اسلام آباد(ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے الیکشن ٹریبیونل میں انتخابات سے متعلق تنازعات نمٹانے کے لیے ہائی کورٹ کے حاضر سروس ججز کو تقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کمیشن کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ اس ضمن میں ای سی پی نے رجسٹرار کو مراسلہ ارسال کردیا، جس میں 5 ججز کی فراہمی سے متعلق درخواست کی گئی ہے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ الیکشن ٹریبیونل میں ججز کو تقرر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن آئندہ ہفتے جاری ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن ٹریبیونل میں ججز کی تعیناتی سے ہائی کورٹ کے امور متاثر ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں مجموعی طور پر 20 لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتوا ہیں تاہم 10 لاکھ 70 ہزار مقدمات سیشن کورٹس، 2 لاکھ 95 ہزار ہائی کورٹس اور 40 ہزار عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہیں۔الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق اگر الیکشن ٹریبیونل میں حاصر سروس جج فرائض انجام دیتے ہیں تو الیکشن کمیشن ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو درخواست پیش کرے گا کہ متعلقہ جج کو انتخابی پٹیشن نمٹانے کے علاوہ کوئی بھی دوسرا عدالتی کام نہ سونپا جائے۔خیال رہے کہ عمومی طور پر حتمی انتخابی نتائج کے بعد ہی الیکشن ٹریبیونل میں ججز کی تعیناتی ہوتی ہے اور نتائج کے خلاف 45 دن کے اندر درخواستیں موصول ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔رواں برس الیکشن ٹریبیونل کی جانب سے نوٹیفکیشن تاخیر سے جاری ہوا جس کے بعد انتخابی امیدوار کے پاس 45 دن سے بھی کم وقت بچا ہے۔خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 ای سی پی کو اجازت دیتا ہے کہ ہائی کورٹ کے حاضر سروس یا ریٹائر جج کو الیکشن ٹریبیونل میں انتخابی نوعیت کے مقدمات نمٹانے کے لیے تعینات کر سکے۔مذکورہ ایکٹ میں واضح ہے کہ ای سی پی ہائی کورٹ کے متعلقہ چیف جسٹس کی مشاورت کے بعد حاضر سروس جج کو الیکشن ٹریبیونل کے لیے تقرر کرسکتا ہے۔
انتخابات سے متعلق تنازعات نمٹانے کیلئے ’ججز‘ تقرر کرنے کا فیصلہ

