عالمی سیاحت میں 30 فیصد کمی، خسارہ 450 ارب ڈالر

جنیوا (ویب ڈیسک) عالمی سیاحت کی تنظیموں نے توقع ظاہر کی ہے کہ کورونا وائرس کے سبب رواں سال 2020 میں دنیا بھر میں سیاحوں کی تعداد میں 20 فیصد سے 30 فیصد تک کی کمی آئے گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی نے ایک بیان میں کہاکہ سیاحتی سیکٹر کی آمدنی میں 300 سے 450 ارب ڈالر کی کمی متوقع ہے۔ یہ رقم سال 2019 میں اس سیکٹر کی مجموعی آمدنی کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔
گذشتہ سال مجموعی آمدنی کا حجم 15 کھرب ڈالر تھا۔ مذکورہ ایجنسی کے سکریٹری جنرل زوراپ بولوکیکاشویلی کے مطابق سیاحت کا شعبہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اقتصادی سیکٹروں میں سے ہے۔ اس شعبے میں لاکھوں افراد کی ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہے۔ایجنسی نے رواں برس کے آغاز پر توقع ظاہر کی تھی کہ عالمی سیاحت کے شعبے میں 3 فیصدسے 4 فیصد کی نمو دیکھی جائے گی۔ تاہم کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا و¿کے سبب ایجنسی نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال اس شعبے میں 1 فیصد سے 3 فیصد تک کمی متوقع ہے۔

زلفی بخاری کے خلاف کوروناوائرس کے پھیلاو کی تحقیقات کی درخواست مسترد

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری کے خلاف کوروناوائرس کے پھیلاو¿کی تحقیقات کی درخواست مسترد کردی۔ وفاقی حکومت کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف ملا ہے۔ عدالت نے کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کے اسباب جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست مسترد کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مفاد عامہ کے تحت وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کے خلاف بھی درخواست مسترد کردی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس وقت ملک کو بڑے بحران کا سامنا ہے، اختلافات بھلا کر اکٹھے ہو کر یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے، آپس میں تقسیم نہ آپ اور نہ اس عدالت کے مفاد میں ہے، اس وقت اتفاق اور اتحاد قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ سول سوسائٹی نے اپنی درخواست میں تفتان بارڈر سے زائرین کی آمد میں حکومتی نااہلی اور زلفی بخاری کے کردار کی تحقیقات کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر وفاق اور زلفی بخاری سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا تھا۔ درخواست گزار نے کیس کے التوا کی بھی استدعا کی تاہم تمام درخواستیں مسترد کردی گئیں۔

کورونا وائرس: 12 سو ارب روپے کے وزیراعظم معاشی پیکیج کی منظوری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وائرس کے تناظر میں عوام کو ریلیف دینے کےلیے 12 سو ارب روپے کا وزیراعظم معاشی پیکیج منظور کرلیا۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم معاشی ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی گئی۔ کمیٹی نے کورونا وائرس کے پیش نظر 12 سو ارب روپے سے زائد کا معاشی پیکیج منظور کرلیا جس میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کیلئے 200 ارب روپے رکھے گئے ہیں، برآمدی شعبے اور صنعتوں کیلئے 100 ارب روپے جبکہ زراعت اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کیلئے 100ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ معاشی پیکیج میں یوٹیلیٹی اسٹورز کیلئے 50ارب روپے، سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کیلئے 280ارب روپے، ایک کروڑ 20 لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے 100 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں۔ ای سی سی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف کیلئے 70ارب روپے کی منظوری دے دی، بجلی اور گیس بلوں میں ریلیف کیلئے 110ارب روپے فراہم کئے جائیں گے، ہنگامی فنڈز کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے گئے، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو 25ارب روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے20 لاکھ ڈالرکی امداد منظور کرلی

