مدینہ منورہ میں تمام ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند کر دی گئیں

مدینہ منورہ(ویب ڈیسک) سعودی مملکت میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 800 سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ جس کے بعدحکام کی جانب سے سخت اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ سعودی محکمہ صحت کی جانب سے آج کے روز ایک خصوصی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے تحت مدینہ منورہ کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں او پی ڈی بند کر دی گئی ہے اس کے علاوہ مریضوں سے ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
محکمہ صحت مدینہ منورہ نے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے اور مقامی شہریوں و مقیم غیر ملکیوں کو اس سے بچانے کے لیے کیے گئے احتیاطی اقدامات میں توسیع کی ہے۔ ان خصوصی اقدامات کے تحت گزشتہ روز سے مدینہ منورہ کے ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں سے ملاقات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، چاہے ملاقات کے لیے آنے والا مریض کا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، سرکاری اور نجی ہسپتال میں زیر علاج مریض سے ملاقات نہیں کر سکتا ہے۔محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ ’یہ فیصلہ مریضوں اور عیادت کے لیے آنے والوں کی صحت و سلامتی کی خاطر کیا گیا ہے۔محکمہ صحت نے کنگ فہد ہسپتال، المیقات ہسپتال، مدینتہ الحجاج ہسپتال، احد ہسپتال، التاھیل الطبی، المدینہ جنرل ہسپتال اور زچہ بچہ ہسپتال میں او پی ڈی بند کرنے کے احکامات دیے ہیں۔اس پابندی کا اطلاق ذہنی صحت کے علاج کے لیے مختص ارادہ کمپلیکس اور امراض قلب کے مرکز پر بھی ہو گا۔
جن افراد نے او پی ڈی میں چیک اپ کرانے کے لیے تاریخ لی ہوئی تھی انہیں نئی تاریخیں دی جائیں گی۔جبکہ ملاقاتیوں کو بھی نئی تاریخوں سے آگاہ کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں مزید4کورونا مریض انتقال کرگئے،کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 8 ہوگئی ہے، جبکہ گزشتہ24گھنٹوں میں مزید 96افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے ساتھ مریضوں کی کل تعداد 1299ہوگئی ہے۔سعودی وزارت صحت کے مطابق سعودی عرب میں گزشتہ24 گھنٹوں میں مزید 96 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی،جس کے ساتھ سعودی عرب میں کورونا مریضوں کی کل تعداد1299ہوگئی ہے۔نئے رپورٹ ہونے والے کیسز میں12 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔نئے کیسز میں68 افراد کی ٹریول ہسٹری یا اس ان کا کورونا وائرس کے متاثرہ افراد سے تعلق رہ چکا ہے۔وزارت صحت نے بتایا کہ 28 مزید افراد مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں، صحت یاب افراد کی تعداد66 ہوگئی ہے۔سعودی حکومت نے شہریوں کو ہدایات کی ہیں کہ افواہوں سے بچیں اور صرف حکومت کی تصدیق شدہ معلومات پر عمل کریں۔

قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے پر مسجد قباءکے خطیب کو فارغ کر دیا گیا

