کورونا وائرس سے متاثر ہونے پر گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہمایوں سعید

لاہور(ویب ڈیسک)اداکار ہمایوں سعید نے کورونا وائرس کے حوالے سےاگاہی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔دنیا بھر میں پھیلنے والے جان لیوا کورونا وائرس سے اب تک لاکھوں لوگ متاثر جب کہ ہزاروں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ تیزی سے پھیلتی اس وبا کے خطرے کے پیش نظر جہاں حکومتی ادارے لوگوں کو اس وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دیتے نظر آرہے ہیں وہیں معروف شخصیات بھی لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی دے رہی ہیں۔اداکار ہمایوں سعید کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ لوگوں کو کوروناوائرس کے حوالے سے آگاہی دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر آپ لوگوں میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ آپ گھر میں رہیں اور حکومت کی ٹیلی میڈیسن ہیلپ لائن پر فون کرکے اپنی طبعیت کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے ویڈیو میں حکومتی ہیلپ لائن کا نمبر بھی بتایا۔واضح رہے کہ ہمایوں سعید کے علاوہ متعدد فنکار کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور افراتفری سے پرہیز کرنے کے مشورے دیتے نظر آرہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کورونا ریلیف فنڈ کے قیام کا اعلان کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کورونا کے خلاف جنگ کے لیے ریلیف فنڈ اور کورونا وائرس ریلیف ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کردیا۔قوم سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ریلیف ٹائیگر فورس کا اعلان کررہا ہوں۔ یہ فورس فوج اور انتطامیہ کے ساتھ مل کر وبا کے پھیلاو کی صورت میں مقابلہ کرے گی۔ جن علاقوں میں لاک ڈاون کرنا پڑے گا تو یہ فورس خوراک اور آگاہی کی فراہمی میں مدد فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کورونا ریلیف اکاونٹ کا اعلان کررہا ہوں۔ اس میں جو بھی رقمجمع کروائے گا اس سے کوئی سوال نہیں ہوگا اور اس میں جمع کروائی گئی رقم ظاہر کرکے ٹیکس میں رعایت حاصل کی جاسکے گی۔ اس فنڈز میں آنے والی رقوم ضرورت پڑنے پر احساس پروگرام میں رجسٹرڈ 1 کروڑو 20 لاکھ افراد کے لیے کی امداد کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس فنڈ کا آڈٹ ہوگا اور تفصیلات عام کی جائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ وباو کے پھیلاو کی تیزی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا وزیر اعظم ہاوس میں ایک ٹیم اس پر کام کررہی ہے، پانچ دن سے ایک ہفتے کے دوران وبا کے پھیلاو کی رفتار کے بارے میں اندازہ لگا لیں گے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے 8 ارب ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔ جب کہ امریکا نے 2000ارب ڈالر کا پیکج دیا۔ اس موازنے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس وسائل تو نہیں۔ ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت ایمان اور دوسری بڑی طاقت نوجوان آبادی ہے۔ کورونا کی جنگ جیتنے کے لیے ہم نے ان دوطاقتوں کا استعمال کرنا ہے۔

کورونا وائرس: سپریم کورٹ نے جیلوں سے قیدیوں کی رہائی کے احکامات معطل کردیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کورونا وائرس کے پیش نظرقیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے سے روک دیا۔
سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیدیوں کی رہائی کے احکامات کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے کورونا وائرس کے پیش نظر دی گئی ضمانتوں کے احکامات پرعملدرآمد روک دیا۔سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 408 قیدیوں کی رہائی کے فیصلے سمیت دیگر عدالتوں کی جانب سے جاری فیصلے بھی معطل کردیے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ملک کو کورونا وائرس کی وجہ سے کن حالات کا سامنا ہے سب پتہ ہے تاہم اس طرح قیدیوں کی رہائی کی اجازت نہیں دے سکتے، دیکھنا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا، ہائی کورٹس سو موٹو کا اختیار کیسے استعمال کر سکتی ہیں؟، ایسا نہیں ہو سکتا کہ آفت میں لوگ اپنے اختیارات سے باہر ہو جائیں، یہ اختیارات کی جنگ ہے، ان حالات میں بھی اپنے اختیارات سے باہر نہیں جانا۔سپریم کورٹ نے وفاق، تمام صوبائی حکومتوں، چیف کمشنر اسلام آباد،ڈی سی اسلام آباد ،آئی جی پی اسلام آباد، سیکرٹری داخلہ، نیب، آئی جی جیل خانہ جات کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت یکم اپریل تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ فیصلے تک کسی ملزم کو کورونا کی بنیاد پر رہائی نہ دی جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاﺅنٹس کیس، نیب کیسز میں گرفتار ملزمان، جیلوں میں موجود قیدیوں کی بڑی تعداد کو کورونا وائرس کے باعث ضمانت پررہائی کا حکم دیاتھا۔

متحدہ عرب امارات میں لوگوں کا گاڑیوں میں بیٹھے بیٹھے کورونا کا ٹیسٹ کرانا ممکن ہو گیا

ابوظبی(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی روک تھام پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن اقدام لیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے مملکت بھر میں سٹریلائزیشن کی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ اماراتی حکومت کی جانب سے مملکت میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے موبائل ٹیسٹ سنٹر کی سروس بھی شروع کر دی گئی ہے۔ جس کی بدولت اب لوگوں کی بڑی تعداد طبی مراکز اور ہسپتالوں کا رخ کیے بغیر بھی اپنے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کروا سکتی ہے۔یہاں تک کہ ڈرائیور حضرات گاڑی میں بیٹھے بیٹھے بھی اپنا ٹیسٹ کروا سکتے ہیں۔ ابو ظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید نے بھی ایک موبائل ٹیسٹ سنٹر سے اپنا کورونا کا ٹیسٹ کروایا اور اس کی تصاویر اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر پوسٹ کی ہیں جن کے ساتھ انہوں نے لکھا ہے ”آج میں نے موبائل کووِڈ – 19 ٹیسٹ سنٹر کا دورہ کیا ہے۔ہماری موبائل ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں جو امارات میں (کورونا) سے تحفظ کی خاطر ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔یہ طبی ٹیمیں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ہماری صحت کے تحفظ میں مصروف ہیں۔“ دبئی ہیلتھ اتھارٹی کی طبی ٹیموں نے نائف کے علاقے میں گھر گھر جا کر لوگوں کی سکریننگ شروع کر دی ہے۔گزشتہ روز استر ہسپتال کے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے پر مشتمل ٹیموں نے دبئی پولیس کے تعاون سے نائف روڈ کے آس پاس کے علاقوں میں گھر گھر جا کر لوگوں میں کورونا وائرس کی سکریننگ کی۔استر ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر جوبی لال وواوچن نے بتایا کہ ہماری طبی ٹیموں کی جانب سے آج صبح نائف روڈ کے ارد گرد کے علاقے میں واقع پانچ اپارٹمنٹ کمپلیکسز میں مقیم 400 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ استر ہسپتال کی جانب سے 400 ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے پر مشتمل پانچ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جس میں8 ہیلتھ پروفیشنلز بھی شامل ہیں۔جبکہ راس الخیمہ میں مختلف کمپنیوں کے پندرہ سو کارکنان کی میڈیکل سکریننگ کی جا چکی ہے، اور آئندہ چند روز میں مزید 25 ہزار افراد کی سکریننگ کی جائے گی۔ایم این سی رائل میڈیکل سنٹر کی طبی ٹیموں کی جانب سے کارکنان کی سکریننگ کے دوران جسم کا درجہ حرارت، تنفس کی رفتار، نبض، بلڈ پریشر اور بعض دفعہ بلڈ آکسیجن کی مقدار بھی چیک کی جا رہی ہے تاکہ کارکنان کی صحت کی ٹھیک طرح سے جانچ ہو سکے۔

