Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • جناح ہائوس حملہ کیس، پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کے جسمانی ریمانڈ میں 7روز کی توسیع ‘ خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں:حماد اظہر
    • سابق وزیراعلی پنجاب غلام حیدر وائیں کی 33ویں برسی آج منائی جائے گی
    • ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک
    • ٹانک میں ٹریفک پولیس کی گاڑی پر دہشت گرد حملہ، 3 اہلکار شہید
    • بھارت اسلام آباد میں SCO قومی رابطہ کاروں کے اجلاس میں شرکت کرے گا
    • نیپال میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ سے 70 افراد ہلاک، 11 لاپتا
    • اسلام آباد، راولپنڈی میں موسلا دھار بارش، رین ایمرجنسی نافذ
    • سعودی وزیر خارجہ واشنگٹن پہنچ گئے امریکی ہم منصب سے اہم مذاکرات آج
    • M-1 موٹروے اور جی ٹی روڈ اسلام آباد پشاور ٹریفک کیلئے بحال
    • CDA کا اسلام آباد میں جدید اسپورٹس ایریناز قائم کرنیکا فیصلہ
    • جاز کا ڈیجٹ اور یونیساک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان
    • الامہ ہاسنگ سوسائٹی روات راولپنڈی کے مالکان سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے میں مصروف
    • الامہ جعلی ہاسنگ سوسائٹی نوسر باز مالکان کو جلد قانون کے شکنجے میں لائینگے، ترجمان راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا موقف
    • مشرق وسطیٰ جنگ کے تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: عمانی وزیر خارجہ
    • راولپنڈی سے اسلام آباد داخلی و خارجی راستوں پر قانونی شکنجہ مزید سخت
    • صدر مملکت آصف زرداری سے ملک ساحل سرمد خان کی ملاقات
    • پائیدار سیاحتی ترقی، بہتر بنیادی سہولیات مقامی برادریوں کی شمولیت کے لیے پرعزم ہیں: وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان
    • وزیراعظم کا وژن’ ورلڈ سکلز شنگھائی میں پاکستانی نوجوانوں کی شاندار کارکردگی
    • PTI اور حکام کے درمیان ملاقاتوں کے باوجودمارچ معاملے پر تعطل ختم نہ ہوسکا
    • بوچھال کلاں کا غائب ہونیوالا 15سالہ بچہ کاشان حیدر 23روز بعد بالآخر والدین کو مل گیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    بچہ دانی کی پیوندکاری کے بارے میں سنا ہے کبھی؟

