شارجہ کی معروف مارکیٹس کے دُکانداروں کو انتہائی اچھی خبر سُنا دی گئی

شارجہ(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار ب±رے حالات کا شکار ہیں جس کے باعث متوسط طبقہ اور کارکنان بہت پریشانی کا شکار ہیں، جن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی گنتی شامل ہے۔ ایسے وقت میں حکومت اور نجی شعبے کی جانب سے کئی اہم رعایتوں کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ اماراتی حکومت کے زیر انتظام ادارے شارجہ ایسیٹ مینجمنٹ کی جانب سے بڑا اعلان کیا گیا ہے، جس کے مطابق ہزاروں دکانداروں کو کرایہ کی مد میں شاندار رعایت دے دی گئی ہے۔ادارے کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ہراج اور جبیل مارکیٹس کے دکانداروں کو اگلے تین ماہ کا کرایہ معاف کیا جا رہا ہے، تاکہ خراب معاشی صورت حال کے باعث وہ مزید پریشانی سے بچ سکیں۔ اس سے قبل الفتیم گروپ کی جانب سے بھی اپنے شاپنگ مال میں موجود تمام دکانداروں کو خوش خبری س±نائی گئی تھی کہ جب تک کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، دکانداروں سے کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ چند روز قبل د±بئی کے معروف تعمیراتی گروپ میراث اور عالمی سرمایہ کار کمپنی دبئی ہولڈنگ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ریٹیل اور مقامی کلائنٹس کو ایک خصوصی پیکیج کے ذریعے 1 ارب درہم کی مالی مدد فراہم کریں گے۔ یہ ریلیف پیکیج دبئی ہولڈنگ اور میراث ایکو سسٹم کے ساتھ منسلک کمپنیوں اور افراد کی مدد کے لیے دیا جا رہا ہے تاکہ کورونا وائرس کے باعث خراب معاشی صورت حال کا نشانہ بننے والوں کی مدد ہو سکے۔دبئی ہولڈنگ اور میراث کے چیئرمین شیخ احمد بن سعید المکتوم نے اس حوالے سے بتایا کہ ہم نے دبئی ہولڈنگ اور میراث کی انتظامیہ کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ان کمپنیوں اور افراد کی مالی معاونت کریں جو کرونا وائرس کے باعث معاشی طور پر برے وقت سے گزر رہے ہیں۔ کیونکہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ وباءکے باعث پیش آنے والی مشکل صورت حال میں اپنے ان شراکت داروں کے ساتھ کھڑے ہونا ہماری معاشی اور سماجی ذمہ داری ہے۔
اس مقصد کے لیے دبئی ہولڈنگ اور میراث دونوں کمپنیوں میں الگ الگ ٹاسک فورسز بنا دی گئی ہیں، جو ہر کیس کو سامنے رکھ کر اس سے متعلق منصوبہ تیار کریں گی جس کے بعد متعلقہ کمپنیوں اور افراد کو مناسب مالی مدد اور معاونت فراہم کی جائے گی۔ دبئی ہولڈنگ کے زیر انتظام تجارتی اداروں میں جمیرہ گروپ ، دبئی پراپرٹیز، ٹیکام گروپ دبئی ایسیٹ مینجمنٹ، دبئی اینڈ عرب میڈیا گروپ شامل ہیں۔
جبکہ میراث ریئل اسٹیٹ، سیاحت، ہوٹلنگ، ایف اینڈ بی، ریٹیل، انٹرٹینمنٹ، ٹیکنالوجی، بحری اور ہیلتھ کیئر کے سیکٹرز میں درجنوں کمپنیوں کا مالک گروپ ہے۔ میراث گروپ 8 کروڑ مربع فٹ کی ڈویلپڈ زمین، پانچ ہزار سے زائد گھروں، 1400 ریٹیل یونٹس اور 15 اہم ترین تفریحی مقام کا مالک ہے جن میں باکس پارک، ال سیف، بلیو واٹرز، سٹی واک، دبئی ہاربر، جمیرہ بے، کائٹ بیچ، لا میر، لاسٹ ایگزٹ، پرل جمیرہ، دی بیچ اور آوٹ لیٹ ولیج شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے طبی قانون میں ترمیم

ابوظہبی(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پرانے قانون میں ترمیم کر کے اس میں کورونا کو بھی شامل کر لیا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کورونا وائرس میں مبتلا شخص اپنی بیماری چھپائے تو اسے قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانہ بھی عائد ہو گا۔ وزارت انصاف کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ متعدی امراض سے متعلق وفاقی قانون کے 2014ء کے قانون نمبر 14میں کرونا کی بیماری کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جس کا مقصد عوام کی صحت کا تحفظ اور کورونا سے نمٹنے کی خاطر حکومت کی کوششوں کو مستحکم بنانا ہے۔
وزرات انصاف کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ قانون کے تحت کورونا کی بیماری چھپانے والے یا اس کے دانستہ پھیلاو کا سبب بننے والے افراد کو قید یا 10 ہزار درہم جرمانے کا سامنا کرنا ہو گا، بعض صورتوں میں یہ دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔اگر کوئی ڈاکٹر، فارمسسٹ، فارمیسی ٹیکنیشن اور میڈیکل پریکٹیشنر بھی کرونا سمیت دیگر وبائی امراض کے شکار افراد کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ نہیں کرتا، یا اس کی ان امراض سے موت سے متعلق حقائق سامنے نہیں لاتا تو ایسے پیشہ ور افراد کو بھی سزا بھ±گتنا ہو گی۔اس قانون کا اطلاق کسی متاثرہ شخص کے ساتھی کارکنوں، بحری جہاز، ہوائی جہاز اور کسی دیگر ٹرانسپورٹ کے انچارج پر بھی ہو گا۔ اگر یہ لوگ اپنے زیر انتظام کسی بھی ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے کورونا کے کسی مشتبہ مریض کے بارے میں جانتے ہیں تو انہیں بھی متعلقہ حکام کو آگاہ کرنا ہو گا۔ خلاف ورزی کرنے کی صورت میں جیل جانا ہو گا یا پھر کم از دس ہزار درہم اور زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار درہم کا جرمانہ ہو گا یا دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکیں گی۔اسی طرح جو لوگ کورونا میں مبتلا ہونے کے باوجود کسی ہسپتال یا صحت مرکز کا رخ نہیں کریں گے، انہیں بھی سزا ہو گی۔ جوفرد اپنے کورونا میں مبتلا ہونے کے مرض کے بارے میں جاننے کے باوجود لوگوں سے میل جول جاری رکھے گا، اسے کم از کم پانچ سال قید اور کم از کم پچاس ہزاردرہم کا جرمانہ کیا جائے گا۔

امریکا نے افغان حکومت کی ایک ارب ڈالر امداد کم کردی

کابل(ویب ڈیسک) امریکا نے افغانستان میں صدر اشرف غنی اور حریف رہنما عبداللہ عبداللہ کے درمیان حکومت سازی میں عدم اتفاق اور امن معاہدے کی پاسداری میں تاخیر پر کابل حکومت کے لیے مختص امدادی رقم میں سے ایک ارب ڈالر کی کٹوتی کردی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو غیر متوقع اور غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچے جہاں صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور دونوں رہنماوں کے درمیان متوازی حکومت کی تشکیل اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کیلیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔ صدر اشرف غنی اور حریف رہنما عبداللہ عبداللہ نے مشترکہ حکومت سازی سے معذرت کرلی اور دونوں رہنما کسی ایک نکتے پر متفق نہیں ہوسکے جس کے بعد یہ اہم ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی جب کہ مائیک پومپیو کی دونوں رہنماوں کو امداد بند کرنے کی دھمکی بھی کارگر ثابت نہ ہوسکی۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بے سود ملاقات کے بعد کہا کہ افغان قائدین کا رویہ مایوس کن رہا، امن بحالی کے لیے ہزاروں اہلکاروں نے اپنی جان کے نذارانے پیش کیے لیکن افغان قائدین کی غیر سنجیدگی سے یہ قربانیاں رائیگاں جائیں گی اور اس طرح امریکا اور افغانستان کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔وزیر خارجہ مائیک پومپیو کابل سے دوحہ پہنچے جہاں انہوں نے افغان طالبان کے ڈپٹی لیڈر ملا برادر سے بھی ملاقات کی اور افانستان میں امن معاہدے کی پاسداری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے کے ثمرات جلد از جلد افغان عوام تک پہنچنے چاہیئے۔مائیک پومپیو کے دورے کے بعد وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان قائدین کی غیر سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے امریکا نے افغانستان کے لیے امدادی رقم میں سے ایک ارب ڈالر کی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے اور اگر افغان قائدین نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو امداد مکمل طور پر بھی بند کی جاسکتی ہے۔قبل ازیں 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ میں امن معاہدہ پایا تھا تاہم افغان صدر نے انٹرا افغان مذاکرات سے مشروط کرتے ہوئے طالباب اسیروں کی رہائی کو ملتوی کردیا تھا جب کہ طالبان بھی افغان سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ افغانستان میں سیاسی بحران کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے، اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے صدارتی انتخاب میں اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک ہی دن الگ الگ تقریب میں صدارتی حلف اٹھایا تھا۔

امریکا میں کورونا سے بچاؤ کیلیے ملیریا کی دوا کھانے والا شخص ہلاک

ایری زونا(ویب ڈیسک) صدر ٹرمپ کی جانب سے ملیریا کی دوا کلورو کوئین فاسفیٹ کے کورونا وائرس کے علاج میں بہترین ثابت ہونے کے دعوے پر امریکی جوڑے نے یہ دوا استعمال کرلی جس کے نتیجے میں شوہر ہلاک ہوگیا جب کہ اہلیہ تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔ امریکی ریاست ایری زونا کے شہر فینکس کے ایک جوڑے نے خود کو کورونا سے بچانے کے لیے ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی معروف دوا کلوروکوئین فاسفیٹ کا بے جا اور مسلسل استعمال کیا۔کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ملیریا کی دوا مسلسل لینے کی وجہ سے جوڑے کو حالت بگڑ گئی اور دونوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا جہاں شوہر کی موت کی تصدیق کر دی گئی ہے جب کہ اہلیہ نازک حالت میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرعلاج ہیں۔چند روز قبل امریکی صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں ملیریا کے لیے استعمال ہونے والی دوا کلورو کوئین فاسفیٹ کے کورونا وائرس کے علاج میں بہترین دوا ثابت ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد دنیا بھر میں اس دوا کی طلب میں اضافہ ہوا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تاحال کلورو کوئین فاسفیٹ کو تاحال کورونا کے علاج کے لیے تجویز نہیں کیا ہے جب کہ ماہرین نے بھی اس دوا کو ڈاکٹر کے مشورے بغیر استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مقبوضہ کشمیر ؛ سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ 8 ماہ کی جبری نظربندی کے بعد رہا

سری نگر(ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے جبری طور پر نظر بند کیئے گئے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو 8 ماہ بعد رہا کردیا گیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر اور سیاست داں عمر عبداللہ کو 8 ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا کردیا گیا۔ عمر عبداللہ کو دیگر سیاسی رہنماوں کے ہمراہ 5 اگست 2019 کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو میں مطالبہ کہ بھارتی جیلوں میں غیر آئینی طور پر قید دیگر سیاسی رہنماوں اور کارکنان کو بھی رہا کیا جائے اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کو واپس لیکر کشمیر کی سابق حیثیت کو بحال کیا جائے۔سیاسی رہنما عمر عبداللہ کے والد فارق عبداللہ کو بھی چند روز قبل رہا کردیا گیا تھا جس کے بعد عمر عبداللہ کی رہائی کی بھی امید کی جارہی تھی۔ اب بھی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت کئی سیاسی رہنما جبری طور پر نظر بند جب کہ حریت رہنما جیلوں میں قید ہیں۔ مودی سرکار نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو آئین میں حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کر کے وادی کو وفاق کے ماتحت دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا اور شدید عوامی ردعمل کے پیش نظر حریت رہنماوں سمیت اپنے ہی نور نظر قیادت فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی گھروں میں نظر بند کردیا تھا۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا دنیا بھر میں جنگ بندی کا مطالبہ

نیویارک(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس نے دنیا بھر میں جنگ بندی کا مطالبہ کردیا۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کورونا وائرس کی وبا کا دنیا کو سامنا ہے، وقت آگیا ہے کہ جنگ و جدل کو چھوڑیں اور بیماری کا مقابلہ کریں گے جس سے ہماری دنیا گزر رہی ہے۔انتونیو گوئٹرس نے کہا کہ دنیا بھر میں لڑائیاں بند کی جائیں، بنی نوع انسان کو امن کی اب کہیں زیادہ ضرورت ہے، کورونا وائرس کا غصہ جنگ کی حماقت کو بیان کر رہا ہے، کورونا وائرس قومیت یا نسل، گروہ یا عقیدہ نہیں دیکھتا، یہ بلا مبالغہ سب پر حملہ آور ہےسیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کورونا وائرس کی لپیٹ میں آنے کے باوجود دنیا بھر میں مسلح تنازعات جاری ہیں، ان تنازعات کی سب سے کمزور سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، اسی لئے میں فوری جنگ بندی کا پھر مطالبہ کر رہا ہوں۔

