پاکستان میں کرونا تیسرے فیز میں داخل ، شدت میں اضافہ ہوگا

کراچی(نیٹ نیوزپاکستان میں کورونا وائرس کس درجے ( کیٹگری )کا ہے ابھی حکومتی سطح پر تعین نہیں کیاجاسکا۔اس وقت ایشیائی ممالک میں ایران کو کورونا سے متاثرین کی فہرست میں سرفہرست دیکھا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں کورونا کی کیٹگری 2 یعنی
دوسرے درجہ دیا جارہا ہے جبکہ ابھی تک اس بات کا بھی تعین نہیں کیا جاسکا کہ پاکستان میں وائرس سے ہونے والی شرح اموات کا تناسب کتنا ہے اور پاکستان میں کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اور آئندہ وائرس کے پھیلنے کی رفتار کیا ہو گی تاہم پاکستانی عوام اس وائرس کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بے خبر ہیں،ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں وائرس اب تیسرے فیز (مرحلے) میں داخل ہورہا ہے جس میں وائرس کی شدت میں بھی تیزی آجائے گی۔ماہرین صحت کہتے ہیں کہ اٹلی سمیت دیگر یورپی ممالک میں وائرس سے ہونے والی تباہ کاریوں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یورپی ممالک وائرس کی شدید زد میں ہیں جس کی تباہ کاریوں کا رخ اب پاکستان، ایران بھارت سمیت دیگر ایشیائی ممالک میں ہوگیا ہے،یہ بات درست ہے کہ پاکستان بالخصوص کراچی اور اندرون سندھ میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران وائرس کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔کراچی میں وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونا شروع ہوگیا جو ایک ہولناک صورتحال ہوسکتی ہے، معروف ہیماٹالوجسٹ اور کورونا سے متاثر ہونے والے مریضوں کے علاج کا دعوی کرنے والے ڈاکٹرطاہر شمسی نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ اس وقت پاکستانی ماہرین صحت ڈاکٹروں،فیمیلی فزیشن،پیرامیڈیکل ونرسنگ عملہ ہراہ راست کورونا کے نشانے پر آگیا ہے،ابھی پاکستان میں کورونا وائرس سے شرح اموات 0.5 فیصد سامنے آرہی ہے جبکہ اٹلی میں 10 فیصد،چین میں 2.7 فیصد،جرمنی میں 0.8 فیصد، اسپین میں 4 فیصد سے زائد شرح اموات کا تناسب سامنے آیا ہے۔

