لودہراں (رپورٹ: امین چوہدری سے) مزید جہیز کی ڈیمانڈ پوری نہ کرنے پرظالم و جابرسسرالیوں نے بیٹی کو وحشیانہ تشد د کا نشانہ بنا کر گھر سے نکال کھڑا کیا ہمارے بات چیت کرنے پر مجھ سمیت میرے بیٹوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور خود ہی کے کپڑے پھاڑ کر 15پر کال کر دی مقامی پولیس تھانہ سٹی لودہراں مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض ملزمان کی سرپرست بن گئی 50سالہ عطا الہی حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کاروائی کرنے پر جان سے مار دینے جیسی سنگین نتائج کی دھمکیاں50سالہ عطا الہیٰ کی ”خبریں“ہیلپ لائن پر درد مندانہ اپیل ”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان،اور DPOلودہراں سے ملزمان کیخلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی اپیل اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لوں گی۔تفصیل کے مطابق ٹھکر والا لودہراں کی رہائشی 50سالہ عطا الہیٰ نے ”خبریں“ہیلپ لائن پر کال کی اور ”خبریں‘دفتر آکر بتایا کہ اس نے اپنی 20سالہ بیٹی گلشن بی بی کی شادی 7ماہ قبل محمد مظہر کیساتھ شادی کی اور ساتھ ہی تھوڑا بہت جہیز دیا مگر شادی کے اگلے ہی دن میری بیٹی نے مجھے بلوایا اور اسکے سسرالیوں نے مزید جہیز کی ڈیمانڈ کر دی ارو کہا کہ اگر اور جہیز نہیں دیا تو تمہاری بیٹی کو گھر روانہ کر دیں گے جس پر میں نے انھیں مزید جہیز دینے کا وعدہ کیا جہیز کی ڈیمانڈ پوری نہ کرنے پر وہ آئے روز میری بیٹی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے تھے اور اسے وحشیانہ تشدد کانشانہ بناتے تھے گزشتہ 5روز قبل انھوں نے میری بیٹی کو تشد د کا نشانہ بنایا اور مار مار کر گھر سے نکال دیا مورخہ یکم اگست 2018کی شام تقریباََ 8بجے میں اپنے بیٹے محمد تنویر کیساتھ اپنی بیٹی کے سسرال گئی مگر بات چیت کے دوران جہیز دینے کیلئے تھوڑا وقت مانگا تو اللہ بخش، محمد مظہر، اظہر، ربنواز، محمد اجمل، عمان بی بی، شاہانہ مائی، اور ریحانہ بی بی طیش میں آگئے اور مجھے میرے بیٹے سمیت بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور میرے ٹخنہ اور بازو کی ہڈی توڑ ڈالی اور میرے بیٹے کو بھی بے رحمانہ تشد د کا نشانہ بنایا اور اسے مار مار کر باتھ روم میں بند کر دیا اور عورتوں نے اپنے کپڑے پھاڑ کر 15پر کال ملا دی جس پر موقع پر پولیس آگئی اور میرے بیٹے اور محمد مظہر کو پکڑ کر تھانہ میں لے گئی اورحوالات بند کر دیا بعد ازاں مقامی پولیس تھانہ سٹی لودہراں مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض ملزمان کی سر پرست بن گئی اور ہمیں بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والوں کیخلاف کوئی کاروائی کرنے کے ہمیں ہی الٹا دھمکایا اور کہا کہ اگر زیادہ کوئی بھاگ دوڑ کی میرے بیٹوں پر جھوٹے مقدمات درج کر کے حوالات بند کر دیں گے ملزم جوکہ میرا داماد بھی ہے وہ میری بیٹی کو جہیز میں دیا گیا سونا 2تولہ بھی بیچ کھاگیا ہے اور اب مزید کی ڈیمانڈ رکھ دی تھی میں غریب عورت کہاں سے اسے پورا کروں مقامی پولیس بھی ملزمان کی سرپرست بن گئی ہے اورملزمان کیخلاف کوئی کاروائی نہ کی جا رہی ہے اور ملزمان آزادانہ دندناتے پھر رہے ہیں اور ہمیں کاروائی کرنے سے روکا جا رہا ہے اور دھمکیاں دی جارہی ہے کہ اگر کوئی کاروائی کرنے کی کوشش کی گئی تو ابھی تو صرف ٹانگیں توڑی ہیں اب جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے صبح شام ہمارے گھر کے چکر لگا لگا کر ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ہم ان کے خوف کی وجہ سے اپنے ہی گھر سے بے گھر ہونے پر مجبور ہیں اور ان ظالم اوباشوں کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ہم نے حصول انصاف کیلئے ہر دروازہ پر دستک دی مگر ہماری کوئی شنوائی نہ ہو رہی ہے بالآخر حصول انصاف کی خاطر ”خبریں“ہیلپ لائن پر کال کی50سالہ عطا الہی کی ”خبریں“ہیلپ لائن پر درد مندانہ اپیل کی ہے اور ”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان،اور DPOلودہراں سے ملزمان کیخلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی اپیل کی ہے اور انھیں گرفتار کر کے کڑی سے کڑی سزا کی اپیل کی ہے50سالہ عطا الہی نے مزید کہا کہ اگر مجھے انصاف نہ ملا تو وہ اپنے خاوند کے ہمراہ DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لے گی۔

