تازہ تر ین

سعودی عرب سے تیل پر ریلیف ، غیبی امداد ، بڑی خوشخبری : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سیاستدان کے لئے کوئی جگہ مناسب اور غیر مناسب نہیں ہوتی مریم نواز تعزیت کیلئے گئی ہوئی تھیں اخبار والے آئے ہوئے تھے لہٰذا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک سیاستدان وہی کچھ بیچتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے اس سے اس میں تو کوئی حرج نہیں ان کا جو جی چاہا انہوں نے کہا۔ تاہم انہوں نے یہ کبھی نہیں بتایا کہ ان کے والد صاحب کے بارے میں کہ کس لئے ان کو جیل میں رکھا ہوا ہے اور کس طرح سے سزا ملی تھی اور اس سزا سے بچنے کی کیسے کوشش کر رہے ہیں ان کے چچا کے خلاف کیا الزامات اور ان کے چچا زاد بھائی حمزہ شہباز کے بارے میں کیا الزامات تھے نیب کے چیئرمین نے حال ہی میں جو تفصیل سے پریس کانفرنس کی اور اب ان کو کسی کی مزید تائید کی ضرورت نہیں ان کے پاس سارے ثبوت موجود ہیں اور دستاویزات موجود ہیں کہ کس طرح سے یہ لوگ پاکستان سے باہر پیسہ بھیجتے تھے اور پھر دوبارہ وہاں سے واپس منگواتے تھے اور انہوں نے دوسرے چچا زاد بھائی جو ملک سے فرار ہو چکے ہیں یہ کہہ کر کہ ابھی آیا اور انہوں نے دوبارہ واپس آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ان کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا لے دے کے وزیراعظم کے خلاف انہوں نے جو جی چاہتا ہے ان کو حق حاصل ہے وہ کریں لیکن جس خاندان کا ایک ایک فرد جو ہے وہ یا گرفتار ہے یا سزا یافتہ ہے یا گرفتار ہونے والا ہے یا جس کے بارے میں سارے ثبوت جمع ہو چکے ہیں ان کے بارے کس بنیاد پر وہ کس بات پر اترا رہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کا جو واقعہ ہے اتنا بڑا ریلیف ہے پاکستان کی خراب معیشت کے لئے کہ سعودی عرب کی طرف سے 3 ارب ڈالر کا جو تیل ادھار بنیادوں پر جب ہمارے پاس پیسے ہوں گے ہم دے دیں گے سعودی عرب پہلے بھی نوازشریف کے دور میں 10 ارب ڈالر دے چکا ہے ادھار تیل کی مد میں اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس کی ادائیگی شاید پاکستان نہیں کر سکا تھا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اتنا بڑا ریلیف ملا ایک تو ہمیں 3 ارب ڈالر کا ہمیں ہر سال پیسے نہیں دینے پڑیں گے دوسری بات یہ کہ وہی پیسہ جو ہم اس پر خرچ کر رہے تھے اس سے ادائیگیو ںکا توازن بہتر ہو گا اور ہمارے بہت سے دوسرے معاملات جو رکے ہوئے ہیں پیسہ ان کے لئے دستیاب ہو گا۔ میں یہ سمجھتا ہو ںکہ اس پر مریم نواز صاحبہ نے کوئی بات نہیں کی حالانکہ ان کو کہنا چاہئے تھا کہ میرے والد صاحب کے زمانے میں بھی سعودی عرب نے 10 ارب ڈالر کا تیل جو تھا ادھار دیا تھا باوجود اس کے کہ ہم نہیں چاہتے تھے انہوں نے پھر دے دیا ہے۔ اب وہ کوشش کر لیں اس کو رکوا سکتے ہیں تو۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملکوں کی دوستیاں ملکوں کے ساتھ ہوتی ہیں افراد کے ساتھ نہیں ہوتیں۔ وہ اس وجہ سے نہیں دیتے تھے کہ نوازشریف برسراقتدار ہیں انہوں نے اس لئے دیئے تھے کہ پاکستان کو ضرورت ہے اور آج بھی وہ اس لئے مدد کر رہے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ہاتھوں کس طرح مجبور ہو چکا ہے اور کس طرح سے یہ بات ظاہر ہے اس وقت جو سب سے بڑی میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں اس قوم میں وہ یہ کہ ڈالر کے خلاف، ڈالر کی ذخیرہ اندوزی اور خریداری کے خلاف اور ٹھیک ہے کہ اس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کہ ہر ملک میں ہر قسم کے لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن دیکھئے بات یہ ہے کہ جب یہ رجحان موجود ہے تو کتنی تحریک اپنے طور پر اس ملک میں شروع ہو گئی ہیں اخبارات نے شروع کی ہوئی ہیں ہمارے اخبار نے بھی آج سے شروع کر دی ہے اور کل صبح پہلے دن اشتہار آ رہے ہیں کہ پاکستانی بنئے اور پاکستانی مال خریدئے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو اس بات پر تیار کیا جائے کہ وہ کم سے کم غیر ملکی چیزیں خریدیں تا کہ غیر ممالک کی اشیائ پر جو ڈالر خرچ ہو رہا ہے جو کہ پہلے سے سر پر ہے اور اس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اس کی نوبت ہی نہ آئے۔ تیل اور گیس کے ذخائر کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ پاکستان ایران کا پڑوسی ملک ہے ایران میں خا طور پر وہ علاقہ جو پاکستان کے ساتھ ہے پاکستان کے ایران کے بارڈر کے ساتھ گوادر کا ایریاا ہے سمندرکے نیچے خشکی کا علاقہ ہے جو زیادہ تر پہاڑ اور سنگلاخ علاقہ ہے لیکن اس علاقے کے دوسری طرف صرف بارڈر کراس کرتے ہی تیل کے کنویں ہیں اس کا مطلب کہ زمین کے نیچے تیل موجود ہے اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو ہم بھی پنے علاقے میں ڈرلنگ کر کے تیل دریافت کر سکتے ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی وقت اچھی خبر مل سکتی ہے کسی ایک خبر سے مایوس نہیں ہونا چاہئے اللہ کی رحمت سے ناامید۳ نہیں ہونا چاہئے اور ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہئے ایک تو ہمت نہ ہارے اور دوسرا صبر سے کام لیں اور جو بھی مشکلات ہیں اس کو بڑی خندہ پیشانی سے قبول کریں اور ان کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔ فضل الرحمن کے قومی سطح کے مارچ کے اعلان کے حوالہ سے گفتگوکرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دو دن سے جو خبریں چھپ رہی ہیں کہ کوٹ لکھپت جیل میں جہاں نوازشریف صاحب بند ہیں وہاں ایک اور کمرہ وی آئی پی شخصیت کے لئے صاف کیا گیا ہے اور بڑی افواہیں گرم ہیں زیادہ تر چانس اس بات کا ہے کہ شاید حمزہ شہباز کی باری ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کے بارے میں جو تقریباً سارے اعداد و شمار اور دستاویزی ثبوت گواہیاں اور خود ایسے لوگوں کی طرف سے وعدہ معاف گواہ بننے کی پیش کش پر نیب کے پاس موجود ہیں نیب نے اس کے بارے میں کہا بھی ہے کہ ہمارے پاس حمزہ شہباز کے بارے میں پورا کیس مکمل پڑا ہے۔ حمزہ شہباز ہوں یا کوئی اور ہوں جو بھی ہوں گے آ جائیں گے وہاں۔ ایک ایک کر کے سارے کرپٹ لوگوں کو وہیں جانا ہے میں نہیں سمجھتا کہ کوئی معجزہ ہی ان کو بچا سکتا ہے دراصل یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس لے دے کر ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ ان گرفتاریوں کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے لوگوں کو سڑکوں پر لے آ?۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک کے لوگ بے وقوف ہیں کہ وہ ان کی کمیشنوں کے لئے، ان کی جمع کردہ لوٹ مار کو بچانے کے لئے سڑکوں پر آئیں گے یہ لوگ تو اپنے بچوں کے ساتھ لندن فلیٹس کے مالک ہیں اور بے تحاشا دولت ان کے پاس پاکستان سے باہر ہے۔زرداری صاحب کے پااس پرانے دور کے سوئٹزرلینڈ کے پیسے بھی پڑے ہوئے ہیں اب بھی ان کے پاس بے تحاشا منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ باہر بھیجا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک کے لوگ یہ سارا کچھ بھول جائیں گے اور ان کے پیچھے لگ پڑیں گے کہ اائیں جی ان کی دولت بچائیں۔وفاقی دارالحکومت میں 10 سالہ بچی فرشتہ کا قتل کیس افسوسناک، وزیراعظم کو اس کیس پر خصوصی احکامات جاری کرنے چاہئیں اور پولیس کی غفلت اور غیر ذمہ داری کا سخت نوٹس لینا چاہئے۔ اگر اس کیس میں خاموشی اختیار کی گئی تو یہ مجرموں کو شہ ہو گی کہ جو چاہیں کرتے پھریں۔ ہمیں یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ پولیس کو ٹھیک کیا جائے یا اس کی جگہ نئی فورس لائی جائے، بہت سے دوستوں کا کہنا ہے کہ اس پولیس کو تو سمندر میں پھینک دینا چاہئے تا کہ عوام اس کی دستبرد سے محفوظ رہ سکیں۔ حکومت کا پناہ گاہ کا منصوبہ اچھا ہے اگر اس کے نظم و نسق و ٹھیک کنٹرول کیا جائے۔ نئے بننے والے اداروں میں چور دروازے ڈھونڈے جاتے ہیں ان کو ناکام بنانا ہو گا۔ پناہ گاہوں میں چند لوگوں کی اجارہ داری بننے سے روکنا ہو گا اور ان کو محتاج خانے بنانے سے روکنا ہو گا۔ حکومت کا ایمنسٹی سکیم کا آئیڈیا اچھا ہے د±عا ہے کہ اس میں کامیابی حاصل ہو۔ اس سکیم کے غلط استعمال کو روکنا ضروری ہے۔ سکیم میں اصلاحات اور ریلیف کا کام ساتھ ساتھ چلے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس میں چور دروازے نہ کھلیں۔ادھار تیل کے حوالے سے سعودی عرب سے پاکستان کو ایک بڑا ریلیف ملا ہے۔یہ موجودہ وقت میں خراب معیشت کے دوران غیبی امداد کی طرح ہے۔ حکومت تیل کی مد میں بچنے والے پیسوں کو بہتر عوامی مفاد میں استعمال کر سکتی ہے۔ تیل کے ذخائر تلاش کرنے کیلئے مستقل محنت کی ضرورت ہے۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ امید ہے مستقبل میں ہم تیل کے ذخائر تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ موجودہ صورتحال میں عوام کو چاہئے کہ ڈالر بالکل نہ خریدیں، اس سے اس کی قیمت بڑھے گی اور ملک کی معیشت کو نقصان ہو گا۔ بازاروں سے صرف پاکستان کی بنی اشیائ خریدی جانی چاہئیں، غیر ملکی اشیائ کی خریداری بند کر دینی چاہئے تا کہ معیشت مستحکم ہو۔ بدقسمتی سے یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے سٹوروں پر تو پھل سبزیاں بھی غیر ملکی بک رہی ہیں جبکہ اسی معیار کی سبزیاں اور پھل مقامی طور پر باآسانی دستیاب ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved