10ارب کے چیف منسٹر پنجاب انصاف پیکیج کی منظوری کرونا کیخلاف جنگ جیتیں گے: عثمان بزدار

لاہور (خصوصی ر پورٹر) وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے چیف منسٹر پنجاب انصاف امداد پیکیج کی منظوری دے دی۔ انصاف امداد پیکیج کے تحت درخواستیں آن لائن لی جائیں گی۔ صرف نام، شناختی کارڈ اور موبائل نمبر بتانا ہوگا۔تفصیل کے مطابق وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کے زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں چیف منسٹر پنجاب انصاف امداد پیکج کی منظوری دے دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے انصاف امداد پیکج کو جلد لانچ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستحق خاندانوں کو مالی امداد کی تقسیم کا عمل جلد شروع کیا جائے۔عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ فول پروف میکانزم کے تحت اصل حقدار تک مالی امداد پہنچائیں گے۔ پہلے مرحلے میں 25 لاکھ مستحق خاندانوں کو 4 ہزار روپے کی مالی امداد دیں گے۔ روزگار کی بندش سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو 2 قسطوں میں 8 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے چیف منسٹر پنجاب انصاف امداد پیکج کیلئے 10 ارب روپے مختص کر دیئے ہیں۔ اس پیکج کی امدادی رقم وفاقی حکومت کے ریلیف پیکج کے علاوہ ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ انصاف امداد پیکج کے تحت مالی امداد ملنے سے دہاڑی دار طبقے کو ریلیف ملے گا۔ انصاف امداد پیکج کے تحت درخواستیں آن لائن لی جائیں گی۔ کوائف کی تصدیق کے بعد رقم آن لائن ٹرانسفر کی جائے گی۔ درخواست گزار شکایت آن لائن درج کرا سکیں گے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے درخواست فارم کو مزید آسان بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔ درخواست گزاروں سے صرف نام، شناختی کارڈ نمبر اور موبائل فون نمبر کی معلومات لی جائیں گی۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نادار طبقے کو مشکل کی گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ معاشی صورتحال کے پیش نظر پنجاب میں 18 ارب روپے کے صوبائی ٹیکسز معاف کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے دیہاڑی دار طبقے کو ریلیف دینے کیلئے اربوں روپے کے بہترین پیکیج کا اعلان کیا ہے۔کورونا وائرس کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ اقوام عالم کا مشترکہ چیلنج ہے جبکہ اپوزیشن اس اہم قومی مسئلے پر بھی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر ہے کہ اپوزیشن نے کورونا وباءپر پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کی۔ اپوزیشن کی جانب سے کورونا وائرس جیسے اہم مسئلے پر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا غیر منطقی اور افسوسناک ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں اپوزیشن کے منفی کردار کو تاریخ میں اچھے الفاظ سے یاد نہیں رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ اپوزیشن صرف کھوکھلے نعرے لگا رہی ہے، عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔آج قوم کو یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت ہے اور پاک دھرتی کی مٹی ہم سب سے یگانگت اور بھائی چارے کا تقاضا کر رہی ہے۔پاکستان کا قرض مشترکہ کاوشوں اور اجتماعی فیصلوں سے ہی اتارا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور انشاءاللہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قوم کے تعاون سے کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتیں گے۔