لاہور (ویب ڈیسک) ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے20 لاکھ ڈالر کی امداد منظور کرلی، پاکستان کو مالی امداد کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے دی جا رہی ہے، اےڈی بی نے پاکستان کو کورونا وائرس کی مد میں 5 کروڑ ڈالر امداد جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعلامیہ کے مطابق اے ڈی بی دنیا بھر کے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مالی امداد دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اے ڈی بی نے پاکستان کو5 کروڑ ڈالر امداد جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے20 لاکھ ڈالر کی امداد کی منظوری دے دی ہے۔ امداد این ڈی ایم اے کے ذریعے خرچ کی جائے گی۔ واضح رہے عالمی بینک بھی پاکستان کو کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر امداد دے گا۔ اسی طرح امریکا نے بھی پاکستان کو کورونا وائرس سے نمٹنے والے امداد کے حقدار ممالک کی ترجیحی لسٹ میں شامل کرلیا ہے، امریکا نے کورونا سے متاثرہ بین الاقوامی کمیونٹی کیلئے 274 ملین ڈالر کا فنڈ قائم کیا ہے، کورونا ریلیف فنڈ لینے والے ممالک میں پاکستان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر پال جونز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکا کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ کورونا کیخلاف ہنگامی امداد کیلئے پاکستان کو ترجیحی ملک میں رکھا ہے۔ کورونا وائرس پاکستان میں پاکستانی شہریوں سمیت امریکی شہریوں کو بھی متاثر کررہا ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا لیب اور کورونا وائرس کی نشاندہی کیلئے1ملین ڈالرکے نئے فنڈز فراہم کرے گا۔ خیبرپختونخوا میں صحت حکام کو 13 جدید ایمبولینسیں بھی فراہم کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت کو جیکب آباد انسٹیٹیوٹ میڈیکل سائنسز کے قیام کیلئے 18ملین ڈالرفراہم کیے گئے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا اور پاکستان عالمی سطح پر صحت سے متعلق چیلنجزسے نمٹنے کیلئے دیرینہ شراکت دار ہیں۔

کرونا سے متاثرہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں معاشی مشکلات کا سامنا ہے ، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کووڈ۔ 19 دنیا بھر کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے، پاکستان اوردیگر ترقی پذیر ممالک کو اس چیلنج سے نمٹنے میں شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولین فریڈرک مارکوم ہارنیس سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے پیر کو وزارت خارجہ میں ان سے ملاقات کی۔ بات چیت کے دوران کورونا وائرس کی عالمی وبا کے چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے تبادلہءخیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کووڈ۔ 19 دنیا بھر کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو اس عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے میں شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان، اپنے محدود وسائل کے ساتھ اس وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات اٹھا رہا ہے۔ جولین فریڈرک نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی تیاری میں بھرپور معاونت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ حکمت عملی کا مقصد اس وبا کے مقابلے کے لئے عالمی برادری سے مالی معاونت کا حصول اور اس پر عملدرآمد کی موثر نگرانی کرنا ہے۔ حکمت عملی کے ذریعے عوامی سطح پر کورونا کی وبا سے نمٹنے کی تیاری اور اس پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

