لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین برابری پارٹی پاکستان جواد احمد نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کی بحالی کیلئے زرعی،اقتصادی و صنعتی پیکیج کا اعلان کرے، اور آئندہ بجٹ میں کھاد، بیج، زرعی ادویات پر سبسڈی دی جانکے ساتھ ساتھ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہماری معاشی شرح نمو خطے میں دیگر ممالک سے کم ہے اور،بیرونی قرضوں سے ملک وقوم کو فائدہ نہیں پہنچا مگر اس کا سارا بوجھ مظلوم غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے ان باتوں کا اظہار انھوں نے مرکزی سیکرٹیریٹ میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور ورکرز سے ملاقات میں کیا اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی چالیس فیصد آبادی ایسی ہے جو سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس کیلئے جہاں ایک طرف مہنگائی کی وجہ سے جسم کا روح کے ساتھ رشتہ برقرار رکھنا ناممکن ہوچکا ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے مخصوص ادویات کی قیمتوں میں سو فیصدکی بجائے معمولی اضافے کو واپس لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران حکومت فارماسوٹیکل کمپنیوں کے سامنے بے بس ہوچکی ہے اور وہ سو فیصد اضافے کو واپس لینے کے حکم پر عمل در آمد نہیں کرواسکی۔اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھاکہ 9ماہ میں بجٹ خسارہ1922ارب روپے سے زائد تجاوز کرگیا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں براہ راست51فیصد کمی ہوئی ہے،جولائی تا مارچ کل آمدن3583ارب 73کروڑ روپے جبکہ اخراجات5506ارب روپے رہے، اس وقت ہماری معیشت آئی سی یو میں پڑی ہے جس کی بحالی کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم ٹریڈ پالیسیاں بنائی جانی چاہیے،چئیرمین برابری پارٹی جواد احمد نے اپنی گفتگو کے دوران اس امر کا اظہار بھی کیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت کو دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے چاہیے کہ وہ اپنی زرعی پیداوار کوبڑھائے، ریاست انڈسٹری لگائے،بجلی گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرے، ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کو ختم کیا جائے،ان حالات میں نئے صوبے بنانے کا اعلان عوام کی توجہ مسائل سے ہٹانے کو کوشش ہے نیا صوبہ بنانے کے لئے حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں بل منظور کروانے کے لئے دو تہائی اکثریت ہی نہیں ہے۔اس وقت عوام کو صوبوں کی نہیں روٹی کی ضرورت ہے۔
معیشت کی بحالی کیلئے زرعی،اقتصادی و صنعتی پیکیج ضروری
