امریکی کانگریس (US Congress) کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے فوجی و دفاعی تعلقات کو تاریخ کی سب سے گہری اور مستقل سطح پر مربوط کرنے کے لیے ایک نئے اور انتہائی اہم بل پر پیش رفت جاری ہے۔ مئی 2026 کے آخر میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، یہ اقدام روایتی فوجی امداد سے ہٹ کر دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کو آپس میں ضم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
امریکی کانگریس نے مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس اتھورائزیشن ایکٹ (NDAA)—جو کہ امریکہ کا سالانہ دفاعی پالیسی بل ہے—میں ایک نئی شق شامل کی ہے۔ اس قانون کو "یونائیٹڈ سٹیٹس-اسرائیل ڈیفنس ٹیکنالوجی کوآپریشن انیشیٹو” (Section 224) کا نام دیا گیا ہے۔
روایتی طور پر امریکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، لیکن یہ نیا بل دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو محض "امداد دینے اور لینے” کے بجائے "مشترکہ فوجی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے انضمام” میں تبدیل کر دے گا۔
اگر یہ بل منظور ہو کر قانون بن جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی افواج کے درمیان درج ذیل تبدیلیاں آئیں گی:
-
ایگزیکٹو ایجنٹ کا تعین: امریکی وزیرِ دفاع کو ایک مخصوص اعلیٰ اہلکار (Executive Agent) مقرر کرنا ہوگا جس کا کام صرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون، مشترکہ تحقیق، اور ہتھیاروں کی تیاری کی نگرانی کرنا ہوگا۔
-
جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ: دونوں ممالک روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ترین ٹائپ کی جنگی ٹیکنالوجی، جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، کوانٹم مشین لرننگ، ڈرونز، سائبر آپریشنز، اور الیکٹرانک وارفیئر پر مشترکہ کام کریں گے۔
-
ملٹری سسٹمز کا ملاپ: دونوں ممالک کے فوجی سسٹمز اور ان کے ڈیٹا (Data) کو آپس میں جوڑا جائے گا تاکہ مستقبل کی جنگوں میں دونوں افواج مل کر کام کر سکیں۔
اس بل پر پیش رفت ایک ایسے نازک وقت پر ہو رہی ہے جب:
-
رواں سال (2026) کے اوائل میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں اور پانچ ہفتوں کی شدید جنگ کے بعد اپریل میں جنگ بندی ہوئی تھی۔
-
اسرائیل کو غزہ اور لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں شدید قانونی اور سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔
حمایتیوں کا موقف:
امریکی ہاؤس آرمز سروسز کمیٹی کے سربراہ مائیک راجرز (ریپبلکن) اور ایڈم اسمتھ (ڈیموکریٹ) دونوں کی طرف سے اس بل کو دو طرفہ (Bipartisan) حمایت حاصل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران اور دیگر علاقائی خطرات کے خلاف اسرائیل کو مضبوط کرنے اور امریکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے یہ انضمام ضروری ہے۔