عالمی وباءکیخلاف سیاسی قیادت ایک، آل پارٹیز ویڈیو کانفرس پر اتفاق

لاہور (خبرنگار) کوروناوائرس کی وجہ سے درپیش صورتحال بارے اعلیٰ سیاسی قیادت کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے ،بلاول بھٹو نے شہباز شریف ،مولانا فضل الرحمان ،چوہدری پرویز الٰہی ،ایمل ولی اور سردار اختر مینگل سمیت دیگر سے رابطے کئے جس میں ویڈیو لنک آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنا صرف حکومت کے بس کی بات نہیں ، تمام سیاسی جماعتوں ،اداروں اور عوام کو یکجا ہونا پڑے گا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف او رپیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماﺅں نے کورونا وائرس وبا سے مقابلے کےلئے قومی یکجہتی پر اتفاق کیا ۔دونوں رہنماﺅں نے ویڈیولنک آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تجویز کو وقت کا تقاضہ قراردیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اے پی سی آج ہی ہونی چاہیے ۔شہباز شریف نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے وزیراعلی مراد علی شاہ اور سندھ حکومت کے اقدامات کی تعریف کی اور کورونا سے نمٹنے کےلئے بروقت فیصلوں پر بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کے قائدین کو سراہا ۔بلاول بھٹو زرداری اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ کورونا وائرس کا مقابلہ تنہا حکومت کے بس کی بات نہیں ،تمام سیاسی جماعتوں ،اداروں اور عوام کو یکجا ہونا پڑے گا۔چوہدری پرویز الٰہی نے اے پی سی کی تجویز کی حمایت کی ۔بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے بھی ٹیلوفونک رابطہ کیا اوراس عز م کا اظہا رکیا گیا کہ تمام سیاسی رہنما مل کر اس آفت کا مقابلہ کریں گے ،وڈیو لنک اے پی سی بہت ضروری ہے تاکہ پوری قوم یکجا ہو۔بلاول بھٹو اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل کے درمیان بھی ٹیلوفونک رابطہ ہوا جس میںکہا گیا کہ عوام کو کورونا وائرس سے بچانے کے لئے اتحاد کی ضرورت ہے،اے پی سی کی تجویز وقت کاتقاضا ہے۔ایمل ولی خان اور آفتاب شیرپا ﺅ نے بھی ٹیلیفونک رابطے میں موجودہ صورتحال میں آل پارٹیزوڈیوکانفرنس بلانے کی حمایت کی ۔بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دیگر رہنماﺅں نے شہبازشریف کے وطن واپسی کے اقدام کو سراہا ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا، کورونا وائرس سے بچا ﺅکے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل ضروری ہے۔مسلم لیگ(ن) کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے کورونا وائرس کی وجہ سے درپیش صورتحال پر تمام سیاسی جماعتوں کی وڈیو کانفرنس پر مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ مریم اورنگزیب کے مطابق شہبازشریف کی مشاورت کا مقصد درپیش صورتحال میں حکمت عملی کی تیاری ہے۔یادرہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کے روز ویڈیو لنک اے پی سی کی تجویز پیش کی تھی۔

بھارت میں کرونا سے 30کروڑ افراد متاثر ہوسکتے ہیں:ڈاکٹر لکشمی

نئی دہلی(نیٹ نیوز) بھارت کے سینٹر فار ڈیزیز ڈائینیمکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رامانن لکشمی ناراین نے خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میںکورونا وائرس سے 30 کروڑ افراد متاثر ہو سکتے ہیں ،ہمیں کورونا وائرس کی سونامی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ غیرملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کے کیسز بہت تیزی سے اضافہ ہوگا۔انھوں نے بتایا کہ ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ بھارت میں اس کا اثر باقی دنیا سے کم ہو گا۔ڈاکٹر رامانن نے بتایا ہو سکتا ہے باقی ممالک کے مقابلے میں ہم تھوڑا پیچھے چل رہے ہوں لیکن سپین اور چین میں جیسے حالات رہے ہیں، جتنی بڑی تعداد میں وہاں لوگ اس وائرس کی زد میں آئے ہیں، ویسے ہی حالات بھارت میں بھی پیدا ہوں گے اور چند ہفتوں میں ہمیں کورونا وائرس کی سونامی کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت میں زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کئے جاتے تو ممکنہ طور پر اور زیادہ کیسز سامنے آتے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں جب ٹیسٹ بڑھیں گے تو مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔ یہ تعداد اگلے دو تین دنوں میں ہزار سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایسے وائر س کا پھیلنا بہت آسان ہے، اس کی وجہ یہاں کی گنجان آبادی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ میں 50 سے 60 فیصد افراد اس وائرس سے متاثر ہوں گے۔ا نہوں نے کہا کہ بھارت میں کم از کم 20 فیصد آبادی کورونا وائرس سے متاثر ہو گی، جس کا مطلب 30 کروڑ افراد ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر پانچ میں سے ایک شخص وائرس سے بری طرح متاثر ہو گا یعنی چالیس سے پچاس فیصد افراد سنجیدہ حالت میں ہوں گے اور انھیں ہسپتال میں داخل کروانے کی ضرورت پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں کل 70 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان آئی سی یو بیڈز ہیں،آبادی کے اعتبار سے یہ بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حالات پر قابو پانے کے لیے تین ہفتے کا وقت ہے، ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں سے سامنے سونامی کو آتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اگر ہم وقت رہتے خبردار نہیں ہوئے تو سونامی میں ختم ہو جائیں گے۔

صدر کا تینوں مسلح افواج کے افسران‘ جوانوں کیلئے اعزازات کا اعلان

راولپنڈی(آن لائن)صدر مملکت عارف علوی نے تینوں مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں کے لیے اعزازات کا اعلان کر دیا۔ پاک فوج کے 66 افسران اور جوانوں کیلئے تمغہ بسالت اور 39 کو امتیازی اسناد سے نوازا جائے گا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے مطابق ایک افسر اور 2 جوانوں کیلئے ستارہ بسالت، 66 افسروں اور جوانوں کے لیے تمغہ بسالت، 23 افسران کیلئے ہلال امتیاز ملٹری، 112 کیلئے ستارہ امتیاز اور 65 افسروں اور جوانوں کے لیے آرمی چیف کی امتیازی اسناد کا اعلان کیا گیا ہے۔ 137 افسروں اور جوانوں کو تمغہ امتیاز دیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان اعزازات کا اعلان صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے کیا گیا، ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں تینوں مسلح افواج کے شہدا کی بڑی تعداد شامل ہے۔

حکومت کا 70 لاکھ دیہاڑی دار افراد کو 3 ہزار روپے ماہانہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 70 لاکھ دیہاڑی دار افراد کو ماہانہ 3 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا، جس میں کورونا وائرس کے پھیلا کے پیش نظر چاروں صوبوں میں لاک ڈان کے بعد غریب شہریوں کو خوراک کی فراہمی سے متعلق حکمت عملی، بنیادی اشیائے ضروریہ کی خریداری کیلئے یوٹیلٹی اسٹورز اور فلاحی اداروں کو راشن کی خریداری پر ریلیف دینے پر بھی غور کیا گیا، جب کہ کورونا سے متاثرہ علاقوں میں مشترکہ ریلیف آپریشن سےمتعلق بھی بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق کورونا وائرس کے پیش نظر وزیراعظم نے بڑے معاشی ریلیف پیکج کی منظوری دے دی اور اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 70 لاکھ دیہاڑی دار افراد کو 3 ہزار روپے ماہانہ دئیے جائیں گے، ایکسپوراٹرز کے لئے 200 ارب روپے کا ریلیف پیکج بھی منظور کرلیا گیا۔وزیراعظم نے ملکی صورت حال اور کورونا کے بڑھتے کیسز پر مسلسل نظر رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورت حال میں غریب اور پسے ہوئے طبقے پر نظر رکھیں، دہاڑی دار افراد کو مسائل نہیں ہونے چاہیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان آج تعمیراتی انڈسٹری کے لئے بھی ریلیف پیکج کا اعلان کریں گے اور تعمیراتی انڈسٹری کے لئے بڑا ٹیکس ریلیف دیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے غریبوں کے لیے خوراک کے بندوبست کے لیے مخیر حضرات سے ملاقات کی جس میں انتہائی غریب شہریوں کو خوراک کی فراہمی سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے غریبوں کے لیے خوراک کے بندوبست کے لیے مخیر حضرات سے ملاقات کی جس میں مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس موقع پر وزیرغذائی تحفظ خسرو بختیار، ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور وزارت خزانہ کے حکام بھی شریک تھے۔ دوسری جانب مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل اور کراچی کی تاجر برادی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، مشیر تجارت، پیٹرولیم اور عشرت حسین بھی اجلاس میں شریک رہے۔اس موقع پر مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو چیلنجنگ صورتحال کا سامنا ہے، کورونا وائرس پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، صحت کی سہولیات کھانے پینے کی اشیا کی دستیابی یقینی بنانا ترجیح ہے، مشکل گھڑی میں کاروباری برادری کی مشکلات سے واقف ہیں، حکومت پر بھروسہ کریں، تجاویز پر کام کیا جارہا ہے۔