کروناسے متاثر گرو کی ہلاکت کے بعدہزاروں بھارتی قرنطینہ میں

لاہور(ویب ڈیسک) اٹلی اور جرمنی کے دورے کے بعد بھارت واپس لوٹنے والے 70 سالہ سکھ گرو بلدیو سنگھ نے خود کو آئیسولیشن میں رکھنے کے بجائے لوگوں میں وائرس کے منتقلی کا سبب بننے کے بعد ہلاک۔ 15 ہزار سے زائد افراد کو ممکنہ طور پر ایک مذہبی رہنما سے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔70 سالہ سکھ گرو بلدیو سنگھ حال ہی میں یورپی ممالک اٹلی اور جرمنی کے دورے کے بعد بھارت واپس لوٹے تھے جہاں کچھ روز بعد کرونا وائرس کے باعث ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بلدیو سنگھ یورپ سے واپسی کے بعد بھارتی صوبہ پنجاب کے ایک درجن سے زائد دیہاتوں کے تبلیغی دورے کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں اب سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے ہر گھر میں قرنطینہ میں موجود افراد تک کھانا پہنچایا جا رہا ہے۔بھارتی صوبہ پنجاب کے ضلع بانگا کے سینئیر مجسٹریٹ گورو جین کا کہنا ہے کہ ‘ان 15 دیہاتوں کو 18 مارچ سے سیل کرنا شروع کیا گیا تھا اور ہمارے خیال میں یہاں 15 سے 20 ہزار تک افراد مقیم ہیں۔ ہمارا طبی عملہ مکمل طور پر تیار ہے۔’مقامی ڈپٹی کمشنر ونے ببلانی کا کہنا ہے کہ ‘گرو سے قریبی رابطے میں رہنے والے 19 افراد میں پہلے ہی کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے،’ جبکہ 200 سے زائد افراد کے ٹیسٹس کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔یورپ سے واپس آنے پر بلدیو سنگھ اور ان کے دو شاگردوں نے خود کو آئیسولیشن میں رکھنے کے مشورے کو نظر انداز کر دیا تھا۔ ان کے دونوں شاگردوں میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔بلدیو سنگھ کی ہلاکت کے بعد کینیڈا میں مقیم پنجابی گلوکار سدھو موسے والا نے ایک گانا ریلیز کیا ہے جس کو یوٹیوب پر دو دن میں 23 لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں۔
بھارتی پنجاب کے پولیس چیف دنکر گپتا نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس گانے کو ضرور سنیں کیونکہ گانے کے بول کچھ یوں ہیں: ‘میں نے موت کے سائے کی طرح پورے گاو¿ں میں گھومتے ہوئے اس بیماری کو آگے پھیلایا ہے۔’بھارت میں اب تک کرونا کے 873 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 19 متاثرین ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں کیسز کی کم تعداد سامنے آنے کی بنیادی وجہ بڑی تعداد میں ٹیسٹ نہ ہونا بھی ہو سکتی ہے۔

سعودیہ اکاونٹ ہولڈرز کے لیے آن لائن سروسز کی فیس چھ ماہ کے لیے ختم کر دی گئی

اریاض(ویب ڈیسک) سعودی مملکت میں کورونا کی مار دھاڑ میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جس کے باعث کئی اہم شہروں میں جزوی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور لاکھوں کاروباری مراکز اور صنعتی یونٹس بھی بند پڑے ہیں۔ معاشی سرگرمیاں معطل ہونے سے مملکت میں بسنے والے کروڑوں مقامی افراد اور تارکین وطن کارکنان بہت پریشانی کا شکار ہیں اور اپنے مستقبل کے حوالے سے بھی بہت فکر مند ہیں۔لوگوں کے خراب مالی حالات کو دیکھتے ہوئے سعودی عریبین مانیٹری اتھارٹی (ساما) کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مملکت کے تمام بینک اکاونٹس ہولڈر کے لیے اگلے چھ ماہ کی آن لائن سروسز پر عائد فیس معاف کر دی گئی ہے۔ ساما کے مطابق یہ فیصلہ کورونا وائرس کے باعث مختلف معاشی اور اقتصادی شعبوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے باعث کیا گیا ہے۔سعودی اخبار 24 کے مطابق ساما کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اگلے چھ ماہ کے دوران کسی بھی اکاونٹ ہولڈر سے آن لائن سروسز چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے۔جبکہ جن اکاونٹس میں موجود رقم کم از کم حد سے گھٹ جائے گی، ان پر بھی ماضی میں عائد فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح مالیاتی معاہدے اور فنڈنگ ری شیڈول کرانے پر بھی کوئی چارجز ادا نہ کرنا ہوں گے۔ساما کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اگلے چھ ماہ کے دوران کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ سے سفر کی ریزرویشن کرانے والوں پر بھی اضافی چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے۔ساما نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر کوئی اکاونٹ ہولڈر منی ٹرانسفر کا آرڈر منسوخ کروا دیتا ہے تو اس سے غیر ملکی کرنسی کی ترسیل پر لی گئی فیس واپس ادا کر دی جائے۔ ساما نے واضح کیا ہے کہ موجودہ معاشی بحران کے باعث اکاونٹ ہولڈرز سے کریڈٹ کارڈز پر عائد فیس اور منافع کی شرح گھٹانے کے معاملہ بھی زیر غور ہے۔ آئندہ چند روز میں اس حوالے سے فیصلہ لے کر متعلقہ فیس اور منافع کی شرح میں کمی لائی جائے گی۔