مدینہ منورہ(ویب ڈیسک) سعودی مملکت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی گنتی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس کے باعث مملکت میں قید ہزاروں افراد کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ سعودی اخبار المرصد کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مدینہ مسجد میں واقع تاریخی اسلامی مسجد قبا کے خطیب کو ٹویٹر پر قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔مسجد قبا کو اسلام کی اولین مسجد ہونے کا شرف حاصل ہے، جس کی تعمیر میں نبی کریم نے خود بھی حصہ لیا تھا۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے اسی مقام پر قیام فرما یا تھا، اور پھر یہی پر اسلامی تاریخ کی اولین مسجد تعمیر کی گئی۔ اخبار کے مطابق مسجد قبا کے خطیب و امام صالح المغمسی نے کورونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والی خطرناک صورت حال کے پیش نظر مطالبہ کیا تھا کہ مملکت میں موجود قیدیوں کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت رہا کر دیا جائے۔سعودی حکام کی جانب سے ان کے اس بیان کو اختیارات سے تجاوز تصور کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔سعودی وزارت برائے مذہبی امور کی جانب سے امام صالح المغمسی مسجد قبا کی امامت اور خطابت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سعودی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے امام صالح کو خطابت اور امامت سے ہٹانے کا کہا ہے اور ان کی جگہ شیخ ڈاکٹر سلیمان الراحیلی کو مسجد قبا کا امام اور خطیب مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو سعودی عوام کی جانب سے ایک غیر معمولی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ چند روز قبل سعودی حکومت کی جانب سے ڈھائی سو غیر ملکیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ جن میں درجنوں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ رہا کیے گئے غیر ملکی ویزہ اور لیبر قوانین سے متعلق معمولی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے باعث جیلوں میں بند کیے گئے تھے۔تاہم مملکت نے انسانی ہمدردی کے تحت انہیں رہا کر دیا ہے۔ کیونکہ سعودی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر کورونا کی وبا نے سعودی جیلوں کا رخ کر لیا تو ہزاروں افراد اس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ سعودی ہیومن رائٹس کمیشن کے سربراہ عواد العواد نے اپنے ٹویٹر اکاو¿نٹ کے ذریعے صارفین کو آگاہ کیا کہ سعودی حکومت نے انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت معمولی ویزہ اور لیبر قوانین سے متعلق خلاف ورزیوں میں قید 250 تارکین وطن کو رہا کر دیا ہے۔العواد نے سعودی حکام کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انتہائی عمدہ فیصلہ قرار دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رہا کیے گئے افراد کو فوری طور پر ان کے متعلقہ ممالک سے بھجوانے سے مملکت میں کورونا کے پھیلاو میں بڑی مدد مِلی ہے، کیونکہ غیر ملکیوں کی جیلوں میں خدانخواستہ کورونا پھیل جانے سے ہزاروں زندگیاں خطرات میں پڑ سکتی ہیں۔ معمولی جرائم میں ملوث افراد کی رہائی سے سعودی مملکت میں امن عامہ کی صورت حال کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سعودیہ کرفیو کے معاملے پرسوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے پر درجنوں گرفتار

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی مملکت کے بیشتر علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کے بعد درجنوں افرادکی جانب سے کرفیو کا مذاق اڑانے اور اس کی خلاف ورزی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ جبکہ کچھ افراد نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سعودی حکام کے لیے گئے اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، اور اس حوالے سے مذہبی احکامات و تعلیمات کو توڑ موڑ کر پیش کیا۔سعودی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ العربیہ نیٹ نیوز کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے کرونا وائرس کی آڑ میں سوشل میڈیا پرمذہبی تعلیمات کو غلط رنگ دینے، ریاست اور حاکم وقت کے فرامین کی نافرمانی پراکسانے میں ملوث تین افراد کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کے خلاف فوری طورپر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔پبلک پراسیکیوشن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا ویب سائٹس پر مذہبی تعلیمات کی جعل سازی ، دھوکہ دہی اور حاکم وقت کے احکامات کی نافرمانی پراکسانے والے تین افراد کی نشاندہی کے بعد انہیں حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا جائے۔اسی سلسلے میں گذشتہ منگل کے روز سعودی پراسیکیوشن نے سوشل میڈیا پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ایک خاتون کی شناخت کے بعد اسے حراست میں لیا گیا تھا۔اس خاتون کو ایک ویڈیو شیئر کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا جس میں اس نے لوگوں کو کرونا وائرس کے حوالے سے حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات اور کرفیو کی خلاف ورزی پراکسانے کی کوشش کی تھی۔گرفتار کی گئی خاتون کو فوری طورپر عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کے بعد اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہیکہ کرونا وائرس کے حوالے سے حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے ساتھ بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سعودی عرب کے علاقہ حائل میں ماسک کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بڑی کارروائی