جنگوں کے دوران بھی گھروں میں رہے‘ چند دن احتیاط کرلیں:سہیل احمد

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف کامیڈین فنکار سہیل احمد نے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں پریشانی کی بات یہی ہے کہ ہمیں عملا کچھ کرنا چاہئے، ہم لوگ صرف باتیں ہی کرتے ہیں، عمل کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس وائرس کی ابھی تک کوئی ویکسین یا میڈیسن نہیں ہے کیونکہ وہ امریکہ کی طرف سے ہی آتی ہے ، ہمارے ہاں تو کبھی کسی نے ایسی چیز بنانے کا سوچا ہی نہیں۔ امریکہ والے بھی صرف احتیاط پر ہی توجہ دے رہے ہیں تو ہمیں کورونا سے بچنے کے لیے احتیاط فوری طورپر شروع کر دینی چاہئے۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے جنگیں بھی دیکھی ہیں، 1971ءکی جنگ میں کرفیو لگ جاتا تھا اور لوگ گھروں میں بند ہو جاتے تھے تو اب بھی کوئی مشکل نہیں اور نہ ہی روزی روٹی کا مسئلہ ہے۔ 10سے 15دن ہر آدمی گزارہ کر سکتا ہے ، ردگرد کے لوگ ایکدوسرے کی مدد کریں اور کچھ دن گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ گھروں سے باہر مجمع میں بیٹھ کر حقہ پینے والے بابا جی کو بتا نا چاہئے کہ’ حقہ جیہڑا اے ، اوہ آکے قبر وچ سُوٹا نئیں لواندا‘۔اس لیے ضروری ہے کہ حقہ کیساتھ خود کو بھی تازہ رکھیں اور گھروں میں رہیں۔ میڈیا پر صرف کورونا کے مسئلے پر ہی بات ہونی چاہئے ، ہر مشکل وقت میں میڈیا ، سیاستدان، حکمران اور اپوزیشن کی توجہ صرف کورونا کی طرف ہونی چاہئے ۔ چین میں جس تیزی سے اموات ہوئیں انہوں نے اس پر کنٹرول کر لیا ہے ۔ دنیا کی کوئی قوم بات ماننے والی نہیں ہے، جب گولی کا آرڈر ہوا تب ہی لوگ گھروں بیٹھے ہیں۔ ہمیں بطور مسلم گولی سے پہلے ہی اللہ نے حکم فرمایا ہے کہ جان سب کو بچانی چاہئے اور اسکی حفاظت کرنی چاہئے۔ ہمیں اسطرح کے خوفناک عمل سے پہلے ہی احتیاطی تدابیر کر لینی چاہئیں۔ مخیر حضرات موجودہ حالات میں غریبوں کی مدد کریں گے، سب کو گھروں میں بند کر دیں، مزدوروں اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والوں کو خوراک ضرور گھروں میں پہنچے گی۔شرطیہ کہتا ہوں کہ کوئی بندہ بھوکا نہیں سوئے گا۔ سکولوں میں چھٹیوں کی طرح زکوة اور خیرات رمضان سے پہلے شروع کر لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ کتنے گنا ثواب ہوگااسکا کیلکولیٹر ایک سائیڈ پر رکھ کر خدمت کریں۔ رب کے پاس جانے کا ہر راستہ انسانوں کے دلوں سے ہو کر جاتا ہے۔ پچھلے ہفتے کورونا کا خوف شروع ہوا تو سوچا کہ مزاحیہ پروگرام کے ذریعے لوگوں کو ہنسانا ٹھیک ہوگا؟پھر فیصلہ کیاکہ لوگوں کو خوشی چاہئے ہمیں اپنے کام کیساتھ عوام کو احتیاطی تدابیر بتاتے رہنا چاہئے۔ لوگ روٹین کی طرح گھروں میں رہیں، گھر میں سب سے خوفناک بیوی ہوتی ہے مگر کورونا وائرس اس سے زیادہ خوفناک ہے۔ چیئرمین تحریک انجمن ہلال احمرابرار الحق نے کہا ہے کہ کورونا سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کا مقابلہ کوئی ایک ادارہ نہیں کر سکتا ، قوم کو ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ عوام خود کو قرنطینہ میں رکھیں، قدرت نے مثال الٹی کر دی ہے ، اب ہم اکٹھے ہو کر کورونا کے سامنے کمزور ہوں گے اور الگ ہو کرمضبوط۔رضاکاروں کا موجودہ صورتحال میں بڑا کردار ہے کیونکہ ہمارے لوگ حکومت کی ہدایات کوسنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ہمیں خوف ہے کہ کورونا کیسز بڑھ گئے تو ہمارے پاس صحت کی سہولیات نہیں ہیں۔ ایسا ہوا تو وہ مریض جنہیں کورونا نہیں ہے وہ ہسپتالوں میں رش لگا لیں گے اور اصل مریض پیچھے کہیں کھڑے ہوں گے اور مر جائیں گے۔ ہمیں سائنسی بنیادوں پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سٹینڈرڈ کی ہدایات کی طرز پر نظام ترتیب دینا ہے جسے ہم ریڈ کریسنٹ کے ذریعے ترتیب دے رہے ہیں ۔ ایپ کی صورت میں ہمارے رضا کار یہ سہولت مختلف جگہوں پر جا کر دیں گے۔ ہم ہسپتال بنا رہے ہیں،150بستروں پر مشتمل ہسپتال بنایا گیا ہے جس میں 10وینٹی لیٹرز بھی ہوں گے لیکن یہ مسئلے کا جزوی حل ہے ، کلی حل کے طور پر ہمیں پورے پاکستان سے رضا کار چاہئیں جو لوگوں کو جا کر سمجھائیں گے کہ خداراہمارے پاس اتنی سہولیات نہیں ہیں۔ لوگ نور جہاں کے گانے سنیں ، میرے بھی سن لیں۔ ہمارا نمائندے کے پاس ہر اس شخص کا نمبر ہوگا اور اسکا حال پوچھا جاتا رہے گاکہ ابھی بھی خیال رکھیں اپنا ، ہسپتال میں نہیں جانا۔ اٹلی میں یہی ہوا تھا کہ تمام لوگ ہسپتالوں میں پہنچ گئے اور صحت کی سہولیات کی فراہمی ختم ہوگئی، اسی لیے وہاں اتنی اموات ہوئیں۔ ہمیں ان حالات سے بچنے کے لیے آج ہی حفاظتی اقدامات کرنے ہیں۔کسی نے کہاتھا کہ کورونا کی ویکسین موجودنہیں، ویکیسن موجود ہے ، احتیا ط سب سے بڑی ویکسین ہے۔