خلیجی ریاست قطر میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہو گئی

دوحہ(ویب ڈیسک) قطر میں بھی کورونا وائرس نے اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ لیے ہیں۔گزشتہ روز کورونا وائرس سے ایک بنگلہ دیشی شہری چل بسا، جو قطر میں کورونا وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔ قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کیو این اے نے بتایا ہے کہ وزارت صحت کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ کورونا وائرس کا شکار بنگلہ دیشی باشندہ موت کے منہ میں چلا گیا ہے۔متوفی کی عمر 57 سال تھی اور وہ پہلے سے ہی کئی دیگر بیماریاں کا شکار تھا۔ وزارت صحت کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ مملکت میں کورونا کے مزید 28 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد مملکت میں اس موذی وائرس سے متاثرہ افراد کی گنتی 588ہو گئی ہے۔جبکہ کورونا وائرس کے مزید دو مریض صحت یاب ہو گئے ہیں، جو مقامی باشندے ہیں۔اب تک مملکت میں کورونا کے 45 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔واضح رہے کہ قطری حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کی خاطر 17 مارچ کو مساجد کی وقتی بندش اور ان میں نماز پنجگانہ و نماز جمعہ کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کی تھی۔ مملکت میں مجموعی طور پر 13,681 افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ قطری مملکت میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے تمام غیر ضروری دکانیں بند کروا دی گئی ہیں، اس کے علاوہ کیفے اور تفریحی آوٹ لیٹس کھولنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔جو دکانیں کھلی رکھی گئی ہیں، ان کے اوقات بھی صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک مقرر کر دیئے گئے ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ کسی کو دکان کھلنے رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ البتہ فارمیسیز، کریانہ سٹورز اور ڈلیوری سٹورز پر اوقات کی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خلیجی ریاست قطر میں کورونا وائر س کا سب سے بڑا نشانہ مزدور طبقہ بن رہا ہے۔ ایمنسٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق مملکت میں سینکڑوں مزدور کورونا وائرس کے باعث ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔ تاہم انہیں علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ جس کے باعث مزدوروں میں حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

کورونا کے خوف نے سعودی تاریخ کی مختصر ترین شادی کروا دی

ریاض(ویب ڈیسک) ہر ماں باپ کا ارمان ہوتا ہے کہ ان کے بیٹے یا بیٹی کی شادی دھوم دھام سے منائی جائے۔اتنا ہلہ گلہ ہو کہ یہ تقریب یادگار بن کر رہ جائے۔ تاہم موجودہ دور میں کورونا وائرس کی وبا نے لوگوں کے ارمانوں پر کئی کئی من اوس گرا دی ہے۔لوگوں نے شادی بیاہ کی تقریبات ملتوی کر دی ہیں یا پھر انتہائی سادگی سے نکاح کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔کورونا کے خوف نے سعودی عرب میں نئی تاریخ رقم کر دی۔ سعودی عرب کے عسیر ریجن کے شہر زھران الجنوب میں گزشتہ روز ایک ایسی شادی ہوئی جسے بلاشبہ سعودی تاریخ کی مختصر تاریخ شادی ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شادی کی ساری کارروائی صرف پندرہ منٹ میں انجام دے دی گئی۔دلہا اور دلہن کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی ماہ قبل شادی کی تاریخ مقرر کر دی تھی۔چونکہ عسیر ریجن میں شادیاں بہت دھوم دھام سے منائی جاتی ہیں، اس لیے اس شادی کے لیے بھی بہت چاو¿ کے ساتھ تیاریاں شروع کر دی گئی تھیں۔ تاہم کورونا وائرس کی وبا نے شادی تقریبات کی خوشیوں کو ماند کر دیا۔شادی سے قبل دونوں جانب کے لوگ سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کیا شادی کو فی الحال ملتوی کر دیا جائے یا کوئی اور راستہ نکالا جائے جس سے دلہا دلہن کے ارمان اور خوشیاں غارت نہ ہوں۔آخر یہ طے پایا گیا کہ شادی تو ہو گی مگر اس میں دلہا اور دلہن کے گھر والے ہی موجود ہوں گے۔ کورونا وائرس کے باعث باقی سینکڑوں رشتہ داروں سے معذرت کر لی گئی۔ دلہن کے بھائی صالح العامر نے بتایا کہ میری بہن کی شادی چچا زاد بھائی سے طے تھی۔ مقررہ تاریخ اور وقت پر دولہا آیا اور ہم نے دلہن کو اس کی گاڑی میں سوار کرادیا۔ اس طرح رخصتی طے پاگئی۔اس موقع پر وہ رشتہ دار جو شادی میں شرکت نہیں کر سکے تھے، انہوں نے ازدواجی جوڑے کو مبارک باد کے پیغامات بھیجے اور شادی کی تقریب کو انتہائی مختصر رکھنے پر سراہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاوکو روکنے کے لیے مقرر پابندیوں کا احترام کیا جائے۔سعودی باشندوں نے مملکت کی اس مختصر ترین شادی پر سوشل میڈیا پر تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ سادگی کورونا وائرس کی وجہ سے اپنائی گئی ہے تاہم آج کے دور میں شادی بیاہ پر جو بے پناہ اخراجات ہو رہے ہیں، ان کے پیش نظر تمام شادیاں اتنی ہی سادگی سے طے پانی چاہئیں تاکہ دلہا کو خصوصاً بعد میں زائد اخراجات کے باعث پریشانی میں مبتلا نہ ہونا پڑے اور ایسا نہ ہو کہ وہ اسی فکر میں ازدواجی سفر کے ابتدائی ایام سے ٹھیک طرح لطف اندوز نہ ہو سکے۔

اماراتی حکومت نے کورونا وائرس اور کرفیو سے متعلق جرمانوں کی فہرست جاری کر دی

دبئی(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر مختلف خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اماراتی اٹارنی جنرل کی جانب سے جاری کی گئی جرمانوں کی اس فہرست میں انتباہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ احتیاطی تدابیر اور حکومتی پابندیوں کی خلاف ورزی کریں گے ،انہیں پانچ سو درہم سے پچاس ہزار درہم تک کا جرمانہ بھگتنا ہو گا۔ کورونا کے جو مریض اپنی بیماری ظاہر نہیں کریں گے یا علاج معالجہ نہیں کرائیں گے، ان پر پچاس ہزار درہم کا جرمانہ ہو گا۔ گھریلو قرنطینہ کی پابندی نہ کرنے والوں کو بھی اتنی ہی رقم جرمانے کی مد میں ادا کرنا ہو گی۔ جو نجی ہسپتال قرنطینہ سے متعلق مناسب بندوست نہیں کریں گے یا کورونا کا ٹیسٹ لینے سے انکار کریں گے، وہ بھی پچاس ہزار درہم کا جرمانہ بھریں گے۔کرفیو سے ہٹ کر دیگراوقات میں گھر سے بلا اجازت باہر آنے والوں پر دو ہزار درہم کا جرمانہ عائد ہو گا۔جبکہ کرفیو کے اوقات میں گھر سے باہر نکلنے پر تین ہزار درہم بطور جرمانہ عائد کیے جائیں گے۔ البتہ کھانا، دوائی اور دیگر ہنگامی صورت حال میں باہر نکلنے کی مشروط اجازت ہو گی۔ایسے ڈرائیورز جو اپنی گاڑیوں میں دو سے زیادہ مسافر بٹھائیں گے انہیں دس ہزار درہم کا جرمانہ ہو گا۔ایسے گھریلو اور ان ڈورمقامات جہاں پر کسی ایک فرد یا افراد میں کورونا وائرس کی مشتبہ علامات پائی جائیں وہاں مقیم تمام افراد کے لیے ماسک پہننا لازمی ہوگا، ورنہ انہیں ایک ہزار درہم کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ حکومت کی جانب سے پابندی کے باوجود تعلیمی ادارہ، سینما، جِم، کلب، مال، آو¿ٹ ڈور مارکیٹ، پارک، کیفے، شاپنگ سنٹرز اور ریسٹورنٹس کھولنے پر پچاس ہزار درہم کا جرمانہ بھی ہو گا جبکہ اس ادارے یا کاروباری مرکز کو سِیل بھی کر دیا جائے گا۔
اسی طرح پبلک پارکس، ساحلی مقامات، سپورٹس ٹریننگ سنٹرز، سوئمنگ پولز اور ہوٹلز کے سوئمنگ پولز بھی کھلے رکھنے پر پابندی ہے، جس کی خلاف ورزی پر پچاس ہزار درہم بھرنا ہوں گے۔ جبکہ ان مقامات کا رخ کرنے والے افراد پر بھی پانچ سو درہم کا جرمانہ ہو گا۔نجی و سماجی تقریبات اور اجتماعات منعقد کرنے والوں پر دس ہزار درہم کا جرمانہ ہو گا، جبکہ ان تقریبات میں شریک ہونے والوں پر بھی پانچ ہزار کا جرمانہ عائدکیا جائے گا۔
کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کووزارت صحت کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر 2 ہزار درہم کا جرمانہ ہو گا۔ ایسی مارکیٹس، روڈز اور عوامی مقامات جنہیں لاک ڈاون کے دوران بند نہیں کیا گیا، وہاں پر حفظانِ صحت سے متعلق اگر کوئی خلاف ورزی پائی گئی تو ایسی صورت میں 3 ہزار درہم کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔کورونا وائرس سے متاثرہ کپڑے، سامان اور دیگر اشیائ کو مناسب طریقے سے پھینکنے اور ضائع نہ کرنے والوں پر بھی تین ہزار درہم کا جرمانہ ہو گا۔ شیلٹر شپس سے متعلق احتیاطی تدابیرکی خلاف ورزی پر دس ہزار درہم کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ کورونا وائرس سے متاثرہ میت کو کہیں منتقل کرتے یا دفناتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر تین ہزار درہم کی بطور جرمانہ ادائیگی کرنا ہوگی۔پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹس میں سٹیریلائزیشن کا پروسیجر اختیار نہ کرنے پر پانچ ہزار درہم کا جرمانہ بھرنا ہو گا۔ ہسپتالوں اور صحت مراکز میں غیرضروری طور پر جانے والوں پر ایک ہزار درہم کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ کورونا کا ٹیسٹ کروانے سے انکار کرنے والوں کو بھی پانچ ہزار درہم کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ ان تمام خلاف ورزیوں کا دوسری بار ارتکاب کرنے کی صورت میں جرمانے کی رقم دگنی ہو جائے گی جبکہ تیسری بار خلاف ورزی کرنے پر عدالتی کارروائی کے بعد جیل بھیج دیا جائے گا۔