پنجاب میں تیزی سے کرونا پھیل رہا ہے فوری نوٹس لیا جائے شہباز شریف

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہاہے کہ پنجاب میں تیزی سے کرونا کے مریضوں میں اضافہ کا فی الفور نوٹس کیاجائے ۔ اپنے بیان میں اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ فوری اقدامات نہ ہوئے توپنجاب میں بالخصوص خدانخواستہ بڑی تباہی دیکھ رہا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کرونا وائرس کا ٹیسٹ نہ کرنے کے فیصلے سے قوم کی جان خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ کورونا کے مریضوں، ٹیسٹنگ، سکریننگ سے متعلق تمام ڈیٹا سامنے لایا جائے ،حکومت کا کرونا کے متاثرین ، ٹیسٹ اور سکریننگ کا کا اعداد چھپانا جرم ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حقائق چھپانے سے زمینی حقائق چھپ سکتے ہیں، نہ ہی کورونا کی پھلتی وبا ءرک سکتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مسئلے کا حل بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور ہسپتالوں سے الگ کورنٹین سینٹرز کا قیام ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں میں حفاظتی کٹس ، ادویات اور متعلقہ طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ انہوںنے کہاکہ واضح حکمت عملی، ضروری حفاظتی سامان فراہم نہ کرکے وزیراعظم کورونا پھیلانے کی راہ ہموار کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ عمران نیازی کا رویہ کورونا کے خلاف جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے ،ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کے لئے حفاظتی لباس کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں کٹس ، ادویات سمیت طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے،ہسپتالوں میں مریضوں کو کورونا کے متاثرین سے فی الفور الگ کیاجائے ورنہ بڑی تباہی ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ پنجاب میں ہنگامی بنیادون پر الگ کورنٹین مراکزکے قیام کو اورلین ترجیح دی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ سرکاری سکول، کالج ، ہوٹل ، شادی ہال اور مساجد کو کورنٹین سینٹرز بنایا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کم ٹیسٹ کر کے حالات اور کنفرم مریضوں کی ریشو کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں جس سے وائرس کا خوفناک حد تک پھیلنے کا خدشہ ہے ،حکومت ابھی تک پاکستان میں ٹیسٹ اور سکریننگ کا صحیح ڈیٹا نہیں بتا رہی۔ انہوںنے کہاکہ کروناوائرس کے حوالے سے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ٹریننگ نہ ہونا مزید خطرے کی علامت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وینٹی لیٹرز کی کمی کے علاوہ انہیں چلانے کے لئے متعلقہ عملے کی بھی شدیدقلت ہے ،شہری آبادی میں آئسولیشین وارڈز قائم کرنے سے عام مریضوں میں کروناوائرس کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دورافتادہ علاقوں سمیت ڈسٹرکٹ و تحصیل کی سطح پہ کے عوام کو کورونا سے آگاہ کرنے کی ہنگامی مہم چلائی جائے، انتظامات کئے جائیں ،ڈاکٹرز و نرسز کے کروناوائرس کے ٹیسٹ باقائدگی کرائے جائیں۔

اٹلی 812،سپین 838،فرانس 418،برطانیہ میں مزید 180 ہلاک امریکہ میں 2لاکھ اموات کا خدشہ:ٹرمپ