عملاً لاک ڈاﺅن ہی ہے وزیر اعظم عمران خان کو کچھ ریلیف دینا ہونگے عمران خان کا دیہاڑی داروں کو3ہزار ماہانہ دینا قابل تحسین ہے

وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں کی احتیاطی تدابیر کے مطابق ہمیں خود کو قرنطینہ کرنا پڑے گا کیونکہ دنیا نے اس بیماری کا اس طرح سے مقابلہ کیا ہے۔ آپ چاہے یورپ کے کسی ملک کو دیکھ لیں یا مشرق وسطیٰ کے کسی ملک کو اٹھا کر دیکھ لیں یہ مسئلہ ہر جگہ موجود ہے اس کا واحد حل یہی ہے۔ سعودی عرب اور ایران میں اس لئے تیزی سے زیادہ پھیلا ہے کہ ان ممالک میں لوگوں کا آپس میں میل ملاقات کا طریقہ ہے کہ وہ ہاتھ ملاتے گلے ملتے اور ایک دوسرے کے گالوں پر بوسہ دیتے ہیں اس وقت پاکستان، اٹلی، سپین اور سعودی عرب اور ایران کے مقابلے میں دوہفتے بعد میںہے۔ جو دو ہفتے ان ممالک میں صورت حال تھی پاکستان اب اس میں سے گزر رہا ہے۔ آج سے7,6 دن پہلے ہمارے ہاں دو اڑھائی سو کے قریب کرونا کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو ایران سے تفتان کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے تھے جو زائرین کی شکل میں آئے تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے اب پاکستان میں وہ صورت حال ہے جو ان ممالک میں ایک ڈیڑھ ہفتہ پہلے تھی۔ انہوں نے فوری طور پر قرنطینہ کیا ہے اس وقت سپین میں ساڑھے 5 ہزار لوگ متاثر ہیں۔ کوئی 6 ہزار کے قریب اٹلی میںہیں اور اس طرح یورپ کے دیگر ممالک میں صورتحال ہے۔ اس بات سے اندازہ لگایئے کہ یہ سوشل قرنطینہ کرنا لوگوں کے ساتھ کتنا ضروری ہے۔ جہاں تک اس کا مقابلہ کرنے کا سوال ہے ابھی تک اس کی ویکسین نہیں آئی۔ اگر سوچیں نمونیا کی دواﺅں سے یا کسی اور میڈیسن سے تو یہ ممکن نہیں ہے اس کا ایک راستہ ہے کہ کسی طریقے سے لوگوں کے ساتھ سماجی رابطے کم کریں۔ ہماری آبادی زیادہ ہے ۔ ابھی تو ہمارے ہاں کیسز آنے لگے ہیں ایک ہفتے کے اعداد و شمار اٹھایئے اور آج کے اعداد و شمار دیکھیں تقریباً دو سو فیصد کا فرق آ گیا ہے۔ جو تعداد اڑھائی سو کے قریب تھی اس وقت 9 سوا نو سو سے اوپر چلی گئی ہے۔ کل تک سندھ میں لاک ڈاﺅن تھا۔ آج پنجاب میں بھی لاک ڈاﺅن ہونے جا رہا ہے اور ہم نے یہ سب سے پہلے یہ سٹوری اپنے چینل پر بریک کی تھی ابھی میں بات کر ہی رہا تھا کہ ہمارے رپورٹر نے مجھے کراچی سے بتایا کہ ہمارے وزیر صحت سعید غنی کو کرونا کی تصدیق ہوگئی ہے۔ کل تک اس بات پر کافی تنقید ہو رہی تھی وہ کیوں لاک ڈاﺅن کر رہے ہیں۔عملاً تو اب ملک میں لاک ڈاﺅن کی پوزیشن ہے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ 25 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے حکومت کو فکر ہے کہ غذائی قلت نہ پیدا ہو جائے لوگوں کی جان بچ گئی تو غذائی قلت تک نوبت پہنچے گی۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ محترم وزیراعظم سے شروع ہو کر شہبازشریف، بلاول بھٹو زرداری، آصف زرداری، جہانگیر ترین، علیم خان اور دوسرے مخیر حضرات میدان میں آئیں اور مشکلات میں گھرے طبقہ کی مدد کریں۔ خدانخواستہ خدانخواستہ ابھی کیسز کی تعداد بڑھ گئی اور رمضان میں لوگ وباءسے نہیں ڈرتے۔دوسری طرف لوگ ریستورانوں سے کھانا لینے سے گھبرا رہے ہیں۔ عمران خان نے بات بالکل ٹھیک کی ہے ان کے پاس زیادہ معلومات ہیں این ڈی ایم اے ان کو رپورٹ کر رہا ہے کہ ہم کہاں کہاں سے امپورٹڈ ویکسین منگوا سکتے ہیں، وینٹی لیٹرز منگوا سکتے ہیں جس طرح یورپ، چائنہ کے اندر عوام، انڈسٹری، میڈیا ہاﺅسز کی مدد کی گئی ہے۔ ہم میڈیا ہاﺅس چلاتے ہیں ہم ڈر رہے ہیں کہ ہمارے دفتر میں کوئی مسئلہ نہ ہو جائے۔ آٹھ دفاتر ہیں کہاں کہاں روکیں گے اس طرح ٹیکسٹائل انڈسٹری ہے۔ یہ 5 ہزار کا بل چھوڑنے سے یا ایک سال میں لینے کا اقدام ٹھیک ہی ہے ۔ لیکن یہ ہے پینک۔ پینک کی ضرورت نہیں ہے یہ حکومت کا فرص ہوتا ہے عمران خان اس بارے بڑا اچھا سوچتے ہیں وہ غریب آدمی کے لئے کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح سے روٹی روزگار بند نہ ہو یہ بالآخر بند ہو گا اس کے لئے حکومت کو ریلیف پیکجز دینے پڑیں گے ان کو انڈسٹریز کو سپورٹ کرنا پڑے گا کیونکہ اگلے20,15,14 دن لاک ڈاﺅن کی صورت حال میں جا رہے ہیں۔ لاہور کی سڑکوں پر میں نے کبھی اتنی ویرانی دیکھی نہیں۔ یہی صورت حال کراچی کی ہے۔ لوگ ڈر کے مارے گھر بیٹھے ہیں۔ مسئلہ لوگوں کو کھانا کھلانا نہیں ہے۔ ایشو یہ ہے کہ اس کی فزیبلٹی ایسی بنائی جائے کہ آپ کی اکانومی متاثر نہ ہو جو انڈسٹریز کام کر رہی ہیں وہ پاﺅں پر کھڑی رہ جائیں جو ٹیکسٹائل ملز، فارما سیوٹیکل کمپنیز ہیں۔ کے الیکٹرک، لیسکو، میڈیا کے ادارے ہیں ان کو ریلیف دیا جائے تا کہ ہم لوگوں کو چاہے ایک ماہ کی سیلری دے کرچھٹیوں پر بھیج سکیں۔ بہر حال جان سے زیادہ کسی چیز کی قیمت نہیں ہوتی۔ تین لوگ جو فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں وہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف دوسرا سکیورٹی فورسز اور تیسرا ہمارا میڈیا ہاﺅسز اور وہ ہمارے رپورٹرز خاص طور پر کیمرہ مین فوٹو گرافر جو باہرجا کر لوگوں کو بتا رہا ہے کہ کس جگہ کون سی چیز کھلی ہے کون سی نہیں کھلی ہوئی جب میں مخیر حضرات کی بات کرتا ہوں تو آپ عام پبلک میں جا کر پیسے نہیں بانٹ سکتے۔ چیزیں ان کو باہر سے نہیں ملیں گے ان لوگوں کو اداروں کو، انڈسٹریز کو جو اس وقت فرنٹ لائن پر ہیں ان کو حکومت کی طرف سے سپورٹ کیا جائے۔ اس کے لئے فنڈ بننا چاہئے سارا پیسہ ادھر ڈالنا چاہئے یہی طریقہ ہے کرونا سے لڑنے کا کیونکہ 14 سے 15 دن ہو سکتا ہے ایک مہینہ تک یہ پرابلم ہمیں فیس کرنا پڑے۔ کیا فوجی ہمارے بھائی نہیں پولیس کو کتنے سینی ٹائزر دیں گے ان کو ریلیف دینے کے لئے حکومت کو کچھ نہ کچھ اناﺅنس کرنا پڑے گا جس طرح امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور ایران نے اپنی حد تک کیا ہے چین جاپان نے کیا ہے حکومت کا یہ فرض ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ، وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا کہہ دیا شہباز شریف نے واپس آ کر کتنے ہسپتال ڈونیٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔ میڈیا کا یہ کام نہیں ہے میڈیا کا کام ہے کہ اس دباﺅ کو روکا کیسے جائے۔ پنجاب سندھ دونوں کی کی حکومتیں کہہ رہی ہیں کہ کرفیو نہیں ہے لوگ ضرورت کی چیزیں لینے نکل سکتے ہیں ان کو بتایا جائے کہ وہ کہاں کہاں مل سکتی ہیں۔ کسی سڑک پر جانے سے ان کو کیا مسئلہ پیش آ سکتا ہے کرونا کے ہاتھ دھونا ماسک پہننا علاج نہیں یہ صرف حفاظتی تدابیر ہیں۔ ڈاکٹر، سکیورٹی فورسز آرمی اور پولیس اور میڈیا ہی یہ کام کر سکتے ہیں۔ ورنہ خدانخواستہ سپین اور اٹلی سے زیادہ صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔ کل شب معراج تھی با برکت رات مولانا طارق جمیل نے دعا کرائی اس طرح کی دعائیں بہت اچھی بات ہے۔ انسان کوشش کرتا ہے دکھ تکلیف کا حل اللہ کی ذات نے کرنا ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔ مراکو کے اندر لوگوں نے چھتوں کے اوپر کھڑے ہو کر بڑے بڑے لاﺅڈ سپیکروں سے اعلان کئے اور قرآن پاک کی تلاوت کی اللہ سے معافی مانگنے کا یہی طریقہ ہے کل مولانا طارق جمیل نے دعا کے دوران خوبصورت بات کی کہ اس وقت فرقہ واریت کا وقت نہیں ہے۔
تجزیہ: امتنان شاہد

