لاہور (این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی درخواست منظور کرتے ہوئے غیر مجاز طور پر ایلوپیتھک علاج کرنے والے شخص پر عائد3لاکھ روپے جرمانہ بحال کر دیا، عدالت نے ڈسٹرکٹ جج فیصل آباد کی جانب سے جرمانہ ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ڈسپنسر کا سرٹیفکیٹ کسی شخص کو آزادانہ طور پر ایلوپیتھک علاج کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منور اقبال ڈوگر نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی درخواست پر10صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ہیئرنگ کمیٹی کو قانون کے تحت جرمانہ عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے اور اس اختیار سے متعلق قوانین واضح ہیں۔ فیصلہ میں بتایا گیا کسی شخص کے پاس ڈسپنسر کا سرٹیفکیٹ ہونا اسے آزادانہ طور پر ایلوپیتھک علاج کرنے کا مجاز نہیں بناتا۔ اسی طرح ڈرگ سیل لائسنس بھی صرف ادویات فروخت کرنے کا اختیار دیتا ہے، اس لائسنس کی بنیاد پر کسی شخص کو مریضوں کو انجیکشن لگانے یا علاج کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔فیصلے کے مطابق متعلقہ شخص کے خلاف کارروائی کے دوران استعمال شدہ سرنجیں اور انجیکشنز برآمد ہوئے تھے جبکہ ملزم کی جانب سے انجیکشن لگانے کا اعتراف بھی ریکارڈ پر موجود تھا۔