نیویارک‘ پیرس‘ لندن‘ انقرہ‘ جدہ‘ میڈرز‘ بیجنگ (نیٹ نیوز) دنیا بھر میں کرونا وائرس کا پھیلاو¿ تیزی سے جاری ہے 30 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 222 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔جہاں دنیا بھر میں تیزی سے کرونا کے مریض سامنے آ رہے ہیں، وہیں ہلاکتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور مرنے والے افرد کی تعداد 36800 ہزار کے قریب پہنچ چکی تھی۔کرونا وائرس کے براہ راست اعداد و شمار دینے والے آن لائن میپ کے مطابق 30 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کرونا سے مجموعی ہلاکتیں 33 ہزار 997 ہوچکی تھیں، جن میں سے صرف 2 ممالک اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے 17 ہزار سے زائد تھی۔اٹلی میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی ا?ئی۔سول پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز اٹلی میں 756 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد کل تعداد 10 ہزار 779 ہوگئی ہے جو دنیا بھر میں وائرس سے ہونے والی کل ہلاکتوں کا ایک تہائی حصہ ہیں۔اٹلی میں اگرچہ اب نئے کرونا وائرس کے مریضوں کی رفتار کچھ سست ہوچکی ہے تاہم اب بھی وہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس وجہ سے اٹلی بھر میں خوف پھیلا ہوا ہے۔اٹلی میں حیران کن طور پر دیگر ممالک سے زیادہ ہلاکتیں ہونے پر ماہرین صحت بھی پریشان ہیں جب کہ اٹلی کے حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک سامنے آنے والے کرونا کے مریض وہ ہیں جن کے شک کے بنیاد پر ٹیسٹ کیے گئے تھے۔حکام کے مطابق تاحال اٹلی میں عام افراد کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے بلکہ ان علاقوں میں لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، جہاں سے پہلے ہی کیس سامنے آ چکے ہیں۔اٹلی میں ہفتے کے روز اتوار سے 133 زائد، 889 ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ جمعے کے روز یہ تعداد 919 تھی۔ آسٹریلیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے 4100 متاثرین اور 17 افراد کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ آسٹریلیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے مقابلہ میں ملک میں متاثرین کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا کے باعث ملک میں ایک سے دو لاکھ تک اموات کا خدشہ ظاہر کر دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کہا اگر اموات اس قدر بھی روک لی گئیں تو بڑی کامیابی ہوگی ۔انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے باعث ڈپریشن اور اقتصادی کساد بازاری ہوگی جس سے خودکشیوں کا رجحان بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے۔ٹرمپ نے لاک ڈاون جلد کھولنے کے معاملے پر یوٹرن لیتے ہوئے تاریخ 12 اپریل سے بڑھا کر 30 اپریل کر دی اور خبردار کیا کہ 2 ہفتوں میں کرونا کی وبا حدوں کو چھو سکتی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اس وبا پر قابو پانے کے لیے اقدامات تیس اپریل تک لاگو رہیں گے۔ دنیا میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض امریکا میں ہیں۔ کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے امریکی صدر کے مشیر انتھونی فاو¿سی کے مطابق کووڈ انیس سے امریکا میں دو لاکھ تک ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ سعودی عرب نے کرونا وائرس سے چار مزید مریضوں کی موت اور96 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔سعودی عرب میں اب اس مہلک وائرس کے کیسوں کی تعداد 1299 ہوگئی ہے اور آٹھ افراد کی موت واقع ہوچکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لوگوں کے گھروں میں رہنے اور سماجی دوری برقرار رکھنے کے لیے جاری کردہ ہدایات کی مدت آئندہ ماہ کے آخر تک بڑھا دی ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے گائیڈ لائنز پر عمل در آمد کی مدت میں توسیع کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک اعلی طبی ماہر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وبا سے امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی موت ہو سکتی ہے.کرونا وائرس کے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیسز امریکہ میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار سے زائد ہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی 2489 تک پہنچ چکی ہے.وائٹ ہاس میں کرونا وائرس سے متعلق بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کرونا وائرس کے باعث شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ہے بریفنگ کے موقع پر صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کے مشیر اور نامور کاروباری افراد بھی موجود تھے. صدر ٹرمپ نے کہا کہ کامیابی حاصل کرنے سے پہلے جیت کا اعلان کردینے سے بدتر کچھ نہیں ہو سکتا وہ اپنے فیصلے سے متعلق مزید تفصیلات کے بارے میں منگل کو آگاہ کریں گےانہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر وہ حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہوں گے تو اس وبا پر قابو پایا جاسکے گا.امریکہ میں وبا سے سب سے زیادہ نیو یارک متاثر ہوا ہے جہاں 60 ہزار کے قریب کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 965 افراد کی موت ہوئی ہے اسی طرح نیو جرسی میں 13 ہزار جب کہ کیلی فورنیا میں چھ ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے.یاد رہے کہ امریکی صدر نے کرونا وائرس کا پھیلاروکنے کے لیے 15 روز قبل گائیڈ لائنز جاری کی تھیں جس کے تحت دس سے زیادہ افراد کے اجتماع سے گریز، ہوٹلوں، ریستورانوں اور فوڈ کورٹس میں کھانا کھانے سے احتیاط، بارز میں اکھٹے ہونے سے اجتناب، بڑی عمر کے افراد کا زیادہ تر وقت گھر میں گزارنے جیسی ہدایات شامل تھیں.ان ہدایات کی روشنی میں نوجوانوں کے گھر سے باہر نکلنے میں کمی اور سکولوں میں جانے کے بجائے گھر میں بیٹھ کر پڑھائی کا کہا گیا تھا.امریکا کے مختلف امراض کے انسداد کے سینٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں 2010 سے 2020 کے درمیان نزلہ زکام سے 12 ہزار سے 61 ہزار کے درمیان شہری سالانہ موت کا شکار ہوتے رہے ہیں سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے مطابق 19-1918 میں امریکہ میں فلوکی وبا سے چھ لاکھ 75 ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی تھی. واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے لوگوں کو اس وقت حیران کر دیا تھا جب گزشتہ ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسٹر کی تعطیلات سے پہلے امریکہ میں معمولات زندگی بحال ہوجائیں کیوں کہ ملک طویل شٹ ڈان کا متحمل نہیں ہوسکتا.صدر ٹرمپ نے لاکھوں امریکیوں کے گھروں تک محدود رہنے کے نتیجے میں معیشت پر پڑنے والے اثرات پر مایوسی کا اظہار کیا تھا جب کہ صحت عامہ کے ماہرین کے برعکس کرونا وائرس اور فلو کا موازنہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ ہم ہر سال فلو کے باعث ہزاروں لوگوں سے محروم ہوتے ہیں لیکن ہر سال ملک کو بند نہیں کرتے.واضح رہے کہ امریکہ میں 21 ریاستوں کے گورنرز نے غیر ضروری کاروبار بند اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ان 21 ریاستوں میں ملک کے 33 کروڑ شہریوں کی نصف سے زائد آبادی رہتی ہے.وائٹ ہاوس میں بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے ایسٹر تک ملک میں سرگرمیاں بحال کرنے کے بیان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک خواہش تھی انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اب معاشی سرگرمیاں جون تک مکمل بحال ہو سکیں گی۔

