلیمی فنڈ سے 11ار ب روپے کے وظائف دئےے جا چکے ہیں جن کے ذرےعے ہزاروں کم وسیلہ مگر ذہین طلبا وطالبات تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹرز، انجینئرز ، ٹیچرز ، بینکرز ، ماہرین اور سائنسدان بن کر ملک و قوم کی خدمت کررہے ہیں-اس تعلیمی فنڈ کی بدولت وسائل کی کمی کے شکار قوم کے ہونہار بچوں پر اعلی تعلیم کے دروازے کھلے ہیں-اگر یہ تعلیمی فنڈ قائم نہ کیا جاتا تو وسائل کی کمی کے باعث یہ بچے اعلی اداروں میں حصول تعلیم تو دور کی بات شاید ان کے دروازوں کی شکل بھی نہ دیکھ سکتے-اس تعلیمی فنڈ سے پنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے ہونہار طلبا وطالبات مستفید ہورہے ہیں-وزیراعلی محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج گورنمنٹ کالج فار ویمن یونیورسٹی ،سیالکوٹ میں طلبا وطالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا- وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ، اراکین قومی وصوبائی اسمبلی ،وائس چانسلرز ، پرنسپلز ، اساتذہ ،ماہرین تعلیم اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی-وزیراعلی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کی یہ محفل صرف اور صرف میرٹ کو اجاگر کرنے،محنت کی عظمت کو سلام پیش کرنے اورقوم کے ان عظیم بیٹوں اور بیٹیوں کی شاندار کاوش کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سجائی گئی ہے جنہوں نے دن رات محنت کر کے یہ مقام حاصل کیاہے -میں ان بچوں کے والدین اور اساتذہ کو بھی دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں ۔ملزوم نہیں ، غریب کا بچہ زیادہ ذہین ہوسکتا ہے-میں نے غریب کے بچے کو اعلی تعلیم دلانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس منزل کے حصول کے لئے ا پنی تمام تر توانائیاں وقف کردوںگا-غربت کو تعلیم کے راستے کی دیوار نہیں بننے دیاجائے گا-آج پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کی بدولت غریب کاہونہار بچہ سر اٹھا کر کھڑاہے او راعتماد کے ساتھ بات کرتا ہے-پنجاب حکومت نے ذہین بچوں کے وظائف کے ذریعے پاکستان میں نئے انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے او رہم انقلاب کی باتیں نہیں کرتے بلکہ ہم انقلاب لا کردکھاتے ہیں او راس تعلیمی فنڈ کے ذرےعے نوجوان انقلاب برپا کررہے ہیں-وزیراعلی نے کہاکہ اگر ایک سال کے اندر تعلیمی وظائف حاصل کرنے والے طلبا وطالبات کی تعداد میں ڈیڑھ لاکھ کااضافہ مزید کیا جائے تو میں پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ میں مزید 5ارب روپے دوںگا-انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت اب تک تین مرحلوں میں 3لاکھ 15ہزار لیپ ٹاپ میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کرچکی ہے جبکہ چوتھے مرحلے میں 1لاکھ 15ہزارجدید ترین آئی سیون لیپ ٹاپ تقسیم کئے جا رہے ہیں اور یہ ایک لاکھ 15ہزار لیپ ٹاپ رمضان المبارک سے قبل طلبا وطالبات میں تقسیم کر دئےے جائیں گے اور اس ضمن میں نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی ہیں جبکہ آئندہ مالی سال ڈیڑھ لاکھ جدید ترین لیپ ٹاپ میرٹ پر تقسیم کریں گے اور اس مقصد کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں فنڈز رکھے جائیں گے تاکہ لاکھوں بچوں کے ہاتھ میں یہ جدید ہتھیار دیں اور وہ پاکستان کی معاشی جنگ لڑیں اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے اپنا موثر کردارادا کریں- انہوںنے کہاکہ جب میں نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کا پروگرام شروع کیاتو مجھ پر تنقید ہوئی کہ میں نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دے کر اپنا ہمنوا بنا رہاہوں-میں نے اس وقت بھی کہا تھاکہ کیا میں نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دےنے کی بجائے ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف دوں؟