امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ انہیں فلائی دبئی کے طیارے میں پیش آنے والے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا۔ وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ممکنہ کردار کے معاملے کو امریکی انٹیلی جنس حکام دیکھ رہے ہیں اور وہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہتے۔
یہ واقعہ 30 ستمبر 2026 کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آیا، جو دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی۔ دورانِ پرواز عمانی نژاد معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ طیارہ تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آیا، تاہم کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مسافروں نے حملہ آور کو قابو کیا اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے برعکس کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ ایران اس واقعے کے پیچھے ہوسکتا ہے، تاہم انہوں نے بھی اس دعوے کے حق میں کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا۔ وینس کے بیان سے واضح ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے ابھی تک ایران سے تعلق کا کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

