لاہور (وقائع نگار) چند روز قبل وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک بار پھر پانچ برس بعد وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی خواہش کا اظہار کیا جس کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما?ں نے اسے احمقوں کی دنیا میں رہنا قرار دیا۔ سیاسی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ان کا محکمہ تبدیل ہونے کے بعد اب ان کے پاس ایک بار پھر جماعت تبدیل کرنے کی اچھی خاصی گنجائش پیدا ہوگئی ہے اور ا±ن کی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنی جماعت تبدیل بھی کرلیں تو ان کی سابقہ جماعت انہیں اپنا ہی بندہ سمجھتی رہتی ہے مگر اصل میں وہ کِس کے بندے ہیں ؟اس بارے میں تعین مشکل ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینئر وکیل حامد خان کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی فواد چوہدری کے حوالے سے اپنی بات پر قائم ہیں،اس لیے ایسے شخص کے بارے کمنٹ کرنا بھی توہین سمجھتا ہوں۔پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جب کمینے عروج پاتے ہیں، اپنی اوقات بھول جاتے ہیں۔میں نے کئی بار جہلم سے پتہ کروایا تو دوستوں سے معلوم ہوا کہ فواد چوہدری نہ چور ہیں، نہ ڈاکو نہ بھتہ خور، البتہ علاقے کے تمام چوروں ڈاکوو¿ں اور بھتہ خوروں کا ماہانہ اجلاس ان کے گھر میں ہوتا ہے۔اب آپ خود سوچ لیں کہ وہ کیوں وزیراعلیٰ پنجاب بننا چاہتے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ فواد چوہدری اگر لاش پر سیاست کرنے سے نہیں چوکتے ہیں تو وہ وزارت اعلیٰ کے لیے کس سطح تک جاسکتے ہیں۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فواد چوہدری سیاسی فاشزم کا سیاسی بھونپو ہیںاورپنجاب کی وزارت اعلیٰ کی خواہش بھی انہیں کے کہنے پر کررہے ہونگے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سعید غنی کا کہنا تھا کہ جو کچھ آج تک کہہ چکے ہیں اس کے بعد وہ فواد چودھری کے بیانات کو سیریس نہیں لیتے۔ممبر پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی نے کہا کہ وزارت اعلیٰ کے منصب کے لیے چنا? خالصتاً پارٹی کا حق ہے اس لیے یہ کام صرف عمران خان ہی کرسکتے ہیں کہ کس کو اس کام کے لیے نامزد کرنا ہے مجھے فواد چوہدری کے حوالے سے مزید کچھ نہیں کہناہے۔ یاد رہے کہ فواد چوہدری موجودہ حکومت کی تشکیل کے وقت بھی اپنی اس خواہش ناتمام کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ میں نے ایک قومی اسمبلی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست جیتی ہے اگر پارٹی نے مجھے وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کیا تو یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی۔انکا مزید کہنا تھا کہ میں نے ا س خواہش کا اظہار عمران خان سے نہیں کیا لیکن اگر میں یہ کہوں کہ مجھے وزارت اعلیٰ کی خواہش نہیں ہے تو یہ منافقت ہوگی۔
فواد چودھری احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں
