Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • سونے کی قیمت میں اچانک نمایاں کمی گزشتہ روز کے تمام اصافے کا خاتمہ
    • امریکا کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری
    • ہیئر’ سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں 2 ڈاکو ہلاک ‘ 3 فرار
    • 60 فیصد پاکستانی ملکی تعلیمی نظام سے غیر مطمئن
    • مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملہ سپر ریڈ لائن صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے: جنرل (ر)زاہد محمود
    • 10 روپے کے بینک نوٹ کی بندش سے متعلق رپورٹس کی وضاحت
    • نور شناخت اسپیکر سیریز میں پاکستانی کھانوں اور قومی شناخت پر مکالمہ
    • ریاض میں گلوبل امیج ایوارڈز پاکستانی اہم کاروباری شخصیات سر فہرست
    • اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مؤثر دفتری انتظام کیلئے پرنسپلز’ وائس پرنسپلز’ ڈائریکٹرز و ڈپٹی ڈائریکٹرز کالجز کی ٹریننگ کی جائیگی
    • جناح ہسپتال لاہور میں بے ضابطگیوں کے خاتمے کیلئے ایم ایس کی کارروائی
    • درپیش بنیادی مسائل کے حل’ بہتر سروس ڈلیوری کیلئے وفاق اور صوبوں کے ترجیحات کویکجا کرناناگزیر : بلا ل اظہر کیانی
    • پریشر ہارن کے خلاف کارروائیوں میں ریکارڈ اضافہ
    • پاکستان بچانے چلانے کا واحد طریقہ انتظامی یونٹ کا قیام مصطفی کمال
    • نبی کریم ۖ کی آمد کا دن بنی نوع انسان کی تاریخ کا بہترین دن: ڈاکٹرمحمدعلی
    • فیول کی روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی قیمتیں مہنگائی کا طوفان ،اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیںکرنے لگیں ، شہری بلبلا اٹھے
    • لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، غیر مجاز ایلوپیتھک علاج پر جرمانہ بحال
    • ضلعی گورنمنٹ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر متحرک ہے’ کارروائی کررہے: ترجمان
    • سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق کوئی بھی چیز فروخت نہیں ہورہی: خبیب الرحمن
    • آلودگی پھیلانے والے 37یونٹ مسمار، سموگ سے قبل کریک ڈائون مزید سخت
    • ملک میں امن ہو گا تو انویسٹمنٹ بھی آئے گی: حافظ طاہر اشرفی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر جعفر کے والدین کا فرد جرم سے بچنے کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع

    By Khabrain Newsاکتوبر 13, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین نے فرد جرم عائد کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی نے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے 14 اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے کا دن مقرر کیا ہے، ٹرائل کورٹ کے 6 اور 7 اکتوبر کے آرڈرز غیر قانونی ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو ابھی تک سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹ اور کوئی اور شواہد فراہم نہیں کیا گیا ہے، لہٰذا عدالت سے درخواست ہے کہ وہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

    ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 14 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی تھی۔

    ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے مرکزی ملزم ‏ظاہر جعفر، ان کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی، 3 گھریلو ملازمین اور تھراپی ورکس کے چیف ایگزیکٹو افسر (‏سی ای ‏او) سمیت 6 ملازمین کی موجودگی میں نور مقدم قتل کیس کی تاریخ مقرر کی۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 6 اکتوبر نور مقدم قتل کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ مؤخر کردیا تھا۔

    کیس کا پس منظر

    خیال رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف۔7/4 کے رہائشی سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا۔

    ظاہر ذاکر جعفر کے خلاف مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی جس کے تحت ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    بعدازاں عدالت میں پیش کردہ پولیس چالان میں کہا گیا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ساتھیوں کی ملی بھگت کے باعث نور مقدم نے جان بچانے کی 6 کوششیں کی جو ناکام رہیں۔

    وقوعہ کے روز 20 جولائی کو ظاہر جعفر نے کراچی میں موجود اپنے والد سے 4 مرتبہ فون پر رابطہ کیا اور اس کے والد بھی اس گھر کی صورتحال اور غیر قانونی قید سے واقف تھے۔

    چالان میں کہا گیا کہ نور کی جانب سے ظاہر سے شادی کرنے سے انکار پر 20 جولائی کو دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد مبینہ قاتل نے انہیں ایک کمرے میں بند کردیا، چالان میں ملزم کے بیان کا حوالہ دیا گیا جس میں اس نے قتل کا اعتراف کیا۔

    ملزم نے بتایا کہ نور نے اس کی شادی کی پیشکش مسترد کردی تھی جس پر اس نے انہیں ایک کمرے میں بند کردیا، جبری قید پر وہ انتہائی غصے میں آگئیں اور ظاہر کو نتائج سےخبردار کیا۔

    مقتولہ نے ظاہر کو دھمکی دی کہ پولیس میں جا کر اس کے خلاف شکایت درج کروائیں گی، بیان کے مطابق ملزم نے اپنے والدین کو واقعے سے آگاہ کیا اور ملازمین کو ہدایت کی کہ کسی کو اندر نہ آنے دیں نہ نور کو گھر سے باہر جانے دیں۔

    چالان میں کہا گیا کہ نور کمرے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھیں اور گھر کے مرکزی دروازے کی طرف بھاگیں لیکن سیکیورٹی گارڈ افتخار نے انہیں باہر نہیں جانے دیا، یہ وہ موقع تھا جب ان کی جان بچائی جاسکتی تھی۔

    کال ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے چالان میں کہا گیا کہ نور کو قتل کرنے سے قبل ظاہر نے دوپہر 2 بج کر 21 منٹ، 3 بجے، 6 بج کر 35 منٹ اور شام 7 بج کر 29 منٹ پر اپنے والدین سے رابطہ کیا۔

    دوسری جانب شوکت مقدم کی درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق ان کے پوچھنے پر ظاہر جعفر نے کال کر کے بتایا کہ نور اس کے ساتھ موجود نہیں۔

    تاہم 20 جولائی کو رات 10 بجے انہیں کوہسار پولیس اسٹیشن سے ایک کال موصول ہوئی جس میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی قتل ہوگئی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب میں اس گھر پہنچا تو اپنی بیٹی کی گلا کٹی لاش دیکھی جس کے بعد پولیس میں شکایت درج کروائی‘ ۔

    25 جولائی کو پولیس نے نور مقدم کے قتل کے مشتبہ ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور گھریلو ملازمین کو شواہد چھپانے اور جرم میں اعانت کے الزامات پر گرفتار کیا تھا جنہیں بعد میں عدالت نے جیل بھیج دیا تھا۔

    اس کے علاوہ اس کیس میں تھراپی ورکس کے مالک اور ملازمین بھی گرفتار ہوئے جنہیں عدالت نے 23 اگست کو رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

    مقامی عدالت سے ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن 29 ستمبر کو ہائی کورٹ نے بھی ملزم کے والدین کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی تھی۔

    جس پر انہوں نے 6 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      فواد چوہدری کا سوال عظمیٰ بخاری کا رسیدوں سے کرارا جواب مریم نواز کے جہاز کے بلوں پر سوشل میڈیا کا پارہ ہائی

      سونے کی قیمت میں اچانک نمایاں کمی گزشتہ روز کے تمام اضافے کا خاتمہ

      لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کے خلاف درخواست مسترد کردی

      تازہ ترین

      پائپ لائن ڈرون حملے کے بعد سعودی عرب کا یورپ کیلئے تیل سپلائی معطل کرنے کا اعلان

      پاکستانی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں کا داخلہ 23 اکتوبر تک ممنوع

      غزہ میں تباہ حال عمارت اچانک گر گئی 5 بچوں سمیت 14 جاں بحق

      پاکستانی پاسپورٹ 2026 میں 183ویں نمبر پر صرف 9 ممالک کا ویزا فری داخلہ

      عمران خان کی حراست پر 7 سابق آسٹریلوی کپتانوں کا وزیرِ خارجہ پینی وونگ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.