او رمیں نے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دے کر مخالفین کا اس وقت بھی منہ بند کیا تھا اور اب بھی ان کا منہ بند ہونا چاہےے- جدید دور کا تقاضا ہے کہ نوجوانوں کو جدید علوم سے آگاہ کرکے بااختیار بنایا جائے اور اسی مقصد کے پیش نظر نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دئےے جا رہے ہیں- آج اسی لیپ ٹاپ کے ذرےعے دنیا میں کروڑوں لوگ رزق حلال کما رہے ہیں اور جدید علوم سے آگاہ ہونا پاکستان کے نوجوانوں کا بھی حق ہے او رپنجاب حکومت نوجوانوں کو لیپ ٹاپ تقسیم کرکے ان کا حق انہیں دے رہی ہے-انہوںنے کہاکہ لیپ ٹاپ صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کئے جا رہے ہیں تاکہ میرٹ ایک ایسا سکہ رائج الوقت بن جائے جسے آنے والی کوئی حکومت تبدیل نہ کرسکے-آگے بڑھنے او رترقی کا واحد راستہ میرٹ ہی ہے او رپنجاب میں ہر سطح پر میرٹ کو فروغ دیا گیاہے-وزّیراعلی نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ آپ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جو ہم پاکستان کے لئے نہیں کرسکے ،یہ قوم آپ سے توقع کرتی ہے کہ آپ ملک کو غربت سے نکال کر معاشی طو رپر مضبوط کریں گے -دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم سربلنداوراسے عظیم سے عظیم تر ملک بنائیں گے اور آپ کشکول گدائی کو توڑیں گے۔ انہوںنے کہاکہ جن قوموں کی ہمت او رعزم جواں ہوتو اللہ تعالی ان قوموں کا ہاتھ تھام لیتا ہے-وقت ضائع کرنےوالی قومیں ہمیشہ پیچھے رہ جاتی ہیں-ملک میں ہر ایک نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے او راپنی اپنی بولیاں بولی جا رہی ہیں جب تک ہم نے اتحادو اتفاق کو اپنا زیورنہ بنایا ہم کبھی ترقی نہیں کرسکیں گے- قرآن پاک کی تعلیمات او رقائد ؒ کے افکار پر عمل کرنے سے ہی پاکستان عظیم قوت بنے گا-وزیراعلی نے کہاکہ سیالکوٹ پاکستان کا عظیم شہر ہے، یہ علامہ اقبالؒ ، فیض احمد فیض اور خواجہ محمد صفدر کا شہر ہے، اس شہر نے بڑے عظیم لوگ پیدا کئے ہیں- وزیراعلی نے سیالکوٹ کے شہریوں کے لئے سپیڈوبسوں کے اجراءکا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ چندماہ میں سیالکوٹ کے شہری جدید ترین سپیڈو بسو ںپر سفر کریں گے – وزیراعلی نے شہر میں ایک انڈر پاس کی تعمیر کا بھی اعلان کیا-وزیراعلی محمد شہبازشریف نے ہونہار طلبا و طالبات میں لیپ ٹاپ بھی تقسیم کئے۔

عمران خان نااہلی کیس, سپریم کورٹ نے حکمنامہ جاری کردیا

اسلام آباد (آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف آف شور کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ فرضی باتوں پر کسی کو نااہل نہیں کرسکتے‘ ٹھوس شواوہد کے بغیر کیسے کہہ سکتے ہیں کوئی صادق و امین نہیں‘ کیا ماضی کے اقدام پر کہہ سکتے ہیں صادق و امین نہیں‘ کیا اثاثے ظاہر نہ کرنے سے نااہلی کا سوال پیدا ہوگا ہے؟ اثاثے ظاہر نہ کرنے کے نتائج قانون میں درج ہیں‘ آپ انکم اور ویلتھ ٹیکس قوانین کو مکس کررہے ہیں‘ گوشواروں میں اثاثوں کو ظاہر نہ کرنے کے نتائج کیا ہوں گے‘ نعیم بخاری صاحب آپ کو آف شور کمپنی کی تفصیلات دینا ہوں گی آف شور کمپنی کیسے بنتی ہے اور اس کا مالک کون ہوتا ہے؟ پیر کو سپریم کورٹ میں عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف آف شور کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پالکی والا کیس اور دولت ٹیکس ایکٹ 1963 پڑھا ہے۔ 