Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل پیش کرنے کا اعلان
    • 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا شہباز شریف کو خط عمران خان کے علاج کی اپیل
    • سماعت سے محروم ثنا بہادر نے آسٹریلیا میں پاکستان کا نام روشن کردیا
    • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ متوقع، 5 لاکھ روپے فی تولہ تک پہنچنے کا امکان
    • گلگت تا تاوبٹ شاہراہ منصوبہ، خطے کی ترقی کے نئے دور کا آغاز
    • ایرانی ہیکرز کا برطانوی پاور پلانٹ پر سائبر وار، 4 دن تک پلانٹ بند رہا
    • دنیا بھر میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف شکنجہ سخت
    • مچل اسٹارک نے بنگلا دیش کے بیٹنگ آرڈر کی کمر توڑ دی، آسٹریلیا فاتح
    • آصف زرداری کے ایوانِ صدر چھوڑنے کی تیاریاں؟ حامد میر کا اہم دعویٰ
    • ایران وینزویلا نہیں دشمن سمجھ لے،ایرانی صدر
    • عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں، حکومت کو پسند ہو یا نہ ہو: شرمیلا فاروقی
    • دوسرے شہروں سے آنے والوں نے لاہور کا کلچر تباہ کیا: عثمان پیرزادہ
    • پنجاب حکومت کی درخواست منظور، راولپنڈی میں فوج 6 ماہ تعینات رہے گی
    • محمد رضوان کو لارڈز ٹیسٹ سے ڈراپ کیے جانے کا امکان، ٹیم میں بڑی تبدیلی متوقع
    • بالآخر راز کھل گیا، رمشا خان اور خوشحال خان بہن عائشہ خان کی شادی میں ایک ساتھ
    • روبوٹ نے دوڑ میں یوسین بولٹ کو بھی مات دے دی، نیا ریکارڈ قائم
    • ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان کی 16 سال بعد جیت، جاپان کو 3-4 سے شکست
    • کراچی میں 26 اگست سے انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ کا آغاز، انعامی رقم 6 ہزار ڈالرز
    • نیویارک میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر فلسطین کے حق میں مظاہرہ، متعدد افراد گرفتار
    • مارک زکربرگ کی آئرلینڈ میں شاہانہ خریداری، تاریخی محل کی قیمت تقریباً 9 ارب روپے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    امریکہ کو اڈے دینے سے انکار۔ اصولی موقف

    By Daily Khabrainجون 28, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    جنرل (ر) اعجاز اعوان
    وزیر اعظم پاکستان کاافغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد امریکہ سے صرف حصول امن میں شراکت داری کا عندیہ اور کسی قسم کے عسکری تعاون بالخصوص ہوائی اڈوں کی عدم فراہمی کا جرأت مندانہ اور دو ٹوک موقف نہ صرف قابل صد ستائش ہے بلکہ ایک تاریخ ساز فیصلہ ہے۔ ایک طرف اصول پر مبنی اور دوسری طرف ایک چھوٹے اور کمزور مسلمان پڑوسی ملک کے اندر بسنے والے سینکڑوں غیور افغانوں کو ایک بار پھر مشق ستم بننے سے بچانا ہے۔ اگرچہ امریکہ پر کیا جانے والا حملہ کس نے کیا اور اس کے محرکات کیا تھے یہ ایک بحث طلب معاملہ اور تاحال ایک معمہ ہے کیونکہ سینکڑوں گرفتار لوگ گوانتا ناموبے میں قیدہیں ان پر تاحال کوئی مقدمہ نہیں چلایاجاسکا۔ اسامہ بن لادن کو زندہ گرفتار کرنے کی بجائے عجلت میں مارکرنعش بھی سمندر بدر کردی گئی ان سب باتوں سے قطع نظر پاکستان کبھی کسی خود مختار ملک کے خلاف ایسی دہشت گردی کی ہر گز حمایت نہیں کرتا مگر اس کی سزا نہتے اور بے گناہ افغانوں کو دینے کی حامی بھی نہیں بھر سکتا۔
    وزیر اعظم پاکستان نے امریکی صدر جو بائیڈن کو ایسی ہر فوجی مداخلت کی حوصلہ شکنی کرنے کا مشورہ بھی دے ڈالا اور مطالبہ بھی کیا کہ امریکہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوے مسئلہ فلسطین اورکشمیر کے حل کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ممکن بنائے۔