    By Daily Khabrainاگست 10, 2018
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    گجرات (ویب ڈیسک)’میں صرف 28 سال کی ہوں۔ اس عمر میں میرے تین ابارشن ہو چکے ہیں۔ ایک بچہ مرا ہوا پیدا ہوا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اب میرا اپنا بچہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن مجھے میرا اپنا بچہ چاہیے۔ میں سروگیسی سے بچہ نہیں چاہتی ہوں۔ اور نہ ہی بچہ گود لینا چاہتی ہوں۔ آپ بتائیں، کیا ہو سکتا ہے؟‘انڈین ریاست گجرات کے شہر بھروچ کی رہائشی میناکشی ولانڈ جب پہلی بار ڈاکٹر شیلیش پنٹمبیکر سے ملی تو وہ بہت مایوس تھیں۔وہ سال 2017 میں اپریل کا مہینہ تھا۔ گرمی میں میناکشی اپنی ماں اور گھر والوں کے ساتھ ڈاکٹر شیلیش کے ہسپتال پہنچی تھیں۔ڈاکٹر شیلیش پنٹمبیکر ملک بھر میں بچہ دانی ٹرانسپلانٹ کے لیے شہرت رکھتے ہیں اور پونے کے گلیکسی ہسپتال میں تعینات ہیں۔میناکشی کی بچہ دانی میں بچہ ٹھہر نہیں پا رہا تھا، کیونکہ ان کو ’اشرمین سنڈروم‘ نام کی بیماری تھی۔ اس بیماری میں خواتین کو ماہواری نہ آنے کا مسئلہ رہتا ہے اور بچہ دانی سالوں تک کام نہیں کرتی ہے۔اکثر ایک کے بعد ایک کئی بار بچہ گر جانے کی وجہ سے یہ بیماری ہوتی ہے، اس کے علاوہ پہلی ڈیلیوری کے بعد، بچہ دانی میں کھرونچ ہونے کی وجہ سے بھی یہ بیماری ہوتی ہے۔
    انٹرنیشنل جرنل آف اپلائیڈ ریسرچ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں 15 فیصد خواتین مختلف وجوہات کی بنا پر ماں نہیں بن سکتی ہیں۔ جن میں تین سے پانچ فیصد خواتین بچہ دانی کے کسی مسئلے کا شکار ہوتی ہیں۔میناکشی آخری بار دو سال پہلے حاملہ ہوئی تھیں۔ ’ایک وہ دن تھا اور ایک آج کا دن ہے۔ میرا سپنا سچ ہونے جا رہا ہے۔ مجھے بے صبری سے نومبر کے پہلے ہفتے کا انتظار ہے۔‘ میناکشی جس ہسپتال میں داخل ہیں وہاں ہر نرس اور جونیئر ڈاکٹر سے ہر دن اک بار وہ اس بات کا ذکر ضرور کرتی ہیں۔فی الحال پچھلے پانچ مہینوں سے میناکشی ہسپتال میں داخل ہیں۔ وہ 21 ہفتوں کی حاملہ ہیں۔ مئی 2017 میں ان کے بچہ دانی کی پیوندکاری ہوئی تھی۔ ان کی ماں نے انھیں اپنی بچہ دانی دی تھی۔دنیا میں بچہ دانی کی پیوندکاری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شیلیش کے مطابق پوری دنیا میں اب تک صرف 26 خواتین کی ہی بچہ دانی کی پیوندکاری کی گئی ہے، جن میں سے صرف 14 ہی کامیاب ہوئی ہیں۔جبکہ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق پوری دنیا میں 42 پیوندکاریاں ہوئی ہیں۔ جبکہ صرف آٹھ کیسز میں خواتین پیوندکاری کے بعد حاملہ ہوئی ہیں۔آٹھ کیسز میں سے سات سویڈن کے ہیں اور ایک امریکہ کا۔ میناکشی کا معاملہ ایشیا کا پہلا ہے جہاں بچہ دانی کی پیوندکاری کے بعد بچہ پیدا ہونے کی امید ہے۔میناکشی کی پیدہ دانی ان کی اپنی ماں نے دی ہے۔ ان کی ماں 49 سال کی ہیں۔ عام طور پر اس طرح کی پیوندکاری میں اعضا عطیہ کرنے کی عمر 40 سے 60 سال کے درمیان ہی ہونی چاہیے۔ڈاکٹر شیلیش کے مطابق بچہ دانی کی پیوندکاری کی پہلی شرط ہی ہوتی ہے کہ ڈونر خاتون مان، بہن یا خالہ ہو۔ملک میں اس پر فی الحال کوئی قانون نہیں بنا ہے کیونکہ سائنس کے اس شعبے میں ابھی زیادہ کامیابی نہیں ملی ہے۔ڈاکٹر شیلیش کے مطابق ایک بار ڈونر مل جائے تو پھر لیپروسکوپی سے بچہ دانی نکالی جاسکتی ہے۔ بچہ دانی کی پیوندکاری کا معاملہ لیونگ ٹرانسپلانٹ کا معاملہ ہوتا ہے۔ اس میں زندہ خاتون کی ہی بچہ دانی لی جاسکتی ہے۔ پورے عمل میں دس سے 12 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔دوسرے اعضا عطیہ کرنے کی طرح کسی خاتون کے مرنے کے بعد بچہ دانی عطیہ نہیں کی جا سکتی۔ڈاکٹر شیلیش کے مطابق ایک بار بچہ دانی کی پیوندکاری ہو جائے تو تقریبا ایک سال بعد ہی خاتون کی کوکھ بچہ رکھنے کے لیے تیار ہو پاتی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق بچہ دانی کی پیوندکاری کے بعد اکثر ’ریجیکشن‘ کا خطرہ رہتا ہے۔ یعنی زیادہ تر معاملوں میں جسم پیوندشدہ عضو کو قبول نہیں کرتا۔ اس لیے ایک سال تک مانیٹر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔بچہ دانی کی پیوندکاری کے بعد اگر خاتون کو بچہ چاہیے تو ایمبریو کو لیب میں بنایا جا سکتا ہے، اور پھر خاتون کی بچہ دانی میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ایمبریو بنانے کے لیے ماں کے انڈوں اور باپ کے سپرم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ میناکشی کے معاملے میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔ اس سال اپریل کے پہلے ہفتے میں لیب میں تیار کیے گئے ایمبریو کو ڈاکٹر شیلیش اور ان کی ٹیم نے ان کی بچہ دانی میں منتقل کیا تھا۔پچھلے پانچ مہینوں سے میناکشی پونے کے اسی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں رہ رہی ہیں۔ڈاکٹر شیلیش اس طرح کے حمل کو ہائی رسک پریگنینسی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق میناکشی کا خاندان کسی بھی طرح کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا نہ ہی ڈاکٹروں کی ٹیم بھی۔اس طرح کے ہائی رسک پریگنینسی کی پیچیدگیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر شیلیش کہتے ہیں: ’میناکشی کئی طرح کی امیون سپریسنٹ دوائیوں پر ہیں۔‘’ایسے میں حمل کے دوران ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسے قابو کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ساتھ ہی بلڈ پریشر بھی زیادہ بڑھنے یا کم ہونے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس لیے بھی میناکشی کو نگرانی میں رکھنا ضروری ہے۔‘مئی 2017 سے آج تک ڈاکٹر شیلیش کی ٹیم نے انڈیا میں بچہ دانی کی چھ پیوندکاریاں کی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ سبھی آپریشن کامیاب رہے ہیں۔بچہ دانی کی پیوندکاری کے بعد ہونے والا حمل اس لیے بھی پ±رخطرہ ہوتا ہے کیونکہ ڈونر کی بچہ دانی کا حمل جھیلنے کی عادت نہیں ہوتی۔ میناکشی کے معاملے میں ان کی ماں 20 سال پہلے حاملہ ہوئی تھیں۔ 20 سال بعد کوئی چیز بدلتی ہے تو ظاہر ہے کہ مشکلات ہوں گی۔ڈاکٹر شیلیش کے مطابق میناکشی کی ڈیلیوری آج بھی ہو گی تو پوری طرح پلان کر کے سیزیریئن ہی ہوگی۔ڈاکٹر شیلیش اس بارے میں بتاتے ہیں کہ بچہ دانی کی پیوندکاری کے وقت صرف بچہ دانی کی پیوندکاری ہوتی ہے، اس کے ساتھ جڑی نسوں کی پیوندکاری نہیں کی جا سکتی، اس لیے اس طرح کے حمل میں ‘لیبر پین’ نہیں ہوتا ہے۔اس پر ڈاکٹر شیلیش کہتے ہیں کہ ‘ملک میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے اس لیے ہمارے پاس پرانا ریکارڈ نہیں ہے۔ دنیا میں ایسے صرف آٹھ کیسز ہی ہیں۔ لیکن ماں کے ڈیلیوری کے بعد صحت یابی میں 12 سے 15 ہفتے تک کا وقت لگتا ہے۔ ہم میناکشی کے معاملے میں بھی ایسی ہی امید کرتے ہیں۔‘

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ایچ آئی وی پھیلنے کا معاملہ، کراچی کے ہسپتال کے خلاف کارروائی کا حکم

      ڈی آر کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 2,181، ہلاکتیں 864 تک پہنچ گئیں

      پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہور میں کریک ڈاؤن، شاہدرہ، پارک ویو اور ریلوے روڈ پر 3 فوڈ یونٹس سیل

      تازہ ترین

      صدر زرداری کی سیاحت میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کی ضرورت پر زور

      پنجاب بھر میں ہائی بیم لائٹس کے خلاف موٹروے پولیس کا کریک ڈاؤن

      فلسطین کا مسئلہ خودمختاری اور انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے

      مارک زکربرگ کو ایک ہی دن میں تقریباً 9 ارب ڈالر کا نقصان

      اسرائیل سے متعلق عالمی سروے کے حیران کن اعدادوشمار، 98.75 فیصد منفی رائے رپورٹ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.