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی مملکت میں کورونا قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ آخری اطلاعات تک مملکت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی گنتی1300 تک جا پہنچی ہے۔ اس موذی وائرس سے بچاو کی خاطر لوگ دھڑا دھڑ سرجیکل ماسک خرید رہے ہیں۔ تاہم بے حس منافع خوروں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی ہے اور مارکیٹ میں جان بوجھ کر ماسک کی مصنوعی قلت پیدا کر دی ہے۔لوگ ماسک کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں مگر فارمیسی اور دکانوں سے انہیں مایوس لوٹنا پڑ رہا ہے۔ سعودی وزارت تجارت نے لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے والے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاون شروع کر دیا ہے۔ ایک تازہ ترین کارروائی کے نتیجے میں حائل کے ایک خفیہ گودام میں ذخیرہ کیے گئے 10 لاکھ سے زائد ماسک برآمد کر لیے گئے ہیں۔العربیہ نیٹ کے مطابق وزارت تجارت کونامعلوم ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ ایک شخص سرجیکل ماسک آن لائن بیچ رہا ہے، تاہم اس نے ماسک کی مصنوعی قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے نرخ بڑھا رکھے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد ملزم کی نشاندہی کر کے اس کے گودام پر چھاپہ مارا گیا تو وہاں سے دس لاکھ سے زائد ماسک برآمد ہوئے، جنہیں ضبط کر لیا گیا اور سعودی ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد سعودی پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔جو ضابطے کی کارروائی کے بعد اسے عدالت میں پیش کر کے مقدمہ چلائے گا۔وزارت تجارت کے مطابق حالیہ کارروائی کے دوران ضبط کیے جانے والے لاکھوں ماسک کو مارکیٹ میں سپلائی کیا جائے گا تاکہ اس وقت ہونے والی قلت پر قابو پایا جا سکے اور عوام کو سستے داموں ماسک دستیاب ہو سکیں۔ وزارت تجارت نے انتباہ کیا ہے کہ جن تاجروں نے زیادہ منافع کمانے کے چکر میں حفاظتی ماسک چھپا رکھے ہیں وہ فوری طور پر اسے مارکیٹ میں لے آئیں، ورنہ ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔وزارت کی جانب سے لوگوں کو بھی تاکید کی گئی ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف وزارت تجارت کی ویب سائٹ پر دیں تاکہ مملکت میں ماسک کی مصنوعی قلت پر قابو پایا جا سکے۔اس وقت سعودی عرب میں ذخیرہ اندوزی کے سبب ماسک کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ 50 ماسک کا پیکٹ جو آ ج سے ایک ماہ پہلے 8 ریال میں فروخت ہو رہا تھا اب وہ 50 ریال میں بھی منت سماجت کے بعد بیچا جا رہا ہے۔

کورونا وائرس؛ جرمنی کے صوبائی وزیر خزانہ کی عوام کی مالی امداد میں ناکامی پر خودکشی

برلن (ویب ڈیسک) جرمنی میں ایک صوبے کے وزیر خزانہ نے کورونا وائرس کے باعث عوام کی مالی امداد میں ناکام رہنے پر خودکشی کرلی۔ جرمنی کے صوبہ ہیسے کے وزیر خزانہ تھوماس شیفر کی لاش ٹرینوں کی پٹری کے پاس سے ملی۔ پولیس کی تحقیقات کے مطابق وزیر خزانہ نے خود کشی کی ہے۔تھوماس شیفر کا تعلق حکمراں جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین ’سی ڈی یو‘ سے تھا اور وہ دس سال سے صوبائی وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز تھے۔54 سالہ تھوماس شیفر کورونا وائرس کے باعث عوام کی مالی امداد کے لیے کافی سرگرم تھے اور انہوں نے حال ہی میں ٹی وی پر حکومتی امدادی پیکج کی تفصیلات سے آگاہ بھی کیا تھا۔ہیسے کے وزیراعلی فولکر بوفیے نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تھوماس شیفر کورونا وائرس کے باعث شدید دباو¿ اور پریشانی کا شکار تھے۔ انہیں اس بات کی شدید پریشانی تھی کہ وہ کیسے عوام کی توقعات پر پورا اتر سکیں گے اور مالی امداد کریں گے، انہیں اس بحران سے نمٹنے کا کوئی حل نہ ملا تو انہوں نے شدید شرمندگی کے احساس سے دوچار ہوکر خودکشی کرلی۔ جرمنی میں کورونا وائرس کے 62 ہزار 435 مریض ہیں اور 541 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔دنیا میں ہلاکتیں 33 ہزار سے زائد۔ادھر دنیا بھر میں مہلک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 33 ہزار 993 جبکہ مریضوں کی تعداد 7 لاکھ 23 ہزار 245 ہوگئی ہے۔ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے 1 لاکھ 51 ہزار افراد صحت یاب ہوکر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔اٹلی میں 10 ہزار 779 افراد کورونا وائرس کے باعث موت کی نیند سوگئے ہیں جبکہ امریکا میں ایک لاکھ 42 ہزار 735 افراد میں اس جان لیوا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

