تازہ تر ین

شہباز شریف سے کہا استعفوں کے بعد بھی تو ڈائیلاگ ہی کرنا ہونگے شہباز شریف کبھی نواز شریف کے مقابلے میں نہیں کھڑے ہونگے، محمد علی درانی کی چینل ۵ کے پروگرام ”ضیاءشاہد کے ساتھ“ میں خصوصی گفتگو

لاہور (ویب ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ” ضیاءشاہد کے ساتھ“ میں مسلم لیگ فنگشنل کے سینٹرل جنرل سیکرٹری محمد علی درانی نے خصوصی طور پر شرکت کرکے سوالات کے جواب دئیے، سینئر صحافی ضیاءشاہد اور محمد علی درانی میں ہونے والی گفتگو سوالاً جواباً درج ذیل ہے۔
س: شہباز شریف جیل میں کیسے ہیں آپ نے انہیں کیسا پایا۔ حکومت اور اپوزیشن میں بہت فاصلے ہیں ایک دوسرے کی سخت مخالفت جاری ہے۔ ان حخالات میں ٹریک ٹو کے ذریعے ڈائیلاگ کا آئیڈیا کس کا ہے؟
´ ج: محمد علی درانی: جیل میں شہباز شریف سے ملاقات میں انہیں بالکل نارمل پایا وہ کسی دباﺅ میں نظر نہیں نئے۔ حمزہ شہباز بارے بتایا کہ ہفتے بعد ان سے ملاقات ہوتی ہے۔ میری ان سے ملاقات کا مقصد ڈائیلاگ ن لیگیوں کا اتحاد اور پارلیمنٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے بارے میں تھا۔ یہ بات بھی کی کہ استعفے دینے کے بعد بھی تو ڈائیلاگ کی طرف جانا ہو گا تو اس سے پہلے ہی کیوں نہ ڈائیلاگ کی طرف جایا جائے۔ ہمارے یہاں ڈائیلاگ عموماً میڈیا کو دکھانے کے لیے ہوتے ہیں اس لئے ان کی ویلیو ختم ہوجاتی ہے۔ ماضی کی بیک ڈور پالیسیوں سے خوب آگاہ تھا اس لئے خیال تھا کہ اس ڈائیلاگ کے عمل کو غیر روایتی انداز میں گے بڑھانا ہوگا کیونکہ عموام کی شدید خواہش ہے کہ ڈائیلاگ ہوں ۔ عدلیہ بھی کہہ چکی ہے کہ ملکی مسائل پر ڈسکشن ہونی چائیے۔ ان تمام حالات میں چاہتا تھا کہ ڈائیلاگ ہوں اور وہ خبر نہ بنیں بلکہ ان کے نتائج خبر بنیں۔ اسی باعث ڈائیلاگ کے لیے باقاعدہ پلانگ کی گئی۔ مجھے پورا یقین ہے کہہ اس نتیجہ میں سیاسی قیادت پر دباﺅ پڑے گا۔ استعفوں پر عمل ہوا تو پورا سیاسی عمل برباد ہوجائیگا۔ شہباز شریف سے اس پر بات ہوئی اور ہم دونوں میں ہم آہنگی پائی گئی۔ ہمارا ایک پالیسی سیٹ اپ ہے جس پر بات کرتا ہو اس پر بڑی ریسرچ ہوتی ہے اس ایشو پر تو میں نے خود بہت کام کیا۔ اگر طالبات اور امریکہ ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں تو ہماری سیاسی قیادت کیونہیں بیٹھ سکتی۔
س: پی ڈی ایم اور دیگر جماعتیں بھی اس پر سخت سٹینڈ لے چکی ہیں کہ جو فلاں سے ملے گا ہم اس سے نہیں ملیں گے۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اپوزیشن ا سے این آر کیلئے ڈیئلاگ چاہتی ہے دونوں فریق متحارب شکل اختیار کرچکے ہیں۔ اس مسئلہ پر آپ کیسے قابو پائیں گے؟
ج: محمد علی درانی: حکومت اوراپوزیشن دونوں ہی بات چیت کیلے تیار نہیں ہیں اور یہی صورتحال متقاضی ہے کہ بات چیت ہونی چاہیے۔ میرے خیال میں آئین کی رو سے کوئی معاشرہ بھی احتساب کے بغیر نہیں چل سکتا تا ہم ملزم کو مجرم قرار دینے کا اختیار صرف عدالت کا ہے۔ اس لئے وزیراعظم اور وزراءکو اختساب بارے کسی قسم کی مداخلت یا بات کرنی چائیے۔ بیانات کے ذریعے احتساب کسی کی بھی توہین کے مترادف ہے۔ احتساب کے باوجود سزا نہ مل سکنا انتظامی نااہلی کے زمرے میں آتا ہے۔ قابل احتساب شخصیات کو ان کی سیاسی وابستگی کی وجہ سے جیلوں میں رکھا جاتا ہے تو یہ غلط ہے۔ احتساب کے نام پر لوگوں کو جیلوں میں رکھتا، تذلیل کرنا، عوام کی نظروں میں گرانا اور احتساب کے نام پر لوگوں کو جیلوں میں رکھا جاتا ہے تو یہ غلط ہے۔ احتساب کے عمل میں حکومتی مداخلت غیر آئینی اور غیر قانونی ہے احتساب کے عمل کو شفاف ہونا چاہیے۔ ہر طبقہ فکر احتساب عمل کو جاری رکھے ہوئے ڈائیلاگ کی ضرورت پر قائل ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain