Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اربوں کی سرمایہ کاری پر سنڈیکیٹ سے منظوری نہ لینے کا انکشاف
    • پی ٹی آئی کسان ونگ کا پاکستان کسان اتحاد کے25 ستمبرکے احتجاج کی بھرپور حمایت
    • PIA نے انٹرنیشنل ایوی ایشن سیفٹی معیار پر عملدرآمد کا سنگ میل عبور کرلیا
    • نیویارک’صرف 30ڈالر میں خریدی گئی پینٹنگ لاکھوں ڈالر کی نکلی
    • یورپی ممالک نے غیر قانونی تارکین ِ وطن کے خلاف نئے سخت قوانین و قواعد منظور کرلئے
    • صبا قمر کا ماضی میں ساتھی اداکار کی محبت میں گرفتار ہونے کا انکشاف
    • پاکستان کی بھارت کے خلاف شاندار فتح 5-0 شکست دے دی
    • بدعنوانی پر دفترخارجہ کے 6افسران سمیت 22افراد کیخلاف مقدمہ
    • چوری ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی اشیاء سے محروم
    • افغانستان میں موجود دہشتگرد بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں: طاہر اشرفی
    • آسٹریلیا سے امریکا بھیجے گئے ایف35لڑاکا طیاروںکے حساس پرزے ہانگ کانگ پہنچ گئے، تحقیقات شروع
    • قبضوں کی نشاندہی کریں، کارروائی ہوگی: ناصر حسین شاہ
    • پنجاب بار کونسل کا وکلاء ،خاندانوںکو مالی تحفظ فراہم کرنیکا اعلان
    • PTIحکومت اور کے درمیان رابطے بے نتیجہ حالات مزید خراب سخت ہونے کا امکان
    • سمارٹ لاک ڈاؤن پولیس ضلعی انتظامیہ کیلئے کمائی کا ذریعہ
    • محسن نقوی کی ہنگو میںشہید ہونیوالے کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد
    • آئی پی پیز سے بجلی کی پیداوار ڈیموں کے مقابلے میں 12 گنا مہنگی
    • سونے کی قیمت ایک بار پھر خطرناک سطع تک پہنچنےکا امکان
    • بھارت میں قید برطانوی سکھ کارکن جگتار سنگھ کو ضمانت مل گئی
    • سولر سسٹم صارفین کیلئے اچھی خبر لیتھیم بیٹریز ایک لاکھ روپے تک سستی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پاکستان میں کم ہو تی ہو ئی اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری

    By Daily Khabrainجون 25, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email
    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ورثے میں بہت سے چیلنجز ملے
    فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا پاکستان نہ آنا ایک نہایت ہی تشویشناک بات ہے
    اس بات میں کو ئی شک نہیں ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ورثے میں بہت سے چیلنجز ملے اور ان چیلنجز میں پاکستان کی ایک تباہ حال معیشت سمیت دیگر کئی مسائل تھے،اور اسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی دوست ممالک سے رجوع کیا اور ان سے ملنے والی رقوم سے حکومت کا نظام چلا یا گیا۔حکومت اپنی آئینی مدت کے تین سال مکمل کر چکی ہے اور ان تین سالوں کے دوران ملکی معیشت کے حوالے سے ایک ملا جلا رجحان رہا ہے ایک طرف حکومت کا دعوی ٰ ہے کہ ملکی معیشت استحکام حاصل کر چکی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے معیشت برباد کر دی ہے اور عام عوام مہنگائی کے سونامی اور بے روزگاری کے طوفان میں بے یا ر و مدد گار کسی مدد کے منتظر ہیں اور اپوزیشن کے بیانئے کے مطابق عوام کی مدد اور ان کے مسائل کا حل اپوزیشن کے بر سر اقتدار آنے سے ہی ممکن ہے۔میری رائے میں حقیقت کہیں ان دونوں انتہاؤں کے بیچ میں ہے نہ تو پاکستان کی معیشت اس وقت کسی ایمر جنسی جیسی بری صورتحال سے لیکن دوسری طرف روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی اپنی جگہ پر ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کے باعث عوام بہت پریشان ہیں۔حالیہ دنوں میں معیشت کے حوالے سے ہمارے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق یقینا پاکستان کی معیشت میں بہتری دیکھی گئی ہے،پاکستان کی شرح نمو 4فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ آئی ایم ایف اور خود حکومت پاکستان کے اپنے اندازوں سے زائد رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر ایسے اشاریے بھی ہیں جو کہ مثبت ہیں اور پاکستان کے لیے حوصلہ کا باعث ہے،پاکستان کی برآمدات میں طویل عرصے کے بعد اضافہ دیکھا جا رہا ہے،اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم رواں برس ریکارڈ 29ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔حکومت نے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاونٹ جیسے اقدامات کیے ہیں جن کے ذریعے اب تک ملک میں 1.5ارب ڈالر کی رقم موصول ہو چکی ہے جو کہ پاکستان کی برآمدات اور ترسیلات زر کے علاوہ رقم ہے۔پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 23.2ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہیں اور بڑھ رہے ہیں جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کااینڈیکس 48ہزار پوا ئنٹس کی سطح عبور کر چکا ہے جو کہ چار سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔حکومت نے رواں سال کے 11ماہ میں تقریباً 4200ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ ضرور ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ جون کے آخر تک جمع ہونے والے ٹیکس کا حجم 4500ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے،لیکن بہر حال یہ نمبر ز بھی حکومت کی طرف سے مقرر کر دہ نظر ثانی شدہ 4700ارب روپے کے ہدف سے کم ہو گا۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے ما ئیکر لیول پر استحکام حاصل کر لیا ہے لیکن ابھی میکرو لیول پر اس کے اثرات آنے باقی ہیں اور میکر لیول پر معاشی پالیسیوں کے اثرات سامنے آنے کے بعد ہی عوام کو ریلیف ملے گا۔یہ ایک لمبی بحث ہے اس بحث میں نہیں جانا چاہوں گا اس موضو ع پر پھر کبھی بات کریں گے کیونکہ اسی موضوع سے جڑی ہوئی مشہور زمانہ ٹریکل ڈاؤن کی معاشی تھیوری ہے جس کے مطابق پہلے اوپر کی سطح پر کسی بھی ملک کے معاشی حالات بہتر ہو تے ہیں اور پھر نچلی سطح پر عوام کو یہ معاشی فوائد منتقل ہو تے ہیں،حال ہی میں امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اس تھیوری کو مسترد کرتے ہوئے نچلی سطح پر عوام کے پاس براہ راست پیسہ منتقل کرنے اور عوام پر پیسہ لگانے کا اعلان کیا ہے۔
    لیکن ہمیں پتا ہے کہ جہاں پر کچھ معاشی اعداد و شمار بہتر ضرور ہیں جو کچھ اتنے اچھے بھی نہیں ہیں لیکن جو اعداد شمار بہتر نہیں ہیں ان میں سے میری نظر میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا پاکستان نہ آنا ایک نہایت ہی تشویشناک بات ہے۔ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں واضح کمی دیکھی گئی ہے جو کہ یقینا ایک تشویش ناک امر ہے۔ہمیں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیوں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کار پیسہ لگانے کے لیے تیار نہیں ہیں،بلکہ کہا جا رہا ہے کہ کوئی غیر ملکی تو کیا مقامی سرمایہ کار بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن بڑی وجوہات میں نیب کی شتر بے مہار کار روائیاں،ملک میں سیاسی  استحکام کا نہ ہو نا اور حکومت کی پالیسیوں میں عدم تسلسل بھی ہے۔حکومت اب تک اپنے تین سالہ دور میں بورڈ آف انسوٹمنٹ کے 6چیئرمین تبدیل کر چکی ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری لانے میں ناکام ہے۔پاکستان میں بیو رو کریسی کا رویہ اور ریڈ ٹیپ کلچر بھی پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی بڑی وجو ہات ہیں،پاکستان میں بیو رو کریٹس سرمایہ کاری کی راہ میں اتنی رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں کہ کوئی بھی غیر ملکی تو کیا مقامی سرمایہ کار بھی پاکستان میں اپنا پیسہ لگانے تو تیار نہیں ہو تا۔ہمیں اس حوالے سے دبئی اور اس کی حکومت سے سیکھنے کی ضرورت ہے دبئی میں سرمایہ کاروں اور ان کے پیسے کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تمام حکومتی ادارے ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہو تے ہیں اور سرمایہ کاروں کو بہترین ما حول فراہم کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نہ صرف دبئی بلکہ،سنگا پور،ملا ئیشیا اور ترکی بلکہ بھارت جیسے ملک بھی کثیر بیرونی سرمایہ کاری لانے میں کامیاب رہے ہیں اور جس کے نتیجے میں ان ممالک میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیز رفتار ترقی دیکھنے کو ملی ہے۔میں اس حوالے سے یہاں پر ایک بات کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ایک اوور سیز پاکستانی نے پاکستان واپس آکر کثیر سرمایہ کاری کی ایک بڑا شاپنگ مال تعمیر کیا ہزاروں افراد کو روزگار مہیا کیا گیا ہے اسلام آباد کے لوگوں اور خصوصاً فیملیز کو اچھے اور پر سکون اور پر تحفظ ماحول میں تفریح اور خریداری کا موقع فراہم کیالیکن اب ان صاحب کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری سی ڈی اے حکام کی کرپشن،بد انتظامی اور نا اہلی کے باعث خطرے میں پڑ چکی ہے اور اس کے سرمائے کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔سی ڈی اے حکام نے خود ہی اس عمار ت کی زمین آکشن کی خود ہی عمارت کی تعمیر کی اجازت دی گئی اور اب شاپنگ مال کو سیل کرنے کے درپے ہیں جب تک ہمارے اداروں اور حکومتی افسران اس قسم کے رویوں سے باز نہیں آئیں گے ملک میں بیرونی تو کیا اندرونی سرمایہ کاری بھی نہیں آئے گی اور اس کا نقصان عوام ہی پہنچے گا۔پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کے لیے ون ونڈو آپریشن اور تمام اداروں کے درمیان مربوط تعاون کی بہت ضروری ہیں بلکہ اگر سی پیک منصوبوں کی تکمیل کے لیے بنائی گئی سی پیک اتھارٹی کی طرز پر ایک سینٹرل اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے جو کہ سرمایہ کار کو ابتدائی سرمایہ کاری سے لے کر کاروبار شروع ہونے تک ہر مرحلے پر حکومتی اداروں کے ساتھ معاملات کرنے میں مدد کرے تو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔ہمیں اپنے ملک کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے پیسہ ملک میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم دفاعی سمیت دیگر چیلنجز کا موثر انداز میں سامنا کر سکیں،اس حوالے سے حکومت کو ہنگامی طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے یہ ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔
    (کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      پاکستانی فائٹر شہزیب رند کی دھوم میامی ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں فتح

      ‏عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور سے حراست میں لے لیا گیا

      آئی پی پیز سے بجلی کی پیداوار ڈیموں کے مقابلے میں 12 گنا مہنگی

      کوہاٹ پولیس لائنز دھماکا، 15 اہلکاروں سمیت 21 شہید، 81 زخمی

      سنگاپور ایئرلائنز 2026 کی بہترین ایئرلائن بن گئی

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.