سعودی عرب میں مقیم اقامہ ہولڈرز اور غیر قانونی تارکین وطن کے لیے اہم خبر

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی مملکت میں اس وقت کئی لاکھ افراد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، جن کے ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے یا وہ قانون محنت سے متعلق دیگر خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی تارکین بھی موجود ہیں۔ سعودی فرمانرواخادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اعلان کیا ہے کہ مملکت میں کورونا وائرس کے تمام مریضوں کا علاج مفت کیا جائے گا۔چاہے وہ مریض سعودی شہری ہوں یا اقامہ ہولڈرز ہوں یا غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن ہوں، سب کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی صورت میں مفت علاج کی سہولت دستیاب ہو گی۔سعودی میڈیا کے مطابق وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے بتایا ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ہدایت کی ہے کہ مملکت میں کورونا وائرس پر قابو پانے کی خاطر مقامی افراد اور اقامہ ہولڈرز کے علاوہ ان تارکین وطن کو بھی کورونا کے مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے، جو مملکت میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ڈاکٹر توفیق کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں اور طبی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر توفیق کا مزید کہنا تھا کہ مملکت سے کورونا وائرس سے خاتمے کے لیے تمام حکومتی ادارے آپس میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں اور معلومات کا تبادلہ بھی کیا جا رہا ہے۔کورونا صرف بوڑھوں کو ہی لاحق نہیں ہوتا، بلکہ نوجوان اور بچے بھی اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ مملکت میں بھی کورونا کے مریضوں میں تمام عمر کے لوگ شامل ہیں۔ ابھی تک کورونا کا کوئی مستند علاج اور کامیاب دوائی سامنے نہیں آ سکی۔ کورونا کے مریضوں کو دی جانے والی تمام دوائیاں ابھی آزمائشی مراحل ہیں۔واضح رہے کہ مملکت میں کورونا کے مریضوں کی گنتی 1300ہو چکی ہے۔ جبکہ اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