نوا ز شریف اور مر یم نوا ز کی لندن سے پا کستا ن آمد کے مو قع پر مر یم نوا ز کے بیٹے جنید صفدر کی ایو ن فیلڈاپا رٹمنٹس کے با ہر مار کٹا ئی کے واقعہ کو میڈیا نے خو ب اچھالا ہے اور ان کی گرفتا ری کی تصا ویر بھی سا منے آئی ہیں ۔جس کی وجہ سے دنیا میں پا کستا ن کی خو ب جگ ہنسا ئی ہوئی ہے ۔اس وا قعہ کو محض بچو ں کی لڑا ئی نہیں سمجھنا چا ہیے۔یہ در اصل ان حا لا ت کارد عمل ہے جو کچھ بچے اپنے ارد گر د ہو تا دیکھتے ہیں اور یقینا ایسے پر تشدد ردعمل کے ذمہ دا ر وا لدین ہو تے ہیں ۔جنید صفدر کی جا نب سے شدید رد عمل جہا ں شر مندگی کا سبب بنا وہاں قا بل افسو س بھی ہے ۔پو لیس نے انہیںپکڑ لیا ،انہیںسزا بھی ہو سکتی ہے۔میں سمجھتا ہو ںبچوں کی جا نب سے جو ابی کا رروا ئی یا بدمعا شی ہو ئی ہے اور بچو ں کے درمیان اس طرح کی گفتگو یا با ت چیت جب بھی ہو اس کے ذمہ دا ر وا لدین ہو نگے ۔میرے بھی بچے ہیںاور اگر میں کو ئی ایسی چیز کرونگاتو بچوں کی را ئے ایسا تا ثر پیدا کر یگی جس میں وہ گفتگو یا مار پیٹ کر ینگے۔بچوں کے خیا لا ت کو جس حد تک بدلا جا سکتا ہے بدلا جا سکتا ہے،بدلا جا نا چا ہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ عمرا ن خان کی طر ف سے اور سب سے بڑھ کر شر یف فیملی کی طر ف سے اس قسم کی گفتگوہو تی رہی ہے جس کا نتیجہ بچو ں کی لڑا ئی تک جا پہنچا ہے۔یہ جنید صفدر یاکسی اور بچے یا بندے کی غلطی نہیں ہے۔جنید صفدر کی جا نب سے ما ر پیٹ کے نتیجے میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں برطانوی قا نو ن کے مطا بق چھ ماہ یا ایک سا ل کی سزا ہو سکتی ہے مگر یہ غلطی ان کی اس طرح سے نہیں ہے کیو نکہ انہوں نے اپنے او پر یااپنے با رے میں کسی بیا ن کا بدلہ نہیں لیا بلکہ وہ بدلہ لے رہے ہیں جو انہوں نے اپنے گھر پر سنا ہے اور ان کے مخا لفین نے سنا ہے۔مر یم نواز کے ٹویٹ پیغام پر بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ جو بچے ردعمل دیتے ہیںوہ ان کے ماں باپ کی جا نب سے کئے گئے اقدا مات کا عکس ہو تا ہے ۔ شہبا ز شریف نے پر یس کا نفرنس کے دو ران اپنے ایک بیا ن میں کہا ہے کہ ہمارے مخالفین ہمیں عدا لتوں اور تھانوں میں لے جائینگے تو ہم بھی ان کو تھانوں میں بند کر ینگے۔اس سے اندا زہ لگا یا جا ئے کہ یہ وہی شہبا ز شر یف صاحب ہیں جنہوں نے طاہر القادری کے 14،15بندے قتل کر وائے اور 80یا 90کے قریب لو گوں کو گو لیوں سے چھلنی کر کے زخمی کر دیا ۔کنٹینر لگا کر پورا لا ہور جام کیا ہوا تھا۔آج ان کو اور ان کے با قی لو گوں کو مسئلہ ہو رہا ہے کہ کنٹینر لگائے جا رہے ہیں اور ویسے ہی اقدا ما ت کئے جا رہے ہیں جو وہ خو د کر تے تھے ۔میرا سیا ستدا نوں کو مشورہ ہے ،چاہے وہ کسی بھی سیا سی پا رٹی سے تعلق رکھتے ہوں،اگر ایسی سیا ست سے اجتناب کر ینگے تو ہمارے بچے بھی وہ نہیں کر ینگے جو لندن میں آ ج ہوا ہے۔حقیقت میں وہ بچے تھے ان کاکو ئی قصو ر نہیں تھا۔چاہے وہ کسی کے بھی بچے ہو ں ،چا ہے وہ مر یم نوا ز کے بچے ہو ں یا حسین نواز کے ،انہیں وہی بات سمجھ میں آتی ہے جو ان کے وا لدین کہتے ہیں۔





