امریکی ڈاکٹر نے کورونا کے 699 مریضوں کا کامیاب علاج کر لیا

نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی ڈاکٹر نے کورونا کے 699 مریضوں کا کامیاب علاج کر لیا۔تفصیلات کے مطابق نیویارک میں بورڈ سے تصدیق شدہ فیملی پریکٹیشنر ڈاکٹر ولادیمیر زیلینکو نے کورونا وائرس کے سیکڑوں مریضوں کا کامیاب علاج کیا،ڈاکٹر ولایمیر نے مریضوں کے علاج کے لیے ہائیڈروکسائکلوروکین hydroxychloroquine کو ایزیتومائکسن (زی-پاک) (azithromycin Z-Pak) اور زنک سلفیٹ کے ساتھ ملا کر دیا ،ڈاکٹر کا کہنا تھا یہ دوائی دینے کے چار سے چھ گھنٹے کے بعد انہوں نے مریضوں میں سانس کے مسئلے میں بہتری آنے کی علامات محسوس کیں۔ ڈاکٹر ولادیمیر زیلینکو نے اسی دوا کے ساتھ نیویارک میں 699 کوویڈ 19 مریضوں کا کامیابی کے ساتھ علاج کر لیا ہے۔انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 699 مریضوں کا علاج کیا جن میں سے کسی کی بھی موت واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی کی طبیعت مزید بگڑی۔ جب کہ چار مریض زیر علاج ہیں۔ڈاکٹر ولادیمیر کے مطابق اس دوا پر 20 امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ جب کے مریض پانچ دن میں 100 فیصد صحتیاب ہو جاتا ہے۔انہوں نے اس بات کو اپنی کامیابی قرار دے دیا کی اس علاج کے دوران کوئی بھی موت واقع نہیں ہوئی۔ڈاکٹر نے اپنے ویڈیو پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ عوام کو بھی یہی دوا لینے کی نصیحت کریں۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے مطالعے نے بھی ڈاکٹر ولادمیر زیلینکو کے کچھ نتائج کی تصدیق ہے۔ مطالعے نے ثابت کیا کہ ڈاکٹر ولادمیر کی دوا سے وہ بچے جنہیں سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے، ان کی سانس کی نالی کے انفیکشن میں بہتری آئی ہے۔ خیال رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅکے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں متعدد شہروں میں لاک ڈاﺅن کا سلسلہ جاری ہے اس وقت تین ارب سے زیاہ انسان طبّی قید میں پڑے ہوئے ہیں وائرس کے پھیلاﺅ کے اندیشے کے سبب دنیا کے بڑے شہروں میں کرفیو کی پابندی دیکھنے میں آ رہی ہے.دنیا بھر میں ملکوں کی ایک بڑی تعداد نے قرنطینہ سے متعلق اقدامات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور اندرون و بیرون ملک پروازوں کا سلسلہ روک دیا ہے دنیا کے ایسے شہروں میں بھی خاموشی چھائی ہوئی ہے جہاں کی آبادی نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ان کے شہر میں آمد و رفت اور نقل و حرکت مفلوج ہو جائے گی.امریکا کے شہر نیویارک میں مشہور ٹائمز اسکوائر پر آج صبح کوئی پیدل چلنے والا نظر نہیں آیا اس دوران صرف ایمبولینس کی گاڑیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ریاست نیویارک میں اتوار کی شام اعلان کیا گیا کہ اب تک کورونا وائرس کے تقریبا 60 ہزار کیسوں کا اندراج ہو چکا ہے جب کہ 695 افراد موت کی نیند سوچکے ہیں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست میں 237 افراد دنیا سے رخصت ہو گئے۔

کورونا سے نکلتے ہی کئی اہم شخصیات کے عہدوں کا فیصلہ ہو گا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) کورونا سے نکلتے ہی کئی اہم شخصیات کے عہدوں کا فیصلہ ہو گا ،سینئر صحافی عمران یعقوب کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد صورت حال بہتر ہوتے ہیں کئی اہم شخصیات کے عہدوں کو خطرات لاحق ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی عمران یعقوب کا کا کہنا ہے کہ صورت حال بہتر ہوتے ہی دو صوبوں کی اہم شخصیات اور مرکز میں بیٹھے دو اہم لوگ جن میں سے ایک وزیراعظم عمران خان کے مشیر ہیں، کو کافی خطرات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاور کوریڈور میں اچھے کی رپورٹ نہیں ہے۔وہ حلقے بھی حکومت کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دو سے چار ہفتوں بعد جب صورت حال بہتر ہوگی تو تو کافی تبدیلیاں نظر آئیں گے۔جس میں ایکشن نظر آئین گے اور ان کے ری ایکشن بھی سامنے آئیں گے ،حکومتی ایوانوں میں بھی ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ ایران سے زائرین کو پاکستان لائے۔ اس حوالے سے درخواست بھی عدالت میں جمع کروائی گئی۔تاہم سلام آباد ہائی کورٹ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام اور زلفی بخاری کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔وزارت برائے اوورسیز پاکستانیز کے مطابق عدالت نے تفتان سے آئے ہوئے پاکستانی زائرین کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران حکومتی وکیل نے کہا کہ 23 مارچ کو آرٹیکل 245 لگ چکا ہے لہٰذا عدالت کے پاس آرٹیکل 199 لگانے کا اختیار نہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے لاگو ہونے کے بعد عدالت کے پاس آرٹیکل 199 کے تحت جوڈیشل کمیشن بنانے کا اختیار نہیں اور یہ وقت الزامات کا نہیں بلکہ کام کرنے کا ہے۔

وبائی امراض کا پھیلاﺅ روکنے کاآرڈنینس نافداجتماعات،پابندی کی خلاف ورزی پر جرمانے، سزا ہوگی عثمان بزدار

