Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • آج سے پنجاب بھر میں مارکیٹ شاپنگ مال بازار رات 8 بجے بند نو ٹیفیکیشن جاری
    • سرک جزیرے پر امریکی بمباری کا جواب کویت میں امریکی اڈوں پر ڈراون حملہ ایران کا دعوی
    • امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، عباس اراغچی
    • امریکی کانگریس اسرائیل سے فوجی تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے آگے بڑھ رہی ہے
    • علیزے شاہ کی دنانیر مبین سے متعلق وضاحت یا تنقید؟
    • بھارت تنہائی سے بچنے کیلئے پاکستان کی برکس میں شمولیت کی حمایت کرے: بھارتی دفاعی تجزیہ کار
    • جیل میں ہونے کے باوجود انمول پنکی کی منشیات کی ڈبیہ کی بچوں کے پاپڑ میں سپلائی ! بڑے انکشافات سامنے آگئے
    • یوٹیوب کا اے آئی سے بنائے گئے مواد کی نشاندہی کیلئے اہم اقدام
    • طلاق یافتہ کرکٹر نے میری خوبصورتی کی تعریف کی، میں نے بلاک کر دیا: ’تارک مہتا کا الٹا چشمہ’ کی ادکارہ کا دعویٰ
    • اب مارکیٹس، شاپنگ مالز کب تک کھلیں گے؟ کاروباری اوقات کا نیا نوٹیفکیشن جاری
    • آئی ایم ایف کا دباؤ مسترد، حکومت کا سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے سے انکار
    • ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں اضافہ، گھریلو سلینڈر 3643 روپے کا ہوگیا
    • اسرائیل کے حملوں سے لبنان کے تاریخی مقامات کو نقصان
    • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ماحولیاتی فیس وصول کرنا ہمارا قانونی حق ہے: ایران
    • مچھروں کے خاتمے کیلئے گوگل کا ’32 ملین موسکیٹو آرمی‘ چھوڑنے کا منصوبہ
    • ملک میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے وسائل میں مسلسل کمی ہورہی ہے: احسن اقبال
    • ایران پر نئی جارحیت کا پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیں گے: ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری
    • حکومت کا بجلی صارفین کے میٹرز کیو آر کوڈ سے منسلک کرنے کا فیصلہ
    • روزانہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کھانے سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے؟
    • جب تک 1967 سے پہلے کی فلسطینی ریاست نہیں بن جاتی، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا وزیراعظم اسحاق ڈار کا امریکہ میں اعلان
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    امریکی کانگریس اسرائیل سے فوجی تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے آگے بڑھ رہی ہے

    By Khabrain Newsجون 1, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    امریکی کانگریس (US Congress) کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے فوجی و دفاعی تعلقات کو تاریخ کی سب سے گہری اور مستقل سطح پر مربوط کرنے کے لیے ایک نئے اور انتہائی اہم بل پر پیش رفت جاری ہے۔ مئی 2026 کے آخر میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، یہ اقدام روایتی فوجی امداد سے ہٹ کر دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کو آپس میں ضم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔

    امریکی کانگریس نے مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس اتھورائزیشن ایکٹ (NDAA)—جو کہ امریکہ کا سالانہ دفاعی پالیسی بل ہے—میں ایک نئی شق شامل کی ہے۔ اس قانون کو "یونائیٹڈ سٹیٹس-اسرائیل ڈیفنس ٹیکنالوجی کوآپریشن انیشیٹو” (Section 224) کا نام دیا گیا ہے۔

    روایتی طور پر امریکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، لیکن یہ نیا بل دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو محض "امداد دینے اور لینے” کے بجائے "مشترکہ فوجی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے انضمام” میں تبدیل کر دے گا۔

    اگر یہ بل منظور ہو کر قانون بن جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی افواج کے درمیان درج ذیل تبدیلیاں آئیں گی:

    • ایگزیکٹو ایجنٹ کا تعین: امریکی وزیرِ دفاع کو ایک مخصوص اعلیٰ اہلکار (Executive Agent) مقرر کرنا ہوگا جس کا کام صرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون، مشترکہ تحقیق، اور ہتھیاروں کی تیاری کی نگرانی کرنا ہوگا۔

    • جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ: دونوں ممالک روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ترین ٹائپ کی جنگی ٹیکنالوجی، جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، کوانٹم مشین لرننگ، ڈرونز، سائبر آپریشنز، اور الیکٹرانک وارفیئر پر مشترکہ کام کریں گے۔

    • ملٹری سسٹمز کا ملاپ: دونوں ممالک کے فوجی سسٹمز اور ان کے ڈیٹا (Data) کو آپس میں جوڑا جائے گا تاکہ مستقبل کی جنگوں میں دونوں افواج مل کر کام کر سکیں۔

    اس بل پر پیش رفت ایک ایسے نازک وقت پر ہو رہی ہے جب:

    1. رواں سال (2026) کے اوائل میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں اور پانچ ہفتوں کی شدید جنگ کے بعد اپریل میں جنگ بندی ہوئی تھی۔

    2. اسرائیل کو غزہ اور لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں شدید قانونی اور سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔

    حمایتیوں کا موقف:

    امریکی ہاؤس آرمز سروسز کمیٹی کے سربراہ مائیک راجرز (ریپبلکن) اور ایڈم اسمتھ (ڈیموکریٹ) دونوں کی طرف سے اس بل کو دو طرفہ (Bipartisan) حمایت حاصل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران اور دیگر علاقائی خطرات کے خلاف اسرائیل کو مضبوط کرنے اور امریکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے یہ انضمام ضروری ہے۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، عباس اراغچی

    اسرائیل کے حملوں سے لبنان کے تاریخی مقامات کو نقصان

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ماحولیاتی فیس وصول کرنا ہمارا قانونی حق ہے: ایران

    تازہ ترین

    بھارت تنہائی سے بچنے کیلئے پاکستان کی برکس میں شمولیت کی حمایت کرے: بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    جیل میں ہونے کے باوجود انمول پنکی کی منشیات کی ڈبیہ کی بچوں کے پاپڑ میں سپلائی ! بڑے انکشافات سامنے آگئے

    آئی ایم ایف کا دباؤ مسترد، حکومت کا سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے سے انکار

    مچھروں کے خاتمے کیلئے گوگل کا ’32 ملین موسکیٹو آرمی‘ چھوڑنے کا منصوبہ

    ملک میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے وسائل میں مسلسل کمی ہورہی ہے: احسن اقبال

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.