ہردم مصروف عمل کرونا سے نمٹنے کیلئے پنجاب اور سندھ میں فوج کی چیک پوسٹیں اور پٹرولنگ جاری آئی ایس پی آر

راولپنڈی (آئی این پی) کروناوائرس سے نمٹنے کے لئے پاک فوج ملک کے طول وعرض پر اپنے فرائض انجام دہی میں مصروف عمل ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے مختلف سرحدی داخلی راستوں سمیت بین الاقوامی سرحدوں پر نقل وحرکت کی نگرانی کر رہے ہیں، پنجاب کے چونتیس اضلاع میں مشترکہ چیک پوسٹیں اورپٹرولنگ کی جارہی ہے جبکہ سندھ کے انتیس اضلاع میں بھی تمام داخلی اورخارجی مراکز کی نگرانی جاری ہے۔پاک فوج کے زیراہتمام بلوچستان کے علاقے تفتان میں چھ سو افراد کے لئے قرنطینہ مرکز قائم کیاگیاہے،اسی طرح چمن میں آٹھ سو پانچ خیموں پرمشتمل قرنطینہ مرکز جبکہ چمن کے گاو¿ں کلی فیضو میں تین سو افراد کیلئے کنٹینرز میں اور لنڈی کوتل میں پندرہ افراد کے لئےقرنطینہ مرکزکزقائم کیئے گئے ہیں،اسی طرح لاہور، فیصل آباد، ملتان اور کراچی میں ایکسپو سینٹرز میں قائم قرنطینہ مراکز میں فوجی جوان سول انتظامیہ کی مستعدی سے معاونت کررہے ہیں۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ بلوچستان کے نو اضلاع ا?واران، چاغی، لسبیلہ، قلات، گوادر، سبی، خضدار، نوشکی کے علاقوں میں فوجی جوان خدمات انجام دے رہے ہیں،خیبرپختونخواہ کے چھبیس اضلاع میں پاک فوج کےجوان خدمات انجام دے رہے ہیں، پاک فوج کی جانب سے چار ہزار مشتبہ کیسز کی اسکریننگ بھی کی جاچکی ہے۔آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے خنجراب پاس کے راستہ سے چین سے درآمد ہونے والے پانچ وینٹی لیٹر، ماسک، میڈیکل اورٹیسٹنگ کٹس سمیت دیگر طبی آلات کی منتقلی جاری ہے جبکہ پاک فضائیہ کے ٹرانسپورٹ بیڑے کو کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے ہمسایہ ملک چین سے مختلف امدادی اور طبی سامان کی نقل و حمل کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ گوادر میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے اقدامات جاری۔ پاک فوج کے جوانوں نے اسماعیلیہ وارڈ گوادر میں مشتبہ کرونا وائرس سے متاثر شخص کی ہلاکت کے بعد علاقے کی نگرانی سخت کر دی۔ اس سلسلے میں گوادر میں موجود کرونا وائرس کے فوکل پرسن ڈاکٹر عبدالواحد نے کہا ہے کہ موقع کے بعد مشتبہ ہلاک مریض سے تعلق رکھنے والے اور علاقے میں 17رہائش پذیر دوسرے مزدوروں کو احتیاطی طور پر سخت حفاظتی حصار میں بسوں کے ذریعے ان کو جی آئی ٹی کورٹناٹن سینٹر میں منتقل کئے ہیں وہاں پر ان 14دن تک قرنطینہ کیا جائے گا۔