پانچ اپریل سے تمام ائیرپورٹس کھولنے کی بات درست نہیں، معید یوسف

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے واضح کیا ہے کہ5 اپریل سے ائیرپورٹس کھولنے کی بات درست نہیں، چار یا پانچ اپریل سے چند ایئرپورٹ سے آہستہ آہتسہ انٹرنیشنل فلائٹ آپریشن بحال کریں گے، اندرون ملک بھی تمام پروازیں بند ہیں اور بند رہیں گی، دنیا میں کہیں پاکستانی مسافر نہیں پھنسے ہوئے، تھائی لینڈ سے آنے والے تمام مسافر کورونا کلیئر ہیں۔ انہوں نے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پروازوں کی بحالی سے متعلق غور ہو رہا ہے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ یہ بات درست نہیں کہ 4 اپریل کے بعد تمام ایئرپورٹس پر پروازیں بحال ہوجائیں گی۔ 5 اپریل سے ائیرپورٹ کھولنے کی بات درست نہیں۔ اندرون ملک بھی تمام پروازیں بند ہیں اور بند رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافر پھنسے ہوئے نہیں ہیں۔ تھائی لینڈ سے تمام مسافر واپس آچکے ہیں،یہ تمام مسافرکلیئر ہیں۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 99 کورونا کیسز سامنے آئے، ملک میں 24 گھنٹوں میں کورونا کیسز کی تعداد گزشتہ روزسے کم ہیں۔ اسی طرح 5 اموات ہوئیں۔ جس کے ساتھ ملک بھر میں کورونا مریضوں کی تعداد 1625ہوگئی ہے۔ ابھی تک 21 اموات ہوچکی ہیں۔ پاکستان میں32 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ہسپتالوں میں 783 میں سے 773 افراد کی حالت بہترہے جلد صحت یابی متوقع ہے۔ آنے والے دنوں میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح ہسپتالوں میں 10 کی حالت تشویشناک ہے۔ اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ اولین ترجیح میڈیکل ٹیموں کے لیے سامان کی فراہمی ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو5 ہفتوں کیلئے سامان دے دیا گیا ہے۔ سرگودھا کی لیبارٹریزکی ایوی لیوایشن جاری ہے، وہاں بھی ٹیسٹنگ شروع ہوجائے گی۔ سندھ حکومت کو20 ہزار، پنجاب کو5 ہزارٹیسٹنگ کٹس دی گئیں ہیں۔ پاکستان میں کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھا رہے ہیں۔ اگلے تین دن میں 4 سے5 فلائٹس چین جائیں گی۔ بیجنگ سے آنے والے سامان میں 100واک تھرو تھرمل اسکین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ6 اپریل سے پہلے پہلے ایک لاکھ تک حفاظتی کٹس پہنچ جائیں گی۔ 1200 سے 1500 کے درمیان وینٹی لیٹرز ہمارے پاس موجود ہوں گے۔

روس کا کورونا ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ

ماسکو (ویب ڈیسک) روس نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔روس کی فیڈرل بائیو میڈیکل ایجنسی کے پریس مرکز سے شائع کئے گئے بیان کے مطابق کووِڈ۔19 کے علاج میں میفلوکین نامی دوا کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ دوا مختلف شدتوں کے کورونا وائرس کے خاتمے کے لئے مفید ثابت ہو گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ میفلوکین اپنے مضبوط مدافعتی اثرات سے وائرس کے نتیجے میں التہاب اور ورم کے ردعمل کا بھی سدباب کرتی ہے۔

گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی آئی، ڈاکٹر ظفر مرزا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ مقامی سطح پر کورونا وائرس کے29 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے، مقامی لوگوں کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے، کل 1625 کیسز میں 857 ایران سے آنے والے زائرین اور 247 دیگر ممالک سے آئے ہیں۔ انہوں نے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور مشیر معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 99 کورونا کیسز سامنے آئے، ملک میں 24 گھنٹوں میں کورونا کیسز کی تعداد گزشتہ روزسے کم ہیں۔ اسی طرح 5 اموات ہوئیں۔ جس کے ساتھ ملک بھر میں کورونا مریضوں کی تعداد 1625ہوگئی ہے۔ ابھی تک 21اموات ہوچکی ہیں۔ ہسپتالوں میں 783 میں سے 773 افراد کی حالت بہترہے جلد صحت یابی متوقع ہے۔ آنے والے دنوں میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح ہسپتالوں میں 10 کی حالت تشویشناک ہے۔ اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ اولین ترجیح میڈیکل ٹیموں کے لیے سامان کی فراہمی ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو5 ہفتوں کیلئے سامان دے دیا گیا ہے۔ سرگودھا کی لیبارٹریزکی ایوی لیوایشن جاری ہے، وہاں بھی ٹیسٹنگ شروع ہوجائے گی۔ سندھ حکومت کو20 ہزار، پنجاب کو5 ہزارٹیسٹنگ کٹس دی گئیں ہیں۔ پاکستان میں کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھا رہے ہیں۔ اگلے تین دن میں 4 سے5 فلائٹس چین جائیں گی۔ بیجنگ سے آنے والے سامان میں 100واک تھرو تھرمل اسکین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ6 اپریل سے پہلے پہلے ایک لاکھ تک حفاظتی کٹس پہنچ جائیں گی۔ 1200 سے 1500 کے درمیان وینٹی لیٹرز ہمارے پاس موجود ہوں گے۔

زلفی بخاری نے خواجہ آصف کوایک ارب ہرجانے کانوٹس بھیج دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے خواجہ آصف کو 1 ارب روپے کے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا۔ قانونی نوٹس کے ذریعے زلفی بخاری نے خواجہ آصف کو الزامات فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر 30 مارچ کو پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کی جانب سے قانونی نوٹس 2002 ءکے ہتک عزت آرڈیننس کی دفعہ 8 کے تحت بھجوایا گیا ہے جس میں خواجہ آصف سے اعلانیہ معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ زلفی بخاری کی جانب سے خواجہ آصف کو الزامات کی واپسی اور معافی کے لیے 14 روز کی مہلت دی گئی ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق من گھڑت الزامات کے ذریعے خواجہ آصف نے زلفی بخاری کی ساکھ مجروح کی ہے۔ معاون خصوصی زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ خواجہ معافی مانگے یا عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہے۔

مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں سخت، ایک اورکورونا مریض چل بسا

سری نگر / اسلام آباد (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں مزید 13 افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں جس کے ساتھ ہی اب تک سامنے آنے والے کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد بڑھ کر 33 سے تجاوز کر گئی ہے۔وادی میں لاک ڈاون کی پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں مقبوضہ کشمیر کے شمالی ضلع بارہ مولہ میں گمرگ سے تعلق رکھنے والے 62 سالہ شخص کی کورونا وائرس کے باعث ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد وادی میں اس عالمی وبا کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 2 ہوگئی ہے۔مشعال ملک نے کورونا کے باعث لاک ڈاون پر ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ایک لاک ڈاون مقبوضہ کشمیر میں بھی کیا گیا ہے، جہاں بھارتی فوج لاک ڈاون میں کھڑکی پر کھڑے ہونے نہیں دے رہی، کشمیری کھانے لینے باہر نکلے تو انہیں گولیوں سے چھلنی کیا جاتا رہا۔مشعال ملک کا کہنا ہے کہ یہاں حکومت تمام میڈیکل سہولیات فراہم کر رہی ہے، مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کو ادویات تک نہیں فراہم کی جارہی۔ وادی میں قابض فوج کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے۔دوسری جانب پاکستان نے کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر کشمیری قیدیوں کی رہائی اور مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل پابندیوں پر تشویش ہے۔ بھارت فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے پابندیوں کو ختم کرے اور میڈیکل اور دیگر ضروری سامان تک رسائی کی اجازت دے۔ بھارتی حکومت فوری طور پر بھارتی جیلوں سے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کی اجازت دیں۔