2000 تک ٹیکس نیازی سروسز پر لاگو ہوتا تھا نیازی سروسز کا اثاثہ لندن فلیٹس 2003 میں فرخت ہوا۔ نیازی سروس لمیٹڈ کو کبھی ظاہر ہی نہیں کیا گیا تھا۔ عمران خان نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت لندن فلیٹ کو ظاہر کیا۔ فلیٹ کبھی بھی عمران خان کی ملکیت نہیں رہا۔ لندن فلیٹ نیازی سروس لمیٹڈ کی ملکیت رہا۔ عمران خان نے جان بوجھ کر اثاثے چھپائے۔ غلط بیانی کے بعد عمران خان صادق و امین نہیں رہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کیا صرف کمپنی یا اس میں شیئر ہونا بھی اثاثہ ہے؟ اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے 20ملین کا کالا دھن ٹیکس ایمنسٹی میں سفید کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا نقطہ یہ ہے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں آف شور کمپنی ظاہر نہیں کی۔ گوشواروں میں اثاثوں کو ظاہر نہ کرنے کے نتائج کیا ہوں گے؟ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ آپ کا کیس کیپٹل اثاثوں سے متعلق ہے۔ غیر ملکی اثاثوں کو ظاہرکرنا کس قانون کے تحت ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اثاثے ظاہر نہ کرنے سے نااہلی کا سوال پیدا ہوتا ہے؟ اثاثے ظاہر نہ کرنے کے نتائج قانون میں درج ہیں۔ اکرم شیخ نے کہا کہ جان بوجھ کر اثاثے ظاہر نہ کرنا غلط بیانی کے زمرے میں آتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ انکم اور ویلتھ ٹیکس قوانین کو مکس کررہے ہیں۔ اکرم شیخ نے کہا کہ ریکارڈ تک ہماری پہنچ نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ماضی کے اقدام پر کہہ سکتے ہیں صادق و امین نہیں ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ نے عمران خان کے ٹیکس گوشوارے تو دیکھے ہی نہیں آپ خود تسلیم کررہے ہیں کہ آپ کے پاس ریکارڈ نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریکارڈ تک رسائی کے لئے درخواست دیں۔ آپ کے دلائل سن کر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کریں گے۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ عمران خان کے جواب میں فلیٹ کی قیمت درج ہے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان فلیٹ کے مالک نہیں فلیٹ آف شور کمپنی کا ہے۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ آپ تکنیکی بنیادوں پر کھیل رہے ہیں عمران خان نے جائیداد چھپائی نہیں۔ اکرم شیخ نے کہا کہ جمائمہ خان کی طرف سے رقم منتقلی ثابت نہیں ہوتی رقم منتقلی کا ثبوت دینا عمران خان کی ذمہ داریہے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ یہ کیس اس شخص کا ہے جو خود کو آئندہ کا وزیراعظم کہتا ہے۔ عمران خان کوئی عام آدمی نہیں جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ آپ کے مطابق کوئی منی ٹریل نہیں عمران خان نے آف شور کمپنی نہیں فلیٹ کو ظاہر کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نعیم بخاری صاحب آپ کو آف شور کمپنی کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ آف شور کمپنی کیسے بنی اوراس کا مالک کون ہوتا ہے؟ عام آدمی کو ٹیکس قانون کا علم نہیں ہوتا۔ فرضی باتوں پر کسی کو نااہل نہیں کرسکتے ٹھوس شواہد کے بغیر کیسے کہہ سکتے ہیں کوئی صادق و امین نہیں۔ سماعت (آج) منگل تک ملتوی کردی گئی۔