کرونا: کور کمانڈر لاہور کی صوبائی حکومت کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی

لاہور(اے این این )وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت گزشتہ روز وزیراعلیٰ آفس میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ ساڑھے تین گھنٹے طویل اجلاس میں صوبے میں کورونا وباءکی تازہ صورتحال، حفاظتی اقدامات اور عوام کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان ، ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل محمد عامر مجید،چیف سیکرٹری میجر (ر) اعظم سلیمان،انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں کورونا وائرس کی وباءپر قابو پانے اور متاثرہ مریضوں کے بہترین علاج معالجے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے بنائے گئے ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد پر اتفاق کیا گیا۔ پنجاب کی سیاسی و عسکری قیادت نے وباءکی روک تھام کیلئے حکومتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان کی جانب سے سول حکومت سے بھرپور تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے میں مصروف ڈاکٹرزاورہےلتھ پروفیشنلزکو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دےںگے۔پنجاب حکومت انسداد کورونا مہم کے دوران جاں بحق ہونے والے ملازمےن،ڈاکٹروں اورہےلتھ پروفےشنلز کے لواحقین کو شہداءپےکےج کے تحت مراعات دے گی۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں امتناع وبائی امراض آرڈےننس (Punjab Infectious Diseases Control and Prevention Ordinance 2020) نافذ العمل ہوچکا ہے۔آرڈیننس کے نفاذ سے انتظامےہ اورمحکمہ صحت کے حکام کو کورونا کنٹرول کےلئے کےے جانے والے اقدامات پر عملدر آمد مےں سہولت ہوگی۔صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذالعمل ہے۔محکمہ صحت کو 12 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے گئے ہیں۔ انتہائی حساس علاقوں کو مکمل طور پر لاک ڈاﺅن کیا گیا ہے۔ متاثرہ مریضوں سے قریبی رابطہ رکھنے والے افراد کو ٹریس کرنے کیلئے ایس او پیز مرتب کر لئے گئے ہیں۔ صوبے میں ٹیسٹنگ کیلئے نئی لیبز قائم کر رہے ہیں۔ گندم کی نئی فصل کی کٹائی کا آغاز اپریل میں ہوگا۔پنجاب حکومت نے فلور ملوں کیلئے گندم کا کوٹہ بڑھا دیا ہے۔خیبرپختونخوا کو بھی روزانہ کی بنیاد پر 5 ہزار میٹرک ٹن گندم دے رہے ہیں۔کسانوں سے 1400 روپے من کے حساب سے گندم خریدی جائے گی۔اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کورونا کی وباءسے نمٹنے کیلئے اقدامات کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ اجلاس میں کورونا وائرس سے پےدا ہونے والی صورتحال ،احتےاطی تدابےر اورحفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لےاگےا۔ اجلاس میں متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کیلئے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فوڈ سکیورٹی اور فوڈ سپلائی چین کے حوالے سے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

