ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ بیان بالکل سچا اور تازہ ترین صورتحال کے مطابق ہے۔ مئی کے آخری دن (31 مئی 2026) کو انہوں نے ایرانی سرکاری میڈیا (ریاستی ٹیلی ویژن) سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات اور بات چیت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
1. عباس عراقچی کا اصل بیان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا کو بتایا:
"امریکہ کے ساتھ بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔ ہمیں اس وقت میڈیا میں ہونے والی قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے، اور جب تک ہم کسی واضح اور ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، تب تک ان مذاکرات کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت میڈیا میں معاہدے کے حوالے سے جو بھی باتیں ہو رہی ہیں، وہ محض افواہیں اور قیاس آرائیاں ہیں جن پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
2. مذاکرات کا پس منظر (2026 کا بحران)
یہ پیغامات کا تبادلہ ایک انتہائی حساس موڑ پر ہو رہا ہے:
-
فوجی کشیدگی: فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں اور پھر ایران کے جوابی حملوں کے بعد خطے میں شدید جنگی صورتحال پیدا ہو گئی تھی، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا تھا۔
-
پاکستان کی ثالثی اور جنگ بندی: 8 اپریل 2026 کو پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی (Ceasefire) عمل میں آئی تھی۔ اس کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اگرچہ کسی مستقل معاہدے پر ختم نہیں ہو سکے، لیکن دونوں ممالک نے سفارتی چینلز کھلے رکھے۔
3. مذاکرات میں حالیہ تعطل اور امریکی دباؤ
مئی 2026 کے آخر میں پیغامات کے تبادلے میں تیزی اس وقت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے سے تقریباً طے شدہ معاہدے کے مسودے (Draft) میں مزید سخت ترامیم کی خواہش ظاہر کی۔
-
امریکی مطالبات: امریکی میڈیا (جیسے CNN اور نیویارک ٹائمز) کے مطابق، صدر ٹرمپ نے معاہدے میں مزید سخت شرائط شامل کرنے پر اصرار کیا ہے، جن میں ایران کے جوہری وعدوں کو مزید سخت کرنا اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ لازمی طور پر کھولنا شامل ہے۔
-
ایران کا ردعمل: عباس عراقچی کے اس بیان سے چند گھنٹے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کو واشنگٹن پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب صرف "لفظی وعدوں” کے بجائے زمین پر "ٹھوس اور واضح نتائج” دیکھنا چاہتا ہے۔
4. ثالثی کے دیگر چینلز
جہاں پاکستان اس پورے عمل میں بنیادی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، वहीं مئی کے وسط میں بھارت میں برکس (BRICS) اجلاس کے موقع پر عباس عراقچی نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ ایران چین (Beijing) کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو بھی سراہتا ہے اور بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کے تحت بات چیت کے لیے تیار ہے۔