پاک فوج کا بڑا اعلان آرمی چیف ایک ماہ،لیفٹیننٹ جنرل سے بریگیڈئیر تک3دن کرنل 2دن سپاہی اور جے سی اوز ایک دن کی تنخواہ ایمرجنسی فنڈ میں دینگے

راولپنڈی(صباح نیوز) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کورونا کے خلاف بہترین دفاع آئسولیشن سے زیادہ باہمی تعاون ہے،ہمیں محفوظ پاکستان کے لیے یکجا ہونے کی ضرورت ہے، چیلنجز کا سامنا کرکے ہی قومیں آگے بڑھتی ہیں،عوام کا ریاست پر بھرپور اعتماد ہی اس صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے،کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سول اداروں کی امداد کے لیے تیاری اور لائن آف ایکشن کا جائزہ لیا گیاہے، تمام دستیاب نفری اور تمام دستیاب طبی وسائل کو ضرورت کے مطابق بروئے کار لایا جائے گا، صرف ہسپتالوں، کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے والی دکانیں، طبی سامان تیار کرنے والی فیکٹریاں اور میڈیکل اسٹورز کھولے جاسکیں گے، تمام اسکولز، ریسٹورنٹس، سینما، شادی ہالز، سوئمنگ پولز بند رہیں گے، ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہوگی، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ صرف فوڈ سپلائی چین کیلئے استعمال ہوگی،شہروں میں ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی، ایئرپورٹس بین الاقوامی پروازوں کے لیے 4 اپریل تک بند رہیں گے، غیور پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر فوج کے ساتھ مل کر اس چیلنج کو بھی عبور کر لیں گے، آرمی چیف نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ، بریگیڈیئرز سے لیفٹیننٹ جنرل تک 3 دن، کرنل تک کے عہدے کے افسران نے 2 دن اور سولجرز اور جے سی اوز نے اپنی ایک، ایک دن کی تنخواہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے ایمرجنسی فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔پیرکومیڈیا بریفنگ کے دوران میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان کو کرونا وائرس کے شدید چیلنج کا سامنا ہے ، ہمیں محفوظ پاکستان کیلئے یکجا ہونے کی ضرورت ہے، انفرادی ،اجتماعی اور معاشرے کی سطح پر سخت فیصلوں کا وقت ہے ، حکومت نے سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج کو طلب کیا ہے، وباءکا مقابلہ کرنے کیلئے عوام کو گھروں میں محفوظ رکھیں ، کرونا سے نمٹنے کیلئے آرمی چیف ایک ماہ کی تنخواہ دیں گے۔ تمام اہل وطن اور دنیا میں جہاں بھی پاکستانی موجود ہیں ان کو یوم پاکستان مبارک ہو، 80 سال قبل آج ہی کے دن ہمارے اسلاف نے ایک منزل کا تعین کیا اور یکجا ہوکر ناممکن کو ممکن کردکھایا ۔ دنیا کا نقشہ تبدیل کردیا۔ ایک ایسا سنگ میل جو ایک قوم نے یکجا ہوکر ایک منزل پاکستان حاصل کرکے دکھایا آج ان تمام اکابرین کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ ایک آزاد وطن اور اس دو قومی نظریے کیلئے اس کی سچائی آج سب پر عیاں ہورہی ہے۔ آج پھر 23مارچ ہے ۔ آج پھر ان اکابرین کے وارثوں کو ایک نیا چیلنج درپیش ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک ایسی قدرتی آفت جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ حتیٰ کہ ترقی یافتہ ترین ممالک بھی کورونا وائرس کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں۔1940ءمیں قیام پاکستان مقصد تھا اور منزل تھی اب ایک مرتبہ پھر یکجا ہوکر محفوظ پاکستان کیلئے قوم کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ آج کا دن کشمیری بہن بھائیوں کو یاد کرنے کا دن ہے جو بدترین ریاستی دہشت گردی اور اس قدرتی آفت کے مقابلے میں بھی بے یارومددگار ہونے کے باوجود اپنے حق خودارادیت کیلئے مزاحمت کی مثال بنے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام اس جدوجہد میں ضرور کامیاب ہوں گے انشاءاللہ پاکستان کو اس وقت کرونا وائرس کا شدید چیلنج درپیش ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ چیلنجز کا سامنا کرکے ہی قومیں آگے بڑھتی ہیں ان حالات میں عوام کا ریاست پر بھرپور اعتماد ہی اس صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور اس سلسلے میں یہ کوشش اور تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔ گزشتہ شام ایک خصوصی کور کمانڈر کانفرنس میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے افواج پاکستان کی سول اداروں کی امداد کیلئے تیاری اور پلان آف ایکشن کا جائزہ لیا گیا ۔ حکومت پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو سول انتظامیہ کی مدد کیلئے طلب کرلیا ہے۔ پاکستان آرمی کی لائن آف کنٹرول اور ویسٹرن بارڈر پر بھرپور اور بھاری تعیناتی کے باوجود چیف آف آرمی سٹاف نے تمام دستیاب دستوں اور افواج پاکستان کے تمام میڈیکل ذرائع کو ضرورت کے مطابق تعینات کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ وفاق ور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کے تحت صرف ہسپتالوں، کھانے پینے کی اشیاءفروخت کرنے والی دکانیں اور میڈیکل سامان تیار کرنے والی فیکٹریاں اور میڈیکل سٹورز کھلے رہ سکیں گے۔ تمام سکول بند رہیں گے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی رہے گی۔ تمام قسم کے شاپنگ مال ریستوران ، سینما ، شادی ہال، سوئمنگ پول اور غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی رہے گی۔ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ صرف فوڈ سپلائی کیلئے استعمال کی جائے گی۔ شہروں کے اندر ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔ تمام ایئرپورٹس انٹرنیشنل فلائٹس کیلئے 4اپریل تک بند رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پٹرول پمپ اور منڈیاں صوبائی حکومتوں کی طرف سے نوٹی فائیڈ بنیادوں پر ہی کھل سکیں گی ۔ اس حوالے سے صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبے میں مزید گائیڈ لائن جاری کریں گی ۔ جنہیں سول اداروں کے ساتھ مل کر یقینی بنایا جائے گا۔ تمام حفاظتی اقدامات کے تحت بارڈرز توبند کردئیے گئے ہیں لیکن اصل بارڈر انسان اور کرونا وائرس کے درمیان ہے جس پر ہم نے قابو پانا ہے۔یہ انفرادی خاندانی کمیونٹی اور معاشرے کے طورپر مشکل اور سخت فیصلے کرنے کا وقت ہے۔ انفرادی نظم و ضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو کامیاب کرے گا۔ کرونا وائرس کے خلاف بہترین دفاع آئسولیشن سے بھی زیادہ تعاون ہے۔ دنیا کے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اس قوم کے حوصلے کو بخوبی دیکھا۔ موجودہ چیلنج نے ایک بار پھر ہمارے قومی جذبے کو آزمایا ہے لیکن اس مرتبہ خطرہ بہت ہی مختلف نوعیت کا ہے اس خطرے پر قابو پانے کیلئے افواج پاکستان قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں گی۔ اپنی نقل و حرکت کو محدود رکھنا ہی موثر ترین بچاﺅ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سکریننگ ، ٹیسٹنگ بہت اہم ہیں۔ اس سلسلے میں افواج پاکستان اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر تمام انٹری پوائنٹس پر اس پروسیجر کو یقینی بنایا جارہا ہے اب تک ایک ملین سے زائد مسافروں کی سکریننگ کی گئی ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں 12000 سے زیادہ سکریننگ ٹیسٹ کیے گئے ہیں ملک بھر میں قائم کیے گئے قرنطینہ کیمپس میں سیکورٹی اور دیگر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ بہادر اور غیور قوم ایک مرتبہ پھر افواج پاکستان کے ساتھ مل کر اس چیلنج کو بھی عبور کرلیں گے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف نے اس مدد میں اپنی ایک ماہ کی تنخواہ ، بریگیڈیئر سے لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک کے افسروں نے 2دن اور سولجرز اور جے سی اوز اپنی ایک دن کی تنخواہ اس وباءسے نمٹنے کیلئے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ اپنی اور اپنے خاندان اور خاص طورپر اپنے گھر میں موجود بزرگوں کی صحت کی حفاظت کیلئے حکومت پاکستان اور وزارت صحت اور ڈاکٹروں کی جانب سے جو ہدایات جاری کی جارہی ہیں ان پر ذمہ دار شہریوں کے طورپر عمل کیجئے خود کو اور اپنے پیاروں کو گھروں تک محدود رکھیں تاکہ ہم اس وباءکا مقابلہ کرسکیں۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ اس جنگ میں پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیجئے ان ہدایات پر عمل کرکے ہی خوف و ہراس سے بچا جاسکتا ہے ۔ انفرادی حفاظت میں ہی مجموعی حفاظت ہے۔