کورونا وائرس:اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 100 ارب روپے کے ہنگامی فنڈ کی منظوری دیدی

اسلام آبادر(ویب ڈیسک) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے لیے 100 ارب روپے کے ہنگامی فنڈ سمیت1.2 کھرب روپے کے فوری مالی پیکج کی منظوری دے دی ہے. خزانہ ڈویڑن سے جاری اعلامیے کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کا مقصد وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے ریلیف پیکج کے اعلان کو حتمی شکل دینا تھا.اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے کورونا وائرس کے اثرات کم کرنے کے لیے آئین پاکستان کی دفعہ 84 اے کے تحت 100 ارب روپے کے اضافی ہنگامی فنڈ کی منظوری دی‘ای سی سی کی طرف سے نادار افراد کو احساس پروگرام کے تحت نقد مالی امداد کے ذریعے سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی پیکج کی بھی منظوری دے دی گئی جس کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں سے مالی تعاون کیا جائے گا.مستحق خاندانوں کو مالی تعاون کے طریقہ کار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 4 ماہ کے لیے تعاون کیا جائے گا جو ایک ہی قسط میں ادا کیا جائے گا اور یہ رقم کفالت پروگرام کے شراکت دار بینک کے ذریعے دی جائے گی جو 12 ہزار روپے ہوگی‘اعلامیے کے مطابق وزارت صنعت وا پیداوار کی جانب سے مالی تعاو کے لیے جامع تجاویز پیش کی گئیں اور ای سی سی نے 200 ارب روپے کے مالی تعاون کی منظوری دی جو صنعتوں میں روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والوں کو دی جائے گی کیونکہ کورونا وائرس کے باعث انہیں اجرت نہیں مل سکی.ای سی سی کا بتایا گیا 30 لاکھ مزدوروں کے متاثر ہونے کاتخمینہ لگایا گیا ہے اور انہیں ماہانہ کم از کم 17 ہزار 500 روپے دیے جائیں گے ای سی سی نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے لیے 50 ارب روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی اور کہا گیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز 9 بنیادی ضرورت کی اشیا پر ایک جامع منصوبہ بنا چکے ہیں.اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایف بی آر کے لیے 75 ارب روپے کی بھی منظوری دی تاکہ وہ دس سال سے واجب الادا سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریفنڈز، ڈیوٹی ڈرا بیکس اور کسٹم ڈیوٹیز ادا کی جاسکیں.کمیٹی نے مختلف غذائی اجناس کی درآمد اور فراہمی پر عائد مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی کی اجازت بھی دی تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات پر کورونا وائرس کے منفی اثرات کا خاتمہ کیا جاسکے وزارت تجارت کو 30 ارب روپے کے اضافی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی تاکہ برآمدکنندگان کو رواں مالی سال میں معاشی نموکی سست روی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جاسکے.ای سی سی نے پاکستان ریلوے کو خسارے پورے کرنے کے لیے 6 ارب روپے کے اضافی گرانٹ کی منظوری بھی دے دی، ریلوے نے کورونا وائرس کے باعث اپنی سروس معطل کردی ہے مذکورہ فنڈ سے ریلوے کے 70 ہزار ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جائیں گی.یاد رہے کہ 24 مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے ملک میں عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلنے کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل اور اس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے عوام اور مختلف شعبوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا تھا.ریلیف پیکج کے اہم انکات میں مزدور طبقے کے لیے 200ارب روپے، ایکسپورٹ اور انڈسٹری کے لیے 100 ارب روپے، غریب خاندانوں کے لیے 150ارب روپے اور 3ہزار روپے فی گھرانہ دینے کا اعلان کا شامل تھا‘وزیراعظم کے پیکج میں یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے 50ارب روپے ، گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے 280ارب روپے، پیٹرولیم مصنوعات میں فی لیٹر 15روپے کمی، بجلی، گیس کے بل 3ماہ کی اقساط میں ادا کرنے کا ریلیف، میڈیکل ورکرز کے لیے 50ارب روپے شامل تھے.

