مئی 2026 کے آخری ہفتے میں، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری شدید لڑائی کے دوران، اسرائیلی فضائیہ اور آرٹلری (توپ خانے) کے حملوں نے جنوبی لبنان میں واقع اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) کے زیرِ تحفظ تاریخی مقامات اور قدیم شہروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
لبنان کے وزیرِ ثقافت غسان سلامہ اور وزیرِ اعظم نواف سلام نے عالمی برادری اور یونیسکو سے ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ لبنان کی ہزاروں سال پرانی تاریخ اور ثقافتی ورثے کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے۔
شدید متاثر ہونے والے اہم تاریخی مقامات
اسرائیلی بمباری کی زد میں آنے والے چند اہم ترین تاریخی اور مذہبی مقامات یہ ہیں:
1. صور کا قدیم شہر (Ancient City of Tyre)
بحیرہ روم کے کنارے واقع "صور” (Tyre) کو فینیشین دور کا ایک عظیم تاریخی شہر مانا جاتا ہے، جو تقریباً 5,000 سال پرانا اور یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ (World Heritage Site) ہے۔
-
تازہ ترین نقصان: مئی 2026 کے آخری دنوں میں اسرائیلی فوج کی طرف سے "الاثار” (آثارِ قدیمہ کا علاقہ) کے بالکل قریب شدید فضائی حملے کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں اس قدیم شہر کے تاریخی چوکوں، گرجا گھروں اور مساجد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس سے قبل مارچ 2026 میں صور میں واقع "البس” (Al-Bass) نامی قدیم رومن دور کے آثارِ قدیمہ کے داخلی راستے کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
2. قلعہ شقیف یا بیوفورٹ کاسل (Beaufort Castle)
جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ میں واقع یہ قلعہ بارہویں صدی (12th Century) میں صلیبی جنگوں (Crusader era) کے دوران تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ پہاڑی کی چوٹی پر واقع ایک تزویراتی (strategic) مقام ہے جہاں سے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کا وسیع علاقہ صاف نظر آتا ہے۔
-
حالیہ پیش رفت (31 مئی 2026): اسرائیلی افواج نے شدید بمباری کے بعد اس 900 سال پرانے تاریخی قلعے پر زمینی قبضہ کر لیا ہے اور وہاں اپنا جھنڈا لہرایا ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق، اس قبضے اور اس سے قبل ہونے والی شیلنگ سے قلعے کی قدیم دیواروں اور ڈھانچے کو براہ راست نقصان پہنچا ہے۔
3. شمعون الصفا کا مزار اور شمع کا قلعہ (Shrine of Prophet Shamoun al-Safa)
ضلع صور کے گاؤں "شمع” میں واقع یہ مزار مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے لیے ایک مقدس مذہبی مقام ہے، جو 1116ء میں تعمیر کیے گئے ایک تاریخی قلعے کے ساتھ واقع ہے۔
-
نقصان: اپریل 2026 میں ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں اس مزار اور قلعے کے حصوں کو شدید نقصان پہنچا۔
4. نبطیہ کا تاریخی بازار اور قدیم مکانات
اسرائیلی حملوں میں نبطیہ شہر کا تاریخی بازار (Souk)، جو مملوک دور (1250-1517) سے تعلق رکھتا تھا، اور نبطیہ الفوقا میں واقع ایک صدی سے زیادہ پرانا روایتی لبنانی مکان (Heritage House) مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
یونیسکو (UNESCO) کا مؤقف اور بین الاقوامی قوانین
یونیسکو کی ڈائریکٹر برائے ثقافت کرسٹا پیکاٹ (Krista Pikkat) کے مطابق، مئی 2026 تک لبنان میں 39 تاریخی مقامات کو "انہانسڈ پروٹیکشن” (Enforced Protection) یعنی اعلیٰ ترین بین الاقوامی قانونی تحفظ کا درجہ دیا جا چکا ہے۔
-
جنگی جرم کی وارننگ: یہ تحفظ 1954 کے ہیگ کنونشن (Hague Convention) کے تحت دیا جاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق، جنگ کے دوران ان مقامات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا یا ان پر حملہ کرنا ایک جنگی جرم (War Crime) تصور کیا جاتا ہے۔
-
لبنانی حکومت کا احتجاج: لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام نے اپنے بیان میں کہا کہ "اسرائیل کی طرف سے شہروں کی تباہی اور ان کے تاریخی نشانات کو مٹانے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ لبنان کی تاریخ اور یادداشت کو مٹانے کی کوشش ہے۔”
