نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کورونا وبا کی تیسری لہر کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر پابندیوں میں اضافے کا فیصلہ کرلیا۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے چیئرمین اسد عمر نے آج ہونے والے این سی او سی سے متعلق مختصر ٹوئٹ کی۔
اسد عمر نے کہا کہ آج صبح این سی او سی کے اجلاس میں ہم نے کورونا سے متعلق پابندیوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے مذکورہ فیصلے کے جواز میں کہا کہ ’ملک میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے‘۔
این سی او سی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ ’صوبوں اور اسلام آباد انتظامیہ کو ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
اسد عمر نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد پر کریک ڈاؤن کرنے کی بھی ہدایت کی ہیں۔
این سی او سی کا اجلاس جاری ہے تاہم اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں 1863 افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 8 مریض انتقال کر گئے جبکہ صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد ایک لاکھ 99 ہزار 40 اور اموات کی تعداد 5 ہزار 982 ہے۔
وائرس کا پھیلاؤ کے پیشِ نظر صوبے کے 7 شہروں میں 2 ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا تھا اس کے علاوہ ان شہروں کے تمام تعلیمی اداروں میں پہلے ہی موسم بہار کی تعطیلات دے دی گئی تھیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے امکان ظاہر کیا ہے کہ صوبے میں وائرس کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے شادی کی تقریبات، کھیلوں کی سرگرمیوں اور جلسے جلوسوں پر 2 ہفتے کی مکمل پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے اس پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کابینہ کمیٹی برائے کورونا نے کچھ سفارشات پیش کی ہیں جن کا جائزہ لے کر انہیں منظور کیا جائے گا تاہم حالات کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