معروف جاپانی اداکار کین شیمورا کورونا وائرس سے ہلاک

لاہور(ویب ڈیسک)کورونا وائرس دنیا بھر میں شاہی خاندانوں سے لے کر ڈاکٹروں اور ٹی وی و شوبز سے منسلک معروف شخصیات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور اب اطلاعات ہیں کہ کئی دہائیوں سے جاپانی ٹیلی ویڑن اسکرین کے ذریعے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے مزاحیہ اداکار کین شیمورا کورونا وائرس کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ چند روز قبل ہی انہوں نے اپنی پہلی فیچر فلم بھی سائن کی تھی جس میں ان کا مرکزی کردار تھا۔جاپانی میڈیا کے مطابق 70سالہ اداکارکین شیمورا کی موت کی وجہ کورونا وائرس بنی۔کین شیمورا 20 مارچ کو تیز بخار اور نمونیہ کے باعث ٹوکیو اسپتال میں داخل ہوئے تھے جہاں ان کے کووِڈ-19 کے ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی گئی تھی۔شیمورا جاپانی انٹرٹینمٹ انڈسٹری کی وہ پہلی شخصیت ہیں جن کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوئی ہے۔تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے متعدد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور جاپان میں شیڈول اولمپکس گیمز بھی 2021 بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔جاپان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار 884 ہے جب کہ وائرس سے 52 افراد ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

‘خدا کیلیے غریبوں کی مدد کرتے ہوئے ان کی عزت نفس سے مت کھیلیں’

لاہور(ویب ڈیسک)اس مشکل ترین وقت میں بے شمار لوگ غریب اور نادار لوگوں کی مدد کے لیے سرگرم نظر آ رہے ہیں اور ان کی جانب سے راشن سمیت دیگر روز مرہ کی ضروری اشیاءتقسیم کرنے کا سلسہ جاری ہے۔اسی حوالے سے متعدد لوگوں کی جانب سے راشن تقسیم کرتے وقت کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جا رہی ہیں جس سے عطیہ لینے والے بے شمار لوگوں کی عزت نفس مجروح ہو رہی ہے۔اس تمام تر صورتحال کے حوالے سے پاکستانی اداکارہ و میزبان صنم جنگ کی جانب سے عطیہ کرنے والے لوگوں کے لیے ایک اہم پیغام دیا گیا ہے۔اداکارہ صنم جنگ نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ‘خدا کے لیے غریبوں کی مدد کرتے ہوئے، سوشل میڈیا پر اپنی واہ واہ کے لیے ان کی عزت نفس سے مت کھیلیں’۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاوکو روکنے کے لیے لاک ڈاون کے باعث بے شمار افراد بے روزگار ہوگئے ہیں اور ان کی مدد کے لے متعدد شوبز شخصیات سمیت قومی کھلاڑیوں کی جانب سے راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے جب کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 1625 ہو گئی ہے۔

کورونا وبا؛ عاطف اسلم کا وزیراعظم کیلئے پیغام

لاہور(ویب ڈیسک)گلوکار عاطف اسلم نے کورونا وائرس کے حوالے سے وزیراعظم کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے لیے پیغام دیا ہے۔گلوکار عاطف اسلم نے اپنے ویڈیو پیغام میں پہلے تو ملک میں کورونا وبا کی وجہ سے جاری سنگین صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی جانب سےاٹھائے جانے والے اقدامات کا خیر مقدم کیا۔ بعد ازاں انہوں نے تمام لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جس کی جتنی حیثیت ہے وہ اس حساب سے لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئے اور اپنے ارد گرد، اپنے پڑوسیوں کو دیکھے اور ان کی مدد کرے۔ عاطف اسلم نے خدا سے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ پاک ہمیں ان پریشان کن حالات سے باہر نکلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ویڈیو کے آخر میں عاطف اسلم نے وزیراعظم کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو کسی بھی حوالے سے ہماری ضرورت ہے ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ہم جو کچھ بھی کرسکتے ہیں کریں گے۔