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وبائی امراض سے تحفظ اور پھیلا روکنے کے آرڈیننس کا صوبہ بھر میں نفاذ ہوگیا ہے، عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ یہ ایک مشکل وقت ہے، ہمیں مشکل فیصلے لینا ہوں گے، کرونا اور اس جیسی وبا سے عوام کو بچانے کے لئے آرڈیننس میں اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے ٹویٹ میں کہا کہ ایمرجنسی حالات اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ آرڈیننس جاری کیا گیا ہے، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے آرڈیننس کے اہم نکات بھی ٹویٹ کر دیئے، آرڈیننس کے مطابق وبا کے پھیلا کی صورت میں تمام غیر سرکاری ڈاکٹرز اور پرائیویٹ ہسپتالوں کو وبائی امراض کے مریضوں کو سنبھالنے اور انکا علاج کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے، حکومت کسی بھی طرح کی پابندی کہیں بھی لاگو کرسکتی ہے، لوگوں پر اپنے بچوں کو سکولز یا اجتماعات میں بھیجنے کی پابندی عائد کرسکتی ہے، جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کو سنبھالنے، تدفین اور منتقلی سے متعلق پابندیاں لگانے کا اختیار ہوگا، مختلف تہواروں، اجتماعات، گروہوں اور لوگوں پر کسی بھی کے اکٹھ پر پابندی لگانے کا اختیار ہوگا۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ وبائی امراض سے تحفظ اور پھیلا روکنے کے آرڈیننس کا صوبہ بھر میں نفاذ ہوگیا ہے، یہ ایک مشکل وقت ہے، ہمیں مشکل فیصلے لینا ہوں گے، کرونا اور اس جیسی وبا سے عوام کو بچانے کے لئے آرڈیننس میں اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے ٹویٹ میں کہا کہ ایمرجنسی حالات اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ آرڈیننس جاری کیا گیا ہے، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے آرڈیننس کے اہم نکات بھی ٹویٹ کر دیئے، آرڈیننس کے مطابق وبا کے پھیلا ﺅ کی صورت میں تمام غیر سرکاری ڈاکٹرز اور پرائیویٹ ہسپتالوں کو وبائی امراض کے مریضوں کو سنبھالنے اور انکا علاج کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے، حکومت کسی بھی طرح کی پابندی کہیں بھی لاگو کرسکتی ہے، لوگوں پر اپنے بچوں کو سکولز یا اجتماعات میں بھیجنے کی پابندی عائد کرسکتی ہے، جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کو سنبھالنے، تدفین اور منتقلی سے متعلق پابندیاں لگانے کا اختیار ہوگا، مختلف تہواروں، اجتماعات، گروہوں اور لوگوں پر کسی بھی کے اکٹھ پر پابندی لگانے کا اختیار ہوگا۔آرڈیننس کے تحت حکومت کو کسی بھی جگہ کو بند کرنے، سیل کرنے داخل ہونے یا باہر نکلنے پر پابندی کا اختیار ہوگا، ڈپٹی کمشنر کے پاس مخصوص مدت کے لیے مخصوص علاقوں پر کسی بھی آمد و رفت کی پابندی لگانے کا اختیار ہوگا، کسی بھی بیمار یا بیماری پھیلانے والے شخص کی مخصوص جگہوں پر منتقلی اور وہاں رکھے جانے کا اختیارہوگا۔عوام الناس کی کسی وقت کسی بھی جگہ سکریننگ کا اختیار ہوگا، ہر شخص کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ کسی بھی بیمار کو جانتا ہو تو سرٹیفائیڈ میڈیکل آفیسر کو اطلاع دے، عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں سزائیں اور جرمانے عائد ہوں گے۔آرڈیننس کے مطابق کسی ایک شق کی خلاف ورزی پر دو ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ ہوگا، ایک سے زائد کی خلاف ورزی پر 6 ماہ قید 1 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا، کسی ادارے کی جانب سے خلاف ورزی پر پہلی دفعہ 2 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا، ایک سے زائد مرتبہ خلاف ورزی پر 3 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوگا، قرنطینہ سنٹر یا علاج کی جگہ سے فرار کی صورت میں سزا اور جرمانہ ہوگا، پہلی دفعہ فرار یا کوشش کی صورت میں 6 ماہ قید 50,000 جرمانہ ہوگا، دوبارہ ایسی کوشش کی صورت میں 18 ماہ قید 1 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔

حکومتی ریلیف پیکیج مستحق افراد کے گھرو ں میں پہنچانے کا فیصلہ زخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی: عمران خان

اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومتی ریلیف پیکج کو مستحق افراد تک پہنچانے کیلئے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو خصوصی ٹاسک سونپا جائے گا ، ہزاروں پارٹی عہدیداروں کو کورونا ریلیف ٹائیگرز پروگرام میں شامل کیا جائے گا،وزیر اعظم (آج)پیر کو قوم سے خطاب کریں گے اور قوم کے سامنے جامع روڈ میپ رکھیں گئے۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گھبراہٹ میں کئے جانے والے فیصلے درست نہیں ہوتے،جو بھی حکمت عملی بنارہے ہیں اس میں دیہاڑی دار مزدور پہلی ترجیح ہے،ذخیرہ اندوز کسی نرمی کے مستحق نہیں، صوبائی حکومتیں ان کے خلاف سخت ایکشن لیں۔اتوارکووزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال اور ملک میں اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل فراہمی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جب کہ صوبوں میں کورونا سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں حکومتی ریلیف پیکج کو مستحق افراد تک پہنچانے کیلئے رضاکار فورس کی حکمت عملی طے پا گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو خصوصی ٹاسک سونپا جائے گا اور ہزاروں پارٹی عہدیداروں کو کورونا ریلیف ٹائیگرز پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ہر شہری کو کردار ادا کرنا ہوگا، مجھے یقین ہے قوم متحد ہوکر اس آزمائش کا مقابلہ کرے گی، محدود وسائل کے باوجود ہر سرکاری ادارہ بہترین کام کررہا ہے، جو بھی حکمت عملی بنا رہے ہیں اس میں دیہاڑی دار مزدور پہلی ترجیح ہے، ہنگامی حالات میں تمام وسائل قوم پر لگائیں گے۔وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوز کسی نرمی کے مستحق نہیں، صوبائی حکومتیں ان کے خلاف سخت ایکشن لیں۔ وزیراعظم نے شاہراہوں پر گڈز ٹرانسپورٹ بحال رکھنے سے متعلق وفاقی وزیر مراد سعید کو ٹاسک سونپتے ہوئے کہا کہ فوڈ چین میں کسی صورت رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ (آج)پیر کو قوم کے سامنے جامع روڈ میپ رکھوں گا، مشکل وقت میں لیڈر شپ کا امتحان ہوتا ہے، گھبراہٹ میں کئے جانے والے فیصلے درست نہیں ہوتے۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے پارٹی کی لیڈرشپ کو کورونا وائرس کی صورتحال سے آگاہ کیا،اس وقت پاکستان ایک مشکل مرحلے سے گز ر رہا ہے،کورونا وائرس سے حکومت اکیلے مقابلہ نہیں کرسکتی،کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے عوام کا متحد ہونا بھی ضروری ہے،کورونا وائرس کے خلاف بھر پور اقدامات کر رہے ہیں،کورونا وائرس کا واحد علاج احتیاط ہے،کورونا وائرس معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے عام اشیا کی ترسیل متاثر ہور ہی ہے،وزیراعظم نے متاثرین کے گھروں تک کھانا پہنچانے کے عزم کو دہرایا،وزیراعظم نے اس اہم قومی ذمہ داری کیلئے نوجوانوں کا انتخاب کیا ہے،وزیراعظم نے کورونا چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نوجوا نوں کو اپنا دست بازو بنانے کا فیصلہ کیا،وزیراعظم غریب متاثرین کیلئے خوراک کی فراہمی کے منصوبے کا اعلان کرینگے۔معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ ملک میں غذائی اجناس کی کوئی قلت نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ راشن کیلئے 10 ارب کا فنڈ مختص کیا جا چکا ہے،25لاکھ افراد کو راشن کیلئے امدادی رقم دی جائے گی،بی آئی ایس پی سے رقم حاصل کرنے والے افراد اس کے اہل نہیں ہو ں گے،پنجاب میں 8 لیبارٹریز روزانہ 3200 ٹیسٹ کریں گی،فرائض کی انجام دہی کے دوران اگر کوئی ڈاکٹر شہید ہوتا ہے تواس کو شہید کے برابرپیکج دیا جائیگا،کے پی کے حکومت نے 11 ارب 40 کروڑ روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