لاک ڈاون کے دوران بینک کھلے رہیں گے، شیڈول جاری

کراچی (ویب ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ لاک ڈاو¿ن کے باوجود ملک بھر میں تمام بینکس اور ان کی برانچز کھلی رہیں گی۔ اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو خط لکھ کر ہدایت کی ہے کہ پیر تا جمعہ 10 بجے سے لیکر شام 4 بجر 30 منٹ تک برانچز کھلی رکھیں اور ضروری خدمات، ڈیجیٹل بینکنگ سمیت اے ٹی ایم سروسز ہر وقت فعال رکھیں۔ نوٹیفکیشن میں بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر کسی برانچ میں کسی ملازم میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوجائے تو برانچ کو عارضی طور پر بند کردیا جائے یا متبادل جگہ پر منتقل کرکے اسٹیٹ بینک کو آگاہ کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ اپنے شناختی کارڈ اور سروس کارڈ ساتھ رکھیں۔

کل سے تمام مسافر ٹرینیں بند کئے جانے کا امکان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) کل سے ملک بھر میں تمام مسافر ٹرینیں بند کئے جانے کا امکان پیدا ہوگیا۔ پاکستان ریلوے کی 104 تمام مسافر ٹرینوں کو کل بند کردیا جائے گا۔ ذرائع مطابق کل سے ملک بھر میں ریلوے کی تمام مسافر ٹرینیں بند کئے جانے کا امکان ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے کی 104 تمام مسافر ٹرینیوں کو کل بند کردیا جائے گا، اور جو ٹرینیں کل چلیں گی وہ اپنا روٹ مکمل کرکے بند کی دی جائیں گی۔ واضح رہے کہ پاکستان ریلوے کی 34 ٹرینیں پہلے ہی بند کی جاچکی ہیں، وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کورونا وائرس کے پیش نظر مرحلہ وار 34 ٹرینیں بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور وزارت ریلوے نے کورونا وائرس کے خدشہ کے باعث دوسرے مرحلے میں 25 مارچ سے ملک بھر میں چلنے والی اپ اینڈ ڈاو¿ن کی مزید 22 ٹرینوں کوغیرمعینہ مدت کیلئے معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔

اسلام آباد: تبلیغی جماعت میں کروناوائرس کی تصدیق، علاقہ بند

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بھارہ کہو میں تبلیغی جماعت کے 6 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوگئی جبکہ خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں بھی تبلیغی جماعت کے رکن میں کرونا وائرس کی علامات کے بعد متعدد مساجد کو بند کردیا گیا ہے۔ فلسطین میں بھی پاکستان سے گئے تبلیغی جماعت کے دو ارکان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ 11 مارچ سے رائیونڈ میں 5 روزہ تبلیغی اجتماع شروع ہوگیا تھا جس میں حکام کے مطابق ڈھائی لوگ افراد شریک تھے۔ بعد ازاں بارش کی وجہ سے اجتماع کو تیسرے روز ختم کردیا گیا اور تبلیغی جماعت کے ارکان پاکستان سمیت دیگر ممالک میں پھیل گئے۔ اے ایس پی بھارہ کہو حمزہ امان اللہ کے مطابق کوٹ ہتھیال میں 6 غیر ملکیوں سمیت 13 لوگوں کی جماعت تبلیغ پر تھی۔ جماعت میں شامل پہلے ایک غیر ملکی میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور اب جماعت میں شامل پانچ مزید افراد کا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت میں شریک باقی 6 افراد کے بھی ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں۔ کوٹ ہتھیال کے خارجی و داخلی راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ تمام علاقے کو قرنطینہ میں بدل دیا گیا ہے۔ اے ایس پی کے مطابق ضلعی انتظامیہ اہل علاقہ کے ٹیسٹ کروائے گی۔ علاقے میں دودھ، کریانہ، بیکری کے علاوہ باقی دکانیں بند کروا دی گئیں۔ بھارہ کہو بازار بند کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کے احکامات کا انتظار ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق تبلیغی جماعت کے اراکین نے بھارہ کہو کی 2 مساجد میں قیام کیا تھا اور ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد دونوں مساجد کو بند کردیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اہل علاقہ کو گھروں میں نماز پڑھنے کی ہدایت کی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو کورونا کی علامات کی صورت میں فوری اسپتال پہنچنے کی ہدایت کردی۔

کورونا وائرس کےخلاف جنگ میں میجر جنرل آصف غفور بھی میدان میں آ گئے

اوکاڑہ (ویب ڈیسک) جی او سی اوکاڑہ اور پاک فوج کے سابق ترجمان میجر جنرل آصف غفور بھی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے میدان میں آ گئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ جی او سی اوکاڑہ میجر جنرل آصف غفور کی ساہیوال آمد ہوئی ہے۔انہوں نے سول اسپتال اور عبدالقیوم ہسپتال کا دورہ کیا اور کورونا کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کا معائنہ بھی کیا۔ اس حوالے سے ان کی سوشل میڈیا پر تصویر بھی وائرل ہو رہی ہیں،جن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ میجر جنرل آصف غفور نے ڈی ایچ کیو ساہیوال کا دورہ کیا۔انہوں نے کورونا کے آئیسولیشن وارڈ کا دورہ کیا۔چونکہ میجر جنرل آصف غففور لوگوں میں گہری مقبولیت رکھتے ہیں لہذا اس مشکل وقت میں ان کے منظر عام پر آ کر کام کرنے کو خوب سراہا جا رہا ہے۔

وائرس پر قابو پانے کیلئے پاک فوج قوم کے شانہ بشانہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے خطرے پر قابو پانے کیلئے فوج قوم کے شانہ بشانہ ہے۔ سویلین حکومت کی مدد کیلئے دستوں کو طلب کیا گیا ہے۔ محفوظ پاکستان کیلئے اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ دنیا 2005ءکے زلزلے، سیلاب اور دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو دیکھ چکی ہے۔ خطرے پر قابو پانے کے لیے پاک فوج قوم کے شانہ بشانہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف ایک ماہ کی تنخواہ کرونا فنڈ میں دیں گے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے عوام سے اپیل کی کہ کرونا وائرس کیخلاف اس جنگ میں پاک فوج حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں، ہدایات پر عمل کرکے ہی اس سے بچا جا سکتا ہے۔ حکومت اور ڈاکٹرز کی ہدایات پر ذمہ دار شہریوں کی طرح عمل کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کوئی شک نہیں کہ ہماری بہادر اور غیور قوم افواج پاکستان کے ساتھ مل کر اس چیلنج کو عبور کر لے گی۔ یہ مشکل اور سخت فیصلے کرنے کا وقت ہے۔ اب تک ایک ملین سے زائد مسافروں کی سکریننگ کی گئیں۔ کرونا وائرس کے خلاف بیسٹ ڈیفنس آئسولیشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبے میں مزید گائیڈ لائن جاری کریں گی جنہیں یقینی بنایا جائے گا۔ انٹرسٹی ٹرانسپورٹ صرف فوڈ سپلائی چین کے لیے استعمال ہوں گی۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان حالات میں ریاست پر بھرپور اعتماد ہی صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔ افواج پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ پاکستان کو کرونا وائرس کا شدید چیلنج درپیش ہے۔ ایک مرتبہ پھر یکجا ہو کر محفوظ پاکستان کے لیے قوم کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام جدوجہد میں ضرور کامیاب ہونگے۔