”10ارب کا سوال “….مریم اورنگیزیب نے عمران خان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہعمران خان جس طرح دوسروں پر الزام لگانے کے لئے روزانہ سپریم کورٹ آتے تھے، آج اپنے حوالے سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے کے لئے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آئیں، قوم ان کی منتظر ہے۔ عمران خان تیسری دفعہ منتخب وزیراعظم پر الزام لگانے سپریم کورٹ پہنچ جاتے تھے، آج وہ کہاں ہیں۔ عمران خان نے جھوٹ بولنے میں وقت ضائع کیا اور پورے ملک کی کرپشن کا ٹھیکہ اٹھایا لیکن احتساب کمیشن کے پی کو تالا لگایا، عمران خان نے سپریم کورٹ سے بھاگنے کے لئے دوبارہ سڑکوں کا انتخاب کیا ہے اور چھوٹی چھوٹی جلسیاں کر کے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان کو خاموش ہونے کے لئے نہیں بلکہ بولنے کے لئے 10 ارب روپے دینے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ میں بڑے کی سماعت ہوئی۔ عمران خان نے اداروں، لوگوں اور تیسری دفعہ منتخب وزیراعظم پر الزامات لگائے اور اب جب عمران خان نے سارے سوالوں کے جواب دینے ہیں تو وہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے ہائیکورٹ میں جا کر سٹے مانگتے ہیں۔ آج الیکشن کمیشن نے کہا کہ غیرملکی فنڈنگ کے جوابات آپ کو الیکشن کمیشن میں دینا ہوں گے۔ توہین عدالت کی تو آپ کو عادت ہو گئی ہے اور بعد میں آپ خود اور آپ کے وکلاءہر ادارے میں جا کر معافی مانگ لیتے ہیں۔ آج وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی طرف سے بھی عمران خان کو نوٹس مل گیا ہے۔ ان پر آپ نے الزام لگایا مجھے حیرانگی ہوئی آپ کو خاموش ہونے کے لئے 10 ارب روپے کیوں دے گا۔ آپ کو 10 ارب روپے بولنے کے لئے دینے چاہئیں کیونکہ آپ جتنا بولتے ہیں اس سے دوسروں کا فائدہ اور آپ کا نقصان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کی تعمیر میں تاخیر کی جو وجوہات ہیں اور جو کرپشن کا عنصر ہے اس کو دیکھا جا رہا ہے اور وہ تمام چیزیں پکڑی جائیں گی لیکن اس وقت اسلام آباد ایئرپورٹ کی تکمیل وزیراعظم کا مقصد ہے کہ یہ مزید تاخیر کا شکار نہ ہو کیونکہ منصوبہ میں جتنی تاخیر ہوتی ہے اس کی لاگت بھی اتنی ہی بڑھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ سے بھاگنے کے لئے دوبارہ سڑکوں کا انتخاب کیا ہے اور چھوٹی چھوٹی جلسیاں کر کے وہ یہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ایسا ممکن نہیں۔ خان صاحب بہانے بنا کر پنجاب میں جا کر پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی دیکھنے جاتے ہیں۔ خان صاحب کو سیالکوٹ جا کر پتہ تو چلا ہو گا کہ لوگوں کی خدمت کیا ہوتی ہے،کام کیا ہوتا ہے۔ کارکردگی کیا ہوتی ہے اور لوگوں سے محبت کیا ہوتی ہے۔ اب نقل مارنے کے لئے پنجاب کے دورے کرنے کا خیبرپختونخوا کے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں کیونکہ عمران خان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ عمران خان نے جھوٹ بولنے میں وقت ضائع کیا اور پورے ملک کی کرپشن کا ٹھیکہ اٹھایا لیکن احتساب کے پی کو تالا لگایا کیونکہ انہوں نے جب آپ کے بڑے ٹولے کی بڑی کرپشن پکڑنی چاہی تو آپ نے وہاں سے بھی فرار حاصل کی۔ آپ نے الیکشن کمیشن سے فرار حاصل کی۔ اب سپریم کورٹ سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پوری قوم جس کو آپ نے یہاں سپریم کورٹ کے باہر کھڑے ہو کر بار بار پکارا وہ آج عمران خان پر جو سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے جوابات کی منتظر ہے۔ اب جھوٹ بولنے اور بھاگنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ آپ کو تمام کیسز کے جوابات دینا پڑیں گے۔ عمران خان ہر روز اپنے جھوٹ کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے چھوٹی چھوٹی جلسیاں کر رہے ہیں۔ کبھی سندھ کے پانی کے ٹھیکیدار بنتے ہیں کبھی پنجاب میں جا کر جھوٹ بولتے ہیں مگر خیبرپختونخوا کی عوام آپ کی منتظر ہے۔ اس کا جواب کون دے گا۔ عمران خان روز تیسری دفعہ منتخب وزیراعظم پر الزام لگانے سپریم کورٹ پہنچ جاتے تھے۔ آج آپ کہاں ہیں۔ اپنے سوالات کا جواب دینے کیوں سپریم کورٹ نہیں آتے۔ کیوں الیکشن کمیشن نہیں آتے کیونکہ آپ کے پاس سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ میڈیا نے گذشتہ ایک سال 17 دن بہت مثبت کردار ادا کیا۔ اب میڈیا بھی سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی کو اسی طرح پیش کرتے جس طرح وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کی رپورٹنگ کی مجھے امید ہے کہ عمران خان کے جتنے کیسز یہاں لگے ہیں۔ میڈیا اس کو اس کی اصل روح اور اندر بیانات اور سوالات ہو رہے ہیں اس طرح پیش کرینگے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بدتمیزی کی سیاست، رویے کی سیاست، اداروں کی تضحیک کرنے کی سیاست، لوگوں پر نعرے لگوانے کی سیاست، عمران خان نے 2013ءسے جو شروع کی آج وہ اس کا سامنا خود کر رہے ہیں۔ ان کے وزرائ، ان کے منتخب نمائندے اپنے حلقوں سے اس لئے دور ہیں کہ ان کا جو لیڈر عمران خان ہے ان کا مقصد عوام کی خدمت ہے نہ پاکستان کی ترقی اور نہ ان کا مقصد پاکستان کے اندر سے کرپشن ختم کرنا ہے۔ اگر یہ ہوتا تو جو وعدے عمران خان اور کے پی تحریک انصاف کے لوگوں نے کئے تھے ایک تھانہ میں وائی فائی لگانے سے پولیس غیرسیاسی اور پولیس کی تربیت نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے وہ تمام نعرے اور چیزیں جو انہوں نے دوسروں کے لئے پچھلے چار سال میں کیں پاکستان کی عوام اب ان سے اس کا بدلہ بھی لے گی۔ اب ان سے اس کا بدلہ بھی لے گی اور اس طرح کے نعروں کا سامنا انہیں خود کرنا پڑے کیونکہ اس چیز کا بھی فیصلہ ہو کہ کس پارٹی اور حکومت نے پاکستان کے لوگوں کی خدمت کی ہے اور کس پارٹی اور کس حکومت نے اپنے اس صوبہ سے جہاں ان کی حکومت تھی۔ وہاں سے پورے چار سال فرار حاصل کئے رکھی بغیر کسی ثبوت کے کسی پر الزام لگانا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ایک طرف وہ سڑکوں پر کھڑے ہو کر خالی کرسیوں سے خطاب کرتے ہیں اور جے آئی ٹی کو متنازعہ بناتے ہیں اور دوسری طرف فواد چوہدری اور ایک اور صاحب سپریم کورٹ آنے کے لئے مل جاتے ہیں، میں عمران خان کو چیلنج کرتی ہوں کہ جس طرح دوسروں پر الزام لگانے کے لئے روزانہ حاضری دیتے تھے آج اپنے سوالوں کا جواب دینے کے لئے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آئیں، قوم ان کی منتظر ہے۔

وسیم اکرم نے اہلیہ شنیرا کیساتھ پیش آنیوالا مزاحیہ ترین واقعہ سنا دیا

لاہور(ویب ڈیسک)سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے اپنی آسٹریلوی اہلیہ شنیرا اکرم کیساتھ پیش آنے والا مزاحیہ واقعہ سنا کر سٹوڈیو میں بیٹھے افراد کو ہنسنے پر مجبور کردیا ۔سوشل میڈیا پر چل رہی ایک ویڈیو میں وسیم اکرم نے بتایا کہ 2 سال پہلے میں اور شنیرا ایک گھر میں کھانے پر گئے تو انہوں نے قیمے میں کپورے ڈالے ہوئے تھے، جو کٹے ہوئے تھے ، شنیرا نے سمجھا کہ یہ مشرومز ہیں، اس نے جیسے ہی دیکھا تو کہا کہ وا¶! مشرومز، میں نے اس وقت اسے انہیں کھانے دیا ،بعد ازاںجب میں نے اس کو بتایا کہ جو وہ کھا کر آئی ہے حقیقت میں وہ کیا تھا تو وہ ششدر رہ گئی لیکن پھر اس نے بڑا انجوائے کیا۔وسیم اکرم کا یہ ویڈیو کلپ جب شنیرا کی نظر سے گزرا تو انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ واقعی؟ اور میں یہاں یہ سوچ رہی ہوں کہ تم کام پر کرکٹ کی بات کرنے جاتے ہو۔شنیرا اکرم کا ٹویٹ وسیم اکرم تک پہنچا تو انہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ کوئی فکر نہیں….! لیکن یہ کہانی بتانے لائق تھی۔

”کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے “….بھارتی کرکٹ بورڈ نے اہم اعلان کر دیا

نئی دہلی (ویب ڈیسک)آئی سی سی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بعد آخر کار بھارتی کرکٹ بورڈ نے 14 روز کی تاخیر کے بعد آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لئے ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جس میں ویرات کوہلی کو ٹیم کا کپتان برقرار رکھا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی سی آئی نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لئے اپنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جس کے لئے ویرات کوہلی کو ٹیم کا کپتان برقرار رکھا گیا ہے۔ دیگر کھلاڑیوں میں مہندرا سنگھ دھونی، یووراج سنگھ، شیکر دھون، روہت شرما، اجنکیا رہانے، امیش یادیو، رویندرا جڈیجا، روی چندرن ایشون، محمد شامی، بھونیشور کمار، ہردیک پانڈیا اور جسپریت بمراہ شامل ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بی سی سی آئی نے آئی سی سی اور بھارتی سپریم کورٹ کے دبا¶ میں آ کر چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی یکم جون سے 18 جون تک انگلینڈ کے 3 شہروں میں کھیلی جائے گی جس میں پاک بھارت ٹاکرا 4 جون کو شیڈول ہے۔ بی سی سی آئی نے 14 روز کی تاخیر کے بعد ٹیم کا اعلان کیا۔

کراچی اور پنجاب کے شہریوں کیلئے محکمہ موسمیات کا الرٹ

کراچی(ویب ڈیسک)ڈی جی محکمہ موسمیات ڈاکٹر غلام رسول نے کہا ہے کہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے جب کہ کراچی میں مئی اور جون میں ہیٹ ویو کے خدشات موجود ہیں۔پیر کوکراچی میں محکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون اور ہیٹ ویو سے متعلق آگاہی سیمینار سے خطاب کے دوران محمد حنیف نے کہا کہ سندھ میں رواں سال مون سون کی اچھی بارشوں کی امید دیکھ رہے ہیں، کے پی کے اور پنجاب میں جولائی اور اگست کا مہینہ بہت سخت ہونے کا امکان ہے، پنجاب اور کے پی کے میں مون سون بارشیں کم ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ مون سون کی صورتحال موجودہ تناظرمیں ہے، آنے والے کچھ عرصے میں صورتحال تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔ڈی جی محکمہ موسمیات ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ ملک کے شمالی حصے میں اس بار معمول سے زیادہ بارشیں ہونے کا امکان ہے، ملک کے جنوبی حصے میں 30 فیصد بارشیں رکارڈ کی جانے کا امکان ہے، اس بار کراچی میں اچھی بارشیں ہوں گی ، کراچی میں جولائی سے ستمبر تک بارشوں کا امکان ہے۔ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے، کراچی میں مئی اور جون میں ہیٹ ویو کے خدشات موجود ہے، کراچی اور اسلام آباد میں حکومت جاپان کی مدد سے ریڈار تبدیل کیے جائیں گے، کراچی میں ریڈار کے لیے جلد ٹینڈر جاری کیے جائیں گے ، کراچی کا ریڈار 400 کلومیٹر کے رقبے کو کور کرے گا، ریڈارسے سونامی، بارشیں، سمندری طوفان کی پیشگی اطلاع میں مدد ملے گی۔

نیلم منیر نے فلموں میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) اداکارہ و ماڈل نیلم منیر نے پنجابی فلموں میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔نیلم منیر نے کہا کہ مجھے پنجابی فلمیں شروع دن سے بہت پسند ہیں اور اگر مجھے کسی اچھی پنجابی فلم میں کام کی آفر ز ہوئی تو میں ضرور کام کرو ں گی اور جہاں تک پاکستانی فلم انڈسٹری کا تعلق ہے تواس میں کوئی شک نہیں کہ اگر محنت اور میعار کے مطابق کام کیا جائے تو پاکستانی فلم انڈسڑی کو پاو¿ں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