    وزیر اعظم پاکستان کے اس بے باک اور جرأت مندانہ موقف سے سیاسی اور بین الاقوامی حلقوں میں گرما گرم بحث اور تبصرے زبان زدعام ہیں۔ یہ ا ونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کو جاننے کے لئے درج ذیل حالات اور واقعات کاسمجھ لیناناگزیر ہے۔
    تاحال پیدا ہونے والی صورت حال ایک میڈیا انٹرویو سے پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان کے اڈے مہیا نہ کرنے کی پالیسی اور امریکی مطالبے کو اس وقت حتمی سمجھا جائے گا جب بین الّریاستی مذاکرات یا کئے جانے والے مطالبات کو قانونی حیثیت دینے کی بات ہو گی۔
    مگر اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ ایک امریکی ٹیلی ویژن کے نمائندے کا انٹرویو کے لئے آنا وزیراعظم پاکستان کے خیالات درحقیقت حکومتی رویے کو سمجھنے اور جانچنے کا ہی ایک طریقہ تھا۔ اب امریکہ کو پاکستان میں آنے والے حالات کا ادراک ہو گیا ہے۔
    اگر امریکہ پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کا مطالبہ کر ہی دے تو پھر اس تعاون پرتفصیلی مذاکرات کے بغیر آمادہ ہی نہیں ہونا چاہئے۔ سب سے پہلے دو ملکی وفد درج ذیل حالات کا جائزہ لیں۔
    -1 امریکہ کے افغانستان میں اہداف کیا ہیں جن کے حصول کو وہ ضروری سمجھتا ہے؟
    -2 یہ اہداف 20 سال میں مکمل آزادی کے باوجود کیوں حاصل نہیں کئے جا سکے؟
    -3 پاکستان کی سرزمین سے ہوائی جہازوں کے ذریعے کن لوگوں کو نشانہ بنانا مقصود ہے۔
    -4انٹیلی جنس شراکت کے اصول کے تحت امریکہ یہ بات پاکستانی حکام کو بتائے کہ امریکہ کی 20 سالہ موجودگی کے باوجود ISIS القاعدہ اور داعش کے جنگجو کہاں کہاں اور کتنی تعداد میں افغانستان کے اندر موجود ہیں اور ان کا خاتمہ کیوں نہیں کیا جا سکا۔
    -5 پاکستان کی سرزمین سے عسکری کارروائیو ں کا مقصد تو یہ ہو گا کہ امریکہ اب بھی سیاسی حل کی بجائے عسکری حل پر یقین رکھتا ہے۔
    -6 افغانستان میں کون لوگ زمینی رابطہ رکھیں گے اور ہوائی حملوں کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
    -7 امریکہ کے مطابق اس نئی حکمت عملی کی کامیابی کیوں کر ممکن ہے۔
    -8 افغانستان کے تمام تر لوگوں کو اندرونی طور پر یہ معاملہ حل کرنے کا موقع کیوں نہ دیا۔
    -9 پاکستان میں موجود مہاجرین جن کی تعداد 27 لاکھ ہے ان کی واپسی کیسے اور کیوں کرممکن بنائی جا سکتی ہے۔
    اگر امریکی وفد ان سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دے سکتا تو اس صورت میں پاکستان کسی قسم کا تعاون مہیا نہ کرنے میں حق بجانب ہو گا۔
    میرا غالب گمان ہے کہ ان سوالات کا کوئی منطقی جواب یا حل امریکہ کے پاس موجود نہیں ہے۔
    اس طرح عدم تعاون کی پالیسی کو ڈیفنس کمیٹی آف کیبنٹ اور پھر پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے تا کہ یہ ایک قومی پالیسی کے طور پر سکہ بند پالیسی کے طور پر ریکارڈ کا حصہ بن جائے۔
    علاقائی حکومتیں جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں ان کا تعاون اور افغانستان میں موجود تمام قبائل کا تعاون ہی وہ واحد رابطہ ہے جو اس کو مکمل بنائے گا۔ چین، روس، پاکستان، تاجکستان، ایران اور ازبکستان اگر متحارب فریقین کی عسکری امداد نہ کرنے کا تہیہ کر لیں تو افغانستان میں امن کا قیام چند ماہ میں یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
    اس امن سے تمام ممالک بالعموم اور افغانستان کے عوام بالخصوص فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسی طرح خطے کے اندر ایک تاریخ ساز معاہدہ اور امن کا قیام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
    (کالم نگارقومی،عسکری امور پر لکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.